← Izhar-e-DeenIzhar-e-Deen
باب دوم
Urdu · 424 min read
اسلام اور عصرِ حاضر
خالق کی طرف سے انسان کو جو نعمتیں دی گئی ہیں، ان میں سے ایک عظیم نعمت قرآن ہے۔ قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے کہ اِس میں تمام باتوں کا بیان ہے (16:89)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ہمارے لیے معاملاتِ زندگی کو سمجھنے کے لیے ایک مستند کتابِ حوالہ (book of reference) کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کے ذریعے ہم خالق کے تخلیقی پلان (creation plan) کو سمجھ سکتے ہیں، اور زندگی کی منصوبہ بندی کے لیے صحیح نقطۂ آغاز (starting point) کو پاسکتے ہیں۔ اِسی طرح دعوت الی اللہ کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے بھی قرآن ایک مستند کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتِ حق کے دودور ہیں۔ ایک ہے پیغمبروں کا زمانہ، اور دوسرا ہے بعد کو آنے والا زمانہ۔ پیغمبروں کے زمانے میں خدا نے آیاتِ وحی کے ذریعے حق کا اظہار فرمایا، اور اس کی مزید تائید کے لیے پیغمبروں کو معجزے دئے، یعنی ایسی نشانیاں (signs)جن کا انکار کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہ ہو۔
بعد کے زمانے میں پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا، لیکن دعوت کا عمل بدستور جاری رہا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں، آفاق اور انفس میں ایسی آیات ظاہر ہوں گی جو حق کی تبیین کرنے والی ہوں (41:53)۔ اِس قرآنی وضاحت کے مطابق، تبیینِ حق کے دو دور ہیں۔ ایک ہے تبیین بذریعہ آیاتِ وحی، اور دوسری ہے تبیین بذریعہ آیاتِ فطرت۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت کے پہلے دور میں تبیینِ حق کا کام پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ دعوت کے دوسرے دور میں، قرآن کے مطابق، تبیینِ حق کا کام آیاتِ فطرت کے ذریعے انجام پائے گا۔ دوسرے دور میں تبیینِ حق کی پیشگی خبر قرآن کی سورۃ حم السجدہ کی مذکورہ آیت نمبر 53میں دی گئی ہے۔دورِ اوّل میں تبیینِ حق کا کام خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا، اور دورِ ثانی میں تبیین حق کا کام علماءِ اسلام کے ذریعے انجام پائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 3641)۔ یعنی، امتِ محمدی کے علما نبیوں کے وارث ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت کے پہلے دو رمیں تبیینِ حق کاکام جن پیغمبروں نے انجام دیا، انھوں نے اپنے کام کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ (7:158)۔ اِس اعلان کا حق انھیں اِس لیے تھا کہ فرشتہ جبریل کے ذریعے اُنھیں براہِ راست طورپر یہ علم دیاگیا تھا۔لیکن بعد کے دور میں جو عالم، یا علما کا جو گروہ تبیین حق کے کام کو انجام دے، اس کو مذکورہ قسم کے پیغمبرانہ اعلان یا دعویٰ (claim) کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کرنے کا حق نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بعد کے زمانے میں تبیینِ حق کا کام کرنے والے علما کی شناخت ان کے ذاتی اعلان کے ذریعے نہ ہوگی، بلکہ ان کے کام کے ذریعے ہوگی، یعنی جو علما بعد کے دور میں ظاہر ہونے والی آیاتِ فطرت (signs of nature) کا گہرا علم حاصل کریں اور ان کو دعوتِ حق کی حمایت میں درست طورپر اور موثر طورپر استعمال کریں، وہ اِس آیت میں کی گئی پیشین گوئی کا مصداق ٹھہریں گے۔ ایسے علما کو صرف ان کے کام کو دیکھ کر پہچانا جاسکتاہے، نہ کہ ان کے اعلان کے ذریعے۔
ایک یادگار دن
29 فروری 1955میری زندگی کا وہ دن تھا جس کو میں اپنے لیے ایک بریک تھرو (break through) سے تعبیر کرتا ہوں۔ اُس دن لکھنؤ کے امین الدولہ پارک میں جماعت اسلامی ہند کے زیرِ اہتمام ایک عمومی اجتماع ہوا۔ اِس موقع پر اسلام کے عقلی اثبات پر راقم الحروف کی ایک تقریر ہوئی۔ بعد کو جب اعلان کیا گیا کہ یہ تقریر چھپی ہوئی صورت میں یہاں بک اسٹال پر موجود ہے، تو لوگوں کا ہجوم اس کو لینے کے لیے بک اسٹال پر ٹوٹ پڑا۔ تقریر کے تمام مطبوعہ نسخے اُسی وقت فروخت ہوگئے۔ یہ تقریر پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوئی۔ اردو میںاس کا نام تھا ’’نئے عہد کے دروازے پر‘‘، ہندی میں ’’نو یُگ کے پرویش دوار پر‘‘ اور انگریزی میں
On the Threshold of A New Era
اِس تقریر کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں اسلام کی دعوت کو عصری اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ میری زندگی میں ایک انقلابی واقعہ تھا۔ اِس واقعے نے میری آئندہ زندگی کا رخ متعین کردیا۔ اب میں نے شعوری طورپر یہ طے کرلیا کہ مجھے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہے۔ اس کے بعد میں نے مذکورہ موضوع کا زیادہ گہرائی کے ساتھ مطالعہ شروع کردیا۔ اِس درمیان میں مقالہ یا پمفلٹ کی صورت میں بعض تحریریں شائع ہوئیں۔ مثلاً حقیقت کی تلاش‘‘۔ یہ مقالہ 6ستمبر 1958 کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونین ہال میں پڑھا گیا،اور اس کے بعد وہ پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوا۔
اِس موضوع پر میرے مطالعے کا ایک نتیجہ وہ تھا جو باقاعدہ کتاب کی صورت میں ظاہر ہوا۔یہ کتاب جو پہلی بار 1966 میں مجلس تحقیقات ونشریاتِ اسلام (ندوۃ العلماء، لکھنؤ) سے شائع ہوئی۔ اِس کتاب کا اردو ٹائٹل ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ تھا۔ بعد کو اِس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے کیا۔ یہ عربی ترجمہ پہلی بار 1969 میں کویت اور بیروت اور قاہرہ سے ’’الاسلام یتحدّی‘‘ کے نام سے چھپا۔ اِس کتاب کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر فریدہ خانم نے کیا، جو پہلی بار 1985میں گاڈ ارائزز (God Arises) کے نام سے شائع ہوا۔
مذہب اور جدید چیلنج 1964 میں لکھ کر تیار ہوئی۔ میں نے اس کا مسوّدہ (manuscript) مجلس تحقیقات ونشریاتِ اسلام (لکھنؤ) کے ذمے داروں کو برائے اشاعت دیا۔ چوں کہ اِس کتاب میں بہت زیادہ سائنسی حوالے تھے، مجلس کے ذمے داروں نے چاہا کہ اشاعت سے پہلے وہ کسی ایکسپرٹ (expert) سے اس کی تصدیق حاصل کرلیں۔ اِس مقصد کے لیے کتاب کے مسوّدے کو لکھنؤ کے ایک مسلم آئی اے ایس افسر کو دیاگیا۔ انھوں نے کتاب کے مسوّدے کو پڑھنے کے بعد مجلس کے نام ایک تحریر بھیجی۔ اِس تحریر میں کتاب کے بارے میں منفی رائے دیتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ایسی ایک کتاب لکھنے کے لیے مصنف کا کریڈنشیل (credential) کیاہے۔
مذکورہ مسلم افسر کی یہ تحریر مجھے دی گئی۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے تحریری صورت میں اس کا جواب دیا۔ میں نے اپنے جواب میں یہ لکھا کہ — اس کتاب کے مصنف کا کریڈنشیل یہ ہے کہ اِ س موضوع پر پوری مسلم دنیا میں اب تک کوئی ایک کتاب بھی لکھی یا چھاپی نہیں گئی ہے۔ جدید تاریخ میں میں پہلا شخص ہوں جس نے اسلام اور جدید علمی چیلنج کے موضوع پر باقاعدہ مطالعہ کیا اور اس پرایک مکمل کتاب تیار کی۔ اگر آپ کے خیال کے مطابق، اِس موضوع پر کوئی دوسری کتاب پائی جاتی ہے، تو آپ مجھے اُس کا نام بتائیں۔ میرے اِس جواب کے بعد لوگ خاموش ہوگئے اور میری کتاب کو 1966میں مجلس تحقیقات ونشریات اسلام سے شائع کردیا گیا، جو اِس کتاب کا پہلا ایڈیشن تھا۔اِس کے بعد میری زندگی مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ یہاںتک کہ میں نے 1970 میں دہلی میں اسلامی مرکز کے نام سے ایک دعوتی ادارہ قائم کیا، اور 1976 میں ’الرسالہ‘ کے نام سے ایک دعوتی ماہ نامہ جاری کیا، جو اب تک پابندی کے ساتھ نکل رہا ہے۔
اِس ادارہ (اسلامی مرکز) کے تحت، میں نے باقاعدہ طورپر کتابیں شائع کرنا شروع کیا۔ اِن کتابوں کا موضوع براہِ راست یا بالواسطہ طورپر صرف ایک ہوتا تھا، اور وہ ہے— جدید علمی چیلنج کے مقابلے میں اسلام کا مدلّل تعارف پیش کرنا۔ ماہ نامہ الرسالہ میں اِن کتابوں کا اشتہار جس عنوان کے تحت چھپتا تھا، وہ عنوان یہ تھا— عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جدید تہذیب کے ظہور اور پرنٹنگ پریس کے زمانے میں پوری مسلم دنیا میں مختلف زبانوں میں کثرت سے کتابیں چھاپی گئیں، لیکن میرے علم کے مطابق، اِن کتابوں کے تعارف کے لیے کسی نے بھی ’’عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، اب بھی کو ئی مسلم ادارہ ایسا نہیں ہے جو اپنی مطبوعات کے تعارف کے لیے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا لفظ استعمال کرتاہو۔ گویا کہ یہ ٹائٹل غیر متنازعہ طورپر صرف ہمارے مشن کے تحت شائع شدہ کتابوں پر منطبق ہوتا ہے۔ کوئی دوسرا شخص یا ادارہ اِس معاملے میں، دعوے دار کے درجے میں بھی اس میں شریک نہیں۔
جدید تہذیب کی طرف سے جو فکری چیلنج پیدا ہوا، اس کا تعلق تمام مذاہب سے تھا۔ اِس صورتِ حال کے پیدا ہونے کے بعد دورِ جدید میں کچھ نمایاں افراد پیدا ہوئے جنھوں نے اپنے عقیدہ یا اپنے مذہب کو ماڈرن معیار پر پیش کرنے کا کام کیا۔
مثال کے طور پر ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات1975) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ ہندوازم (Hinduism)پر گہرا عقیدہ رکھتے تھے۔ انھوں نے ہندو ازم کو جدید معیار پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اِس سلسلے میں ان کی دو کتابوں کے نام یہ ہیں
1. A Source Book in Indian Philosophy, 1957
2. Recovery of Faith, 1956
ڈاکٹر رادھا کرشنن موجودہ زمانے کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے، تاہم یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے مقصد میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے جس مقدمے کی پیروی کی، وہ مقدمہ اپنے آپ میں کم زور تھا۔ اور جو مقدمہ اپنے آپ میں کمزور ہو، کوئی بڑے سے بڑا وکیل بھی اس کو مضبوط نہیں بنا سکتا۔
1938سے1947تک دس سال کا زمانہ میری زندگی میں بہت اہم زمانہ تھا۔اِس زمانے میں میرا دماغ افکار ونظریات کے اعتبار سے گویا کہ ایک میلٹنگ پاٹ (melting pot) بنا ہوا تھا۔ اُس زمانے میں پورے عالم اسلام میں مسلمانوں کے حال اور مستقبل کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی تھی۔ ہرتحریر اور ہر تقریر میں اِسی کا چرچا ہوتا تھا۔ فطری طورپر میرا ذہن مختلف خیالات کی آماج گاہ بنا ہوا تھا۔
انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اوّل میں پوری مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر فکری سرگرمیاں جاری تھیں۔ بہ ظاہر اِن سرگرمیوں کے مختلف دھارے تھے، لیکن ایک چیز سب میں مشترک تھی، وہ یہ کہ یہ مختلف قسم کی سرگرمیاں اصلاً ردّ عمل کے تحت پیدا ہوئیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، اِس زمانے میں مغربی قوموں نے جدید ذرائع کے بل پر پوری مسلم دنیا میں سیاسی اور تہذیبی غلبہ حاصل کرلیا تھا۔ یہ صورت حال مسلم رہنماؤں کے لیے ناقابلِ قبول تھی۔ چنانچہ ہر ایک اِحیاء (revival) کے نام پر اٹھ کھڑا ہوا۔ اِن سب کا مشترک نشانہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے قدیم دورِ عروج کو دوبارہ جدید تاریخ میں واپس لایا جائے۔
مسلمانوںکے اندر اگر یہ سرگرمیاں مثبت ذہن کے تحت پیدا ہوئی ہوتیں، تو ان کا ماڈل زمانۂ رسالت ہوتا۔ اِس ابتدائی ماڈل کی پیروی میں وہ دعوت الی اللہ کو اپنا نشانہ بناتے۔ لیکن اِن سرگرمیوں کا سرچشمہ چوں کی منفی رد عمل تھا، اِس لیے عملاً بعد کو قائم ہونے والا دورِ تاریخ لو گوں کا ماڈل بن گیا۔ لوگ عباسی سلطنت، اور عثمانی سلطنت، اور مغل سلطنت کے زمانے کو دوبارہ واپس لانے کے نشانے کے تحت، سرگرمِ عمل ہوگئے۔ اِن سرگرمیوں کے دو بڑے دھارے تھے— احیاءِ خلافت، اور احیاءِ جہاد۔
اِن دونوں دھاروں کے تحت بیسویں صدی عیسوی میں غیر معمولی کوششیں کی گئیں، لیکن اپنے مطلوب نشانے کے اعتبار سے یہ کوششیں مکمل طورپر ناکام رہیں۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ صرف دورِ قدیم کی مسلم تاریخ کو جانتے تھے، اور اِسی قدیم ماڈل کو دوبارہ واپس لانے کے لیے وہ سرگرمِ عمل ہوگئے۔ وہ اِس حقیقت سے بے خبر تھے کہ کامیابی کے لیے دوسری ضروری چیز جو مطلوب ہے، وہ رعایت زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں کام کے طریقے پوری طرح بدل چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی بے خبری کی بنا پر اِس تبدیلی کی رعایت نہ کرسکے، اِس لیے وہ اپنے مطلوب نشانے کو حاصل کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہے۔
دوسرا فکری دھاراوہ تھا جس کا کہنا یہ تھا کہ اسلام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ اسلام کواس کی مطلوب اہمیت حاصل نہ ہوسکے گی۔ اِس نقطۂ نظر کے حامل ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے لکھا تھا کہ— آج ضرورت ہے کہ قرآن دوبارہ نازل ہو
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The Quran has to be re-revealed today.
اِس دوسرے فکری دھارے کو امت میں قبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ یہ لوگ صرف ایک قسم کا مبتدعانہ گروہ بن کر رہ گئے۔ اِس کا سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ جن افراد نے اِس دوسرے دھارے کی نمائندگی کی، وہ اپنے مشن کے لیے پوری طرح اہل (competent) نہ تھے۔ اُن کامدعا اصلاً غلط نہ تھا، لیکن وہ طاقت ور انداز میں اس کی درست نمائندگی نہ کرسکے۔ اِس بنا پر وہ اپنے اصل مقصد، دورِ جدید کے اعتبار سے امت کو رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے، اسلام کی دعوت کو اپنا موضوع بنایا۔ اِس سلسلے میں میں نے وسیع مطالعے کے ذریعے اسلام اور جدید تحدّیات (modern challenges) کو سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے پایا کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ اسلام جدید دور میں غیر متعلق (irrelevant) ہوگیا ہے۔ اسلام کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ جدید ذہن کو ایڈریس کرسکے۔ موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین نے جو کتابیں لکھی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب قدیم روایتی اسلوب میں ہیں۔ اِس قسم کی کتابیں جدید تحدیات کا جواب نہیں بن سکتیں۔ یہ کتابیں آج کے ذہن کو اسلام کی صداقت پر مطمئن کرنے کے لیے یقینی طور پر ناکافی ہیں۔
اِس معاملے کا موضوعی مطالعہ (objective study) کرنے کے بعد میں نے یہ پایا کہ جدید دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ روایتی ذہنی فریم ورک اب ٹوٹ گیا ہے۔ آج کے انسان کا ذہنی فریم ورک اُس سے بالکل مختلف ہے جو قدیم زمانے کے انسان کا ہوا کرتا تھا۔ ماڈرن افکار کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ اِن میں سے کچھ کتابوں کے نام یہ ہیں
1. Thomas Paine, The Age of Reason (1994)
2. J.F. West, The Great Intellectual Revolution (1965)
3. Julian Huxley, Religion without Revelation (1927)
4. A.A.A. Faizi, A Modern Approach to Islam (1963)
5. Philip Hodgkiss, The Making of the Modern Mind (2001)
6. John Herman Randall, The Making of the Modern Mind (1926)
7. Brinton Corone, The Shaping of the Modern Mind (1953)
8. W. T. Stace, Religion and the Modern Mind (1952)
کامیاب دعوت وہ ہے جو مخاطب کے مائنڈ کو ایڈریس کرے۔ موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ قدیم روایتی لٹریچر جدید ذہن کو ایڈریس کرنے میں کامیاب نہیں ہورہا ہے۔ گویا کہ آج داعی اور مدعو کے درمیان ایک فکری بُعد(intellectual gap) پیدا ہوگیا ہے۔ اِس لیے اسلامی دعوت کے سلسلے میں پہلا ضروری کام یہ ہے کہ اِس فکری بُعد کو ختم کیا جائے تاکہ اسلام آج کے انسان کے لیے قابلِ فہم (understandable) اور قابلِ قبول (acceptable) بن سکے۔
اِس معاملے میں، میں نے اپنے مطالعے کے ذریعے جانا کہ اِس اعتبار سے جو مسئلہ پیدا ہوا ہے، وہ بنیادی طورپر یہ ہے کہ لمبے فکری عمل کے بعد آج کے انسان کا ذہنی شاکلہ (framework) بدل گیاہے۔ یہ تبدیلی بنیادی طور پر دو چیزوں میں ہوئی ہے
1 ۔ روایتی معیار کی جگہ سائنسی معیار کا ظہور میں آنا۔
2 ۔ حاکمانہ معیار کے بجائے جمہوری معیار کا رواج۔
میں نے اپنے مطالعے کے د وران پایا کہ موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین کا پیدا کردہ جو لٹریچر ہے، وہ جدید سائنٹفک معیار پر پورا نہیں اترتا۔ موجودہ دست یاب لٹریچر روایتی زبان میں لکھا گیا ہے۔ وہ اُس سائنٹفک زبان میں نہیں لکھا گیا ہے جو موجودہ زمانے میں قبولیت کا درجہ حاصل کیے ہوئے ہے۔ اِس طرح، کتاب اور قاری کے درمیان جو ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہوگیا ہے، اس کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ لٹریچر جدید ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔
یہی معاملہ دوسرے پہلو کا ہے۔ مسلمانوں کا موجودہ ذہن، قدیم بادشاہی نظام کے تحت بنا ہے، اِس لیے وہ اسلام کو جمہوری انداز میں پیش کرنے سے عاجز رہ گئے۔ چنانچہ اِن مسلمانوں کی باتیں اُس جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتیں جو چیزوں کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہے، جب کہ وہ جمہوری انداز میں پیش کی گئی ہوں۔ مثلاً خلافت کا روایتی تصور قدیم شاہی ذہن کے لیے تو قابلِ تصور تھا، لیکن جدید جمہوری ذہن کے لیے وہ قابل فہم نہیں۔ اِسی طرح توہینِ اسلام کے نام پر قتل کی سزا دینا جدید ذہن کے لیے ناقابلِ فہم ہے، کیوں کہ جدید ذہن اِس طرح کی ’’گستاخی‘‘ کے تصور سے ناآشنا ہے۔ وہ صرف یہ جانتاہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی (freedom of expression) انسان کا ایک ایسا حق ہے جس کو کسی بھی عذر کی بنا پر منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔
یہی معاملہ مسلّح جہاد (armed struggle) کا ہے۔ موجودہ زمانے میں صرف پُرامن جدوجہد (peaceful struggle) کو قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔حق کے حصول کے لیے پُرامن جدوجہد پوری طرح درست ہے، لیکن مسلح جدوجہد کسی بھی حال میں درست نہیں۔اِن اسباب کی بنا پر آج کے انسان کو وہ لٹریچر اپیل نہیں کرتا جو جمہوریت کی شرطوں پر پورا نہ اترتا ہو۔
لٹریچر کے اعتبار سے اسلامی تاریخ کے تین بڑے دور ہیں۔ پہلا دور، رسالت اور صحابہ کا دور ہے۔ یہ دور ساتویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس دور میں اسلام کا مستند (authentic) یا کلاسکل لٹریچر (classical literature) وجود میں آیا۔ یہ لٹریچر عربی زبان میں ہے، اور قرآن اور حدیث اور سیرتِ رسول اور سیرتِ صحابہ پر مشتمل ہے۔
دوسرا دور وہ ہے جو عباسی سلطنت کے زمانے میں شروع ہوا اور عثمانی سلطنت اور مغل سلطنت کے زمانے تک جاری رہا۔ یہ دور آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں اسلام کے مختلف پہلوؤں پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں، جو آج اسلامی کتب خانے کا تاریخی حصہ ہیں۔ یہ تمام کتابیں قبل از سائنس دور (pre-scientific era) میں لکھی گئیں۔ چنانچہ یہ کتابیں قدیم روایتی اسلوب میں ہیں، نہ کہ جدید سائنسی اسلوب میں۔
تیسرا دور وہ ہے جو مغرب کے نو آبادیاتی نظام کے زمانے میں ظہور میںآیا۔ یہ دور انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس تیسرے دور میں پرنٹنگ پریس وجود میں آچکا تھا اور کاغذ سازی کی جدید صنعت قائم ہوچکی تھی۔ چنانچہ اِس زمانے میں ہزاروں کی تعداد میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں کتابیں لکھی اور چھاپی گئیں۔ یہ کتابیں عربی کے علاوہ دوسری مختلف زبانوں میں تھیں۔
مگر تیسرے دور کی کتابیں بھی عملاً دوسرے دور کی کتابوں کا امتداد (extention) بن گئیں، یعنی تحریر اور استدلال کا جو روایتی اسلوب دوسرے دور میں قائم ہوا، وہی بڑی حد تک، تیسرے دور میں بھی جاری رہا۔ تیسرا دور تحریر اور استدلال کے اسلوب کے اعتبار سے وہ دور تھا جس کو سائنسی دور کہاجاتا ہے، مگر تیسرے دور کی کتابیں بھی عملاً دوسرے دور کی کتابوں میں اضافے کے ہم معنی بن گئیں۔ صرف اِس فرق کے ساتھ کہ دوسرے دور میں تیار کی ہوئی کتابیں قلمی کتابیں ہوا کرتی تھیں، جب کہ تیسرے دور کی کتابیں مطبوعہ کتابوں کی صورت میں سامنے آئیں۔
شاہ ولی اللہ دہلوی اٹھارھویں صدی عیسوی کے مشہور عالم ہیں۔ ان کی وفات 1762 میں ہوئی۔ اسلامی عقلیات کے موضوع پر ان کی کتاب ’حُجَّةُ اللهِ الْبَالِغَةُ‘ ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حجۃ اللہ البالغہ تیسرے دور کے آغاز میں لکھی گئی، مگر وہ پوری طرح روایتی فریم ورک کے مطابق لکھی گئی۔ اِس اعتبار سے وہ دوسرے دور ہی کی ایک تکرار تھی۔
موجودہ زمانے میں اِس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئیں، اُن میں سے ایک کتاب الجزائری عالم شیخ محمد حسین الجِسر(وفات1909) کی کتاب الرِّسَالَةُ الحَمِيدِيَّةُ فِي حَقِيقَةِ الدِّينَةِ الإِسْلَامِيَّةِہے۔ اِس کتاب کو مزید اضافے کے ساتھ ان کے صاحب زادے شیخ ندیم حسین الجسر(وفات1980) نے شائع کیا ہے۔ اِس دوسری کتاب کا نام یہ ہے قصۃ الإیمان بین الفلسفۃ والعلم والقرآن (1961) ۔ یہ کتاب پوری کی پوری فلسفیانہ پیٹرن پر لکھی گئی ہے، نہ کہ سائنٹفک پیٹرن پر۔ اِس لیے وہ عصرِ حاضر میں اسلام کی ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔
اِس موضوع پر ایک اور کتاب ڈاکٹر محمد اقبال (وفات 1938) کی ہے۔ یہ کتاب مصنف کے مختلف خطبات پر مشتمل ہے۔ وہ پہلی بار 1930 میں چھپی تھی۔ اِس کتاب کا نام یہ ہے
The Reconstruction of Religious thought in Islam.
ڈاکٹر اقبال کی یہ کتاب بھی فلسفیانہ پیٹرن پر لکھی گئی ہے،اِس لیے اس کا معاملہ بھی سابقہ کتاب جیسا ہے۔وہ عصرِ حاضر میں اسلام کی دعوتی ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔میرے علم کے مطابق، غالباً صرف ایک کتاب ہے جو براہِ راست طورپر اِس موضوع سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ کتاب اصلاً فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اِس کتاب کے مصنف فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (Maurice Bucaille) ہیں۔ یہ کتاب پہلی بار 1975 میں شائع ہوئی۔ اِس کتاب کا نام یہ ہے
The Bible, the Quran, and Science
مگر یہ کتاب بھی اصل ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ اِس کتاب میں قرآن کے صرف ایک پہلو پر کچھ شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ وہ دین اسلام کا سائنسی تعارف نہیں۔ اِس اعتبار سے اِس کتاب کو زیادہ سے زیادہ اسلام کی ایک جُزئی خدمت کہاجاسکتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیاگیا، راقم الحروف نے عصری اسلوب میں اسلام کے تعارف کواپنا خصوصی موضوع بنایا۔ میری تمام کتابیں، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، اِسی موضوع سے متعلق ہیں۔ میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی پوری زندگی اسی کا م پر وقف کردی۔ میرے نزدیک اِس موضوع کے بنیادی طورپر دو پہلو ہیں— سائنسی اسلوب میں اسلامی تعلیمات کی تبیین، جدید علمی دریافتوں کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کو مدلّل انداز میں پیش کرنا۔
مثال کے طورپر، ’تذکیر القرآن‘ اور ’مطالعۂ سیرت‘ پہلی قسم کی کتب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور ’مذہب اور جدید چیلنج‘ اور ’عقلیات اسلام‘ کو دوسری نوعیت کی کتابوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ میری تقریباً تمام کتابیں براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اِنھیں دونوں پہلوؤں کی مثالیں ہیں۔
سائنٹفک اسلوب کیا ہے، اس کو ایک لفظ میں، مبنی برحقیقت اسلوب کہا جاسکتا ہے، یعنی حقیقت نگاری کا اسلوب۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں تصنیف وتالیف کا رواج بہت زیادہ بڑھا اور کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئیں، لیکن یہ تمام کتابیں قدیم روایتی اسلوب میں تھیں۔ قدیم روایتی اسلوب میں مسجّع اورمقفّیٰ (rhymed)عبارتیں، تمثیلی استدلال، خطیبانہ نثر، انشائیہ اسلوب، شاعرانہ اندازِ تحریر اور ادبی طرزِ نگارش کا رواج تھا۔ یہی اسلوب موجودہ زمانے میں بھی کم وبیش جاری رہا۔جدید دور میں سائنس کے زیر اثر مذکورہ اسالیب متروک ہوگئے۔ جدید سائنس، حقائق کے مطالعے کا نام تھی، اِس لیے یہی اسلوب دیگر تصنیفی شعبوں میں بھی رائج ہوگیا۔ اِس اسلوب کو ترتیبِ حقائق (arrangement of facts)کہاجاسکتا ہے۔ مثال کے طورپر موجودہ زمانے میں برٹرینڈ رسل کی کتابیں اِسی سائنٹفک اسلوب کا ایک نمونہ ہیں۔ راقم الحروف نے اِسی اسلوب کو اسلام کے تعارف کے لیے اپنایا۔
جہاں تک سائنٹفک اسلوب کے دوسرے پہلو کی بات ہے، یعنی اسلام کی توضیح وتفہیم میں سائنسی دلائل کو استعمال کرنا، اس کو دوسرے لفظوں میں، اسلام کا جدید علم کلام (modern theology) بھی کہا جاسکتاہے۔ قدیم علم کلام، روایتی استدلال اور یونانی منطق پر قائم تھا۔ جدید علم کلام وہ ہے جو سائنسی استدلال پر قائم ہو۔ سائنسی استدلال سے مراد ہے— جدید دریافت شدہ حقائق کی روشنی میں اسلام کے عقائد کو مدلل کرنا۔ راقم الحروف نے اِس اعتبار سے متعدد کتابیں تیار کیں۔ اِن میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کا اردو ٹائٹل ’مذہب اور جدید چیلنج‘ (God Arises) ہے۔ وہ مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں شائع ہوچکی ہے۔ عربی زبان میں اس کا ٹائٹل ’الاسلام یتحدّی ‘ہے۔
سائنس کی جدید دریافتوں کی بنیاد پر کلامیاتی استدلال کی ایک مثال وہ ہے جس کو ضابطۂ ناکارگی (Law of entropy) کہاجاتا ہے۔ اِس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادّی کائنات ازلی نہیں ہوسکتی۔ قدیم یونانی فلاسفہ مادّہ (matter) کو قدیم مانتے تھے۔ اس کے زیر اثر مسلم فلسفی ابن رُشد (وفات1198 ء) نے مادّہ کو قدیم مان لیا۔ مگر مادّہ کی قدامت کانظریہ اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ اِس کے مطابق، خدا اور مادّہ دونوں قدیم ہوجاتے ہیں، جب کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق، خدا قدیم اور ازلی ہے، اور مادّہ بعد کی تخلیق۔ یہ جدید دریافت اسلامی عقیدے کے حق میں سائنسی تصدیق (scientific affirmation) کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضابطۂ ناکارگی کے قانون کی تفصیل كے ليے ملاحظه هو ’مذہب اور جدید چیلنج‘ صفحہ 55 ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اوپر کی بات نظریاتی اعتبار سے ذہنی فریم ورک سے تعلق رکھتی ہے۔ اب اِس معاملے کے دوسرے پہلو کو لیجیے، یعنی وہ مسئلہ جس کو عملی فریم ورک کہاجاسکتا ہے۔ اِس دوسرے معاملے میں مسلمان موجودہ زمانے میں اتنے اجنبی ہوگئے ہیں کہ موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ لوگوں کو وہ آج کی دنیا کے لیے ناموزوں (misfit) نظر آتے ہیں۔
اس کا سبب کیا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اِس کا سبب دوبارہ یہ ہے کہ اِس معاملے میں بھی دوسرے دور کا فریم ورک تیسرے دور میں بھی بدستور جاری رہا۔ حالانکہ تیسرے دور میں ضرورت تھی کہ اِس پہلو سے قدیم ڈھانچے پر نظر ثانی کی جائے اور اس کو جدید مسلّم ڈھانچے کے مطابق بنایا جائے۔ اِس نظر ثانی کا تعلق عقائد میں نظر ثانی سے نہیں ہے، بلکہ منہاج (method) میں نظر ثانی سے ہے۔
عقائد ہمیشہ ابدی ہوتے ہیں، ان میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ مگر منہاج (method) کا تعلق حالات سے ہے۔ فقہ کا مسلّمہ اصول اسی منہاج کے پہلو سے ہے۔ وہ فقہی اصول یہ ہے کہ تَتَغَيَّرُ الأَحْكَامُ بِتَغَيُّرِ الزَّمَانِ وَالمَكَانِ(زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں)۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بار بار مخالف گروپ کی طرف سے قتال کا چیلنج پیش آیا، مگر آپ نے اس کے جواب میں مختلف رویہ اختیار کیا۔
مثال کے طورپر مکی حالات میں آپ نے ہجرت کا طریقہ اختیار فرمایا، یعنی ٹکراؤ کے مقام کو چھوڑ دینا۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر آپ نے خندق (trench) کا طریقہ اپنایا، یعنی اپنے اور مخالف کے درمیان ایک حاجز (buffer) قائم کردینا۔ اِسی طرح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ٹکراؤ سے اعراض کرنے کے لیے فریقِ مخالف کی یک طرفہ شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اُن سے صلح کرلی، وغیرہ۔
جمہوریت کا تعلق عملی معاملات سے ہے۔ اور اجتماعی نوعیت کے مشترک معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ اِس طرح کے معاملات میں جو صورتِ حال پیش آتی ہے، وہ نہ خیرِ مطلق ہوتی ہے اور نہ شرِ مطلق، بلکہ اُن میں دونوں قسم کے پہلو شامل رہتے ہیں۔ اِس لیے اِس طرح کے کسی معاملے کو آئڈیل کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ عملی افادیت کے نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اِس طرح کے کسی معاملے میں بہترین اصول یہ ہے کہ— مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو
Ignore the problems, avail the opportunities.
موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں نے قربانی کی حد تک غیر معمولی سرگرمیاں دکھائیں، لیکن اِن سرگرمیوں کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیںہوا۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ رہنما اپنی سرگرمیوں میں مذکورہ حکمت کو ملحوظ نہ رکھ سکے۔ وہ ہر جگہ مسائل سے ٹکراتے رہے، اور مبنی بر مواقع منصوبہ بندی (opportunity-based planning) کا طریقہ اختیار کرنے میں ناکام رہے۔
پچھلے دو سوسال کے درمیان مسلم دنیا میں جو سرگرمیاں جاری رہی ہیں، ان کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ اِس پوری مدت میں مسلم رہنما ٹکراؤ کے اصول پر عمل کرتے رہے۔ ہر مقام پر انھوں نے ایک مسئلہ (problem) دریافت کیا اور اِس پرابلم سے ٹکرانے میں اپنی ساری طاقت صرف کردی۔ اُن کی سوچ یہ تھی کہ جب تک یہ پرابلم ختم نہ ہو، اُس وقت تک کوئی مثبت کام نہیں کیا جاسکتا — کہیں یہودی پرابلم، کہیں برٹش پرابلم، کہیں امریکن پرابلم، کہیں نو آبادیاتی پرابلم، کہیں ہندو پرابلم، کہیں ظالم حکومت کا پرابلم، کہیں کوئی اور پرابلم، یہی ہر جگہ مسلم رہنماؤں کا نشانۂ عمل بنا رہا۔
اس طریقِ کار کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا۔ خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، موجودہ دنیا میںانسان کو مکمل آزادی عطا فر مائی ہے۔ انسان کو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرنے کا بھی اختیار ہے، اور اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اپنی خداداد آزادی کو غلط طورپر استعمال کرے۔ انسان کی اِس آزادی کو صرف قیامت منسوخ کرے گی۔ اِس سے پہلے کوئی شخص اس کو منسوخ کرنے کی طاقت نہیںرکھتا۔ موجودہ دنیا کے تمام مسائل اسی انسانی آزادی کے غلط استعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔ چوں کہ ہم انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کرسکتے، اِس لیے ہم یہ بھی نہیں کرسکتے کہ اُن چیزوں کو دنیا سے ختم کردیں جن کو ہم اپنے لیے قومی یا سیاسی مسئلہ سمجھتے ہیں۔
خدا کے قائم کردہ اِس تخلیقی نقشے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس دنیا میں ہمارے لیے جو انتخاب (choice) ہے، وہ صحیح (right) اور غلط (wrong) کے درمیان نہیںہے، بلکہ یہ انتخاب چھوٹے شر (lesser evil) اور بڑے شر (greater evil) کے درمیان ہے۔ کسی صورتِ حال میں ہمارے عمل کی منصوبہ بندی اِس تصور کے تحت نہیں ہوسکتی کہ ہم یہ دیکھیں کہ اصولی اعتبار سے درست کیا ہے اور نادرست کیا، اور پھر جو چیز ہمیں اصولی طورپر درست نظر آئے، اس کو حاصل کرنے کے لیے ہم پُرشور جدوجہد شروع کردیں۔ اِس کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ ہم یہ دیکھیں کہ عملی اعتبار سے جو دو انتخاب ہمارے لیے ممکن ہیں، اُن میں سے کون سا انتخاب اَہوَن (easier) ہے اور کون سا غیر اہون (non-easier)۔ اِسی اصول کو فقہ میں اَهونُ البَلیَّتَینِکہاجاتا ہے، یعنی دو مصیبتوں میں سے آسان (easier) مصیبت۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ فطرت کا اصول ہے۔ اِس اصول کو اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہر صورت حال میں آدمی کو بلاتاخیر اپنے عمل کے لیے ایک نتیجہ خیز نقطۂ آغاز (starting point) مل جاتا ہے، اور کسی صورتِ حال میں حقیقی نقطۂ آغاز کا ملنا کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ اِس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کسی مزید نقصان میں مبتلا ہوئے بغیر نتیجہ خیز عمل شروع کردیتا ہے اور آخر کار وہ اپنے مطلوب تک پہنچ جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں حالات مکمل طورپر بدل چکے ہیں۔ اِس لیے ضروری ہے کہ منہاج کے معاملے میں نئے ماڈل کو اختیار کیا جائے۔ یہ ماڈل اصولی طورپر نتیجہ (result) کی بنیاد پر ہوگا، یعنی جو ماڈل اسلام کے لیے بہ اعتبار نتیجہ مفید ہو، اس کو اختیار کرنا اور اُس ماڈل کو چھوڑ دینا جو نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہونے والا ہو۔
اِس اعتبار سے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ جدید جمہوری ماڈل کو اختیار نہ کرسکے۔ وہ جدید جمہوری نظام میں بھی قدیم حاکمانہ ماڈل پر قائم رہنا چاہتے ہیں، حالانکہ جدید حالات میں عملاً یہ ممکن ہی نہیں۔ اِس قسم کے اصرار کا نتیجہ صرف دو صورتوں میں برآمد ہوگا۔ یا تو مسلمان ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں جو بلاشبہ خود کشی کے ہم معنیٰ ہے، یا پھر وہ منافق بن جائیں، یعنی اپنی ذہنی سوچ کے اعتبار سے وہ حاکمانہ ماڈل کو اپنائے ہوئے ہوں اور عملی اعتبار سے مصلحت کا انداز اختیار کرکے وہ اپنے مادی مفاد کو بچانے کی کوشش کریں۔
اِس معاملے میں تفصیلی مطالعے کے بعد میں نے کئی کتابیں لکھیں۔ میں نے اپنی کتابوں میں بتایا کہ جمہوری ماڈل اگرچہ بہ ظاہر ایک نیا ماڈل ہے، لیکن اُس میں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ ہم اپنی اسلامی حیثیت کو پوری طرح باقی رکھتے ہوئے جمہوری نظام میں اپنے آپ کو شامل کرسکتے ہیں۔ یہاں میں چند مثالوں کی روشنی میں اس کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔
موجودہ زمانے میں جن چیزوں کی بناپر اسلام کے بارے میں یہ عالمی تاثر قائم ہوگیا ہے کہ اسلام جدید حالات کا ساتھ نہیں دیتا، اسلام جدید دور کے لیے ایک غیر متعلق مذہب ہے۔ یہ تاثر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی قومی روش کی بنا پر قائم ہوا ہے، نہ کہ اسلام کی اصل تعلیمات کی بنا پر۔
1 ۔ مثال کے طورپر موجودہ زمانے کے مسلمانوںکا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے رسول کی شان میں ’’گستاخی‘‘ کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اپنے مذہبی عقیدے کی بنا پر ان کے اوپر فرض ہے کہ وہ ایسے انسان کو قتل کرڈالیں۔ مسلمانوں کا یہ نظریہ دورِ جدید کے تصورات سے ٹکراتاہے۔ کیوں کہ موجودہ زمانے کا یہ مسلّمہ ہے کہ ہر شخص کو پُرامن اظہار رائے کی آزادی ہے۔ اِس آزادی کو کسی بھی حال میں ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہ ٹکراؤ جدید دور اور مسلم تصورات کے درمیان ہے، نہ کہ جدید دور اور اصل اسلامی تعلیمات کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں بھی اظہارِ خیال کی آزادی اُسی کامل درجے میں دی گئی ہے جس کو جدید دور کی طرف منسوب کیاجاتا ہے۔اِس معاملے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’شتمِ رسول کا مسئلہ‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
2۔ یہی معاملہ سیکولر ازم کا ہے۔ موجودہ زمانے میں سیکولرازم کو اسٹیٹ پالیسی کا معیاری ماڈل سمجھاجاتاہے۔ مگر موجودہ زمانے کے اسلام پسند مسلم رہنماؤں نے یہ اعلان کیا کہ سیکولر ازم، اسلام کے سراسر خلاف ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم سیکولر نظام کے خلاف لڑکر اس کا خاتمہ کریں۔ لیکن یہ ٹکراؤ بھی جدید دوراور مسلمانوں کے درمیان ہے، نہ کہ جدید دور اور اسلام کے درمیان۔ اسلام خود بھی مشترک سماج کے لیے اُسی طرح سیکولر پالیسی کا حامی ہے، جس طرح جدید دور میں سمجھا جاتاہے۔ اِس مسئلے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’دینِ کامل‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح کا ایک معاملہ وہ ہے جو جمہوریت (democracy) سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے کے اسلام پسند مسلم لیڈروں نے اعلان کیا کہ جمہوریت ایک غیر اسلامی نظریہ ہے، اِس لیے وہ مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف، جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ جمہوریت کا ماڈل سب سے بہتر سیاسی ماڈل ہے۔ مگر یہ ٹکراؤ بھی جدید ذہن اور موجودہ مسلمانوں کے درمیان ہے، نہ کہ جدید ذہن اور اصل اسلام کے درمیان۔ اسلام خود بھی سیاسی تنظیم کے لیے جمہوری طریقے کا حامی ہے۔ اسلام میں تھیاکریٹک اسٹیٹ (theocratic state) کا تصور نہیں۔ اسلام مکمل طورپر جمہوری نظام کا قائل ہے، یعنی عوام کی رائے کے مطابق، سیاسی نظام کی تشکیل۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس موضوع کی وضاحت میں نے اپنی مختلف کتابوں میںکی ہے۔ مثلاً ’فکرِ اسلامی‘ اور ’مسائل اجتہاد‘ وغیرہ۔ اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک عقیدہ اور عبادت کا تعلق ہے، اِس معاملے میں اسلام کی تعلیمات مطلق حکم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن جہاں تک اجتماعی نظام کا معاملہ ہے، اس کا کوئی مطلق معیار نہیں۔ اجتماعی نظام کا معاملہ عوام کی اجتماعی صورتِ حال پر منحصر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ كَمَا تَكُونُونَ كَذَٰلِكَ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ (شعب الایمان للبہیقی، حدیث نمبر 7006)۔ یعنی، جیسے تم ہوگے، ویسے ہی تمھارا حکومتی نظام ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اجتماعی نظام کے معاملے میں اسلام کا اصول اِس پر مبنی ہے کہ عوام یا معاشرہ کی استعدادِ قبولیت کس درجے کی ہے۔ عوام کے اندر جن اجتماعی احکام کی قبولیت کی استعداد ہوگی، اُن کو آغاز میں نافذ کیا جائے گا، لیکن جن احکام کی قبولیت کی استعداد عوام کے اندر موجود نہ ہوگی، اُن احکام کی تنفیذ کا آغاز خود قانون کے نفاذ سے نہ ہوگا، بلکہ ذہن سازی کے عمل سے ہوگا۔ اسلام کے اِس اصول کو تدریج کا اصول کہہ سکتے ہیں، یعنی عوام کی استعداد کے مطابق، احکام کا تدریجی نفاذ، نہ کہ ان کا بیک وقت نفاذ۔
موجودہ دنیا چوں کہ امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے، اِس لیے یہاںانسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ یہ آزادی خود خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہے، اِس لیے کوئی بھی طاقت اس کو منسوخ نہیں کرسکتی۔ تجربہ ہے کہ انسان زیادہ تر اِس آزادی کا غلط استعمال کرتاہے۔ اِسی بنا پر ایسا ہوا کہ تاریخ میں کبھی معیاری نظام نہ بن سکا، اور نہ آئندہ اِس کا کوئی امکان ہے۔ مومن اور غیر مومن دونوں مجبور ہیں کہ اِس غیر معیاری دنیا میں وہ اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ اِسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ— اِس دنیا میں معیار کبھی حاصل نہیں ہوسکتا
The Ideal can not be achieved in this world.
