Maulana Wahiduddin Khan
24 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Aids ki la'nat

Urdu · 24 min

ایڈز کی لعنت: فطرت کی خلاف ورزی سے کیسے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں، اس کی ایک تازہ مثال وہ بیماری ہے جس کو ایڈز کہا جاتا ہے۔ ایڈز فطرت کی خلاف ورزی کی سزا ہے، چنانچہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ مرض غلط عادتوں، خاص طور پر ہم جنسی کے فعل کے سبب سے پیدا ہوتا ہے۔ The group of people who run the high risk of contracting the disease are: promiscuous homosexuals, bisexual men, intravenous drug abusers, and those having multiple sexual partners. Its highest incidence is among male homosexuals.

ایڈز ایک اشاراتی نام ہے، یہ لفظ حسبِ ذیل انگریزی فقرے کا مخفف ہے: acquired immune deficiency syndrome۔ اس کا مطلب ہے جسم کے مدافعتی نظام کی تباہی کی علامت۔ یہ ایک عجیب و غریب قسم کا متعدی مرض ہے جو صرف ملیریا کے بعد نمبر 2 پر سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ساری انسانی تاریخ میں مجموعی طور پر جو موتیں ہوئی ہیں، ان میں سے نصف موتیں صرف ملیریا کے ذریعے ہوئی ہیں۔

اب موجودہ زمانے میں ایڈز کی بیماری ظاہر ہوئی ہے، جو بعض اعتبار سے غالباً ملیریا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس مرض کے جراثیم، یعنی وائرس، آدمی کے اندر خاموشی سے داخل ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ ابتداً آدمی کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کسی مہلک مرض کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ مرض آدمی کے جسم کے فطری دفاعی نظام کو بالکل تباہ کر دیتا ہے۔ ایڈز کے بعد تباہ شدہ مدافعتی نظام، یعنی shunted immune system، کا اب تک کوئی علاج دریافت نہ ہو سکا، کیونکہ یہ بیماری خون میں شامل ہو جاتی ہے اور آدمی کے پورے جسم کو متاثر کر کے رکھ دیتی ہے۔

ایڈز کے مریض کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کا جسمانی نظام اندر سے بالکل کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اس کو چوٹ لگ جائے تو وہ کسی طرح اچھی نہیں ہوتی۔ بخار ہو تو کوئی دوا کام نہیں کرتی۔ انجکشن لگایا جائے تو وہ بے اثر ثابت ہوتا ہے۔

اس کا خون کسی بھی دوا یا غذا کو قبول نہیں کرتا۔ بیمار کا وزن دن بدن گھٹتا رہتا ہے۔ وہ بے حد کمزور ہو جاتا ہے، وہ کوئی کھانے کی چیز کھا نہیں سکتا۔ اس کے جوڑ جوڑ میں درد ہونے لگتا ہے۔

وہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اس کے اوپر ہر وقت بد دلی اور اداسی چھائی رہتی ہے، وغیرہ۔ ایڈز کے مریض ایک قسم کے عالمی اچھوت بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ کسی کو تحفہ دیں تو ان کا تحفہ قبول نہیں کیا جاتا، کیونکہ سخت اندیشہ ہوتا ہے کہ اس میں اس مہلک مرض کے جراثیم موجود ہوں گے۔

وہ سیاحت کے لیے جائیں تو کال گلز اور ہوٹلوں کے ملازم ان کے قریب آتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دوست لڑکے اور لڑکیاں ان سے دور بھاگتے ہیں۔ امریکہ کے محکمہ صحت نے ڈاکٹروں کے نام سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ جب وہ بلڈ بینک سے خون کا بوتل منگوائیں تو اس کو باضابطہ ٹیسٹ کے بغیر کسی مریض کو نہ دیں، کیونکہ یہ معلوم ہوا ہے کہ ہزاروں امریکی صرف اس لیے ایڈز کے مریض بن گئے کہ آپریشن یا خون کی کمی کے وقت ان کے جسم میں بلڈ بینک کا خون داخل کیا گیا تھا۔ 1985 تا 86 کے درمیان صرف ایک سال میں امریکہ میں ایسے ایڈز کے مریضوں کی تعداد تقریباً 50,000 تھی، جو خود اس مرض کا شکار نہیں ہوئے تھے، مگر کسی مریض کے ربط کے نتیجے میں ان کو یہ مرض لگ گیا۔

