← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Aurat ki bebasi
Urdu · 20 min
عورت کی بے بسی۔ جدید تہذیب نے عورت کو برابر کا درجہ دینے کی کوشش میں یہ کیا کہ اس کو مستقل نابرابری کے درجے پر پہنچا دیا۔ مغربی زندگی کے جس شعبے میں بھی عورت آج کام کر رہی ہے، وہاں وہ مرد کے مقابلے میں صرف دوسرے درجے کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیز اس نابرابری کی مزید قیمت اس کو یہ دینی پڑتی ہے کہ ہر جگہ وہ مرد کے مظالم کا شکار ہو رہی ہے۔
یہاں ہم امریکہ کی کارکن خواتین کے بارے میں ایک رپورٹ کا خلاصہ درج کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ انڈین ایکسپریس میں شائع ہوئی ہے۔ یہ ایک دہلی بس جیسا تجربہ ہے: ذلیل اشارے، جارحانہ زبان، ذاتی حملے۔ امریکہ میں کام کا مقام خاتون کارکنوں کے لیے ویسا ہی ہے جیسا کہ دہلی کی بس خاتون مسافروں کے لیے۔
ایک بینک کے پریسیڈنٹ سڈنی ٹیلر نے اپنے بینک کی ایک خاتون کارکن، مائیکل ونسن، کو جسمانی اذیت پہنچائی اور اس کی عصمت دری بھی کی۔ ایسا 4 سال تک ہوتا رہا، یہاں تک کہ مذکورہ خاتون عورتوں کی ایک تنظیم کی مدد سے عدالت گئی۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے اس کی اپیل رد کر دی، زیادہ تر اس بنا پر کہ وہ 4 سال تک خاموش رہی اور اس نے بینک کے شکایتی نظام سے مدد کی درخواست نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ دونوں کے درمیان جو بھی تعلق تھا وہ رضاکارانہ تھا۔
ہائی کورٹ سے یہ مسئلہ ختم نہ ہو سکا، اور آخر کار وہ سپریم کورٹ میں پہنچا۔ امریکہ کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ کسی کو جنسی طور پر ہراساں کرنا عورت کے روزگار کے حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ اس سے ایک مخاصمانہ ماحول پیدا ہوتا ہے جس میں وہ اپنی ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہو سکتی ہے یا اپنا کام پوری طرح نہیں کر سکتی۔ حتیٰ کہ اگر اس قسم کا نامحمود جنسی مطالبہ براہ راست طور پر روزگار کے مفادات سے وابستہ نہ ہو، تب بھی عملاً اس کا مطلب ہے بھی "میں جیسا کہتا ہوں ویسے کرو، ورنہ تمہیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا"۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ طریقہ مقام عمل پر جنسی امتیاز کے ممانعت کے بارے میں امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ کام کرنے والی عورتوں کو دفتروں میں پریشان کیا جانا ایک وبا کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ خواتین سے متعلق ایک تنظیم نے بتایا: پچھلے 5 برسوں میں دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کی تقریباً نصف تعداد نے اس قسم کی بدسلوکی کا تجربہ کیا۔ یہ واقعات صرف کارخانوں میں اور مزدوروں کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کے ساتھ پیش نہیں آتے، بلکہ اونچی بلڈنگیں اور شاندار دفاتر بھی اپنی خاتون کارکنوں کے لیے اچھے نہیں۔
ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جو سیکریٹری ہیں یا قانون دان ہیں یا اور کسی اونچے عہدے پر ہیں۔ مرکزی حکومت میں کام کرنے والی خواتین کی تقریباً 42% تعداد کو اپنے دفتروں میں پریشان کیا گیا۔ یہ بات ایک حالیہ سروے کے ذریعے معلوم ہوئی ہے۔ ریاستی حکومتوں کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی 60% خواتین نے بتایا کہ جنسی بدسلوکی ان کے لیے ایک عام تجربہ بن چکا ہے۔
1981 اور 1985 کے درمیان اس قسم کی شکایتوں کی تعداد 70% تک بڑھ گئی ہے۔ They sound like experiences in a Delhi bus: loud gestures, offensive language, attacks on your person. The American workplace is, for its women workers, what public transport is for women in Delhi. A back-tailer Michelle Vincent suffered physical abuse and alleged rape by the bank's vice president, Sydney Taylor, for 4 years until finally assisted by a women's organization.