اِس صورتِ حال کی بنا پر اسلام کا اصول یہ ہے کہ معیار کے حصول کے لیے جنگ نہ کی جائے، بلکہ کسی صورتِ حال میں عملی طور پر جو ممکن ہو، اس کو مان کر اپنی زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔ اِس اصول کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو ہر صورتِ حال میں فوراً ہی ایک نقطۂ آغاز (starting point) مل جاتا ہے۔ ہرصورتِ حال میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی فوری طور پر اپنے عمل کا نقشہ بنائے، تاکہ جو کچھ آج قابلِ حصول نہ تھا، وہ مستقبل میں قابلِ حصول ہوجائے۔
فكرِ مغرب
فكرِ مغرب (western thought) كيا هے۔ فكرِ مغرب اپنى اصل حقيقت كے اعتبار سے، سائنسى طرز فكر (scientific thinking)كا نام هے، اور سائنسى طرزِ فكر پورے معنوں ميں ايك درست طرز فكر هے۔ وه بجائے خود اسلامى فكر نهيں هے، ليكن اِس ميں كوئى شك نهيں كه وه ايك موافقِ اسلام طرز فكر هے۔ وه اسلام كے حق ميں ايك مؤيد علم (supporting knowledge) كى حيثيت ركھتا هے۔ اصل مغربى فكر نه غير اسلامى فكر هے اور نه وه كسى بھى اعتبار سے، اسلام دشمن فكر هے۔
قرآن كى سورۃ الاحقاف ميں يه آيت آئى هے قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِى مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــهُمْ شِرْكٌ فِى السَّمٰوٰتِ ۭ اِيْتُوْنِى بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (46:4)۔ يعنى، كهو كه كيا تم نے غوركيا اُن چيزوں پر جن كو تم الله كے سوا پكارتے هو۔ مجھے دكھاؤ كه انھوں نے زمين ميں كيا بنايا هے، يا آسمانوں ميں ان كى كچھ شركت هے۔ ميرے پاس اِس سے پهلے كى كوئى كتاب لے آؤ، يا كوئى علم جو چلا آتاهو، اگر تم سچے هو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مفسر ابن كثير (وفات 774 هجري) نے درست طور پر لكھا هے كه قرآن كى اِس آيت ميں دو قسم كے علم كو ۔بطور مستند علم (authentic knowledge) تسليم كيا گياهے— ايك، علمِ نقلى اور دوسرا علمِ عقلي۔ علمِ نقلى سے مراد مبنى بر وحى علم هے اور علم عقلى سے مراد وه علم هے جو عقلِ انسانى پر مبنى هو۔ تاهم علمِ عقلى سے مراد صرف وه علم نهيں هے جو عباسى دور كے معتزله اور متكلمين كے درميان پايا جاتا تھا، بلكه توسيعى طورپر اُس سے مراد سائنسى دور كا وه جديد علم بھى هے جس كو عقلى علم (rational knowledge) كهاجاتا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس جديد عقلى دور كا آغاز اٹلى كے سائنس داں گليليو (Galieo Galilei) سے هوا۔ گليليو كى وفات 78 سال كى عمر ميں 1642 ميں هوئي۔ گليليو پهلا شخص هے جس نے دور بين (telescope) كا استعمال كيا۔ گليليو كو جديد سائنس كا بانى (founder of modern science) كها جاتا هے۔ گليليو سے پهلے دنيا ميں زمين مركزى نظريه (geo-centric theory) كو مانا جاتا تھا، جس كو ٹالمى (Claudius Ptolemy) اور ارسطو (Aristotle) كى حمايت حاصل تھي۔ گليليو نے ثابت كيا كه زمين مركزى نظريه غلط هے اور اِس كے مقابلے ميں وه نظريه درست هے جس كو آفتاب مركزى نظريه (heleo-centric theory) كها جاتا هے۔
اِس كے بعد تاريخ ميں ايك نيا عقلى دور يا سائنسى دور شروع هوا۔ اِس دور ميں عقلى ثبوت كا يه معيار قرار پايا كه قابلِ اعتماد علم صرف وه هے جو قابلِ تصديق علم (verifiable knowledge)ہو۔ دور بينى مشاهده نے زمين مركزى نظريه كى تصديق نهيں كي، اِس ليے علمى دنيا ميں اُس كو رد كردياگيا، جب كه دور بينى مشاهده نے آفتاب مركزى نظريه كى تصديق كردي، اِس ليے وه عقلى طورپر درست قرار پايا۔
سائنس دراصل اِسى قابلِ تصديق علم (verifiable knowledge) كا اصطلاحى نام هے۔ اهلِ سائنس نے علمِ وحى (revealed knowledge) كا انكار نهيں كيا، البته انھوں نے علم وحى كو اپنے دائره تحقيق سے باهر قرار ديا، كيوں كه وه ان كے نزديك قابلِ تصديق نه تھا۔
اِس كے بعد علم كى دنيا ميں ايك تقسيم (bifurcation) كا طريقه وجودميں آگيا۔ اب علمِ وحى كا دائره الگ هوگيا اور عقلى علم يا سائنسى علم كا دائره الگ۔ يه تقسيم بجائے خود غلطى نه تھي۔ اِس كى بنا پر اهلِ سائنس كو يه موقع ملا كه وه آزادانه طورپر اپنى تحقيق كو جارى ركھ سكيں۔ اِس طرح سائنس كى تحقيق كا دائره اُس دنيا سے هوگيا جس كو فطرت (nature) كهاجاتا هے۔ اِسى ليے سائنس كو دوسرے الفاظ ميں، فطرى علم (natural science) يا مادّى علم (physical science) كهاجاتا هے۔
تائيدى علم
سائنسى علم براهِ راست طورپر اسلامى علم نه تھا، ليكن بالواسطه طورپر وه اسلام كے ليے ايك تائيدى علم كى حيثيت ركھتا تھا۔ عقل كى صلاحيت كو لے كر سائنسى دنيا ميں جو تحقيقات هوئيں، اُس سے اسلام كو بهت زياده فائدے حاصل هوئے۔ اِس اعتبار سے، سائنس كا پورا علم، اسلام كے ليے تائيدى علم كى حيثيت ركھتا هے۔ حقيقت يه هے كه جديد سائنس اُس حديث رسول كى مصداق هے جو پيشين گوئى كى زبان ميں اِن الفاظ ميں آئى هے إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ(صحيح البخاري،حدیث نمبر3062)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فطرت ميں سائنسى تحقيق كے ذريعے جو دريافتيں وجود ميں آئيں، وه خاص طورپر دو اعتبار سے، اسلام كے ليے غير معمولى تائيد كى حيثيت ركھتى تھيں۔ ايك قسم كى تائيد وه تھى جو اُس سائنس كے ذريعے حاصل هوئى جس كو نظرياتى سائنس (theoretical science) كهاجاتا هے۔ اور اسلام كے ليے دوسرى تائيد وه تھى جس كو اصطلاحى طورپر انطباقى سائنس (applied science) كهاجاتا هے۔
نظرياتى سائنس نے يه كيا كه اس نے فطرت (nature) ميں چھپے هوئے وه قوانين دريافت كيے جو اب تك غير معلوم تھے۔ اِن قوانين كے بارے ميں اشارات قرآن ميں موجود تھے، ليكن قرآن ميں ان كى تفصيل موجود نه تھي۔ اهلِ ايمان كو ابھارا گيا كه وه زمين و آسمان ميں غور كركے اِن تفصيلات كو دريافت كريں، جو كه ان كے ليے اضافه ايمان كا ذريعه هيں۔ ليكن بعد كے زمانے كے مسلمان يه كام نه كرسكے۔ آخر كار، الله تعالى نے اهلِ سائنس كے ذريعے يه كام ليا۔ الله تعالى كا يهى منصوبه هے جس كو قرآن ميں مستقبل كى پيشين گوئى كے طورپر اِس طرح بيان كيا گيا هے سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقّ(41:53) ۔یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے كى ايك مثال قرآن كى يه آيت هے وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً مُّبٰرَكًا (50:9)۔يعنى، هم نے آسمان سے مبارك پانى اتارا۔ قرآن كى اِس آيت ميں اُس آفاقى تطهير كا ذكر هے جس كو موجوده زمانے ميں ازاله نمك (desalination)كهاجاتا هے۔ پانى كا ذخيره جو سمندروں ميں جمع هے، اُس ميں تحفظاتى ماده (preservative) كے طورپر تين فى صد نمك ملا هوا هے۔ يه نمكين پانى انسان كے ليے ناقابلِ استعمال هے۔ يهاں فطرت كے قانون كے مطابق، ايك عظيم آفاقى عمل هوتا هے جس كے ذريعے سمندر كا پانى نمك سے الگ هوكر اوپر فضا ميں جاتا هے اور پھر بارش كى صورت ميں خالص پانى زمين كى طرف لوٹتا هے جس كو انسان اپنى ضرورتوں كے ليے استعمال كرتا هے۔قرآن ميں، مبارك كے لفظ كى صورت ميں اُس كا اشاره موجود تھا، ليكن اس كى تفصيل هزار سال بعد جديد سائنس نے معلوم كي، وغيره۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انطباقى سائنس (applied science) كے ذريعے اسلام كوبهت سے تائيدى ذرائع حاصل هوئے۔ مثلاً پرنٹنگ پريس اور كميونكيشن۔ اِن جديد سائنسى دريافتوں كے ذريعے تاريخ ميں پهلى بار يه هوا كه اسلام كى اشاعت كا كام عالمى سطح پر انجام ديا جاسكے۔ الله تعالى كو اول دن سے يه مطلوب تھا كه دينِ حق كو دنيا كے تمام انسانوں تك پهنچايا جائے، ليكن جديد ذرائع كے وجود ميں آنے سے پهلے اِس كا امكان هى نه تھا۔ تاريخ ميں پهلى بار يه امكان جديد انطباقى سائنس كے ذريعے پيدا هواهے۔
عالمى دعوت كا امكان
حديث ميں اسلامى دعوت كے ايك امكان كو اِس طرح بيان كياگيا هے لَا يَبْقَىٰ عَلَىٰ ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ كَلِمَةَ الإِسْلَامِ (مسند احمد،حدیث نمبر23814)۔ يعنى، زمين كى سطح پر كوئى گھر ايسا باقى نهيں رهے گا جس ميں اسلام كا كلمه داخل نه هوجائے۔
hadithQuotes a hadith
اِس حديثِ رسول سے معلوم هوتا هے كه ساتويں صدى ميں جب كه اسلام كا ظهور هوا، اُس وقت سے يه اسلامى دعوت كا نشانه تھا كه اسلام كا كلمه كره ارض پر بسنے والے تمام مردوں اور عورتوںتك پهنچ جائے۔ مگر ايك هزار سال تك يه نشانه عملاً پورا نه هوسكا، كيوں كه اسباب كى اِس دنيا ميں اِس نشانے كو پورا كرنے كے ليے عالمى ذرائع دركار تھے، جو كه پچھلے ادوار ميں موجود نه تھے۔ دورِ جديد ميں سائنس نے پهلى بار يه موافق ذرائع فراهم كيے۔اِس اعتبار سے دیکھیے تو مذكوره حديث كى تشريح اِن الفاظ ميں كرنا درست هوگا كه— بعد كے زمانے ميں ايسا هوگا كه الله كى توفيق سے ايسے اسباب وجود ميں آئيں گے جن كو استعمال كركے يه ممكن هوجائے گا كه اهلِ ايمان اسلام كے كلمه كو دنيا ميں بسنے والے تمام انسانوں تك پهنچا ديں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
منفى رائے كا سبب
مغرب اور فكرمغرب كے بارے ميں مسلمانوں كے درميان منفى رائے پائى جاتى هے۔ عام طورپر مسلمان مغرب اور فكر مغرب کو اسلام كا دشمن سمجھتے هيں۔اِسى بنا پر موجوده زمانے كے تمام مسلمان اهلِ مغرب سے نفرت كرتے هيں اور مغربى علم سيكھنے كو ايك ناپسنديده فعل قرار ديتے هيں۔ مگر مسلمانوں كى يه رائے حقيقت پر مبنى نهيں هے، وه تمام تر متعصبانه فكر (biased thinking) كا نتيجه هے۔
اصل يه هے كه جس زمانے ميں مغربى علم وجود ميں آيا، اُسى زمانے ميں ايك اور واقعه وجود ميں آيا جس كو مغربى استعمار (western colonisation) كها جاتا هے۔ اِسى زمانے ميں مغربى قوموں، خاص طورپر برطانيه اور فرانس، نے ايشيا اور افريقه كے بهت سے ملكوں ميں اپنا سياسى غلبه قائم كرليا۔ يه ممالك اُس وقت مسلم سلطنت كا حصه تھے۔ اِس سياسى واقعے نے مسلمانوں كے اندر اهلِ مغرب كے خلاف شديد نفرت پيدا كردي۔ اِس كے بعد جب 1948 ميں برطانى حكومت نے فلسطين كى تقسيم كى اور پھر امريكا، عربوں كے مقابلے ميں اسرائيل كا حامى بن گيا، تو اِس كے نتيجے ميں اهلِ مغرب كے خلاف مسلمانوں كى نفرت اپنى آخرى حد پر پهنچ گئي۔ يه نفرت ابتداء ً قومى سطح پر هوئى اور پھر اِس كے بعد مسلمان هر اُس چيز سے نفرت كرنے لگے جو مغرب كى طرف سے آئى هو۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
دو چيزوں ميں فرق نه كرنا
كها جاتا هے كه— نفرت آدمى كو اندھا اور بهرا بنا ديتى هے۔ يهى واقعه مغرب كے معاملے ميں مسلمانوں كے ساتھ پيش آيا۔ نفرت كے نتيجے ميں مسلمانوں كے اندر جو متعصبانه ذهن پيدا هوا، اس كا نتيجه يه هوا كه وه دو چيزوں ميں فرق نه كرسكے— مغربى علم اور اهلِ مغرب كى عملى كمزورياں ۔ يه كمزورياں هر قوم ميں لازماً پيدا هوتى هيں، حتى كه خود مسلمانوں ميں بھي۔
اهلِ مغرب كى جديد تاريخ كا ايك حصه وه تھا جو سائنسى علم يا عقلى علم (rational knowledge) سے تعلق ركھتا تھا، كيوں كه اسلام خود پورے معنوں ميں ايك عقلى مذهب (rational religion) هے۔ جديد سائنسى علم كا يه حصه پورى طرح اسلام كے موافق تھا۔ اِسى كے ساتھ بشرى كمزورى كى بنا پر دو اور ظاهرے وجود ميں آئے جو عام طورپر هر قوم ميں وجود ميں آتے هيں— ايك، حقيقتوں كى غلط توجيهه (misinterpretation) اور دوسرے، آزادى كا غلط استعمال (misuse of freedom)۔ يه دونوں چيزيں بلاشبه قابلِ اعتراض تھيں، مگر وه اهلِ مغرب كى انسانى كمزورياں تھيں، وه خود مغربى سائنس كا حصه نه تھيں۔ مگر مسلمان اپنے تعصب كى بنا پر اِس فرق كو سمجھ نه سكے، وه غلط توجيهه يا آزادى كے غلط استعمال كى طرح خودمغربى سائنس كو بھى منفى نظر سے ديكھنے لگے۔
مثال كے طور پر مغربى دنيا ميں برهنگى (nudity) كا كلچر هے۔ يه بات بطور واقعه درست نهيں هے، مگر اس كا تعلق فكرِ مغرب سے نهيں هے، بلكه اس كا تعلق آزادى كے غلط استعمال سے هے۔ الله تعالى نے امتحان كى مصلحت كى بنا پر انسان كو آزادى دى هے۔ انسان كو خود الله كے تخليقى منصوبے كے مطابق، يه اختيار حاصل هے كه وه چاهے تو اپنى آزادى كا غلط استعمال كرے يا چاهے تو وه اس كا درست استعمال كرے۔ تاريخ بتاتى هے كه هر دور ميں انسان اپنى آزادى كا غلط استعمال كرتا رها هے، اِسى طرح موجوده زمانے ميں بھي۔ البته موجوده زمانے ميں ڈگرى كے اعتبار سے اس ميں اضافه هوگيا هے۔ اِسى طرح مغربى دنيا ميں شراب كا رواج بھى آزادى كے غلط استعمال سے تعلق ركھتا هے۔ خود فكر مغرب سے اس كا براهِ راست كوئى تعلق نهيں، وغيره۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے ميں دوسرا معامله غلط توجيه (misinterpretation) كا هے۔ موجوده زمانے ميں مغربى دنيا ميں كئى نظريات وجود ميں آئے۔ مثلاً ڈارون ازم (Darwinism)، فرائڈازم (Freudism) اور ماركس ازم (Marxism)، وغيره۔ يه نظريات بلا شبه اسلام كى تعليمات كے خلاف تھے، مگر يه نظريات فكر مغرب كا براهِ راست حصه نهيںهيں، بلكه وه زندگى كى غلط توجيهه سے وجود ميں آئے هيں۔ هم كو يقيناً دلائل كى بنياد پر اِن نظريات كى ترديد كرنا چاهيے، مگر يه درست نهيں كه هم اِن نظريات كے حوالے سے خود فكر مغرب كو غلط سمجھنے لگيں۔
اِس قسم كى برائى هر معاشرے ميں پائى جاتى هے، حتى كه خود مسلم معاشرے ميں بھي۔ اسلام كے ابتدائى زمانے ميں جن لوگوں نے حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت على كو شهيد كيا، ان كا كيس يهى تھا كه انھوں نے اپنى آزادى كا غلط استعمال كيا۔ اِس طرح موجوده زمانے ميں آزاد مسلم ملكوں ميں خود مسلمان آپس ميں ايك دوسرے كو هلاك كرتے رهتے هيں۔ يه بھى آزادى كے غلط استعمال كا نتيجه هے، وه خود اسلام كى تعليمات كا نتيجه نهيں۔
يهى معامله غلط توجيهه كا هے۔ اسلام كے ابتدائى زمانے ميں خوارج كا جو ظاهره پيدا هوا، وه اسلام كى غلط توجيهه كا نتيجه تھا۔ اِسى طرح موجوده زمانے ميں اسلام كى سياسى تعبير بھى قرآن وحديث كى غلط توجيهه كے نتيجے ميں وجود ميں آئي۔
عصرى ذهن
عام طو رپر مسلمان عصرى ذهن كے بارے ميں منفى رائے ركھتے هيں۔ اس كا سبب وهى هے جس كو النَّاسُ أَعْدَاءُ مَا جَهِلُواكهاجاتا هے، يعنى بے خبرى كى بنا پر كسى كو اپنا دشمن سمجھ لينا۔ عصرى ذهن كے بارے ميں عادلانه رائے قائم كرنے كے ليے ضرورى هے كه حقيقت پسندانه ذهن كے تحت اس كا تجزيه كيا جائے اور يه سمجھا جائے كه حقيقتِ واقعه كے اعتبار سے، عصرى ذهن كا كيس كيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عصرى ذهن كى اصل مغربى ذهن هے۔ مغربى ذهن يورپ كى نشاةِ ثانيه (Renaissance) كے بعد پيدا هونے والے ذهن كا نام هے۔ اُس دور ميں كچھ ايسے افراد يورپ ميں اٹھے جنھوں نے فطرت (nature) كا مطالعه غير روايتى انداز ميں شروع كيا۔ اِس سلسلے ميں پهلا نماياں نام اٹلى كے سائنس داں گليليو (وفات 1642)كا هے۔ گليليو تاريخ كا پهلا شخص هے جس نے فلكيات كے مطالعے ميں دور بين (telescope) كا استعمال كيا۔ يه 1609 كا واقعه هے۔ اُس زمانے ميں روايتى تصور يه تھا كه زمين مركز ميں هے اور سو رج اس كے گرد گھومتا هے۔ گليليو نے اپنے دور بينى مشاهدے ميں جن حقيقتوں كو دريافت كيا، اُن سے يه اخذ هوتا تھا كه سورج مركز ميں هے اور زمين اس كے گرد گھوم رهى هے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
سترھويں صدى كے آغاز ميں عام طورپر روايتى طرز فكر كا غلبه تھا۔ اُس وقت گليليو كا يه اعلان ايك دھماكه خيز واقعه ثابت هوا۔اُس وقت مسيحى چرچ يورپ ميں روايتى طرز فكر كا نمائنده تھا۔ مسيحى پوپ كو يورپ كا بے تاج بادشاه (uncrowned king) سمجھا جاتا تھا۔ چنانچه مسيحى چرچ اور سائنس دانوں كے درميان زبردست ٹكراؤ پيش آيا۔ اِس ٹكراؤ ميں سائنس دانوں كو فتح هوئي۔
مسيحى چرچ كے اختيار كا دائره دن بدن سمٹنے لگا، يهاں تك كه 1929 ميں حكومتِ اٹلى اور مسيحى پوپ كے درميان وه معاهده هوا جس كو ليٹران معاهده (Lateran Treaty) كهاجاتا هے۔ اِس معاهدے كے مطابق، مسيحى چرچ اِس پر راضى هوگيا كه اس كا دائره اختيار روم كے ايك مختصر علاقه ويٹكن (Vatican) تك محدود رهے گا جس كا كُل رقبه صرف 109 ايكڑ هے۔
اِس طرح تاريخ ميں ايك نيا دور شروع هوا جس كو سائنس كا دور كها جاتا هے۔ اگر اِس واقعے كو مذهبى اصطلاح ميں بيان كيا جائے تو اِس دور كو ايمان بالغيب كے بجائے ايمان بالشهود كا دور كهاجائے گا۔ اِس دور ميں فطرت كا مطالعه مشاهدے اور تجربے كى روشنى ميں كيا جانے لگا۔ اِس كے نتيجے ميں فطرت كے اندر چھپے هوئے بے شمار رموز دريافت هوئے جو اب تك انسان كے ليے غيردريافت شده بنے هوئے تھے۔اِس كے نتيجے ميں نئى ٹكنالوجي، نئى صنعتيں، نئے ذرائع ووسائل انسان كى دسترس ميں آگئے۔
يه نئى مسحور كن دنيا تمام تر آبجيكٹيو مطالعه (objective study) كے ذريعے انسان كى دسترس ميں آئى تھي۔ اِس ميں مبنى بر وحى مطالعه كا بظاهر كوئى دخل نهيں تھا۔ يه دور بظاهر سائنس دانوں كى تحقيقات كے نتيجے ميں پيدا هوا۔ اِس دور كا ايك عملى نتيجه يه تھا كه قابلِ پيمائش (measurable) كو ناقابلِ پيمايش (non-measurable) سے الگ كر ديا گيا۔ اِس كے نتيجے ميں علمى دنيا ميں فكر كا وه طريقه رائج هوا جس كو موضوعى طريقِ مطالعه (objective method of study) كهاجاتا هے۔ اِس طريقے كى عملى كاميابى كى بنا پر اس كو موجوده دور ميں رواجِ عام حاصل هوگيا۔
سائنس دانوں نے كبھى يه دعوى نهيں كيا كه اُن كا طريقِ مطالعه تمام حقائق كو جاننے كے ليے واحد كارآمد طريقه هے۔ اِس كے برعكس، انھوں نے كھلے طورپر يه تسليم كيا كه سائنس پورے علم حقيقت كا احاطه نهيں كرتي، وه حقيقت كا صرف جزئى علم ديتى هے
Science gives us but a partial knowledge of reality.
سائنسى طريقِ مطالعه اپنى عملى كاميابي، نه كه نظرى صداقت كى بنا پر موجوده زمانے ميں بهت زياده عام هوگيا، حتى كه فلاسفه اور مفكرين نے بھى اِسى طرزِ فكر كو اختيار كرليا۔ اِس كا نتيجه يه هوا كه وه جس طرح فطرت (nature) كا مطالعه موضوعى انداز ميں كرتے تھے، اسى طرح وه مذهب كا مطالعه بھى موضوعى انداز ميں كرنے لگے۔ وه مذهب كو الهامى ظاهره (revealed phenomenon) تسليم كرنے كے بجائے، اس كو صرف ايك سماجى ظاهره (social phenomenon) سمجھنے لگے۔ وه اپنے مزاج كے مطابق، پيغمبراور پيغمبر كے كام كا اُسى طرح تجزيه كرنے لگے جس طرح وه مادى چيزوں كا تجزيه كررهے تھے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جديد مفكرين كا يه طريقه از روئے حقيقت درست نه تھا، ليكن اس كا سبب عناد يا سازش نه تھي، بلكه وه اُن كے اختيار كرده طريقِ مطالعه كا نتيجه تھا۔ اگرچه يه طريقه مذهب كے خلاف تھا، مگر وه كسى بد نيتى كا نتيجه نه تھا۔ وه بطور خود اِسى كو درست طريقِ مطالعه سمجھتے تھے۔ سنجيدگى كے ساتھ ان كا يه يقين تھا كه يه طريقه جس طرح مظاهر فطرت كے مطالعے ميں كامياب ثابت هوا هے، اِسى طرح وه وحى والهام كے مظاهر كے مطالعے ميں بھى كامياب هوسكتا هے۔
سائنس دانوں نے جو كام كيا،وه تائيد (support) كے اعتبار سے، اهلِ اسلام كے ليے انتهائى مفيد تھا، ليكن مسلم ذهن اپنى منفى سوچ كى بناپر اِس فرق كو سمجھ نه سكا۔ انھوں نے نئے دور ميں پيدا هونے والى مغربى تهذيب كو كلى طور پر اسلام دشمنى كا كيس قرار دے ديا، حالانكه اگر وه اِس معاملے ميں غير جانب دارانه انداز ميں اهلِ مغرب كے كيس كو سمجھتے تو وه جان ليتے كه اهلِ مغرب كا كام، خود پيغمبر اسلام كى پيشين گوئى كے مطابق، باعتبار نتيجه، تائيد دين كى حيثيت ركھتا تھا، وه اپنى حقيقت كے اعتبار سے تخريبِ دين كا معامله نه تھا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حرفِ آخر
موجوده زمانے ميں اهلِ مغرب كا كنٹرى بيوشن (contribution) بهت زياده هے، سيكولر اعتبار سے بھى اور اسلامى اعتبار سے بھي۔ يه ايك واقعه هے كه اهلِ مغرب كى كوششوں سے ايك نئى دنيا وجود ميں آئى هے، جس كو جديد تهذيب (modern civilization) كهاجاتا هے۔ جديد تهذيب اپنى اصل حقيقت كے اعتبار سے، منصوبه خداوندى كا ايك حصه هے۔
الله تعالى كو يه مطلوب تھا كه فطرت (nature)ميں چھپے هوئے قوانين دريافت كيے جائيں۔ فطرت كے تخليقى امكانات كو انفولڈ (unfold) كيا جائے۔ مادى دنيا ميں چھپے هوئے آلاء الله (wonders of God) كو علمِ انسانى كا حصه بنايا جائے، تاكه خدا كا دين روايتى دور سے نكل كر سائنسى دور تك پهنچے، تاكه خدا كى معرفت كے اعلى پهلو انسان پر كھليں، تاكه قرآن كے مخفى ’عجائب‘ معلوم واقعه بن جائيں۔ يه سب كچھ الله تعالى كو مطلوب تھا اور مغربى تهذيب كے ذريعے اِسى مطلوبِ الٰہی كى تكميل هوئى هے۔
اِس دنيا ميں مثبت پهلو (positive aspects)كے ساتھ هميشه كچھ منفى پهلو (negative aspects) شامل رهتے هيں۔ اِس كے باوجود اِس كى ضرورت هوتى هے كه تاريخ كى مثبت تعبير تلاش كى جائے۔ مثال كے طورپر اسلام كے عهدِ اول ميں اهلِ ايمان كى پهلى جنريشن كے درميان خونريز لڑائى هوئي، جو كه بلاشبه ايك منفى واقعه تھا، مگر اِس منفى واقعےكے باوجود اسلام كے مثبت انقلابى رول كا اعتراف كيا جائے گا۔ اِسى طرح، اهلِ مغرب كے ترقياتى كارناموں كے ساتھ اگر كچھ منفى پهلو شامل هيں تو اِس بنا پر هرگز ايسا كرنا درست نه هوگا كه مسلمان اهلِ مغرب كے بارے ميں منفى ذهن كا شكار هوجائيں اور وه اهلِ مغرب كے مثبت كارناموں كا اعتراف نه كريں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس قسم كا منفى رويه خود مسلمانوں كى اپنى ذات كے ليے شديد نقصان كى حيثيت ركھتا هے، كيوں كه اِس قسم كا منفى رويه حقيقتِ واقعه كا اعتراف نه كرنا هے اور حقيقتِ واقعه كا اعتراف نه كرنا بلاشبه دنيا كے پهلو سے بھى هلاكت خيز هے اور آخرت كے پهلو سے بھي۔
اسلام اور دورِ جديد
تاريخ كے بارے ميں الله كا ايك منصوبه قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كيا گياهے وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلهِ (8:39) ۔یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے كى تفصيل يه هے كه الله نے موجوده كرهٔ ارض كو بنايا اور يه مقدر كرديا كه اس كى نعمتيں (blessings) يكساں طور پر تمام انسانوں كو حاصل هوں (55:10)۔ تاريخ انسانى كى ابتدا ميں ايك عرصے تك يه صورتِ حال قائم رهي۔ اس كے بعد دھيرے دھيرے دنيا ميں شخصى حكمرانى كا نظام آگيا۔ يه سياسى كلچر طاقت كے زور پر قائم هوا اور پھر پورى انسانى تاريخ ميں پھيل گيا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه سياسى اجاره دارى (political monopoly) الله كے تخليقى منصوبه (creation plan) كے خلاف تھي۔ اِس نظام نے انسانى آزادى كو بهت زياده محدود كرديا، جب كه الله كو يه مطلوب هے كه انسان پورى طرح آزاد رهے۔ اِس نظام كے تحت يه هوا كه ايك طبقے كو هر اعتبار سے مراعاتى طبقه (priveleged class) كا درجه مل گيا، جب كه بيش تر لوگ اُس سے محروم رهے۔ اِس نظام نے اپنے تحفظ كے ليے مختلف قسم كى پابندياں لوگوں پر عائد كرديں۔ انھيں ميں سے ايك چيز وه بھى تھى جس كو مذهبى جبر (religious persecution) كها جاتا هے۔
اِس سياسى نظام كا مطلب يه تھا كه الله كے پيدا كرده تمام مواقع پر ايك محدود طبقے كى اجاره دارى قائم هو اور بيش تر لوگ اِس سے محروم هوجائيں كه وه آزادانه طور پر وه كام كرسكيں جو نظامِ تخليق كے مطابق، اُن سے مطلوب هے۔ساتويں صدى عيسوى كے ربع اول ميں پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كا ظهور هوا۔ اُس وقت تك سياسى اجاره دارى كا يه نظام لوگوں كے اوپر اپنى گرفت(grip) پورى طرح مضبوط كرچكا تھا۔ يه صورتِ حال الله كے تخليقى منصوبه كے سراسر خلاف تھي۔ اِس نظام كے تحت يه ممكن نهيں رها تھا كه انسانى شخصيت كے فطرى امكانات (potentials) انفولڈ (unfold) هوں، زمين كے فطرى امكانات دريافت هوں اور وه چيز وجود ميں آئے جس كو تهذيب (civilization) كهاجاتا هے۔
اُس وقت رسول اور اصحابِ رسول كو يه حكم دياگيا كه وه اِس غير فطرى نظام كا خاتمه كرديں، تاكه انسان كے اوپر الله كى تمام امكانى سعادتوں كے دروازے كھل سكيں۔ اُس وقت عرب كے پڑوس ميں دوبڑى سلطنتيں قائم تھيں — ايك، ساسانى ايمپائر (Sassanid Empire)اور دوسري، بازنتينى ايمپائر (Byzantine Empire)۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے پهلے اِن سلطنتوں كے سربراهوں كے نام خطوط روانه كيے۔ اس كا مطلب يه تھا كه پهلے مرحلے ميں يه كوشش كى گئى كه يه حكمراں پُرامن فهمائش كے ذريعے اپنى اصلاح كرليں۔ جب اِن حكمرانوں كے اوپرپُر امن فهمائش كارگر نهيں هوئى تو اس كے بعد يه حكم دياگيا كه اِن حكمرانوں كے خلاف فوجى كارروائى كى جائے۔ يه فوجى كارروائى گويا انسانوں كے ذريعے ايك خدائى آپريشن (divine operation) تھا جو الله كى خصوصى مدد كے ذريعے كامل طور پر انجام پايا۔يه خدائى آپريشن كسى وقتى مقصد كے ليے نه تھا۔ اُس كانشانه يه تھا كه ايك تاريخى نظام كاخاتمه كركے دنيا ميں دوسرے تاريخى نظام كو وجود ميں لايا جائے۔ اِس قسم كا منصوبه صرف ايك لمبے عمل (long-term process) كے ذريعے بروئے كار لايا جاسكتا تھا، چنانچه ايسا هى هوا۔
سب سے پهلے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے زمانے ميں يه هوا كه ملكِ عرب ميں قبائلى حكمرانى كو ختم كيا گيا۔ اِس كے بعد خلافتِ راشده كے زمانے ميں ايشيا اور فريقه كے درميان قائم شده دو بڑى سلطنتوں —ساسانى ايمپائر اور بازنتينى ايمپائر— كا خاتمه كيا گيا۔ يه دونوں واقعات غير معمولى قربانيوں كے ذريعے پيش آئے۔يه تاريخ بشرى كا ايك عظيم سياسى انقلاب تھا جس كا ذكر بائبل ميں اِن الفاظ ميں آيا هے— اُس نے نگاه كى اور قوميں پراگنده هوگئيں۔ ازلى پهاڑ پاره پاره هوگئے۔ قديم ٹيلے جھك گئے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk 3:6)
other sourceWords of another person or source
تاهم الله تعالى كو تاريخ ميں جو نيا دور لانا تھا، اس كے ليے اتنا هى كافى نه تھا۔ اِس مقصد كے ليے ضرورى تھا كه سياسى اجاره دارى كے نظام كو عالمى سطح پر ختم كرديا جائے۔ منصوبهٔ الٰہی كا يه دوسرا مرحله مسلم مجاهدين كے ذريعے انجام پايا۔ جيساكه معلوم هے، اس كے بعد بنو اميه كے دور اور بنو عباس كے دور اور دوسرى مسلم سلطنتوں كے دور ميں يه هوا كه دنيا كے تقريباً پورے آباد حصے ميں مسلم مجاهدين نے قديم طرز كے سياسى نظام كو توڑ ڈالا۔اِس عمل كى تكميل انيسويں صدى عيسوى ميں يورپ ميں هوئي۔ اِس زمانے ميں بڑے بڑے سياسى مفكرين (political thinker) پيدا هوئے۔ مثلاً روسو، وغيره۔ اِن لوگوں نے قديم زمانے كے جابر حكمرانوں (despotic kings)كے خلاف طاقت ور كتابيں لكھيں۔ يه كتابيں چھپ كر پورے يورپ ميں پھيل گئيں۔ اِس كے بعد عملى انقلاب كے ليے بڑى بڑى سياسى تحريكيں اٹھيں۔ اِس كى تكميل 1879 ميں هوئي، جب كه وه تاريخى واقعه پيش آيا جس كو فر نچ انقلاب (French Revolution)كهاجاتا هے۔ اِس كے بعد قديم طرز كا بادشاهى نظام عملاً ختم هوگيا اور دنيا ميں بڑے پيمانے پر جمهورى نظام قائم هوگيا۔
سائنس كا دور
قديم بادشاهى نظام ميں آزادانه سوچ كا ماحول موجود نه تھا۔ بادشاه هر نئى فكر كو كچل ديتے تھے۔ مثال كے طورپر رومن ايمپائر تقريباً دو هزار سال تك قائم رها۔ مگر اِس طويل مدت ميں كوئى سائنسى دريافت نه هوسكي۔ موجوده زمانے ميں جمهوريت كا دور آيا تو انسان كو مكمل معنوں ميں فكرى آزادى حاصل هوگئي۔ اب فطرت (nature) ميں آزادانه تحقيق كا عمل شروع هوگيا۔ اِس كے نتيجے ميں فطرت ميں چھپے هوئے قوانين دريافت هونے لگے، يهاں تك كه وه دور پيدا هوگيا جس كو جديد سائنسى دور كها جاتا هے۔
جديد سائنس كے دو پهلو هيں— نظرى سائنس (theoratical science)اور انطباقى سائنس (applied science)۔ نظرى سائنس ميں تحقيقات كے ذريعے عالم فطرت كے اُن مخفى قوانين كا ايك حصه دريافت هوا جس كو قرآن ميں آيات الله (sign of God) كها گيا هے۔ اِن قوانين كى دريافت كا يه عظيم فائده هوا كه دينِ خداوندى كے معتقدات مسلّمه انسانى علم كى بنياد پر ثابت شده بن گئے۔ (تفصيل كے ليے ملاحظه هو ’’مذهب اور جديد چيلنج)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سيكولر زم كا نظريه
قديم سياسى نظام ميں بادشاه كو مطلق اختيار حاصل هوتا تھا۔ جديد جمهوريت ميں اِس كى گنجائش باقى نه رهي۔ اس كے بعد حالات كے تحت ايك نيا نظريه پيدا هوا جس كو سيكولرزم كهاجاتا هے۔ سيكولرزم كا مطلب لادينيت نهيں هے، بلكه اس كا مطلب صرف يه هے كه ملكى انتظام كے سوا دوسرے امور ميں اسٹيٹ كا رويه عدم مداخلت (non-interference)كا هوگا۔
يه ايك دوررس انقلابى واقعه تھا جو تاريخ ميں پهلى بار پيش آيا۔ اِس كا نتيجه يه هوا كه زندگى كے تمام غير سياسى شعبے مثلاً مذهب، تعليم، اقتصاديات، وغيره حكومت كى گرفت سے آزاد هوگئے۔ اب لوگوں كو يه موقع مل گيا كه وه اِن غير سياسى شعبوں ميں آزادانه طورپر اپنے منصوبے كى تكميل كرسكيں۔اسلام كے نقطهٔ نظر سے بلاشبه يه ايك عظيم واقعه تھا۔ يه گويا سنتِ حديبيه كا عالمى احيا تھا۔
ساتويں صدى عيسوى ميں پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كو يه فائده اِس طرح حاصل هوا تھا كه آپ كو فريقِ ثانى كى تمام شرطوں كو يك طرفه طورپر ماننا پڑا تھا۔ موجوده زمانے ميں حديبيه جيسے فائدے مزيد اضافے كے ساتھ غير مشروط طورپر حاصل هوگئےهيں۔ اب اگر كوئى شرط هے تو وه صرف يه كه اهلِ ايمان كسى كے خلاف تشدد (violence)نه كريں۔ مگر اپنى حقيقت كے اعتبار سے يه كوئى شرط نهيں، كيوں كه اهلِ ايمان اپنے عقيدے كے تحت پهلے هى سے تشدد كو قابلِ ترك قرار دیے هوئے هيں۔
جديد ٹكنالوجي
انطباقى سائنس كے ذريعے موجوده زمانے ميں انسان كو ايك عظيم نعمت حاصل هوئى هے، يعنى جديد ٹكنالوجى ۔ جديد ٹكنالوجى كے بے شمار فائدے هيں۔ يه فائدے عملاً تمام انسانوں كے ليے عام هيں، ليكن اهلِ ايمان كے ليے وه هزاروں گنا زياده بڑے فائدے كى حيثيت ركھتے هيں۔ كيوں كه اهلِ ايمان اِس ٹكنالوجى كى مدد سے اپنى دنيا كى بھى پر امن تعمير كرسكتے هيں، اسى كے ساتھ وه تعليم دين اور دعوت الى الله كے كام ميں اِس ٹكنالوجى كو استعمال كرسكتے هيں اور اِس طرح وه اُس ربانى كام كو انجام دے سكتے هيں جو اُن كے ليے آخرت كى ابدى سعادتوں كا دروازه كھولنے والا هے۔
اقوامِ متحده
قديم زمانے ميں انسانى آبادى مختلف الگ الگ حصوں ميں بٹى هوئى تھي۔ اُس وقت وه وسائل موجود نه تھے جس كے ذريعے يه ممكن هو كه دنيا كے تمام انسانوں كى عالمى تنظيم قائم كى جاسكے۔ موجوده زمانے ميں نئے حالات نے سارى دنيا كو ايك گلوبل وليج (global village) كى حيثيت دے دى هے۔ اب زمين كے ايك كونے ميں بسنے والا انسان زمين كے دوسرے كونے ميں بسنے والے انسان سے كامل طور پر مربوط هے۔ حالات كے اِس نئے تقاضے كے تحت 1920 ميں ايك عالمى تنظيم قائم هوئى جس كا نام ليگ آف نيشنس (League of Nations) تھا۔ اِس كے بعد 1945 ميں زياده بڑے پيمانے پر ايك اور عالمى تنظيم قائم هوئى جس كا نام اقوامِ متحده هے۔ اقوامِ متحده اپنے مختلف اداروں كے ساتھ اب ايك مستحكم عالمى تنظيم بن چكى هے اور اس ميں دنيا كے تمام ممالك شامل هيں جن كى تعداد تقريباً دوسو هے۔
اقوامِ متحده موجوده زمانے ميں ايك بين اقوامى نعمت (international blessing) كى حيثيت ركھتى هيں۔ اس كے بهت سے اجتماعى فائدے هيں۔ مثلاً موجوده زمانے ميں اقوامِ متحده كے عالمى پليٹ فارم كى بنا پر تاريخ ميں پهلى بار يه ممكن هوا هے كه دنيا كے تمام ملكوں نے باقاعده طورپر اور سركارى طور پر يه تسليم كرليا كه ان كے شهريوں كو مكمل معنوں ميں مذهبى آزادى حاصل هوگي۔ آزادى كے اِس حق كے ذريعے موجوده زمانے ميں كام كے ايسے مواقع (opportunities)كے دروازے كھل گئے هيں جو اِس سے پهلے پورى تاريخ ميں انسان كے اوپر يكسر بند پڑے هوئے تھے۔
اقوامِ متحده كے ذريعے حاصل هونے والے انسانى حقوق بلاشبه ايك عظيم نعمت كى حيثيت ركھتے هيں۔ اِس نعمت سے بے خبر صرف وهى لوگ هوسكتے هيں جو اپنى قومى خواهشوں ميں جيتے هوں اور اُس كو خود ساخته طور پر معيار كا درجه دیے هوئے هوں۔
خلاصه كلام
موجوده زمانے ميں دنيا كے نظام ميں جو دور رس تبديلياں پيدا هوئى هيں، وه رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے لائے جانے والے انقلاب كا منتها (culmination) هيں۔ ساتويں صدى عيسوى ميں رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے عرب اور اطراف عرب ميں جو انقلاب آيا، وه اپنى حقيقت كے اعتبار سے ايك تاريخى انفجار (historical explosion) كے هم معنى تھا۔
يه الله كا ايك منصوبه تھا جس كے ذريعے تاريخ ميں ايك نيا عمل (process) شروع هوا۔ يه عمل مختلف مراحل سے گزرتے هوئے بيسويں صدى عيسوى ميں اپنى آخرى تكميل تك پهنچ گيا۔ اِس انقلاب كا مقصد دنيا ميں كوئى معيارى نظام (ideal system) قائم كرنا نه تھا، بلكه يه تھا كه الله كے تخليقى منصوبے كے مطابق، انسان كى آزادى كو پورى طرح برقرار ركھتے هوئے دنيا ميں ايسا ماحول قائم كيا جائے جس ميں الله كى پيدا كى هوئى هر چيز هر انسان كے ليے هوجائے۔
اِسى كے ساتھ دينى نقطهٔ نظر سے يه مطلوب تھا كه اهلِ ايمان كے ليے ايك طرف يه ممكن هوجائے كه وه كھلے طورپر اعلى معرفت كے درجات طے كرسكيں اور اِسى كے ساتھ اُن كو اِس بات كى كامل آزادى حاصل هو كه وه دعوت الى الله كے پر امن كام كو آخرى حد تك انجام دے سكيں۔
يه تمام مطلوب فائدے موجوده زمانے ميں كامل طورپر حاصل هوگئے هيں۔ اب انسان كے اوپر حصولِ معرفت كے بھى تمام دروازے كھل چكےهيں اوردعوتى عمل كے تمام مواقع بھي۔ يه كام اتنے بڑے پيمانے پر هوا هے كه يه كهنا كسى مبالغے كے بغير درست هے كه — دورِ جديد اسلام كا دور هے۔ اكيسويں صدى ميں قرآن كى وه پيشين گوئى آخرى حد تك پورى هو چكى هے جو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كى گئى تھي هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا(48:28)۔ يعنى، الله هى هے جس نے اپنے رسول كو هدايت اور دينِ حق كے ساتھ بھيجا، تاكه وه اُس كو تمام دينوں پر غالب كردے، اور الله كافى گواه هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں وقتى اعتبار سے كسى سياسى واقعے كا ذكر نهيں هے، اِس ميں الله كے ايك تاريخى منصوبے كا ذكر هے جس كو ساتويں صدى عيسوى ميں شروع هونا تھا اور پھر لمبے عمل كے بعد اپنى تكميل تك پهنچنا تھا۔ بيسويں صدى عيسوى ميں يه خدائى منصوبه اپنى آخرى تكميل تك پهنچ گيا۔ اب اهلِ ايمان كا كام صرف يه هے كه وه اِن عالمى مواقع كو جانيں اور ان كو بھر پور طورپر استعمال (avail) كريں۔
مغربى تهذيب، مغربى كلچر
مغربى تهذيب اور مغربى كلچر دونوں ايك دوسرے سے اُسى طرح الگ هيں جس طرح اسلام اورمسلمانوں كى قومى تاريخ دونوں ايك دوسرے سے الگ هيں۔ ايك شخص اگر ايسا كرے كه وه صرف مسلم تاريخ كو پڑھے اور اُسى سے اسلام كے متعلق رائے قام كرے تو وه كهه سكتاهے كه مسلمانوں كا مذهب نام هے— باهمى لڑائي، خاندانى حكومت، ملك گيري، فرقه بندي، عسكريت اور خود كش بم بارى جيسى چيزوں كا۔ مگر يه تاثر سرتاسر غلط هوگا، كيوں كه يه چيزيں بلاشبه مسلم تاريخ كا حصه هيں، ليكن وه هرگز مذهب اسلام كا حصه نهيں۔ اسلام كو سمجھنے كے ليے ضرورى هےكه اس كو مسلمانوں كى قومى تاريخ سے الگ كركے ديكھاجائے، ورنه آدمى اسلام كو سمجھنے سے قاصر رهے گا۔
يهى معامله مغربى تهذيب اور مغربى كلچر كا هے۔ دونوں ايك دوسرے سے الگ هيں۔ مغربى تهذيب اصلاً سائنسى تهذيب، بالفاظِ ديگر، قوانينِ فطرت كى دريافت كا نام هے۔ اِس دريافت كے نتيجے ميں جو نظام وجود ميں آيا، اُسى كا نام مغربى تهذيب هے۔ دوسرى چيز مغربى اقوام هيں۔ مغربى اقوام كو اُسى طرح آزادى ملى هوئى هے جس طرح دوسرى قوموں كو آزادى ملى هوئى هے۔ وه بھى اُسى طرح خواهشات كا شكار هوتى هيں جس طرح دوسرى قوميں خواهشات كا شكار هوتى هيں۔ ان كے درميان بھى اُسى طرح ايك قومى سياست وجود ميں آتى هے جس طرح دوسرے گروهوں كے درميان ان كى قومى سياست وجود ميں آتى هے۔ اِن اسباب كى بنا پر مغربى قوموں كے درميان بھى وه تمام خرابياں پيداهوئيں جو دوسرى قوموں ميں پيدا هوئيں، حتى كه خودمسلم قوموں كے درميان بھي۔ عدل كا تقاضا هے كه هم دونوں پهلوؤں كو ايك دوسرے سے الگ كركے ديكھيں۔ اِس قسم كى عادلانه تفكير كا يه نتيجه هوگا كه هم اِس غلطى سے بچ جائيں گےكه هم اهلِ مغرب كى قومى خرابيوں كو سائنسى تهذيب كا حصه سمجھ ليں اور مغربى اقوام اور سائنسى تهذيب دونوں كے بارے ميں يكساں طورپر منفى ذهن كا شكار هوجائيں۔ يه عين وهى منصفانه طريقِ مطالعه هے جو اسلام اور مسلمانوں كے ذيل ميں كيا جاتا هے۔ مسلمانوں كى قومى خرابيوں كو الگ كركے اسلام كو اس كى نظرياتى حيثيت ميں ديكھا جاتا هے۔ اس طريقِ مطالعه كا نتيجه يه هوتا هے كه مطالعه كرنے والے كے سامنے اسلام كى بھى درست تصوير آتى هے اورمسلم قوم كى بھى درست تصوير۔
مغربى تهذيب بمعنى سائنسى تهذيب، اسلام كى دشمن نهيں، بلكه وه اسلام كے ليے ايك عظيم مددگار كى حيثيت ركھتى هے۔ مغربى تهذيب بمعنى سائنسى تهذيب كے ذريعے موجوده زمانے ميں بهت سى نئى حقيقتيں سامنے آئى هيں۔ اِن حقيقتوں كے ذريعے سائنس نے فيصلے كى ايك نئى بنياد فراهم كى هے جو عين همارےحق ميں هے۔ مثال كے طورپر سائنسى طريقِ مطالعه كا ايك نتيجه يه تھا كه كوئى چيز مقدس (holy) نهيں، هر چيز علمى تنقيح (scientific scrutiny) كے تابع هے۔ اِس اصول كا نتيجه يه هوا كه مذهبى تاريخ ميں ايك نيا شعبه علم وجود ميں آيا جس كو تنقيد عاليه (higher criticism) كهاجاتا هے۔ اِس شعبه علم كے تحت قديم مذهبى كتابوں، خصوصاً بائبل كا، تنقيدى مطالعه كيا جانے لگا، جب كه يه كتابيں پهلے تنقيد سے بالا تر سمجھى جاتى تھيں۔ اِس مطالعے كا نتيجه يه هوا كه خالص علمى اعتبار سے، يه ثابت هوگيا كه يه كتابيں تاريخى اعتباريت (historical credibility) سے خالى هيں۔ اِس سلسلے ميں مغربى زبانوں ميں بهت سى كتابيں لكھى گئى هيں، اُن ميں سے ايك كتاب يه هے
Albert Schweitzer, The Quest of the Historical Jesus, Published 1910, London
other sourceWords of another person or source
اِسى طرح، سائنسى تهذيب نے ايك نيا فكر پيداكيا جس كو مبنى بر قطعيت فكر (exact thinking) كهاجاتاهے۔ اِس فكر كا نتيجه يه هوا كه سبجيكٹيو طرزِ فكر (subjective thinking) غيرمعقول قرار پاگيا اور آبجيكٹيو طرزِ فكر (objective thinking) كو درست سمجھا جانے لگا۔ اِس كے نتيجے ميں يه هوا كه وه كتابيں غير معتبر قرار پاگئيں جو صليبى جنگوں كے بعد اسلام اور پيغمبر اسلام كو بدنام كرنے كے ليے غيرعلمى انداز ميں لكھى گئى تھيں۔ اِس معاملے كو سمجھنے كے ليے حسب ذيل كتاب كا مطالعه كيا جاسكتا هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
On Heroes, Hero-Worship and the Heroic in History (1841) by Thomas Carlyle
other sourceWords of another person or source
اِسى طرح، سائنسى تهذيب كے تحت فطرت كا جو مطالعه شروع كيا گيا، اس كے نتيجے ميں فطرت كے بهت سے راز دريافت هوئے۔ رموزِ فطرت كى يه دريافت اپنى حقيقت كے اعتبار سے، آيات الله (signs of God) كے انكشاف كے هم معنى تھي۔ اِن دريافتوں كے نتيجے ميں يه ممكن هوگياكه اسلام كى صداقتوں كو وقت كے مسلّمه علمى معيار كى سطح پر ثابت شده بنايا جاسكے۔ اِس سلسلے ميں ملاحظه هو راقم الحروف كى كتاب— مذهب اور جديد چيلنج جو عربى ميں ’الإِسلامُ يَتَحَدّى‘ كے نام سے چھپى هے۔ اِس كتاب كا انگريزى ايڈيشن گاڈ ارائزيز (God Arises) كے نام سے چھپ چكا هے۔
اِسى طرح مغربى تهذيب كے تحت دنيا ميں اور كئى چيزيں وجود ميں آئيں جو علمى طورپر مفيد هونے كے علاوه، خود اسلام كے ليے بے حد مفيد تھيں۔ مثلاً فكرى آزادي، مذهبى تنگ نظرى كا خاتمه، جمهوريت كا عالمى فروغ، عالمى سياحت (world tourism)، جس كا مطلب يه تھا كه مدعو خود داعى كے پاس بڑى تعداد ميں پهنچنے لگا، وغيره۔ اِسى طرح مغربى تهذيب كے تحت ايك دور وجود ميں آيا جس كو دورِ مواصلات كها جاتاهے۔ اِس كے تحت پرنٹ ميڈيا اور اليكٹرانك ميڈيا جيسى چيزيں وجود ميں آئيں جو اسلام كى دعوت واشاعت كے اعتبار سے، بلاشبه ايك عظيم نعمت كى حيثيت ركھتى هيں۔
مغربى تهذيب كے تحت موجوده زمانے ميں اِس طرح كى بهت سى مفيد چيزيں وجود ميں آئى هيں۔ چونکہ مغربى قوميں اور دوسرى قوميں بھى اِن چيزوں كا اپنے اپنے مفاد كے ليے استعمال كرتى هيں، اس ليے مسلمان اس كى اهميت كو سمجھ نهيں پاتے، مگر اِس دنيا ميں خود الله تعالى نے هر عورت اور مرد كو آزادى عطا كى هے۔ اِس دنيا كے جو فطرى وسائل (means) هيں، اُن كو هر ايك اپنے حق ميں استعمال كرتا هے۔ اِسى طرح تهذيبى وسائل كو بھى هر گروه اپنے اپنے حق ميں استعمال كرے گا۔ مسلمانوں كو چاہیے كه وه اِس معاملے ميں خدائى منصوبے كو سمجھيں اور حقيقت پسندانه روش اختيار كريں۔ جس طرح يه ممكن نهيں هے كه سورج صرف مسلم بستيوں ميں چمكے اور غير مسلم بستيوں ميں اندھيرا چھايا رهے، اِسى طرح يه بھى ممكن نهيں هےكه فطرت ميں چھپى هوئى نعمتوں كو مسلمان تو اپنے حق ميں استعمال كريں اور غير مسلم ان كو اپنے حق ميں استعمال كرنے سے محروم رهيں۔
مغربى تهذيب كا مسئله
امت مسلمه كى تاريخ ميں بهت سے ايسے مسئلے پيش آئے جن كو فتنه كهاجاتا هے۔ مثلاً باطنيت كا فتنه، وحدتِ وجود كا فتنه، انكارِ حديث كا فتنه، قاديانيت كا فتنه ، وغيره۔ تاريخ بتاتى هے كه جب بھى ماضى ميں اِس قسم كا كوئى فتنه پيدا هوا تو بهت سے علما اٹھے جنھوں نے قرآن اور سنت كى روشنى ميں اس كا بھرپور رد كيا۔ اس كے بعد يه هوا كه بهت سے مسلمان جو ان فتنوں سے متاثر هوئے تھے، انھوں نے ان سے توبه كى اور وه امت مسلمه كى مين اسٹريم (mainstream) ميں شامل هوگئے۔تاريخ مزيد بتاتى هے كه اِن موقعوں پر ايسا نهيں هوا كه ايك فتنه دوباره ايك نئے فتنے كى شكل اختيار كرلے، يعنى جو لوگ ان فتنوں سے ذهنى طورپر متاثر هوئے تھے، انھو ں نے اپنى اصلاح كر لى اور اربابِ فتنه سے الگ هوكر وه اسلامى زندگى گزارنے لگے۔
موجوده زمانے ميں بھى اِسى قسم كا ايك ’’فتنه‘‘ پيش آيا۔ يه مغربى تهذيب كا فتنه تھا۔ يه فتنه ابتدائى طورپر يورپ كى نشاةِ ثانيه (Renaissance)كے بعد شروع هوا اور بيسويں صدى عيسوى ميں اپنے عروج پر پهنچ گيا۔ اُس وقت بهت سے عرب اور غير عرب مصلحين پيدا هوئے جنھوں نے مغربى تهذيب كے خلاف زبان وقلم كے ذريعے جهاد شروع كيا۔ يه جهاد بظاهر كامياب رها۔ بهت سے مسلم نوجوان جو مغربى تهذيب سے متاثر هوئے تھے، وه اس سے تائب هوگئے۔
اِس كاميابى كا عمومى طور پر اعتراف كياگيا۔ حتى كه ان مصلحين ميں سے كئى افراد ايسے تھے جن كو بڑے بڑے القاب دیے گئے۔ مثلاً مفكرِ اسلام، معمارِ ملت، عهد ساز شخصيت، مجدّدِ دوراں، وغيره۔مگر واقعات بتاتے هيں كه قديم فتنوں كے مقابلےميں جديد فتنے كا معامله اپنے حقيقى نتيجه (result) كے لحاظ سے بالكل مختلف ثابت هوا، يعنى بظاهر نظرى سطح پر خاتمه كے نتيجے كے اعتبار سے وه دوباره مزيد اِضافے كے ساتھ زنده هوگيا۔ اِن مصلحين نے مسلمانوں كى جديد نسلوں كو يه باور كرايا تھا كه — مغربى تهذيب زهريلے پھل كا ايك درخت هے۔جديد تهذيب ايك مسلم دشمن تهذيب هے۔ مغربى تهذيب كے تحت پيدا شده تعليمى ادارے قتل گاه كى حيثيت ركھتے هيں۔ مسلمانوں كا تعلق مغربى تهذيب سے بائيكاٹ كا هونا چاہیے، نه كه اس سے تعاون كا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ابتدائى طورپر مسلم نوجوانوں پر بظاهر ان باتوں كا اثر هوا۔ مسلم نوجوان مغربى تهذيب كے علم برداروں سے لڑنے كے لیے كھڑے هوگئے۔ انھوں نے مغربى تهذيب كے تحت قائم شده تعليمى اداروں كو چھوڑ ديا، انھوں نے مغربى اداروں ميں جاب لينے سے انكار كرديا، وغيره۔ مگر بعد كو آسمان نے يه منظر ديكھا كه انھيں مسلم نوجوانوں نے بڑے پيمانے پر يوٹرن (U turn) ليا۔ انھوں نے اور ان كى اولاد نے مغربى تهذيب كے تحت قائم شده اداروں ميں ڈگرياں حاصل كيں۔ وه مغربى تهذيب كے اداروں كے كاركن بن گئے۔ وه بهت بڑى تعداد ميں مسلم ملكوں سے هجرت كركے مغربى ملكوں ميں پهنچ گئے اور وهاں سٹل (settle) هونے پر فخر كرنے لگے۔
قديم فتنوں اور جديد تهذيب كے فتنه ميں نتيجه (result) كے اعتبار سے يه فرق كيوں هے۔ اس كا سبب يه هے كه قديم طرز كے فتنے صرف اعتقادى فتنے تھے، مگر مغربى تهذيب كا معامله يه تھا كه دنيا كى مادى ترقى سے وه براهِ راست جڑا هوا تھا۔ مغربى تهذيب كے علم برداروں نے جو نئى دنيا بنائي، وه مادى اعتبار سے ايك نهايت شاندار دنيا تھي۔ اس كے مكانات، اس كے شهر، اس كے دفاتر، اس كى سوارياں، اس كے سامانِ حيات، هر چيز نهايت اعلى معيار كى تھي۔ اِسى حقيقت كو موجوده زمانے كے ايك مسلم شاعر نے طنزيه انداز ميں اس طرح بيان كيا تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
هم مشرق كے مسكينوں كا دل مغرب ميں جااٹكا هے واں كنسٹر سب بلورى هيں، ياں ايك پرانا مٹكا هے
انسان اپنى نفسيات كے اعتبار سے هميشه ترقى كا طالب هوتا هے۔ وه اپنے لیے اور اپنى اولاد كے لیے زياده ترقى يافته مستقبل ديكھنا چاهتا هے۔ مغربى تهذيب ميں يه پهلو نهايت اعلى درجے ميں موجود تھا۔ يهى وجه هے كه مسلم مفكرين كى خلافِ مغرب مهم ابتداء ً نظر ى طورپر كامياب هو كر اپنے نتيجه كے اعتبار سے مكمل طورپر ناكام هوگئي۔ مسلم نوجوان ابتدائى طورپر رومانوى جذبات كے تحت جديد تهذيب كے خلاف هوگئے، مگر بعد كو جب انھوں نے ديكھا كه سارى ترقياں مغربى تهذيب اور مغربى علوم سے وابسته هيں، تو وه سب كچھ بھول كر اس كے اوپر ٹوٹ پڑے۔ جن تعليمى اداروں كو قتل گاه سمجھ كر انھوں نے وقتى طورپر چھوڑ ديا تھا، وه دوباره اُسى ميں داخل هوئے اور انھوں نے وهاں سے ڈگرياں حاصل كيں۔جن مغربى قوموں كو انھوں نے مسلم دشمن قرار ديا ، انھيں كے اداروں ميں جاب لينے كو وه اپنے لیے قابلِ فخر سمجھنے لگے۔ اُن كے بزرگوں نے جن مغربى ملكوں سے هجرت كا فتوى ديا تھا، انھيں ملكوں ميں واپس جاكر وه پُرفخر طورپر آباد هونے لگے، وغيره۔
اصل يه هے كه مغربى تهذيب كے دو حصے تھے— ايك، اس كى سائنس اور دوسرے، اس كا كلچر۔ مغربى سائنس حقائقِ فطرت كے انكشاف پر مبنى تھي۔ اُس كے اندر ذاتى طورپر غلطى كا كوئى پهلو شامل نه تھا۔ حقيقت يه هے كه مغربى سائنس، قرآن كى اِس آيت كى انفولڈنگ تھي وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ ۭ(45:13)۔یعنی، اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے۔ وه قرآن كے الفاظ ميں وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوْهُ (14:34)—اور اس نے تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا —كا ٹكنالوجكل اظهار تھا۔ وه آفاق وانفس كى آيات كى وه تبيين تھى جس كى پيشگى اطلاع قرآن (41:53) ميں دے دى گئى تھي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مغربى تهذيب كا دوسرا پهلو اس كا كلچر تھا۔ يه كلچر براهِ راست طورپر سائنس كى پيداوار نه تھا، بلكه وه قومى اور سماجى عوامل كى پيداوار تھا۔ قومى اور سماجى دائرے ميں خالق نے هر انسان كو آزادى دى هے۔ اِس دائرے ميں انسان كو اختيار حاصل هے كه وه اپنى ملى هوئى آزادى كا صحيح استعمال كرے يا وه اس كا غلط استعمال كرے۔ مغربى كلچر كے جن پهلوؤں كو لے كر همارے علما نے اُس كے خلاف هنگامه آرائى كي، وه دراصل آزادى كے غلط استعمال (misuse of freedom) كا نتيجه تھا، نه كه حقیقتاً مغربى سائنس كا نتيجه۔ اِس معاملے ميں همارے مفكرين كو اصولِ تمييز (principle of differentiation) كو منطبق كرنا تھا، مگر وه ايسا نه كرسكے۔ نتيجه يه هوا كه امت كے افراد ايك فتنے كے استيصال كے نام پر ايك شديد تر فتنے كا شكار هوگئے، يعنى دهراپن۔ اس كا مزيد نقصان يه هوا كه وه مغربى تهذيب كے پيدا كرده مثبت مواقع كے استعمال سے محروم هو كر ره گئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ماڈرن ایج اور اسلام
ماڈرن ایج(modern age) اور اسلام کے موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ ماڈرن ایج نے نظریہ اور عمل کے سارے ڈھانچے کوبدل دیا ہے، اِس لیے اب ضرورت ہے کہ اسلام پرنظر ثانی کی جائے۔ اِس نقطۂ نظر کا ایک نمونہ اے اے اے فیضی (وفات 1981) کی کتاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اِس کتاب کا ٹائٹل یہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
A Modern Approach to Islam, 1982, pp. 240
دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ماڈرن ایج کوئی چیز نہیں ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام کو موجودہ زمانے میں سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہے، اِس بنا پر سارے مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اسلام کو پھر سے عالمی سطح پر سیاسی غلبے کے مقام تک پہنچایا جائے۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی اور سید قطب وغیرہ کا نقطۂ نظر یہی تھا۔ اِس نقطۂ نظر کے حامل افرادکا ماننا یہ ہے کہ مسلّح جہاد کے ذریعے اسلام کو دوبارہ غلبہ عطا کیا جائے، اور ساری دنیا میں خلافت کا نظام قائم کیا جائے۔میرے نزدیک اِس قسم کی تمام باتیں اصل مسئلے کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) ہیں۔ اِس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ماڈرن ایج کو سمجھا جائے اور تجزیاتی مطالعے کے ذریعے اُس کے مقابلے میں اسلام کا موقف متعین کیا جائے۔ اِس کام میں ہمارے لیے رہنما اصول، حدیث کے مطابق، یہ ہونا چاہیے کہ خُذْ ما صَفا وَدَعْ ما كَدِرۡ۔ یعنی، جو چیز حق کے مطابق ہو، اُس کو لے لو اور جو چیز حق کے مطابق نہ ہو اُس کو چھوڑ دو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے اپنے مطالعے سے یہ سمجھا ہے کہ ماڈرن ایج بنیادی طورپر تین چیز وں کا نام ہے— (1)جدید سائنسی دریافتیں(2) جدید کلچر (3) جدید فلسفیانہ افکار۔ اب میں اِن تینوں کے بارے میں مختصر طورپر اپنا حاصلِ مطالعہ بیان کروں گا۔
1 ۔ جدید سائنسی دریافتیں کیا ہیں۔ وہ اصلاً مغربی تہذیب یا سیکولر تہذیب کا حصہ نہیں، وہ فطرت میں چھپے ہوئے قوانین کی دریافت ہیں۔ یہ قوانین خالقِ کائنات کے مقرر کردہ ہیں، یعنی اُسی خدا کے مقرر کردہ جس نے قرآن کی صورت میں اپنا کلام بھیجا ہے۔ اِن سائنسی دریافتوں کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں، بلکہ وہ قرآن کی اِس آیت کا مصداق ہیں سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قدیم زمانے میں انسانی افکار پر توہمات کا غلبہ تھا۔ توہماتی عقائد یا قصے کہانیوں کے تحت ہر معاملے میں لوگوں نے بے بنیاد رائیں بنالی تھیں۔ سائنس نے جدید طریقے پر تحقیق کرکے چیزوں کی اصل حقیقت معلوم کی۔ اِن دریافت کردہ حقائق کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔
مثال کے طورپر قدیم زمانے میں پانی کو صرف سیّال برف سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے دریافت کیا کہ پانی دو گیسوں کے مجموعے سے بنتا ہے۔ پانی کا فارمولا یہ ہے (H2O)۔ اِس دریافت کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔ وہ اتنا ہی زیادہ اسلامی ہے جتنا کہ وہ سائنسی ہے۔ اِسی طرح شمسی نظام کے بارے میں پہلے زمین مرکزی (geo-centric)نظریہ رائج تھا۔ کوپرنِکس کے زمانے میں جدید آلات کی مدد سے جو مطالعہ کیا گیا، اُس سے یہ ثابت ہوا کہ شمسی نظام زمین مرکزی نہیں ہے بلکہ وہ آفتاب مرکزی (heleo-centric) ہے۔ یعنی آفتاب مرکز میں ہے اور زمین اور دوسرے سیّارے اُس کے گرد گھوم رہے ہیں ۔ اس نظریے کا بھی اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔ یہ نظریہ بھی اتنا ہی اسلامی ہے جتنا کہ وہ سائنسی ہے۔
یہی معاملہ سائنس کی اُن تمام دریافتوں کا ہے جو ثابت شدہ بن چکی ہیں۔ یہ تمام کی تمام دریافتیں خالقِ کائنات کے قانون کی دریافتیں ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ خالقِ کائنات کے تدبیرِامر کی تفصیل ہیں(13:2)۔کچھ لوگ اِس معاملے میں إِسلامِيَّةُ المَعرِفَةِ(Islamization of knowledge) کی بات کرتے ہیں، یعنی علم کو اسلامی بنانا۔ مگر جہاں تک قطعی علوم (exact sciences) کی بات ہے، اِس قسم کا نعرہ بالکل غیر متعلق ہے۔ کیوں کہ قطعی علوم میں اسلامائزیشن کا کوئی مطلب نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 ۔ دوسرا پہلو وہ ہے جو جدید کلچر سے تعلق رکھتا ہے۔ جدید مغربی کلچر دو قسم کی چیزوں کا مجموعہ ہے۔ ایک وہ جو فطرت کے اصول پر مبنی ہے، اِس بنا پر وہ اسلام کے لیے بھی پوری طرح قابلِ قبول ہے۔ اِس کلچر کا دوسرا حصہ وہ ہے جو ذہنی بے راہ روی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، اِس بنا پر وہ اسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔
مثال کے طورپر جدید مغربی کلچر میں انسانی احترام کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اِس بنا پر اُن کے یہاں نہایت اعلیٰ روایات قائم ہوئی ہیں۔ مثلاً ہر انسان کے لیے اظہار خیال کی کامل آزادی ہونا۔ ہر انسان کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر مقام ملنا۔ تنقید (dissent) کو انسان کا غیر مشروط حق قرار دینا۔ محروم(disabled) افراد کو ہر اعتبار سے برابر کا درجہ عطا کرنا، وغیرہ۔ یہ قدریں (values)اسلام میں موجود تھیں، لیکن مغربی کلچر کا یہ کارنامہ ہے کہ اُس نے اِن قدروں کو باقاعدہ انسٹی ٹیوشن کا درجہ دے دیا۔ اِس قسم کی چیزیں اسلام میں بھی اتنا ہی اہم ہیں جتنا کہ وہ جدید تہذیب میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔
البتہ جدید کلچر میں بعض چیزیں ایسی ہیں جواسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتیں۔ مثلاًعورتوں کے لیے عریانیت (nudity)، بے پردگی کا فیشن، باقاعدہ نکاح سے قبل لڑکوں اور لڑکیوں کا آزادانہ اختلاط، شراب کا عمومی رواج، انٹرٹین منٹ کا بے قید کلچر، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں اسلام کے مزاج کے خلاف ہیں۔ اِس لیے وہ کبھی بھی اسلام کے دائرے میں قبول نہیں کی جاسکتیں۔
3 ۔ تیسرا پہلو جدید دور کے فلسفیانہ افکار سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں فلسفہ اور افکار کے تحت کچھ نئے نظریات وجود میں آئے ہیں جن کو سائنسی افکار کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اُن کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔ زیادہ صحیح الفاظ میں ان کو سائنس کی غلط توجیہ و تعبیر کہاجاسکتا ہے۔
مثال کے طورپر موجودہ زمانے میں سائنسی غور و فکرکے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات میں اسباب وعِلل کا نظام ہے۔ اِس کو اہلِ سائنس کے درمیان قانونِ تعلیل (principle of causation) کہاجاتا ہے۔ اِس کو لے کر کچھ سیکولر ذہن کے لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ سائنس کی اِس تحقیق نے خدا کے وجود کی نفی کردی ہے۔ انھوں نے کہا کہ واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیںتو وہ مافوق الفطری اسباب کے پیدا کیے ہوئے نہیں ہوسکتے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
یہ سائنس کے نام پر صرف ایک فلسفیانہ مغالطہ ہے، کیوں کہ نیچر کی دریافت صرف خدا کے طریقِ کار کی دریافت ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے خدا کے وجود کی نفی نہیں۔ اِس فکر کا تجزیہ کرتے ہوئے میں نے اپنی کتاب مذہب اور جدید چیلنج(God Arises) میں لکھا ہے کہ— نیچر کائنات کی توجیہ نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیے ایک توجیہ کی طالب ہے
Nature does not explain, she herself is in need of an explanation.
