Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Chand misalein

Urdu · 12 min

چند مثالیں: "یہاں ہم دو مثالیں نقل کرتے ہیں"۔ اس سے بیک وقت دو باتیں معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ اوہام و خرافات میں اور علم میں کیا فرق ہے، نیز یہ کہ اوہام و خرافات کے قدیم دور کو ختم کر کے نیا دور لانے کا کام اصلًا اور اولًا جس نے انجام دیا وہ اسلام ہے۔ ہماری دنیا میں جو واقعات ہوتے ہیں، ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کو "گرہن" کہا جاتا ہے؛ کبھی سورج کو گرہن لگتا ہے اور کبھی چاند کو۔ موجودہ زمانے میں اس کے فلکیاتی اسباب معلوم کر لیے گئے ہیں، مگر قدیم زمانے میں انسان اس کی حقیقت سے ناواقف تھا، اس لیے اس نے فرضی قیاس کے تحت عجیب عجیب نظریے قائم کر لیے؛ مثلاً قدیم چین کے لوگوں کا خیال تھا کہ گرہن کا سبب ایک آسمانی اژدہا ہے۔

جب کبھی سورج گرہن لگتا تو چینی لوگ سمجھتے کہ سورج کو ایک بہت بڑا اژدہا نگل رہا ہے۔ اس کے بعد ساری آبادی اس کے ساتھ مل کر آخری ممکن حد تک شور کرتی تاکہ وہ سورج کو بچا سکے، اور وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے۔ When an eclipse occurred, the Chinese thought that the sun was being swallowed by a huge dragon. The whole population joined in making as much noise as possible to scare it away.

They always succeeded. لین نیکوسن آسٹرانومی، لندن، 1970، پیج 7۔ گرہن ختم ہونے کا مقرر وقت ہوتا ہے، وہ آخر کار اپنے وقت پر ختم ہو جاتا ہے۔ شور کرنے والے لوگ جب دیکھتے کہ کچھ دیر کے بعد گرہن ختم ہو گیا تو وہ سمجھتے کہ وہ ان کے شور کرنے کی وجہ سے ختم ہوا ہے، چنانچہ اگلے گرہن کے موقع پر وہ مزید یقین کے ساتھ شور کرنے میں لگ جاتے۔

یہی وہ زمانہ ہے جبکہ اسلام آیا، مگر اسلام نے سورج گرہن کے بارے میں زمانے کے بالکل خلاف وہ بات کہی جو آج کی تحقیقات کے عین مطابق قرار پاتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادے کا نام ابراہیم تھا، تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر میں شوال 10 ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ جس روز ابراہیم کا انتقال ہوا، اسی روز سورج گرہن واقع ہوا۔ قدیم قوموں میں سورج گرہن کے بارے میں عجیب عجیب اعتقادات تھے۔

ایک عقیدہ یہ تھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کی موت پر واقع ہوتے ہیں۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ جس دن پیغمبر کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا، اسی دن سورج گرہن پڑا تو مدینے میں کچھ لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے یہ سورج گرہن ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور اس کی حقیقت بیان فرمائی۔ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ.

فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا. صحیح البخاری، حدیث نمبر 1004۔ آپ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، آپ نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف بیان کی۔ پھر فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانی ہیں، ان میں گرہن کسی شخص کی موت اور اس کی زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔

پس جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کو پکارو اور اس کی تکبیر کرو، اور صلاۃ و سلام بھیجو اور صدقہ کرو۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: "هٰذِهِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَٰكِن يُخَفِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَةً". فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِن ذَٰلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ. صحیح البخاری، حدیث نمبر 1059۔

صحیح مسلم، حدیث نمبر 912۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ نشانیاں جو اللہ بھیجتا ہے، وہ کسی شخص کی موت یا زندگی کے سبب سے نہیں ہوتیں، بلکہ اللہ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس جب تم ایسی چیز دیکھو تو اللہ سے ڈر کر اس کا ذکر کرو، اور اس سے دعا کرو، اور اس سے استغفار کرو۔ " اس قسم کے بے بنیاد اوہام و خرافات کو تاریخ میں پہلی بار اسلام نے ختم کیا۔

