Maulana Wahiduddin Khan
17 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Bunyadi farq

Urdu · 17 min

بنیادی فرق: نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر الیکسیس کیرل، 1873-1944، نے مذکورہ موضوع پر نہایت نفیس بحث کی ہے۔ وہ اس معاملے کی حیاتیاتی تفصیلات پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "مرد اور عورت کے درمیان جو فرق پائے جاتے ہیں، وہ محض جنسی اعضاء کی خاص شکل، رحم کی موجودگی، عمل یا طریقۂ تعلیم کی وجہ سے نہیں ہیں؛ وہ اس سے زیادہ بنیادی نوعیت کے ہیں: وہ خود نسیجوں کی بناوٹ سے پیدا ہوتے ہیں، اور پورے نظامِ جسمانی میں خصوصی کیمیائی مادّے کے سرایت کرنے سے ہوتے ہیں، جو کہ خصیت الرحم سے نکلتے ہیں۔ " ان بنیادی حقیقتوں سے بے خبری نے ترقیِ نسواں کے حامیوں کو عقیدے تک پہنچایا ہے کہ دونوں صنفوں کے لیے ایک طرح کی تعلیم، ایک طرح کے اختیارات، اور ایک طرح کی ذمہ داریاں ہونی چاہئیں۔ بااعتبارِ حقیقت، عورت نہایت گہرے طور پر مرد سے مختلف ہے؛ عورت کے جسم کے ہر خلیے میں زنانہ پن کا اثر موجود ہوتا ہے۔

عورت کے جسم کے ہر خلیے میں زنانہ پن کا اثر موجود ہوتا ہے۔ یہی بات اس کے اعضاء کے بارے میں بھی درست ہے، اور سب سے بڑھ کر اس کے اعصابی نظام کے بارے میں۔ عضویاتی قوانین بھی اتنا ہی اٹل ہیں، جتنا کہ فلکیاتی قوانین اٹل ہیں؛ ان کو انسانی خواہشوں سے بدلا نہیں جا سکتا۔ ہم مجبور ہیں کہ ان کو اسی طرح مانیں جیسے کہ وہ ہیں۔

عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو خود اپنی فطرت کے مطابق ترقی دیں، وہ مردوں کی نقل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ تہذیب کی ترقی میں ان کا حصہ اس سے زیادہ ہے جتنا کہ مردوں کا ہے۔ انہیں اپنے مخصوص عمل کو ہرگز چھوڑنا نہیں چاہیے۔ Women differs profoundly from man.

The differences existing between man and women do not come from the particular form of the sexual organs. The presence of the uterus from gestation or from the mode of education—they are of a more fundamental nature; they are caused by the very structure of the tissues and by the impregnation of the entire organism with specific chemical substances secreted by the ovary. Ignorance of these fundamental facts has led promoters of feminism to believe that both sexes should have the same education, the same powers, and the same responsibilities. In reality, women differs profoundly from man.

Every one of the cells of her body bears the work of her sex. The same is true of her organs and, above all, of her nervous system. Physiological laws are as inexorable as those of the sidereal world; they cannot be replaced by human wishes. We are obliged to accept them just as they are.

Women should develop their aptitudes in accordance with their own nature, without trying to imitate the males. Their part in the progress of civilization is higher than that of men. They should not abandon their specific functions. Dr.

Alexis Carroll, Man the Unknown, New York, 1949, page 91. انگریزی کے مشہور صحافی مسٹر خوشبند سنگھ، 1915 تا 2014، نے پروفیسر آئسنک، یعنی ہانس یورگن آئسنک، 1916 تا 1997 کے حوالے سے اس سلسلے میں جو لکھا ہے، وہ قابلِ غور ہے: "Why women are second-rate. Why women are second-rate as an ardent supporter of equal opportunities for women. I am constantly nagged by doubts about their creative ability—how is it that women have produced so few writers, poets, composers, artists of top caliber?

How is it that even in professions which are traditionally regarded as theirs exactly—grass, cooking, and dress designing—men beat them to the second place? All the famous chefs and dressmakers, even women's wear armen, hitherto I had accepted the sociologist's point of view that it was tradition and environment that militated against them. Somehow the sociological answer did not carry total conviction, and I felt there was more than environment and lack of opportunity behind women's second-ratedness. Professor H.

J. Eysenck, who invented the intelligence quotient (IQ) test and pronounced that the black and brown races had a lower IQ than the whites, has now proclaimed the same about women: their genes make them what they are from the time of conception. Their feminineness is programmed as in a computer; it is not, as sociologists maintain. Tradition or environment, which makes a female child play with dolls while her brother plays with toy soldiers, but her biological constitution—even within the womb—the female develops a broader pelvis than the male.