یہی معاملہ عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا ہے۔ سیکولر مفکرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ ایک سائنٹفک نظریہ ہے۔ چوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں خصوصی تخلیق کا تصور ہے، جب کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ مفروضہ ارتقائی پراسس کو خدا کا درجہ دے رہا ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ارتقا کے نظریے نے خدا کے تصور کی نفی کردی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر یہ سرتا سر بے بنیاد بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ صرف ایک مفروضہ ہے، وہ کوئی حقیقی نظریہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ زندگی کی بے شمار انواع جو زمین میں پائی جاتی ہیں، اُن کے اندر جسمانی مشابہت ہے۔اِس مشابہت کو لے کر یہ دعویٰ کردیا گیا کہ ایک زندہ نوع سے دوسری نوع نکلی۔ مثلاً بکری ارتقا کرتے کرتے زرافہ بن گئی، یا بلی نے ارتقا کرتے کرتے شیر کی صورت اختیا ر کرلی، وغیرہ۔
اس نظریے کی بنیادی کمی یہ ہے کہ اُس نے انواع کے درمیان مشابہت کا ثبوت تو پیش کیا، لیکن وہ اِس کاکوئی بھی ثبوت پیش نہ کرسکا کہ ایک نوع کے بطن سے دوسری نوع برآمد ہوگئی۔ یہ نظریہ اتنا ہی بے بنیاد ہے جتنا بے بنیاد یہ کہنا کہ بیل گاڑی کے اندر سے بگھی نکل آئی، بگھی کے اندر سے موٹر کار برآمد ہوگئی، موٹر کار کے اندر سے ہوائی جہاز نکل آیا اور ہوائی جہاز کے اندر سے راکٹ پیدا ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ وہ نہ کوئی سائنٹفک نظریہ ہے اور نہ اُس کی وجہ سے اسلام کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوا۔
میرے مطالعے کے مطابق، ماڈرن ایج مکمل طورپر ایک موافقِ اسلام ایج ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا نے انسان کے لیے اِس دنیا میں دو سپورٹ سسٹم بنائے ہیں۔ ایک نیچرل سپورٹ سسٹم جو یکساں طورپر مسلسل صورت میں انسان کا مددگار بناہوا ہے۔ دوسرا، سویلائزیشنل سپورٹ سسٹم جو انسان کے ذریعے ارتقائی سفر طے کرتا ہوا انسان کا مددگار بنا ہوا ہے۔ نیچرل سپورٹ سسٹم براہِ راست طورپر خدا کی طرف سے قائم کیاگیا ہے۔ اس کے مقابلے میں سویلائزیشن سپورٹ سسٹم انسانی عمل اور انسانی تحقیق کے ذریعے اپنا تہذیبی سفر طے کررہا ہے۔ماڈرن ایج در اصل اِسی سویلائزیشن سپورٹ کا ایک اگلا مرحلہ ہے۔ وہ اِس لیے ظاہر ہوا ہے کہ انسان کے سفر حیات کو زیادہ کامیاب بنائے۔ یہ ماڈرن ایج انسان کے مادّی سفر میں بھی مددگار ہے اور انسان کے مذہبی اور روحانی سفر میں بھی۔
اِس دنیا کا ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ ہر چیز میں مثبت کے ساتھ کچھ منفی پہلو بھی ملاہوا ہوتا ہے۔ اِس قانونِ عام کے تحت، ماڈرن ایج میں بھی مثبت پہلو کے ساتھ کچھ منفی پہلو شامل ہے۔ بعض اسباب سے یہ حادثہ پیش آیا کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں سے ماڈرن ایج کا مثبت پہلو اوجھل ہوگیا۔ انھوں نے بس اُس کے منفی پہلو کو دیکھا اور وہ اُس کو دیکھ کر بھڑک اٹھے۔ اِس معاملے میں شدید طورپر دوبارہ جائزہ (reassessment) کی ضرورت ہے۔ اگر منصفانہ طورپر جائزہ لیا جائے تو یقیناً لوگ یہ معلوم کرلیں گے کہ ماڈرن ایج ایک اسلام دوست ایج (Islam-friendly age) ہے، نہ کہ اسلام دشمن ایج۔
یہ صحیح ہے کہ ماڈرن ایج کو پیدا کرنے میں تمام تر غیر مسلم قوموں نے کام کیا ہے۔ مگر حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ اِس روایت میں اِس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ سویلائزیشنل سپورٹ کو ظہور میں لانے میں ہر آدمی کا کچھ نہ کچھ رول ہوگا۔ اِس میں صالح لوگ بھی اپنا رول اداکریں گے اور اس کے ساتھ غیر صالح لوگ بھی۔ تاریخ اِس کی تصدیق کرتی ہے۔ مثلاً کمیونکیشن ایج جو دعوت الی اللہ کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے، اُس کو ظہور میں لانے کے لیے ہر طرح کے لوگوں نے لمبی مدت تک مسلسل کام کیا ہے۔ اس کے بعد ہی کمیونکیشن ایج واقعہ بن سکا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سائنس ایک موافقِ اسلام انقلاب
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں ہوئی۔ آپ سے پہلے جو پیغمبر آئے، ان کو معجزے دیے گئے۔ یہ معجزات پیغمبروں کی اعتباریت (credibility) پر یقین کرنے کے لیے تصدیقِ مزید کی حیثیت رکھتے تھے۔لیکن اُن کے معاصرین نے اِن معجزات کو جادو کہہ کر اُنھیں نظر انداز کردیا۔
اِس کا سبب کیا تھا۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ یہ معجزہ مدعو کو ایک شخص کا ذاتی کرشمہ نظرآیا، وہ مدعو کے دائرہ ٔ علم کے مطابق، فریقین کے درمیان ایک متفقہ بنیاد کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اِس اعتبار سے گویا کہ پیغمبر اپنے معاصرین کے نزدیک صرف ایک دعویٰ (claim) کرنے والا انسان تھا، اس کے دعوے کو خود اپنی معلوم بنیاد پر جانچنے کی کوئی صورت اِن معاصرین کے پاس موجود نہ تھی۔
خدا یہ چاہتا تھا کہ مدعو کے لیے اِس قسم کا عذر پیش کرنے کا موقع نہ رہے۔ چنانچہ خدا نے چاہا کہ داعی اور مدعو کے درمیان وہ ایک مسلمہ بنیاد کو وجود میں لائے۔ یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کو پیشین گوئی کے طور پر قرآن کی سورۃ حم السجدہ میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے— مستقبل میںہم اپنی نشانیاں ان کو دکھائیں گے، آفاق میںبھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر کامل طورپر کھل جائے کہ یہ( قرآن)حق ہے (41:53) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں جن نشانیوں کے ظہور کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی میں پوری طرح وجود میں آچکی ہیں۔ موجودہ زمانے کے سائنسی انقلاب کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نے اِن نشانیوں کو پوری طرح ظاہر کردیا ہے۔ یہ سائنسی شہادتیں دوبارہ دعوت الی اللہ کے حق میں تصدیقِ مزید کی حیثیت رکھتی ہیں۔ موجودہ سائنسی انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان مشترک طورپر ایک مسلّمہ بنیاد (bilaterally accepted ground) وجود میں آچکی ہے، جس کو استعمال کرکے حق کی دعوت کو زیادہ موثر طور پر انجام دیا جاسکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ تین ہزار سال پہلے حضرت موسیٰ مصر میں آئے۔ انھوں نے وقت کے بادشاہ فرعون (Pharoah) کو توحید کا پیغام دیا۔ قرآن میں ہے کہ فرعون نے اُس کا مذاق اڑاتے ہوئے اپنے وزیر اعظم ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک اونچا مینار بناؤ، تاکہ میں اُس پر چڑھ کر دیکھوں کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے (40:36-37)۔ اِسی طرح نکیتا خروشچیف(Nikita Khrushchev) سابق سوویت یونین کے وزیر اعظم تھے۔ سوویت یونین نے 1957 میں پہلی بار اپنا مصنوعی سیارہ (Sputnik) زمین سے اوپر بھیجا۔ اس نے خلا میں پہنچ کر چاند کے گرد چکر لگائے اور چاند کے فوٹو لیے، اور پھر واپس زمین پر اتر آیا۔ اِس کے بعد روسی وزیر اعظم نے مذہب کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہمارا سیارہ خلا میں گیا، لیکن اس کووہاں نہ خدا دکھائی دیا اور نہ خدا کی جنت۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قسم کی بات کو رد کرنے کے لیے پہلے کوئی سائنٹفک بنیاد موجود نہ تھی، مگر اب صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ اب ایک داعی ٔ حق کہہ سکتاہے کہ کائنات کو دیکھنا انسان کے لیے اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ ممکن ہی نہیں۔ جدید محققین کے مطابق، انتہائی وسیع کائنات میںجو مادّہ ہے، اس کا صرف4 فی صد حصہ ہمارے لیے قابلِ مشاہدہ (observable) ہے۔ بقیہ 96 فی صد حصہ اپنی موجودہ استعداد کے لحاظ سے ہمارے لیے قابلِ مشاہدہ نہیں، حتی کہ انتہائی طاقت وردور بینوں کے ذریعہ بھی نہیں۔ اِسی لیے اس کو ڈارک میٹر (dark matter) کہاجاتا ہے، یعنی انسان کی نسبت سے ناقابل مشاہدہ میٹر۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خلا کے بارے میں اِس سائنسی دریافت نے موجودہ زمانے کے داعی ٔ حق کو ایک نئے استدلال کی بنیاد فراہم کی ہے، وہ یہ کہ انسان اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ خدا اور جنت کے بارے میں صرف بالواسطہ علم تک پہنچ سکتا ہے۔ اِس معاملے میں براہِ راست علم کا حصول انسان جیسی مخلوق کے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔
قرآن کی سورۃ حم السجدہ میںجو پیشین گوئی کی گئی تھی، اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اِن سائنسی دریافتوں نے موجودہ زمانے میں معرفتِ خداوندی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ سائنس کیا ہے۔ سائنس نیچر کے مطالعے کا نام ہے، اور نیچر مصنوعاتِ خداوندی کا نام ہے۔ اِس معاملے میں انسان صانع کو براہِ راست نہیںدیکھتا، البتہ وہ مصنوعات میں غور وفکر کرکے صانع کا اندازہ کرسکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی میں سائنسی دریافتوں کے ظہور میں آنے سے پہلے، نیچر کے بارے میں انسان کا علم بہت محدود تھا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسان مصنوعاتِ خداوندی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ ایسی حالت میں وہ صانع کی عظمت کا تصور بھی نہیں کرپاتا تھا۔ اہلِ سائنس نے تاریخ میں پہلی بار مصنوعاتِ خداوندی کا گہرا مطالعہ کیا۔ انھوں نے دوربین اور خوردبین جیسے بہت سے طریقے ایجاد کیے، جن کے ذریعے وہ مصنوعاتِ خداوندی کا مطالعہ زیادہ گہرائی کے ساتھ کر سکیں۔ یہ مطالعہ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ (Renaissence) کے بعد کئی سو سال تک جاری رہا۔
اِس طرح سائنسی دریافتوں کے بعد پہلی بار ایک نیا امکان پیدا ہوا، یعنی انسان کا فریم ورک جو پہلے روایتی دور میں محدود تھا، وہ لامحدود حد تک وسیع ہوگیا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ انسان، کائنات کا وسیع تر مطالعہ کرکے زیادہ اعلیٰ درجے کی معرفت حاصل کرسکے۔ آدمی ہمیشہ اپنے فریم ورک کے دائرے میں سوچتا ہے (17:84)۔ چنانچہ سائنسی فریم ورک نے پہلی بار انسان کے لیے اِس بات کو ممکن بنایا کہ وہ خالقِ کائنات کے بارے میں لامحدود حد تک وسیع سائنسی فریم ورک کے تحت سوچے اور معرفتِ اعلیٰ کے درجے تک پہنچ سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی لٹرری تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عظمتِ محمدی پر مسلم اہلِ قلم نے بہت سی کتابیں لکھیں، مگر عظمتِ خداوندی پر غالباً وہ کوئی ایک کتاب بھی نہ لکھ سکے۔ کیوں کہ عظمتِ محمدی کو جاننے کے لیے اُن کے پاس ایک عظیم تاریخ موجود تھی۔ یہ تاریخ اتنی شاندار تھی کہ غیر مسلم مورخین تک کو یہ ماننا پڑا کہ محمد نے جو عظیم تاریخ پیدا کی، ویسی تاریخ کوئی دوسرا انسان پیدا نہ کرسکا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر عظمتِ خداوندی کا معاملہ ایک مختلف معاملہ تھا۔ خدا کی ہستی ہمارے لیے ایک ناقابلِ مشاہدہ ہستی تھی۔ اِس لیے براہِ راست خدا کو دیکھ کر اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ خدا کی عظمت کااندازہ کرنے کے لیے صرف ایک ہی قابلِ عمل صورت تھی، وہ یہ کہ خدا کی عظمت کو اس کی تخلیق میں دیکھا جائے، یعنی ناقابلِ مشاہدہ صانع کی عظمت کااندازہ اس کی قابلِ مشاہدہ مصنوعات کے ذریعہ کیا جائے لیکن سائنس سے پہلے انسان کو مصنوعاتِ خداوندی کا تفصیلی علم حاصل نہ تھا۔ اِس محدود فریم ورک کی بنا پر اِس دور میںخدا زیادہ تر ایک پُراسرار عقیدہ (mysterious belief) کا مسئلہ بنا رہا، نہ کہ اتھاہ عظمت و جلال کا مسئلہ، جیسا کہ فی الواقع وہ ہے۔
قبل سائنس دور میں مسلم اہل قلم نے جوکتابیں لکھیں، ان میں غالباً ایک ہی قابلِ ذکر کتاب ہے جس کا ٹائٹل بظاہر خدا کو بنایا گیا ہے۔ یہ شاہ ولی اللہ الدہلوی (وفات 1762) کی کتاب ہے۔ اِس کتاب کا نام حجۃ اللہ البالغۃ ہے۔ اِس کتاب کے ٹائٹل سے بظاہر یہ مترشح ہوتا ہے کہ یہ کتاب خدا کی عظمت پر لکھی گئی ہے، لیکن اِس کتاب کو پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اِس کتاب کا موضوع حجۃ الفقہ ہے، نہ کہ حجۃ اللہ۔ مصنف کے الفاظ میں یہ کتاب اسرارِ شریعت کے موضوع پر ہے، نہ کہ خدا کی عظمت کے موضوع پر۔خلاصہ یہ کہ جدید سائنسی انقلاب ایک موافقِ اسلام انقلاب ہے۔ جدید سائنسی مطالعے کے ذریعے فطرت کی جو حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں، وہ بیک وقت دو پہلوؤں سے اسلام کے لیے ایک عظیم تائید کی حیثیت رکھتی ہیں
1 ۔ فطرت کے بارے میں سائنسی دریافتوں کے ذریعے معرفت کے اعلیٰ دروازے کھلے ہیں۔ انسان کے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ تخلیق میں خالق کی عظیم نشانیوں کو جانے اور خالق کی ناقابلِ بیان عظمت کو محسوس کرسکے۔
2 ۔ سائنسی دریافتوں کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس نے دعوتِ حق کے لیے ایک نیا زیادہ موثر امکان پیدا کردیا ہے، وہ یہ کہ دعوت الی اللہ کے کام کو خود مدعو کے مسلّمات کی بنیاد پر کیا جاسکے۔ یہ ایک ایسا دعوتی امکان ہے جو تاریخ میں پہلی بار ظاہر ہوا ہے۔
اظهارِ دين
الله كا ايك خصوصى منصوبه قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا (48:28)۔ يعنى، الله هى هے جس نے اپنے رسول كو هدايت اور دينِ حق كے ساتھ بھيجا، تاكه وه اُس كو تمام اديان پر غالب كردے اور الله كافى گواه هے۔ يه آيت قرآن كى تين سورتوں ميں آئى هے۔ ايك سورۃ ميں مزيد يه الفاظ آئے هيں وَيَاْبَى اللّٰهُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ (9:32)۔یعنی، اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کئے بغیر ماننے والا نہیں، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں ’هدي‘ سے مراد آئڈيالوجى (divine ideology)هے اور ’دين‘ سے مراد اِس آئڈيالوجى پر مبنى طريقِ زندگي(way of life)هے۔ الله نے هر دور ميں پيغمبروں كے ذريعے هدايت اور دين بھيجا، ليكن اس كے بعد انسان اُس ميں تبديلى كرتا رها، يهاں تك كه دينِ خداوندى كا اصل ورزن (original version) باقى نهيں رها، بلكه دينِ خداوندى كے نام پر ايك خود ساخته انسانى ورزن وجود ميں آگيا۔ اس كے بعد الله نے يه فيصله كيا كه ابدى طورپر دينِ خداوندى كا صحيح ورزن وجود ميں آئےاور اس كو تاريخ ميں پورى طرح محفوظ كردياجائے۔
تمام اديان پر اظهارِ دين كا مطلب كسى قسم كا سياسى غلبه نهيں هے، بلكه اِس كا مطلب يه هے كه دينِ خداوندى كى تصوير بے آميز صورت ميں انسان كے سامنے آجائے۔ اِسى طرح اتمامِ نور كا مطلب بھى كسى سياسى نظام كا نفاذ نهيں، بلكه اِس كا مطلب يه هے كه انسان خدائى دين كى تصوير كو بگاڑنا چاهتا هے، مگر الله كا يه حتمى فيصله هے كه وه خدائى دين كو اس كى اصل صورت ميں محفوظ كردے۔ الله نے انسان كو مكمل آزادى عطا كى هے۔ الله نے اپنى سنت كے مطابق، انسان كى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے حفاظتِ دين كے اِس منصوبے كو انجام ديا۔
فكرى بنياد كى اهميت
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كا ظهور ساتويں صدى عيسوى كے ربع اول ميں هوا۔ آپ كو يه موقع ملا كه آپ صحابه كى صورت ميں ايك طاقت ور ٹيم بنائيں۔ اِس طرح آپ نے اور آپ كے اصحاب نے غير معمولى محنت كے ذريعے وه كام انجام ديا جس كو قرآن كى مذكوره آيت ميں اظهارِ دين كهاگيا هے، يعنى خدا كے دين كو اس كى اصل صورت ميں مبرهن كردينا۔ مگر يه كوئى ساده معامله نه تھا۔ لوگوں كے درميان اِس كى قبوليت كے ليے ضرورى تھا كه اس كے ليے موافق فكرى بنياد (intellectual base) موجود هو۔ هزاروں سال كے مذهبى بگاڑ كے نتيجے ميں لوگوں كے درميان يه موافق فكرى بنياد موجود نه تھي، اِس ليے هم ديكھتے هيں كه پيغمبر اسلام نے اپنے زمانے ميں كاميابى كے ساتھ دينِ خداوندى كو اس كى اصل صورت ميں قائم كيا،مگر ايك محدود مدت كے بعد خود امتِ مسلمه كے درميان مذهب كا قديم تصور واپس آگيا۔ يه محدود مدت امت كى ابتدائى تين نسلوں تك باقى رهي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يهى وه واقعه هے جس كو ايك حديث رسول ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا وَسَيَخْرُجُونَ مِّنْهُ أَفْوَاجًا (مسند احمد، رقم الحديث 14696)۔ يعنى، لوگ فوج در فوج خدا كے دين ميں داخل هوئے اور عنقريب وه فوج در فوج خدا كے دين سے نكل جائيں گے۔ اِس حديث رسول ميں جو پيشين گوئى كى گئى هے، وه محدود طورپر صرف مكه يا عرب كے بارے ميں نهيں هے، بلكه وه پورى تاريخ كے بارے ميں هے۔ اصل يه هے كه اسلام نے دينِ خداوندى كى جو تصوير پيش كى تھي، وه ايك انقلابى تصوير تھي۔ اُس زمانے ميں مذهب كے بارے ميں جو عمومى شاكله پايا جاتا تھا، وه اس كے مطابق نه تھا۔ اس ليے ابتدائى تين نسلوں كے بعد قديم مذهبى شاكله عملاً دوباره لوگوں كے درميان واپس آگيا۔ دوباره ايسا هو ا كه خدا كا دين اپنى اصل صورت كے بجائے ايك بدلى هوئى صورت پر قائم هوگيا۔ اسلام كا نام اور اسلام كى اصطلاحيں ضرور باقى رهيں، ليكن اسلام كى حقيقت تقريباً غيرموجود هوگئي۔ يهى مطلب هے اُس حديث رسول كا جس ميں بتايا گيا هے كه بعد كے زمانے ميں اسلام كا صرف نام باقى رهے گا اور قرآن كا صرف رسم الخط ’’لا يَبقَى مِنَ الإِسلامِ إِلّا اسمُهُ، وَلا يَبقَى مِنَ القُرآنِ إِلّا رَسمُهُ‘‘۔ (شعب الإيمان، للبہیقی، حدیث نمبر1763)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چند مثاليں
اسلام سے پهلے خدا كا عقيده ايك رسمى قسم كا مبنى بر قلب (heart-based)عقيده تھا، اسلام نے خدا كے عقيده كو ايك زنده شعور كے طورپر مبنى بر ذهن (mind-based) عقيدے كى حيثيت سے زنده كيا، ليكن وقت كا عمومى شاكله اِس كے موافق نه تھا، اِس ليے بهت جلد ايسا هوا كه مسلمانوں كے درميان خدا كا عقيده زنده عقلى شعور كے طورپر باقى نه رها۔ وه دوباره مبنى بر قلب قسم كا رسمى عقيده بن كر ره گيا۔
اسلام سے پهلے هر مذهب ميں عبادت كا تصور موجود تھا، ليكن ان كى عبادت محض ايك مبنى بر فارم عمل بنى هوئى تھي۔ اسلام نے دوباره عبادت كو مبنى بر اسپرٹ (spirit-based) عبادت كى حيثيت سے زنده كيا، ليكن چند نسلوں كے بعد دوباره قديم مزاج واپس آگيا اور خدا كى عبادت محض كچھ رسمى اعمال كا مجموعه بن كر ره گئي۔ يهى معامله پيغمبر كے عقيده (رسالت) كا بھى تھا۔ پچھلى امتوں نے بعدكے زمانے ميں اپنے پيغمبروں كو اتنا زياده بڑھايا كه خدا اور پيغمبر ميں صرف نام كا فرق باقى رها۔ يهى وه برائى هے جس كو پيغمبر اسلام نے پيشگى طورپر اِن الفاظ ميں بيان فرمايا تھالَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ(صحيح البخاري،حدیث نمبر3445)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بعد كے زمانے ميں مسلمانوں كے درميان فضيلت كے نام پر ايسے عقيدے رائج هوئے جس كے بعد عملاً پيغمبر اسلام كى تصوير بھى وهى بن گئى جو پچھلى امتوں كے يهاں رائج تھي، يعنى خدا اور پيغمبر كے درميان صرف نام كا فرق باقى رها۔
اِسى طرح پچھلے مذاهب ميں مقدس جنگ (holy war) كا تصور تھا۔ اسلام نے اِس تصور كو ختم كيا۔ اسلام ميں قتال اور جهاد كو ايك دوسرے سے الگ كردياگيا۔ قتال صرف دفاعى جنگ كے ليے مخصوص هوگيا اور جهاد كو پرامن دعوتى جدوجهد (25:52) كے هم معنى قرار دياگيا۔ ليكن بعد كے زمانے ميں مسلمانوں كے درميان قتال كو جهاد كا عنوان دے دياگيا۔ اِس طرح مقدس جنگ كا تصور مسلمانوں كے درميان دوباره لوٹ آيا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسى طرح اسلام ميں اجتماعى نظام كو شورى (42:38) كے تابع كياگيا تھا، يعنى كسى خارجى معيار كے بجائےلوگوں كى عمومى رائے كى بنياد پر اجتماعى نظام كا فيصله كرنا۔ ليكن بعد كے زمانے ميں قديم خاندانى حكمرانى (dynasty) كا طريقه واپس آگيا۔ شخصى حكمرانى كا يه ذهن بعد كے زمانے كے مسلمانوں پر اتنا زياده غالب هوا كه اگر كسى مسلم ملك ميں بظاهر جمهوريت كو اختيار كياگيا تو وه بھى عملاً آمريت (dictatorship) بن كر ره گئي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسى طرح اسلام ميںقديم تصور كے برعكس، مذهبى آزادى كو اختيار كيا گيا، ليكن چند نسلوں كے بعد عملاً اس كا بھى خاتمه هوگيا۔ اِس كے مظاهر آج بھى مسلمانوں كے اندر مختلف صورتوں ميں ديكھے جاسكتے هيں۔ مثلاً فرقه وارانه تشدد، تكفير كے فتوے، مرتد اور شاتمِ رسول كے ليے سزائے قتل، وغيره۔ اِس قسم كے تمام مظاهر بلا شبه قديم زمانے كے مذهبى جبر كى نئى صورتيں هيں۔
متوازى عمل
امتِ مسلمه كے بعد كے دور ميں يه تمام خرابياں اِس ليے پيدا هوئيں كه اسلام كى انقلابى اصلاحات كے حق ميں فكرى بنياد موجود نه تھي۔ اسلام نے مذهب كو دوباره اس كى اصل خدائى صورت ميں زنده كيا، ليكن زمانى عامل (age factor) اِن اصلاحات كے موافق نه تھا۔ قانونِ فطرت كے مطابق، فكرى بنياد اچانك وجود ميں نهيں آتي، بلكه وه لمبے تدريجى عمل كے بعد وجود ميں آتى هے۔ يه نهايت مشكل منصوبه هے، كيوں كه انسانى آزادى كو باقى ركھتے هوئے اس كو وجود ميں لانا پڑتا هے۔ اِس ليے الله نے اِس منصوبے كو ظهور ميں لانے كے ليے تاريخ ميں ايك متوازى عمل (parallel process) جارى كيا۔ فكرى بنياد كو ظهور ميں لانے كا يه متوازى عمل تقريباً هزار سال تك جارى رها، يهاں تك كه وه بيسويں صدى عيسوى ميں اپنى تكميل تك پهنچا۔ اِس عمل كا آغاز پيغمبر اور اُن كے اَتباع (followers)نے كيا اورآخركار اس كى تكميل هزار سال بعد اهلِ مغرب كے ذريعے انجام پائي۔
استبدالِ قوم
قرآن ميں فطرت كے جو قوانين بتائے گئے هيں، اُن ميں سے ايك قانون وه هے جس كو استبدال (replacement) كهاگيا هے۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى آيت كے الفاظ يه هيں وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ(47:38)۔ يعنى، اگر تم پھر جاؤ تو الله تمھارى جگه دوسرى قوم كولے آئے گا، پھر وه تم جيسے نه هوں گے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
If you turn back, He will bring in your place another people, who will not be like you.