1986 عیسوی کے اعداد و شمار کے مطابق، ایڈز کی مہلک بیماری اور اس سے تعلق رکھنے والی بیماریاں امریکہ میں اس سے بہت زیادہ ہیں جتنا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات امریکہ وال اسٹریٹ جنرل میں بتائی گئی ہے۔ جنرل نے بتایا کہ جو امریکی ایڈز کا شکار ہیں، ان کی تعداد 21,000 ہے، اور ان میں سے نصف کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ مر جائیں گے۔ ایک لاکھ سے دو لاکھ تک ایسے لوگ ہیں جو ایڈز سے تعلق رکھنے والی مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

AIDS in America: The dreaded AIDS disease and related diseases, are far more prevalent in the U.S. than is generally realized. According to a report in the Wall Street Journal, the paper said the number of Americans who suffer from AIDS is 21,000, and nearly half of them are expected to die. About 1 lakh to 2 lakh have AIDS-related diseases, including lymphadenopathy (thrombocytopenia), candidiasis, diarrhea, fever, hairy leukoplakia, dementia, neuropathy, and Hodgkin's.

The Times of India, June 1, 1986: جولائی 1986 کے پہلے ہفتے میں پیرس میں ماہرین طب کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کا مقصد ایڈز کے مسائل پر غور کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ایڈز کے جراثیم امریکہ کی طرح بقیہ دنیا میں پھیلتے ہیں تو 1991 میں 300,000 مزید ایڈز کے مریض پیدا ہو چکے ہوں گے۔ ماہرین کی پیشنگوئی کے مطابق اس وقت تک امریکہ میں 74,000 نئے افراد ایڈز کے مرض میں مبتلا ہوں گے۔

اندازہ ہے کہ 1991 تک ایک چوتھائی ملین سے زیادہ امریکی باشندوں کو یہ بیماری لگ چکی ہوگی، اور 179,000 افراد مر جائیں گے۔ امریکی اسپتالوں کا ایڈز کا بل اس وقت تک 8 بلین ڈالر ہو چکا ہوگا۔ اس وقت یورپی ملکوں میں فرانس سب سے زیادہ اس مرض سے متاثر ہوا ہے۔ دوسرے نمبر پر مغربی جرمنی ہے، تیسرے نمبر پر برطانیہ، اور چوتھے نمبر پر اٹلی۔

According to experts participating in a conference on AIDS held in Paris last week, there will be 300,000 new cases of AIDS in 1991 alone, if the virus spreads in the rest of the world as it has in the U.S. In the U. S., 74,000 new AIDS cases are forecast for the same year. It was estimated that by then more than a quarter of a million Americans would have caught the disease, and 179,000 would have died.

The U.S. hospital bill for AIDS for 1991 is forecast to be 8 billion. At present, France is the worst affected European country and had recorded about 700 cases by the first quarter of this year. West Germany is next with 457, Britain third with 340, and Italy fourth with 219.

The Times of India, New Delhi, July 5, 1986: ایڈز کا مرض کیسے لگتا ہے؟ اس کے سلسلے میں معلوم کیا گیا ہے کہ اس کی وجہ جنسی انارکی، خاص طور پر ہم جنسی کا فعل، یعنی homosexual practice ہے۔ موجودہ زمانے میں مغرب کے آزاد لڑکوں اور لڑکیوں میں اس کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ اس کا رواج بہت بڑھ گیا تھا، حتیٰ کہ وہ کھلم کھلا اہم جنسی کا فعل کرنے لگے تھے۔

حتیٰ کہ وہ کھلم کھلا ہم جنسی کا فعل کرنے لگے تھے، مگر اس غیر فطری فعل کی سزا انہیں ایک ایسے مہلک مرض کی صورت میں ملی کہ وہ خود ایک دوسرے سے بھاگنے لگے۔ تحقیقات کے دوران مزید معلوم ہوا ہے کہ افریقی جنگوں میں بندروں کی ایک نسل پائی جاتی ہے جس کو عام طور پر ہرا بندر یعنی green monkey کہتے ہیں۔ ان بندروں میں بھی ایڈز کی قسم کا مرض پایا جاتا ہے۔ یہ بندر تمام معلوم جانوروں میں ایک استثنائی مثال ہیں جو عین وہی ہم جنسی کا فعل کرتے ہیں جس میں آج مغرب کی نوجوان نسل مبتلا ہے، اور اس فعل کے نتیجے میں وہ اسی مرض کا شکار رہتے ہیں جس کو موجودہ زمانے میں ڈاکٹروں نے ایڈز کا نام دیا ہے۔