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانے کا ایک واقعہ ہے جو تاریخ کی کتابوں میں حسبِ ذیل طریقے سے آیا ہے: رُوِي نَا مِنْ طَرِيقِ ابْنِ لَهِيَةٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَمَّنْ حَدَّثَهُ قَالَ: "لَمَّا اْفْتُتِحَتْ مِصْرُ اَتَىٰ أَهْلُهَا عَمْرَ بْنَ الْعَاصِ حِينَ دَخَلَ بُونَةُ مِنْ أَشْهُرِ الْعَجَمِ فَقَالُوا أَيُّهَا الْأَمِيرُ لِنِّي لِنَا هَذَا سُنَّةٌ لَا يَجْرِي إِلَّا بِهَا." قَالَ وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: "إِذَا كَانَتِ ثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ عَمَدْنَا إِلَى جَارِيَةٍ بِكْرٍ مِنْ أَبَوَيْهَا فَأَرْضَيْنَا أَبَوَيْهَا وَجَعَلْنَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ وَالثِّيَابِ أَفْضَلَ مَا يَكُونُ ثُمَّ أَلْقَيْنَاهَا فِي هَذَا النِّيلِ فَقَالَ لَهُمْ عَمْرٌ إِنَّ هَذَا مِمَّا لَا يَكُونُ فِي الْإِسْلَامِ إِنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا قَبْلَهُ. قَالَ فَأَقَامُوا بُؤْنَةً وَأَبِيبَ وَمِسْرًا وَالنِّيلُ لَا يَجْرِي قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا حَتَّىٰ هَمُّوا بِالْجَلَاءِ فَكَتَبَ عَمْرٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: "إِنَّكَ قَدْ أَصَبْتَ بِالَّذِي فَعَلْتَ وَإِنِّي قَدْ بَعَثْتُ إِلَيْكَ بِبِطَاقَةٍ دَاخِلَ كِتَابِي فَأَلْقِهَا فِي النِّيلِ." فلما قَدِمَ كِتَابُهُ أَخَذَ عَمْرٌ الْبِطَانَةَ فَإِذَا فِيهَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى نِيلِ أَهْلِ مِسْرَ. أما بعد، فإن كنتَ إنما تجري من قِبَالِكَ فلا تجري، وإن كان الله الواحد القهار هو الذي يُجريك، فنسأل الله تعالى أن يُجريك.

قال: "فَأَلْقَى الْبِطَاقَةَ فِي النِّيلِ فَأَسْبَحُوا يَوْمَ السَّبْتِ". وقد أجَرَ الله النيل ستةَ عشرة ذراعًا في ليلة واحدة، وقطع الله تلك السنة عن أهل مصر إلى اليوم. البدایہ والنہایہ، جلد 10، صفحہ 97۔ ابنِ لُہَیع نے کہا کہ قیس ابن حجاج نے ایک صاحب سے سنا ہوا یہ واقعہ بیان کیا کہ جب مصر فتح ہوا تو اس کے باشندے حضرت عمر ابن العاص کے پاس آئے، اور وہ وہاں امیر تھے۔

جب عجمی مہینوں میں سے بُونَة کا مہینہ آیا تو انہوں نے کہا کہ اے امیر، ہمارے اس دریائے نیل کے لیے ایک رواج ہے، وہ اس کے بغیر نہیں بہتی۔ انہوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ اہلِ مصر نے کہا کہ جب اس مہینے کی بارہ راتیں گزر جاتی ہیں تو ہم ایک ایسی کنواری لڑکی کا قصد کرتے ہیں جو اپنے ماں باپ کے درمیان اکیلی ہو۔ پھر ہم اس کے ماں باپ کو راضی کرتے ہیں اور اس کو زیور اور کپڑا پہناتے ہیں جو سب سے اچھا ممکن ہو۔

پھر ہم اس کو دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں۔ حضرت عمر ابن العاص نے ان سے کہا کہ اسلام میں ایسا نہیں ہو سکتا، اسلام اپنے سے پہلے کی چیزوں کو ختم کر دیتا ہے۔ پھر اہلِ مصر بُونَة کے مہینے میں رکے رہے، مگر دریائے نیل میں پانی نہیں آیا، یہاں تک کہ انہوں نے ارادہ کیا کہ اس علاقے کو چھوڑ کر چلے جائیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے ارادہ کیا کہ اس علاقے کو چھوڑ کر چلے آئیں۔

اب عمر ابن العاص نے اس کی بابت حضرت عمر ابن الخطاب کو لکھا۔ حضرت عمر نے ان کو لکھا کہ جو تم نے کیا صحیح کیا، اور میں اپنے اس خط کے ساتھ تمہارے لیے ایک پرچہ بھیج رہا ہوں، تم اس کو نیل میں ڈال دو۔ جب خلیفہ کا خط پہنچا تو حضرت عمر ابن العاص نے پرچے کو لے کر اسے کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا: "خدا کے بندے عمر، امیرالمومنین کی طرف سے مصر والوں کے دریائے نیل کے نام۔ " أما بعد، اگر تو خود اپنی طرف سے جاری ہوتا تھا تو تو ناجاری ہو، اور اگر اللہ واحد قہار تھا جو تجھ کو جاری کرتا تھا تو ہم اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ تجھ کو جاری کر دے۔

راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر ابن العاص نے یہ پرچہ دریائے نیل میں ڈال دیا۔ لوگوں نے اگلے دن صبح کو دیکھا تو اللہ نے نیل کو جاری کر دیا تھا۔ ایک ہی رات میں اس کے اندر سولہ ہاتھ اونچائی، سولہ ہاتھ اونچا پانی آ گیا۔ اس سال اللہ نے مصر والوں سے اس رواج کو ختم کر دیا، اور وہ اب تک ختم ہے۔

البدایہ والنہایہ، جلد 10، صفحہ 97۔ کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 16۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.