The broader the pelvis, the more feminine will its possessor be. Says Eysenck: males with broad pelvises tend to be feminine, passive, even homosexual. Females with narrow pelvises tend to be masculine, aggressive, even lesbian. Random sampling amongst your own acquaintances will confirm some of Eysenck's postulates.

Eysenck had earlier brought the wrath of the champions of racial equality on his head; now women's labors are out for his scalp, with their rolling pins. The Illustrated Weekly of India, April 2, 1978. عورتوں کو مساوی مواقع دیے جانے کے ایک پرجوش حامی کی حیثیت سے، میں مسلسل طور پر ان کی تخلیقی صلاحیت کے بارے میں شبہ کا شکار رہا ہوں۔ ایسا کیوں ہے کہ عورتوں نے اعلیٰ درجے کے ادیب، شاعر، آرٹسٹ اتنی کم تعداد میں پیدا کیے؟

ایسا کیوں ہے کہ ان شعبوں میں جو روایتی طور پر عورتوں کے شعبے سمجھے جاتے ہیں، مثلاً طباخی اور لباس سازی، وہ مردوں کے مقابلے میں دوسرے درجے پر ہیں؟ تمام مشہور طباخ اور لباس ساز، حتیٰ کہ عورتوں کے لباس کے بھی، مرد ہی ہیں۔ اب تک میں سماجی علماء کے اس نقطۂ نظر کو مانتا رہا ہوں کہ یہ روایت اور ماحول ہے جس نے ان کے خلاف کام کیا ہے۔ مگر سماجی توجیح سے مجھے پورا اطمینان نہ ہو سکا۔

میں محسوس کرتا رہا کہ ماحول یا مواقع کے فقدان کے علاوہ بھی کچھ اسباب ہیں جنہوں نے عورتوں کو مردوں سے پیچھے کر رکھا ہے۔ پروفیسر آئسنک، جنہوں نے ذہانت کا حسابی پیمانہ ایجاد کیا ہے، اور جن کا کہنا ہے کہ کالے اور ساؤلے رنگ کی نسلیں سفید فام نسلوں کے مقابلے میں کمتر ذہانت رکھتی ہیں، اب انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہی بات عورتوں کے لیے بھی صحیح ہے۔ ان کے جین دراصل ان کو بناتے ہیں؛ حمل کے وقت ہی سے ان کا زنانہ پن اسی طرح متعین اور مقرر ہوتا ہے جس طرح کسی کمپیوٹر میں۔ علمائے سماجیات کے دعوے کے برعکس، یہ روایت اور ماحول کا اثر نہیں ہے کہ ایک چھوٹی بچی گڑیوں کے کھیلنے کا شوق رکھتی ہے اور ایک چھوٹا بچہ سپاہی کی صورت والے کھلونے سے کھیلتا ہے۔

یہ حیاتیاتی بناوٹ کا اثر ہے۔ حتیٰ کہ ایک لڑکی، جب کہ ابھی وہ رحمِ مادر میں ہوتی ہے، وہ لڑکے کے مقابلے میں زیادہ کشادہ پیڑو بنانے لگتی ہے۔ پیڑو جتنا زیادہ کشادہ ہوگا، اتنا ہی اس میں زنانہ پن زیادہ ہوگا۔ یہ بھی پایا گیا ہے کہ جن مردوں کے پیڑو چوڑے ہوتے ہیں، ان میں زنانہ پن انفعالیت، حتیٰ کہ ہم جنسی کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔

اسی طرح جن عورتوں کے پیڑو کم چوڑے ہوتے ہیں، ان میں مردانہ اوصاف جارحیت، ان میں مردانہ اوصافِ جارحیت اور ہم جنسی کے رجحانات ہوتے ہیں۔ یہ تجربات اتنے خطی ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے قریبی لوگوں کا جائزہ لے کر ان کی تصدیق کر سکتا ہے۔ آئسنک اس سے پہلے نسلی مساوات کے حامیوں کا نشانہ تنقید رہا۔ آئسنک اس سے پہلے نسلی مساوات کے حامیوں کا نشانہ تنقید رہا ہے۔

اب مساواتِ نسواں کے حامیوں نے بھی اس کے خلاف قلم اٹھا لیا ہے اور اس پر سخت تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ خوشبند سنگھ، کتاب "خاتونِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.