ہرے بندروں کو شاید اللہ تعالیٰ نے عبرت کے طور پر دنیا میں رکھا تھا تاکہ انسان ان کو دیکھ کر سبق لے اور ہم جنسی کا مہلک فعل نہ کرے۔ مگر انسان کی بڑھی ہوئی آزاد روی نے اس کو یہ سبق نہ لینے دیا۔ سان فرانسسکو کو ہم جنسوں کی عالمی راجدھانی کہا جاتا ہے۔ سان فرانسسکو کو ہم جنسوں کی عالمی راجدھانی کہا جاتا تھا۔

اس امریکی شہر کے بارے میں ایک طبی رپورٹ بتاتی ہے کہ یہاں بہت تیزی سے ایڈز کی بیماری پھیل رہی ہے۔ 1986 کے ابتدائی چھ مہینوں میں ایڈز کے 520 نئے کیس معلوم کیے گئے ہیں۔ ان میں ہر تین میں سے دو کیس سخت مہلک ہیں، یعنی کل تعداد کا 67 فیصد۔ پچھلے سال مہلک مریضوں کی تعداد 58 فیصد تھی۔

AIDS is sweeping San Francisco: The city known as the gay capital of the world, according to medical statistics published on Wednesday, of the 520 new cases of AIDS recorded in the first six months of the year. More than two out of 367% proved to be fatal. This compared with the previous record of 58% fatalities last year. The Times of India, July 4, 1986: جب سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایڈز کی بیماری کا ابتدائی سبب ہم جنسی کا فعل ہے، ہم جنسی کے دل دادا لڑکے اور لڑکیاں اس فعل سے اس طرح دور بھاگ رہے ہیں جیسے کوئی شخص طاعون کے مریض کو دیکھ کر اس سے دور بھاگے۔

بعض علاقے جو اس سے پہلے ہم جنسی کا فعل کرنے والے رندوں سے مامور رہتے تھے، اب وہ سنسان ہوتے جا رہے ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانی کا 1984 کے مقالہ ہم جنسی یعنی homosexuality میں بتایا گیا ہے کہ ہم جنسی کا فعل اگرچہ مغربی ملکوں میں پہلے سے موجود رہا ہے، تاہم اس فعل کا سائنسی مطالعہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہی کیا جا سکا۔ پروفیسر کنزی یعنی ایسی کنزی نے 1948 تا 1952 کے درمیان امریکہ میں باقاعدہ اعداد شمار جمع کیے۔ ان کی تحقیق کے مطابق اس وقت امریکی مردوں کی 37 فیصد اور امریکی عورتوں کی 13 فیصد تعداد ہم جنسی کا تجربہ کر چکی تھی۔

دوسرے مغربی ملکوں میں بھی کم و بیش یہ رواج پایا گیا ہے۔ ایڈز کی طبی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: ٹائم 3 نومبر 1986۔ مغربی ملکوں میں عام طور پر ہم جنسی کے خلاف قانون موجود نہیں ہے، البتہ اگر مفعول کم عمر ہو یا فاعل نے اس کے ساتھ جبراً یہ فعل کیا ہو تو وہ غیر قانونی قرار پائے گا۔ اس سے پہلے مغرب میں ہم جنسی کے مرتکب کو تحقیری طور پر لوتھی یعنی sodomy کہا جاتا تھا، مگر اب اس کے لیے ایک بے ضرر لفظ رائج ہو گیا ہے، اور وہ gay ہے۔

اس انگریزی لفظ کا مفہوم تقریباً وہی ہے جس کو اردو زبان میں رن یا رن منش کہتے ہیں۔ جو چیز پہلے عمل قوم لوط تھی، وہ اب محض خوش طبیع کے ہم معنی بن گئی۔ برطانیہ میں 1967 میں ہم جنسی کو از روی قانون جائز قرار دیا گیا تھا۔ اب مزید ترقی ہوئی ہے اور عام طور پر اس کو نکاح کی طرح ایک جائز ادارہ سمجھا جانے لگا ہے۔

