Maulana Wahiduddin Khan
20 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Mard aur aurat ka farq

Urdu · 20 min

مرد اور عورت کا فرق تاریخ کے ہر دور میں عورتیں مردوں کے ماتحت رہی ہیں، حتیٰ کہ آج بھی مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ صورتحال مکمل طور پر موجود ہے۔ نام نہاد آزادی نسواں تحریک کے مغربی علمبردار اب تک یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ کوئی فطری تقسیم نہیں ہے، بلکہ سماجی حالات، یعنی سوشل کنڈیشننگ، نے مصنوعی طور پر یہ فرق پیدا کر رکھا ہے۔ تاہم حال میں اس سلسلے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، انہوں نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ امریکہ کے پروفیسر اسٹیون گولڈبرگ، یعنی اسٹیون برون گولڈبرگ، "Death 2022" میں ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے "نظام سرداری کی ناگزیرت: The Inevitability of Patriarchy: Why the Biological Difference Between Men and Women Always Produces Male Domination"، نیویارک، 1973۔

مصنف کہتے ہیں کہ معاشرے میں عورت مرد کے فرق کی وجہ حقیقتاً کوئی سماجی دباؤ نہیں ہے، بلکہ دونوں جنسوں میں بنیادی فطری فرق اس کا سبب ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد پروفیسر موصوف کو امریکہ کی انتہا پسند خواتین کی طرف سے نہایت سخت خطابات ملے ہیں، مثلاً "ظالم خنزیر" اور "مرد سادی" یعنی "میل سیڈسٹ" وغیرہ۔ سادیت، کونت دی سادے، 1740 تا 1814 عیسوی کی طرف منسوب ہے۔ اس سے مراد ایک قسم کی جنسی کجروی ہوتی ہے جس کے مبتلا کو اس میں لطف آتا ہے کہ وہ معشوق کو جسمانی تکلیف دے۔

مرد سادی کا مطلب یہ ہے کہ ایسا مرد جو عورت کے حق میں ظالم ہو۔ کتاب کی اشاعت کے بعد پروفیسر گولڈبرگ سے جب "ڈیلی ایکسپریس" کا نمائندہ ملا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا: "مساوات نسواں کی علمبردار خواتین مجھ سے نفرت کرتی ہیں، مگر مجھے یقین ہے کہ تمام انسانی معاشروں میں مرد کا عمومی غلبہ، یعنی میل ڈومینیٹ، میل ڈومیننس، صرف سماجی حالات کی وجہ سے نہیں ہو سکتا۔ " اس فرق کی زیادہ حقیقت پسندانہ توجیح یہ ہے کہ اس کو مردانہ ہارمون، یعنی میل ہارمون، کا نتیجہ قرار دیا جائے، جو کہ ابتدائی جرسومِ حیات پر اس وقت غالب آ جاتے ہیں جبکہ وہ ابھی رحمِ مادر میں ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ چھوٹے بچے چھوٹی بچیوں سے زیادہ جارح ہوتے ہیں، اور یہ فرق عین اس وقت ظاہر ہو جاتا ہے جبکہ ابھی وہ سماجی حالات کے زیرِ اثر بھی نہ آئے ہوں۔

وومن آر بورن سبورڈینیٹ اٹس اے رف اولڈ ورلڈ فار وومن، ایز دا فیمینسٹس نیور سیز ٹو ریمائنڈ اس دے بلیم سینچریز آف سوشل کنڈیشننگ۔ ایک کائنڈ آف کانسپریسی، ویر بائی مین آل اوور دی ورلڈ، سم ہاؤ کنٹرائیو ٹو کیپ وومن ان اے سبورڈینیٹ رول۔ اے مچ سمپلر اینڈ مور پراببل ایکسپلینیشن از دیٹ یونیورسل میل ڈومیننس سٹیمز، ناٹ فرام سوشل آپریشن، بٹ فنڈامینٹل ڈیفرنسز بٹوین دا سیکسز۔ دس از دا ویو پٹ فارورڈ بائی پروفیسر اسٹیون گولڈبرگ آف نیویارک ان ہز بک "دا ان ایویٹیبلٹی آف پیٹریارکی"، وچ ہیز ارنڈ ہز سم شریئل ابیوز فرام فیمینسٹس ان امریکہ۔

