Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khandaani zindagi
Khandaani zindagi

تعلیم اور خواتین

Urdu · 4 min

تعلیم کی اہمیت جتنی زیادہ مردوں کے لیے ہے، اتنی ہی زیادہ اس کی اہمیت عورتوں کے لیے بھی ہے۔ تعلیم کے بغیر دونوں ہی ادھورے ہیں۔ تعلیم ہر عورت اور مرد کی ایک ایسی ضرورت ہے جس کو دونوں میں سے کوئی بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ تعلیم کو نظرانداز کرنا اپنے لیے یہ خطرہ مول لینا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے مطلوبِ اعلیٰ تک نہ پہنچیں۔

وہ مطلوبِ اعلیٰ تک پہنچے بغیر ناکامی کے احساس کے ساتھ مر جائیں۔ عورت اور مرد دونوں کے لیے تعلیم اتنا زیادہ ضروری ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی عذر قابلِ قبول نہیں۔ مشہور مقولہ اس معاملے میں پوری طرح صادق آتا ہے: "اگر تمہارے پاس ایک اچھا عذر ہے، تب بھی تم اس کو استعمال نہ کرو۔ " If you have—if you have a good excuse, don't use it.

تعلیم کی اہمیت صرف جاب کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کی اہمیت بہتر زندگی کی تعمیر کے لیے ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام چیزوں کا تعلق علم اور تعلیم سے ہو گیا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی عورت یا مرد اس کا تحمل نہیں کر سکتے کہ وہ تعلیم سے بے بہرہ رہ جائیں۔ کیونکہ تعلیم سے بے بہرہ رہ جانا یہ معنی رکھتا ہے کہ ایسا شخص ایک حقیقی انسانی زندگی گزارنے کے قابل نہ ہو سکے۔

ہر آدمی ایک حیوان ہے۔ حیوانیت کے مقام سے اوپر اٹھا کر جو چیز اس کو انسان کے مقام تک پہنچاتی ہے، وہ تعلیم ہے۔ حیوان اور انسان کے درمیان جو چیز فرق کرتی ہے، وہ تعلیم ہے۔ تعلیم آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی شخصیت کے اندر چھپے ہوئے اعلیٰ امکانات کو بروئے کار لائے۔

وہ اپنے امکان یعنی potential کو واقعہ یعنی actual بنا سکے۔ یہ کام کبھی تعلیم کے بغیر انجام نہیں پا سکتا۔ تعلیم سے مراد professional education نہیں ہے، بلکہ حقیقی education ہے۔ تعلیم سے مراد اپنے آپ کو علم و حکمت کی دنیا تک پہنچانا ہے۔

professional education کسی آدمی کو صرف جاب دیتی ہے، لیکن علم و حکمت کا حصول آدمی کو اعلیٰ مرتبۂ انسانیت تک پہنچا دیتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.