Qur'anQuotes the Qur'an
استبدالِ قوم كا يه قانون فطرت كا ايك عمومى قانون هے۔ اس كا تعلق مذهبى قوم سے بھى هے اور غير مذهبى قوم سے بھي۔ اسلام كى انقلابى اصلاحات كے ليے جس فكرى بنياد كى ضرورت تھي، اس كو مسلمان پورے طورپر وجود ميں نه لاسكے۔ مسلمان بعد كے زمانے ميں قديم مذهبى تصورات كے زير اثر آچكے تھے۔ اِس بنا پر وه اس مقصد كے ليے اهل نه تھے۔ چنانچہ الله كا يه فيصله هوا كه اِس متوازى رول كاذريعه وه ايك ايسى قوم كو بنائے جو اِس عمل كو اس كى تكميل تك پهنچا سكے۔
اهلِ مغرب كا تائيدى رول
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے پيشين گوئى كے طورپر يه بات بتادى تھى كه الله تعالى ايك سيكولر قوم سے دين كى تائيد كا كام لے گا إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ اهل مغرب كى تاريخ كا غير جانب دارانه مطالعه بتاتا هے كه اهلِ مغرب نے جو تهذيب برپا كى اور جس كو مغربى تهذيب كهاجاتا هے، وه سيكولر مغرب كے ذريعے اِسى تائيد دين كى مثال هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه ايك حقيقت هے كه مغربى تهذيب كے ذريعے جو نئے علوم اور نئے حالات پيدا هوئے، وه اپنے عملى نتيجے كے اعتبار سے، اسلام كے حق ميں فكرى بنياد فراهم كرنے والے تھے، تاكه رسول اور اصحابِ رسول كا جارى كرده عمل اپنے تكميلى مرحلے تك پهنچ سكے۔ اس تكميلى عمل كے چند پهلو يهاں بيان كيے جاتے هيں
1۔ جديد تهذيب كے تحت جو ميڈيكل سائنس وجود ميں آئي، اس نے تاريخ ميں پهلى بار اُس نظريے كو ختم كرديا جس كو سوچنے والا دل (thinking heart) كهاجاتا تھا۔ اب يه پورى طرح ثابت هوگيا هے كه دل انسانى جسم ميں صرف گردشِ خون (circulation of blood) كا ذريعه هے۔ اِس معاملے ميں جديد ميڈيكل سائنس يهاں تك پهنچى هے كه اُس نے مصنوعى دل (artificial heart) تيار كيا۔ ايسے مريض جن كے دل عملاً نان فنكشنل (non-functional) هونے والے تھے، اُن كے جسم ميں ڈاكٹروں نے مصنوعى دل نصب كرديا۔ يه مصنوعى دل عملاً فطرى دل كا بدل بن گيا۔ ايسے مريضوں كا دل عملاً معطل تھا، اُن كے جسم ميں دل كى جگه ايك مادى ڈيوائس (material device) نصب كيا گيا، اس كے باوجود اُن كا دماغ پهلے كى طرح كام كررها تھا۔ اُن كا حافظه، اُن كے سوچنے كى صلاحيت، كسى كمى كے بغير، پهلے كى طرح برقرار تھي۔ اِس طرح تجرباتى طورپر ثابت هوگيا كه تفكير كے عمل (thinking process) كا تعلق انسان كے دل سے نهيں هے، بلكه اس كے دماغ سے هے۔
يه ايك بهت بڑا واقعه هے جس سے قديم زمانے كا انسان مكمل طورپر بے خبر تھا۔اسلام ميں معرفت كو قديم تصور كے برعكس، دل كے بجائےدماغ پر مبنى قرار دياگيا۔ قرآن ميں دماغ (mind)كے ليے مختلف الفاظ آئے هيں۔ مثلاً قلب، فواد، عقل، لُب،حِجر، نُهى۔ واضح هو كه قلب كا لفظ عربى زبان ميں عقل كے ليے بھى استعمال هوتا هے (لسان العرب687/1)۔ غور كرنے سے معلوم هوتا هے كه قرآن ميں اِس سلسلے ميں جو الفاظ استعمال هوئے هيں، وه سب تفكيرى عضو (thinking organ) كے معنى ميں هيں، قرآن ميں گردشِ خون كے ذريعے كے طورپر كسى عضو كا ذكر نهيں۔پچھلے هزار سال كے دوران مسلمانوں ميں فكرى ارتقا نه هوسكا۔ اِس كا سبب يه هے كه مسلمان فكرى عمل كا سرچشمه غلط طور پر دل كو قرار ديےهوئے تھے۔ جديددريافت نے يه راسته كھول ديا هے كه مسلمانوں ميں فكرى ارتقا كا عمل حقيقى سطح پر جارى هوسكے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قديم زمانے ميں تمام مذاهب ميں معرفت حق (realization of truth) كا منبع (source) دل كو سمجھاجاتا تھا۔ اِس ليے قديم زمانے ميں مراقبه (meditation) كے طريقے رائج هوئے، مگر اِن طريقوں كے ذريعے قديم زمانے كے لوگوں كو كبھى حقيقى معنوں ميں معرفتِ حق كا تجربه نهيں هوا، كيوں كه دل صرف گردشِ خون كا ذريعه تھا۔ معرفت صرف تفكير اور تدبر كے ذريعے حاصل هوسكتى هے، جس كا مركز انسان كا دماغ هے۔ دل سے اِس كا كوئى تعلق نهيں۔
رسول اور اصحابِ رسول كے مختصر زمانے كے بعد خود امتِ مسلمه ميں يهى دل پر مبنى تصورِ معرفت دوباره لوٹ آيا۔يهى وجه هے كه پچھلے هزار سال كے دوران امتِ مسلمه حقيقى معرفت سے تقريباً محروم رهي۔ موجوده زمانے ميں جديد ميڈيكل سائنس كے ذريعے جو نيا دور آيا، اُس نے پهلى بار يه كيا كه دل پر مبنى معرفت كے افسانه (myth) كو ختم كرديا۔ اب تاريخ ميں پهلى بار يه ممكن هوگيا كه مبنى بر ذهن (mind-based)معرفت كو ڈيولپ كيا جائے اور معرفت الٰہی كے اعلى درجات تك پهنچنے كى كوشش كى جائے۔اِس اعتبار سے، جديد ميڈيكل سائنس قديم نظريے كى تصحيح كى حيثيت ركھتى هے۔
2۔ قديم زمانے ميں سارى دنيا ميں مطلق العنان بادشاهت (despotism) كا طريقه رائج تھا۔ اِس سياسى كلچر كے تحت سارى دنيا ميں مذهبى جبر كا كلچر عام تھا۔ جديد مغربى تهذيب كے تحت پهلى بار ايسا هوا كه دنيا ميں جمهوريت كا زمانه آيا۔ جمهوريت ايك اعتبار سے، سياسى طاقت كى عدم مركزيت (decentralization) كا كلچر هے۔ اِس كلچر كے تحت مذهب كے معاملے كو سياسى اقتدار سے الگ كرديا گيا۔ اِس طرح تاريخ ميں پهلى بار مذهبى آزادى كو ايك مسلّمه قوامى اصول (international norm) كے طورپر مان لياگيا اور اقوامِ متحده (UNO) كے تحت تمام قوموں نے اس كى متفقه تصديق كردي۔ اسلام ايك دعوتى مشن هے اور اسلام كے دعوتى مشن كى عالمى تكميل كے ليے ضرورى تھا كه دنيا ميں مذهبى آزادى كو ايك مسلّمه بين قوامى اصول كے طور پر مان ليا گيا هو۔ يه واقعه پهلى بار مغربى تهذيب كے دور ميں كامل طورپر انجام پايا هے۔
3۔ قديم زمانے ميں مذهب كى بنياد صرف عقيده (belief) هوا كرتا تھا۔ انسان ايك عقلى وجود (rational being) هے۔ ضرورت تھى كه انسان كو ايسا مذهب ديا جائے جو اس كے عقلى ذهن كو ايڈريس كرنے والا هو۔ ليكن اِس مقصد كے ليے عقلى ڈيٹا (rational data) دركار تھا جو كه قديم زمانے ميں دستياب نه تھا۔ مغربى تهذيب كے تحت پيدا هونے والى سائنس نے فطرت (nature) ميں تحقيق كے ذريعے يه عقلى ڈيٹا فراهم كيا۔ اِس طرح تاريخ ميں پهلى بار يه ممكن هوا كه دينِ خداوندى كے عقائد كو عقلى بنياد (rational ground) پر قابلِ فهم (understandable) بنايا جاسكے۔اِس حقيقت كا اعلان قرآن مجيد ميں پيشگى طورپر اِن الفاظ ميں كيا گيا تھا سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں ’آفاق اور انفس‘ سے مراد تمام وه مادى اور غير مادى تخليقات هيں جو وسيع كائنات ميں پائى جاتى هيں۔ اِس پورے مجموعے كو فطرت (nature) كهاجاتا هے۔ فطرت كى اِس دنيا ميں بے شمار ربانى نشانياں (signs of God)موجود تھيں۔ ضرورت تھى كه اِن نشانيوں كو دريافت كيا جائے، تاكه امرِ حق خود انسانى مسلّمات كى بنياد پر مدلل هوسكے۔ خدائى نشانيوں كى انفولڈنگ كا يه كام هزاروں سال سے نهيں هوا تھا۔ موجوده زمانے ميں مغربى تهذيب نے پهلى بار سائنسى تحقيقات كے ذريعے اِن نشانيوں كو كھولا اور اُن كو انسان كے ليے ايك معلوم واقعه بنايا۔ يه موافق دلائل فطرت (nature) ميں آياتِ الٰہی كے طورپر موجود تھے، وه مخفى حالت ميں تھے۔ مغربى سائنس نے قوانينِ فطرت كے نام سے جن حقائق كو دريافت كيا هے، وه دراصل يهى دلائل هيں۔ اِس كے بعد يه ممكن هوگيا كه اسلام كے علمِ كلام (theology) كو قياسات كے بجائے برهانيات كى بنياد پر قائم كى جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4۔ قرآن ساتويں صدى عيسوى كے ربع اول ميں اترا۔ اُس وقت قرآن ميں يه كهاگيا تھا كه تَبٰرَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْراً (25:1)۔ یعنی، بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ اِس آيت كے مطابق، يه مطلوب تھا كه قرآن كى تعليمات كو زمين پر بسنے والے تمام انسانوں تك پهنچايا جائے۔ مگر قديم زمانے ميں عملاً ايسا هونا ممكن نه تھا۔ اِس عالمى مقصد كو حاصل كرنے كے ليے ضرورى تھا كه پورى دنيا كا جغرافيه معلوم هو۔ پرنٹنگ پريس اور كميونكيشن كا دور دنيا ميں آجائے، سارى دنيا ميں به آسانى سفر كرنا ممكن هوجائے، لوگوں كے درميان كھلا پن (openness) كى فضا موجود هو، ترقى يافته زبانيں دنيا ميں پائى جاتى هوں، وغيره۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عالمى دعوت كو ممكن بنانے كے ليے يه تمام چيزيں لازمى طورپر ضرورى هيں۔ قديم زمانے ميں يه اسباب موجود نه تھے، اِس ليے قديم زمانے ميں اسلام كى عالمى اشاعت كا يه نشانه عملاً پورا نهيں هوسكتا تھا۔ انيسويں صدى كے بعد كے زمانے ميں پهلى بار يه اسباب حاصل هوئے هيں اور اِن اسباب كا حصول براهِ راست مغربى تهذيب كے ذريعے ممكن هوا هے۔
5۔ قرآن اصلاً ايك كتابِ دعوت هے، ليكن دعوت كى نكات كو مدلل كرنے كے ليے قرآن ميں بهت سے حوالے دیے گئے هيں جن كا تعلق تاريخ يا عالمِ فطرت سے هے۔ مگر ساتويں صدى كے ربع اول ميں اِن حوالوں كى ضرورى تفصيلات معلوم نه تھيں۔ اِس بنا پر قرآن كے يه حوالے عملاً صرف عقيده كا مسئله (matter of belief) بنے هوئے تھے۔ اِس قسم كى مثاليں قرآن ميں بڑى تعداد ميں موجود هيں۔ مثلاً قرآن ميں كائنات كے آغاز كے ليے ايك حواله يه هے اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا(21:30)۔ یعنی، کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اِسى طرح قرآن ميں بتايا گيا هے كه انسان جب بطنِ ماد ر ميں هوتا هے تو وه تين پردوں— فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ (39:6)كے درميان هوتا هے ۔ اِسى طرح قرآن ميں فرعون كے جسم كے بارے ميں يه آيت آئى هے فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً(10:92)۔ یعنی، پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔ قرآن ميں كثرت سے اِس طرح كے حوالے پائے جاتے هيں۔ ضرورت تھى كه اُن كےمتعلق تاريخى اور سائنسى معلومات دريافت كى جائيں، تاكه قرآن كے يه بيانات انسان كے ليے پورى طرح قابلِ فهم هوجائيں۔ يه كام بھى پهلى بار مغربى علوم كے ذريعے انجام پايا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
6۔ قديم زمانے ميں مذهبى جبر عام تھا۔ اِس بنا پر دعوتِ حق كا كام معتدل انداز ميں نهيں هوسكتا تھا۔ يه صورتِ حال ايك سياسى سبب كى بنا پر تھي۔ قديم زمانے كے حكمراں اپنا حقِ حكمرانى (mandate) مذهب كى بنياد پر حاصل كرتے تھے، اِس ليے وه اِس كو برداشت نهيں كرتے تھے كه اُن كے علاقے ميں سلطنت كے مذهب كے سوا كوئى اور مذهب پايا جائے۔ مذكوره آيت (9:33) ميں اظهارِ دين كا ايك پهلو يه تھا كه حقِ حكمرانى كے معاملے كو مذهب سے جدا كرديا جائے۔ دورِ اول ميں جو اسلامى انقلاب آيا، اُس نے تاريخ ميں ايك نيا عمل (process) جارى كيا۔ يورپ كى جمهوريت اِسى عمل كى تكميل هے۔ مغربى جمهوريت نے يه كيا كه حقِ حكمرانى كے معاملے كو مذهب سے الگ كركے اس كو عوامى رائے سے وابسته كرديا۔ اِس كے نتيجے كے طور پر دنيا ميں پهلى بار مذهبى امن كا دور آگيا۔ اِس دور كى باقاعده تكميل اقوامِ متحده كى صورت ميں هوئي۔ جس كے تحت مذهب كے معاملے ميں تشدد كو بطور اصول ممنوع قرار دے ديا گيا۔ يه واقعه اپنى نوعيت كے اعتبار سے گويا دورِ جديد ميں حكمتِ حديبيه كى عالمى توسيع هے جو اسلامى دعوت كے حق ميں ايك عظيم نعمت كى حيثيت ركھتى هے۔
7۔ مغربى دنيا كے سيكولر اهلِ علم نے اسلام كا مطالعه اپنے اصول كے مطابق، خالص موضوعى انداز ميں كيا۔ اِس بنا پر وه اسلام كے كئى ايسے پهلو كو دريافت كرسكے جو مسلم اهلِ علم سے اعتقادى مطالعے كى بنا پر مخفى تھے۔ مثلاً پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كو اپنے مشن كے سلسلے ميں غير معمولى مخالفت كا سامنا كرنا پڑا۔ اِس مقابلے ميں پيغمبر اسلام كو غير معمولى كاميابى حاصل هوئي۔ اِس كاميابى كو مسلم اهلِ علم عام طورپر ’’فضيلت رسول‘‘ كے خانے ميں ڈالے هوئے هيں۔ اِس كاميابى كو فضيلتِ رسول كے خانے ميں ڈالنے كا نقصان يه هے كه عام مسلمانوں كو اس سے كوئى سبق نهيں ملا۔ اِس طريقِ مطالعه سے عام مسلمانوں كو صرف فخر كى غذا ملي۔ وه اپنے پيغمبر كو ’’فخرِ موجودات‘‘ كهنے لگے۔
ليكن مغرب كے سيكولر اهلِ علم نے اِن واقعات كا تجزيه غير جانب دارانه ذهن كے ساتھ كيا تو انھوں نے ايك ايسى حقيقت دريافت كى جس ميں تمام مسلمانوں، بلكه تمام انسانوں كے ليے كاميابى كا اعلى اصول موجود تھا۔ مثلاً ايك برٹش رائٹر (E.E. Kellet)نے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے تذكرے كے تحت لكھا هے كه— انھوں نے مشكلات كا مقابله اِس عزم كے ساتھ كيا كه وه ناكامى سے كاميابى كو نچوڑيں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32, Middlesex)
other sourceWords of another person or source
يه صرف ايك تاريخى تجزيه نهيں، اِس سے زندگى كا ايك اهم اصول دريافت هوتا هے، وه يه كه انسان كو اُن كے خالق نے ايك انوكھى صلاحيت كے ساتھ پيدا كياهے، اور وه هے اپنے مائنس كو اپنے پلس ميں تبديل كرلينا۔
انسانى شخصيت كا يه امكان (potential)فطرت كا ايك عظيم عطيه هے۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے اپنے عمل كے ذريعے اِس انسانى فطرت كا ايك كامياب مظاهره كيا، مگر مسلمان اپنے عقيدت مندانه مطالعے كى بنا پر اِس پهلو كو بطور سنتِ رسول اپنى زندگيوں ميں شامل نه كرسكے۔ مغربى سيرت نگاروں نے سيرت نبوى كے اِس پهلو كو دريافت كركے مسلمانوں كو يه موقع ديا كه وه اس كو اختيار كريں اور اس كے ذريعے اپنے منصوبوں كو حقائق كى بنياد پر قائم كركے اس كو كامياب بنائيں۔
شهادتِ اعظم
مغربى تهذيب كا دينِ خداوندى كے حق ميں سب سے بڑا تائيدى رول يه هے كه اس نے اهلِ اسلام كے ليے وه ضرورى اسباب فراهم كيے جن كو استعمال كركے وه دورِ آخر كے اُس اهم ترين رول كو كاميابى كے ساتھ ادا كرسكيں، جس كو حديث ميں شهادتِ اعظم كها گيا هے۔ شهادتِ اعظم سے مراد دعوتِ اعظم هے۔ اِس دعوتِ اعظم كے دو پهلو هيں— نظرى اعتبار سے، اس كا اعلى حجت (superior reason) پر قائم هونا، اور وسعت كے اعتبار سے، اس كے دائرے كا عالمى (global)هونا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صحيح مسلم ميں ايك لمبى روايت آئى هے۔ اِس روايت ميں دورِ آخر كے ايك اهم رول كا ذكر بطور پيشين گوئى كياگيا هے۔ اِس كى بابت حديث ميں يه الفاظ آئے هيں قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَهٰذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ (صحيح مسلم، حديث نمبر 2938)۔ يعنى، رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه يه الله رب العالمين كے نزديك سب سے بڑى شهادت هوگي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حديث پر غور كرنے سے معلوم هوتا هے كه اِس ميں ’شهادت‘ سے مراد جسمانى قتل نهيں هے، بلكه اُس سے مراد نظرياتى معنوں ميں ايك عظيم دعوتى رول هے جو دورِ آخر ميں انجام پائے گا۔ غالباً اِس سے مراد انسانى تاريخ كے آخرى زمانے كا ايك فائنل دعوتى رول هے۔ اِس دعوتى رول كى صراحت اگر چه حديث ميں موجود نهيں هے، ليكن قرآن وحديث ميں ايسے اشارات موجود هيں جن پر غور كركے اِس رول كو متعين كيا جاسكتا هے۔
1۔ شهادتِ اعظم كے نظرى پهلو كو سمجھنے كے ليے قرآن كى اِس آيت سے رهنمائى ملتى هے سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَق(41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن كى اِس آيت ميں ’آيات‘ سے مراد تخليق ميں چھپى هوئى نشانياں هيں۔ ان نشانيوں كو موجوده زمانے ميں مغربى سائنس دانوں نے غير معمولى تحقيق كے ذريعے دريافت كيا۔ اِس طرح دينِ خداوندى كى تاريخ ميں ايك نيا دور آگيا۔ قبل از سائنس دور (pre-scientific era)ميں جو ايمان پيغمبروں كے بتائے هوئے عقيده (belief) كى حيثيت ركھتا تھا، وه بعد از سائنس دور (post-scientific era) ميں خود انسان كے اپنے دريافت كرده علوم كے تحت ايك ثابت شده حقيقت بن گيا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس كى ايك مثال يه هے كه قديم زمانے ميں كائنات ايك پر اسرار ظاهره بنى هوئى تھي۔قديم زمانے ميں نه عالمِ اكبر (macro world) كو ديكھنے كے ليے دور بين موجود تھى اور نه عالمِ اصغر (micro world) كو ديكھنے كے ليے خورد بين دستياب تھي۔ موجوده زمانے ميں اعلى سائنسى نوعيت كے مشاهدے اور تجربے كے ذريعے يه معلوم هوا كه كائنات ميں نهايت اعلى درجے كى ذهين ڈيزائن موجود هے۔ يه دريافت اِس مذهبى تصوركو يقينى بناديتى هے كه يه كائنات ايك باشعور خالق كى ايك باشعور تخليق هے۔ ملاحظه هو
The Intelligent Universe by Fred Hoyle
2۔ شهادت كا دوسرا پهلو وه هے جس كا تعلق عالمى دعوت (global dawah) سے هے۔ اسلام اول دن سے سارے انسانوں كے ليے ايك دينِ رحمت كى حيثيت ركھتا تھا، ليكن اسلام كے پيغام كو سارے انسانوں تك پهنچانا قديم زمانے ميں ذ رائع كے اعتبارسے عملاً ممكن نه تھا۔ موجوده زمانے ميں مغربى سائنس نے پهلى بار اُن تمام ذرائع كو انسان كى دسترس ميں دے ديا جن كو استعمال كركے اسلام كى عالمى دعوت كو ايك واقعه بنايا جاسكتا هے۔
اِس كى ايك مثال موجوده زمانے ميں اُس ذريعے كى ايجاد هے جس كو اليكٹرانك كميونكيشن كهاجاتا هے۔ يه دريافت اب نهايت ترقى يافته سائنس بن چكى هے۔ اِس دريافت كا ايك جز موبائل فون هے۔ اِس دريافت كے تحت موجوده زمانے ميں وه آله تيار هوگيا هے جس كو اسمارٹ فون (smartphone) كهاجاتاهے۔ يه اتنا چھوٹا هوتا هے كه هر آدمى اس كو اپنى جيب ميں ركھ سكتا هے۔ اسمارٹ فون ميں بظاهر لامحدود گنجائش (capacity) هوتى هے۔ موجوده زمانے ميں تمام بڑے بڑے ادارے اپنے كتابوں كو اپ لوڈ كركے انٹرنيٹ اور اسمارٹ فون پر ڈال رهے هيں۔
اِس دريافت نے ايك نئے دعوتى امكان كو واقعه بنا ديا هے۔ اب يه ممكن هوگيا هے كه قرآن كے ترجمے مختلف زبانوں ميں تيار كيے جائیں۔ يه ترجمے ايسى زبان ميں هوں جو قارى كے ليے به آسانى قابلِ فهم هوں۔ پھر قرآن كے اِن ترجموں كو انٹرنيٹ پر ڈال ديا جائے اِس كے بعد زمين پر بسنے والے هر انسان كے ليے يه ممكن هوجائے گا كه وه اپنى جيب سے اسمارٹ فون نكالے اور اس كے ايك سوئچ كو ٹچ كرے اور پورے قرآن كا ترجمه اس كى اپنى قابلِ فهم زبان ميں اس كے سامنے آجائے۔دعوت كا يه عالمى ذريعه آج مغربى سائنس كى بناپر عملاً ايك واقعه بن چكا هے۔
غالباً دورِ آخر كايهى وه دعوتى امكان هے جس كا ذكر بطور پيشين گوئى ايك حديثِ رسول لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِيزٍ أوۡذُلِّ ذَلِيلٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814) ميں كيا گيا هے۔یعنی، دنیا کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں اللہ تعالی اسلام کا کلمہ (کلمۃ الإسلام) پہنچا دے گا، خواہ انسان چاہے یا نہ چاہے۔ اِس حديث ميں ’كلمهٔ اسلام‘ سے مراد قرآن هے۔ يه ايك قابلِ غور بات هے كه حديث ميں ’إِدْخَالُ الْكَلِمَةِ فِي كُلِّ الْقُلُوبِ‘ ( ہر دل میں کلمۂ اسلام کا داخل ہونا) كا لفظ نهيں آيا هے، بلكه حديث ميں ’إِدْخَالُ الْكَلِمَةِ فِي كُلِّ الْبُيُوتِ‘ (ہر گھر میں کلمۂ اسلام کا داخل ہونا) كا لفظ آيا هے۔ اِس كا مطلب واضح طورپر يه هے كه ايسا نهيں هوگا كه كرهٔ ارض پر بسنے والے تمام لوگ اسلام ميں داخل هوجائيں، بلكه جو واقعه هوگا، وه يه كه هرچھوٹے بڑے گھر ميں جهاں كوئى انسان رهتا هے، وهاں قرآن داخل هوجائے گا، خواه انسان چاهے يا نه چاهے۔ مذكوره حديث كے آخر ميں عزت اورذلت كے الفاظ اپنے لفظى معنى ميں نهيں هيں، بلكه وه اِسى معنى ميں هيں كه آدمى چاهے يا نه چاهے، هر حال ميں ايسا هوگا كه خدا كا كلام اس كے گھر ميں داخل هوجائے گا— انٹرنيٹ اور اسمارٹ فون كى ايجاد كے بعد يهى واقعه اپنى كامل صورت ميں عملاً ظهور ميں آگيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت ابراهيم كى امامت
حضرت ابراهيم تقريباً چار هزار سال پهلے عراق ميں پيدا هوئے۔ وه تينوں سامى مذاهب — يهوديت، عيسائيت اور اسلام كے مشترك پيشوا مانے جاتے هيں۔حضرت ابراهيم كے بارے ميں قرآن ميں عالمى امامت كا اعلان ان الفاظ ميں كياگياهے وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَاماً(2:124)۔ يعنى، جب ابراهيم كو اس كے رب نے كئى باتوں ميں آزمايا تو ابراهيم نےاُن كو پورا كردكھايا۔ الله نے كهاميں تم كو تمام انسانوں كا امام بناؤں گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت ابرهيم كا ذكر بائبل (عهد نامه قديم) ميں تفصيل كے ساتھ آيا هے۔ حضرت ابراهيم كى امامت كے بارے ميں قرآن كى مذكوره آيت ميں جو بات كهى گئى هے، وه بائبل ميں بھى ان الفاظ ميں آئى هے— اور زمين كى سب قوميں اس كے وسيلے سے بركت پائيں گي
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
All the nations of the earth shall be blessed in him. (Genesis 18:18)
other sourceWords of another person or source
قرآن اور بائبل كے بيان سے معلوم هوتاهے كه الله تعالى نے حضرت ابراهيم كو عالمى امامت كا درجه ديا۔ يه عالمى امامت كيا تھي، اس كے بارے ميں يهودى علما ،مسيحى علما اور مسلم علما تقريباً سب كے سب بے خبرى ميں مبتلا هيں۔ وه اِس كو صرف ايك پراسرار (mysterious) مفهوم ميں ليے هوئے هيں، حالانکہ يه ايك تاريخى واقعه تھا۔ اس كى عظمت صرف اُس وقت واضح هوتى هے جب كه اس كو تاريخ كى زبان ميں بيان كيا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
منصوبه تخليق
اصل يه هے كه الله تعالى نے انسان كى تخليق كے بعد انسانى نسلوں كى هدايت كے ليے اولاً پيغمبربھيجنا شروع كيا۔ حضرت آدم سے لے كر حضرت ابراهيم تك بڑى تعداد ميں پيغمبر آئے، ليكن دنيا ميں مطلوب حالت قائم نه هوسكي۔ وه مطلوب حالت يه تھى كه ايك طرف، دينِ خداوندى كا مستند متن محفوظ هوجائے۔ اور دوسرى طرف انسان كودينِ خداوندى كے معاملے ميں كامل آزادى حاصل هو۔ دين كے معاملے ميں كسى بھى قسم كى ركاوٹ باقى نه رهے۔مگر مختلف اسباب كے تحت ايسا هوا كه انسانى زندگى ميں ايك برعكس حالت قائم هوگئي۔ اِس كو ايك لفظ ميں، استبداديت (despotism) كها جاسكتا هے۔ اِس كے نتيجے ميں دنيا ميں هرجگه انسانى زندگى ميں استبدادى ماڈل (despotic model) رائج هوگيا۔ اِس ماڈل كے تحت انسانى زندگى كے تمام معاملات مُستَبِد حكمراں (despotic rulers) كے تحت آگئے۔ يه مستبد حكمراں اپنےمزاج كے تحت هر نئى چيز كے دشمن هوتے تھے۔ وه هر نئى تحريك كو پورى طاقت سے كچل ديتے تھے، تاكه لوگوں كے اوپر ان كى حكمرانى غيرمشروط طورپر قائم رهے۔
اِسى نظام كا ايك ظاهره وه تھا جس كو قرآن ميں فتنه (8:39)كهاگيا هے۔ اِس ظاهرے كا سيكولر نام مذهبى جبر هے۔ اِسى مذهبى جبر كى بنا پر قديم زمانے ميں لوگوں كو مذهب توحيد اختيار كرنے كى اجازت نه تھي، كيوں كه وه حكمراں كے اختيار كرده مذهب كے خلاف هوتا تھا۔ اِسى بنا پر قديم زمانے ميں موحدين كو قتل كرديا گيا يا آگ ميں جلاديا گيا۔اِسى بنا پر اصحاب كهف (Seven Sleepers) اپنى بستى كو چھوڑ كر ايك غار ميں پناه لينے پر مجبور هوئے، وغيره۔ قديم زمانے ميں اِس قسم كے جو شديد واقعات پيش آئے، اس كا سبب كوئى سياسى اختلاف نه تھا، بلكه اس كا سبب تمام تر صرف مذهبى اختلاف تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نيا عمل
حضرت ابراهيم كے زمانے ميں الله نے تاريخ ميں ايك نيا عمل (process)جارى كيا۔ يه عمل انسان كى آزادى كو منسوخ كيے بغير كيا گيا۔ اِسى كے ساتھ اسباب كے ماحول كو پورى طرح برقرار ركھا گيا۔ اِس صورتِ حال كى بنا پر اِس خدائى عمل كے ساتھ ايك شبه كا عنصر (element of doubt) شامل هوگيا۔ يهى وجه هے كه مذاهب ثلاثه كے علما خداكے اِس منصوبے كو سمجھ نه سكے۔ حضرت ابراهيم كى امامت كا معامله علماءِ مذاهب كے ليے ايك پراسرار معامله بنا رها۔
مذاهبِ ثلاثه كے علما اِس معاملے ميں كنفيوژن كا شكار هيں۔ وه اِس واقعے كى كوئى ايسى توجيهه دريافت نه كرسكے جو اِس معاملے ميں اُن كو يقين پر كھڑا كرنے والى هو۔ انھوں نے اپنے ذهنى سانچه (mind-set)كے اعتبار سے، بعض توجيهات كيں، مگر انھوں نے ديكھا كه اِن توجيهات كو تاريخ كى تصديق حاصل نهيں هورهى هے، اس ليے وه اِس معاملے ميں كنفيوژن كا شكار هو كر ره گئے۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
مثلاً كچھ لوگوں نے كها كه حضرت ابراهيم كے ذريعه دنيا كو توحيد كى مستند آئڈيالوجى ملي۔ مگر يه بات حقيقتِ واقعه كے خلاف هے، كيوں كه دنيا كو توحيد كى آئڈيالوجى قرآن كے ذريعے حاصل هوئي، نه كه صُحفِ ابراهيم (87:19) كے ذريعے، جو كه عملاً اب گم شده صحائف كى حيثيت ركھتے هيں۔ كچھ لوگوں نے يه كها كه حضرت ابراهيم كے ذريعے سارى دنيا ميں خدائى حكومت قائم هوئي، مگر تاريخ ميں ايسے كسى واقعے كا ذكر نهيں جب كه سارى دنيا ميں خدائى حكومت قائم هو اور حضرت ابراهيم اس ميں صدر كى حيثيت ركھتے هوں، وغيره۔ اِس قسم كى تمام توجيهات لوگوں كے اپنے ذهن كى پيداوار هيں، اُن كا خدا كے نقشهٔ تخليق سے كوئى تعلق نهيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے ميں خدا كا منصوبه كيا تھا، اس كو قرآن اور حديث كے مطالعے سے معلوم كيا جاسكتا هے۔ قرآن كى سورۃ المائده ميں ايك آيت آئى هے جس كو اكمالِ دين (5:3) كى آيت كها جاتا هے۔ اِس آيت ميں اكمالِ دين سے مراد شرعى احكام كى فهرست كا مكمل كرنا نهيں هے، بلكه اِس سے مراد اهلِ دين كے ليے خوف كى حالت كا خاتمه هے۔ يهى وه بات هے جس كو آيت ميں اِن الفاظ ميں كهاگيا هے اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْن(5:3)۔ يعنى، آج منكرين تمھارے دين كى طرف سے مايوس هوگئے، پس تم اُن سے نه ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى مذكوره آيت ميں كسى وقتى واقعے كا ذكر نهيں هے، اِس ميں ايك تاريخى حقيقت كا اعلان كياگياهے۔ يه آيت حجة الوداع (10هجري) كے موقع پر نازل هوئي۔ اِس آيت كا نزول دراصل تاريخ كے ايك دور كے خاتمے اور تاريخ كے دوسرے دو ركے آغاز كا اعلان تھا۔ يه اعلان اب پورى طرح واقعه بن چكا هے۔ اگر چه اهلِ مذاهب اپنے خود ساخته ذهن كى بنا پر اِس حقيقت سے بے خبر رهے۔
اسباب اور انسانى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے جو خدائى منصوبه بندى كى گئى ، اس كا خاص نشانه يه تھا كه دنيا ميں مذهبى جبر كا مكمل خاتمه هوجائے، هر انسان كو يه موقع هو كه وه مذهب كے معاملے ميں اپنے انتخاب (choice) كے ليے مكمل طورپر آزاد هوجائے۔ يه منصوبه بندى مكمل طورپر ايك غيرسياسى منصوبه بندى تھي۔ اس كا سياست سے كوئى تعلق نه تھا، نه نظرى اعتبار سے اور نه عملى اعتبار سے۔
حضرت ابراهيم كے ذريعے جومنصوبه بندى كى گئي، اس كے دو پهلو تھے — ايك يه تھا كه مطلوب صورتِ حال كا ايك ابتدائى نمونه (prototype) تيار كرنا۔ اس كا دوسرا پهلو يه تھا كه انسان كى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے تاريخ ميں ايسا عمل (process) جارى كرنا جو آخر كار ايك نئے دور كو وجود ميں لائے، جب كه مذكوره ابتدائى اور وقتى نمونه ايك عالمى انقلاب كى صورت اختيار كرلے اور اِس طرح تمام دنيا كے انسانوں كے ليے عمومى طورپر اور مستقل طورپر يه امكان كھل جائے كه وه كسى بھى جبر كے بغير هر قسم كى مذهبى سرگرميوں كے ليے آزاد هوں۔ اپنے ذاتى عقيدے كے معاملے ميں بھى اور دوسروں كے درميان اپنے عقيدے كى اشاعت كے معاملے ميں بھي۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
وه چيز جس كو اوپر ابتدائى نمونه (prototype) كها گياهے، اس كى مثال حضرت يوسف كے ذريعے قائم كى گئي۔ حضرت يوسف، حضرت ابراهيم كے گريٹ گرينڈ سن (great grandson) تھے۔ وه فلسطين اور شام كے درميان ايك گاؤں (كنعان) ميں پيدا هوئے۔ اس زمانے ميں مصر ايك ترقى يافته ملك تھا۔ يهاں ايك خاندان حكومت كرتا تھا، جس كو هكساس بادشاه (Hyksos Kings) كهاجاتا هے۔ حضرت يوسف كے زمانے ميں يهاں جو بادشاه حكومت كررها تھا، اس كا نام يه تھا— اپوفس (Apophis)۔ يه بادشاه استثنائى طورپرايك منفرد مزاج كا آدمى تھا۔ وه شخصى طور پر ايسى صفات كا حامل تھا جو مطلوب منصوبے كے ليے ايك موزوں كردار كى حيثيت ركھتى تھيں۔ يهى وجه هے كه خدائى منصوبے كے تحت حضرت يوسف كو كنعان سے نكال كر قديم مصر كى راجدھانى ممفس (Memphis) پهنچايا گيا۔ يهاں ايسے اسباب پيدا هوئے جن كے تحت حضرت يوسف اُس وقت كے مصرى بادشاه كے دربار ميں پهنچے۔ بادشاه حضرت يوسف كى صلاحيت سے اتنا زياده متاثر هوا كه اُس نے اپنے ايك فيصلے كے تحت، حضرت يوسف كو مصر كے خزائن (وسائل ارض) كا انچارج بناديا (یوسف،12:55)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حضرت يوسف كا يه قصه قرآن اور بائبل دونوں ميں يكساں طورپر تفصيل كے ساتھ بيان كياگياهے۔ اِس سلسلے ميں بائبل كا بيان يه هے كه بادشاه نے كها— ميرى سارى رعايا تيرے حكم پر چلے گي۔ فقط تخت كا مالك هونے كے سبب ميں بزرگ تر هوں گا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Only in regard to the throne, I will be greater than you. (Genesis 41:40)
other sourceWords of another person or source
حضرت يوسف كے ذريعے مصر ميں جو مثال قائم هوئي، وه دراصل اُس عمومى اور عالمى حالت كا ايك ابتدائى نمونه تھا جو حضرت ابراهيم كے جارى كرده تاريخى عمل كے نتيجے ميں بعد كو زياده بڑے پيمانے پر قائم هونے والا تھا۔ حضرت يوسف كے ذريعے قديم مصر ميں يه مثال قائم هوئى كه اگر حاكم كے محدود سياسى اقتداركو تسليم كرلياجائے اور اُس سے كوئى تعرض نه كيا جائے تو كس طرح ايك انسان كے ليے هر قسم كے مذهبى دروازے كھل جاتے هيں۔ يه گويا سياسى اداره (political institution) اور غير سياسى اداروں (non-political institutions) كے درميان علاحدگى كا معامله تھا۔ يه علاحدگى الله كے منصوبے كےعين مطابق تھي۔ يهى وجه هے كه اِس معاملے كو قرآن ميں احسن القصص (12:3) كهاگيا هے، يعنى بهترين قصه (best story) ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن كى اِس آيت ميں ’’بهترين قصه‘‘ سے مراد دراصل بهترين ماڈل (best model) هے۔ الله تعالى كے نزديك انسان كى اجتماعى زندگى كا بهترين ماڈل وهى هے جس كا ايك ابتدائى نمونه حضرت يوسف كے ذريعے ساڑھے تين هزار سال پهلے قديم مصر ميں قائم كياگيا۔ اِس معاملے كو دوسرے الفاظ ميں، اِس طرح كها جاسكتا هے كه قديم مستبدانه ماڈل (despotic model) كى جگه جمهورى ماڈل (democratic model) كو دنيا ميں رائج كرنا۔ كچھ لوگ جمهورى نظام كو لادينى نظام كهتے هيں، مگر يه درست نهيں۔ جديد جمهورى نظام دراصل سيكولرزم كے اصول پر قائم هے۔ اس كے مطابق، جمهوريت عدم مداخلت كى پاليسى (policy of non-interference) كا دوسرا نام هے، يعنى سياسى اقتدار كے ادارے كا اِس پر راضى هوجانا كه وه اپنے حدود كو انتظاميه (administration) تك محدود ركھے گا۔ انتظامِ ملكى سے باهر جو ادارے هيں، وه اپنے دائرے ميں مكمل طورپر آزاد هوں گے۔ مثلاً تعليم، صحافت، اشاعتى ادارے، اقتصادى سرگرمياں، مذهب، دعوت وتبليغ، وغيره۔ اِس ميں وه تمام پُرامن سرگرمياں شامل هيں جن كو موجوده زمانے ميں غير سياسى سرگرمياں (non-political activities) يا اين جى اوز (NGOs) كى سرگرمياں كها جاتا هے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
نئى نسل كى تياري
اِس سلسلے ميں دوسرى زياده بڑى منصوبه بندى جو حضرت ابراهيم كے ذريعے چار هزار سال پهلے شروع كى گئي، اس كا مركز قديم مكه تھا۔ حضرت ابراهيم نے اپنى ايك دعا ميں يه الفاظ كهے تھے رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيْراً (14:36)۔ یعنی، اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا۔اِن الفاظ ميں دراصل اُس دور كا ذكر تھا جس كو ماقبل ابراهيم دور (pre-Abraham age)كها جاسكتا هے۔ اِس قديم دور ميں شرك تمام انسانى آباديوں ميں ايك عمومى كلچركى حيثيت اختيار كرچكا تھا، حتى كه تاريخ ميں اس كا تسلسل قائم هوگيا۔ مزيد يه كه مشركانه كلچر كو قديم زمانے كى حكومتوں كى مكمل حمايت حاصل تھي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حكومتى حمايت كى بناپر ايك شديد تر صورتِ حال پيدا هوگئي۔ وه تھا— اعتقادى شرك كے ساتھ اس ميں حكومتى تشدد كا شامل هوجانا۔ اعتقادى شرك اور سياسى اقتدار كے اِس اتحاد كى بنا پر وه صورتِ حال پيدا هوئى جس كو مذهبى جبر (religious persecution) كهاجاتا هے۔
اِس نظامِ جبر كو ختم كر كے نظامِ آزادى كو دنيا ميں لانا ايك لمبا تاريخى منصوبه تھا۔ اِس كے ليے صرف آئڈيالوجى كافى نهيں تھي، اِس كے ليے ضرورت تھى كه ايك مطلوب ٹيم وجود ميں آئے۔ يه ٹيم ايك آئيڈيالوجى كے تحت متحد هو، تمام ضرورى شرطوں كو اختيار كرتے هوئے يه ٹيم ايك همه گير جدوجهد كرے، وه انسانى تاريخ ميں ايك نئے انقلابى عمل (revolutionary process) كا آغاز كرے، انسان كى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے وه اپنا سفر شروع كرے اور پھر الله كى خصوصى تدبير (management) كے ذريعے وه اپنے منتها (culmination) تك پهنچ جائے۔ اٹھارھويں صدى ميں جو سياسى انقلاب آگيا اور جس كے نتيجے ميں جمهورى ماڈل دنيا ميں رائج هوا، وه حضرت ابراهيم كے ذريعے جارى كرده اِسى عمل كى تكميل كى حيثيت ركھتا تھا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رسول اور اصحابِ رسول كى مثال
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى وفات 632 عيسوى ميں هوئى ۔ اُس وقت سارا عرب اسلام كے ماتحت آچكا تھا۔ پيغمبر اسلام اِس عرب رياست كے سربراه تھے۔ آپ نے ايك با اختيار صدر مملكت كى حيثيت سے يه اعلان كيا كه لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِأَعْجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى(مسند احمد،حدیث نمبر 23489)۔ يعنى، كسى عربى كو كسى عجمى پر كوئى فضيلت نهيں اور نه كسى عجمى كو كسى عربى پر كوئى فضيلت هے۔ كسى سفيد فام كو كسى سياه فام پر كوئى فضيلت نهيں، اور نه كسى سياه فام كو كسى سفيد فام پر كوئى فضيلت هے، سوا تقوى كے۔يه تاريخ ميں حصولِ جمهوريت كا پهلا باضابطه اعلان تھا۔ اِس رياستى اعلان كا مطلب يه تھا كه نظرياتى اعتبار سے، اب غير جمهورى دور كا خاتمه هوگيا اور جمهورى دور كا اصولى طورپر آغاز هوگيا۔ اِس طرح تاريخ ميں ايك نيا عمل شروع هوا جو انسانى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے بتدريج بعد كى تاريخ ميں جارى رها۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسى اعلانِ جمهوريت كاايك عملى مظاهره وه تھا جو اِس اعلان كے تقريباً 10 سال بعد حضرت عمر فاروق كى خلافت كے زمانے ميں پيش آيا۔اُس وقت حضرت عمر كى خلافت كے زمانے ميں مصر كا ملك مدينه كى رياست ميں شامل هوچكا تھا۔اُس وقت مصر ميں ايك واقعه هوا، وه يه كه ايك عرب مسلمان اور ايك مصرى مسيحى كے درميان ايك مسئلے پر نزاع هوئي۔ عرب مسلمان جو گورنر كا بيٹا تھا، اس نے مسيحى كو كوڑا مار ديا۔ يه مسيحى مصر سے چل كر مدينه آيا۔ اُس نے خليفه عمر فاروق سے شكايت كي۔ خليفه نے گورنر اور اس كے بيٹے دونوں كو مدينه بلوايا۔ جب وه لوگ آگئے تو خليفه نے مصر كے مسيحى كو ايك كوڑا ديا اور كها كه گورنر كے بيٹے كو مارو۔ مسيحى نے كوڑا اپنے هاتھ ميں ليا اور گورنر كے بيٹے كو مارنا شروع كيا۔ جب وه اچھى طرح مار چكا تو اس كے بعد خليفه نے مذكوره عرب مسلمان كے باپ عمروبن العاص كو مخاطب كرتے هوئے كها مُذْ كَمْ تَعَبَّدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا (فتوح مصر والمغرب لابن عبد الحكم، صفحہ 195)۔ يعنى، اے عمرو، تم نے كب سے لوگوں كو غلام بناليا، جب كه ان كى ماؤں نے اُن كو آزاد پيداكيا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جس وقت يه واقعه هوا، اُس وقت خلافت ايك ايمپائر بن چكى تھى جس كے حدودِ مملكت ايشيا سے افريقه تك پھيلے هوئے تھے۔ ايسى حالت ميں خليفه كے الفاظ محض ايك شخص كے الفاظ نه تھے، بلكه وه وقت كى سب سے بڑى سلطنت كى طرف سے گويا بين الاقوامى پاليسى كا اعلان تھا۔ يه پاليسى تاريخ ميں سفر كرتى رهي۔ انسانى آزادى كو برقرار ركھتےهوئے وه تاريخ كو ايك نيا شيپ (shape) ديتى رهي، يهاں تك كه يه عمل يورپ تك پهنچ گيا۔ فرانس كے مشهور جمهورى مفكر روسو (J.J. Rousseau) كى كتاب سوشل كنٹريكٹ (Social Contract) 1762ميں شائع هوئي۔ اِس كتاب ميں جمهوريت (democracy) كى آئڈيالوجى كو پيش كياگيا تھا۔ روسو نے اپنى كتاب كا آغاز جس جملے سے كيا، وه گويا خليفه عمر فاروق كے مذكوره قول كا اعاده تھا۔ روسو كى كتاب كا ابتدائى جمله يه تھا— انسان آزاد پيدا هوا تھا، مگر ميں اس كو زنجيروں ميں جكڑا هوا ديكھتا هوں
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Man was born free, but I see him in chains.
جمهوريت كى يه تحريك 1789ء ميں ايك باقاعده سياسى واقعه بن گئي، جب كه يورپ ميں وه واقعه پيش آيا جس كو انقلاب فرانس (French Revolution)كهاجاتا هے۔ انقلاب فرانس نے اصولى طور پر بادشاهت (kingship)كے نظام كا خاتمه كرديا اور جمهوريت كو ايك سياسى نظام كى حيثيت سے بالفعل قائم كرديا۔ يه تاريخى عمل 1948ميں آخرى طورپر مكمل هوگيا، جب كه اقوامِ متحده (UNO) كا باضابطه قيام عمل ميں آيا اور دنيا كى تمام قوميں باضابطه طورپر اقوامِ متحده كى ممبر بن گئيں۔ اِس ادارے كے تحت دنيا كى تمام قوموں نے اِس عهد نامے پر دستخط كردئے۔ اِس كا مطلب يه تھا كه استبدادى ماڈل اب آخرى طورپر غير مطلوب ماڈل قرار پاگيا اور جمهورى ماڈل كو عملاً مسلمه ماڈل كى حيثيت دے دى گئي۔
جمهورى ماڈل
جمهوريت كى تعريف (definition) عام طور پر اِس طرح كى جاتى هے — عوام كى حكومت، عوام كے ذريعے، عوام كے ليے
Government of the people, by the people, for the people
يه تعريف جمهوريت كے صرف ظاهرى ڈھانچے كو بتاتى هے۔ اِس سے يه معلوم نهيں هوتا كه جمهوريت كے حقيقى فوائد كيا هيں اور انسانى زندگى كے حق ميں اس كے دور رس نتائج كيا پيدا هوئے۔ جمهوريت اپنى اصل حقيقت كے اعتبار سے، اُس سے بهت زياده هے جيسا كه وه مذكوره تعريف كے مطابق، نظر آتى هے۔
جمهوريت كا اصل فائده يه هے كه اس نے اُن تمام ركاوٹوں كو ختم كرديا جو قديم غير جمهورى نظام كے تحت انسان پرعائد تھيں۔ جمهوريت نے كامل معنوں ميں، انسان كو فكر وخيال كى آزادى دے دي۔ انسان اپنے فطرى وجود كے اعتبار سے، امكانات كى ايك كائنات اپنے اندر ركھتا هے۔ اِن انسانى امكانيات (potentials) كو انفولڈ (unfold) كرنے كے ليے صرف ايك چيز كى ضرورت هے اور وه هے كامل آزادي۔ قديم زمانے ميں اِس انسانى آزادى پر پابندى لگى هوئى تھي، اِس كا يه نتيجه تھا كه قديم زمانے ميں انسان كوئى بڑى ترقى نه كرسكا، نه مذهبى اعتبار سے اور نه سيكولر اعتبار سے۔
موجوده زمانے ميں جمهوريت كا دور آيا تو اسى كے ساتھ كامل آزادى كا دور آگيا۔ اِس آزادى كا نتيجه يه هوا كه انسان كى تمام فطرى صلاحيتيں انفولڈ هونے لگيں۔ وه تمام ترقياں جن كے مجموعے كو تهذيب (civilization) كهاجاتا هے، وه دراصل اِسى انفولڈنگ (unfolding) كا نتيجه هيں۔ اِسى كے نتيجے ميں يه هوا كه دنياميں مذهبى آزادى كا دور آيا۔ فطرت كے اندر چھپى هوئى سائنسى حقيقتوں كى دريافت هوئي۔ انسان كو پرنٹ ميڈيا اور اليكٹرانك ميڈيا كى دولت ملى ۔ تاريخ ميں پهلى بار وه انقلاب آيا جس كو عالمى كميونكيشن (global communication) كهاجاتا هے، وغيره۔
جديد تهذيب كى يه تمام ترقياں اسلام كے عين موافق تھيں۔ انھوں نے دينِ خداوندى كى اشاعت كے ايسے دروازے كھول دیے جو اِس سے پهلے كبھى نهيں كھلے تھے۔ جديدتهذيب نے اِس كو ممكن بنايا كه اسلام كى حقيقتوں كو علمِ انسان كى اعلى سطح پر ثابت شده بنايا جاسكے۔ اِن نئى دريافتوں كى بناپر يه ممكن هوا كه انسان اعلى سطح كى معرفت كا تجربه كرسكے۔ اِسى كے ذريعے يه ممكن هوا كه الله كے پيغام كى اشاعت كا كام كسى ركاوٹ كے بغير عالمى سطح پر انجام ديا جاسكے۔ اِسى جديد تهذيب كى بنا پر تاريخ ميں پهلى بار يه ممكن هوا كه عالمى سطح پر ايك دعوه ايمپائر (Dawah empire) قائم كيا جاسكے، وغيره۔
يه سب كچھ جو دورِ جديد ميں هوا، وه الله كے تخليقى منصوبه (creation plan) كے مطابق هوا۔ وه منصوبه يه هے كه انسان كى آزادى كو هر حال ميں باقى ركھا جائے۔ جو كام بھى كيا جائے، وه انسان كى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے كياجائے۔ خدا كے اِسى تخليقى منصوبے كى بنا پر ايسا هوا كه تهذيبى ترقيوں كے ساتھ انسان كے ليے يه موقع باقى رها كه وه اپنى آزادى كا غلط استعمال كرے، خواه اس كے نتيجے ميں فساد كى صورتيں پيدا هوجائيں۔ يه دوطرفه صورتِ حال موجوده زمانے كے مسلمانوں كى بصيرت كا امتحان تھي۔ يهاں ضرورت تھى كه مسلمانوں كے رهنما اُس صلاحيت كا ثبوت ديں جس كو خدا كى كتاب ميں فرقان (8:29) كهاگيا هے، يعنى ايك چيز كو دوسرى چيز سے الگ كركے ديكھنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس موقع پر مسلم رهنماؤں كو يه كرنا تھا كه وه مغربى تهذيب اور اهلِ مغرب كى قومى سياست دونوں كو ايك دوسرے سے الگ كركے ديكھيں۔ مغربى تهذيب، اپنى حقيقت كے اعتبار سے، مغربى تهذيب نهيں هے، بلكه وه خدائى تهذيب (divine civilization) هے۔ وه فطرت ميں چھپے هوئے خدائى قوانين كى دريافت كے ذريعے وجود ميں آئى هے۔ وه قوانينِ فطرت كا انسانى سطح پر ظهور هے۔ فطرت كے قوانين جب انسانى ٹكنالوجى ميں ڈھل جائيں تو اسى كا نام تهذيب هوتاهے۔ جديد تهذيب كو سمجھنے كے ليے اُسى طرح اس كو مغرب كے قومى پهلو سے الگ كركے ديكھنا چاہیے، جس طرح اسلام كومسلمانوں كے قومى پهلو سے الگ كركے ديكھا جاتاهے۔
دورِ جديد كے مسلم رهنما اگر اِس بصيرت كے حامل هوتے كه وه جديد تهذيب اور مغربى قوم، دونوں كو ايك دوسرے سے الگ كركے ديكھتے تو يقيناً وه پاليتے كه جديد تهذيب اُن كے ليے ايك خدائى نعمت هے، وه حضرت يوسف كے ’احسن القصص‘ كا عالمى اظهار هے، وه حضرت ابراهيم كے جارى كرده عمل (process) كا بر اهِ راست حصه هے، وه پيغمبر اور اصحابِ پيغمبر كے ذريعے لائے جانے والے انقلاب كا تكميلى مرحله هے۔ جديد تهذيب كے ذريعے الله تعالى نے مسلمانوں كے ليے وه عالمى مواقع آخرى حد تك كھول دیے هيں، جب كه پيغمبر اسلام كى ايك پيشين گوئى كو واقعه بنايا جاسكے (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ آپ كى اِس پيشين گوئى كو مختصر طورپر اِس طرح بيان كيا جاسكتا هے— إِدْخَالُ الْكَلِمَةِ فِي كُلِّ الْبُيُوتِ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اوپر كے صفحات ميں تاريخ كا جو جائزه پيش كيا گياهے، اس سے يه بات واضح هوجاتى هے كه وه خدائى منصوبه كيا تھا جس كو قرآن ميں امامتِ ابراهيم كهاگياتھا اور جس كے بارے ميں بائبل ميں يه الفاظ آئے تھے كه— زمين كى سب قوميں اس كے وسيلے سے بركت پائيں گي (پیدائش، 22:18)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس خدائى اعلان كا مطلب يه تھاكه انسانى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے الله تاريخ ميں ايك ايسا عمل (process) جارى كرے گا جو آخر كار اِس انجام تك پهنچے گا كه انسانى زندگى ميں سياسى جبر كا فتنه كامل طورپر ختم هو جائے اور جمهوريت كے تحت ايك ايسا سياسى نظام بنے گا جس ميں دوباره زياده بڑے پيمانے پر اور عالمى سطح پر وه حالت قائم هوجائے گى جو حضرت يوسف كے زمانے ميں قديم مصر ميں وقتى طورپر اور محدود طورپر قائم هوئى تھي، يعنى سياسى حكمراں كا اقتدار ’’تخت‘‘ تك محدود رهے گا۔ ’’تخت‘‘ كے سوا تمام غير سياسى شعبے مكمل طورپر آزاد هوجائيں گے۔ هر انسان كو يه موقع هوگا كه وه كامل معنوں ميں مذهبى آزادى كى فضا ميں جيے۔ وه اپنے چوائس (choice)كے مطابق، جس مذهبى عقيدے كو چاهے، اختيار كرے، وه عبادت كے جس طريقے كو چاهے،اس كے مطابق، عبادت كرے۔ مذهب كى تبليغ واشاعت پر كسى بھى قسم كى كوئى ركاوٹ باقى نه رهے، انسان كو مكمل معنوں ميں مذهبى آزادى حاصل هو، اِس واحد شرط كے سوا كوئى اور شرط اس كے ليے موجود نه هو كه وه دوسرے انسانوں كو كسى بھى قسم كى عملى جراحت (physical injury) نهيں پهنچائے گا۔ انسان كى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے يهى واحد ممكن ماڈل تھا جس كو الله كے منصوبے كے تحت بروئے كار لايا گيا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس مذهبى آزادى ميں يه بات بھى اپنے آپ شامل هے كه تمام مواقعِ كار جوسيكولر لوگوں كو حاصل هوں گے، وه سب كے سب مكمل طورپر اهلِ مذهب كو بھى حاصل هوں گے۔ مواقع كے استعمال ميں مذهبى انسان اورغير مذهبى انسان كے درميان كوئى فرق نهيں كيا جائے گا۔
ايك مسئلے كى وضاحت
انسانى زندگى كى تشكيل كا جو نقشه اوپر بيان كيا گيا هے، بظاهر اس ميں حكومت يا سياسى اقتدار كا معامله شامل نهيں هے، ليكن بالواسطه طورپر وه يقيناً اس ميں شامل هے۔ اِس فرق كا سبب يه هے كه اگر حكومت كے معاملے كو مذكوره نقشه ميں شامل كيا جائے تو پورا خدائى منصوبه تخليق عملاً معطّل هو كر ره جائے گا۔ اِس كا نتيجه يه هوگا كه دونوں شعبوں ميں كوئى مثبت كام نه هوسكے گا، نه عبادت اور دعوت كے شعبے ميں اور نه سياست اور حكومت كے شعبے ميں۔
اِس كا سبب يه هے كه مذكوره دونوں شعبوں كى حيثيت ايك دوسرے سے بالكل مختلف هے۔ عقيده اور عبادت اور دعوت كا معامله اُس ميدان سے تعلق ركھتا هے جهاں آدمى كے ليے يه ممكن هے كه وه پُرامن طورپر اپنى تمام سرگرميوں كو كسى ركاوٹ كے بغير جارى ركھ سكے۔ اِس كے برعكس، سياست كا دائره ايك ايسا دائره هے جهاں داخل هوتے هى فوراً دوسرے فريق سے نزاع پيدا هوجاتى هے۔ سياست كے دائرے ميں هميشه كوئى فرد يا گروه اتھارٹى كى پوزيشن ميں هوتا هے، اِس ليے سياست كے دائرے ميں داخل هونا عملاً پولٹكل اتھارٹى سے ٹكراؤ كے هم معنى بن جاتا هے۔ يه ٹكراؤ اِس ماحول كو ختم كرديتاهے جب كه ايك شخص عقيده اور عبادت اور دعوت كے ميدان ميں موجود مواقع كو استعمال (avail)كرسكے۔
خدا كے منصوبه تخليق ميں اِس مسئلے كا حل يه مقرر كيا گيا كه سياسى اقتداركے شعبے كو عقيده سے وابسته كرنے كے بجائے اس كو سماجى حالات (social conditions) سے وابسته كرديا جائے، يعنى كسى وقت سماج كے جو حالات هوں اور انسانوں كے درميان جس سياسى ڈھانچے پر اتفاق هوسكتا هے، اس كو اختيار كرليا جائے۔ يه صورتِ حال جارى رهے گي، يهاں تك كه سماج كے حالات بدل جائيں اور سياسى ڈھانچے كے بارے ميں كوئى دوسرا نقشه لوگوں كے ليے قابل قبول بن جائے۔
اِس حكمت كو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے وَأمْرُهُمْ شُوْرَى بَيْنَهُمْ (42:38)۔ يعنى، ان كا معامله اُن كے آپس كے مشورے كے تابع هے۔ اِس آيت ميں ’امر‘ سے مراد اقتدار كا معامله هے۔ اِس آيت سے يه اصول اخذ هوتاهے كه سياسى اقتدار كا معامله كسى مخصوص عقيدے كے تابع نه هو، بلكه وه لوگوں كى آزاد رائے كے تابع هو۔ آج كل كى زبان ميں يه كها جاسكتا هے كه سياسى ادارے كا معامله عوامى اليكشن كے تابع هے۔ فرى اينڈ فير اليكشن (free and fair election) كے ذريعے جو لوگ منتخب هوں گے، اُن کو حق هوگا كه وه اُس وقت تك حكومت كا نظام چلائيں جب تك لوگوں كى رائے بدل نه جائے اور سماجى حالات كا يه تقاضا هو كه اقتدار كى زمام كچھ دوسرے لوگوں كے حوالے كى جائے۔يهى وه حقيقت هے جو ايك حديثِ رسول ميں اِن الفاظ ميں بيان كى گئى هے كَمَا تَكُونُونَ؛ كَذٰلِكَ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ ( شعب الایمان للبہیقی، حديث نمبر7006)۔ يعنى، جيسے تم هوگے، ويسے تمھارے حكمراں هوں گے۔ دوسرے الفاظ ميں يه كه حكمراں كا تعين كسى مخصوص عقيدے كى بنياد پر نهيں هوگا، بلكه اس كا تعين لوگوں كى رائے (vote)كے ذريعے كيا جائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه ايك قسم كے سماجى بندو بست (social settlement)كا معامله هے۔ اِس كا فائده يه هے كه زندگى كے دونوں شعبوں (سياسى اور غير سياسي) ميں امن كا قيام ممكن هوجاتاهے۔ عقيده اور عبادت اور دعوت كے ميدان ميں لوگوں كو موقع مل جاتاهے كه وه پُر امن طورپر اپنى تمام سرگرميوں كو جارى ركھيں، وه اپنے حق ميں مواقع كا بھر پور استعمال كريں۔ دوسرى طرف، سماج كے هر گروه كو يه موقع حاصل هوجاتا هے كه وه سماج كے اندر اپنے افكار كى پر امن اشاعت كرسكے اور پھر اگلے اليكشن كے موقع پر، حسبِ حالات، وه اپنى پرامن كوششوں كا فائده اٹھائے— انسانى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے سماجى بندوبست كا اِس سے بهتر كوئى نظام ممكن نهيں۔