فاشسٹ پگ اینڈ میل سیڈسٹ آر ٹو آف دا مائلڈر ایپی تھٹس، اینڈ ہیز اپسیٹ اے فیو ہیر ٹو سنس دا ارائیوڈ ٹو لانچ دا برٹش پبلیکیشن۔ دا فیمینسٹس ہیٹ می، گولڈبرگ ٹولڈ می چیرفلی، آئی لائک ٹو تھنک دیر انٹینس روتھ سٹیمز فرام مائی انہیرنٹ رائٹنس۔ پٹنگ اٹ سمپلی، آئی بیلیو دیٹ دا یونیورسلٹی آف میل ڈومیننس ان آل سوسائٹیز کیناٹ بی ایکسپلینڈ بائی سوشل کنڈیشننگ، بٹ اٹ کین بی ایکسپلینڈ بائی دا میل ہارمون، ٹیسٹوسٹیرون، وچ پروگرامز دا انفینٹ میل فار اے لائف آف گریٹر ایگریشن اینڈ ڈومیننس، وائل ہی از سٹل ان دا ووم۔ دیٹس وائی لٹل بوائز آر کلیئرلی مور ایگریسو دین لٹل گرلز، ایون بیفور دے ہیڈ اے چانس ٹو بی سوشلی کنڈیشنڈ۔

اینڈ ان لیٹر لائف، دس سیم ڈومیننس مینز دیٹ مین آر فار مور ریڈی ٹو سیکریفائس ہالی ڈیز، ہیلتھ اینڈ فیملی، فار دا سیک آف دیر کریئر۔ ان ٹروتھ، دا فیمینسٹ کیس ان نان ٹو سٹرانگ۔ اف اٹ ریلی ور ٹرو دیٹ میل ڈومیننس واز ڈیو ٹو سوشل کنڈیشننگ، ریدر دین انیٹ میل کوالٹیز، دین شورلی سم ویئر ان دا ورلڈ، ایز سم ٹائم اے سوسائٹی وڈ ہیو ایوالوڈ ان وچ وومن ور ڈومیننٹ۔ نان ہیز، اینڈ ایون ان سوسائٹیز لائک دوز بیہائنڈ دا ائرن کرٹن، وچ بوسٹ آف سیکشول ایکوالٹی، ون سیکس از اویسلی مور ایکول دین دا ادر۔

یو کین سی اٹ ان رشیاز 62 سٹرانگ کونسل آف منسٹرز، ناٹ ون از اے وومن۔ افٹر افٹر اے لائف ٹائم سپینٹ ریسرچنگ دا ڈائیورس سوسائٹیز آف دا ورلڈ، دین ایکسپرٹ وومن اینتھروپولوجسٹ میگریٹ میڈ، ہو از کامنلی تھاٹ ٹو بی ان دا فیمینسٹ سائیڈ، ہیز ڈیکلیئرڈ آل دا کلیمز سو گلبللی میڈ اباؤٹ سوسائٹیز رولڈ بائی وومن آر نان سینس۔ وی ہیو نو ریزن ٹو بیلیو دیٹ دے ایون ایگزسٹڈ۔ مین ہیو الویز بین دا لیڈرز ان پبلک افیئرز، اینڈ دا فائنل اتھارٹیز ایٹ ہوم۔

ڈز دیٹ مین دیٹ مین آر بیٹر دین وومن؟ پروفیسر گولڈبرگ ویگز اے وارننگ فنگر، ناٹ بیٹر بٹ ڈفرنٹ۔ دا میل برین ورکس ڈفرنٹلی فرام دا فیمیل برین ان ائی کیو ٹیسٹ ود مین اینڈ وومن آف سمیلر انٹیلیجنس لیولز۔ دا مین ٹینڈ ٹو سکور ہائر ان لاجک، لوجیکل لینڈ، ڈیڈکٹیو پرابلمز۔

دو، دا وومن ول جنرلی ڈو بیٹر ان وربل سکلز۔ انکوشن انکوشنبلی، وومن ہیو گریٹر ایموشنل اویرنس، ایون بیفور دے ہیو چلڈرن۔ لٹل گرلز آر کامنلی مور تھاٹ فل اینڈ سینسٹیو ٹو پیرنٹل موڈز دین لٹل بوائز۔ پروفیسر گولڈبرگز پروپوزیشن از کوائٹ سمپلی دیٹ دے ار مچ لیس لائکلی ٹو گیٹ ٹو دا ٹاپ، اینڈ آل بیکاز آف ٹیسٹوسٹیرون۔

