Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ghair fitri musawat

Urdu · 10 min

غیر فطری مساوات۔ ایڈورڈ ولیم نے قرآن کے منتخب حصوں کا انگریزی ترجمہ کیا تھا، جو پہلی بار 1843 عیسوی میں لندن سے چھپا تھا۔ اس کتاب کے دیباچے میں انگریز مستشرخ نے لکھا کہ اسلام کا سب سے کمزور پہلو اس کا عورت کو کمتر درجہ دینا ہے، یعنی "degradation of women" ہے۔ اس کے بعد سے اب تک اس بات کو بار بار دہرایا گیا ہے۔

یہ بات اتنی عام ہوئی کہ نہ صرف اسلام کے کھلے دشمن اس کو دہراتے ہیں، بلکہ اسلام کا اعتراف کرنے والے نسبتاً منصف مزاج مؤرخین، مثلاً جے ایم رابرٹس جیسے لوگ بھی اس کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی ثابت شدہ واقعہ ہو۔ اس کتاب کے دوسرے مقامات پر ہم نے تفصیل کے ساتھ دکھایا ہے کہ یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس الزام کے بالکل برعکس اسلام نے عورت کے مرتبے کو بڑھایا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں صرف 2 تہذیبیں ہیں جنہوں نے عورت کے مرتبے کو گھٹایا: ایک قدیم مشرکانہ تہذیب اور دوسرے جدید ملحدانہ تہذیب۔

اول الذکر نے نظری اور عملی دونوں حیثیت سے، اور ثانی الذکر نے عملی حیثیت سے۔ قدیم مشرکانہ تہذیب اوہام و خرافات، یعنی myths، پر قائم تھی۔ چیزوں کے بارے میں فرضی طور پر کچھ بے بنیاد رائے قائم کر لی گئی تھی، اور زندگی کے تمام معاملات کو انہی مفروضات کے تابع کر دیا گیا تھا۔ قدیم انسان نے کچھ چیزوں، یعنی مثلاً سورج اور چاند کو فرضی طور پر بڑا سمجھ لیا اور انہیں پوجنے لگا۔

اسی طرح اس نے کچھ چیزوں کو چھوٹا سمجھ لیا اور ان کو حقیر بنا دیا۔ انہی حقیر چیزوں کی فہرست میں عورت بھی شامل تھی۔ عورت کے یہاں ماہواری کا آنا، عورت کا جنگ میں نہ لڑ سکنا، اس طرح کی باتوں کی توہماتی تعبیر کر کے یہ سمجھ لیا گیا کہ عورت ایک حقیر جنس ہے اور اس کے ساتھ مرد کے مقابلے میں کمتر درجے کا سلوک کرنا چاہیے۔ جدید مغربی تہذیب نے نظری طور پر بظاہر عورت کا درجہ بلند کرنے کا اعلان کیا۔

اس نے کہا کہ عورت اور مرد دونوں ہر حیثیت سے برابر ہیں۔ ہر وہ کام جو مرد کرتا ہے، وہی کام عورت بھی کر سکتی ہے۔ اس لیے عورت کو گھر سے باہر نکل کر زندگی کے ہر شعبے میں مرد کے برابر مقام حاصل کرنا چاہیے۔ اس نظریے کے علمبرداروں نے جو نعرے اختیار کیے، ان میں سے ایک نعرہ یہ تھا کہ "کافی نہ بناؤ، پالیسی بناؤ"۔

"Women, make policy, not coffee. " عورت کے بارے میں جدید تہذیب کا یہ نظریہ بظاہر عورت کا درجہ بلند کرنے کے ہم معنی ہے، مگر عملی طور پر وہ صرف عورت کا درجہ گرانے کے ہم معنی ثابت ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ برابری کے خوبصورت دعووں کے باوجود زندگی کے تمام جدید شعبوں میں عورت کا درجہ مرد سے کم ہے۔ اگلے باب "مغربی عورت" میں ہم نے اس کو تفصیل کے ساتھ دکھایا ہے۔

اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ، ایک لفظ میں، مساوات کا غلط تصور ہے۔ مردوں کے درمیان مساوات ایک تسلیم شدہ نظریہ ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن اگر ایک مرد اور دوسرے مرد کے درمیان مساوات کا مطلب یہ ہو کہ ہر میدان میں ہر مرد دوسرے مرد کا مقابلہ کر سکتا ہے، تو یہ نظریہ سراسر بے معنی ہو جائے گا۔