خاتمه كلام
جيسا كه عرض كيا گيا، الله تعالى كا يه منصوبه تھاكه انسانى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے تاريخ ميں ايك ايسا عمل (process) جارى كيا جائے جس كے نتيجے ميں سياست كے جبرى ماڈل (despotic model) كا خاتمه هوجائے اور اس كے بجائے سياست كا جمهورى ماڈل (democratic model) عمومى طورپر رائج هوجائے۔ اِس مطلوب ماڈل كا ايك ابتدائى نمونه (prototype) حضرت يوسف كے ذريعه قديم مصر ميں محدود طورپر قائم كياگيا تھا۔ اِسى كے ساتھ حضرت ابراهيم كے ذريعے ايك وسيع تر عمل جارى كيا گيا جو مختلف مراحل سے گزرتے هوئے اپنے منتها تك پهنچا۔ انيسويں صدى اور بيسويں صدى مذكوره ابراهيمى عمل كى تكميل كى صدى هے۔ اب هم اكيسويں صدى ميں هيں اور يه عمل اب اِس حد تك مكمل هوچكا هے كه آج تمام مواقع دعوت الى الله كے حق ميں پورى طرح كھل چكے هيں۔ اب هر اعتبار سے، وه وسائل اور مواقع حاصل هوچكے هيں، جب كه كسى ركاوٹ كے بغير فكرى سطح پر الله كے دين كا عالمى اظهار اپنى مطلوب صورت ميں كيا جاسكے۔
مگر اسلام كى تاريخ كا شايد يه سب سے بڑا الميه هےكه اِس دور ميں جو بڑے بڑے مسلم ذهن پيدا هوئے، وه اِس واقعے سے بالكل بے خبر رهے۔ نتيجه يه هوا كه وه اِس دور ميں پيدا شده عظيم مواقع كو استعمال بھى نه كرسكے۔ اِس الميه كا سبب بنيادى طورپر صرف ايك تھا، اور وه ايك اتفاقى مطابقت (coincidence) هے۔ اِس اتفاقى مطابقت كا يه نتيجه تھا كه تاريخ كا عظيم ترين امكان غيراستعمال شده امكان (unavailed opportunity) بن كر ره گيا۔
اِس كى تفصيل يه هے كه جب مذكوره ابراهيمى عمل كى تكميل هوئى تو يه اٹھا رھويں صدى كے آخر اور انيسويں صدى كے آغاز كا زمانه تھا۔ عين اُس زمانے ميں ايك حادثه پيش آگيا۔ وه حادثه يه تھا كه اِسى زمانے ميں مغربى قوموں نے بڑى بڑى مسلم سلطنتوں كو توڑ ديا اور پورى مسلم دنيا ميں اپنا سياسى اور تهذيبى دبدبه قائم كرليا۔
يه حادثه مسلمانوں كى قومى نفسيات كے ليے ايك ايٹمى دھماكے سے بھى زياده بڑے دھماكے كى حيثيت ركھتا تھا۔ چنانچہ اِس دور كے تمام مسلمان، غالباً كسى استثنا كے بغير، شديد طورپر منفى رد عمل كاشكار هوگئے۔ وه مغربى قوموں سے نفرت كرنے لگے۔ انھوں نے مغربى قوموں كے خلاف فكرى يا عملى جنگ چھيڑ دي۔ يه رد عمل اتنا شديد تھا كه مغربى قوموں كو نقصان پهنچانے كے ليے وه خود كش بم بارى (suicide bombing) كو بھى اپنے ليے جائز سمجھنے لگے۔
انيسويں صدى اور بيسويں صدى ميں پيدا هونے والا مسلم لٹريچر،تقريباً سب كا سب، اِسى نفرت كى نفسيات سے بھرا هوا هے۔ اِس لٹريچر كے مطابق، موجود ه زمانے كے مسلمانوں كا جو ذهن بنا، وه يه تھا گويا كه سارى مغربى دنيا صرف ايك كام ميں مشغول هے— مسلمانوں كے خلاف سازش اور دشمني۔ اِس معاملے كى ايك علامتى مثال ايك عرب عالم كى كتاب هے، جس كا ٹائٹل يه هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اجنحة المكر الثلاثة وخوافيهاالتبشير، الاستشراق، الاستعمار لعَبدِ الرَّحْمٰنِ حَسَنٌ حَبَنَّكَةَ الْمَيْدَانِيُّ (دارالقلم، دمشق2000، صفحات776)
اجتماعى توبه كى ضرورت
يه صورتِ حال بلاشبه توبه كى متقاضى هے، يعنى منفى سوچ كو ترك كركے مثبت سوچ كى طرف واپس جانا۔ اب تمام مسلمانوں كے ليے اُس عمل كا وقت آگيا هے جس كا حكم قرآن ميں اِن الفاظ ميں دياگيا تھا وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا اَيُّهَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (24:31)۔ يعنى، اے ايمان والو، تم سب مل كر الله سے توبه كرو، تاكه تم فلاح پاؤ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں جس چيز كا حكم دياگيا هے، اس سے مراد اجتماعى توبه (collective repentance) هے۔ موجوده صورتِ حال يه هے كه مذكوره قسم كا منفى ذهن تمام مسلمانوں كا قومى ذهن بن گيا هے۔ مسلمانوں كى تمام قومى پاليسياں اِسى منفى ذهن كے مطابق بنتى هيں۔ اِس معاملے ميں مسلمان اتنازياده متحد الخيال هيں جيسے كه اِس معاملے ميں تمام مسلمانوں كا اجماع (consensus) هوگيا هو۔ اِس وقت سب سے پهلا كام يه هے كه مسلمانوں كے اِس عمومى قومى ذهن كو بدلا جائے۔ يهى موجوده مسلمانوں كى اصلاح كا نقطه آغاز هے۔ اِس ذهن كے باقى رهتے هوئے مسلمانوں كے درميان كوئى بھى نتيجه خيز اصلاحى كام نهيں كيا جاسكتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاريخ كا ربانى سفر
قرآن كى ايك آيت، معمولى لفظى فرق كے ساتھ، دو سورتوں،التوبہ (9:32) اور الصف ميں آئى هے۔ سورۃ الصف میں یہ الفاظ هيں يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ (61:8)۔ يعنى، وه چاهتے هيں كه وه الله كى روشنى كواپنے منه كى پھونكوں سے بجھا ديں اور الله اپنى روشنى كو پورا كركے رهے گا،خواه منكروں كو يه كتنا هى ناگوار هو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت كا خطاب محدود طورپر صرف قديم مكه يا قديم مدينه كے مخالفين سے نهيں هے، بلكه اس كا تعلق پورى انسانى تاريخ كے ربانى سفرسے هے۔ آيت كا مطلب يه هے كه الله نے پچھلے هزاروں سا ل كے دوران مختلف مقامات پر اپنے پيغمبر بھيجے، ليكن مخالفين نے اُن كے مشن كو آگے بڑھنے نهيں ديا۔ اب الله نے تاريخ ميں مداخلت كرتے هوئے اِس مشن كا چارج خود لے ليا هے۔ يهى مداخلت اِس بات كى ضمانت هے كه خدا كا يه مشن اپنى آخرى تكميل تك پهنچے، كوئى بھى طاقت اس كے سفر كو روكنے ميں كامياب نه هو۔
رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے ساتويں صدى عيسوى ميں جو انقلاب آيا، وه اِسى فيصلهٔ الٰہی كا نتيجه تھا۔ اِس انقلاب كا سب سے زياده انوكھا پهلو يه تھا كه وه تقريباً 35 سال (610-644) كے اندر مكمل هوگيا۔ انقلاب كا يه پهلو بے حد اهم هے۔ تاريخ ميں دوسرے جو انقلابات پيش آئے، وه سب اپنى نوعيت كے اعتبار سے، سياسى انقلابات (political revolutions) تھے، مگر اسلامى انقلاب اِس كے برعكس، ايك نظرياتى انقلاب (ideological revolution) تھا۔ اِس بنا پر ضرورى تھا كه وه پهلى نسل (first generation) كے اندر مكمل هوجائے۔ سياسى انقلاب كو كئى نسلوں ميں مكمل كيا جاسكتا هے،ليكن نظرياتى انقلاب كا معامله يه هے كه وه يا تو پهلى نسل ميں مكمل هوگا، يا وه سرے سے مكمل هى نه هوگا۔
بنيادى طورپر پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے مشن كے دو دور تھے — ايك تھا، فاؤنڈيشن پيريڈ (foundation period) اور دوسرا تھا، توسيعى پيريڈ (expansion period)۔ توسيعى پيريڈ كى تكميل بعد كے دور ميں بھى ممكن هے، ليكن فاؤنڈيشن پيريڈ كے ليے ضرورى هے كه وه پهلى نسل ميں اپنى تكميل تك پهنچ جائے۔
انسان كى آزادى كو باقى ركھتے هوئے پهلى نسل ميں فاؤنڈيشن پيريڈ كى تكميل اِس عالمِ اسباب ميں كسى انسان كے ليے ممكن نهيں۔ يه صرف الله كے ليے ممكن تھا اور الله نے خصوصى مداخلت كركے ايسے حالات پيدا كيے كه رسول ا ور اصحابِ رسول كے ذريعے يه ممكن هوجائے كه وه پهلى نسل ميں اِس انقلاب كو مكمل كرسكيں۔ يه ايك ايسا استثنائى واقعه تھا كه پورى انسانى تاريخ ميں اس كى كوئى مثال موجود نهيں۔ مورخين، اسلامى انقلاب كے اِس استثنائى پهلو كا اعتراف كرتے هيں، ليكن وه اِس كى توجيهه كرنے سے قاصر هيں۔ اِس كا سبب يه هے كه مورخين مادى اسباب كى روشنى ميں واقعات كى توجيه كرتے هيں، جب كه يه واقعه خدا كى برتر مداخلت كا نتيجه تھا اور خدا كى برتر مداخلت ايك ايسا عامل (factor) هے جس سے مورخين شعورى طور پر واقف نهيں۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے ذريعے الله كو جو انقلاب لانا مطلوب تھا، اس كو قرآن ميں اتمامِ نور (61:8) كهاگياهے۔ ضرورى تھاكه يه واقعه پهلى نسل كے اندر مكمل هوجائے۔ كيوں كه فطرت كے قانون كے تحت هميشه ايسا هوتا هے كه بعد كى نسلوںميں زوال شروع هوجاتاهے اور زوال يافته افراد اتمامِ نور كا كارنامه انجام نهيں دے سكتے۔ اِس ليے الله تعالى نے خصوصى منصوبے كے تحت ايك محدود مدت ميں بهت سے انتظامات كيے، تاكه پهلى نسل ميں انقلاب كى تكميل كو يقينى بنايا جاسكے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس مقصد كے ليے مختلف تدبيريں كى گئيں۔ مثلاً كعبه كو تمام عرب قبائل كے بتوں كا مركز بنا دياگيا، تاكه تمام قبائل كے افراد مكه ميں حاصل هوجائيں۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى پيدائش كے سال (570ء) ميں يمن كے حاكم ابرهه نے هاتھيوں كى فوج كے ذريعے مكه پر حمله كيا تھا، تاكه كعبه كوڈھا ديا جائے۔ اگر ابرهه كا منصوبه كامياب هوجاتا تو كعبه كا وجود مٹ جاتا اور پيغمبر اسلام كو يه موقع حاصل نه هوتا كه وه مكه ميں تمام عرب قبائل كے افراد كو يكجا طور پر پاسكيں۔ اُس زمانے ميں قبيله قريش كو پورے عرب كى ذهنى قيادت (intellectual leadership) كا مقام حاصل تھا۔ مكه ميں ايسے اسباب پيدا هوئے كه وهاں كے تمام اعلى ذهن پيغمبر اسلام كے ساتھى بن گئے۔ پھر مدينه كے دونوں قبائل (اوس وخزرج) كے درميان خونريز جنگ هوئي۔ اِس كے نتيجے ميں دونوں قبائل بے حد كمزور هوگئے۔ اس طرح پيغمبر اسلام كو يه موقع ملا كه وه دس سال كے اندر پورے مدينے كو اسلام كے فولڈ ميں لاسكيں۔ تمام قبائل كے بتوں كا مركز بن جانے كى بنا پر عرب كے قبائل كعبه كو پورے عرب كا مذهبى اور سياسى مركز سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب مكه فتح هوا تو نهايت تيزى سے تمام عرب قبائل نے پيغمبر اسلام كى قيادت كو قبول كرليا۔
اسى طرح اُس زمانے ميں عرب كى سرحدوں پر ايك بڑا واقعه پيش آيا۔ اِس واقعے كا ذكر قرآن كى سورۃ الروم (30) كے آغاز ميں موجود هے۔ وه يه كه اُس زمانے ميں عرب كى سرحدوں پر دو بڑے ايمپائر قائم تھے۔ ايك، ساسانى ايمپائر اور دوسرے، بازنتينى ايمپائر۔ عين اُس زمانے ميں دونوں كے درميان فوجى ٹكراؤ هوا۔ پهلے ساسانى ايمپائر نے رومى ايمپائر كو تباه كيا۔ اس كے بعد رومى بادشاه نے اپنى طاقت كو دوباره مجتمع كركے ساسانى ايمپائر پر حمله كيا اوراس كو تباه كرديا۔ چنانچہ دونوں ايمپائر بهت زياده كمزور هوگئے۔ اس طرح اصحابِ رسول كو يه موقع مل گيا كه وه نهايت آسانى سے ايشيا اور افريقه كے درميان پھيلے هوئے اِس پورے علاقے كو اسلامى علاقے ميں شامل كرسكيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاريخِ اسلام ايك مطالعه
پيغمبراسلام صلى الله عليه وسلم نے 610 عيسوى ميں مكه ميں اپنا مشن شروع كيا۔آپ كى مسلسل جدوجهد سے وهاں ايك ٹيم بنى جس كو اصحابِ رسول كها جاتا هے۔رسول اور اصحابِ رسول كى كوششوں سے ساتويں صدى كے نصف اول ميں ايك انقلاب آيا۔ مورخين اعتراف كرتے هيں كه يه تاريخِ انسانى كا سب سے بڑا انقلاب تھا۔ مثلاً حال ميں برطانيه سے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى سيرت كے موضوع پر ايك انگريزى كتاب چھپى هے۔ اُس كا نام يه هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The Prophet Muhammad: A Biography by Barnaby Rogerson, Little , Brown, UK 2003, p. 240
other sourceWords of another person or source
برطانى مصنف راجرسن نے اپنى اِس كتاب ميں لكھا هے كه — پيغمبر اسلام كو جو عظيم كاميابى حاصل هوئي، اس كے لحاظ سے وه بلاشبه تاريخ كے سپر هيرو (superhero) تھے۔ تاهم پيغمبر اسلام كى غير معمولى كاميابى كا اعتراف كرتےهوئے انھوں نے لكھا هے كه ان كى يه كاميابى محض اتفاقى (mere accidental) تھي (صفحه 4)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
سيكولر مبصرين عام طورپر اِس طرح كے الفاظ بولتے هيں۔ جس واقعه كى توجيه وه معلوم اسباب كے تحت نه كرسكيں، اُس كو وه ’’اتفاق‘‘ كا نتيجه قرار دے ديتے هيں۔ مگر اتنا بڑا واقعه جو پورى تاريخ ميں واحد استثنا كى حيثيت ركھتا هو، وه محض اتفاق كا نتيجه نهيں هوسكتا۔حقيقت يه هےكه يه ايك خدائى منصوبه (divine plan) تھا، جو رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے انجام پايا۔ اِس كا ظهور پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى پيدائش سے تقريباً ڈھائى هزار سال پهلے حضرت ابراهيم كے زمانے ميں هوا اور خلافتِ راشده كے زمانے ميں اس كى تكميل هوئي۔
الله كا يه منصوبه تھاكه توحيد كى بنياد پر ايك انقلاب برپا كيا جائے۔ اِس مقصد كے ليے قديم دور ميں الله نے بهت سے پيغمبر بھيجے۔ مگر اِن پيغمبروں كے ذريعے كوئى ٹيم نهيں بني۔ اِس ليے قديم زمانے ميں مطلوب انقلاب برپا نه هوسكا۔ اس كے بعد الله تعالى نے حضرت ابراهيم كے ذريعے ايك نيا منصوبه بنايا۔ اِس منصوبے كے تحت حضرت ابراهيم نے اپنى بيوى هاجره اور اپنے بچے اسماعيل كو عرب كے صحرا ميں بسا ديا۔ اِس واقعے كى طرف قرآن ميں اِن الفاظ ميں اشاره كياگياهے رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ (14:37)۔یعنی، اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک بےکھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب، تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما، تاکہ وہ شکر کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس صحرائى ماحول ميں لمبى مدت تك توالد وتناسل كے ذريعے ايك جان دار قوم تيارهو ئي۔ اِسى قوم كے اندر پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى پيدائش هوئي۔ پھر اِسى قوم كے اندر كام كركے وه ٹيم بنى جس كو اصحابِ رسول كها جاتا هے۔يه پورا معامله ايك خدائى منصوبے كے تحت وجود ميں آيا۔ مكه ميں مقدس كعبه كى تعمير اِسى منصوبے كا ايك حصه تھي۔ بعد كو سارے عرب ميں شرك پھيل گيا۔ يه قبائلى دور تھا۔ هر قبيلے كا ايك الگ بت تھا۔ چنانچہ يهاں ايسے اسباب پيش آئے كه كعبه 360 بتوں كا مركز بن گيا۔
يه قديم تاريخ كا ايك انوكھا واقعه تھا۔ اِس سبب سے يه ممكن هوگيا كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كو اپنے مشن كى اشاعت كے ليے سارے عرب ميں سفر نه كرنا پڑے، بلكه مكه هى ميںآپ كو تمام قبائل كے نمائندے حاصل هوجائيں۔ كيوں كه كعبه ميں تمام قبائل كے بتوں كى موجودگى كى بنا پر ايسا هوتا تھا كه مكه ميں مسلسل طور پر وه چيز هوتى رهتى تھى جس كو آج كل كى زبان ميں كُل عرب اجتماع (all Arab assembly) كها جاسكتا هے۔
اِس كے بعد بار بار ايسے واقعات پيش آئے جن كى بنا پر پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے ليے يه ممكن هوگيا كه وه تيزرفتارى كے ساتھ اپنے مشن كى تكميل كرسكيں۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى ايك آيت پر غور کیجیے ۔ غزوهٔ بدر كى نسبت سے، قرآن ميں يه الفاظ آئے هيں لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَوْ يَكْبِتَھُمْ (3:127) يعنى تاكه الله اهلِ كفر كے ايك حصے كو كاٹ لے يا وه اُن كو ذليل كردے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى مذكوره آيت ميں ’’طَرَف‘‘ كا لفظ حصهٔ بهتر (better part)كے معنى ميں هے، يعنى اهلِ كفر كے بهتر حصے كو كاٹ كر جدا كردينا اور ’يكبتهم‘ كا مطلب يه هے كه ان كے بقيه حصه كو هلاك كركے ختم كردينا۔ ٹھيك يهى واقعه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے زمانے ميں پيش آيا۔ پهلے مكى دور كى تيره ساله دعوتى جدوجهد كے دوران مكه كے صالح افراد كو ايمان كى توفيق ملى اور وه اسلام قبول كركے پيغمبر اسلام كے ساتھى بن گئے۔ ’قطعِ طرف‘ كا يهى واقعه هے جس كا ذكر حضرت خالد بن الوليد نے اِن الفاظ ميں كيا تھا دَخَلَ النَّاسُ فِي الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ بِهِ طَعْمٌ (دلائل النبوۃ للبہیقی، جلد 4، صفحہ 345)۔ يعنى، مكه كے بهترين افراد اسلام ميں داخل هوگئے۔ اب مكه ميں كوئى باذوق آدمى (man of taste) باقى نهيں رها۔ ’يكبتهم‘ كا لفظى مطلب هے ذليل كرنا۔ يهاں مراد يه هے كه مكه كے مخالفين جوچڑھائى كركے ايك هزار كى تعداد ميں مدينه آئے تھے، اُن كے 70 طاقت ور افراد قتل هوگئے اور اُن كو ذليل وخوار هو كر مكه واپس جانا پڑا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عرب كا اسلامائزيشن
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كو عرب ميں جوكاميابى حاصل هوئي، اس ميں ايك بڑا دخل اُس واقعے كا هے جس كو اسلامى تاريخ ميں صلح حديبيه كها جاتاهے۔ يه ايك انوكھى تدبير تھى جس كو پورى تاريخ ميں كسى نے استعمال نهيں كيا تھا۔ يه مكمل طورپر ايك اجتهادى تدبير تھي۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے اپنا مشن 610 عيسوى ميں شروع كيا۔ يه زمانه جارحانه شرك اور مذهبى عدم روادارى (religious ntolerance) كا زمانه تھا۔ اِس بنا پر وهاں فريقِ ثانى كى طرف سے مسلسل طورپر ٹكراؤ اور جنگ كا سلسله شروع هوگيا۔ اِس طرح كے ماحول ميں دعوتِ توحيد كا كام پورى طرح نهيں هوسكتا تھا۔ توحيد كى آئڈيالوجى پيغمبر اسلام كے مشن كى سب سے بڑى طاقت تھي، مگر طرفين كے درميان تشدد كے ماحول كى بنا پر يه موقع نه تھا كه يه طاقت پورى طرح ظاهر هو اور لوگوں كو مسخر كرے۔
اُس وقت الله كى خصوصى توفيق سے، پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے ايك ايسى تدبير كى جس كى كوئى نظير تاريخ ميں موجود نه تھي۔ وه تدبير يه تھى كه فريقِ ثانى كے تمام مطالبات كو يك طرفه طورپر مان ليا جائے، تاكه فريقين كے درميان معتدل ماحول قائم هوجائے اور كسى ركاوٹ كے بغير دعوتِ توحيد كا كام انجام پاسكے۔ يه تدبير بلاشبه ايك عظيم تدبير تھي، اِسى ليے اُس كو قرآن ميں فتح مبین (48:1) كهاگياهے۔یعنی، کھلی فتح۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صلح حديبيه كى اِس تدبير سے دو بڑے فائدے حاصل هوئے۔ ايك، يه كه صلح حديبيه سے پهلے فريقين كا مقابله ميدانِ جنگ ميں هوتا تھا، اور جنگ كا طريقه صرف مسئلے كو بڑھاتا هے، وه مسئلے كو كم نهيں كرتا۔ صلح حديبيه كا يه فائده هوا كه طرفين كا مقابله عقل ا ور فطرت كے ميدان ميں هونے لگا، اور جب عقل اور فطرت كے ميدان ميں مقابله هو تو توحيد كى آئڈيالوجى هميشه غالب رهے گي۔ وه عقل كو ايڈريس كرے گى اور انسان كى فطرت مسخر هوتى چلى جائے گي۔ اِسى كا يه نتيجه تاريخ نے ديكھا كه معاهده حديبيه كے بعد صرف دو سال كے اندر پيغمبر اسلام كے پيروؤں كى تعداد اتنى زياده هوگئى كه صرف تعداد هى مكه كى پرامن فتح كے ليے كافى هوگئي۔
صلح حديبيه كا دوسرا فائده يه هوا كه قريشِ مكه كى طرف سے جنگ كا خطره باقى نهيں رها۔ اب پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كو يه موقع مل گياكه وه اپنے مشن كو پورے عرب ميں پھيلا سكيں۔ اِس سے پهلے يه واقعه پيش آيا كه پيغمبر اسلام كا دعوتى پيغام تمام عرب قبائل ميں پھيل گياتھا۔ عمومى طور پر لوگوں كے دلوں ميں توحيد كے ليے نرم گوشه (soft corner) پيدا هوچكا تھا، ليكن قريش سے حالتِ جنگ قائم هونے كى بنا پر پيغمبر اسلام كو يه موقع نهيں مل رها تھاكه آپ كھلے طورپر اِس دعوتى امكان كو استعمال كريں۔ اب آپ نے يه كيا كه مدينه سے تمام عرب قبائل كى طرف وفود بھيجنے شروع كيے۔ وفود كا يه طريقه بھى قديم زمانے ميں ايك نيا طريقه تھا۔ يه طريقه كامياب هوا اور بهت كم مدت ميں پورا عرب اسلامائز هوگيا۔
پيغمبر اسلام كا مشن
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم انسان كى لمبى تاريخ كى ايك درميانى كڑى كى حيثيت ركھتے هيں۔ آپ سے پهلے كثير تعداد ميں خدا كے پيغمبر آئے ۔ اِن پيغمبروں كے زمانے ميں بلا شبه توحيد كا فكرى اظهار هوا، ليكن توحيد كى بنياد پر عملاً كوئى فكرى انقلاب برپا نه هوسكا۔ اِسى بنا پر پچھلے پيغمبروں كا لايا هوا دين محفوظ بھى نه رها۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے ظهور كے تقريباً ڈھائى هزار سال پهلے الله نے ايك نئى منصوبه بندى كي۔ وه منصوبه بندى يه تھى كه صحرائى ماحول ميں ايك نئى نسل پيدا كى جائے جس كے افراد اپنى اصل فطرت پر قائم هوں۔ اِسى نسل ميں پيغمبر اسلام كا ظهور هوااور آپ كى دعوتى جدوجهد كے ذريعے اِسى نسل كے اندر سے وه افراد پيدا هوئے جن كو اصحابِ رسول كهاجاتا هے۔
رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے تاريخ ميں جو انقلاب آيا، اُس كے دو پهلو تھے — ايك، يه كه اس كے ذريعے خدا كى كتاب محفوظ هوگئي۔ پيغمبر كے ذريعے انسانى زندگى كا ايك مستند ماڈل (authentic model) تيار هوگيا۔ خداكے دين كى ايك مستند تاريخ بن گئي، جب كه اِس سے پهلے خدا كے دين كى كوئى مستند تاريخ نهيں بنى تھي، وغيره۔
رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے جو عظيم انقلاب آيا ، اس كا دوسرا پهلو يه تھا كه اس كے ذريعے تاريخ ميں ايك نيا طاقت ور عمل (strong porcess) جارى هوا جو آخر كار اُن تمام ترقيوں تك پهنچا جن كو عام طور پر اهلِ مغرب كى طرف منسوب كياجاتا هے۔ يه تمام ترقياںخدا كے دين كے موافق ترقياں تھيں۔ اِن ترقيوں كے ذريعے انسان كو شكر كا اعلى فريم ورك ملا۔ اِن ترقيوں كے ذريعے معرفت كے آفاقى دروازے كھلے۔ اِن ترقيوں كے ذريعے حق كى عالمى اشاعت كے ذرائع حاصل هوئے، وغيره۔
غير خدا پرست انسان كى تائيد
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى بعثت كے بعد اظهارِ دين اور اتمامِ نور كا جو خدائى منصوبه تھا، وه ايك عظيم عالمى منصوبه تھا۔ وه اتنا بڑا منصوبه تھاكه صرف اهلِ ايمان كى مدد سے وه انجام نهيں پاسكتا تھا۔ الله تعالى نے اِس انقلاب كو يقينى بنانے كے ليے يه كيا كه اهلِ ايمان كے علاوه، دوسرے گروهوں سے تائيد (support) كا كام ليا۔ اسلام كى تاريخ ميں اِس طرح كى مثاليں كثرت سے موجود هيں۔ يهاں وضاحت كے ليے صرف دو مثاليں درج كى جاتى هيں۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى بعثت 610 عيسوى ميں مكه ميں هوئى ۔ جيسا كه عرض كياگيا، يهاں تائيد كا ايك انوكھا معامله پيش آيا۔ مكه ميں قريش كے نام سے ايك قبيله تھا جو كعبه كا متولى تھا۔ اُس نے اپنى سيادت كى توسيع كے ليے يه كيا كه عرب كى سرزمين ميں موجود تمام قبائل كے بت لاكر كعبه كى عمارت ميں ركھ ديے۔ اِس طرح دھيرے دھيرے كعبه تمام عرب قبائل كا ايك عبادتى مركز بن گيا۔ هر قبيلے كے لوگ اپنے بت كى زيارت اور پرستش كے ليے مكه آنے لگے۔ اِس طرح مكه نے تمام عرب قبائل كے ليے مقامِ اجتماع كى حيثيت اختيار كرلي۔ تمام عرب قبائل كے لوگ مسلسل طورپر مكه آنے لگے۔ اِس طرح پيغمبر اسلام كو يه موقع مل گيا كه وه مكه ميں رهتے هوئے تمام عرب قبائل ميں اپنا مشن پھيلا سكيں— قريش اُس وقت ايك مشرك قبيلے كى حيثيت ركھتے تھے۔ اِس كے باوجود الله تعالى نے اُن سے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے موحدانه مشن كى تائيد كا كام ليا۔
اهلِ مغرب كے ذريعے تائيد
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے مشن ميں غير اهلِ ايمان كى تائيد كا دوسرا بڑا واقعه وه هے جو بعد كے زمانے ميں پيش آيا۔ يه اهلِ مغرب كے ذريعے تائيد فراهم كرنے كا واقعه تھا۔ يه واقعه مغرب كى نشاةِ ثانيه (Renaissance) كے بعد پيش آيا۔
قرآن ميں ارشاد هوا هے وَآتَاكُمْ مِنْ كُلٍّ مَّا سَأَلْتُمُوهُ (14:34)۔ یعنی، اور اس نے تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا۔ اِس آيت سے معلوم هوتا هے كه الله نے انسان كو اس كى ضرورت كى تمام چيزيں دے ديں هيں۔ليكن تاريخ بتاتى هے كه قديم زمانے ميں انسان كو يه اشياءِ ضرورت صرف محدود طور پر حاصل هوئى تھيں۔جو چيزيں دنيا ميں فطرى طورپر آغازِ تخليق سے پائى جاتى تھيں، صرف اُن چيزوں تك انسان كى رسائى هوسكي۔ مثلاً سوارى كے ليے گھوڑا، وغيره۔ دوسرى چيزيں وه تھيں جن كے حصول كے ليے ٹكنالوجى كى دريافت ضرورى تھي۔ قديم زمانے ميں انسان اِس ٹكنالوجى كو دريافت نه كرسكا، اِس ليے وه اِس دوسرى قسم كى اشياءِ ضرورت كو حاصل كرنے سے محروم رها۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه ٹكنالوجى صرف مغربى تهذيب كے ذريعے دريافت هوئى اور پھر ضرورت كى بے شمار نئى چيزيں انسان كے ليے قابلِ حصول هوگئيں۔ يه اشياءِ ضرورت صرف اشياءِ ضرورت نه تھيں، بلكه وه شكر خداوندى كے نئے اور عظيم تر آئٹم كى حيثيت ركھتى تھيں۔
اِسى طرح قرآن ميں بتايا گياهےكه پيغمبر كا مشن سارے اهلِ عالم كے ليے هے (25:1)۔ ليكن پيغمبر اور اصحاب پيغمبر كے زمانے ميں مشن كا يه عالمى ابلاغ عملاً ممكن نه هوسكا۔ كيوں كه اس كے ليے عالمى كميونكيشن كى ضرورت تھى اور قديم زمانے ميں يه عالمى كميونكيشن وجود ميں نهيں آيا تھا۔ عالمى كميونكيشن كے ذرائع موجوده زمانے ميں پهلى بار اهلِ مغرب نے دريافت كيے۔ يه اهلِ مغرب كى طرف سے پيغمبرانه مشن كى خصوصى تائيد كا ايك معامله تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسى طرح قرآن ميں بتايا گيا هے كه آفاق اور انفس ميں الله كى آيات (signs) چھپى هوئى هيں۔ يه آيات ظاهر هو كر انسان كے ليےتبيينِ حق كا ذريعه بنيں گي۔ يه گويا كائناتى سطح پر اعلى معرفت كے ظهور كى پيشگى خبر تھي، مگر قديم زمانے ميں اس كا ظهور نه هوسكا۔ اِس كا ظهور پهلى بار موجوده زمانے ميں اهلِ مغرب كى سائنسى دريافتوں كے ذريعے هوا۔ يه بھى غير اهلِ ايمان كى طرف سے پيغمبر اسلام كے مشن كى تائيد كا ايك اهم معامله تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه خارجى تائيد اپنے طريقے كے اعتبار سے، عين وهى چيز هے جس كو موجوده زمانے ميں آؤٹ سورسنگ (outsourcing) كها جاتا هے۔ پيغمبرانه مشن كے ليے يه خارجى تائيد كوئى اتفاقى معامله نه تھا، بلكه وه ايك ايسا معامله تھا جو الله كى طرف سے پيشگى طور پر مقدر كردياگيا تھا۔ اس حقيقت كو ايك حديثِ رسول ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحيح البخاري،حدیث نمبر3062)۔ اِس حديث ميں مويد كے ليے ’فاجر‘كا لفظ استعمال هوا هے۔ فاجر كا مطلب هے— بدكردار(sinner)۔ اِس سے معلوم هوا كه الله كى طرف سے پيغمبر كے مشن كى خارجى تائيد كا جو كام هے، وه صرف مخلصين اور مومنين كے ذريعے نهيں هوگا، بلكه وه ايسے افراد كے ذريعے بھى هوگا جو اخلاقى اعتبار سے بد كردار اور گناه گار هوں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذكوره دونوں واقعات پيغمبرانه مشن كے ليے عظيم تائيدى واقعات تھے، مگر يه دونوں واقعات اهلِ ايمان كى تائيد سے پيش نهيں آئے، بلكه وه ايسے لوگوں كے ذريعے پيش آئے جو فقه اسلامى كى اصطلاح ميں ’’مشرك اور فاجر‘‘تھے۔ فاجر شخص كے ذريعے تائيدِ دين كے يه واقعات صرف تائيد كے واقعات نهيں هيں، بلكه اِسى كے ساتھ وه دليلِ نبوت بھى هيں۔
اهلِ مغرب اور مغربى تهذيب
موجوده زمانے ميں مسلم مصنفين نے هزاروں كى تعداد ميں ايسى كتابيں اور مقالات شائع كيے هيں جن كا موضوع اهلِ مغرب يا مغربى تهذيب هوتا هے۔ اِس قسم كى تحريريں عربي، اردو، انگريزى اور دوسرى زبانوں ميں چھپى هيں اور اُن كو كسى بھى مسلم كتب خانے ميں ديكھا جاسكتا هے۔ مثال كے طورپر چند كتابوں كے نام يه هيں
جاهِلِيَّةُ القَرنِ العِشرینَ، مُحَمَّدٌ قُطْبٌ
دار الشروق، القاهرة 1993، عدد الصفحات292
عالمِ اسلام دجالى تهذيب كى زدميں ، محمد موسى بھٹو، سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ، صفحات188
other sourceWords of another person or source
Islam at the Crossroads, Leopold Muhammad Asad
اِس قسم كى كتابوں ميں مغرب اور مغربى تهذيب كى جو تصوير پيش كى گئى هے، وه تمام تر منفى تصوير هے۔ اِس قسم كى كتابوں كا مشترك خلاصه يه هے كه مغرب اخلاقى پستى كى آخرى حد تك پهنچ چكا هے۔ اِن تحريروں كے مطابق، مغرب نام هے— ماديت اور اباحيت اور هوس پرستى اور لادينيت كا۔گويا اهلِ مغرب كا كيس وهى هے جس كو حديث ميں ’الرجل الفاجر‘ كهاگياهے، يعنى بدكردار اور گناه گار۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اب بالفرض اگر يه درست هو كه اهلِ مغرب كا كيس ’’فاجر‘‘ انسان كا كيس هے، تب بھى مسلم مقررين اور محررين اِس معاملے ميں كامل طورپر غلط قرار پائيں گے۔ كيوں كه اِس معاملے كا دوسرا معلوم پهلو يه هے كه يهى اهلِ مغرب هيں جنھوں نے بے پناه محنت كے بعد اُن تمام تائيدى چيزوں كو دريافت (discover) كيا جن كا ذكر بطور پيشين گوئى قرآن ميں كيا گيا تھا۔ گويا كه يهى وه مويّد لوگ هيں جو حديث كى مذكوره پيشين گوئى كا مصداق هيں۔ ايسى حالت ميں ، مسلم مقررين اور محررين كا فرض تھاكه وه كهتے كه اهلِ مغرب كے ’’فاجر‘‘ هونے كے باوجود هميں اُن كے اِس كنٹرى بيوشن كا اعتراف كرنا هے، كيوں كه يهى لوگ هيں جنھوں نے تائيد دين كے وه تمام اسباب مهيا كيے هيں جو آج همارے ليے دينِ خداوندى كى نسبت سے بے حد ضرورى هيں۔ يه اسباب همارے ليے شكر اور معرفت كا اعلى آئٹم هيں اور اِسى كے توسط سے پهلى بار يه ممكن هوا كه دعوت الى الله كے كام كو عالمى سطح پر انجام دياجاسكے۔
تاريخ كا مثبت تصور
تاريخ كا مطالعه كرنے والے عام طورپر تاريخ كے بارے ميں منفى رائے ركھتے هيں۔ ان كو پورى تاريخ فساد اور خوں ريزى كا ايك جنگل معلوم هوتى هے۔ آدم كى تخليق كے وقت فرشتوں نے بھى يه شبه ظاهر كيا تھا (2:30)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
الله تعالى نے ايك مظاهرے كے ذريعے فرشتوں كو بتايا كه تم پورے انسانى مجموعے كے اعتبار سے تاريخ كو ديكھ رهے هو، اِس ليے تاريخ تم كو فساد اور خوں ريزى كا جنگل معلوم هوتى هے۔ ليكن تم تاريخ كو افراد كے اعتبار سے ديكھو، پھر تم كو نظر آئے گا كه تاريخ كے هر دور ميں بهترين افراد پيدا هورهے هيں۔ يهى استثنائى افراد تاريخ كا حاصل هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاريخ كے مطالعے كا صحيح طريقه يه هے كه مطالعه كرنے والا يه كرے كه وه انسان كى طرف سے آزادى كے غلط استعمال كو الگ كركے تاريخ كا مشاهده كرے۔ خالق نے چونکہ انسان كو آزادى دى هے، اِس ليے آزادى كو غلط استعمال كرنے كے نتيجے ميں طرح طرح كى خرابياں پيدا هوتى هيں۔
يهى وه چيز هے جس كو فلاسفه عمومى حيثيت دے كر، پرابلم آف اول (problem of evil) كهتے هيں۔ مگر انسان كى آزادى مصلحتِ امتحان كى بنا پر هے، اِس ليے تاريخ كے مطالعے كا صحيح طريقه يه هے كه آزادى كے غلط استعمال كے پهلو كو الگ كركے تاريخ كا مطالعه كيا جائے۔ يه حكمت تاريخ كے هر دور كے ليے ضرورى هے، سيكولر تاريخ كے دور كے ليے بھى اور اسلامى تاريخ كے دور كے ليے بھي۔
تاريخ ميں خدائى مداخلت
1۔ هاجره اور اسماعيل كے ذريعے عرب كے صحرا ميں ايك نئى نسل بنانا بعد كو اِسى نسل ميں پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم اور آپ كے اصحاب پيدا هوئے ۔
2۔ كعبه كا تمام قبائل كے بتوں كا مركز بن جانا۔ اِس طرح مكه ميں آل عرب اجتماعات (All Arab Assembly) كا وقوع ممكن هوجانا۔
3۔ يمن كے حاكم ابرهه كا كعبه پر حمله، مگر اس كى ناكامى كى بنا پر كعبه كى اجتماعى حيثيت كا محفوظ رهنا۔
4۔ مكه ميں تيره ساله دعوتى جدوجهد كے ذريعے تمام صالح افراد كا اسلام ميں داخل هوجانا۔ اِنھيں منتخب افراد كو قرآن ميں خير امت (3:110)كها گيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
5۔ هجرت كے تيسرے سال غزوهٔ بدر كا پيش آنا اور اِس غزوه ميں فرشتوں كى مدد كے ذريعه تمام سركش افراد كا قتل كيا جانا۔
6۔ هجرت سے پانچ سال پهلے جنگِ بُعاث ميں دو قبيلوں كے درميان جنگ هونا، اِس جنگ ميں قبائلى سرداروں كا زور ٹوٹ جانا۔
7۔ حديبيه (6 هجري) كى يك طرفه صلح كے بعدسارے عرب ميں امن قائم هونا اور سارے عرب ميں اسلام كى اشاعت۔
8۔ فتح مكه كے بعد عرب قبائل ميں اسلام كے ليے نرم گوشه پيداهونا، اس كے بعد عام الوفود كے ذريعے تمام قبائل كو تيزى سے اسلام ميں داخل كرلينا۔
9۔ بازنتينى ايمپائر اور ساسانى ايمپائر كے درميان جنگى ٹكراؤ هونا اور اِس دو طرفه جنگ ميں دونوں كا آخرى حد تك كمزور هوجانا۔
10۔ صليبى جنگوں كے بعد مخصوص اسباب كے تحت، اهلِ مغرب كا سائنسى مطالعے كى طرف راغب هونا اور اسلام كے موافق، فطرت كے حقائق كا انكشاف۔
اوپر دس ايسے عوامل (factors) كو دكھايا گيا هے جنھوں نے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے مشن ميں سپورٹنگ فيكٹرس (supporting factors) كا رول انجام ديا۔ يه تمام اسباب غير عادى (unusual) قسم كے تھے جو بلاشبه پيغمبر كے اپنے اختيار سے باهر تھے، حتى كه بظاهر پيغمبر اسلام نے ان كى بابت سوچا بھى نه تھا۔ اِن عوامل كى مدد كے بغير يه ممكن نه تھا كه پيغمبر اسلام اپنے مشن ميں ايسى غير معمولى كاميابى حاصل كرسكيں۔ يه ناقابلِ توجيهه واقعه اِس بات كا ثبوت هےكه پيغمبر اسلام كو اپنے مشن ميں الله كى خصوصى مدد حاصل تھي۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے مشن كے تين مرحلے تھے— پهلا مرحله مردانِ كار يا ٹيم كى تيارى كا مرحله تھا۔ يه پهلا مرحله آپ كى پيدائش سے پهلے لمبى مدت ميں بنو اسماعيل كى صورت ميں تشكيل پايا۔ دوسرا مرحله مختصر مرحله هے جو پيغمبر اور اصحاب پيغمبر كى زندگى ميں پورا ہوا۔ تيسرا مرحله دوباره لمبى مدت كا مرحله تھا جو كه مغربى تهذيب كى صورت ميں اپنى تكميل تك پهنچا۔
نورِ هدايت كا اتمام
پيغمبرانه مشن كے سلسلے ميں ايك منصوبهٔ الٰہی كو اظهارِ دين كے الفاظ ميں بيان كياگيا هے۔ اظهارِ دين اور اتمامِ نور كى آيت قرآن كى تين سورتوں ميں آئى هے۔ سورۃ الصف كے الفاظ يه هيں يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْكَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (61:8-9) يعنى وه چاهتے هيں كه وه الله كے نور كو اپنے منه سے بجھا ديں، حالانکہ الله اپنے نور كا اتمام كركے رهے گا،خواه منكروں كو يه كتنا هى ناگوار هو۔ الله هى هے جس نے بھيجا اپنے رسول كو هدايت اور دينِ حق كے ساتھ، تاكه وه اُس كوسب دينوں پر غالب كردے، خواه مشركوں كو يه كتنا هى ناگوار هو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں اظهارِ دين سے كچھ لوگ سياسى غلبه مراد ليتے هيں، مگر آيت كے الفاظ سے اِس مفهوم كاكوئى تعلق نهيں۔ قرآ ن كى آيت ميں جو لفظ استعمال كياگيا هے، وه لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ هے، نه كه لِيُظْهِرَهُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا ۔ يعنى ،اِس آيت ميں جس غلبه كا ذكر هے، وه زمين پر هونے والا غلبه نهيں هے، بلكه وه دين يا اَديان پر هونے والا غلبه هے۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه اِس سے مراد فكرى اور نظرياتى غلبه هے، نه كه سياسى اور حكومتى غلبه۔ دوسرے لفظوں ميں، اِس سے مراد غلبه به مقابله آئڈيالوجى هے، نه كه غلبه به مقابله سياسى اقتدار۔ اِسى طرح قرآن كى مذكوره آيت ميں ’متمّ نوره‘ كا لفظ آيا هے۔ قرآن ميں ’مُتَمُّ حُكمِهِ‘ كا لفظ نهيں آيا هے، يعنى اِس سے مراد نور كا اتمام هے، نه كه حكومت كا اتمام۔ اِس اتمام كا مطلب يه نهيں كه ابھى مسلمانوں كى حكومت مكه مدينه ميں قائم هوئى هے، آئنده ان كى حكومت سارے عالم ميں قائم هوجائے گي۔
پيغمبر كا مشن اصلاً ايك غير سياسى مشن (non-political mission)هوتا هے۔ پيغمبر كے مشن كو بتانے كے ليے قرآن ميں جو الفاظ آئے هيں، اُن ميں سے كوئى بھى لفظ سياسى لفظ نهيں۔ مثلاً انذار، تبشير، ابلاغ، دعوت، شهادت، وغيره۔ ايسى حالت ميں پيغمبر كے مشن كے اظهار يا اتمام كو بتانے كے ليے وهى تعبير درست هوسكتى هے جو پيغمبرانه مشن كى روح كے مطابق هو، اور وه بلاشبه صرف ايك هے، اور وه هے عالمى سطح پر خدا كے پيغام كى توسيع واشاعت۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پيغمبر كے مشن كى سياسى تعبير كرنا يا اس كو حكومت كى اصطلاحات ميں بيان كرنا كوئى ساده بات نهيں۔ يه الله كے تخليقى منصوبے كى ترديد كے هم معنى هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه اهلِ ايمان اور دوسرے انسانوں كے درميان جو مساوات (equation) هے، وه حاكم اور محكوم كى مساوات هے، جب كه صحيح تصور كے مطابق، اهلِ ايمان اور دوسرے انسانوں كے درميان جو مساوات هے، وه داعى اور مدعو كى مساوات هے، نه كه حاكم اور محكوم كى مساوات۔اِس تصور كے مطابق، پيغمبر كے مشن كا اظهار اور اتمام به اعتبارِ ’’نور‘‘ متعين كيا جائے گا، نه كه به اعتبارِ حكومت، اوروه يه هے كه پيغمبر كے مشن كے ساتھ ايسے اسباب ووسائل جمع هوں جو پيغمبر كے مشن كى عمومى اشاعت ميں تائيد كا كام ديں۔ ساتويں صدى عيسوى ميں پيغمبرانه مشن كى اشاعت كے ليے صرف روايتى وسائل موجود تھے۔ اِس ليے ايساهوا كه اگرچه پيغمبر كا مشن ايك عالمى مشن تھا، ليكن وه وسائل كى محدوديت كى بناپر اپنے ابتدائى دور ميں پورے عالم تك پهنچ نه سكا۔
قرآن كى مذكوره آيت (61:8) ايك اعتبار سے پيشين گوئى هے۔ اِس آيت ميں يه اعلان كياگيا هے كه الله مستقبل ميں ايسے حالات پيدا كرے گا، جب كه تبليغِ قرآن كا عالمى نشانه پورا كيا جاسكے۔ رسول اور اصحابِ رسول كے زمانے ميں جو انقلاب آيا، اس كے ذريعے دراصل تاريخ ميں ايك نيا پراسس جارى كرنا تھا۔ يه پراسس نهايت طاقت ور صورت ميں جارى هوا، يهاں تك كه بيسويں صدى ميں وه اپنے نقطهٔ انتها (culmination) تك پهنچ گيا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجوده زمانے كو ايج آف كميونكيشن (age of communication) كهاجاتا هے۔ يه ايج آف كميونكيشن كيا هے۔ يه دراصل دعوت بذريعه روايتى ذرائع كو دعوت بذريعه ٹكنالوجى كے دور ميں پهنچانا هے۔ موجوده زمانے ميں كميونكيشن كے جو ذرائع پيدا هوئے هيں، انھوں نے دعوت بذريعه روايتى ذرائع كو دعوت بذريعه كميونكيشن كے دور ميں پهنچاديا هے۔ اب يه پورى طرح ممكن هوگيا هے كه پيغمبرانه دعوت كى اشاعت عالمى سطح پر انجام دى جائے۔ جديد ٹكنالوجى اور دوسرے معاون حالات كے نتيجے ميں آج يه ممكن هوگيا هے كه كسى سياسى اقتدار يا كسى پولٹكل ايمپائر كے بغير غير سياسى دائرے ميں اسلامى دعوت كا ايك عالمى ايمپائر قائم كيا جاسكے۔ اِس ايمپائر كو غير سياسى دعوه ايمپائر (non-political dawah empire) كهاجاسكتا هے۔ جديد كميونكيشن اور پرنٹ ميڈيا اور الكٹرانك ميڈيا كو استعمال كركے عالمى دعوت كى اُس پيشين گوئى كو واقعه بنايا جاسكے جس كا ذكر قرآن ميں اِن الفاظ ميں آيا هے تَبٰرَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْراً (25:1)۔یعنی، بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ربانى تهذيب كا ظهور
رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے تاريخ ميں جو انقلاب آيا، وه محدود طورپر صرف ايك سياسى واقعه نه تھا۔ اُس كا تعلق پورى تاريخ بشرى سے تھا۔ جس چيز كو قرآن ميں ’’اتمامِ نور‘‘ كها گيا هے، وه دوسرے لفظوں ميں تهذيبِ ربانى (divine civilization) كو قائم كرنے كا معامله تھا۔ الله كو يه مطلوب تھا كه اس كى كتاب (قرآن) محفوظ هوجائے۔ تاريخ ميں ايسے انقلابات ظهور ميں آئيں جن كے نتيجے ميں دنيا ميں پرنٹنگ پريس كا دور آئے۔ فطرت ميں چھپے هوئے راز منكشف هوں، تاكه انسان كو علمى سطح پر خالق كى معرفت حاصل هو۔ كميونكيشن كے ذرائع دريافت هو كر انسان كے استعمال ميں آسكيں۔ اِسى طرح يه هو كه دنيا ميں مذهبى آزادى كا دور آئے۔ دينِ حق كى عالمى اشاعت ممكن هوجائے۔ معرفت كے تمام چھپے هوئے خزانوں پر انسان كو دسترس حاصل هو جائے، وغيره۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس پورے معاملے كو تهذيب ربانى كے ظهور سے تعبير كيا جاسكتا هے۔ رسول اوراصحابِ رسول كے ذريعے يهى انقلابى واقعه پيش آيا اور فطرت كے قانون كے مطابق، مختلف مراحل سے گزرتے هوئے اكيسويں صدى تك پهنچا جو اس كى تكميل كا مرحله هے۔ تاهم تكميل كا يه مرحله به اعتبار امكان هے، نه كه به اعتبار واقعه۔ ربانى تهذيب كيا هے، وه خدا كا قائم كرده ايك با معنى تسلسل هے جو كسى انقطاع كے بغير تاريخِ انسانى ميں مسلسل طورپر جارى هے۔
اب اهلِ اسلام كا يه فرض هے كه وه تاريخ كے اشارے كو سمجھيں، وه پيدا شده مواقع كو استعمال كركے دينِ توحيد كو پر امن انداز ميں تمام عالم تك پهنچا ديں۔ يهى پيغمبرانه مشن كى وه تكميل هے جس كى پيشين گوئى حديثِ رسول ميں كى گئى تھي۔ اِس عالمى رول كو ادا كرنے كى صرف ايك هى شرط هے، وه يه كه اهلِ اسلام قوموں كے خلاف، نفرت اور تشدد كے كلچر كو يك طرفه طورپر ختم كرديں اور كسى شرط كے بغير پر امن دعوتى كلچر كو اختيار كرليں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام كى دريافت
قرآن كى سورۃ المائده ميں ايك آيت هے جو رسول الله صلى الله عليه وسلم كى زندگى كے دورِ آخر ميں نازل هوئي۔ اس كا ايك حصه يه هے اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۭ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (5:3)۔ يعنى، آج منكر تمھارے دين كى طرف سے مايوس هوگئے، پس تم ان سے نه ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج ميں نے تمھارے ليے تمھارے دين كو كامل كرديا اور تم پر اپنى نعمت تمام كردى اور تمھارے ليے اسلام كو دين كى حيثيت سے پسند كرليا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں اكمالِ دين يا تكميلِ دين (completion of religion) سے مراد فهرستِ احكام كى تكميل نهيں هے اور نه اس كا مطلب يه هے كه اب اسلام حكومتى معنوں ميں غالب هوگيا هے۔ اِس كا مطلب صرف يه هے كه اسلام كى راه كے موانع (obstacles) ختم هوگئے۔ خود آيت كے الفاظ سے اسى مفهوم كى تائيد هوتى هے۔ كيوں كه آيت ميں اكمالِ دين كا مطلب يه بتايا گياهے كه اب خشيتِ انسانى (human fear) كا دور ختم هوگيا۔ اب خدا كے دين كے حق ميں ايسے اسباب جمع هوگئے هيں جو اُس كو اِس سے محفوظ كرديتے هيں كه وه ماضى كى طرح انسانى ركاوٹوں اور مذهبى جبركا شكار بنے۔
قرآن سے معلوم هوتا هے كه قديم زمانے ميں هزاروں سال كے درميان مسلسل پيغمبر آتے رهے (23:44) ۔ مگر جيسا كه معلوم هے، كسى بھى پيغمبر كى تعليمات محفوظ نه ره سكيں، حتى كه اِن پيغمبروں كا مدوّن تاريخ (recorded history) ميں كوئى ريفرنس بھى موجود نهيں۔ اِس كا سبب يه تھا كه پيغمبروں كے مشن كو محفوظ ركھنے كے ليے جو تائيدى عناصر (supporting elements) دركار تھے، وه ان كو حاصل نه هوسكے۔ پيغمبر آخر الزماں محمد بن عبد الله بن عبد المطلب كے ساتھ الله تعالى نے اِن تائيدات كو جمع كرديا۔ اِس طرح يه ممكن هوا كه آپ كى تعليمات ابدى طورپر محفوظ هوجائيں۔ قرآن كى مذكوره آيت ميں اِسى معاملے كو اِن الفاظ ميں بيان فرمايا كه اب خدا كا دين خشيتِ انسانى كے دور سے باهرآگيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پچھلے پيغمبروں كى تعليمات كے محفوظ نه هونے كا سبب كيا تھا، اس كا سبب يه تھا كه حفاظت كا يه كام اسباب كے ذريعے هوسكتا تھا۔ مگر پچھلے پيغمبروں كے ساتھ يه اسباب جمع نهيں هوئے۔ مثلاً كسى پيغمبر كا كام يا تو شخصى اعلان تك محدود رها، يا يه هوا كه صرف چند افراد اُن كا ساتھ دينے والے بنے، اور صرف چند افراد حفاظتِ دين كے ليے كافى نهيں۔ الله تعالى نے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے مشن كے ساتھ ايك خصوصى معامله يه كيا كه پيشگى طورپر ايك موافق نسل تيار كي۔ نسل سازى كا يه كام حضرت ابراهيم اور حضرت هاجره اور حضرت اسماعيل كے ذريعے عرب كے صحرا ميں كيا گيا۔
عرب كے صحرا ميں نسل سازى كا يه مشن تقريباً ڈھائى هزار سال تك چلتا رها، اس كے بعد ايك نئى نسل تيار هوئى جس كو بنو اسماعيل كها جاتا هے۔ اِسى نسل ميں 570 عيسوى ميں محمد صلى الله عليه وسلم پيداهوئے۔ اِس نسل كے درميان آپ نے پيغمبر كى حيثيت سے تقريباً 23 سال تك كام كيا۔ ان ميں سے عورتوں اور مردوں كى ايك بڑى تعداد آپ كے دين ميں داخل هوگئي۔ اِس طرح وه گروه بنا جس كو اصحاب كهاجاتا هے۔ ايك اندازے كے مطابق، اصحابِ رسول (عورت اور مرد) كى تعداد تقريباً 2 لاكھ تھي۔ اصحابِ رسول كى اِسى جماعت كے ذريعے وه موافق اسباب فراهم هوئے جن كو هم نے تائيدى عناصر (supporting elements) كا نام ديا هے۔
اصحابِ رسول كا رول
اصحابِ رسول كى يهى جماعت هے جس نے پهلى بار اِس كو ممكن بنايا كه خدا كے دين كا ايك محفوظ ايڈيشن تيار هوگيا۔ اِس سلسلے ميں اصحابِ رسول كے رول كے مختلف پهلو هيں۔ اِس كا ايك پهلو يه هے كه پهلى بار يه ممكن هوا كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى شخصيت ايك تاريخى شخصيت بن جائے۔ قديم دور ميں جو پيغمبر آئے، اُن كى تعداد روايات ميں تقريباً ايك لاكھ 24 هزار بتائى گئى هے، ليكن معروف تاريخى معيار كے مطابق، اِن ميں سے كسى بھى پيغمبر كى حيثيت ’’تاريخى پيغمبر‘‘ كى نهيں هے، حتى كه حضرت مسيح جو پيغمبر اسلام سے قريب تر زمانے ميں آئے، ان كے بارے ميں بھى برٹرينڈ رسل (وفات 1970) نے لكھا هے كه — تاريخى طورپر يه امر سخت مشتبه هے كه مسيح كا كبھى وجود بھى تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Historically, it is quite doubtful whether Christ ever existed at all. (Why I Am Not A Christian, 1967, Touchstone, UK, p. 266)
other sourceWords of another person or source
تاريخ ميں پيغمبروں كا اندراج نه هونے كا سبب كيا تھا۔ اِس كا سبب تاريخ نگارى كا قديم ذوق تھا۔ ابن خلدون (وفات 1406) سے پهلے ، تاريخ كو بادشاهوں كى تاريخ كے هم معنى سمجھا جاتا تھا۔ قديم پيغمبروں كے ساتھ چونکہ حكومت اور سياست كے واقعات جمع نهيں هوئے، اِس ليے ان كو تاريخى طورپر ناقابلِ ذكر سمجھ ليا گيا۔
اِس صورتِ حال كو ختم كرنے كے ليے الله تعالى نے گويا مورخين (historians) كى ايك نئى نسل (generation) تيار كي۔ يه صحابه اور تابعين تھے جنھوں نے اِس معاملے ميں عملاً وه رول انجام ديا جس كو اِس سے پهلے پروفيشنل مورخين انجام ديتے تھے۔ صحابه اور تابعين نے پيغمبر اسلام اور آپ كى تعليمات سے متعلق تمام واقعات كا مستند ريكارڈ تيار كيا، پهلے حافظے كى صورت ميں اور پھرتحرير كى صورت ميں۔ يهى وه محفوظ ريكارڈ هے جس كو آج قرآن اور حديث اور سيرت كے نام سے جانا جاتا هے۔
يه ريكارڈ پهلے صحابه كے ذريعے تيار هوا، پھر تابعين اور تبع تابعين كے ذريعے اس كا تسلسل جارى رها۔ اِسى طرح امت كى بعد كى نسلوں نے اِس كام كى تدوين ميں مزيد كارنامے انجام ديے۔ يه سلسله چلتا رها، يهاںتك كه اٹھارھويں صدى عيسوى ميں پريس كا دور آگيا۔ اب پيغمبر اسلام اور آپ كے متعلق تمام معلومات كا تاريخى ريكارڈ مطبوعه كتابوں كى صورت ميں محفوظ هوگيا۔ اِس طرح ايسا هوا كه پيغمبر اسلام كو استثنائى طورپر ايك مستند تاريخى پيغمبر كا درجه حاصل هوگيا۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى اِس حيثيت كا اعتراف خود سيكولر مورخين نے كھلے طورپر كيا هے۔ مثال كے طورپر فرانسيسى مستشرق ارنسٹ ريناں (Joseph Ernest Renan)جس كى وفات 1892 ميں هوئي، اس نے 1851 ميں ايك مقاله شائع كيا۔ اس كا عنوان يه تھا
Muhammad and the Origins of Islam.
