اس دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس ہنر کو جانے جس کو آرٹ آف لائف مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔ آرٹ آف لائف مینجمنٹ یہ ہے کہ آدمی ایک طرف اپنے آپ کو جانے اور دوسری طرف اپنے سے باہر کے حالات کو سمجھے، اور پھر خالص حقیقت پسندانہ انداز میں اپنی زندگی کا نقشہ بنائے۔ پھر وہ اس نقشے پر اس طرح عمل کرے کہ نتیجے کو دیکھتے ہوئے بار بار وہ اپنے نقشے پر نظرِ ثانی کرتا رہے۔ زندگی کے کسی نقشے یا منصوبے کے درست یا نادرست ہونے کا صرف ایک معیار ہے، اور وہ اس کا نتیجہ ہے۔
جس نقشۂ عمل کا نتیجہ منفی صورت میں نکلے، وہ نقشۂ عمل نادرست ہے۔ اور جس نقشۂ عمل کا نتیجہ مثبت صورت میں نکلے، وہ درست ہے۔ کسی نقشۂ عمل کو نظری معیار پر جانچنا دانشمندی نہیں۔ دانشمندی یہ ہے کہ اپنے بنائے ہوئے نقشے کو اس کے نتیجے کی روشنی میں جانچا جائے۔
شادی شدہ زندگی کے بارے میں بھی یہی اصول ایک صحیح اصول ہے۔ شادی شدہ زندگی کی نزاکت یہ ہے کہ وہ غیر خونی رشتے کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے، جہاں دو فرد کے درمیان خونی رشتہ موجود ہو۔ وہاں کسی شعوری منصوبہ بندی کے بغیر بھی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔ لیکن شوہر اور بیوی کا تعلق غیر خونی رشتے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
ایسے تعلق کو درست طور پر چلانے کی تدبیر صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اس کو پوری طرح عقل کے تابع رکھا جائے، نہ کہ جذبات کے تابع۔ خونی رشتے میں فطری طور پر جذباتی تعلق موجود ہوتا ہے۔ یہ جذباتی تعلق ہر چیز کا بدل بن جاتا ہے۔ لیکن غیر خونی رشتے کی کامیابی کا انحصار تمام تر اس پر ہے کہ اس کو سوچ سمجھ کر چلایا جائے۔
خونی رشتہ فطرت کے زور پر اپنے آپ جاری رہتا ہے۔ لیکن غیر خونی رشتے میں اس قسم کا فطری زور موجود نہیں ہوتا۔ غیر خونی رشتے کو عقلی مینجمنٹ، یعنی ریشنل مینجمنٹ کے بغیر کامیابی کے ساتھ چلانا ممکن نہیں۔ خونی رشتہ فطرت کے تحت قائم ہوتا ہے، اور غیر خونی رشتہ شعور کے تحت۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.