Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Qanun-e-tawazun

Urdu · 4 min

قانونِ توازن۔ اب دیکھیے کہ وہ کون سا دین یا خدائی قانون ہے جو خدا نے بقیہ کائنات میں نافذ کر رکھا ہے۔ وہ قرآن کے لفظ میں میزان، یعنی بیلنس کا خانون ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ سورہ نمبر 55، آیت 7 تا 9۔

یعنی: اور اللہ نے آسمان کو اونچا کیا اور اس میں میزان رکھی کہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو، اور تول کو ٹھیک رکھو انصاف کے ساتھ، اور وزن میں کمی نہ کرو۔ He raised the heaven on high and set the balance, that you might not transgress. That you might not transgress the balance. Give just weight and full measure.

کائنات کوئی ایک چیز نہیں، وہ بہت سی چیزوں کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کی تمام چیزیں متحرک ہیں۔ ایٹم سے لے کر شمسی نظام یا کہکشاں تک، کوئی چیز ساکن نہیں۔ ان متحرک اجزاء کو صحیح کارکردگی پر باقی رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ ہر ایک کے عمل کی ایک حد ہو، اور مختلف چیزوں کے درمیان صحیح ترین توازن و تناسب قائم رکھا گیا ہو۔

خدا نے چیزوں کو پیدا کرنے کے ساتھ ان کے درمیان باقاعدہ توازن بھی قائم کر دیا۔ اسی توازن کا دوسرا نام خانونِ فطرت، یعنی Law of Nature ہے۔ اسی طرح انسانی دنیا بھی بہت سے افراد کا مجموعہ ہے۔ یہاں بھی ہر فرد متحرک ہے۔

ایسی حالت میں ضروری تھا کہ ہر ایک کی حد مقرر کر دی جائے۔ مختلف افراد کے درمیان وہ توازن قائم کر دیا جائے جو اس بات کی ضمانت ہو کہ فرد دوسروں کے لیے مسئلہ بنے بغیر اپنی تکمیل کرے گا۔ وہ دوسروں سے غیر ضروری ٹکراؤ کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھے گا۔ یہی وہ قانونِ توازن ہے جو پیغمبروں کے ذریعے انسان پر کھولا گیا ہے۔

چنانچہ قرآن میں کہا گیا ہے: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ سورہ نمبر 57، آیت 25۔ یعنی: ہم نے اپنے رسول کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ایک میزانِ مکتوب اتاری، اور اس کے حق میں دلائل بھی فراہم کیے، تاکہ لوگ اس کی صداقت و واقعیت کا یقین کر سکیں، اور پھر اپنی زندگی کو اس میزان، یعنی قانونِ عدل کے مطابق ڈھالیں۔ کائنات کی بقیہ چیزوں کے لیے خدا کا جو قانونِ توازن ہے، وہ ان کے اندر داخلی طور پر شامل ہے، مگر انسان کے لیے وہ ایک خارجی کتاب میں لکھ کر اس کو دیا گیا ہے۔

کتاب: خاتونِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 31۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.