اِس مقالے ميں ارنسٹ ر يناں نے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى تاريخى حيثيت كا كھلا اعتراف كرتےهوئے لكھا تھا كه— بڑے مذاهب كے دوسرے بانيوں كے برعكس، پيغمبر محمد واحد شخص هيں جوكه تاريخ كى كامل روشنى ميں پيدا هوئے
other sourceWords of another person or source
Unlike the other founders of major religions, the Prophet Muhammad was born in the full light of history.
پيغمبر اسلام كا مشن
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كا خصوصى مشن كيا تھا، اس كو قرآن كى دو آيتوں ميں اِس طرح بيان كيا گياهے يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ، هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (61:8-9) يعنى وه چاهتے هيں كه وه الله كے نور كو اپنى پھونك سے بجھا ديں، حالانکہ الله اپنے نور كو ضرور مكمل كرے گا، خواه منكروں كو يه كتنا هى ناگوار هو۔ الله هى نے اپنے رسول كو بھيجا هے هدايت اور دينِ حق كے ساتھ، تاكه وه اس كو تمام دين پر غالب كردے، خواه يه مشركوں كو كتنا هى ناگوار هو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِن آيتوں ميں دولفظ استعمال كيے گئے هيں هدى اور دين۔ اِسى كے ساتھ اِن ميں دو اور لفظ استعمال كيے گئے هيں اتمام اور اظهار۔ غور كرنے سے معلوم هوتا هے كه اتمام كا تعلق هدى سے هے اور اظهار كا تعلق دين سے۔ اِس ميں دراصل الله كے دو مطلوب كا ذكر هے۔ ايك هے، نورِ هدايت كا اتمام، اور دوسرا هے، دين خداوندى كا اظهار وغلبه۔
نورِ هدايت كيا هے، وه اصلاً دو چيزوں كے مجموعے كا نام هے۔ يه دوچيزيں قرآن اور سنتِ رسول هيں۔ قرآن، الله كے دين كا نظرياتى متن(ideological text) هے۔ الله تعالى كو يه مطلوب تھا كه قرآن كا مستند هدايت نامه اپنى كامل صورت ميں محفوظ هوجائے، تاكه قيامت تك كے انسانوں كے ليے وه خدائى هدايت كو جاننے كا مستندذريعه هو۔ اِس مطلوب الٰہی كو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)۔ يعنى، قرآن كو هم نے اتارا هے اور هم هى اس كى حفاظت كرنے والے هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى حفاظت مكمل طورپر ايك پرامن كام تھا۔ الله تعالى نے ايسے اسباب پيدا كيے كه قرآن كامل طورپر ايك محفوظ كتاب بن جائے، تاكه وه قيامت تك پيدا هونے والے تمام انسانوں كے ليے خدا كى هدايت كو معلوم كرنے كا مستند ماخذ بن سكے۔ يه كام مكمل طورپر انجام پاگيا۔ اِسى كا يه نتيجه هے كه آج پريس كے دورميں قرآن كے چھپے هوئے نسخے تمام دنيا ميں اس طرح موجود هيں كه هر عورت اور مرد جب چاهے، اس كو حاصل كرسكے۔
حفاظتِ قرآن كے اِس واقعے كا اعتراف سيكولر محققين نے بھى كھلے طورپر كيا هے۔ مثال كے طورپر اسكاٹش مستشرق سر وليم ميور (Sir W. Muir)جس كى وفات 1905 ميں هوئي، اس نے قرآن كى بابت لكھا هے كه — غالباً دنيا ميں كوئى دوسرى كتاب ايسى موجود نهيں جو كه 12 صديوں تك اپنى كامل حفاظت كو برقرار ركھے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
There is probably, in the world, no book which has remained for 12 centuries with so pure a text.
(The Life of Muhammad from Original Sources, p. xxiii)
قرآن كے بعد، خدا كے نورِ هدايت كا دوسرا جز وه هے جس كو قرآن ميں پيغمبر خدا كا اسوه حسنه (33:21) كهاگيا هے، يعنى عملى اعتبار سے خدا پرستانه زندگى گزارنے كا مستند نمونه ۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى زندگى ايك پُرازواقعات زندگى (eventful life) تھي۔ آپ كى زندگى ميں هر طرح كے حالات پيش آئے۔آپ نے هر صورت حال ميں خدا پرستانه زندگى كا عملى نمونه قائم كيا۔ آپ كے اِس اعلى نمونے كو قرآن ميں خلقِ عظيم (68:4) كے الفاظ ميں بيان كياگيا هے۔ پيغمبراسلام كى زندگى كے يه نمونے حديث اور سيرت كى كتابوں ميں تفصيل كے ساتھ موجود هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام كا يه پهلو اتنا زياده واضح هے كه سيكولر مورخين نے بھى كھلے طورپر اس كا اعتراف كيا هے۔ اس كى ايك مثال برٹش اسكالر ڈيوڈ جارج هاگرتھ (David George Hogarth) هے، جس كى وفات 1927 ميں هوئي۔ اس نے اپنى ايك كتاب ميں پيغمبر اسلام كے بارے ميں لكھا هے كه— پيغمبر اسلام كا روز مره كا سلوك خواه وه چھوٹا هو يا بڑا، اس نے ايسى حيثيت اختيار كرلى جس كى اب تك لاكھوں لوگ اهتمام كے ساتھ پيروى كررهے هيں۔ انسانى نسل كے كسى طبقے كا كوئى آدمى يه درجه حاصل نه كرسكا كه ايك معيارى انسان كى حيثيت سے اِس طرح اس كا كامل اتباع كيا جائے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Serious or trivial, his daily behaviour has instituted a course which millions observe at this day with conscious mimicry. No one regarded by any section of the human race as perfect man has been imitated so minutely. (Arabia, p. 52)
other sourceWords of another person or source
هُدى سے مراد نظرياتى ماڈل هے۔ خدا كى هدايت كا يه نظرياتى ماڈل قرآن اور سنتِ رسول كى شكل ميں مستند طور پر محفوظ هوگيا هے۔ يه نظرياتى ماڈل اب هميشه كے ليے پيغمبر كا بدل هے۔
اظهارِ دين
قرآن كى مذكوره آيتوں ميں دو چيزوں كا ذكر هے— هدى اور دين۔ دونوں كى حيثيت ايسے مطلوب كى هے جن كو پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے مشن كے ذريعے حاصل كرنا مقدر تھا۔ ليكن آيت كے الفاظ پر غور كرنے سے معلوم هوتا هے كه دونوں كا معامله ايك دوسرے سے مختلف هے۔ هدى سے مراد ايك نظرياتى مطلوب هے، اور دين سے مراد ايك عملى مطلوب۔ جب قرآن كا متن محفوظ هوگيا اور پيغمبر اسلام كا ماڈل حديث اور سيرت كى كتابوں كے ذريعے مستند طورپر مدوّن هوگيا تو اس كے بعد وه مطلوب آخرى طور پر حاصل هوگيا جس كو آيت ميں هدى كے لفظ ميں بيان كياگيا تھا۔ الله نے اپنے پيغمبر كے ذريعے سے اپنى هدايت كا مستند ماخذ تيار كرديا۔ اب يه انسان كا كام هے كه وه اِس خدائى ماخذ سے اپنے ليے هدايت حاصل كرتا هے يا هدايت حاصل نهيں كرتا۔
اظهارِ دين كا معامله اِس سے مختلف هے۔ اِس معاملے ميں اظهار، يعنى غلبه مطلوب هے، نه كه صرف نظرياتى معيار كا وجود ميں آنا۔ اِس ليے اظهارِ دين سے ايك ايسا مطلوب مراد لياجائے گا جو بالفعل وقوع ميں آيا۔ بالفعل وقوع ميں آنے سے كم درجے كى كوئى چيز اس كى تفسير نهيں بن سكتي۔ اِس آيت ميں اظهارِ دين سے حكومتى نظام يا قانونى نظام مراد نهيں لياجاسكتا۔ اِس ليے كه تاريخى طور پر يه بات ثابت هے كه پيغمبر اسلام كے زمانے ميں يا آپ كے بعد كامل معنوں ميں ايسا كوئى نظام نهيں بنا اور نه بن سكتا هے، اِس ليے كه اِس دنيا كو الله تعالى نے انسانى آزادى كے اصول پر بنايا هے(18:29) ۔ ايسى حالت ميں يه ممكن هى نهيں كه يهاں معيارى معنوں ميں كوئى كامل نظام بنايا جاسكے۔ امتحان كى مصلحت كے تحت دى هوئى انسانى آزادى اِس طرح كے معيارى نظام كو قائم كرنے ميں حتمى طورپر مانع هے۔ اِس دنيا ميں جب آئڈيل كا حصول ممكن نهيں تو آئڈيل كے حصول كو نشانه بنانا بھى درست نهيں هوسكتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ايسى حالت ميں، اظهارِ دين كى آيت ميں دين كے اظهار كى ايسى تفسير كرنى پڑے گى جو عملى طورپر وقوع ميں آئى هو۔ اِس اعتبار سے غور كرتے هوئے معلوم هوتا هے كه اِس آيت ميں دين سے مراد شرعى دين نهيں هے، بلكه فطرى دين هے، اور اظهارِ دين كا مطلب هے انسانى زندگى ميں خدا كے تخليقى نقشے كے مطابق، حالتِ فطرى كا قائم هوجانا۔ دين كا يه مفهوم قرآن كى ايك اور آيت ميں موجود هے۔ اس كے الفاظ يه هيں اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ وَلَهٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ (3:83)۔ یعنی، کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالانکہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے، اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اِس آيت ميں دين سے مراد دينِ شرعى نهيں هے، بلكه دينِ فطرى هے، يعنى وه دين جس پر تمام كائنات بالفعل قائم هے۔يه دين فطرى كيا هے، وه قرآن كى اِس آيت كے مطالعے سے معلوم هوتا هے الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (67:2)۔یعنی، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل يه هے كه الله نے اپنے تخليقى نقشے كے مطابق، انسان كو پيدا كركے سياره ارض پر بسايا۔ انسان كو زمين پر بسانا بطور امتحان (test) تھا، تاكه امتحانى حالات سے گزار كر احسن العمل افراد كا انتخاب كيا جائے، يعنى ايسے عورت اور مرد كا انتخاب جنھوں نے كامل آزادى كے باوجود اپنے آپ كو پورى طرح حدودِ الٰہی كا پابند بنايا، جنھوں نے اپنى آزادى كا غلط استعمال (misuse) نهيں كيا۔ يهى منتخب افراد وه لوگ هيں جن كو پورى تاريخ سے لے كر ابدى جنتوں ميں بسايا جائے گا۔ زمين پر يه آزادانه ماحول الله كو لازمى طور پر مطلوب هے۔ آزادى كے اِس نظام كو كوئى بھى شخص يا گروه اگر منسوخ (abolish) كرے تو الله هر گز اس كو قبول نهيں كرے گا، وه ايسے افراد يا گروه كا لازما خاتمه كردے گا۔
بادشاهت كے نظام كا خاتمه
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى بعثت 610 عيسوى ميں هوئي۔ اُس وقت يه حال تھا كه سارى دنيا ميں كچھ انسانوں نے بادشاهت كا نظام قائم كردياتھا۔ يه شاهى نظام عملاً جبريت (despotism) كے هم معنى تھا۔ اِس نظام نے انسانوں سے اُس آزادى كو چھين ليا تھا جو الله نے ان كو عطا كى تھي۔ يه صورتِ حال الله كو مطلوب نهيں تھي، كيوں كه وه الله كے تخليقى منصوبه (creation plan of God) كى منسوخى كے هم معنى تھا۔ الله تعالى نے پيغمبر اسلام اور آپ كے اصحاب كو حكم ديا كه وه اِس جابرانه نظام سے ٹكرا كر اس كو ختم كرديں، تاكه دنيا ميں دوباره الله كى مطلوب حالتِ فطرى قائم هوجائے۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى بعثت هوئى تو اُس زمانے ميں ايك طرف عرب ميں ملكى سطح پر قبائلى نظام تھا۔ اِس قبائلى نظام نے بھى عملاً انسانى آزادى كو ختم كرركھا تھا۔ اِس صورتِ حال كا اشاره قرآن كى مختلف آيتوں ميں كياگيا هے۔ مثلاً اَرَءَيْتَ الَّذِى يَنْهٰى۔عَبْدًا اِذَا صَلّٰى (96:9-10) ۔يعنى، كيا تم نے ديكھا اُس شخص كو جو منع كرتا هے، ايك بندے كو جب كه وه نماز پڑھتا هو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پيغمبر اور اصحاب پيغمبر كا پهلا ٹكراؤ اس قبائلى نظام سے هوا۔اِس كے نتيجے ميںمحدود نوعيت كى كچھ جنگيں (limited wars) پيش آئيں۔ آخر كار8هجرى ميں مكه فتح هوا، جو عرب كے قبائلى نظام كا مركز تھا۔ فتح مكه كے بعد سارے عرب ميں قبائل كا زور ٹوٹ گيا اور آزادى كى حالت قائم هوگئي۔فتح مكه كے بعد اصحاب رسول كو غلبه حاصل هوگيا۔ اِس غلبه كا مركز مدينه تھا۔ يه غلبه اپنى حقيقت كے اعتبار سے حكومت قائم هونے كے هم معنى نه تھا، بلكه وه صرف يه تھا كه انتظاميه (administration) قبائلى سرداروں كے هاتھ سے نكل كر اصحابِ رسول كے هاتھ ميں آگيا۔
اِس اعتبار سے دوسرا مسئله يه تھا كه عرب كے باهر اُس وقت دو بڑى شهنشاهتيں قائم تھيں۔ ايك، ساسانى ايمپائر(Sassanid empire) اور دوسرے، بازنتينى ايمپائر (Byzantine empire)۔ ساسانى ايمپائر كا دار السلطنت عراق كا قديم شهر ساسانيان (Ctesiphon) تھا اور بازنتينى ايمپائر كا دار السلطنت تركى كا شهر قسطنطنيه (Constantinople) تھا۔ ساسانى ايمپائر دراصل اُس وقت كے رومن ايمپائر كا مشرقى بازو تھا۔ يه دونوں ايمپائر عرب كے قريب واقع تھے اور وه اُس وقت كى دنيا ميں بادشاهت پر مبنى جبرى نظام كے نمائندے بنے هوئے تھے۔ اِن دونوں ايمپائر نے الله كى دى هوئى آزادى كو عملاً منسوخ كر ركھا تھا، جو كه الله كو كسى حال ميں مطلوب نه تھا۔ بازنتينى سلطنت كا اقتدار 15 ملكوں پر تھا۔ اس كا خاتمه 678 عيسوى ميں هوا۔ اور ساسانى سلطنت كا اقتدار 13 ملكوں پر تھا۔ اس كا خاتمه 651 عيسوى ميں هوا۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے اِن حكمرانوں كو اپنے نمائندوں كے ذريعے خطوط بھيجے۔ اِس كا مقصد يه تھا كه حكمراںپر امن طورپر اپنے جابرانه نظام كو ختم كرنے كے ليے تيار هوجائيں، مگر ايسا نه هوسكا۔ ساسانى حكمراں نے آپ كے مكتوب كو اتنا حقير سمجھا كه اس نے اس كو پھاڑ كر پھينك ديا۔ اس كے بعد پيغمبر اور اصحابِ پيغمبر كا دونوں سے ٹكراؤ پيش آيا۔ اِس ٹكراؤ ميں الله كى مدد پيغمبر اور اصحابِ پيغمبر كے ساتھ تھي، چنانچہ وه پورى طرح كامياب هوئے۔
يه ايك عظيم تاريخى واقعه تھا، جس نے انسانى تاريخ كے دھارے كو هميشه كے ليے بدل ديا۔ چنانچہ الله نے ايك اسرائيلى پيغمبرحبقّوق كے ذريعے اس كى پيشگى خبر دے دى تھى جو موجوده بائبل ميں بدستور موجود هے۔ اِس پيشگى خبر كے الفاظ يه هيں — وه كھڑا هوا اور زمين تھرا گئي۔ اس نے نگاه كى اور قوميں پراگنده هوگئيں۔ ازلى پهاڑ پاره پاره هوگئے۔ قديم ٹيلے جھك گئے۔ اس كى راهيں ازلى هيں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He stood and measured the earth; He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting (Habakkuk 3:6)
other sourceWords of another person or source
مذكوره بيان ميں ’’وه‘‘ سے مراد پيغمبر اسلام هيں، اور ’’پهاڑيوں‘‘ سے مراد سياسى پهاڑياں هيں، يعنى ساسانى ايمپائر اور بازنتينى ايمپائر۔ ’’اس كى راهيں ازلى هيں‘‘ سے مراد هے خدا كے دين كا ابدى طورپر محفوظ هوجانا۔ بائبل كى يه پيشين گوئى پيغمبر اسلام كے ذريعے كامل طورپر پورى هوئي۔
نئے دور كا آغاز
جبر پر مبنى مذكوره دونوں سياسى ايمپائر كا خاتمه ساتويں صدى عيسوى ميں هوا۔ يه دونوں ايمپائر آزادانه ترقى كى راه ميں سب سے بڑى ركاوٹ بنے هوئے تھے۔ جب يه دونوں ايمپائر ختم هوئے تو دنيا ميں آزادى كا ايك نيا دور آيا۔ اِس نئے دور كے حالات نه صرف مسلم مورخين كى كتابوں ميں پائے جاتے هيں، بلكه سيكولر مورخين نے بھى كھلے طورپر اس كا اعتراف كيا هے۔
اِنھيں سيكولر مورخين ميں سے ايك فرانسيسى مورخ هنرى پرين (Henri Pirenne) هے، جس كى وفات 1935 ميں هوئي۔ هنرى پرين نے اپنے مطالعے كے نتيجے ميں كھلے طورپر اِس تاريخى حقيقت كا اعتراف كيا هے۔ هنرى پرين نے لكھا هے كه ساسانى ايمپائر اور بازنتينى ايمپائر نے دنيا ميں مطلق شهنشاهيت (monarchical absolutism) كا نظام قائم كرركھاتھا۔ اصحابِ رسول نے اپنى غيرمعمولى قربانى كے ذريعے اِس نظام كو توڑ ديا۔ اِس واقعے كے نتيجے ميں تاريخ ميں ايك نيا دور شروع هوا۔ هنرى پرين كے الفاظ ميں— اسلام نے زمين كے نقشے كو بدل ديا۔ تاريخ كے روايتى نظام كا خاتمه هوگيا
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. (History of Western Europe, p. 46)
other sourceWords of another person or source
ساتويں صدى عيسوى ميں جب سياسى جبر كے نظام كا خاتمه كيا گيا تو اس كے بعد دنيا ميں ايك نيا انقلاب آيا۔ يه انقلاب فورى نتيجے كے معنى ميں نه تھا، بلكه وه ايك پراسس (process) كى حيثيت ركھتا تھا۔ اِس كے بعد انسانى زندگى ميں پهلى بار ايك نيا تاريخى عمل (historical process) شروع هوا۔ يه تاريخى پراسس برابر چلتا رها، يهاںتك كه وه اپنے آخرى نقطه انتها (culmination) تك پهنچ گيا۔ يه آخرى نقطه انتها وهى هے جس كو عام طورپر مغربى تهذيب (western civilization) كهاجاتا هے۔ اِس تاريخى عمل كے دو بڑے دھارے تھے— ايك، وه جس كو جديد اصطلاح ميں، جمهوريت (democracy) كها جاسكتا هے۔ اور دوسرا، وه جس كو جديد ٹكنالوجى پر مبنى صنعت كهنا درست هوگا۔
عام طورپر مسلم علما مغربى تهذيب كے بعض ناپسنديده پهلو كو ديكھ كر اس كے بارے ميں منفى هوگئے هيں، مگر يه ناپسنديده پهلو دراصل مغربى تهذيب كا كلچرل پهلو هے، وهى اصل مغربى تهذيب نهيں هے۔ اصل مغربى تهذيب اپنى حقيقت كے اعتبار سے، وهى چيز هے جس كو هم نے خدا كے دين كے حق ميں تائيدى عنصر كى حيثيت سے بيان كيا هے۔
جمهوريت كا دور
اهلِ علم كے درميان عام طورپر يه سمجھا جاتا هے كه موجوده زمانے ميں سماجى اور سياسى نظام (socio-political system) كے اعتبار سے جو ترقياں هوئى هيں، اُن سب كى بنياد جمهوريت هے۔ سمجھا جاتاهے كه يه دراصل انقلاب فرانس (1789) تھا جس كے بعد دنيا ميں جمهوريت كادور آيا، مگر زياده صحيح بات يه هے كه انقلا ب فرانس (French Revolution) ايك تاريخى عمل كا نقطه انتها تھا۔ يه تاريخى عمل انقلاب فرانس سے بهت پهلے عرب ميں اسلامى انقلاب كے بعد شروع هوا۔
قرآن ميں اِس معاملے ميں يه اصولى حكم اِن الفاظ ميں دياگيا تھا أَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ (42:38)۔يعنى،وه اپنا كام آپس كے مشورے سے كرتے هيں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Their affairs are decided by mutual consultation.
وه چيز جس كو موجوده زمانے ميں نظام جمهوريت كها جاتاهے، اُسى كو قرآن ميں نظامِ شورى كهاگيا هے۔ شورى كا يه تصور اسلام كے اجتماعى نظام كى بنياد هے۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے بعد مسلمانوں كا جو اجتماعى نظام بنا، اس كو عام طورپر خلافت كهاجاتا هے۔ اِس خلافت كا اگر دوسرا نام تجويز كرناهو تو يقيناً وه جمهورى خلافت هوگا۔اِس معاملے كى ايك مثال خليفه ثانى عمر فاروق (وفات 644ء) كا ايك واقعه هے۔ اِس واقعے كو يهاں نقل كياجاتاهے
’’خليفه دوم عمر فاروق كے زمانے ميں عمروبن العاص مصر كے گورنر تھے۔ انھوں نے ايك بار گھوڑوں كى دوڑ كرائي۔ اِس دور ميں گورنر كے بيٹے كا گھوڑا بھى شريك تھا، مگر جب دوڑ هوئى تو ايك مصرى (غير مسلم) كا گھوڑا آگے بڑھ گيا۔ مصرى نے فتح كے جوش ميں كوئى ايساجمله كها جو گورنركے صاحب زادے (محمد بن عمرو بن العاص) كو برا معلوم هوا اور انھوں نے مذكوره مصرى كو كوڑے سے مار ديا۔ مارتے هوئے ان كى زبان سے نكلا خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْرَمِينَ(يه لو، اور ميں شريفوں كى اولاد هوں)۔ حضرت انس بن مالك اِس قصے كو بيان كرتے هوئے كهتے هيں كه مذكوره مصرى اِس كے بعد مصر سے چل كر مدينه پهنچا اور خليفه عمر فاروق سے شكايت كى كه گورنر كے لڑكے نے اس طرح اس كو كوڑے سے مارا هے۔ حضرت عمر نے فرمايا كه تم يهاں ٹھهرو، اور فوراً اپنے ايك خاص آدمى كو مصر بھيجا كه عمرو بن العاص اور ان كے بيٹے محمد بن عمرو جس حال ميں هوں، اسى حال ميں ان كو لے كر مدينه آؤ۔ چنانچہ وه لوگ مدينه لائے گئے۔ جب وه مدينه پهنچے تو خليفه عمر نے فرمايا أَيْنَ الْمِصْرِيُّ، دُونَكَ الدُّرَّةَ فَاضْرِبْ بِهَا ابْنَ الأَكْرَمِينَ (مصرى كهاں هے۔ يه كوڑا لو اور اس سے شريف زاده كو مارو)۔اس كے بعد مصرى نے كوڑا ليا اور گورنر مصر كے سامنے ان كے صاحب زاده كو مارنا شروع كيا۔ وه مارتا رها، يهاں تك كه ان كو زخمى كرديا۔ خليفه عمر درميان ميں كهتے جاتے تھے كه شريف زاده كو مارو۔ جب وه خوب مار چكا تو خليفه عمر فاروق نے كها كه ان كے والد عمرو بن العاص كے سر پر بھى ايك كوڑا مارو، كيوں كه خدا كى قسم، ان كے بيٹے نے صرف اپنے باپ كى بڑائى كے زور پر تم كو مارا (فَوَاللهِ مَا ضَرَبَكَ ابْنُهُ إِلَّا بِفَضْلِ سُلْطَانِهِ)۔ مصرى نے کہا كه اے امير المومنين، جس نے مجھ كو مارا تھا، اس كو ميں نے مارليا۔ اِس سے زياده كى مجھے حاجت نهيں۔ خليفه عمر نے كها خدا كى قسم، اگر تم ان كو بھى مارتے تو هم تمھارے اور ان كے درميان حائل نه هوتے، يهاں تك كه تم خود هى ان كو چھوڑ دو۔ پھر آپ نے عمرو بن العاص سے مخاطب هو كر فرمايا يَا عَمْرُو، مَتَى اسْتَعْبَدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا(سيرت عمر بن الخطاب، على محمد الصلاّبى 1/306)۔یعنی،اے عمرو، تم نے كب سے لوگوں كو غلام بنا ليا، حالانکہ اُن كى ماؤں نے ان كو آزاد پيدا كيا تھا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ساتويں صدى عيسوى ميں اسلامى انقلاب كے تحت پيدا هونے والا يه جمهورى پراسس (democratic process) تاريخ ميں سفركرتا رها۔ آخرى كار وه مختلف مراحل سے گزرتے هوئے مغربى يورپ پهنچا۔ خليفه عمر فاروق كے مذكوره واقعے كے تقريباً 11 سو سال بعد فرانس كے جمهورى مفكر روسو (Jean Jacques Rosseau) نے اپنى مشهور كتاب سوشل كنٹريكٹ (Contract Social) 1762 ميں شائع كي۔ اِس كتاب كا پهلا جمله خليفه عمر فاروق كے قول كى بازگشت تھا۔ كتاب كا وه پهلا جمله يه تھا— انسان آزاد پيدا هوا تھا، ليكن ميں اس كو زنجيروں ميں جكڑا هوا ديكھتا هوں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Man was born free, but I see him in chains.
پيغمبر اسلام كى وفات كے تقريباً 30 سال بعد ايسے حالات پيدا هوئے كه شورائى خلافت اپنے ڈھانچے كے اعتبار سے، ايك خاندانى خلافت بن گئي، ليكن اسلامى انقلاب كے اثرات اتنے گهرے تھے كه اِس ظاهرى تبديلى كے باوجود خلافت كا جمهورى مزاج بدستور باقى رها۔ اِس معاملے كى بهت سى مثاليں تاريخ كى كتابوں ميں موجود هيں۔ بطور مثال يهاں ايك واقعه نقل كيا جاتا هے۔
هارون رشيد كا ايك واقعه
هارون رشيد عباسى دور كا پانچواں خليفه هے۔ وه 766 ميں پيدا هوا اور 809 ميں اس كى وفات هوئي۔ اس كا ايك واقعه اِن الفاظ ميں نقل كياگيا هے وَذُكِرَ أَنَّ يَهُودِيًّا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ عِنْدَ هَارُونَ الرَّشِيدِ، فَاخْتَلَفَ إِلَى بَابِهِ سَنَةً، فَلَمْ تُقْضَ حَاجَتُهُ، فَوَقَفَ يَوْمًا عَلَى الْبَابِ۔ فَلَمَّا خَرَجَ هَارُونُ سَعَى حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَاتَّقِ اللهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَنَزَلَ هَارُونُ عَنْ دَابَّتِهِ وَخَرَّ سَاجِدًا. فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ أَمَرَ بِحَاجَتِهِ فَقُضِيَتْ. فَلَمَّا رَجَعَ قِيلَ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، نَزَلْتَ عَنْ دَابَّتِكَ لِقَوْلِ يَهُودِيٍّ؟ قَالَلَا، وَلَكِنْ تَذَكَّرْتُ قَوْلَ اللهِ تَعَالَى وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ، فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ، وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ (تفسير القرطبي،جلد 3، صفحہ 19)۔ يعنى، كها جاتا هے كه ايك يهودى تھا جس كو هارون رشيد سے ايك كام تھا۔ وه شخص اِس كام كے ليے خليفه كے دروازے پر ايك سال تك جاتا رها، مگر خليفه نے اس كى ضرورت پورى نه كي، پھر ايك دن وه يهودي، خليفه كے دروازے پر كھڑا هوگيا۔ جب هارون رشيد باهر نكلا تو وه شخص تيزى سے آكر خليفه كے سامنے كھڑا هوگيا، اور كها— اے امير المومنين، الله سے ڈرئيے۔ يه سن كر هارون رشيد اپنى سوارى سے اترا اور سجدے ميں گر پڑا۔ پھر هارون رشيد نے سجدے سے سراٹھايا اور اس نے حكم ديا اور يهودى كى ضرورت پورى كردى گئي۔ پھر جب هارون رشيد لوٹا تو اس سے كها گيا كه اے امير المومنين، كيا آپ ايك يهودى كے قول پر اپنى سوارى سے اتر گئے۔ هارون رشيد نے كها كه نهيں، بلكه مجھے الله تعالى كا يه قول ياد آيا (2:206) اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو وقار اس کو گناہ پر جما دیتا ہے۔پس ایسے شخص کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ساتويں صدى عيسوى ميں اسلامى انقلاب آيا، اس كے بعد تاريخ ميں جو پراسس جارى هوا، اس كا دوسرا پهلو وه تھا جس كو هم نے جديد ٹكنالوجى پر مبنى صنعت كها هے۔ يه دوسرا پراسس خاص طورپر عباسى عهد (750-1258)ميں بغداد ميں شروع هوا، پھروه مختلف مراحل سے گزرتا هوا اسپين پهنچا۔ اسپين ميں اس نے غير معمولى ترقى حاصل كي۔ اسپين كى مسلم خلافت 711 ميں شروع هوئى اور 1492ميں ختم هوئي۔ اِس مدت ميں جو سائنسى ترقياں هوئيں، وهى مغرب كے صنعتى انقلاب كى بنياد بنيں۔ مسلم خلافت كے زمانے ميں سائنس ميں جو ترقى هوئي، اس كے بغير مغرب ميں سائنس كى ترقى ممكن نه هوتي۔ مورخين نے اس واقعے كا كھلے طور پر اعتراف كيا هے۔ اس كى ايك مثال رابرٹ بريفالٹ (Robert Briffault) كى هے۔ وه فرانس ميں پيدا هوا اور لندن ميں اس كى وفات هوئي۔ بريفالٹ نے مغرب كى نشاةِ ثانيه سے پهلے عربوں كے سائنسى رول كا اعتراف كرتےهوئے لكھا هے كه — يه بهت زياده قابلِ قياس بات هے كه عربوں كے رول كے بغير يورپ كى جديد صنعتى تهذيب هر گز كبھى وجود ميں نه آتي
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
‘It is highly probable that but for the Arabs modern European civilization would never have arisen at all'. Robert Briffault (1876-1948)
other sourceWords of another person or source
(The Making of Humanity, p.190, published in 1919; publisher: G. Allen & Unwin Ltd, UK, pp. 371)
other sourceWords of another person or source
اس طرح كى رائيں كئى اور مغربى اسكالر وں نے دى هيں۔ مثلاً برٹرنڈ رسل، فيلدنگ گيرسن (Fielding Garrison) برناڈلوئى (Bernard Lewis) ، وِل ڈيورنٹ(Will Durant)، وغيره۔يهاں وِل ڈيورنٹ كا ايك اقتباس نقل كيا جاتا هے
Muslim scientists helped in laying the foundations for an experimental science with their contributions to the scientific method and their empirical, experimental and quantitative approach to scientific study. (The Age of Faith, by Will Durant (1980), 4/162
other sourceWords of another person or source
يعنى مسلم سائنس دانوں نے سائنٹفك طريقِ عمل ميں اپنے كنٹرى بيوشن اور اپنے تجرباتى اور كمياتى منهج كے ذريعے سائنسى مطالعے كى بنياد ركھنے ميں مدد دي۔
اسلامى تحريك اكيسويں صدى ميں
قرآن كى مذكوره آيات (61:8-9) سے معلوم هوتا هے كه الله تعالى كو رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے جو انقلاب مطلوب تھا، اُس انقلاب كے د و حصے تھے— ايك، اتمامِ نور، اور دوسرے، اظهارِ دين۔ اب اكيسويں صدى ميں يه دونوں مطلوب چيزيں پورى طرح واقعه بن چكى هيں۔ اِس طرح اب اسلامى تحريك اپنے فائنل دور ميں پهنچ چكى هے۔ اب فائنل رول اهلِ ايمان كو ادا كرنا هے۔ اب اهلِ ايمان كا كام هے كه وه اِس تاريخى انقلاب كو سمجھيں اور اس كے ذريعے پيدا هونے والے امكانات (opportunities) كو بھر پور طورپر استعمال كريں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جيسا كه اوپر عرض كيا گيا، اِس مطلوب خداوندى كا ايك پهلو وه تھا جس كو قرآن ميں، اتمامِ نور سے تعبير كياگيا هے۔ اتمامِ نور سے مراد ايك ايسا واقعه هے جو اپنى حقيقت كے اعتبار سے، پورى طرح ايك پرامن اورغير سياسى واقعه هے، اور وه هے خدا كے دين كے مستند ايڈيشن كا پورى طرح محفوظ هو جانا۔ يه واقعه اِس طرح انجام پاچكا هے كه خدا كى كتاب (قرآن) كا متن (text) كامل طورپر محفوظ هوچكا هے۔ اِسى كے ساتھ پرنٹنگ پريس كا دور دنيا ميں آگيا هے۔ اِس طرح يه ممكن هوگيا هے كه قرآن كا متن اور اس كے ترجمے تيار كركے هر زبان ميں شائع كيے جائيں اور اس كو تمام اقوامِ عالم تك پهنچا دياجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے ميں دوسرا مطلوب وه هے جس كو قرآن ميں اظهارِ دين كهاگيا هے، يعنى دين كو غلبه كى حيثيت مل جانا۔ يه دوسرا مطلوب بھى اكيسويں صدى ميں پورى طرح حاصل هوگيا هے۔ اب اهلِ ايمان كو صرف يه كرنا هے كه وه اظهارِ دين كے ذريعے حاصل هونے والے مواقع كو بھر پوراستعمال كريں۔ جيسا كه عرض كيا گيا، اظهارِ دين سے مقصود يه تھا كه دنيا ميں وه حالتِ فطرى قائم هوجائے۔ يه واقعه بھى پورى طرح انجام پاچكا هے۔ اب دنيا ميں پورى طرح مذهبى آزادى آچكى هے۔ كسى بھى ركاوٹ كے بغير دنيا كے كسى ملك ميںدعوتى مشن كو جارى كرنا ممكن هوگيا هے۔ اِس انقلاب كے بعد تاريخ ميں پهلى بار يه واقعه پيش آيا هے كه انسانى تاريخ ميں تلوار كا دور ختم هوگيا۔ اب صرف پُرامن عمل كا دور هے۔ تاريخ كا يه دور عين دعو تى مشن كے حق ميں هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اظهارِ دين، يعنى دنيا ميں حالتِ فطرى كے قائم هونے كى بنا پر بهت سے موافق حالات وجود ميں آئے هيں۔ اِن ميں سے دو بےحد اهم هيں۔ ايك هے، كائنات ميں چھپى هوئى الله كى نشانيوں كا دريافت هوجانا۔ اور دوسرا هے، جديد مواصلات (modern communication) جس نے تاريخ ميں پهلى بار اُس عالمى مشن كو مكمل كرنے كا موقع فراهم كيا جس كو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے تَبٰرَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْراً(25:1)۔ یعنی، بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آياتِ الٰہی كا ظهور
آيات الله يا آياتِ معرفت كا ظهور پيشگى طورپر مقدر تھا۔ قرآن ميں اِس كى پيشين گوئى اِن الفاظ ميں كى گئى تھيسَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن كى اِس آيت ميں جس چيز كو آفاق وانفس ميں نشانيوں كا ظهور بتايا گيا هے، وه دراصل دورِ جديد ميں نظرياتى سائنس كے ذريعے دريافت هونے والے حقائقِ فطرت هيں۔ اِن حقائق نے دورِ جديد ميںمعرفتِ خداوندى كے نئے دروازے كھول دیے هيں۔اب يه ممكن هوگيا هے كه الله كا كوئى بنده تخليقاتِ الهيه ميں كمالاتِ الهيه كو ديكھے اور معرفتِ خداوندى كا اعلى درجه حاصل كرے۔ نيز اِسى كے ذريعے يه بھى ممكن هوگيا هے كه اِن حقائق فطرت كو دعوت الى الله كے عمل ميں جديد دلائل كے طورپر استعمال كيا جائے۔ اِس طرح دعوت كے عمل كو خود انسان كے علمى مسلّمه كے مطابق، ثابت شده بناديا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سائنسى انقلاب كا دوسرا پهلو وه هے جس كو موجوده زمانے ميں دورِ مواصلات (age of communication) كهاجاتا هے۔ اِس دورِ مواصلات نے تاريخ ميں پهلى بار اِس بات كو ممكن بنا ديا هے كه دعوت الى الله كے اُس عالمى نشانے كو پورا كيا جاسكے جس كى پيشين گوئى ايك حديث رسول ميں اِن الفاظ ميں كى گئى تھى لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ، بِعِزِّ عَزِيزٍ أوۡذُلِّ ذَلِيلٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔زمين كى پشت پر كوئى چھوٹا يا بڑا گھر باقى نهيں رهے گا، جهاں الله اسلام كا كلمه نه پهنچا دے، عزت والے كو عزت كے ساتھ اور ذلت والے كو ذلت كے ساتھ،يعنى چاهتے هوئے يا نه چاهتے هوئے (willingly or unwillingly)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دنيا ميں حالتِ فطرى كے قائم هونے سے موجوده زمانے ميں جو نئے مواقع كھلے هيں، وه سارے انسانوں كے ليے هيں۔ يه ممكن نهيں هے كه اِن مواقع پر كسى ايك گروه كى اجاره دارى (monopoly) قائم هوجائے۔ خدا كے تخليقى نقشے كے مطابق، آزادى (freedom) هر انسان كا فطرى حق هے، مومن كا بھى اور غير مومن كا بھي۔ يه ممكن نهيں هے كه يه آزادى صرف اهلِ ايمان كو حاصل هو اور دوسرے لوگوں كے ليے وه منسوخ قرار پائے۔ دوسرے لوگ بھى اپنى آزادى كو كھلے طورپر استعمال كريں گے۔ اگر كسى كے استعمالِ آزادى سے اهلِ ايمان كے جذبات مجروح هوتے هيں تو يه اهلِ ايمان كا اپنا مسئله هے، وه دوسروں كا مسئله نهيں۔ دوسروں پر صرف يه پابندى لگائى جاسكتى هےكه وه اپنى آزادى كو اِس طرح استعمال نه كريں كه وه دوسروں كے ليے جسمانى جراحت (physical injury) كا سبب بن جائے۔ اِس ايك پابندى كے سوا، كوئى اور پابندى نه مطلوب هے اور نه ممكن۔
خلاصه كلام
ايك اسلامى اسكالر كا مقاله نظر سے گزرا۔ اِس مقالے ميں انھوں نے لكھا تھا كه اسلام كى تعليمات كا خلاصه بنيادى طورپر دو هے— توحيد اور عدل۔ توحيد (Monotheism) سے مراد ان كے نزديك انفرادى عقيده تھا، اور عدل (justice) سے مراد عدل پر مبنى اجتماعى نظام۔ انھيں دو تصورات كے تحت انھوں نے پورے اسلام كى تشريح كى تھي۔
مگر ميرے مطالعه كے مطابق، اسلام كا يه تصور درست نهيں۔ حقيقت يه هے كه توحيد اورعدل دونوں هى انفرادى نوعيت كے احكام هيں۔ توحيد سے مراد هے ايك انسان كا انفرادى عقيده، اور عدل سے مراد هے، ايك انسان كا انفرادى سلوك۔ قرآن كے مطابق، الله تعالى نے انسان كو معرفت كے ليے پيدا كيا هے (51:56)۔ انسان كو الله تعالى نے عقل دي۔ اب انسان سے يه مطلوب هےكه وه عقل كو استعمال كركے اپنے خالق كو دريافت كرے۔ يهى دريافت، خدا پرستانه زندگى كا آغاز هے۔ اِس دريافت كا تعلق انسان كى پورى زندگى سے هے۔ جب كسى شخص كو حقيقى معنوں ميں يه دريافت هوتى هے تو اس كے بعد فطرى طورپر اس كى پورى زندگى ميں ايك انقلاب برپا هوجاتا هے۔ اس كى پورى شخصيت ايك نئى شخصيت بن جاتى هے، وه پورے معنوں ميں ايك ربانى انسان بن جاتاهے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسى قسم كاربانى انسان تخليق كا اصل مقصود هے۔ اِسى قسم كے ربانى افراد، نه كه ربانى معاشره، خدا كے تخليقى منصوبے كا اصل مقصود هيں۔ موجوده دنيا ميں ايسےافراد پورى انسانى تاريخ سے منتخب كيے جائيں گے اور پھر اِن منتخب افراد كى بنياد پر آخرت كى دنيا ميں ايك اعلى ربانى معاشره وجود ميں آئے گا۔ يهى وه افراد هيں جو خدا كى ابدى جنتوں ميں جگه پائيں گے۔
خالق نے اِس دنيا ميں انسان كو كامل آزادى دى هے۔ يه آزادى برائے امتحان هے، نه كه برائے استحقاق۔ انسان كو يه آزادى بھى حاصل هے كه وه اپنى آزادى كا غلط استعمال كرے۔ يه آزادى قيامت سے پهلے منسوخ هونے والى نهيں۔ اِس آزادى كى بنا پر ايسا هے كه اِس دنيا ميں اعلى افراد تو بنتے هيں، ليكن اعلى معاشره يا اعلى نوعيت كا اجتماعى نظام كبھى نهيں بنتا۔ انسانى زندگى كى يه نوعيت قيامت تك بدستور باقى رهے گي۔قيامت كے بعد ايك نئى كامل دنيا بنے گي۔ وهاںپورى تاريخ كے منتخب افراد بسائے جائيں گے اور جو لوگ اپنى آزادى كا صحيح استعمال نه كرسكے، اُن كو جمع كركے كائناتى كوڑے خانے ميں ڈال ديا جائے گا— خداكے تخليقى منصوبے كے مطابق، انسانى زندگى كى حقيقت يهى هے۔ انسانى زندگى كى بامعنى تعبير صرف اُس وقت ممكن هے جب كه اِس خدائى منصوبے كو ذهن ميں ركھ كر اس كى تعبير كى جائے، انسانى تاريخ كو بامعنى تعبير دينے كا دوسرا كوئى طريقه نهيں۔
هدايت اور اظهارِ دين
قرآن كى سورۃ الفتح كى ايك آيت كے الفاظ يه هيں هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا (48:28)۔ یعنی، اور اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ وہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے۔ اور اللہ کافی گواہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
God is One Who has sent His Messenger with guidance and the true religion, so that God may have it prevail over all religions, God suffices as a witness.
Qur'anQuotes the Qur'an
1۔ آيت كا اسلوب بتاتا هے كه اِس آيت ميں جس واقعے كا ذكر هے، وه كوئى انسانى واقعه نهيں، بلكه وه ايك حتمى فيصله هے، يعنى الله نے يه فيصله كرديا هے كه لازماً ايساهو۔ مزيد يه كه قرآن كى يه آيت اُس فيصله خداوندى كے بارے ميں هے جس كا تعلق خاتم النبيين سے هے اور چونکہ خاتم النبيين كى نبوت قيامت تك كے ليے هے، اِس ليے اِس فيصلے كا انطباق بھى لازماً قيامت تك جارى رهے گا۔ اِس آيت ميں پيغمبريا امتِ مسلمه كےمشن كو نهيں بتايا گيا هے، بلكه اس ميں الله كے ايك فيصلے كو بتايا گيا هے، جو پورى انسانى تاريخ ميں لازماً ايك واقعه بنے گا۔
2۔ دوسرى چيز هدايت هے۔ هدايت سے مراد الله كى طرف سے بھيجى هوئى الهامى هدايت هے۔ اِس الهامى هدايت كے بارے ميں الله كا يه فيصله تھا كه وه هر اعتبار سے محفوظ رهے، اس كا عربى متن، اس كى زبان، اس كا لهجه، حتى كه اس كا طرزِ كتابت، وغيره۔ قرآن ساتويں صدى عيسوى كے ربع اول ميں اترا۔ اب تك كى تاريخ بتاتى هے كه يه كتاب (قرآن) هر اعتبار سے محفوظ هے۔ پرنٹنگ پريس اور ريكارڈنگ كا دور بتاتا هے كه اب قرآن كى يه حفاظت مزيد اضافے كے ساتھ يقينى بن چكى هے۔
3۔ اظهارِ دين سے مراد خود دين كا اظهار هے، نه كه دين كے سوا كسى اور چيز كا اظهار۔ اِس آيت ميں اظهارِ دين سے مراد سياسى اقتدار يا اجتماعى نظام نهيں، بلكه اس كا مطلب يه هے كه خدا كا دين بحيثيت دينِ حق اپنے نظرياتى غلبه كو هميشه برقرار ركھے گا۔ يه غلبه به اعتبار حجت (دليل) هوگا، نه كه به اعتبار نظام۔دينِ حق كے نظرياتى غلبه كو هميشه برقرار ركھنا تاريخ كا مشكل ترين منصوبه هے، كيوں كه اِس مقصد كو اِس طرح حاصل كرنا هے كه انسان كى آزادى پورى طرح برقرار رهےاور اِس كے ساتھ دين كا نظرياتى غلبه بھى مسلسل طورپر قائم رهے۔ اِس نوعيت كا پيچيده منصوبه كسى بھى انسان كے بس ميں نهيں۔ اِس مقصد كے حصول كےليے انسانى تاريخ كو اِس طرح مينيج (manage) كرنا هے كه تاريخ كا آزادانه سفر بھى جارى رهے اور يه مقصد بھى حسب منشا حاصل هوجائے۔
اِس مقصد كے ليے الله نے يه طريقه اختيار كيا كه جب بھى كچھ لوگ بطور خود دينِ حق كا كوئى غلط ايڈيشن (false edition) تيار كريں تو اس كے بعد خود تاريخ ميں ايسے اسباب پيدا هوں جو اِس ايڈيشن كا خاتمه كرديں اور اِس طرح دينِ حق كى صداقت بدستور برقرار رهے۔تاريخ كا مطالعه بتاتا هے كه اسلام كے ظهور كے وقت سے اب تك ايسے 3 بڑے واقعات پيش آئے هيں ، جب كه انسان نے خود ساخته طور پر دين كا ايك غلط ايڈيشن تيار كيا، ليكن اس كے بعد تاريخى عمل كے تحت ايسے حالات پيداهوئے جنھوں نے مذهب كے اِس غلط متبادل (wrong alternative) كو حجت (دليل) كى سطح پر ختم كرديا۔ اِس طرح دين حق كى نظرياتى صداقت بدستور تاريخ ميں قائم رهي۔
تاريخ ميں اِس نوعيت كى پهلى مثال مظاهر فطرت كى پرستش (nature worship) هے جس كو مذهب كى زبان ميں شرك كهاجاتا هے۔ فطرت كى پرستش كا مطلب يه هے كه فطرت كے مظاهر، سورج، چاند ستارے، وغيره ميں خدائى صفات (divine attributes) كو فرض كركے ان كى پرستش كرنا۔ مظاهر فطرت كى يه پرستش قديم زمانے ميں هزاروں سال تك قائم رهي۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى بعثت كے بعد الله تعالى نے تاريخ ميں ايسا انقلابى عمل جارى كيا جس كے نتيجے ميں آخر كار وه دور آيا جس كو سائنسى دور كهاجاتا هے۔ جديد سائنس كے ذريعے مظاهر فطرت كى موضوعى تحقيق (objective exploration) كى گئي۔ اِس كے نتيجے ميں علمى طورپر يه ثابت هوگيا كه فطرت ميں كوئى اُلوهيت (divinity)نهيں هے۔ اِس طرح انسان كے خود اپنى عقلى مسلّمه پر يه ثابت هوگيا كه فطرت صرف مخلوق هے، اس كے اندر كوئى بھى الوهى صفت (divine attribute) نهيں۔ اِس طرح، خداكے دين كا دينِ حق هونا بدستور ثابت شده بنا رها۔
قديم تاريخ ميں دين حق كا دوسرا غلط متبادل (false alternative) شخصيت پرستى (personality cult) كى صورت ميں پيدا هوا۔ شخصيت پرستى كا سياسى اظهار بادشاهت كے اداره كى صورت ميں هوا۔ بادشاه كے متعلق مان ليا گيا كه وه دوسرے انسانوں كے مقابلےميں، پراسرار فوقيت ركھتا هے۔ اِس طرح بادشاه كو عملاً وه درجه دے دياگيا جو معبود كا درجه هونا چاهيے۔يه بادشاهت يا سياسى شخصيت پرستى انسانى تاريخ ميں كئى هزار سال تك جارى رهي۔ بادشاهت كے دور ميں انسانى سوچ كا مركز ومحور بادشاه بن گيا۔ اعلى انسانى جذبات بادشاه كے ساتھ وابسته کردیے گئے۔ عام طورپر يه مان لياگيا كه— جو بادشاه كا مذهب، وهى سب كا مذهب النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ(صحیح وضعیف تاریخ الطبری، جلد 1، صفحہ 106)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بادشاهت كے زمانے ميں سارى دنيا ميں زراعت كا دور قائم تھا۔ اُس زمانے ميں زراعت (agriculture) اقتصاديات كا واحد ذريعه تھي— زمين كا مالك هونے كى بنا پر بادشاه اقتصاديات كا واحد مالك بنا هوا تھا۔ بادشاه كو يه حيثيت تھى كه بادشاه دينے والا هے اور بادشاه چھيننے والا۔ اُس زمانے ميں بادشاه كو عملاً وه درجه ملا هوا تھا، جو درجه خدا كا هونا چاهيے۔ اِن حالات ميں يه تصور پيدا هوا كه بادشاه حاكم (ruler) هے اور دوسرے تمام لوگ محكوم (ruled) كى حيثيت ركھتے تھے۔ قديم زمانے كى اِس نفسيات كو ايك فارسى شاعر نے اِن الفاظ ميں بيان كيا تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شاهان چه عجب گر بنوازند گدا را
اِس طرح بادشاه گويا خدا كا ايك سياسى متبادل (political alternative) بن گيا تھا۔ گويا دين باطل نے دين حق كى جگه لے ركھى تھي۔ الله تعالى كو يه صورتِ حال مطلوب نه تھي، چنانچہ تاريخ ميں ايك نيا عمل (process) جارى هوا۔ يه عمل ساتويں صدى عيسوى ميں شروع هوا، جب كه عرب ميں قبائلى سردارى كا نظام رائج تھا اور عرب كے اطراف ميں دو بڑے ايمپائر قائم تھے — ساسانى ايمپائر اور بازنتينى ايمپائر۔ بائبل كے الفاظ ميں، يه گويا سياسى چٹانيں تھيں۔ رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے اِن سياسى چٹانوں كو توڑ كر تاريخ ميں ايك نيا سياسى عمل جارى هوا۔ يه عمل سفر كرتے هوئے آخركار يورپ پهنچا۔ اِس سياسى عمل كا نقطه انتها 1789 ميں پيش آنے والا فرانسيسى انقلاب تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس انقلاب كے بعد دنيا ميں ايك نيا دور آيا جس كو جمهوريت كهاجاتا هے۔ جمهوريت نے شخصى بادشاهت كے تصور كا خاتمه كرديا اور دنيا ميں عوامى حكومت كا دور آيا، جس كا فارمولا يه تھا
Government of the people, by the people, for the people.