ڈنمارک میں ہم جنسی کا فعل کرنے والے جوڑوں کے لیے وراثت کا وہی قانون منظور کیا گیا ہے جو شادی شدہ جوڑوں کے لیے ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں اس موضوع پر رائے شماری ہوتی تو ممبران کی اکثریت نے اس کے حق میں رائے دی کہ جو ہم جنس جوڑے اس کا ثبوت دے دیں کہ وہ ایک ساتھ رہتے ہیں، وہ ایک دوسرے کی وراثت میں میاں بیوی کی طرح حصے دار قرار پائیں گے۔ Denmark has granted homosexual and lesbian couples the same rights of inheritance as married couples. Reports writer The Danish Parliament of Friday: The Danish Parliament on Friday voted by 78 votes to 62 in favor of a law granting inheritance rights to couples who can prove they are living together.

The new inheritance rights will also apply to brothers and sisters who share a home. The Times of India, New Delhi, June 1, 1986: موجودہ زمانے میں آزادی کے لامحدود تصور نے جو خرابیاں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہم جنسی ہے۔ قدیم زمانے سے یہ طریقہ چلا آ رہا تھا کہ ایک مرد اور عورت نکاح کے رشتے میں بندھ کر باہم ازدواجی تعلق قائم کرتے تھے۔ موجودہ زمانے میں پہلے نکاح کے رشتے کو غیر ضروری قرار دیا گیا، اس کے بعد لوگوں کی آزاد مزاجی یہاں تک بڑھی کہ انہوں نے کہا کہ ازدواجی تعلق کے لیے مخالف جنس کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

مرد مرد اور عورت عورت بھی ایک دوسرے سے جنسی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔ اس کو موجودہ زمانے میں خوبصورت طور پر جنسی اختیار یعنی sexual preference کا نام دیا گیا، مگر نتائج نے بہت جلد بتایا کہ فطرت کے نظام سے انحراف ہمیشہ فساد پیدا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے لیے ایک ہی صحیح راستہ ہے، یہ کہ وہ پیغمبروں کے بتائے ہوئے نظام فطرت پر عمل کرے۔ اگر اس نے اس سے انحراف کیا تو وہ کسی حال میں اس کے برے انجام سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔

مغرب کو فطرت سے انحراف کی بیک وقت دو قیمت دینی پڑی: ایک یہ کہ اس نے صنف نازک کو صنف قوی کے میدان میں کھڑا کر کے یہ کیا کہ صنف نازک کو مستقل طور پر کم تر حیثیت میں پہنچا دیا۔ امریکہ میں قانون کے اعتبار سے عورت کو مکمل مساوات کا درجہ حاصل ہے، مگر قانونی مساوات ابھی تک عملی مساوات کی صورت اختیار نہ کر سکی۔ ایلن گڈمین کے الفاظ میں، امریکی خواتین ابھی تک مساوی درجہ پانے کا انتظار کر رہی ہیں۔ We are still waiting for equal status.

Time, July 1987, page 45. امریکہ کی خاتون پروفیسر ڈاکٹر مونٹگمری یعنی ڈاکٹر لوئیس مونٹگمری نے جو بات امریکی صحافت میں عورت کے درجے کے بارے میں کہی، وہی بات امریکی زندگی کے تمام شعبوں میں عورت کے درجے کے بارے میں صحیح ہے۔ انہوں نے کہا: "Women in the United States remain in the lower ranks in the newspaper hierarchy, even in TV news programs. The leaders who influence Americans are males.

" The Hindustan Times, New Delhi, August 23, 1986, page 3. امریکہ کی اخباری دنیا میں عورتیں اب بھی نچلے درجے سے تعلق رکھتی ہیں، حتیٰ کہ ٹی وی خبروں کے پروگرام میں جو لوگ لیڈر ہیں اور امریکنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، وہ مرد ہی ہیں۔ عورت کے معاملے میں فطرت سے انحراف کا دوسرا نقصان جدید ترقی یافتہ ملکوں کو یہ ملا کہ ان کا پورا معاشرہ جنسی آوارگی کا شکار ہو گیا، اور اس کے نتیجے میں اتنے بے شمار مسائل پیدا ہو گئے جن کا شمار بھی آسان کام نہیں۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 54.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.