Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Mard aur aurat ka masala

Urdu · 11 min

مرد اور عورت کا مسئلہ اس سلسلے میں مرد اور عورت کے تعلقات کے مسئلے کو لیجیے۔ مرد اور عورت کا باہمی تعلق خدائی قانون میں تقسیمِ کار کے اصول پر قائم کیا گیا تھا، یعنی مرد باہر کا کام کرے اور عورت گھر کے اندر کے کام کو سنبھالے۔ خران میں ارشاد ہوا ہے: «الرجال قوّامون على النساء» سورہ نمبر 4 آیت 34۔ یعنی مرد عورتوں کے اوپر قوّام ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر حاکم ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کے نظام میں وہ تمام کام جن کے لیے فعال صلاحیت درکار ہے، وہ سب مرد کے ذمے ہیں۔ مثلاً کمانا، دفاع کرنا، بیرونی معاملات کا انتظام کرنا، حکومت چلانا، وغیرہ۔ مرد ان کاموں کے لیے فطری طور پر زیادہ موضوع ہیں، اس لیے یہ سب کام انہی کے ذمے کیے گئے ہیں۔ قوّام کا لفظ تقسیمِ عمل کی حکمت کو بتاتا ہے، نہ کہ ایک صنف پر دوسرے صنف کے امتیازی مرتبے کو۔

اس کے برعکس گھر کے اندرونی نظام کو سنبھالنے کا جو کام ہے، اس کے لیے منفعل صلاحیتیں درکار ہیں۔ یہ صلاحیتیں عورت میں زیادہ ہیں، اس لیے اس کو گھر کے اندرونی کاموں کا انچارج بنایا گیا ہے۔ اسی تقسیمِ کار پر ہزاروں سال سے زندگی کا نظام چل رہا تھا۔ یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد پہلی بار وہ حالات پیدا ہوئے جبکہ یہ نظام ٹوٹنا شروع ہوا۔

قدیم زمانے میں کمانا نام تھا شکار کرنے کا، کھیتی اور باغبانی کرنے کا، تجارتی سامان لاد کر برّ و بحر کا مشکل سفر کرنے کا، وغیرہ۔ اس قسم کی پرمشقت کمائی صرف مرد ہی کر سکتے تھے، اس لیے عملاً اس کے سوا کوئی صورت ممکن نہ تھی کہ مرد کمائیں اور عورتیں گھر کے اندرونی نظام کو سنبھالیں۔ مگر یورپ میں صنعتی انقلاب نے بے شمار نئے نئے کام پیدا کر دیے، جن کو کرنا کسی سے نہ کسی درجے میں عورتوں کے لیے بھی ممکن تھا۔ یورپ میں پردے کا نظام پہلے بھی موجود نہ تھا، چنانچہ عورتیں دفتروں اور کارخانوں میں پہنچ کر کام کرنے لگیں۔

اس طرح دھیرے دھیرے یہ صورتحال ختم ہونے لگی کہ کمائی کا انحصار صرف مرد پر ہو اور عورتیں کچھ نہ کر سکیں۔ جب عورتیں خود کفیل ہوئیں تو اسی کے ساتھ ان کے اندر یہ ذہن بھی پیدا ہوا کہ وہ مردوں کی پابندی سے نکلیں اور اپنے لیے آزاد اور مستقل زندگی بنائیں۔ اس طرح وہ تحریک پیدا ہوئی جس کو آزادیِ نسواں یعنی وومنز لبریشن کی تحریک کہا جاتا ہے۔ آزادیِ نسواں کی تحریک کے صنعتی انقلاب سے وابستہ ہونے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ تحریک اولاً انہی ملکوں میں شروع ہوئی جہاں سب سے پہلے صنعتی انقلاب آیا تھا۔

چنانچہ آزادیِ نسواں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سب سے پہلے انگلینڈ میں شروع ہوئی، عورتوں کے لیے برابری کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی پہلی قابلِ ذکر کتاب لندن سے چھپی جس کا نام یہ تھا: "Evindication of the Rights of Women" by Mary Wollstonecraft (1792) امریکہ میں صنعتی انقلاب دیر سے آیا، اس لیے امریکہ میں آزادیِ نسواں کی تحریک انیسویں صدی میں شروع ہو سکی۔ صنعتی انقلاب کی ترقی کے ساتھ آزادیِ نسواں کی تحریک بھی ترقی کرتی رہی، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں پہنچ کر وہ اپنے آخری کمال تک پہنچ گئی۔ آزادیِ نسواں کے علمبرداروں کے دلائل کا خلاصہ یہ تھا کہ قدیم سماجوں میں عورت اور مرد کے درمیان جو فرق تھا، اس کا سبب فطرت میں نہ تھا بلکہ سماج میں تھا۔ عورت ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کرتا ہے یا کر سکتا ہے، مگر قدیم سماجی حالات نے عورت کو ابھرنے کا موقع نہیں دیا۔