اِس جمهورى انقلا ب نے قديم طرز كى شخصى بادشاهت (monarchy)كا خاتمه كرديا، پهلے يورپ ميں اور اس كے بعد سارى دنيا ميں۔ اِس طرح دنيا ميں بادشاهى مذهب كا خاتمه هوگيا اور نظرى طورپر دين حق دوباره دنيا ميں قائم هوگيا۔ دين حق كا يه قيام سياسى اقتدار يا حكومتى نظام كے معنى ميں نه تھا، بلكه وه حجت كى سطح پر دين حق كا فكرى اظهار تھا۔ يه واقعه اتفاقاً پيش نهيں آيا، بلكه اپنى حقيقت كے اعتبار سے وه تاريخ ميں ايك عظيم خدائى آپريشن كا نتيجه تھا۔جمهوريت صرف ايك سياسى نظريه نه تھا، اس كا ايك اور اهم تر پهلو يه تھا كه اس نے اُس سياسى الوهيت (political divinity) كے تصور كا خاتمه كرديا جس كو بنياد بنا كر قديم زمانے كے بادشاه اپنى عظمت قائم كيے هوئے تھے۔ جمهورى انقلاب كے بعد سياسى اقتدارصرف ايك انتظاميه (administration) بن كر ره گيا، ايك مقدس ادارے كى حيثيت سے اس كا خاتمه هوگيا۔
اِس سلسلے كى تيسرى مثال وه هے جس كو هيومن ازم (Humanism) كهاجاتا هے۔ هيومن ازم ايك جديد فلسفه هے جس كو دوسرےالفاظ ميں، انسان پرستى كها جاسكتا هے۔ يه دين حق كا آخرى غلط متبادل هے جو بيسويں صدى كے نصف آخر ميں زياده طاقت كے ساتھ پيداهوا۔ يهى معامله وجوديت (Existentialism) كا هے، جس كا بانى فرانسيسى فلسفى سارترے (Jean Paul Sartre) هے جس كى وفات 1946 ميں هوئي۔ وجوديت بھى دراصل هيومن ازم كا فلسفيانه ايڈيشن هے۔
هيومن ازم كيا هے، هيومن ازم ايك غير خداپرستانه فلسفه هے۔ هيومن ازم ايك فكرى نظام هے جس كا مقصد سارى اهميت انسان كو دينا هے، نه كه خدا يا كسى فوق الفطرى طاقت كو
Humanism: An outlook or system of thought attaching prime importance to human, rather than divine or supernatural matters.
دورِ جديد كے بهت سے فلسفى هيومن ازم كے نقطه نظر كے حامى بن گئے۔ مثلاً جرمن فلسفى لدوگ فيور باخ (Ludwig Feverbach) جس كى وفات 1872 ميں هوئي، اس نے لكھا هے كه — انسان هى خدا هے۔ اس كے سوا كوئى اور خدا نهيں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
God is nothing other than man himself.
امريكى فلسفى وليم جيمس (William James) جس كى وفات 1910 ميں هوئي، وه بھى هيومن ازم كا حامى تھا، انگلش فلسفى جولين هكسلے (Julian Huxley) جس كى وفات 1975 ميں هوئي، اس نے هيومن ازم كى حمايت ميں ايك كتاب لكھي۔ اس كا ٹائٹل يه هے
Religion Without Revelation
اِس كتاب ميں هيومن ازم كى تعريف اِس طرح كى گئى هے — سيٹ كا خدا سے انسان كى طرف منتقل هوجانا(Transfer of seat from God to Man.)۔
هيومن ازم كے موضوع پر عام قارى كے ليے ايك قابلِ مطالعه كتاب يه هے
Humanism: A Very Short Introduction, by Stephen Law, 2011
بيسويں صدى كے نصف آخر ميں هيومن ازم كے فلسفے كو كافى فروغ حاصل هوا۔ لوگوں نے يه فرض كرليا كه انھيں دين خداوندى كا ايك بدل مل گيا هے۔ غير خدا پرست طبقے ميں يه سمجھا جانے لگا كه— انسان هى هر اعتبار سے سب كچھ هے(Man is the measure of all things.)۔
مگر عين اِسى زمانے ميں ايك نيا طاقت ور ظاهره پيدا هوا جس نے هيومن ازم كے تصور كو عملاً باطل ثابت كرديا۔ يه طاقت ور ظاهره وه تھا جس كو عام طورپر گلوبل وارمنگ كهاجاتا هے، يعنى عالمى سطح پر حرارت كا غير متناسب طورپر بڑھ جانا جس كے نتيجے ميں زمين پر زندگى كا نظام درهم برهم هوجائے۔
موجوده زمانے ميں جديد ٹكنالوجى كے ظهور كے بعد انڈسٹرى كو بهت ترقى هوئي۔ مختلف ملكوں ميں كثير تعداد ميں بڑے بڑے كارخانے قائم هوئے۔ اِن كارخانوں كو چلانے كے ليے جو ايندھن (fuel) استعمال هوتا تھا، اُس سے مسلسل طورپر بڑى مقدار ميں كاربن خارج هونے لگا۔ اِس اخراج كو كاربن ايميشن (carbon emission) كهاجاتا هے۔ اِس كاربن ايميشن نے زمين كے اوپر قائم شده فضا كو خطرناك حد تك آلوده بنا ديا۔
اِس فضائى آلودگى يا فضائى حرارت كے نتيجے ميں كئى ناقابلِ حل مسائل پيدا هوگئے۔ اِس كے نتيجے ميں برف كے بڑے بڑے ذخائر، پهاڑوں كے گليشير، نارتھ پول اور ساؤتھ پول كى آئس كيپ (ice cap) ، سمندروں ميں تيرتے هوئے برفانى پهاڑ (iceberg) تيزى سے پگھلنے لگے۔ اِس كے نتيجے ميں يه هوا كه سمندروں كى سطح بڑھنے لگي۔ نازك حيوانات (fragile animals) مرنے لگے۔ اِس طرح كے واقعات كے نتيجے ميں يه هوا كه زمين پر قائم شده لائف سپورٹ سسٹم تباه هونے لگا، حتى كه اب سائنس داں يه خبر دے رهے هيں كه زمين بهت جلد انسان كے ليے ناقابلِ رهائش بن جائے گي۔
اِس صورتِ حال كا پيدا هونا كوئى ساده واقعه نهيں۔ يه دراصل هيومن ازم كے فلسفے كى موت كا اعلان هے۔ هيومن ازم كے فلسفے ميں يه مان ليا گيا تھا كه انسان كائنات ميں مركزى مقام (central position) ركھتا هے۔ انسان كى اِس حيثيت كو ماننے كے ليے يه ضرورى هے كه يه مانا جائے كه انسان كو هر طرح كى قدرت حاصل هے، انسان اپنے مستقبل كا مالك هے۔ اگر انسان واقعتاً اِس طرح كى طاقت ركھتا هے تو اس كو چاہیے كه وه موجوده زمانے ميں زمين پر واقع هونے والى اُس انسان كُش تباهى كو روكے جو گلوبل وارمنگ كى صورت ميں ظاهر هوئى هے۔ گلوبل وارمنگ كو روكنے ميں انسان كى ناكامى نے هيومن ازم كے فلسفے كا آخرى طورپر خاتمه كرديا هے۔
جب گلوبل وارمنگ كا ظاهره سامنے آيا تو تمام دنيا كى حكومتيں اور تمام دنيا كے سائنس داں بڑے پيمانے پر متحرك هوگئے۔ كوپن هيگن (ڈنمارك) ميں اِس موضوع پر هونے والى كانفرنس (دسمبر2009) ميں دنيا كے تمام ملكوں كے سائنس داں بڑى تعداد ميں اكھٹا هوئے ۔ اِس طرح كى كوششيں حكومتوں كى طرف سے بھى كى جارهى هيں اور سائنس دانوں كى طرف سے بھي۔ اِس موضوع پر تحقيقات اور تجربات كا سلسله سارى دنيا ميں مسلسل طورپر جارى هے، مگر نتيجے كے اعتبار سے وه مكمل طورپر ناكام ثابت هوا۔ گلوبل وارمنگ كا خطره مسلسل طورپر بڑھ رها هے۔ اب وه خطرناك سطح تك پهنچ چكا هے، مگر اُس كو روكنے كے ليے انسان كى هر كوشش پورى طرح بے نتيجه ثابت هورهى هے۔
گلوبل وارمنگ كا يه تجربه كوئى ساده واقعه نهيں۔ وه هيومن ازم كے نظريے كے كامل اِبطال (total negation) كے هم معنى هے۔ حقيقت يه هے كه گلوبل وارمنگ كے ظاهرے نے اُسى طرح هيومن ازم كے فكر كا خاتمه كرديا هے جس طرح اس سے پهلے فطرت پرستى كو سائنس نے ختم كيا تھا اور جمهوريت كے ذريعے بادشاهت كا خاتمه كرديا گيا تھا۔
موجوده گلوبل وارمنگ بھى پچھلے خدائى آپريشن كى طرح ايك خدائى آپريشن هے جس نے يه ثابت كرديا هے كه دينِ حق كے ليے هيومن ازم كا متبادل ايك بے بنياد متبادل (false alternative)تھا۔ اِس طرح خدائى فيصلے كے مطابق، دين حق نے دوباره تاريخ ميں فكرى اظهار كا وه درجه حاصل كرليا جو خدا نے اس كے ليے ابدى طورپر مقدر كيا تھا۔
خلاصهٔ كلام
اوپر جو كچھ كهاگيا، اس كا خلاصه يه هے كه قرآن نے ساتويں صدى كے ربع اول ميں يه اعلان كيا تھا كه خدا كى بھيجى هوئى هدايت هى مستند هدايت (authentic guidance) هے اور خدا كا دين هى دينِ حق هے۔ خدا نے يه مقدر كر ديا تھا كه خدا كى نازل كرده هدايت (قرآن) ابدى طور پر پورى طرح محفوظ رهے۔ تاريخ بتاتى هے كه هدايت كے بارے ميں خدا كا فيصله كامل طورپر پورا هوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے ميں دوسرى چيز خدا كا نازل كرده دين هے۔ خدا كى نظر ميں يهى دين هميشه كے ليے دين حق كى حيثيت ركھتا هے۔ اِس دين كے بارے ميں خدا كا يه فيصله تھا كه جب بھى انسان بطور خود اس كا كوئى غلط متبادل تيار كرے تو خود تاريخ ميں ايسے اسباب پيدا هوں جو مسلّمه دلائل كى سطح پر اس كو غيرمعتبر ثابت كرديں۔ خداكے اِس فيصلے كا اظهار بھى تاريخ ميں بار بار هوتا رها اور اب اكيسويں صدى ميں جو صورتِ حال هے، وه يه هے كه هدايت اور دينِ حق دونوں كے معاملے ميں انسان كے پاس كوئى دوسرا انتخاب باقى نهيں۔ اب حقيقت كے اعتبار سے، انسان كے ليے ايك هى ممكن انتخاب هے اور وه وهى هے جو خدا نے خاتم النبيين كى بعثت كے وقت اس كے ليے مقدر كرديا تھا۔
دعوه ايكٹوزم
From Political Activism to Dawah Activism
مشهور محدث امام مالك بن انس (وفات 179 هجري) كا ايك قول اِن الفاظ ميں نقل كيا گيا هے لَا يَصْلُحُ آخِرُ هٰذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا بِمَا صَلَحَ بِهِ أَوَّلُهَا (مسند الموطأ،حدیث نمبر 783)۔ يعنى، اِس امت كے دورِ آخر كے لوگوں كى اصلاح بھى اُسى طرح هوگي، جس طرح اِس امت كے دورِ اول كے لوگوں كى اصلاح هوئى تھي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امت كے ليے يه طريقهٔ اصلاح كياهے، اس كا اندازه رسول اور اصحابِ رسول كے دور كے مطالعے سے معلوم هوتا هے۔ رسول اور اصحابِ رسول كے دور كو اسلام كا دورِ اول كها جاسكتا هے۔ اِس دور ميں جو كچھ پيش آيا، اس كى تفصيل حديث اور سيرت كى كتابوں ميں موجود هے۔ اِس كے مطالعے سے معلوم هوتا هے كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے 610 عيسوى ميں مكه ميں اپنے مشن كا آغاز كيا۔ 13 سال تك آپ پُرامن انداز ميں اپنے مشن كو چلاتے رهے۔ اِس مدت ميں مكه كے كچھ افراد نے اسلام قبول كيا، ليكن وهاں كى بڑى اكثريت آپ كى مخالف بن گئي۔ انھوں نے هر صورت سے آپ كو ستانا شروع كرديا، يهاں تك كه ايسے حالات پيدا هوگئے كه رسول اور اصحابِ رسول يا تو مكه سے هجرت كرجائيں يا اهلِ مكه كى طرف سے جارحانه كارروائى كا سامنا كريں۔
اُس وقت حضرت عمر فاروق اور دوسرے اصحاب نے كها كه اگر هم سے جنگ كى جاتى هے تو هم جنگ كريں گے۔ پيغمبر اسلام نے حضرت عمر فاروق كو مخاطب كرتےهوئے فرمايا يَا عُمَرُ، إِنَّا قَلِيلٌ (سيرت ابن كثير، جلد 1، صفحہ 144)۔ يعنى، اے عمر، هم تھوڑے هيں۔ پيغمبر اسلام كا يه جواب كوئى ساده جواب نه تھا۔ اِس كا مطلب يه تھا كه ابھى فريقِ ثانى كے ساتھ ٹكراؤ كا وقت نهيں آيا۔ الله كے منصوبے كے مطابق، يه ايك قبل از وقت بات هوگى كه هم فريقِ ثانى سے لڑ جائيں۔ ابھى هميں صبر كرتے هوئے حالات كو اُس نوبت تك پهنچانا هے جهاں الله اُس كو پهنچانا چاهتا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت اور نصرت
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے عمل سے اِس معاملے ميں جو ماڈل (model) قائم هوا هے، وه يه هے كه پيغمبرانه مشن كے دو بڑے حصے هيں۔ پهلے حصے كا عنوان دعوت هے، اور دوسرے حصے كا عنوان نصرت، يعنى اهلِ ايمان كو يه كرنا هے كه پهلے وه احساسِ ذمے دارى كے تحت، دعوت الى الله كا كام شروع كريں۔ وه آخرى حد تك پرامن رهتے هوئے اپنے دعوتى مشن كو جارى ركھيں۔ وه كسى حال ميں رد عمل يا ٹكراؤ كا طريقه اختيار نه كريں۔ اِس كے بعد اهلِ ايمان كے ساتھ جو كچھ هوگا، وه تمام تر الله كى نصرت كے تحت هوگا۔ الله كى نصرت كے تحت اهلِ ايمان كے ليے مزيد مواقع كھلتے چلے جائيں گے۔ اهلِ ايمان كا كام يه هے كه وه اِن مواقع كو پهچانيں اور دانش مندانه طورپر ان كو استعمال كريں، يهاں تك كه ان كا سفرِ دعوت اپنى آخرى منزل تك پهنچ جائے۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے زمانے ميں جو نمونه قائم هوا، اس كے مطالعے سے معلوم هوتا هے كه اِس معاملے ميں نصرتِ الٰہی كے ظهور كے تين مرحلے هيں۔ وه مرحلے حسب ذيل هيں
1۔ نصرت باعتبارِ حفاظت (Nusrat in terms of security)
2۔ نصرت باعتبارِ پراسس (Nusrat in terms of process)
3۔ نصرت باعتبارِ فتح (Nusrat in terms of victory)
4۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے جب مكه ميں اپنا دعوتى مشن شروع كيا تو الله تعالى كى طرف سے آپ كو يه هدايت دى گئي يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرْ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ (74:1-7)۔یعنی، اے کپڑے میں لپٹنے والے۔ اٹھ اور لوگوں کو ڈرا۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ۔ اور گندگی کو چھوڑ دے۔ اور ایسا نہ کرو کہ احسان کرو اور بہت بدلہ چاہو۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔ يه قرآن كى سورۃ المدثر كى ابتدائى آيتيں هيں۔ يه سورۃ اگر چه بالكل ابتدا ميں نازل هوئي، ليكن تلاوت كى ترتيب كے اعتبار سےوه مصحف كے آخرى حصے ميں شامل هے۔ اِن آيات ميں پيغمبر اسلام كو جو هدايت دى گئي، اس كا مطلب يه تھا كه تم پُر امن انداز ميں دعوت الى الله كا كام كرتے رهو۔ مشن كے بقيه مراحل كا تعلق تمام تر الله كى نصرت سے هے۔ تم انتظار كى پاليسى پر قائم رهو اور جب الله كى نصرت ظاهر هو تو تم اس كے مطابق، اُس كو استعمال كرو۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
نصرت باعتبارِ حفاظت
جيسا كه عرض كياگيا ، پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے 610عيسوى ميں مكه ميںاپنا دعوتى مشن شروع كيا۔ آپ نے يك طرفه طورپر امن كى روش اختيار كرتےهوئے اپنے مشن كو جارى ركھا۔ اُس وقت مكه ميں مشركين كا غلبه تھا۔ انھوں نے آپ كے ساتھ مخالفت كا طريقه اختيار كيا۔ جب حالات بهت زياده شديد هوگئے، اُس وقت بھى آپ نے ٹكراؤ سے مكمل اعراض كيا۔ يهاںتك كه نبوت كے 13 سال بعد آپ مكه چھوڑ كر مدينه آگئے۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه آپ نے اور آپ كے اصحاب نے ٹكراؤ كا طريقه اختيار نهيں كيا، بلكه اپنے مقامِ عمل (work place) كو بدل ديا۔
واقعات بتاتے هيں كه هجرت كے بعد بھى مكه كے مشرك سردار خاموش نهيں هوئے، بلكه انھوں نے يك طرفه طورپر مسلّح جارحيت كا طريقه اختيار كيا۔ انھوں نے باقاعده جنگى تيارى كركے مدينه پر حمله كرديا۔ يه واقعه پيغمبر اسلام كى هجرت كے 16 ماه بعد پيش آيا۔ مدينه سے تقريباً 80 ميل دور بدر كے مقام پر دونوں فريقوں كے درميان جنگ هوئي۔ اِس جنگ كو تاريخ ميں غزوه بدر كهاجاتا هے۔ يه صرف يك روزه جنگ تھى جو 17 رمضان 2 هجرى كو پيش آئي۔ اِس جنگ ميں فريقِ مخالف كى طرف سے ايك هزار مسلح افراد تھے جو پورى تيارى كے ساتھ آئے تھے۔ دوسرى طرف 313 كى تعداد ميں اصحابِ رسول تھے، جو كم تر جنگى تيارى كے باوجود اپنے دفاع كے ليے بدر كے مقام پر پهنچے تھے۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم خود بنفسه عملاً اِس جنگ ميں شريك نه تھے۔ البته آپ كے ليے ميدانِ جنگ سے باهر وقتى طورپر ايك عريش (hut) بناياگيا تھا۔ روايات ميں آتا هے كه جب دونوں گروهوں كے درميان مسلح ٹكراؤ كا وقت آيا تو پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم سجدے ميں گر پڑے۔ اُس وقت آپ كى زبان پر يه الفاظ تھے اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هٰذِهِ العِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلامِ فَلَا تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ أَبَدًا (مسند احمد، حدیث نمبر 208)۔ يعنى اے الله، اگر تو اِس گروه كو هلاك كردے تو اِس كے بعد زمين پر كبھى تيرى عبادت نه هوگي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
الله تعالى نے پيغمبر اسلام كى دعا قبول فرمائى اور قرآن (3:124-125) كے بيان كے مطابق، ميدانِ جنگ ميں كئى هزار كى تعداد ميں فرشتے بھيجے۔ اِس كے بعد جو واقعه پيش آيا، اُس كو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ (3:123)۔ یعنی، اور اللہ تمہاری مدد کرچکا ہے بدر میں جب کہ تم کمزور تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه معامله جو غزوه بدر كے وقت پيش آيا، وه كوئى ساده معامله نه تھا۔ يه وهى چيز تھى جس كو هم نے نصرت باعتبار حفاظت سے تعبير كيا هے، يعنى منصوبهٔ الٰہی كى تكميل سے پهلے مخالفين نے يك طرفه حمله كركے يه كوشش كى كه اصحابِ رسول كا خاتمه كرديا جائے، مگر يه قبل از وقت تھا۔ ابھى وه وقت آنے والا تھا جب كه اصحابِ رسول كى جماعت اپنا آخرى دعوتى رول ادا كرے۔ اِس كے ليے ضرورى تھا كه اِس جماعت كو مخالفين كے حملے سے بچا كر محفوظ ركھا جائے۔
اصل يه هے كه پيغمبر اسلام نے جب مكه ميں اپنا دعوتى مشن شروع كيا، اُسى وقت سے الله تعالى كا ايك منصوبه زير عمل آگيا۔ وه منصوبه يه تھاكه ايك مدت تك مختلف واقعات كے دوران پيغمبر اسلام اور آپ كى دعوتِ توحيد كا خوب چرچا هو، تاكه مكه اور اطرافِ مكه كے لوگ اُس سے باخبر هوجائيں۔ لوگوں كے اندر بڑے پيمانے پر اِس بارے ميں تجسس(curiosity) پيدا هوجائے اور پھر اُن كے اِس تجسس كو استعمال كركے يه موقع فراهم كيا جائے كه لوگ بڑے پيمانے پر آپ كے مشن كو سمجھنے كى كوشش كريں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
نصرت باعتبارِ پراسس
پراسس كے اِ س معاملے كو قرآن ميں رفعِ ذكر (94:4) كهاگيا هے، يعنى لوگوں كے درميان توحيد كے مشن كا چرچا۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے جب مكه ميں اپنے دعوتى مشن كا آغاز كيا تو هر دن نئے نئے واقعات پيش آتے رهے— كبھى آپ، لوگوں كے مجمع ميں جاكر اُن كو قرآن سنارهے هيں، كبھى مكه كے كسى آدمى كے قبولِ اسلام پر مخالفين كى طرف سے اس پر تشدد كيا جارهاهے، كبھى كسى مسلمان كو حرمِ مكه ميں نماز پڑھنے سے روكا جارهاهے، كبھى باهر سے مكه آنے والا كوئى شخص پيغمبراسلام سے اِس معاملے ميں سوال وجواب كررهاهے، كبھى حج كا موسم هے اور مختلف قبائل كے لوگ مكه آرهے هيں اور آپ وهاں جاكر اُن كے سامنے اپنے مشن كا تعارف پيش كررهے هيں، كبھى آپ كا اور آپ كے خاندان كا بائكاٹ كيا جارهاهے، كبھى مكه كے سرداروں كى ايذارسانى سے مجبور هوكر اصحابِ رسول كا ايك قافله مكه سے هجرت كركے حبش جارها هے، كبھى آپ اپنے مشن كے تحت طائف اوردوسرے مقامات پر جاتے هيں، كبھى دار الندوه ميں پيغمبر اسلام كے خلاف مشوره هورها هے اور آپ كو قتل كرنے كا منصوبه بنايا جارها هے، وغيره۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر جب مكه ميں 13 سال قيام كے بعد آپ مكه سے 300 ميل كى دورى پر واقع شهر مدينه چلے جاتے هيں تواِس تذكرے ميں بهت زياده اضافه هوجاتاهے۔ اب غزوات اور سرايا اور جھڑپوں (skirmishes) جيسے واقعات كے نتيجے ميں آپ كا اور آپ كے مشن كا چرچا تمام عرب ميں، حتى كه اطرافِ عرب ميں پھيل جاتاهے۔ آپ كے مخالفين كى مخالفانه كارروائيوں كے نتيجے ميں بظاهر بهت سے واقعات هورهے تھے جو مسلسل لوگوں كے علم ميں آرهے تھے۔ اسى كے ساتھ ايك بلا اعلان عمل جارى تھا۔ يه عمل اِن واقعات كے درميان ايك انڈر كرنٹ يا زير سطح عمل (under the surface process) كى حيثيت ركھتا تھا۔ وه لوگوں كے اندر نهايت تيزى سے تجسس كى نفسيات پيدا كررها تھا۔ لوگ فطرى طور پر جاننا چاهتے تھے كه يه مشن كيا هے اور اِس مشن سے وابسته افراد كا معامله كيا هے۔ تجسس كى يه زيريں رو (under the surface process) الله كے منصوبے كے مطابق، عين مطلوب تھي، كيوں كه اُس سے پيغمبر اسلام كے مشن كے دعوتى مواقع مسلسل طورپر بڑھ رهے تھے۔ يهى وه عمل هے جس كو هم نے نصرت باعتبار پراسس كا نام ديا هے۔
نصرت باعتبارِ فتح
هجرت كے دوسرے سال اِس انڈركرنٹ عمل پر تقريباً 20 سال گزر چكے تھے۔ نصرت باعتبار پراسس كا عمل اپنى تكميل كے مرحلے تك پهنچ گيا تھا۔ اب ضرورت تھى كه اِس پيداشده امكان كو بھر پور طورپر دعوت كے ليے استعمال (avail) كيا جائے۔ مگر مخالف فريق نے جنگ اور ٹكراؤ كا جو ماحول بنا ركھا تھا، اس كى موجودگى كى بنا پر اِس پيدا شده موقع كو استعمال كرنا عملاً ناممكن هوگيا تھا۔ اِس ليے اب پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے نهايت حكمت كے ساتھ ايك نيا منصوبه بنايا۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم اُس وقت مدينه ميں تھے۔ الله تعالى نے آپ كو خواب دكھايا كه آپ اپنے اصحاب كے ساتھ عمره كى ادائيگى كے ليے مكه جارهے هيں۔ آپ نے يه خواب اپنے اصحاب كو بتايا۔ اِس كو سن كر لوگ بهت خوش هوئے۔ وه عمره كے ليے مكه جانے كى تيارى كرنے لگے۔ اِس كے مطابق، آپ يكم ذى القعده 6 هجرى كو عمره كے ارادے سے مكه كى طرف روانه هوئے۔ اُس وقت تقريباً 15 سو مهاجرين اور انصار آپ كے ساتھ تھے۔اهلِ مكه كو پيغمبر اسلام كے اِس سفر كى اطلاع هوگئي۔ انھوں نے طے كيا كه وه كسى قيمت پر پيغمبر اسلام كو مكه ميں داخل نهيں هونے ديں گے۔ چنانچہ انھوں نے آگے بڑھ كر حديبيه كے مقام پر آپ كے قافلے كو روك ديا جو كه مكه سے 9 ميل كے فاصلے پر واقع تھا۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم اور آپ كے اصحاب نے حديبيه ميں پڑاؤ ڈال ديا۔ اِس كے بعد اهلِ مكه كے نمائندے وهاں آنے لگے اور تقريباً دو هفتے تك دونوں فريق كے درميان گفت وشنيد جارى رهي۔ اِس گفتگو كے دوران پيغمبر اسلام كو يه موقع ملا كه آپ اهلِ مكه سے يه كهيں كه همارے اور تمھارے درميان ٹكراؤ اور جنگ كى جو صورتِ حال پيدا هوگئى هے، وه ايك غير مطلوب چيز هے۔ اور ضرورى هے كه اس كو ختم كرديا جائے۔ آخر كار يه طے هوا كه فريقين كے درميان صلح كا معاهده (peace treaty)هوجائے۔
صلح كا يه معاهده جب كاغذ پر لكھا جانے لگا تو اهلِ مكه كے نمائنده سردار نے شديد انداز ميں حميتِ جاهليه(48:26) كا مظاهره كيا۔ انھوں نے ضد اور سركشى كا طريقه اختيار كرتے هوئے مطالبه كيا كه ان كى يك طرفه شرطوں كى بنياد پر معاهده كيا جائے، حتى كه انھوں نے اصرار كيا كه ’’رسول الله‘‘ كے لفظ كو معاهدے كى تحرير سے مٹا ديا جائے۔ پيغمبر اسلام نے اهلِ مكه كى تمام شرطوں كو يك طرفه طور پر مان ليا، صرف اِس ليے كه اِس معاهدے كے ذريعے دونوں فريق كے درميان امن كا ماحول قائم هورها تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حديبيه كا معاهدهٔ صلح اهلِ مكه كى يك طرفه شرطوں كى بنياد پر هوا تھا۔ چنانچہ صحابه كے اندر اس كے خلاف شديد رد عمل پيداهوا۔ عمر فاروق نے كها لِمَ نُعْطِ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ مِنْ دِينِنَا(صحيح البخاري،حدیث نمبر 2731)۔ يعنى، هم اپنے دين كے معاملے ميں اِس ذلت آميز معاهدے كو كيوں قبول كريں۔ ايك صحابى نے رسول الله سے كها كه آپ نے مدينه ميں اپنے ايك خواب كے حوالے سے هم كو بتايا تھا كه هم عمره كرنے مكه جارهے هيں، پھر يه كيا معامله هے كه آپ عمره کیے بغير درميان سے لوٹ رهے هيں۔ آپ نے جواب ديا كه كيا ميں نے يه كها تھا كه هم اِسى سال مكه جاكر عمره كريں گے (فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّا نَأْتِيهِ الْعَامَ؟)۔ اِن تمام مخالفتوں كے باوجود آپ نے اهلِ مكه سے امن كا معاهده كرليا اور حديبيه سے مدينه كے ليے واپسى كا فيصله فرماليا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معاهده حديبيه كى تكميل كے فوراً بعد وه سورۃ اترى جو قرآن ميں الفتح كے نام سے شامل هے۔ اِس سورۃ كا آغاز اِن الفاظ سے هوتا هے اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا(48:1)۔ يعنى، هم نے تم كو كھلى فتح دے دي۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے جب يه سورۃ اپنے اصحاب كو پڑھ كر سنائى تو ابتداء ً صحابه كو يه بيان بهت عجيب معلوم هوا۔ عمر فاروق نے كها أَوَ فَتْحٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ (تفسیر القرطبى، جلد 16، صفحہ 261)۔ يعنى، اے خدا كے رسول، كيا يه كوئى فتح هے۔ رسول الله نے فرمايا كه هاں، اُس ذات كى قسم جس كے هاتھ ميں ميرى جان هے، يقيناً وه فتح هے۔ اِسى طرح ايك اور صحابى نے كها مَا هٰذَا بِفَتْحٍ. فَقَالَبَلْ هُوَ أَعْظَمُ الْفُتُوحِ(تفسیر القرطبى، جلد16، صفحہ260)۔ يعنى، يه تو كوئى فتح نهيں۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه هاں وه فتح هے، بلكه سب سے بڑى فتح هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معاهده حديبيه دراصل ايك تدبير تھي۔ اُس نے عمل كے ميدان كو بدل ديا۔ اِس سے پهلے اهلِ ايمان مجبور تھے كه وه ٹكراؤ اور جنگ كے ميدان ميں فريقِ ثانى سے مقابله كريں، ليكن اب اُن كے ليے يه ممكن هوگيا كه وه اپنى پورى قوت كو يكسوئى كے ساتھ دعوت كے ميدان ميں استعمال كريں۔ ميدانِ عمل كى يه تبديلى بے حد اهم تھي۔ اس كے نتيجے ميں يه هوا كه صرف دو سال كے محدود عرصے ميں اسلام پورے جزيره عرب ميں پھيل گيا۔
اِس نتيجے كو ديكھتے هوئے مشهور تابعى ابن شهاب الزهرى (وفات 124 هجري) نے كها تھا كه لَقَدْ كانَتِ الحُدَيْبِيَةُ أَعظَمَ الفُتوحِ (تفسیر القرطبي، جلد 16، صفحہ 261) يعنى، حديبيه اسلام ميں سب سے بڑى فتح تھي۔ مگر يه ساده طورپر صرف نتيجے كى بات نهيں، بلكه وه منصوبه (planning) كى بات تھي۔ يه كوئى اتفاقى نتيجه نه تھا، بلكه وه ايك گهرى منصوبه بندى كے ذريعے پيش آنے والا منصوبه تھا۔ يهى وه چيز هے جس كو هم نے نصرت باعتبار فتح كا عنوان ديا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه معامله دراصل نصرت بذريعه پراسس كا معامله تھا۔حديبيه سے پهلے تقريباً 20 سال تك بظاهر ٹكراؤ اور مخالفت كے جو واقعات پيش آرهے تھے، اُن كے ساتھ فطرى طورپر ايك زير سطح پراسس جارى تھا۔ اِس پراسس كو ايك لفظ ميں، منفى تعارف كهاجاسكتا هے۔ اِس كے نتيجے ميں يه هوا كه شعورى يا غير شعورى طورپر هر ايك كے ليے اسلام ايك ايسى حقيقت بن گيا جو يه تقاضا كررها تھا كه اُ س كو براهِ راست جاننے كى كوشش كى جائے۔ دوسرے لفظوں ميں، اِس صورتِ حال نے بڑے پيمانے پر اسلام كے ليے دعوت كے مواقع پيدا كردئے، جيسا كه تاريخ سے معلوم هوتا هے۔
معاهده حديبيه كا معامله بلا شبه ايك حكيمانه منصوبه بندى كا معامله تھا۔ يه حكيمانه منصوبه بندى تمام تر فطرت كے قوانين پر مبنى هے، اِس ليے هر زمانے ميں دوباره اس كا كامياب تجربه كيا جاسكتا هے، جس طرح دورِ اول ميں اس كا كامياب تجربه كياگيا تھا ’’نصرت باعتبار فتح‘‘ كا معامله خصائص نبوى كا معامله نهيں، بلكه وه اسوه نبوى كا معامله هے۔ اس كو هر زمانے ميں اُسى طرح دهرايا جاسكتا هے جس طرح پيغمبر كے دوسرے نمونوں كو دهرايا جاسكتاهے۔
حديبيه اور اسوه رسول
قرآن ميں بتايا گيا هے كه لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21)۔ يعنى، الله كے رسول ميں تمھارے ليے بهترين نمونه هے۔ اِس آيت ميں ’اسوه‘ كسى محدود معنى ميں نهيں هے، وه پيغمبر كى زندگى كے تمام پهلوؤں پر محيط هے۔ پيغمبر اپنى پورى زندگى كے اعتبار سے، اهلِ ايمان كے ليے ماڈل كى حيثيت ركھتا هے۔ اِس عموم ميں استثنا صرف كسى ايسى چيز كا هوسكتا هے جس كو صراحتاً پيغمبر كے ساتھ خاص كياگيا هو۔ مثلاً ازدواج كے معاملے ميں بعض پهلوؤں سے آپ كے ساتھ استثنا كا معامله، جيسا كه قرآن ميں آيا هے خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ (33:50)۔ یعنی، یہ خاص تمہارے لیے ہے، اہل ایمان سے الگ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقيقت يه هے كه رسول كا هر قول اورهر فعل امت كے ليے ايك قابلِ تقليد نمونه هوگا، الا يه كه رسول كے كسى فعل كو صراحتاً رسول كى ذات كے ساتھ خاص كياگيا هو۔اِس اصول كى روشنى ميں معاهدهٔ حديبيه كا معامله بلا شبه ايك قابلِ تقليد اسوه رسول كى حيثيت ركھتا هے۔ جب بھى اور جهاں بھى وه حالات پيدا هوں جو رسول الله صلى الله عليه وسلم كے ساتھ 6 هجرى ميں پيدا هوئے تھے، تواُس وقت اسوه حديبيه اُسى طرح امت كے ليے قابلِ اتباع بن جائے گا، جس طرح وه دورِ اول كے اهلِ ايمان كے ليے قابلِ اتباع بنا تھا۔
معاهده حديبيه ايك فتح كا معامله تھا۔ فتح كا معامله صرف پيغمبر كے ليے خاص نهيں، وه تمام امت كے ليے يكساں طورپر مطلوب هے۔ قرآن ميں بار بار فتح كو اهلِ ايمان كے ليے ايك عمومى مطلوب كى حيثيت سے بتايا گيا هے۔ مثلاً وَاُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا ۭ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ (61:13)۔ یعنی، اور ایک اور چیز بھی جس کی تم تمنا رکھتے ہو، اللہ کی مدد اور فتح جلدی۔جب فتح پورى امت كے ليے ايك مطلوب شے هے تو فتح كى تدبير بھى يقينى طورپر پورى امت كے ليے ايك مطلوب شے هوگي۔ فتح اور تدبيرِ فتح كو ايك دوسرے سے الگ نهيں كياجاسكتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يهاں تدبيرِ فتح سے مراد سياسى فتح (political victory) نهيں هے، بلكه نظرياتى فتح (ideological victory) هے۔ موجوده زمانے ميں اِس نظرياتى فتح كا امكان پورى طرح پيدا هوچكا هے۔ مگر اِس نظرياتى فتح كو واقعه بنانا صرف اُس وقت ممكن هے جب كه حكمتِ حديبيه كو سمجھا جائے اور آج كے حالات كے لحاظ سے اس كا استعمال كياجائے۔
حكمتِ حديبيه
حديبيه كے واقعے كو سيرت كى كتابوں ميں غزوة الحديبيه كے عنوان كے تحت درج كياجاتا هے۔ اِس سے يه ظاهر هوتا هے كه حديبيه كا واقعه دوسرے بهت سے غزوات ميں سے ايك غزوه تھا۔ حالانکہ حديبيه كا واقعه نه غزوة تھا اور نه دوسرے واقعاتِ نبوى كى طرح صرف ايك واقعه۔ حقيقت يه هے كه حديبيه كا واقعه ايك اعلى درجے كا منصوبه تھا۔ حديبيه كے واقعے كو، معروف معنى ميں، غزوه كهنا بلا شبه اس كا كم تر اندازه (underestimation) كرنے كے هم معنى هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حكمتِ حديبيه دراصل ايك فطرى قانون هے۔ اِس قانون كا ذكر قرآن كى سورۃ الفتح ميں اِن الفاظ ميں كياگيا هے فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا (48:27)۔ يعنى، الله نے وه بات جانى جو تم نے نه جاني۔يه قرآن كا ايك اسلوب هے۔ اِس سے مراد الله كا علم غيب نهيں هے، بلكه اِس كا مطلب يه هے كه اپنى حقيقت كے اعتبار سے ، اُس وقت ايك صورتِ حال موجود تھي، ليكن اس كو جاننے كے ليے ربانى عقل دركار تھي، عام آدمى اُس كو سمجھ نهيں سكتا۔ عام آدمى هميشه چيزوں كو فيس ويلو (face value) پر ليتاهے، عام آدمى صرف اُس بات كو جان پاتا هے جو سطح پر هوتى هے۔ ليكن ربانى عقل ركھنے والا انسان اپنى بصيرت كے تحت اُس حقيقت كو جان ليتا هے جو وهاں زير سطح موجود هوتى هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
6 هجرى ميں عرب كے اندر يه صورتِ حال تھى كه بظاهر لوگ پيغمبر كے مخالف بنے هوئے تھے، ليكن داخلى نفسيات كے اعتبار سے، هر ايك كے اندر سكنڈ تھاٹ (second thought) آچكاتھا، يعنى شعورى يا غير شعورى طورپر مذهبِ توحيد كے بارے ميں دلوں كے اندر نرم گوشه (soft corner) كا پيدا هونا۔ اِس كى ايك علامتى مثال خالد بن الوليد (وفات 21هجري) كا واقعه هے۔ وه فتح مكه سے كچھ پهلے ايمان لائے۔ وه اپنے اُس وقت كے احساس كو اِن الفاظ ميں بيان كرتے هيں قَدْ شَهِدْت هَذِهِ الْمَوَاطِنَ كُلّهَا عَلَى مُحَمّدٍ، فَلَيْسَ مَوْطِنٌ أَشْهَدُهُ إلّا أَنْصَرِفُ وَأَنَا أَرَى فِي نَفْسِي أَنّي مُوضَعٌ فِي غَيْرِ شَيْءٍ (مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 746)۔یعنی، میں محمد کے خلاف تمام جنگی کارروائیوں میں شریک ہوا ہوں، لیکن ہر کارروائی سے واپسی پر میرے دل میں یہی احساس پیدا ہوتا تھا کہ میں ایک بے مقصد اور لاحاصل جگہ پر کھڑا ہو کر جدوجہد کر رہا ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خالد بن الوليد كے اِن الفاظ كو اگر جنرلائز كيا جائے تو اُس وقت كے عربوں كى اكثريت كا احساس يهى هوچكا تھا۔ اگر چه خارجى سطح پر ٹكراؤ اور مخالفت كا ماحول نظر آتا تھا، ليكن داخلى نفسيات كے اعتبار سے بيش تر لوگ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا (66:4)— یعنی، تمہارے دل جھک پڑے ہیں— كا نمونه بن چكے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه صورتِ حال تھى جس كو استعمال (avail) كرنے كے ليے ايك عملِ اعتدال (process of normalization) دركار تھا، كيوں كه معتدل ماحول كے بغير اِس امكان كو استعمال نهيں كيا جاسكتا تھا۔ يك طرفه بنياد پر معاهده حديبيه كركے يهى معتدل ماحول بناياگيا۔ اور اس كے بعد فطرى طور پر وه نتيجه برآمد هوا جس كو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِى دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (110:1-2)۔یعنی، جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح۔ اور تم دیکھو گے کہ لوگ خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں فوج در فوج۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ظاهرِ دنيا، باطنِ دنيا
صلح حديبيه 6 هجرى ميں هوئي۔ اِس واقعے كو قرآن ميں فتح مبين (48:1) كهاگيا هے۔ جس حكمت (wisdom) كے تحت حديبيه كا معاهده كياگيا، اُس كا ذكر قرآن ميں اِن الفاظ ميں آيا هے فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا (48:27)۔ يعنى، الله نے وه بات جانى جو تم نے نه جاني، پس الله نے اس سے پهلے ايك فتحِ قريب ٹھهرادي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں بظاهر دنيا كا اور آخرت كا ذكر هے، مگر اِس آيت كا ايك توسيعى مفهوم (extended sense) بھى هے، جس كا اشاره آيت كے اِس لفظ ميں ملتاهے يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا(30:7)۔ یعنی، وہ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں۔ گويادنيا كا ايك ظاهر هے اور ايك اس كا باطن هے۔ مگر ظاهربيں لوگ صرف اس كے ظاهر كو جانتے هيں، وه اس كے باطن سے بے خبر رهتے هيں، يعنى اكثر لوگ چيزوں كو ان كے فيس ويلو (face-value) پر ليتے هيں، حالات كے گهرے پهلوؤں تك ان كى نظر نهيں پهنچتي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه آيت قرآن ميں صلح حديبيه كے سياق ميں اتري۔ اِس پس منظر كو ملحوظ ركھتے هوئے آيت پر غور کیجیے تو اس سے ايك اهم حقيقت معلوم هوتى هے، وه يه كه اكثر ايسا هوتا هے كه سطح (surface) پر جو كچھ نظر آتا هے، وه صرف حالات كا ظاهرى پهلو هوتا هے، اِس كے سوا ايك اور چيز هوتى هے جو انڈركرنٹ(undercurrent) هوتى هے۔ جس آدمى كے اندر ربانى بصيرت هو، وه سطح سے گزر كر انڈركرنٹ امكانات كو ديكھ لے گا۔ وه سطح كى باتوں كو نظر انداز كرے گا اور جوچيز انڈر كرنٹ هے، اس كو دريافت كركے اس كے مطابق، اپنے عمل كى منصوبه بندى كرے گا۔
يه ايك حكمتِ حيات هے، يعنى سطح كى باتوں كو نظر انداز كركے انڈر كرنٹ جو حالات هيں، ان كى بنياد پر اپنى رائے قائم كرنا۔ معاهدهٔ حديبيه اِسى حكمت كى ايك پيغمبرانه مثال هے۔ يه مثال پيروانِ رسول كے ليے ايك ابدى ماڈل كى حيثيت ركھتى هے۔ پيروانِ رسول كو چاهيے كه وه رسول الله كے اِس نمونے كو اپنے حالات پر منطبق كريں اور اُس عظيم كاميابى كے حصے دار بنيں جو اِس حكمت پر الله نے مقدر كى هے۔
اكيسويں صدى ميں حديبيه منصوبه
اكيسويں صدى ميں دوباره وهى حالات زياده بڑے پيمانے پر پيدا هوگئے هيں جو كه پهلى صدى هجرى ميں معاهده حديبيه كے وقت عرب ميں پيدا هوئے تھے۔ اكيسويں صدى ميں دوباره پورى طرح وه امكان پيداهوگيا هے جب كه معاهده حديبيه كى تاريخ كو عالمى سطح پر دهرايا جائے۔ اِس امكان كو اپنے حق ميں واقعه بنانے كى شرط دوباره وهى هے جو دورِ اوّل ميں پيش آئي، اور وه هے صابرانه دانش مندى يا دانش مندانه صبر۔
موجوده زمانے ميں يه واقعه پيش آيا كه مغربى قوميں نئے ذرائع سے مسلح هو كر پورى دنيا ميں پھيل گئيں۔ انھوں نے هرجگه اپنا دبدبه قائم كرديا۔ يه واقعه زياده بڑے پيمانے پر اٹھارھويں صدى عيسوى ميں پيش آيا۔ اُس وقت كى دنيا ميں مسلمانوں كى بڑى بڑى سلطنتيں قائم تھيں— برصغير هند ميں مغل ايمپائر، ايشيا اور افريقه كے بڑے رقبے ميں ترك ايمپائر، وغيره۔ مغربى قوموں نے مسلمانوں كى اِن سلطنتوں كو مغلوب كرليااور هر جگه اپنا دبدبه قائم كرليا۔ اِس عمل كا نقطهٔ آغاز متعين كرنا هو تو وه 1799 قرار پائے گا۔ اسى سال دو بڑے فيصله كُن واقعے هوئے۔ ايك طرف، اِسى سال بحرِ متوسط (Mediterranean Sea) ميں مغربى طاقتوں نے تركوں كے عظيم بحرى بيڑه (naval fleet) پر حمله كركے اس كو مكمل طور پر تباه كرديا۔ اور دوسرى طرف، اِسى سال برٹش فوج نے سلطان ٹيپو كى فوج كو كامل شكست دے دي۔ اِس كے بعد برٹش جنرل نے فاتحانه جذبے كے ساتھ كها تھا كه— آج انڈيا همارا هے(Today, India is ours!)-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس كے بعد انيسويں صدى اور بيسويں صدى ميں مسلسل اِس طرح كے واقعات هوتے رهے۔ مثلاً 1857 ميں انڈيا ميں مغل سلطنت كا خاتمه، 1924 ميں خلافتِ عثمانى كا خاتمه، 1948 ميں اسرائيل كا قيام، اور پھر دوسرى عالمى جنگ (1939-1945) كے بعد نام نهاد امريكى امپيريل ازم (American Imperialism) كا ظهور، وغيره۔
اِس طرح كے واقعات نے پورى مسلم دنيا ميں شديد رد عمل پيدا كيا۔ هرجگه نفرت اور تشدد اور جهاد ايكٹوزم شروع هوگيا۔ هرجگه كے مسلمانوں ميں وهى جارحانه كلچر وجود ميں آگيا جس كى ترجمانى عرب شاعر خير الدين الزركلى (وفات 1976) كے اِن الفاظ سے هوتى هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
هاتِ صَلاحَ الدِّينِ ثانِيَةً فِينا جَدِّدي حِطِّينَ أَوْ شِبْهَ حِطِّينَا
(صلاح الدين كو دوباره همارے درميان لے آؤ۔ حطين يا حطين جيسا معركه دوباره گرم كرو)
واقعات بتاتے هيں كه انيسويں صدى اور بيسويں صدى كى دوسوساله مدت تمام دنيا كے مسلمانوں كے ليے ’’جهاد ايكٹوزم‘‘ كى صدى تھي۔ تمام مسلم دنيا اِس جهاد ايكٹوزم ميں شامل تھي، اِس فرق كے ساتھ كه كچھ لوگ تقرير اور تحرير كى زبان ميں نفرت اور تشدد كى بولى بول رهے تھے، اور بقيه لوگ باقاعده هتھياروں كے ذريعے اپنے مفروضه دشمن كے ساتھ باقاعده لڑائى چھيڑے هوئے تھے، ليكن يه دوسو ساله مقابله آرائى يك طرفه طورپر مسلمانوں كى مغلوبيت پر ختم هوئي۔
آج سارى دنيا كے مسلمان ايك هى بولى بول رهے هيں— هم مخالفين كى سازشوں سے گھرے هوئے هيں، هم دشمنوں كى معاندانه كارروائيوں كا شكار هيں، وغيره۔ اِس موضوع پر آج كا مسلم پريس، عربي، فارسي، انگريزى اور اردو ميں جو كچھ كهه رهاهے، اس كا خلاصه ايك جملے ميں يه هےكه — هم محاصره كى حالت ميں هيں(We are under siege)۔
زيرِ سطح امكانات
سطح پر بظاهر وه حالات تھے جن كو عام طورپر اينٹى مسلم حالات كهاجاتاهے، ليكن عين اِسى مدت ميں زيرِ سطح كچھ دوسرى سرگرمياں بڑے پيمانے پر جارى تھيں۔ يه سرگرمياں وه تھيں جو سماجى اور سياسى اور علمى سطح پر جارى تھيں۔ اِن سرگرميوں كے چيمپين بھى مغربى قوموں كے لوگ تھے۔اِن سرگرميوں كے نتيجے ميں اِس مدت ميں دنيا ميں مذهبى آزادى آئي۔ جمهوريت كا دور آيا، امن (peace) كو خير اعلى (summum bonum) كا درجه دے دياگيا، روادارى (tolerance) كو ايك عالمى مسلّمه قرار دے ديا گيا، جديد تقاضوں كے تحت سارى دنيا ميں ايك نيا ذهن پيدا هواجس كو انسان دوست ذهن (human-friendly mind) كها جاسكتا هے۔پھر اِسى كے ساتھ اِس مدت ميں ٹكنالوجى كو غيرمعمولى ترقى هوئي، پرنٹنگ پريس ايجاد هوا، اليكٹرانك كلچر وجود ميں آيا۔پرنٹ ميڈيا اور اليكٹرانك ميڈيا نے ايك نيا دور پيدا كيا جس كو دورِ مواصلات كهاجاتا هے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِسى كے ساتھ ايك اور ترقى بهت بڑے پيمانے پر وجود ميں آئى جس كو علم يا سائنس كى ترقى كهاجاتا هے۔ اِس ترقى نے فطرت كے اندر چھپے هوئے حقائق انسان كے سامنے كھول دئے۔ علم كے تمام شعبوں ميں انقلابى تبديلياں ظهور ميں آئيں۔ يه تبديلياں جو موجوده زمانے ميں پيدا هوئيں، وه عين اسلام كے حق ميں تھيں۔اپنى حقيقت كے اعتبارسے، يه اُس موافق دور كا ظهور تھا جس كى خبر پيشگى طورپر قرآن (41:53)ميں دى گئى تھي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موافقِ اسلام دور
موجوده زمانے ميں جو تبديلياں ظهور ميں آئى هيں، وه اتنى زياده هيں كه كوئى انسائكلوپيڈيا بھى ان كا احاطه نهيں كرسكتي۔ ان كے بيان كے ليے ايك پورى لائبريرى كى ضرورت هے۔ تاهم مختصر طور پر يه كها جاسكتا هے كه اِن تبديليوں كى بناپر تاريخ انسانى ميں پهلى بار ايك نيادور پيداهوا، ايك ايسا دور جس كا تصور قديم انسان نهيں كرسكتا تھا۔ يه دور اپنى حقيقت كے اعتبار سے، مكمل طورپر ايك موافقِ اسلام دور هے۔
مزيد يه كه دورِ جديد كے يه عظيم امكانات تمام تر امن كے تصور پر مبنى هيں۔ اِن امكانات كو استعمال كرنے كے ليے نه جنگ كى ضرورت هے اور نه كوئى سياسى ايمپائر قائم كرنے كي۔ اِن جديد مواقع كا يه ايك حيرت انگيز پهلو هے كه ان كو مكمل طور پر پُر امن ذرائع كے تحت استعمال كيا جاسكتا هے۔ اِن جديد مواقع كو استعمال كرنے كے ليے كسى بھى مرحلے ميں نه جنگ كى ضرورت هے اور نه پولٹكل پاور كي۔
سيكولر مثال
اِن صفحات ميں جو بات كهى جارهى هے، وه صرف ايك مذهبى بات نهيں هے، يه دراصل ايك اصولِ فطرت (law of nature) هے۔ خالق نے جن اصولوں كے تحت اِس دنيا كو بنايا هے، اُن ميں سے ايك اصول يه بھى هے۔ اِس دنيا ميں هميشه ايسا هوتا هے كه كچھ چيزيں سطح (on the surface) پر هوتى هيں جن كو هر آدمى ديكھ سكتاهے، اور كچھ زياده بڑى چيزيں هوتى هيں، مگر وه هميشه زيرِ سطح (under the surface) هوتى هيں۔ اِن دوسرى چيزوں كو هميشه وهى لوگ سمجھ سكتے هيں جو بصيرت (wisdom) ركھنے والے هيں۔ اِس دنيا ميں زياده بڑى كاميابى صرف اُن لوگوں كے ليے مقدر هے جو انڈركرنٹ چيزوں كو ديكھ سكيں اور اس كے مطابق، اپنے عمل كى منصوبه بندى كريں۔
اِس كى ايك مثال جاپان هے۔ دوسرى عالمى جنگ ميں جاپان محورى گروپ (Axis powers) كے ساتھ تھا۔ اُس زمانے ميں جاپان ايك تشدد پسند قوم كى حيثيت ركھتا تھا، ليكن جنگ كے دوران امريكا نے جاپان پر ايٹمى حمله كيا۔ اس نے جاپان كے دو شهر هيروشيما (Hiroshima) اور ناگاساكى (Nagasaki) پر اگست 1945 ميں دو ايٹم بم گرائے۔ يه جاپان كے ليے ايك هلاكت خيز تجربه تھا۔ اِس كے بعد جاپان بظاهر پورى طرح ايك تباه شده ملك بن گيا۔اُس وقت جاپان كا سياسى ليڈر هيروهٹو (Hirohito) تھا۔ هيرو هٹو ايك مدبر آدمى تھا۔ اس نے اپنى بصيرت سے يه جانا كه سرفيس پر جو حالات هيں، وه بظاهر جاپان كے ليے ناموافق هيں، ليكن انڈر كرنٹ جو صورتِ حال هے، وه جاپان كے ليے ايك موافق امكان كى حيثيت ركھتى هے۔
اُس وقت كى دنيا ميں دو بڑى طاقتيں تھيں— روس اور امريكا۔ دونوں ملك بھارى مصنوعات (hardware) ميں مشغول تھے اور هلكى مصنوعات (software) كا ميدان تقريباً خالى تھا۔ جاپان نے شعورى يا غير شعورى طورپر اِس حقيقت كو جانا اور يه فيصله كيا كه وه اِس مخفى امكان كو استعمال كرے۔
اِس كے بعد جاپان نے دو كام كيے۔ ايك طرف، جاپان نے يه كيا كه اس نے امريكا سے ٹكراؤ كو يك طرفه طور پر ختم كرديا، اور اپنى سارى توجه تعليم اور صنعت كے ميدان كى طرف موڑ ديا۔ اِس كے بعد جو هوا، وه يه كه تقريباً 30 سال كے اندر جاپان كى ايك نئى تاريخ وجود ميں آگئي۔ جاپان نے نه صرف جنگ كے نقصانات كى تلافى كردي، بلكه اس نے اتنى ترقى كى وه جديد دور ميں اقتصادى سپرپاور(economic superpower) بن گيا۔ يه معجزه اِس طرح پيش آيا كه جاپان نے سرفيس كے حالات كو نظر انداز كيا اور انڈر كرنٹ جو امكانات چھپے هوئے تھے، ان كو استعمال كيا۔
اِس معاملے كى دوسرى مثال وه هے جو انڈيا ميں پيش آئي۔ انڈيا ميں تقريباً 200 سال تك برٹش حكومت قائم رهي۔ 1857 ميں انڈيا ميں آزادى كى لڑائى شروع هوئي۔ يه لڑائى هتھياروں كے بل پر شروع كى گئى تھي۔ اِس جنگ ميں كچھ مسلم ليڈر اور كچھ هندو ليڈر شريك تھے۔ آزادى كى يه جنگ تقريباً 60 سال تك جارى رهي، مگر اس كا نتيجه تباهى كے سوا كسى اور صورت ميں نهيں نكلا۔آخر كار 1919 ميں مهاتما گاندھى سياست كے ميدان ميں آئے اور انھوں نے جنگ آزادى كى قيادت سنبھالي۔ اُس وقت انڈيا بظاهر ايك تباه شده ملك بنا هوا تھا، ليكن مهاتما گاندھى نے شعورى يا غير شعورى طورپر اِس حقيقت كو جانا كه يهاں انڈر كرنٹ ايك اور صورتِ حال موجود هے جو انڈيا كے ليے ايك موافق امكان كى حيثيت ركھتى هے۔ شرط صرف يه هے كه تشدد كا طريقه چھوڑ كر امن كا طريقه اختيار كيا جائے۔
يه انڈر كرنٹ امكان كيا تھا، وه يه تھاكه جس زمانے ميں برطانيه انڈيا پر حكومت كررها تھا، اُسى زمانے ميں يورپ كے ملكوں ميں شاهى خاندان راج كررهے تھے— اِن يورپى ملكوں ميں اِن حكومتوں كے خلاف بهت بڑے پيمانے پر تحريكيں اٹھيں۔ بڑے بڑے يورپى دماغوں نے يه نظريه پھيلايا كه كسى خاندان كو يه حق نهيں كه وه كسى ملك پر حكومت كرے۔ اِس سياسى تحريك كے نتيجے ميں ايك سياسى اصول پورے يورپ ميں ايك مسلّم اصول بن گيا۔ اِس اصول كو عام طورپر حكومتِ خود اختيارى (self-determination) كا اصول كهاجاتاهے
The right of a people to decide upon its own form of government without coercion or outside influence.
