Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ek Jaayeza

Urdu · 8 min

ایک جائزہ: سر جیمز جینز، 1877 تا 1946 کی ایک کتاب ہے جس کا نام انہوں نے "پراسرار کائنات" یعنی The Mysterious Universe رکھا ہے۔ یہ موجودہ کائنات کی صحیح ترین تعبیر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری محدود عقل کی نسبت سے پوری کائنات ایک پراسرار کائنات ہے۔ انسان اپنی عقل سے صرف قیاسات قائم کر سکتا ہے، وہ اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔

کائنات کی اسی پراسراریت نے قدیم زمانے میں وہ چیز پیدا کی جن کو اب خرافات یعنی myths کہا جاتا ہے۔ انسان نے محض قیاس و گمان کے تحت بہت سے فرضی عقیدے بنا لیے۔ یہ قیاسات بڑھتے رہے، یہاں تک کہ پوری انسانیت پر چھا گئے۔ ہر زمانے میں انسان کا ایک نظامِ عقائد ہوتا ہے۔

اسی نظامِ عقائد کے مطابق اس کی سوچ اور اس کے عمل کا نقشہ بنتا ہے۔ قدیم زمانے میں عقائد کا یہ نظام اوہام و خرافات یعنی myths پر قائم تھا۔ 7ویں صدی عیسوی میں پہلی بار انسان کا نظامِ عقائد بدلا، اور اوہام کے بجائے حقائق کو اہمیت دی جانے لگی۔ یہ انقلاب اسلام کے زیرِ اثر ہوا۔

یہ اوہام کائنات کی توجیہ کے لیے وجود میں آئے: خداؤں نے کس طرح آسمانوں، زمین، نباتات اور جانوروں، اور انسانوں کو پیدا کیا۔ انسانی اداروں اور عالمی نظام کی خدائی اصل کیا ہے؟ کامیابی اور ناکامی کے خدائی ضابطے کیا ہیں؟ ان بنیادی سوالوں کے جواب کے لیے توجیہی اوہام وجود میں آئے۔

مثال کے طور پر، مرد اور عورت کے درمیان کشش، اور اس کے نتیجے میں شادی کا ادارہ وجود میں آنا۔ اس کی توجیہ اس فرضی قصے سے کی گئی کہ ابتدا میں مرد ہی واحد مخلوق تھا۔ اس کے بعد وہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا: ایک مرد اور دوسرے عورت۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی طرف کھنچتے ہیں تاکہ اپنی ابتدائی وحدت کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔

ارسٹوفین نے جنسی کشش کے اسی نظریے کو اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ بائبل کے باب پیدائش میں بھی یہی نظریہ مشہور افسانے کی صورت میں بیان ہوا ہے کہ آدم کے جسم سے ایک پسلی نکالی گئی، اور اسی سے ان کی بیوی حوا بنائی گئی۔ اور چونکہ عورت کو مرد کے اندر سے نکالا گیا ہے، مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنی بیوی سے مل جاتا ہے تاکہ دونوں دوبارہ ایک جسم ہو جائیں۔ Myths were developed to account for the cosmos.

How did the gods bring heavens? How did the gods bring heavens, earth, plants, beasts, and men into existence? What is the divine origin of human institutions and of the ecumen? What divine process is responsible for prosperity or failure?

To explain such basic questions: etiological origin or causal? Myths were developed. For example, the attraction between man and woman, and the consequent institution of marriage. Institution of marriage is explained by the myth that in the primeval world, man was one creature.

Subsequently, divided into two parts, male and female, which are attracted to one another to regain their pristine unity. Aristophanes expresses this theory of sexual attraction in Plato's Symposium. Genesis has the same theory in the familiar myth that a rib taken out of Adam was fashioned into Eve, and precisely because woman was taken out of man. Man forsakes his father and mother to cleave unto his wife so that they become one flesh.

Genesis 2:23-24, Encyclopedia Britannica, 1984, volume 12, page 919-20. کتاب خاتونِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 14۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.