She went to court; the district court rejected her appeal, largely because she had remained silent for 4 years and had not used the bank's complaint procedure to ask for help. It held that any relationship between the two was voluntary. The higher court of appeal rejected every finding of the district court, and the matter finally found its way to the Supreme Court. The Supreme Court of the United States ruled that sexual harassment is a direct infringement of a woman's right to employment.
It creates a hostile and abusive work environment in which she may be forced to leave her job or in which she cannot function to her full potential, even if such unwelcome sexual demands are not directly linked to concrete employment benefits. In other words, the court ruled that it violates U.S. civil laws against sex discrimination in the workplace. Sexual harassment of working women is endemic, said the friends of the court brief filed by numerous women's organizations for this case.
In the last 5 years, about half the American female working force has suffered this type of harassment at work. This does not just happen to women in factories or at blue-collar workplaces. Within the fiberglass multi-storied skyscrapers, the American office is not as pleasant for its women secretaries, lawyers, and other professionals as its air-conditioned, carpeted, and muted decor makes it appear. About 42% of federally employed women were harassed in their jobs, stated a recent two-year survey done by the Official Merits Protection Board.
Another 60% of the members of the American Federation of State Country and Municipal employees said that sexual harassment was a frequent problem for them, and between 1981 and 1985 the number of such complaints to the Equal Employment Opportunities Commission established to monitor employment practices shortened by 70%. The complaints vary from the physical violence of rape and assault to the insidious harassment of unwanted pushing and touching, persistent sexual demands. Offensive sexual commands constant conversations containing sexual innuendos and coarse language. The offender usually makes his moves swiftly and silently when there are not witnesses around.
He is usually confident that. Fear, embarrassment, and often the hopelessness of the situation will keep the victim from making public complaints. And when complaints are made, he can use every difference that this gray area of social attitudes and innuendos provides. When it is so hard for a rape victim to prove she has been violated, one can imagine how much harder it is for a victim of the less dramatic forms of violence to prove her case.
In such instances, if the offenders are their supervisors, women who resist or complain find themselves burdened with an increased workload. Escaping work evaluation unwarranted reprimands and sheer hostility so many quit their jobs rather than go to court when neither alternative seems feasible. They give in quietly. خاتون کارکنوں کی شکایتیں مختلف قسم کی ہیں۔
