Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Khandaani zindagi
Khandaani zindagi

انتظار کی پالیسی

Urdu · 3 min

انتظار کرو اور دیکھو، wait and see، ایک قدیم مقولہ ہے۔ یہ صرف ایک مقولہ نہیں، وہ فطرت کا ایک قانون ہے: انتظار کی پالیسی بہتر انجام کے استقبال کے ہم معنی ہے۔ ایک چیز جو آج آپ کو نہیں ملی، اس کو پانے کے لیے آپ کل کا انتظار کریں، تو یہ بلاشبہ ایک اعلیٰ دانشمندی کی بات ہوگی۔ عین ممکن ہے کہ جو کچھ آپ کو آج نہیں ملا، وہ کل اپنی پوری مطلوب صورت میں آپ کو مل جائے۔

شادی شدہ زندگی میں شوہر اور بیوی دونوں یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھی کو آج ہی ویسا دیکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ وہ ان کے دماغ میں بسا ہوا ہے۔ اس معاملے میں وہ وقت کے عامل، یعنی factor، کو نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ ایک معلوم بات ہے کہ کوئی چیز وقت سے پہلے کسی کو نہیں ملتی۔ عورت اور مرد دونوں کو جاننا چاہیے کہ اس دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو چیز کل ملنے والی ہے، وہ آج ہی آپ کو مل جائے۔ نکاح کے بعد جب ایک عورت اور ایک مرد ایک گھر میں اکٹھا ہوتے ہیں، تو یہ دونوں کے لیے ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔

دونوں فطری طور پر ایک دوسرے سے سیکھنا چاہتے ہیں، دونوں فطری طور پر اپنے آپ کو ایک دوسرے کے مطابق بنانا چاہتے ہیں۔ یہ فطری عمل نکاح کے پہلے دن سے شروع ہو جاتا ہے۔ زوجین کا کام یہ ہے کہ وہ اس فطری عمل، یعنی process، کو جاری رکھنے میں مددگار بنیں۔ وہ ایسا کوئی کام نہ کریں جو اس فطری عمل کو درہم برہم کر دینے والا ہو۔

انتظار کا مقصد اسی فطری عمل میں مدد دینا ہے۔ انتظار کا مقصد یہ ہے کہ یہ فطری عمل بلا روک ٹوک جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری حد پر پہنچ جائے۔ انتظار ایک عمومی اصول ہے، اس کا تعلق ہر بڑی کامیابی سے ہے۔ یہی اصول شوہر اور بیوی کے معاملے میں بھی درست ہے۔

آپ صرف یہ کیجیے کہ انتظار کیجیے، اور اس کے بعد آپ کو یقینی طور پر اپنی مطلوب چیز مل جائے گی۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور اس دنیا میں فطرت کے قانون سے بڑا کوئی قانون نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.