← Khandaani zindagiKhandaani zindagi
گھر بہتر انسان بنانے کا کارخانہ
Urdu · 6 min
ماں کی حیثیت سے عورت کا رول اگلی نسل کی تیاری ہے۔ انسان کی نسل ایک رواں دریا کی مانند ہے، جس میں ہر وقت پرانا پانی بہہ کر چلا جاتا ہے، اور نیا پانی اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی قافلے کا ہے۔
یہاں بھی مسلسل ایسا ہوتا ہے کہ پچھلی نسل جاتی رہتی ہے، اور نئی نسل اس کی جگہ لیتی رہتی ہے۔ ماں کا کام اسی نئی نسل کی تیاری ہے۔ ماں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر بار اگلی نسل کے لیے بہتر انسان بنا کر بھیجے۔ بہتر انسان کون ہے؟
بہتر انسان وہ ہے جس کے اندر زندگی کا حوصلہ ہو، جو منفی سوچ سے بلند ہو اور مثبت سوچ کا حامل ہو، جو اپنے ذہن کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ وہ تعمیری بنیادوں پر زندگی کی منصوبہ بندی کر سکے، جو اپنے سماج کے لیے کوئی نیا پرابلم پیدا نہ کرے، جو اپنے سماج کا دینے والا ممبر، یعنی گیور ممبر ہو، نہ کہ صرف لینے والا ممبر، یعنی ٹیکر ممبر۔ اس معاملے میں ماں کو کیا کرنا چاہیے، اس کو ہم چند مثالوں کے ذریعے واضح کریں گے۔ ان مثالوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے اندر وہ چیز پیدا کرے جس کو پختگی، یعنی میچورٹی، کہا جاتا ہے۔ وہ ناپختگی، یعنی ام میچورٹی، کا ذہن دے کر اپنی اولاد کو سماج میں نہ بھیجے۔
مثلاً عام ذہن یہ ہے کہ جو آدمی دولت مند گھر میں پیدا ہو، اس کو خوش قسمت سمجھا جاتا ہے، اور جو آدمی غریب گھر میں پیدا ہو، اس کو بدقسمت انسان کہا جاتا ہے۔ یہاں ماں کا رول یہ ہے کہ اگر اس کا بچہ غریب گھر میں پیدا ہوا ہے تو وہ اس کو بتائے کہ غریب ہونا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ ایسی ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو زندگی کا یہ فلسفہ بتائے کہ دولت مند بچے کے پاس اگر دولت ہوتی ہے تو غریب بچے کے پاس ایک اور زیادہ بڑی دولت موجود ہے، اور وہ ہے بڑھا ہوا محرک، یعنی انسنٹو۔ یہ محرک اس کی زندگی کی طاقت بن کر اس کا ساتھ دیتا ہے۔
If a rich person is born with a silver spoon in his mouth, the poor person is born with an incentive spoon in his mouth. ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو بتائے کہ ہر امیر بچے کے باپ اور دادا غریب ہی تھے، پھر وہ محنت کر کے امیر بنے۔ اسی طرح تم بھی محنت کر کے سب کچھ حاصل کر سکتے ہو۔ اسی طرح ایک اور فکری گمراہی ہے۔
ماں کو چاہیے کہ اس گمراہی سے وہ اپنے بچے کو باہر نکالے۔ وہ یہ کہ عام طور پر انسانی طبقات کو محروم اور غیر محروم، یعنی haves and have-nots، میں تقسیم کیا جاتا ہے، مگر یہ ایک غلط ڈائیکاٹمی، یعنی رانگ ڈائیکاٹمی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بچپن میں ایک شخص محروم طبقے کا فرد ہوتا ہے، لیکن بعد میں وہ ایک غیر محروم طبقے کا فرد بن جاتا ہے۔ مثلاً سی وی رمن، جی ڈی برلا، آب رائے، دھیرو بھائی امبانی، ڈاکٹر عبدالکلام وغیرہ۔
اس قسم کے ہزاروں لوگ ہیں جو اپنے بچپن میں بظاہر محروم طبقے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن بعد کو وہ غیر محروم طبقے کے اعلیٰ فرد بن گئے۔ اس لیے اس دنیا میں صحیح ڈائیکاٹمی محروم اور غیر محروم کی نہیں ہے، بلکہ امکانی غیر محروم اور واقعی غیر محروم، یعنی potential haves and actual haves، کی ہے۔ کسی انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز حوصلہ اور مثبت شعور ہے۔ ہر پچھلی نسل کا فرض ہے کہ وہ اگلی نسل کو باحوصلہ اور باشعور بنا کر زندگی کے میدان میں داخل کرے۔