یہ عصمت دری سے لے کر دھکا دینا، چھونا، مسلسل جنسی مطالبات، جارحانہ قسم کے جنسی تبصرے، اور گندی زبان استعمال کرنا ہے۔ مرد اپنی اس قسم کی حرکتیں اکثر ایسے مواقع پر کرتے ہیں جبکہ آس پاس کوئی دیکھنے والا موجود نہ ہو۔ اس کو اطمینان ہوتا ہے کہ خوف اور نا امیدی عورت کو اس سے روکے رہے گی کہ وہ دوسروں سے اس کی شکایت کرے۔ حتیٰ کہ اگر عورت شکایت کرے تب بھی مرد کو اطمینان رہتا ہے کہ وہ حالات کے اعتبار سے اپنا کامیاب دفاع کر سکے گا۔
جہاں عصمت دری جیسے سنگین مسئلے کو ثابت کرنا مشکل ہو، وہاں اس سے کمتر درجے کی بدسلوکی کو کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے؟ اس طرح کے معاملات میں اگر ملزم وہ شخص ہو جو خاتون کارکن کا افسر ہے تو شکایت کرنے کی سزا خاتون کارکن کو یہ ملتی ہے کہ اس کے اوپر کام کا بوجھ بڑھا دیا جاتا ہے، اس کے کام کو بے قیمت کیا جاتا ہے، اور طرح طرح سے پریشان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بہت سی عورتیں عدالت میں جانے کے بجائے ملازمت چھوڑ دیتی ہیں۔ انڈین ایکسپریس 3 اگست 1986 امریکہ کے دفاتر میں خاتون کارکنوں کا یہ حال اس کے باوجود ہے کہ وہاں دونوں جنسوں کو مساوی درجہ دینے کے بارے میں باقاعدہ قوانین بنے ہوئے ہیں۔
خاتون کارکنوں کو نہ ستانے کے بارے میں بھی قوانین موجود ہیں۔ اس کے باوجود امریکی دفاتر میں عورت مظلوم بنی ہوئی ہے۔ اس کی مجبوری یہ ہے کہ وہ شوہر اور ماں باپ کو پہلے ہی چھوڑ چکی ہے۔ اب اگر وہ دفتر کو بھی چھوڑ دے تو کہاں جائے؟
حقیقت یہ ہے کہ مغربی عورت کی یہ مجبوری نہ ہو تو مغربی دفاتر عورتوں سے خالی نظر آنے لگے۔ مغربی دفاتر میں خاتون کارکنوں کا یہ حال اتفاقی نہیں اور نہ کسی بھی قانون کے ذریعے اس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ مسئلہ اس سے زیادہ بڑا ہے کہ کوئی قانون اس کی روک تھام کر سکے۔ چڑیا اور بیل کو مساوی قرار دینے کے لیے آپ دونوں کو یکساں طور پر مقابلے کے میدان میں اتار دیں، اور اس کے بعد چڑیا کچل اٹھے تو کیا اس ظلم کو قانون کے ذریعے روکا جا سکتا ہے؟
کیا ایسا کوئی قانون بنانا ممکن ہے کہ چڑیا اور بیل دونوں ٹکرائیں، اس کے باوجود چڑیا کو کوئی گزن نہ پہنچے؟ حقیقت یہ ہے کہ مرد کو قدرت نے صنف قوی بنایا ہے اور عورت کو صنف نازک۔ یہ فرق دونوں کے اس کام کی نوعیت کے اعتبار سے ہے جو قدرت دونوں سے الگ الگ لینا چاہتی ہے۔ دونوں کے تقسیم عمل میں تبدیلی فطرت کی خلاف ورزی ہے، اور فطرت کی خلاف ورزی سے جو مسائل پیدا ہوں، ان کا حل دوبارہ فطرت سے مطابقت ہے۔
فطرت کی خلاف ورزی کو باقی رکھتے ہوئے ان کو کسی بھی طرح حل نہیں کیا جا سکتا۔ پھول کو اگر آپ گلدستے میں لگائیں تو وہ ایک اونچی سطح پر اپنے لیے باعزت جگہ پا لے گا، لیکن اگر آپ پھول کو میز کے پائے کے نیچے رکھنے لگیں تو وہ کچل کر مٹی میں مل جائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ مرد اور عورت کا ہے۔ عورت کو اگر گھر کے اندر رکھا جائے تو وہ بہن اور بیوی اور ماں کی حیثیت سے نہایت باعزت جگہ کی مالک بنے گی۔
لیکن اگر اس کو گھر سے نکال دیا جائے اور باہر کی دنیا میں اس کو مردوں کے دوش بدوش کھڑا کر دیا جائے تو اس کا وہی انجام ہوگا جو مغربی دنیا میں اس کے نتیجے میں عورت کا ہو چکا ہے۔ عورت کا صنف نازک ہونا گھر کے اندر اس کو گھر کی ملکہ بناتا ہے۔ عورت کا صنف نازک ہونا گھر کے باہر کی زندگی میں اس کو مظلوم اور حقیر بنا دیتا ہے۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 48۔