← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Aurat ke barey mey tavahhumaat
Urdu · 12 min
عورت کے بارے میں توہمات: عورتوں کا مرتبہ مردوں سے کم سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ معاشرے میں "حقیر" قرار دے دی گئی۔ اس کو خاندانی جائیداد میں حصے کا مستحق نہیں سمجھا گیا۔ قانون کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہی کہ اس کو وہ حق دیا جائے جو مردوں کو حاصل ہے۔ اس کو عملاً غلام کا درجہ دے دیا گیا۔
حتیٰ کہ بعض انتہا پسند قبیلوں میں اس طرح کی مثالیں ملنے لگیں کہ ایک شخص کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی تو اس نے بچپن ہی میں اس کو مار کر زمین میں گاڑ دیا۔ انسان کا عام مزاج یہ ہے کہ اگر وہ کسی کو بڑا سمجھ لے تو اس کے بارے میں وہ فضیلت اور تقدس کی جھوٹی کہانیاں گھڑنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی چیز اس کے ذہن میں "نیچے درجے" کی قرار پائے، اسی طرح اگر کوئی چیز اس کے ذہن میں "نیچے درجے" کی قرار پا جائے تو اس کے بارے میں وہ اپنے ذہن کو ایسے انسانوں کی صورت میں ظاہر کرتا ہے جس میں وہ چیز واقعاتی طور پر ذلیل اور حقیر دکھائی دینے لگے۔ یہی معاملہ عورت کے ساتھ پیش آیا۔
قدیم زمانے میں اکثر قوموں میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور ہوئیں۔ یہ کہانیاں سراسر جھوٹی تھیں، مگر قدیم ماحول میں ان کو اتنا زیادہ رواج حاصل ہوا کہ لوگ ان کو حقیقت سمجھ کر ان پر یقین کرنے لگے۔ عورت کے بارے میں تحقیری کہانیاں ہر ملک اور ہر قوم میں پھیلیں۔ ان میں سے دو مشہور کہانیوں کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔
ان جھوٹے افسانوں میں سے ایک وہ ہے جو قدیم یونانیوں اور ان کے اثر سے یورپ کی دوسری قوموں میں بہت مشہور ہوا۔ یہ افسانہ پہلی عورت کے بارے میں تھا، یعنی وہ ابتدائی عورت جو پہلی بار زمین پر آئی۔ اس پہلی عورت کے بارے میں طرح طرح کے افسانے گھڑے گئے، جو زبان اور لٹریچر میں اس طرح پھیلے کہ لوگ ان کو حقیقت سمجھنے لگے۔ اس پہلی عورت کا نام پانڈورا تھا۔
پانڈورا ایک یونانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں "سب کچھ دینے والا"، مگر استعمال کے اعتبار سے یہ لفظ ایک برا مفہوم رکھتا تھا، یعنی ہر قسم کی خرابیاں دینے والا۔ مفروضہ کہانی کے مطابق ایک دیوتا، پرومیتھیس، نے آسمان سے آگ چرائی اور اس کو زمین میں بسنے والے انسانوں تک پہنچا دیا۔ دیوتاؤں کے بادشاہ زیوس کو یہ بات پسند آئی۔ دیوتاؤں کے بادشاہ زیوس کو یہ بات ناپسند ہوئی۔
اس نے زمینی مخلوقات سے اس نعمت کو کالعدم کرنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ اس نے ایک عورت بنائی جس کا نام پانڈورا تھا۔ اس کے بعد اس نے اس پہلی عورت کو زمین پر بھیج دیا۔ زمین پر اس وقت ایپی میتھیس آباد تھا۔ اس نے پانڈورا کی ظاہری کشش سے متاثر ہو کر اس کو اپنی بیوی بنا لیا اور وہ اس کے ساتھ رہنے لگی۔
اس پہلی عورت کے ساتھ ایک باکس تھا جس کو فرضی طور پر پانڈورا کا باکس، یعنی پانڈوراس باکس، کہا جاتا ہے۔ پانڈورا نے زمین پر قیام کرنے کے بعد ایک روز اپنا یہ باکس کھول دیا۔ اس باکس کے اندر ہر قسم کی برائیاں، یعنی ایولز، بھری ہوئی تھیں۔ باکس کھلتے ہی تمام برائیاں زمین پر پھیل گئیں۔
اس کے بعد پھر یہ زمین کبھی برائیوں سے خالی نہ ہو سکی۔ ملاحظہ ہو، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا اور کولنز انسائیکلوپیڈیا تحت لفظ "پانڈورا"۔ اسی قسم کا افسانہ کسی قدر مختلف شکل میں یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان مشہور ہوا۔ یہ افسانہ خاتون اول حضرت حوا کے بارے میں تھا۔
اس افسانے کی اصل خود بائبل کے اندر شامل کر دی گئی۔ چنانچہ موجودہ بائبل میں یہ الفاظ ملتے ہیں: "اور خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان یعنی آدم کو بنایا"۔ "اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے، لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا، کیونکہ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا"۔ "اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سو گیا، اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک کو نکال لیا، اور خداوند خدا اس پسلی سے ایک عورت بنا کر اسے آدم کے پاس لایا"۔
