Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Tajarrud ka mua'mla

Urdu · 9 min

تجرد کا معاملہ اسلام سے پہلے تقریباً تمام مذاہب میں تجرد کو پارسائی کا اعلیٰ معیار سمجھا جاتا تھا۔ اس کی وجہ بھی وہی تھی جس کا اوپر ذکر ہوا: عورتوں کو حقیر اور گناہ کا سرچشمہ سمجھنے کی وجہ سے یہ ہوا کہ عورتوں کو اپنی زندگی میں شامل کرنے والا شخص لوگوں کی نظر میں کمتر ہو گیا۔ اس کے برعکس، وہ شخص لوگوں کی نظر میں مقدس بن جاتا تھا جو تجرد کی زندگی اختیار کیے ہوئے ہو۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں، "Celibacy has existed in some form or another throughout man's religious history and has appeared in virtually all the major religious traditions of the world." انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 3، پیج 1040۔

تجرد کسی ایک یا دوسری شکل میں انسان کی پوری مذہبی تاریخ میں موجود رہا ہے۔ عملی طور پر، وہ دنیا کے تمام بڑے مذہبوں میں پایا جاتا رہا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے مقالے "تجرد یعنی Celibacy" میں تفصیل سے دکھایا گیا ہے کہ کس طرح تمام مذاہب اس سے متاثر رہے ہیں۔ تجرد کا خاص مقصد یہ ہے کہ مذہبی شخصیتوں میں تقدس کی شان پیدا کی جائے۔

مذہبی شخصیت کو روحانی طور پر خودکفیل ہونا چاہیے، جبکہ عورت کے ساتھ تعلق بتاتا ہے کہ اپنی تکمیل کے لیے وہ اپنے سے باہر بھی کسی چیز کا محتاج ہے۔ ابتدائی مذاہب کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے یہاں بھی مذہبی شخصیتوں کے لیے عورت کے ساتھ ازدواجی تعلق ممنوع تھا، کیونکہ اس کے بغیر اس کا روحانی تزکیہ نہیں ہو سکتا تھا۔ بعد کو جو مذہبی لٹریچر تیار ہوا، اس میں زور و شور کے ساتھ دکھایا گیا کہ تجرد کی زندگی اختیار کرنے سے آدمی کی اخلاقی اور روحانی ترقی ہوتی ہے۔ اس لیے جو لوگ اخلاقی اور روحانی ارتقاء چاہتے ہیں، وہ نکاح نہ کریں۔

اور اگر ان کا نکاح ہو چکا ہے تو بیوی سے جنسی تعلق مطلق طور پر چھوڑ دیں۔ جنسی عمل کو مذہب کا سب سے بڑا دشمن سمجھا گیا۔ عورتوں کے لیے بھی سب سے اونچا روحانی تصور یہ تھا کہ وہ ساری عمر کنواری رہیں اور اسی حال میں مر جائیں۔ قدیم رومی مذہب میں فلسفیوں اور مذہبی لوگوں کے بارے میں اعلیٰ تصور یہ تھا کہ وہ ہمیشہ مجرد زندگی گزارتے ہیں۔

ایسا ہی شخص آئیڈیل روحانی معلم بن سکتا ہے۔ جین مذہب کے مطابق عورت کو دیکھنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔ یہی حال بدھزم اور دوسرے تمام مذاہب کا ہے۔ ملاحظہ ہو، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984، جلد 16، صفحہ 599۔

تاریخ کی معلوم شخصیتوں میں پیغمبر اسلام پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے قول و عمل سے ان باتوں کی تردید کی۔ آپ نے بتایا کہ تقدس کی علامت تجرد نہیں۔ تقدس یہ ہے کہ آدمی بیوی بچوں کے درمیان ہو اور پھر بھی وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد پر قائم رہے۔ عورت زندگی کی بھلائی ہے، نہ کہ زندگی کی برائی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف خود نکاح کیا بلکہ اپنے ساتھیوں کو بار بار ترغیب دی کہ تم بھی نکاح کرو۔ حتیٰ کہ ماضی کے تقدس کو توڑنے کے لیے آپ نے یہاں تک فرمایا کہ عورت کو میرے لیے محبوب بنایا گیا ہے، حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ سنن النسائی، حدیث نمبر 3940۔ قدیم زمانے میں عورت سے تعلق کسی مذہبی شخصیت کے لیے اتنی معیوب چیز سمجھی جاتی تھی کہ آپ اگر اس باب میں اتنا زیادہ زور نہ دیتے تو لوگ بدستور سابقہ رواج پر قائم رہتے۔ موجودہ زمانے کی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ تجرد کا نظریہ سراسر غیر فطری اور غیر واقعی نظریہ تھا۔

اس کے مقابلے میں اسلام کا تصور عین فطری اور عین مطابق حقیقت ہے۔ آج یہ ثابت ہو گیا ہے کہ انسان کے اندر جنسی اعضاء صرف جنسی عمل میں مددگار نہیں ہیں، بلکہ ان کی اہمیت اس سے بہت زیادہ ہے۔ وہ انسان کے اندر تمام عضویاتی، ذہنی، روحانی سرگرمیوں کو تیز تر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی مخنث آدمی، کوئی بڑا فلسفی یا بڑا سائنسدان نہیں بنا ہے۔

حتیٰ کہ وہ بڑا مجرم بھی نہ بن سکا۔ جنسی اعضاء کی اہمیت انسانی اعمال کے لیے بہت زیادہ ہے۔ The sexual glands have other functions than the top impelling man to the gesture, which in primitive life perpetuated the race. They also intensify all physiological, mental, and spiritual activities.

No eunuch has ever become a great philosopher, a great scientist, or even a great criminal. Testicles and ovaries possess functions of overwhelming importance. Dr. Alex Carroll, Man the Unknown, 1948, page 91.

ماضی میں مذہب کے دائرے میں عورت سے نکاح کو معیوب چیز سمجھ لیا گیا تھا۔ اسلام نے اس کے برعکس عورت کے ساتھ نکاح کے تعلق کو پسندیدہ چیز قرار دیا۔ جدید سائنسی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ پہلا ذہن فطرت کے خلاف تھا اور اسلام کا ذہن فطرت کے عین مطابق۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کی تعلیمات سراسر مبنی برحقیقت ہیں۔

کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 25۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.