دا ماسکولینیز، ماسکولینائزیشن آف دا برین بائی دس ہارمون ہیز بین ڈیمانسٹریٹڈ کنکلوسولی بائی ایکسپیریمنٹس ان فیمیل روتھس اینڈ ادر میملز۔ اینڈ وی ہیو ناؤ فاؤنڈ دا سیم تھنگ ود ہیومن بینگز، سیز گولڈبرگ۔ دا پروفیسر کنکلوڈ، دا پروفیسر کنکلوڈز دا سینٹرل فیکٹ از دیٹ مین اینڈ وومن ار ڈفرنٹ فرام ایچ ادر فرام دا جین ٹو دا تھاٹ ٹو ایکٹ۔ دیس ڈیفرنسز فلو فرام دا بائیولوجیکل نیچرس، نیچرز آف مین اینڈ وومن۔

وومن ہو ڈینائی دیر نیچرس اینڈ کویٹ اے سٹیٹ آف سیکنڈ ریٹ مین ہڈ، اور فار ایور کنڈیمڈ ٹو ارگیو اگینسٹ دیر اون جوسز۔ دا ایکسپیرینس آف مین از دیٹ دیر ار فیو وومن ہو کین اؤٹ فائٹ دیم، اینڈ فیو ہو کین اؤٹ ارگیو دیم۔ بٹ وین اے وومن یوز فیمینن مینز، شی کین ڈیل ود اینی مین ایز این ایکول۔ ان دس اینڈ ایوری ادر سوسائٹی، مین لوک ٹو وومن فار جنٹلنس، کائنڈنس اینڈ لو۔

دا بیسک میل موٹیویشن از پروٹیکشن آف وومن اینڈ چلڈرن۔ دا فیمینسٹ کیناٹ ہیو اٹ بوتھ ویز، اف شی وشز ٹو سیکریفائس آل دس۔ آل دیٹ شی ول گیٹ ان ریٹرن از دا رائٹ ٹو میٹ مین ان میل ٹرمز۔ شی ول لوز۔

ڈیلی ایکسپریس، لندن، جولائی فور، 1977۔ مساوات نسواں کے علمبرداروں کا مقدمہ خالص علمی اعتبار سے زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہوتی کہ مرد کا غلبہ سماجی حالات کی وجہ سے ہے، نہ کہ پیدائشی خصوصیات کی وجہ سے، تو یقینا کبھی نہ کبھی دنیا کے کسی خطے میں ایسا معاشرہ ضرور بنتا جس میں عورتوں کو غلبہ حاصل ہوتا۔ جبکہ پوری معلوم تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی، حتی کہ اشتراکی معاشرے میں بھی ایسا نہیں ہے جو جنسی مساوات کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔

روس کی وزارتی کابینہ میں 62 وزراء شامل ہیں، مگر ان میں کوئی ایک بھی خاتون ممبر نہیں۔ علم الانسان کی ماہر خاتون ڈاکٹر مارگریٹ میڈ، جو خود بھی مساوات نسواں کی تحریک سے تعلق رکھتی ہیں، انہوں نے ساری عمر مختلف انسانی معاشروں کا مطالعہ کیا ہے۔ تاہم وہ لکھتی ہیں: "ایسے تمام دعوے جن میں زور و شور کے ساتھ ایسے معاشروں کا انکشاف کیا گیا ہے جہاں عورتوں کو غلبہ حاصل تھا، بالکل لغو ہے۔ اس قسم کے عقیدے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

ہر دور میں مرد ہی امور عامہ کے قائد رہے ہیں، اور گھر کے اندر بھی اعلی اختیار ہمیشہ انہی کو حاصل رہا ہے۔ " پروفیسر گولڈبرگ کہتے ہیں: "اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرد عورتوں سے بہتر، یعنی بیٹر ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مرد عورتوں سے مختلف، یعنی ڈفرنٹ ہیں۔ مرد کا دماغ اس سے مختلف طرز پر کام کرتا ہے، جس طرح عورت کا دماغ کام کرتا ہے۔

یہ فرق چوہوں وغیرہ کے نر اور مادہ میں بہت واضح طور پر تجربہ کیا جا چکا ہے۔ کچھ عورتیں مستثنیٰ ہو سکتی ہیں، مگر وہ بہت معمولی اقلیت ہیں۔ " خلاصہ یہ کہ مرد اور عورت ایک دوسرے سے مختلف ہیں، رحم مادر سے لے کر سوچنے کی صلاحیت تک۔ یہ فرق دونوں کی حیاتیاتی نوعیت کے فرق سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ کسی قسم کے سماجی حالات سے۔

ڈیلی ایکسپریس، چار جولائی، 1977۔ کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.