"اور سانپ کل دشتی جانوروں سے چالاک تھا، اور اس نے عورت سے کہا: کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ اس درخت کا پھل تم نہ کھانا؟ " "سانپ نے عورت سے کہا کہ درخت کا پھل کھانے سے تم ہرگز نہ مرو گے"۔ عورت نے اس کے بعد اس کے پھل میں سے لیا اور کھایا، اور اپنے شوہر یعنی آدم کو بھی دیا، اور اس نے کھایا۔ تب دونوں کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں۔
تب خداوند نے آدم کو پکارا اور اس سے کہا کہ تو کہاں ہے؟ آدم نے کہا کہ جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے، اس نے مجھے اس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا۔ تب خداوند خدا نے عورت سے کہا کہ تو نے یہ کیا کیا؟ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھ کو بہکایا تو میں نے کھایا۔
اور آدم سے اس نے کہا: چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا، اس لیے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی۔ مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھائے گا، اور وہ تیرے لیے کانٹے اور اونٹ کٹارے اگائے گی۔ پیدائش باب ایک آیت تین۔ یہ قصہ بتاتا ہے کہ انسان اول یعنی آدم آرام کے ساتھ جنت میں تھے۔
وہاں سے ان کے نکلنے کا سبب جو چیز بنی وہ خاتون اول یعنی حوا تھی۔ حوا کو سانپ یعنی شیطان نے بہکایا، اور حوا نے آدم کو بہکایا۔ اس طرح انسان اس ابتدائی گناہ یعنی اوریجنل سن کا مرتکب ہوا، جس میں ساری نسل انسانی شریک ہو گئی۔ یہ افسانہ یقینی طور پر بے بنیاد ہے، مگر وہ اتنا مشہور ہوا کہ نہ صرف یہودیوں اور عیسائیوں میں بلکہ دنیا کی اکثر قوموں میں کسی نہ کسی طرح پھیل گیا۔
وہ زبان اور لٹریچر میں شامل ہو کر ہر طبقے کے لوگوں تک پہنچ گیا۔ قرآن نے جس طرح بائبل کی دوسری بہت سی تحریفات کی تصحیح کی ہے، اسی طرح اس نے بائبل کے اس تحریفی بیان کی بھی تردید کی ہے۔ اس سلسلے میں حسب ذیل آیات کا مطالعہ کیجئے: "فَوَسْوَسَ لَهُمَ الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُرِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ"۔ "إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَو تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاسِحِينَ فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ"۔
"فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا"۔ "وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا"۔ "وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ"۔ "قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ"۔
سورہ نمبر 7 آیت 20 تا 23۔ یعنی پھر شیطان نے دونوں کو بہکایا تاکہ وہ کھول دے ان کی وہ شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔ اس نے ان سے کہا کہ تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے صرف اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتہ نہ بن جاؤ یا تم کو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جائے۔ اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔
پس مائل کر لیا ان کو فریب سے۔ پھر جب دونوں نے درخت کا پھل چکھا تو ان کی شرم گاہیں ان پر کھل گئیں اور وہ اپنے کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے۔ اور ان کے رب نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے؟ انہوں نے کہا: اے ہمارے رب!
ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ ان آیات میں دیکھیے، ہر موقع پر تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ ہر بات میں آدم و حوا دونوں کو یکساں طور پر برابر کے درجے میں شریک کیا گیا ہے۔ اس سے بالکل واضح ہے کہ شیطان نے ایک ساتھ دونوں کو بہکایا۔
دونوں بیک وقت شیطان کی باتوں سے متاثر ہوئے اور دونوں نے ایک ساتھ ممنوعہ درخت کا پھل کھایا۔ دونوں یکساں طور پر اس کے انجام سے دوچار ہوئے۔ پھر اللہ نے دونوں کو برابر کے درجے میں ذمہ دار ٹھہرایا اور دونوں سے یکساں حیثیت میں خطاب کیا۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 21۔