← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Fitrat ka nizaam
Urdu · 8 min
فطرت کا نظام: پتھر وغیرہ کو تراش کر اسٹیچو، یعنی مورت بنانا، ایک بہت پرانا فن ہے جس کو بت تراشی، یعنی sculpture، کہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ زندہ انسان میں اور پتھر کی مورتوں میں ظاہری طور پر کافی مشابہت ہوتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص انسان کے معاملے کو اسٹیچو کا معاملہ سمجھ لے، اور انسان کا مطالعہ فنِ بت تراشی کے تحت کرنے لگے، تو ایسی حالت میں کیا ہوگا؟ یہ طریقِ مطالعہ بڑے عجیب و غریب نتائج پیدا کرے گا۔
تراشی ہوئی مورت کو کھانے اور پینے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے ایسا عالم یہ فرض کر لے گا کہ انسان کے لیے بھی کھانے پینے کا انتظام کرنا ضروری نہیں ہے۔ ایک مورت کو مہینوں اور سالوں کے لیے کمرے میں بند کیا جا سکتا ہے، چنانچہ ایسا عالم انسان کو بھی ایک اندھیرے کمرے میں بند کر دے گا، اور اسے کوئی پریشانی نہ ہوگی، خواہ سالوں تک بھی کمرہ کھولنے کی نوبت نہ آئے۔ سابق صدرِ مصر جمال عبدالناصر کے زمانے میں، ایک منصوبے کے تحت پتھر کی ایک قدیم مورت، ابو سمبل، کو اپنی جگہ سے ہٹانا تھا۔ یہ مورت 20 میٹر اونچی تھی اور پہاڑ میں جمی ہوئی تھی، چنانچہ اس کو اس طرح ہٹایا گیا کہ 1964-66 عیسوی میں خصوصی مشینوں کے ذریعے کاٹ کر اس کے کئی ٹکڑے کیے گئے۔
یہ ٹکڑے اس کی پرانی جگہ سے ہٹا کر دوسری محفوظ جگہ لائے گئے، اور پھر دوبارہ جوڑ کر کھڑے کر دیے گئے۔ اب مذکورہ عالم یہ بھی کر سکتا ہے کہ وہ اپنے کسی منصوبے کی تکمیل کے لیے انسان کے جسم پر بھی آرا چلانا شروع کر دے۔ بظاہر ایسا کوئی سنگ تراش، یعنی sculptor، دنیا میں موجود نہیں ہے۔ مگر ایک اور شعبۂ علم میں موجودہ زمانے میں اسی قسم کے ماہرین پیدا ہو گئے ہیں، وہ انسان کو اسٹیچو فرض کر کے اس کے ساتھ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو صرف اسٹیچو کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
یہ وہ علم ہے جس کو موجودہ زمانے میں علم الانسان، یعنی anthropology، کہا جاتا ہے۔ anthropology کا علم انیسویں صدی کے آغاز میں پیدا ہوا۔ اس کا مقصد انسانی سماج کا مطالعہ خارجی معلومات کی روشنی میں کرنا تھا۔ انہوں نے قدیم انسان کے حالات، اس کے عقائد، اس کی روایات، اور اس کے مروجہ طریقوں، یعنی customs، کو جمع کیا اور ان کی روشنی میں انسان کے بارے میں رائے قائم کی۔
ان کے مطالعے کے دائرے میں قدرتی طور پر مذہب بھی آتا تھا، چنانچہ انہوں نے مختلف فرقوں اور قبیلوں میں موجود مذہب کے بارے میں معلومات جمع کیں۔ ہر وہ رواج جو مذہب کے نام پر کہیں پایا جاتا تھا، وہ سب انہوں نے اپنی فہرست میں اکٹھا کر لیا۔ اس طریقِ مطالعے کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب ایک سماجی مظہر، یعنی social phenomenon، بن گیا۔ یعنی ایک ایسی چیز جو انسانی توہمات، یعنی myths، اور رواج، یعنی customs، اور سماجی حالات کے اثر سے بنتی ہے۔
مذہب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی حکم تھا، مگر anthropology کے مخصوص طریقِ مطالعے کے نتیجے میں وہ محض ایک انسانی رواج بن کر رہ گیا۔ اس طریقِ مطالعے کا زبردست نقصان یہ ہوا کہ مذہب نے موجودہ زمانے میں اپنی اعتباریت، یعنی credibility، کھو دی۔ وہ ایک غیر اہم چیز بن کر رہ گیا۔ مذہب ایک خدائی حکم کی حیثیت سے ایک ایسی چیز کی حیثیت رکھتا تھا جو اپنی ذات میں مستند ہو، جس کے بارے میں پیشگی طور پر یہ یقین کیا جا سکے کہ اس کا ہر بیان امرِ واقعی کا بیان ہے، اور اس قابل ہے کہ اس کو بالکل درست سمجھ کر مان لیا جائے۔
اس کے برعکس، مذہب کو جب محض ایک سماجی مظہر، یعنی social phenomenon، مان لیا جائے تو اس کی ساری اعتباریت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ ایک ایسی چیز بن جاتا ہے جس کو ناواقف انسانوں کے رواج نے وضع کیا ہو، نہ کہ اس خدا نے جو ہر چیز سے براہِ راست واقف ہے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے کیمسٹری کی سائنس کو گھٹا کر کیمیاگری، یعنی alchemy، کا درجہ دے دیا جائے، یا فلکیات، یعنی astronomy، کو فنِ جوتش، یعنی astrology، کے ہم معنی سمجھا جانے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے بارے میں یہ طریقِ مطالعہ سراسر غلط ہے۔
اس طریقِ مطالعے نے ایک حقیقی جز کو غیر حقیقی جز بنا دیا۔ اس نے ایک خدائی چیز کو ایک انسانی چیز کا درجہ دے دیا۔ مذہب کی حقیقت سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے: «اَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ» سورہ نمبر 3، آیت 83۔ یعنی کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالانکہ اسی کے تابع ہے وہ سب کچھ جو زمین اور آسمان میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے، اور اسی کی طرف لوگ لوٹنے والے ہیں؟
اس آیت کے مطابق مذہب عین وہی خدا کا دین ہے جو بالفعل ساری کائنات میں قائم ہے۔ خدا نے جس دین یا قانون کا پابند بقیہ دنیا کو بنا رکھا ہے، اسی کا پابند وہ انسان کو بھی بنانا چاہتا ہے، اور اسی آفاقی قانون کا نام مذہب ہے۔ کتاب "خاتونِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 29۔