Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Inhiraaf ka noqsaan

Urdu · 9 min

انحراف کا نقصان: خدا کی اس میزان، یعنی قانونِ عدل سے انحراف ہی کا نام بگاڑ ہے۔ چنانچہ خُران میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ نے زمین میں اپنے اصلاحی قوانین کے ذریعے جو توازن قائم کر رکھا ہے، اس میں فرق نہ کرو، ورنہ زمین میں فساد پیدا ہو جائے گا۔ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا سورہ نمبر 7 آیت 56۔ یعنی: اور زمین میں فساد نہ کرو، اس کی اصلاح کے بعد۔

کائناتی توازن کی ایک مثال زمین اور سورج کا فاصلہ ہے: زمین اور سورج کے درمیان تقریباً 9 کروڑ میل کا فاصلہ ہے۔ یہ فاصلہ حد درجہ متوازن ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ اگر یہ درمیانی فاصلہ نصف کے بقدر گھٹ جائے، یعنی سورج ہماری زمین سے ساڑھے 4 کروڑ میل کی دوری پر آ جائے، تو زمین پر اتنی سخت گرمی پیدا ہوگی کہ اس کی ہر چیز جل جائے گی، اور یہاں زندگی جیسی چیز کا وجود ناممکن ہو جائے گا۔ یہی معاملہ زمین کی جسامت کا ہے۔

زمین کا محیط اس وقت تقریباً 25,000 میل ہے۔ اگر یہ محیط نصف کے بقدر گھٹ جائے، یعنی وہ کم ہو کر ساڑھے 12,000 میل ہو جائے، تو اس کی کشش اتنی کم ہو جائے گی کہ زمین کی سطح پر ہمارا جماؤ ناممکن ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر زمین کا محیط دگنا مقدار میں بڑھ جائے، یعنی وہ 50,000 میل ہو جائے، تو اس کی کشش اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ تمام نمو پذیر چیزوں کی بڑھوتری رک جائے گی۔ انسان چوہوں کی مانند ہو جائیں گے، اور چوہے چیونٹیوں کی مانند۔

زمین پر جو بے مثال توازن قائم ہے، اس کی ایک عجیب مثال وہ ننھی مخلوقات ہیں جن کو کیڑے مکوڑے کہا جاتا ہے۔ یہ کیڑے مکوڑے انسان کی طرح پھیپھڑے نہیں رکھتے؛ وہ نالیوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں۔ جب یہ کیڑے بڑے ہوتے ہیں تو ان کی یہ نالیاں ان کے جسم کی نسبت سے نہیں بڑھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا انچوں سے زیادہ آگے نہیں بڑھتا۔

اپنے اس ڈھانچے کی وجہ سے کبھی کوئی کیڑا بڑے سائز کا نہیں ہوا۔ اسی نظام نے کیڑوں کو اس سے روکا کہ وہ دنیا پر چھائیں۔ اسی نظام نے کیڑوں کو اس سے روکا کہ وہ دنیا پر چھا جائیں۔ اگر یہ طبعی روک نہ ہوتا تو زمین پر انسان کا وجود ناممکن ہو جاتا۔

ایسے انسان کا تصور کیجیے جس کا مقابلہ ایسی بھیڑ سے ہو جو شیر کے بقدر بڑی ہو، یا ایک ایسی مکڑی جو بڑھ کر عظیم الجثہ جانور کی مانند ہو گئی ہو۔ The insects which, unlike human beings, do not possess lungs but breathe through tubes. When insects grow large, the tubes cannot grow in ratio to the increasing size of the body of the insect. Hence, there never has been an insect more than a few inches long, with a slightly longer wing spread.

Because of the mechanism of their structure and their method of breathing, there never could be an insect of great size. This limit in their growth held all insects in check and prevented them from dominating the world, if this physical check had not been provided. Man could not exist. Imagine a man meeting a hornet as big as a lion, or a spider equally large.

Man does not stand alone. پیج 79 سے 80۔ بعض لوگوں نے دنیا کے اس نظام پر اعتراض کیا ہے۔ مثلاً ایک مغربی مصنف نے لکھا ہے کہ زمین کی کشش ضرورت سے زیادہ ہے، چنانچہ 10 کلو کا وزن لے کر چلنا بھی زمین کے اوپر مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر زمین کی کشش کم ہوتی تو ہم 10 کلو کا وزن باآسانی لے کر اس پر چل سکتے تھے۔ مگر یہ ایک نادانی کا اعتراض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی کشش کی وجہ سے زمین پر ہمارے مکانات ٹھوس چٹان کی طرح قائم ہوتے ہیں۔ اگر زمین کی کشش کم ہوتی تو ہمارے مکانات کاغذ کے گھروندوں کی طرح ادھر ادھر اڑنے لگتے، اور زمین پر تہذیب کا قیام ناممکن ہو جاتا۔

خوش قسمتی سے کائنات کا نظام انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے، ورنہ کوئی صاحب زمین کی کشش گھٹا کر زمین کے اوپر انسانی نسل کے استحکام کو ناممکن بنا دیتے۔ کوئی صاحب اٹھتے اور زمین اور سورج کے فاصلے میں تبدیلی کرتے، اور پھر یا تو ساری زمین کو برف کی طرح ٹھنڈا بنا دیتے یا آگ کی بھٹی کی طرح گرم۔ اسی طرح کوئی صاحب کہتے کہ کیڑوں کی نالیوں کا موجودہ نظام ان کے اوپر ظلم ہے، اس لیے ایسا ہونا چاہیے کہ جسم کے ساتھ ان کی نالیاں بھی بڑھتی رہیں۔ اور اس کے بعد یہ حال ہوتا کہ ساری زمین بھینسوں اور ہاتھیوں جیسے بھیانک کیڑوں سے بھر جاتی۔

انسان بقیہ کائنات میں اس قسم کا بگاڑ پیدا کرنے پر قادر نہ تھا، اس لیے وہ کائنات کے نظام میں تبدیلی نہ کر سکا۔ البتہ خود اپنی دنیا میں عمل کے لیے وہ آزاد تھا، اس لیے یہاں اس نے دل کھول کر ہر قسم کا بگاڑ پیدا کیا، حتیٰ کہ وہ صورتحال پیدا ہو گئی جس کو خُران میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِ النَّاسِ سورہ نمبر 30 آیت 41۔ یعنی خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا ان اعمال کے نتیجے میں جو انسان نے کیے۔ کتاب: خاتونِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 33۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.