← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Ek amali zarurat
Urdu · 5 min
ایک عملی ضرورت: قدیم زمانے میں خرافات یعنی myths اور توہمات یعنی superstitions کے رواج نے تمام معاملات میں انسان کے نقطۂ نظر کو غیر حقیقی بنا رکھا تھا۔ عورتوں کے معاملے میں ایک مزید سبب بھی شامل ہو گیا: انسانی معاشرے کی جو مختلف ضرورتیں ہیں، ان کو وسیع تر تقسیم میں دو ضرورتیں کہا جا سکتا ہے۔ ایک گھر کے اندر کا کام اور دوسرے گھر کے باہر کا کام۔ گھر انسانی معاشرے کی ابتدائی بنیاد ہے۔
یہیں آدمی کو سکون کے لمحات ملتے ہیں۔ یہیں کسی قوم کی اگلی نسل تیار ہوتی ہے۔ گھر ہی معاشرے کی وہ اکائی ہے جس کی بہت سی تعداد کے ملنے سے معاشرہ بنتا ہے۔ گھر نہیں تو انسانی معاشرہ بھی نہیں۔
جس طرح اینٹ کی درستگی پوری عمارت کی درستگی ہے، اسی طرح گھر کی درستگی پورے معاشرے کی درستگی ہے۔ تاہم کام کی ان دونوں قسموں کی نوعیت الگ الگ ہے۔ گھر کے اندر کے کام نرم و نازک کام ہیں۔ گھر کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے انفعالی صلاحیتیں زیادہ مفید ہیں۔
اس کے برعکس باہر کے کام کے لیے فعال صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں۔ باہر کے کام کو انجام دینے کے لیے زیادہ سخت جسم اور زیادہ طاقتور اعصاب کی ضرورت ہے۔ انسانی تمدن کے بقا اور ترقی کے لیے یہ دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں ضروری ہیں۔ چنانچہ قدرت نے اسی کے لحاظ سے مرد اور عورت کی دو الگ الگ جنسیں پیدا کی ہیں۔
اس نے عورت کے اندر انفعالی صلاحیتیں زیادہ رکھی ہیں تاکہ وہ گھر کے اندر کے کام سنبھالے۔ اور اسی طرح مرد کے اندر فعال صلاحیتیں زیادہ رکھی ہیں تاکہ وہ گھر کے باہر والے کام کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ زندگی کی تنظیم میں اس حکمت کو ملحوظ رکھا جائے، اور ہر صنف کو وہی کام دیا جائے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے، تو زندگی کا نظام نہایت درست اور متوازن رہے گا۔ لیکن اگر اس حکمت کو ملحوظ رکھے بغیر زندگی کی تنظیم کی جائے تو زندگی کا نظام غیر متوازن ہو کر رہ جائے گا اور بربادی کے رخ پر چل پڑے گا۔
قدیم زمانے میں بہت سی قومیں اس حکمت کو سمجھ نہ سکیں۔ انہوں نے دیکھا کہ مرد معاشی شعبوں کو سنبھالتا ہے۔ وہ جنگ و مقابلے کے وقت قوم کا دفاع کرتا ہے۔ وہ تمام محنت طلب کاموں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔
چنانچہ انہوں نے یہ رائے قائم کر لی کہ مرد برتر مخلوق ہے اور عورت کم تر مخلوق۔ قدرت نے مرد اور عورت کے درمیان فرق کو براہِ راست ضرورت رکھا تھا۔ انہوں نے اس فرق کو برائے فضیلت سمجھ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں ہم ہر جگہ دیکھتے ہیں کہ مرد کے مقابلے میں عورت کا درجہ گرا دیا گیا۔
اس کو مرد کے مقابلے میں حقیر سمجھا جاتا ہے۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 20۔