Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Aurat muaasharey me

Urdu · 7 min

عورت معاشرے میں— قدیم معاشروں میں تقریباً ساری دنیا میں یہ صورتحال تھی کہ عورت کو مرد کے مقابلے میں کمتر درجہ حاصل تھا۔ قدیم یونان میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے الفاظ میں، عورت کا مرتبہ اتنا گرا دیا گیا تھا کہ اس کی حیثیت بچہ پالنے والی غلام کی ہو کر رہ گئی تھی۔ عورتوں کو ان کے گھروں میں بند کر دیا گیا تھا، وہ تعلیم سے محروم تھیں، ان کا کوئی حق نہ تھا۔ ان کے شوہر ان کو بس گھر کے سامانوں میں سے ایک سامان سمجھتے تھے۔

In Athens, women's status had degenerated to that of slaves; wives were secluded in their homes, had no education and few rights, and were considered by their husbands no better than chattels. قدیم روم میں ایک عورت کی قانونی حیثیت "کامل محکومی" تھی۔ اولاً وہ اپنے باپ یا بھائی کی محکوم ہوتی تھی، اور باپ کو اپنے شوہر کی۔ شوہر کو اپنی بیوی کے اوپر پدرانہ اختیار حاصل ہوتا تھا۔

قانون کی نظر میں عورت "ضعیف العقل" شمار ہوتی تھی۔ In ancient Rome, a woman's legal position was one of complete subordination, first to the power of her father or brother, and later to that of her husband, who held paternal power over his wife. In the eyes of the law, women were regarded as imbeciles. (Encyclopedia Britannica, volume 19, page 909) عیسائیت نے بھی صورتحال کو کچھ بہتر نہیں بنایا۔

ہر معاملے میں، حتیٰ کہ مذہبی معاملے میں بھی، عورت کو کمتر درجہ دیا گیا۔ کرنتھیوں کے نام پولس رسول کے پہلے خط میں درج ہے: "پس فرشتوں کے سبب سے عورت کو چاہیے کہ اپنے سر پر محکوم ہونے کی علامت رکھے۔ " (گنتی 1، کرنتھیوں باب 10 آیت 11) قدیم زمانے میں عورت کے ساتھ غلط سلوک کی وجہ وہی تھی جو دوسرے معاملات میں قدیم انسان کے یہاں پائی جاتی ہے، یعنی توہماتی عقائد۔ قدیم زمانے میں ہر معاملے میں انسان نے کوئی نہ کوئی بے بنیاد عقیدہ، یعنی irrational belief، قائم کر لیا تھا۔

یہی بے بنیاد عقائد قدیم لوگوں کے لیے مذہب کی حیثیت رکھتے تھے، اور انہوں نے سارے انسانی سلوک کو بگاڑ رکھا تھا۔ مثلاً قدیم یونانیوں نے عورت کے بارے میں عجیب و غریب طور پر یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ اس کے منہ میں کم دانت ہوتے ہیں۔ برٹرینڈ رسل نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے: "ارسطو نے دعویٰ کیا کہ عورتوں کے دانت مردوں سے کم ہوتے ہیں۔ " اگرچہ اس نے دو بار شادی کی، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کے منہ کی جانچ سے اپنے اس بیان کی تصدیق کرے۔

Aristotle maintained that women have fewer teeth than men, although he was twice married. It never occurred to him to verify this statement by examining his wives' mouths. (The Impact of Science on Society 1976, page 17) اسی طرح عیسائیت نے عورت کے بارے میں یہ غلط عقیدہ بنا لیا کہ وہ آدم کو جنت سے نکالنے کی ذمہ دار ہے۔ عیسائیت میں عورتوں کو بہکانے والی کی نظر سے دیکھا گیا، جو کہ آدم کے ہبود کی ذمہ دار تھی، اور وہ دوسرے درجے کی حیثیت رکھتی تھی۔

In Christianity, they were regarded as tempertresses, responsible for the fall of Adam, and as second-class human beings. (Encyclopedia Britannica, volume 19, page 909) کتاب خاتونِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 62۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.