اگر یہ سماجی دباؤ ختم کر دیا جائے تو عورت ہر میدان میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرے گی، وہ کسی اعتبار سے مرد کے پیچھے نہیں رہے گی۔ اس تحریک کو اب پورے 200 برس ہو چکے ہیں۔ جدید ترقی یافتہ ممالک میں وہ اس مقصد میں پوری طرح کامیاب ہو چکی ہے کہ وہاں وہ سماجی حالات باقی نہیں ہیں جو اس تحریک کے علمبرداروں کے نزدیک عورت کی مساویانہ حیثیت کو حاصل کرنے میں رکاوٹ تھے۔ ہر ملک میں برابری کے قوانین بنائے جا چکے ہیں۔

خانون یا رواج کے اعتبار سے آج عورت کی راہ میں مطلق کوئی رکاوٹ باقی نہیں ہے۔ اس کے باوجود عورت ابھی تک مرد سے پیچھے ہے۔ وہ کسی بھی شعبے میں مرد کی برابری حاصل نہ کر سکی۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 نے جدید معاشرے میں عورت کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اقتصادی میدان میں گھر سے باہر کام کرنے والی عورتیں بہت زیادہ تعداد میں کم تنخواہ والے کاموں میں ہیں اور ان کا درجہ سب سے نیچا ہے۔

حتیٰ کہ عورتیں ایک ہی کام میں مرد سے کم تنخواہ پاتی ہیں۔ امریکہ میں خاتون کارکنوں کی اوسط تنخواہ مردوں کے مقابلے میں 20 فیصد ہے۔ جاپان میں یہ اوسط 55 فیصد ہے۔ سیاسی طور پر عورتیں بہت بڑے پیمانے پر نمائندگی سے محروم ہیں۔

قومی اور مقامی حکومتوں میں نیز سیاسی پارٹیوں میں۔ In the economic sphere, women who work outside the home are heavily concentrated in the lowest paying work and that having the lowest status. Women also earn less than men in the same kits of jobs. The median pay of women workers in the U.S.

was 60% that of men in 1982. In Japan, the percentage of average pay was 55. Politically, women are greatly underrepresented in national and local government and in political parties. Encyclopedia Britannica, volume 10, page 732.

آج قدیم طرز کی سماجی حد بندیاں ٹوٹ چکی ہیں۔ ہر ملک میں برابری کے قوانین بن گئے ہیں۔ اس کے باوجود جدید عورت کو مرد کے مقابلے میں بدستور کم تر درجہ حاصل ہے۔ وہ کسی بھی شعبے میں مرد کے برابر درجہ حاصل نہ کر سکی۔

یہ صورتحال بتاتی ہے کہ عورت اور مرد کی حالت میں فرق کی وجہ وہ نہ تھی جس کو آزادیِ نسواں کے علمبرداروں نے سمجھ لیا تھا۔ اگر وہ وجہ ہوتی تو اب بیسویں صدی کے نصف آخر میں عورت کو کامل طور پر مرد کے برابر درجہ مل جانا چاہیے تھا۔ جب ایسا نہ ہو سکا تو اب ہمیں اس کی توجیہ کے لیے کوئی دوسرا سبب تلاش کرنا ہوگا۔ یہ دوسرا سبب آج خود علمِ انسانی نے دریافت کر لیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ دونوں صنفوں کے درمیان فرق سماجی حالات کی بنا پر نہ تھا بلکہ دونوں کی پیدائشی بناوٹ کی بنا پر تھا۔

اس کا سبب حیاتیات میں تھا، نہ کہ سماجی حالات میں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس سلسلے میں کافی تحقیقات ہوئی ہیں، اور اب یہ بات آخری طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی اعتبار سے بنیادی فرق ہے۔ اور جب تک یہ فرق باقی ہے، دونوں کی سماجی حیثیت میں بھی فرق باقی رہے گا۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 35۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.