انسانی مساوات کا مطلب اگر کچھ لوگ یہ سمجھ لیں کہ ہر آدمی کو ہر شعبے میں کام کرنا چاہیے، تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ اس قسم کی غیر فطری مساوات کا کوئی علمبردار آئنسٹائن کو ایک ایسی آبادی میں لے جائے گا جہاں صرف باکسر، یعنی boxers، بچتے ہوں، اور وہاں وہ آئنسٹائن کو باکسرون کے ساتھ عمل میں لگا دے گا۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی مساوات کا نتیجہ صرف غیر مساوات کی صورت میں برآمد ہوگا۔ یونیورسٹی یا سائنس کانفرنس میں جو آئنسٹائن ٹاپ پر نظر آ رہا تھا، وہ باکسرون کی مقابلہ گاہ میں کمتر درجے کا انسان بن کر رہ جائے گا۔

اس سے معلوم ہوا کہ مساوات کا مطلب عمل میں مساوات نہیں، بلکہ حیثیت میں مساوات ہے۔ مساواتِ انسانی یہ نہیں ہے کہ ہر آدمی وہی کام کرے جو کام دوسرا آدمی کر رہا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہر آدمی کو یکساں عزت ملے، ہر ایک کو یکساں احترام کی نظر سے دیکھا جائے، ہر ایک کے ساتھ یکساں اخلاقی سلوک کیا جائے۔ مرد اور عورت کے معاملے میں مغرب کی غلطی یہی ہے کہ اس نے دونوں جنسوں کے درمیان مذکورہ بالا قسم کی غیر فطری مساوات قائم کرنے کی کوشش کی۔

اس کا نتیجہ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا: مرد اور عورت کے درمیان تاریخ کی سب سے بڑی عدم مساوات قائم ہو گئی۔ مرد اور عورت دو الگ الگ جنسیں ہیں، اور دونوں کی تخلیق الگ الگ مقاصد کے تحت ہوئی ہے۔ دونوں کو اگر ان کی تخلیق کے اعتبار سے ان کے اپنے میدان میں رکھا جائے تو دونوں اپنے اپنے میدان میں مساوی طور پر کامیاب رہیں گے۔ اور اگر مرد اور عورت دونوں کو ایک ہی میدان میں ڈال دیا جائے تو عورت وہ کام نہ کر سکے گی جو مرد اپنی تخلیقی صلاحیت کے اعتبار سے زیادہ بہتر طور پر کر سکتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عورت مرد کے مقابلے میں کم درجے کی جنس بن کر رہ جائے گی۔ ایک لڑکی اپنے گھر سے بگڑ کر بھاگ گئی۔ وہ ایک شہر میں پہنچی۔ وہ سمجھتی تھی کہ وہاں وہ مردوں کی طرح کمائی کر کے اپنی آزاد زندگی بنا سکے گی۔

مگر مردانہ شعبوں میں سے کسی شعبے میں اسے جگہ نہ مل سکی۔ اس کے بعد جو چیز اس کے پاس باقی رہ گئی تھی، وہ اس کی نسوانیت تھی۔ اس نے اپنی نسوانیت کو بازار کا سودا بنا دیا۔ اس کو آزاد زندگی مل گئی، مگر یہ آزاد زندگی اپنے آپ کو مرد کا سامانِ تفریح بنانے کی قیمت پر تھی، نہ کہ سماجی زندگی میں برابری کا درجہ حاصل کرنے کی قیمت پر۔

یہی حال زیادہ بڑے پیمانے پر مغربی عورت کا ہوا ہے۔ مغرب نے اپنی عورتوں میں یہ مزاج بنایا کہ وہ باہر اگر مردوں کی طرح کمائیں، مگر عورت جب گھر سے نکل کر باہر آئی تو اس کو معلوم ہوا کہ موجودہ شعبوں میں وہ مرد کی طرح کام کر کے اپنی قیمت حاصل نہیں کر سکتی۔ اب کمائی اور آزادانہ زندگی حاصل کرنے کی خاطر اس کے پاس دوسرا بدل صرف ایک تھا، اور وہ اس کا نسوانی جسم تھا۔ مذکورہ لڑکی کی طرح اس کو بھی اپنے نسوانی جسم کو بازار کا سودا بنانا پڑا۔

اس غیر فطری اور غیر اخلاقی عمل سے عورت کو نام نہاد برابری کا درجہ تو نہیں ملا، البتہ اس کے نتیجے میں بے شمار نئے نئے مسائل پیدا ہو گئے۔ ان میں ایک مسئلہ وہ ہے جس کو عریانیت، یعنی pornography، کہا جاتا ہے۔ عریانیت کوئی علیحدہ مسئلہ نہیں، یہ بے خید آزادی کا وہ لازمی نتیجہ ہے جس کو اس سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 67۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.