يه سياسى انقلاب يورپ ميں پهلے فكرى سطح پر آيا۔ اس كے بعد اس نے عملى صورت اختيار كي۔ اِس سياسى انقلاب كا پهلا عملى اظهارفرانس ميں هوا۔يه فرنچ ريولوشن (French Revolution) تھا جو 1789 ميں پيش آيا۔ اِس انقلاب كے بعد فرانس ميں شخصى بادشاهت ختم هوگئى اور جمهورى حكومت قائم هوگئي۔ دھيرے دھيرے يه انقلاب پورے يورپ ميں پھيل گيا۔
مهاتما گاندھى نے اِس سياسى مسلّمه كو استعمال كيا۔ انھوں نے كها كه خود يورپ كے حالات بتاتے هيں كه اب بادشاهت كا دور ختم هوچكا هے اور هر ملك كو حق هے كه وه اپنے يهاں قومى حكومت قائم كرے۔ مهاتما گاندھى نے اِس اصول كو لےكر انڈيا كى تحريك آزادى كو نيا رخ دے ديا۔ انھوں نے تشدد كا طريقه چھوڑ كر پورے معنوں ميں پرامن طريقه اختيار كيا، جس كو وه اهنسا(non-violence) كهتے تھے۔مهاتما گاندھى كى يه پرامن جدوجهد جهد آزادى برٹش حكومت كے ليے نيا مسئله بن گئي۔ انھوں نے محسوس كيا كه پهلے، جدوجهد آزادى كو دبانا آسان تھا۔ كيوں كه وه لوگ برٹش حكومت كے خلاف هتھيار استعمال كرتے تھے۔ اِس طرح برٹش حكومت كو موقع ملتا تھا كه وه ان كے خلاف هتھيار استعمال كركے انھيں كچل دے۔ اِس تبديلى نے برٹش حكمرانوں سے هتھيار كے استعمال كا جواز چھين ليا۔ اِس صورت حال كا اندازه ايك واقعے سے هوتا هے۔ اُس زمانے ميں ايك برٹش كلكٹر نے اپنے سيكريٹريٹ كو يه تار بھيجا— براهِ كرم، بذريعه ٹيلى گرام يه بتائيے كه ’’شير‘‘ كو هتھيار كے استعمال كے بغير كيسے هلاك كيا جائے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently.
يه ايك سيكولر مثال هے كه كس طرح ايك ليڈر نے اپنے زمانے كے انڈر كرنٹ حالات كو سمجھا اور كاميابى كے ساتھ اس كو استعمال كيا۔ حقيقت يه هے كه مذكوره اصول فطرت كا ايك اصول هے۔ يه ايك فطرى امكان هے جو هميشه اور هر صورتِ حال ميں موجود رهتا هے۔ اِس امكان كو هر بڑے مقصد كے ليے استعمال كيا جاسكتا هے، خواه وه سيكولر مقصد هو يا مذهبى مقصد۔ يهى امكان موجوده زمانے ميں مسلمانوں كے ليے پورى طرح موجود هے۔ ضرورت هےكه اس كو سمجھا جائے اور حقيقت پسندانه انداز ميں اپنے عمل كى منصوبه بندى كركے حكيمانه انداز ميں اس كو استعمال كيا جائے۔
فضلِ عظيم كا معامله
قرآن كى سورۃ النساء ميں ايك آيت اِن الفاظ ميں آئى هے وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ اَنْ يُّضِلُّوْكَ ۭوَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَيْءٍ ۭ وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۭ وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا (4:113)۔ يعنى، اگر تم پر الله كا فضل اور اس كى رحمت نه هوتى تو اُن ميں سے ايك گروه نے يه ٹھان ليا تھا كه وه تم كو بهكاكر رهے گا، حالانکہ وه اپنے آپ كو بهكارهے هيں، وه تمھارا كچھ بگاڑ نهيں سكتے۔ اور الله نے تم پر كتاب اور حكمت اتارى هے اور تم كو وه چيز سكھائى هے جس كو تم نهيں جانتے تھے، اور الله كا فضل هے تم پر بهت بڑا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں’فضل‘ كا لفظ كسى پُراسرار معنى ميں نهيں هے۔ فضل كے لفظى معنى هيں زياده یاشیٔ مزيد (additional thing)۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كو وحى كے علاوه ايك مزيد چيز دى گئى جو كه ختم نبوت كارول ادا كرنے كى نسبت سے آپ كے ليے ضرورى تھي، يعنى وه اسباب يا مواقع جن كو استعمال كركے آپ خاتم النبيين كى حيثيت سے اپنا فريضه انجام دے سكيں۔ مثلاً هاجره اور اسماعيل كے ذريعے سے ايك نئى نسل كى تيارى جس كا ذكر قرآن كى سورۃ ابراهيم (14) كى آيت نمبر 37ميں كيا گياهے، يا ساسانى ايمپائر اور بازنتينى ايمپائر كو ايك دوسرے سے ٹكرا كر دونوں كو كمزور كردينا، جس كا اشاره قرآن كى سورۃ الروم كى آيت نمبر 2 ميں كيا گيا هے۔ مذكوره آيت (4:113) ميں اِسى قسم كى نصرت مراد هے، نه كه پُراسرار قسم كى كوئى شخصى فضيلت۔ نصرت كا يه خصوصى معامله پيغمبر كے مشن كى نسبت سے تھا، نه كه پيغمبر كى ذات كى نسبت سے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى مذكوره آيت ميں علم كى تعليم وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ (4:113)—یعنی، اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے— سے مراد علمِ وحى نهيں هے، بلكه اِس سے مراد مذكوره قسم كے موافق امكانات سے پيغمبر كو باخبر كر نا هے۔ يهى اسلوب (سورۃ الفتح ) ميں اختيار كياگيا هے جهاں فَعَلِمَ ما لَمْ تَعْلَمُوا(48:27) —یعنی، پس اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہیں جانی— کے الفاظ آئےہیں۔ سورۃ الفتح كى اِس آيت ميں علم سے مراد وه موافق امكانات هيں جو معاهده حديبيه كے اندر باعتبار نتيجه چھپے هوئے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل يه هےكه الله تعالى نے پچھلے زمانوں ميں هزاروں سال كے دوران بهت سے پيغمبر بھيجے(23:44)۔ اِن پيغمبروں نے نبوت كا فريضه پورى طرح انجام ديا، ليكن ان كا مشن صرف اعلانِ توحيد تك پهنچا۔ اُن ميں سے كسى كے زمانے ميں نه مطلوب قسم كى امت بنى اور نه دينِ خداوندى كا متن محفوظ هوسكا اور نه توحيد پر مبنى عمومى انقلاب آيا، جو كه الله تعالى كو مقصود تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يهى وجه تھى جس كى بنا پر پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے مشن كے ليے الله تعالى نے خصوصى اسباب فراهم كيے۔ اِن اسباب كو استعمال كركے يه ممكن هوا كه دنيا ميں توحيد پر مبنى انقلاب آئے اور دينِ خداوندى كى نئى تاريخ بنے۔ پيغمبر اسلام كے ليے وحى كے علاوه، جو مزيد موافق اسباب فراهم كيے گئے، اِنھيں كو قر آن ميں فضل كهاگيا هے، يعنى اضافى اسباب يا مزيد نصرت۔ الله تعالى نے ايك لمبى مدت كے اندريه اضافى اسباب فراهم كيے، يهاں تك كه رسول اور اصحابِ رسول كے ليے يه ممكن هوگيا كه اِن اسباب كو استعمال كركے وه الله تعالى كے منصوبے كى تكميل كريں۔
قرآن كى مذكوره آيت ميں وَعَلَّمَكَ ما لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ (4:13)— یعنی، اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے۔ اُس وحى كے ليے نهيں هے جو قرآن كى سورت ميں آپ پر نازل هوئي، بلكه اِس سے مراد وه علم هے جس كا تعلق مذكوره موافق امكانات سے هے۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كو الله تعالى نے خصوصى طورپر اِن موافق امكانات كى خبر دي، تاكه آپ شعورى طورپر اِن امكانات سے واقف هوں اور ان كو اپنے مشن كے حق ميں استعمال كرسكيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
6 هجرى ميں پيغمبر اسلام اور قريش كے درميان حديبيه كے مقام پر جو معاهده هوا تھا، وه اس معاملے كى ايك واضح مثال هے۔ جيسا كه معلوم هے، حضرت عمر فاروق كو اِس معاهدے پر سخت اختلاف هوگيا تھا۔ اس موقع پر حضرت ابوبكر صديق اور حضرت عمر فاروق كے درميان جوگفتگو هوئي، اس كا ايك حصه كتابوں ميں اِس طرح نقل هوا هے فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللهِ حَقًّا؟ قَالَ بَلَى، قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ بَلَى، قُلْتُ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا؟ قَالَ أَيُّهَا الرَّجُلُ، إِنَّهُ لَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ، وَهُوَ نَاصِرُهُ، فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ، فَوَاللهِ إِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2732)۔ يعنى، عمر فاروق كهتےهيں كه پھر ميں ابوبكر كے پاس گيا۔ ميں نے كها كه اے ابوبكر، كيا رسول الله نبى برحق نهيں هيں۔ انھوں نے كها كه ضرور آپ نبى برحق هيں۔ ميں نے كها كه كيا ايسا نهيں هے كه هم حق پر هيں اور همارا دشمن باطل پر هے۔ انھوں نے كها كيوں نهيں۔ ميں نے كها كه پھر كيوں هم اپنے دين كے معاملے ميں ذلت كو اختيار كريں۔ ابوبكر نے كها كه اے شخص، وه الله كے رسول هيں۔ وه كبھى اپنے رب كى خلاف ورزى نهيں كريں گے۔ الله ضرور ان كى مدد كرے گا۔ تم رسول الله صلى الله عليه وسلم كى اطاعت كو لازم پكڑو۔ خدا كى قسم، وه حق پر هيں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
دورِ جديد كى مثال
قرآن كى مذكوره آيت ميں الله كے جس ’فضل عظيم‘ كا ذكر هے، اس كا ظهور صرف ايك بار نهيں هوا، بلكه خدا كى دوسرى رحمتوں كى طرح وه بھى تاريخ ميں بار بار دهرايا جارها هے۔ موجوده زمانے ميں يه فضل يا اضافى نصرت بهت بڑے پيمانے پر ظاهر هوچكى هے۔اهلِ ايمان كا كام يه هے كه وه اس كو پهچانيں اور اس كو خدائى مشن كے حق ميں بھر پور طورپر استعمال كريں۔
قرآن ميں بتايا گيا هے كه الله نے اپنے رسول كو اِس ليے بھيجا، تاكه وه سارے عالم كو امرِ حق سے آگاه كردے(25:1)۔ اِس آيت ميں جس عالمى نشانے كا ذكر هے، وه اول دن سے مطلوب تھا، مگر الله كے تخليقى نقشے كے مطابق، اِس دنيا ميں كسى نشانے كى تكميل كراماتى طورپر نهيں هوتي، بلكه وه اسباب كے ذريعے هوتى هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس عالمى دعوتى نشانے كو انجام دينے كے ليے قديم زمانے ميں عالمى مواصلات كا نظام عملاً موجود نه تھا، اِس بنا پر مطلوب نشانه بھى قديم زمانے ميں پورا نه هوسكا۔
اِس مقصد كے ليے الله تعالى نے تاريخ ميں ايك نيا پراسس جارى كيا۔ اِس پراسس كى تكميل باقاعده طورپر انيسويں صدى ميں هوئي۔ انيسويں صدى اور اس كے بعد كى صدى ميں وه تمام اسباب وجود ميں آگئے جو دينِ حق كى عالمى پيغام رسانى كے ليے ضرورى تھے۔ آج جس چيز كو دورِ مواصلات كهاجاتاهے، وه دراصل اِسى خدائى منصوبے كے تحت وجود ميں آيا هے۔
يه دورِ مواصلات اور اِس نوعيت كے دوسرے تائيدى ذ رائع گويا كه دورِ جديد كے ’فضل عظيم‘ كى حيثيت ركھتے هيں۔ ساتويں صدى عيسوى ميں پيغمبر اسلام كو اُس زمانے كے اعتبار سے فضلِ عظيم يا موافق اسباب دیے گئے تھے، موجوده زمانے ميں پيغمبر كى امت كو دوباره جديد تقاضوں كے مطابق، فضلِ عظيم يا موافق اسباب عطا كيے گئے هيں۔ اب امت كا يه فرض هے كه وه اپنے زمانے كے فضلِ عظيم كو پهچانے اور اس كو استعمال كركے اپنے آپ كو الله كى عظيم سعادتوں كا مستحق بنائے۔
حديبيه انقلاب
قديم ترين زمانے سے انسان كا يه ذهن رها هے كه كسى مقصد كو حاصل كرنے كا سب سے زياده طاقت ور ذريعه جنگ هے۔ عربى زبان كى ايك قديم مثل هے الحَرْبُ أَنْفَى لِلحَرْبِ (جنگ كى كاٹ جنگ هے)۔ انگريزى زبان ميں كها جاتا هے — وار فار پيس (war for peace)، يعنى پُرامن مقصد حاصل كرنا هے تو جنگ كرو۔ فارسى كے ايك قديم شاعر نے كها تھا كه جو شخص تلوار چلاتا هے، اُسى كے نام كا سكه چلتا هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
هر كه شمشير زند سكّه به نامش خوانند
مگر تاريخ كا تجربه برعكس طور پر يه بتاتا هے كه جنگ سے كبھى كسى نے كوئى مثبت فائده حاصل نهيں كيا۔ هميشه يه هوا هے كه جنگ ميں جو فريق هارتا هے، وه اپنى هار كو تسليم نهيں كرتا۔ نتيجه يه هوتا هے كه هارنے والے فريق كے اندر انتقام (revenge) كى نفسيات جاگ اٹھتى هے۔ وه دوباره اپنى قوتوں كو مجتمع كرتا هے اور فاتح فريق كے خلاف انتقامى جنگ چھيڑ ديتاهے۔ يهى واقعه بار بار هوتا رهتا هے۔ اِس طرح عملاً يه هوتا هے كه جنگ سے هميشه ايك دورِ برائى (vicious circle) قائم هوجاتا هے
war-defeat-revenge, war-defeat-revenge
مسلم تاريخ بھى اِس معاملے ميں استثنا (exception) كى مثال نهيں۔ اسلام كى ابتدائى تاريخ بتاتى هے كه 2 هجرى ميں بدر كى لڑائى پيش آئي۔ اِس جنگ ميں اهلِ ايمان كو مكمل فتح حاصل هوئي۔ انھوں نے فريقِ ثانى كے 70 افراد كو قتل كرديا، ليكن مسئله ختم نهيں هوا۔ عملاً يه هوا كه شكست خورده فريق انتقامى نفسيات ميں مبتلا هوگيا۔ مكه لوٹ كر اس نے نئى جنگ كى تيارى شروع كردى اور پھر 3 هجرى ميں اس نے انتقامى جذبے كے تحت مدينه پر حمله كرديا۔
اس كے نتيجے ميں وه جنگ پيش آئى جس كو جنگ احد كهاجاتا هے۔ جنگ احدميں اهلِ ايمان كو شكست هوئى اور فريقِ مخالف نے اِس جنگ ميں اهلِ ايمان كے 70 افراد كو قتل كرديا۔ جنگ كے خاتمے پر فريقِ مخالف كے سردار ابو سفيان نے ايك پهاڑى كے اوپر كھڑے هو كر بلند آواز سے كها يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3986)۔ یعنی،آج هم نے بدر كا بدله لے ليا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تجربه بتاتا هے كه پورى تاريخ ميں اربابِ كار اِس حقيقت سے بے خبر رهے كه انسان كى انتقامى نفسيات اِس ميں ركاوٹ هے كه جنگ كے ذريعے كوئى مثبت مقصد حاصل كيا جاسكے۔ ايسى حالت ميں قابلِ عمل طريقه صرف يه هے كه جنگ كے بجائے صلح كا طريقه اختيار كيا جائے۔ صلح كا فائده يه هے كه فريقين كے درميان پر امن ماحول قائم هوجاتا هے۔ اِس طرح يه ممكن هوجاتا هے كه حالات كے اندر چھپے هوئے مواقع (opportunities) كو دريافت كركے انھيں استعمال (avail) كيا جائے۔ اِس مصالحانه پاليسى كے تحت كاميابى كا حصول پورى طرح ممكن هوجاتا هے، كيوں كه مواقع كے استعمال هى كا دوسرا نام كاميابى هے۔
خدائى منصوبه بندي
اِس معاملے ميں انسان كو صحيح رهنمائى دينے كے ليے الله نے تاريخ ميں مداخلت كا فيصله كيا۔ يه واقعه ساتويں صدى عيسوى كے نصف اول ميں پيش آيا۔ الله نے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كو اِس كا ذريعه بنايا۔ اِس كا آغاز ايك خواب سے هوا۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم اُس وقت مدينه ميں تھے۔ يهاں آپ نے ايك خواب ديكھا۔ اِس خواب كے مطابق، آپ ذوالقعده 6 هجرى ميں اپنے اصحاب كے ساتھ مدينه سے مكه كے ليے روانه هوئے۔ اِس كے بعد مختلف واقعات پيش آئے۔ آخر كار طويل گفت وشنيد (negotiation)كے بعد فريقين كے درميان وه معاهده طے پايا جس كو تاريخ ميں معاهده حديبيه (Hudaibia Agreement)كهاجاتا هے۔
يه معاهده اپنى تفصيلات كے اعتبار سے، كئى شرطوں پر مشتمل تھا، ليكن اس كى بنيادى شرط صرف ايك تھي، وه يه كه دس سال تك دونوں فريقوں كے درميان كوئى جنگ نه هوگي۔ اِس شرط كے الفاظ يه تھے هٰذا ما صالَحَ عليهِ مُحَمَّدُ بنُ عَبْدِ اللهِ سُهَيْلَ بنَ عَمْرٍو، اصْطَلَحا على وَضْعِ الحَرْبِ عنِ النّاسِ عَشْرَ سِنِينَ، يَأْمَنُ فيهنَّ النّاسُ ويَكُفَّ بَعْضُهُم عن بَعْضٍ(سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 317)۔ يعنى، يه وه معاهده هےجو محمد بن عبد الله اور سهيل بن عمرو كے درميان طے هوا۔ دونوں اِس پر رضامند هوئے كه دونوں كے درميان دس سال تك جنگ نهيں هوگي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معاهده حديبيه دراصل دس سال كے ليے ايك ناجنگ معاهده (no-war packt) تھا۔ مگر دونوں فريقوں كے درميان اُس وقت دشمنى كا جو ماحول تھا، اُس كے اعتبار سے اِس قسم كا معاهده ايك ايسا معاهده تھا جو عملاً ناممكن نظر آتا تھا۔ چنانچہ بظاهر يه ناممكن چيز صرف اُس وقت ممكن هوئي، جب كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے فريقِ ثانى كى كڑى شرطوں كو يك طرفه طورپر منظور كرليا۔
مثلاً ايك شرط يه تھى كه مكه كا كوئى شخص اگر اسلام قبول كركے مدينه آئے تو اس كو دوباره مكه والوں كى طرف لوٹانا هوگا۔ اِس كے برعكس، مدينے كا كوئى شخص اگر مكه چلا جائے تو اهلِ مكه كو حق هوگا كه وه اس كو مكه ميں روك ليں اور دوباره اس كو مدينه واپس نه كريں۔ اِسى طرح اِس معاهدے كى ايك شرط يه تھى كه تمام اهلِ ايمان اِس سال حديبيه سے مدينه واپس چلے جائيں، وه عمره كے ليے مكه ميں داخل نه هوں۔
معاهده حديبيه ايك كاغذ پر لكھا گيا تھا۔حضرت على بن ابى طالب اس كى كتابت كررهے تھے۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم كى هدايت كے مطابق، انھوں نے پهلا جمله يه لكھا هٰذا ما صالَحَ عليهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 317)۔ فريقِ ثانى كے نمائنده سهيل بن عمرو نے اِس پر اعتراض كيا۔ انھوں نے كها كه هم آپ كو الله كا رسول نهيں مانتے، اِس ليے آپ صرف ’’محمد بن عبد الله‘‘ لكھيے۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے حضرت على سے كها كه تم كاغذ پر ’’رسول الله‘‘ كا لفظ مٹا دو اور صرف ’’محمد بن عبد الله‘‘ لكھو۔ حضرت على كاغذ سے ’’رسول الله‘‘ كا لفظ مٹانے پر راضى نه هوئے۔ اِس كے بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم نے خود اس كو اپنے هاتھ سے كاغذ سے مٹا ديا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاهدے كى تكميل كے بعد رسول اور اصحاب رسول مدينه واپس آگئے۔اِس معاهدے سے پهلے دونوں فريقوں كے درميان مسلسل طور پر ايك حالتِ جنگ (state of war) قائم تھي۔ اِس بنا پر اسلام كا دعوتى مشن عملاً تقريباً متروك هوكر ره گيا تھا۔ معاهده حديبيه كے بعد يه هوا كه دونوں فريقوں كے درميان مكمل امن قائم هوگيا۔ اب پيغمبراور آپ كے اصحاب نے دعوت كا نيا منصوبه بنايا۔ انھوں نے منظم انداز ميں مدينه كے اطراف ميں مسلسل طورپر دعوتى كام شروع كرديا۔ عرب كے مختلف علاقوں ميں آباد قبائل كے درميان وفود بھيج كر دعوتى كام كيا جانے لگا، حتى كه عرب كے باهر جو حكومتيں قائم تھيں، اُن كے يهاں دعوتى وفود بھيجے جانے لگے۔ خود مكه ميں رشتے داروں كے ذريعے آمد ورفت جارى هوگئي۔ اِس طرح خود مكه ميں توحيد كى آواز پهنچنے لگي۔
پرامن ماحول ميں اِس طرح دعوتى سرگرميوں كا نتيجه يه هوا كه لوگ كثرت سے اسلام كے حلقے ميں داخل هونے لگے، يهاں تك كه صرف دو سال كے اندر اهلِ ايمان كى تعداد اتنى زياده بڑھ گئى كه يه ممكن هوگيا كه جنگ كے بغير خود اهلِ ايمان كى تعداد اسلام كى فتح كے ليے كافى هوجائے۔ چنانچه اس كے بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم نے خاموش منصوبه بندى كے تحت دس هزار اصحاب كے ساتھ مكه كى طرف مارچ كيا ۔ اِس طرح كسى جنگ كے بغير مكه پر اهلِ ايمان كا غلبه قائم هوگيا۔ توحيد كى آواز انسانى فطرت كى آواز هے۔ اگر معتدل ماحول ميں دعوتى كام هو تو پرامن دعوت هى لوگوں كے دلوں كو مسخر كرنے كے ليے كافى هوجائے۔روايات ميں آيا هے كه جب اچانك ايك صبح كو اهلِ مكه نے ديكھا كه رسول الله صلى الله عليه وسلم اپنے دس هزار اصحاب كے ساتھ مكه ميں داخل هوگئے هيں تو مكه كے سردار ابو سفيان نے يه اعلان كرديا يا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، هٰذا مُحَمَّدٌ قَدْ جاءَكُمْ فيما لا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ، فَمَنْ دَخَلَ دارَ أَبِي سُفْيانَ فَهُوَ آمِنٌ (سیرت ابن ہشام ، جلد2، صفحہ 404)۔ يعنى، اے قريش كے لوگو، يه محمد هيں جو اِس طرح مكه ميں داخل هوگئےهيں كه تمھارے اندر اُن كے مقابلے كى طاقت نهيں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
معاهدهٔ حديبيه كے نتيجے ميں جو تاريخى واقعه پيش آيا، اس كا ذكر قرآن ميں اِن الفاظ ميں آيا هے اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِى دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (110:1-2)۔ يعنى، جب الله كى مدد آجائے اور فتح، اور تم لوگوں كو ديكھو كه وه فوج در فوج خدا كے دين ميں داخل هورهے هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں ’نصر الله‘ سے مراد وهى چيز هے جس كو دوسرے مقام پر نصرِ عزيز (48:1-3) كهاگيا هے۔ يَدْخُلُوْنَ فِى دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا ) لوگ خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں فوج در فوج)کے الفاظ ميں اُس واقعے كا ذكر هے جو معاهده حديبيه كے بعد پيش آيا۔ لوگ اتنى بڑى تعداد ميں اسلام كے دائرے ميں داخل هوئے كه ان كى كثرتِ تعداد هى فتح كا سبب بن گئي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حكمتِ حديبيه
نزاع (conflict) كے معاملے ميں انسان قديم زمانے سے صرف يه جانتا تھا كه ايسے معاملے ميں صرف دو ميں سے ايك كا انتخاب (choice) هوتا هے— جنگ يا پسپائي۔ مگر انسان كى يه سوچ ثنائى طرزِ فكر (dichotmous thinking) پر مبنى تھي۔ قانونِ فطرت كے مطابق، يهاں ايك اور انتخاب ممكن تھا جس سے پورى تاريخ ميں انسان بے خبر رها۔
وه انتخاب يه تھا كه يك طرفه صلح كے ذريعے امن قائم كيا جائے اور پھر حكيمانه منصوبه بندى كے ذريعے موجود مواقع (opportunities) كو بھر پور طورپر استعمال (avail) كيا جائے۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه نه فريقِ ثانى سے ٹكراؤ كيا جائے اور نه پسپائى كا طريقه اختيار كيا جائے، بلكه خاموش منصوبه بندى كے ذريعے امن كى طاقت (power of peace) كو استعمال كيا جائے۔ حديبيه كے تاريخى واقعے كے تحت الله تعالى نے رسول اور اصحاب رسول كے ذريعے اِس حكمت كا عملى مظاهره (practical demonstration) كروايا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مگر يه تاريخ كا عجيب سانحه هے كه حكمتِ حديبيه كے كامياب مظاهرے كے باوجود مسلم اور غير مسلم دونوں اِس عظيم حقيقت سے بے خبر رهے۔ تاريخ ميں حكمت حديبيه كو صرف ايك بار استعمال كيا گيا، نه اُس سے پهلے اور نه اس كے بعد۔ انسان هميشه امن كے بارے ميں سوچتا رها هے، حتى كه امن باقاعده مطالعے كاايك مستقل موضوع بن گيا هے جس كو پيسيفزم (pacifism)كها جاتا هے۔ اِس موضوع پر كثرت سے كتابيں لكھى گئى هيں۔ اِس موضوع پر ايك انسائكلوپيڈيا بھى تيار كى گئى هے جس كا نام انسائكلو پيڈيا آف پيسيفزم (Encyclopaedia of Pacifism) هے، مگر اب تك كوئى قابل عمل نظريه أمن (ideology of peace) دريافت نه هوسكا۔
روسى مصنف ليوٹالسٹائے(وفات 1910) كى امن كے موضوع پر ايك مشهور كتاب هے۔ ورلڈ لٹريچر ميں وه ٹاپ كى كتاب سمجھى جاتى هے۔ اس نے بتايا هے كه امن كا قيام صرف عالمى محبت (universal love) كے تصور پر قائم هوسكتا هے۔ اُس كى اِس روسى كتاب كا ترجمه مختلف عالمى زبانوں ميں هوا هے۔ انگريزى ترجمے كا ٹائٹل يه هے
other sourceWords of another person or source
War and Peace, by LeoTolstoy—1865
مگر جيساكه معلوم هے، ٹالسٹائے كى كتاب صرف ايك ناول هے، يعنى وه فكشن كے پيرايے ميں لكھى گئى هے، اور كوئى فكشن حقيقى زندگى (real life) كے ليے گائڈ بك نهيں بن سكتا۔
قرآن كا بيان
معاهده حديبيه ذوالقعده 6 هجرى ميں طے پايا۔ اس كے فوراً بعد قرآن كى سورۃ الفتح نازل هوئي۔ اِس سورۃ كى ابتدائى تين آيتيں يه تھيں اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا وَّيَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَــصْرًا عَزِيْزًا (48:1-3)۔ يعنى، بے شك هم نے تم كو كھلى هوئى فتح دے دى تاكه الله تمھارى اگلى اور پچھلى خطائيں معاف كردے اور تمھارے اوپر اپنى نعمت كى تكميل كردے اور تم كو سيدھا راسته دكھائے اور تم كو زبردست مدد عطا كرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
روايات سے معلوم هوتا هے كه سورۃ الفتح دورانِ سفر اُس وقت اترى جب كه رسول الله صلى الله عليه وسلم معاهده حديبيه كى تكميل كے بعد حديبيه سے مدينه جارے تھے۔ اُس وقت جو واقعه هوا تھا، وه صرف معاهدهٔ امن تھا۔ جهاں تك فتح كى بات هے، وه ابھى مستقبل كى چيز بنى هوئى تھي۔ پھر كيوں ايسا هوا كه ماضى كے صيغے ميں ارشاد هوا كه هم نے تم كو فتح دے دي، كھلى هوئى فتح۔ يه اسلوب دراصل امن كى اهميت بتانے كے ليے تھا۔ اس كا مطلب يه تھا كه جب حقيقى معنوں ميں پرامن طريقه (peaceful method) اختيار كياجائے، تو اُس كے بعد موافق نتيجے كا نكلنا يقينى هوجاتا هے۔
اس كے بعد فرمايا كه لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ (48:2)—یعنی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے۔ اِس آيت ميں ’ذنب‘ كا لفظ هے۔ ’ذنب‘ كے لفظى معنى گناه (sin) كے هوتے هيں۔ مگر يهاں ’دنب‘ كا لفظ اپنے معروف معنى كے اعتبار سے نهيں هے، بلكه وه شدتِ اظهار كے ليے استعمال هوا هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه جب الله تعالى نے ٹكراؤ كا طريقه چھوڑ كر يك طرفه امن كى طرف رهنمائى كى تو تمھارے اندر اِس كے درست هونے پر شك كيوں پيدا هوا۔ جيسا كه روايات ميں آيا هے، صحابه نے اِس معاهدے پر برهمى كا اظهار كيا تھا۔ حضرت عمر فاروق نے يهاں تك كهه ديا تھا كه لِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ في دِينِنا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2732)۔ یعنی، هم اپنے دين كے بارے ميں ذلت كا طريقه كيوں اختيار كريں۔ اِسى طرح يهاں’ مغفرت‘ سے مراد معروف معنى ميں بخشش (salvation) نهيں هے، بلكه اس سے مراد يه هے كه تحريك توحيد كے دوران اهلِ ايمان سے تدبير كے اعتبار سے جو خطائيں هوئيں، اُن كو موثر نه هونے دينا، اِن تدبيرى خطاؤں كے باوجود آخرى كاميابى كو يقينى بنانا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آيت ميں واحد كا صيغه (لِيَغْفِرَ لَكَ) استعمال كيا گيا هے۔ اس سے بظاهر يه معلوم هوتا هے كه اِس سے مراد رسول الله صلى الله عليه وسلم كى ذات هے، مگر يه خطاب نمائنده هونے كے اعتبار سے هے، يعنى اُس وقت رسول كى حيثيت جماعتِ مسلمين كے نمائنده كى تھي۔ گويا اِس آيت ميں رسول كو خطاب كرتے هوئے پورى جماعتِ مسلمين كو مخاطب بنايا گيا هے۔ به اعتبار حقيقت، اس سے مراد اُس وقت كے اهلِ ايمان كى پورى جماعت هے۔ اِس تفسير كا ايك قرينه يه هے كه قرآن ميں اِس معاملے كو ’إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ‘ كے الفاظ ميں بيان كيا گيا هے، حالانکہ يه ايك معلوم حقيقت هے كه يه فتح پيغمبر اسلام كى شخصى فتح نه تھي، وه اس وقت كى تمام جماعتِ مومنين كى اجتماعى فتح تھي۔ اِس كا دوسرا قرينه يه هے كه آگے اِس سوره كى آيت نمبر 5 ميں جمع كے الفاظ آئے هيں (48:5)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس آيت ميں اتمامِ نعمت سے مراد وه چيز نهيں هے جس كو دوسرے مقام پر اكمالِ دين (5:3) كهاگيا هے۔ سورۃ الفتح ميں اتمامِ نعمت سے مراد وه حكيمانه تدبير هے جس كى تلقين حديبيه كے معاملے ميں الله كى طرف سے كى گئى تھي۔ آگے فرمايا كه— وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (48:2)۔یعنی، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے۔ اِس آيت ميں صراطِ مستقيم كا لفظ ايك مختلف معنى ميں آيا هے۔ سورۃ الفاتحه ميں صراطِ مستقيم سے مراد انفرادى صراطِ مستقيم هے اور سورۃ الفتح ميں صراطِ مستقيم سے مراد اجتماعى صراطِ مستقيم ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آخر ميں فرمايا كه— وَيَنْصُرَكَ اللهُ نَــصْرًا عَزِيْزًا (48:3)۔یعنی، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔ اِس آيت ميں نصرِ عزيز سے مراد عام فتح نهيں هے، بلكه اس سے مراد وه فتح هے جو مكمل طورپر پُرامن تدبير كے ذريعے حاصل هو، جيساكه معاهدهٔ حديبيه كے بعد پيش آيا۔ نصرِ عزيز كا يه مفهوم قرآن كى سورۃ النصر (110) سے مزيد واضح هوتا هے۔ اِس سوره ميں ’نصر الله‘ كا لفظ آيا هے۔ يه ’نصرالله‘ (خدائى فتح) كس طرح حاصل هوئي۔ واضح طورپر وه اُس پرامن تدبير ٍ حكمت كے ذريعے حاصل هوئى جو معاهده حديبيه كے وقت اختيار كى گئى تھي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حديبيه كلچر
معاهده حديبيه ساده طور پر صرف ايك معاهده نه تھا۔ معاهده حديبيه كے ذريعے انسان كے اوپر ايك عظيم حكمت (wisdom) كو كھولا گيا، يعنى يه حكمت كه اجتماعى زندگى ميں كاميابى كا طريقه كيا هے۔پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے زمانے ميں 2 هجرى ميں بدر كى لڑائى پيش آئي۔ اِس لڑائى ميں اهلِ ايمان كو زبردست كاميابى حاصل هوئي، ليكن اِس كے صرف ايك سال بعد احد كى لڑائى پيش آئي۔ اِس لڑائى ميں فريقِ ثانى نے زبردست كاميابى حاصل كي۔ انھوں نے لڑائى كے ميدان ميں اهلِ ايمان كے 70 آدميوں كو هلاك كرديا۔ ايسا انتقامى نفسيات كى بنا پر هوا۔ بدر كى لڑائى اهلِ ايمان كے ليے فتح تھي، ليكن فريقِ ثانى كے ليے وه انتقام كے هم معنى بن گئي
Battle of Badr was victory for Muslims and revenge for the other party.
اِس تجربے سے معلوم هوا كه جنگ مسئلے كا حل نهيں۔جنگ ميں كاميابى صرف اُس وقت مسئلے كا حل بن سكتى هے جب كه فريقِ ثانى اپنى شكست (defeat) كو تسليم كرے۔ مگر هميشه ايسا هوتا هے كه هارا هوا فريق اپنى هار كو نهيں مانتا، بلكه اس كے اندر انتقام كے جذبات بھڑك اٹھتے هيں۔ اِس بنا پر هميشه ايسا هوتا هے كه جنگ كبھى مسئلے كو ختم كرنے والى ثابت نهيں هوتي۔
اِس بنا پر الله كى رهنمائى كے تحت پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے مسئلے كے حل كا ايك نيا طريقه اختيار كيا۔ اِس طريقے كو حكمتِ حديبيه كهه سكتے هيں۔ حديبيه كا معاهده ايك ناجنگ معاهده (no-war pact) تھا، جو فريقِ ثانى كى شرطوں كو يك طرفه طور پر مان كر انجام پايا تھا۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم معاهدے كو مكمل كرنے كے بعد حديبيه سے مدينه كى طرف واپس لوٹے۔ سفركے دوران آپ پر سورۃ الفتح نازل هوئي۔ معاهده حديبيه پر آپ كے اصحاب خوش نه تھے۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے جب سورۃ الفتح اپنے اصحاب كو سنائى تو صحابه كو اِس كے بارے ميں تردد هوا۔ حضرت عمر فاروق نے تعجب كے ساتھ كها أَوَفَتْحٌ هُوَ يا رَسُولَ اللهِ؟ قالَنَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ۔ یعنی، اے خدا كے رسول، كيا يه فتح هے۔ آپ نے فرمايا كه هاں، اُس ذات كى قسم جس كے قبضے ميں ميرى جان هے، بے شك وه فتح هے۔ ايك اور شخص نے كها كه ما هذا بَفَتْحٍ(يه تو كوئى فتح نهيں)۔ اِس كے جواب ميں رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا بَلْ هُوَ أَعْظَمُ الفُتُوحِ(تفسير القرطبي، جلد 16، صفحہ 360-61)۔ یعنی،وه فتح هے، بلكه وه تمام فتحوں سے زياده بڑى فتح هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معاهده حديبيه جيسے ايك معاهدے كو قرآن ميں فتح مبين كيوں كهاگيا هے۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے كيوں فرمايا كه يه ايك عظيم فتح هے، حالانکہ آيت كے نزول كے وقت عملى طورپر ’فتح‘ كا كوئى واقعه پيش نهيں آيا تھا۔ حقيقت يه هے كه يه تبصره سياسى فتح كے معنى ميں نه تھا، بلكه وه اِس معنى ميں تھا كه اِس معاهدے كے نتيجے ميں اهلِ ايمان كو اپنے حريف كے اوپر بالادستى حاصل هوگئي، يعنى اهلِ ايمان اپنے حريف كے مقابلے ميں ايڈوانٹج كى پوزيشن ميں آگئے۔
معاهده حديبيه كے وقت فريقِ ثانى كے پاس صرف تلوار كى طاقت تھي۔ اِس معاهدے نے فريقِ ثانى كو پابند كرديا كه وه اپنى تلوار كو اهلِ ايمان كے خلاف استعمال نه كرے۔ اِس طرح گويا اهلِ ايمان كے مقابلے ميں، فريقِ ثانى خود تو بے طاقت هو كر ره گيا۔ ليكن اهلِ ايمان كے پاس تلوار كے سوا ايك اور چيز تھى جو فريقِ ثانى كے پاس نه تھى اور وه هے نظريه توحيد (ideology of Tauhid)۔ يه نظرياتى طاقت پورى طرح قابلِ استعمال تھى ۔ معاهده حديبيه كے بعد يه هوا كه فريقِ ثانى عملى طورپر كچھ كرنے كے قابل نه رها۔ اِس كے برعكس، امن كے قيام كى بنا پر اهلِ ايمان كو يه موقع مل گيا كه وه اپنى پورى طاقت كو استعمال كرتے هوئے اپنى آئڈيالوجى كى بھر پور تبليغ كريں۔
چنانچه ايسا هى هوا۔ ايك طرف فريقِ ثانى اِس پر مجبور هوگيا كه وه اهلِ ايمان كے خلاف اپنى تلوار نه استعمال كرے اور دوسرى طرف اهلِ ايمان كامل آزادى كے ماحول ميں نظريه توحيد كى تبليغ واشاعت ميں همه تن مشغول هوگئے۔ انھوں نے عرب كے تمام شهروں اور قبيلوں ميں توحيد كا پيغام پهنچانا شروع كرديا، حتى كه عرب كے باهر جو ممالك تھے، اُن كے باشندوں تك بھى وه اسلام كا پيغام پهنچانے لگے۔ اِسى حكمتِ حديبيه كا يه نتيجه تھا كه صرف دو سال ميں پورا عرب اسلام ميں داخل هوگيا۔
حديبيه پاليسى كا فائده صرف يه نه تھا كه ساتويں صدى عيسوى ميں عرب كے ملك ميں اسلام كو يه كاميابى حاصل هوئى كه مختصر مدت ميں وهاں ايك غير خونى انقلاب (bloodless revolution) آگيا۔ اس كا دوسرا عظيم فائده يه هوا كه حديبيه پاليسى كے ذريعے عرب ميں جو انقلاب آيا، اُس نے انسانى تاريخ ميں پهلى بار ايك نيا عمل (process) جارى كرديا۔ يه عمل مختلف مراحل سے گزرتا هوا موجوده دور تك پهنچا۔ اِس اعتبار سے، موجوده دور كو حديبيه پر اسس كا نقطه انتها كهاجاسكتا هے۔
حديبيه حكمت كيا تھي۔ حديبيه حكمت مختصر طورپر يه تھى كه جنگى ٹكراؤ كو بند كركے امن كا ماحول قائم كرنا اور پھر پُرامن كوشش كے ذريعے اسلام كے فطرى پيغام (natural message) كو لوگوں تك پهنچانا۔ موجوده زمانے ميں انسانى تعلقات كے درميان جو تبديلياں هوئى هيں، اس كے بعد يهى حديبيه كلچر تمام قوموں كے اتفاق كے ساتھ سارى دنيا ميں رائج هوگيا هے۔ اِس اعتبار سے، موجوده دور كو دورِ حديبيه (age of Hudaibia) كها جاسكتا هے۔ پچھلے دور ميں حديبيه كلچر صرف مقامى طورپر آيا تھا۔ موجوده زمانے ميں حديبيه كلچر كسى قربانى كے بغير عالمى سطح پر قائم هوگيا هے۔
اقوامِ متحده كا قيام
اقوامِ متحده (UNO) 1945 ميں قائم هوئي۔ اِس ادارے كا خاص مقصد عالمى امن كا قيام تھا۔ دنيا كے تمام ممالك باقاعده طورپر اس كے ممبر بنے۔ اِس بين اقوامى ادارے كا هيڈ كوارٹر نيويارك (امريكا) ميں قائم هے۔اِس عالمى ادارے كے تحت تمام ملكوں كے اتفاق سے ايك چارٹر (charter) تيار كيا گيا، جس كو اقوامِ متحده كا منشور (Charter of the United Nations) كها جاتا هے۔ اِس چارٹر كے تحت تمام قوموں كے اتفاق سے ايك قرار داد طے پائى جو دفعه2(4) كے طورپر اِس چارٹر ميں شامل هے۔اقوامِ متحده كے اِس چارٹر كى دفعه كے تحت تمام قوموں كے اتفاق سے يه طے پايا كه — تمام ممبر ممالك بين اقوامى تعلقات ميں اِس كے پابند هيں كه وه كسى رياست كو اس كے استحكام يا اس كى سياسى آزادى كے معاملے ميںدھمكى نهيں ديں گے اور نه اس كے خلاف طاقت كا استعمال كريں گے
All Members shall refrain in their international relations from the threat or use of force against the territorial integrity or political independence of any state.
other sourceWords of another person or source
اقوامِ متحده كے چارٹر كى يه دفعه اپنى حيثيت كے اعتبار سے، عين وهى هے جو معاهده حديبيه كے وقت طے پائى تھي۔ مزيد يه كه ساتويں صدى ميں معاهده حديبيه كے وقت فريقِ ثانى كى جن شرطوں كو يك طرفه طورپر ماننا پڑا تھا، بيسويں صدى ميں تمام قوموں نے اِن شرطوں كو بطور خود حذف كرديا۔ موجوده زمانے ميں اهلِ ايمان كو اِس چارٹر كے مطابق، خود حالات كے تحت، عالمى امن حاصل هوگيا هے۔ اِسى كے ساتھ موجوده زمانے ميں مزيد اضافے كے ساتھ وه تمام امكانات اور مواقع پورى طرح كھل گئے هيں جو دعوت الى الله كے عالمى مشن كے ليے ضرورى هيں۔ مثلاً مذهبى آزادي، كھلا پن (openness)، عالمى كميونيكيشن، آزادانه آمد ورفت، پرنٹنگ پريس، وغيره۔
سورۃ الفتح جو معاهده حديبيه كے بعد اترى تھي، اُس كا خاتمه اِس آيت پر هوا هے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا ۡ سِيْمَاهُمْ فِى وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى التَّوْرٰىةِ ٻوَمَثَلُهُمْ فِى الْاِنْجِيْلِ ۾ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــــَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَــظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۭ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا (48:29)۔ یعنی، ’’محمد، الله كے رسول اور جو لوگ اُن كے ساتھ هيں، وه منكروں پر سخت هيں اور آپس ميں مهربان هيں۔ تم اُن كو ركوع ميں اور سجدے ميں ديكھو گے، وه الله كا فضل اور اس كى رضامندى كى طلب ميں لگے رهتے هيں۔ اُن كى نشانى ان كے چهروں پر هے، سجدے كے اثر سے۔ ان كى يه مثال تورات ميں هے۔ اور انجيل ميں اُن كى مثال يه هے كه جيسے كھيتي۔ اس نے اپنا انكھوا نكالا، پھر اس كو مضبوط كيا، پھر وه اور موٹا هوا، پھر وه اپنـے تنے پر كھڑا هوگيا۔ وه كسانوں كو بھلا لگتا هے، تاكه الله اُن سے منكرين كو غصه دلائے۔ اُن ميں سے جو لوگ ايمان لائے اور نيك عمل كيا، الله نے اُن سے معافى اور بڑے ثواب كا وعده كيا هے‘‘۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن كى سورۃ الفتح كے خاتمے كے يه الفاظ تمثيل كى زبان ميں ايك اهم تاريخى حقيقت كو بتارهے هيں، وه يه كه معاهدهٔ حديبيه جو ذوالقعده 6 هجرى ميں پيش آيا، وه كوئى وقتى اور محلّى چيز نه تھا، بلكه وه ايك عظيم عمل (process) كا آغاز تھا، جس كے تكميلى مرحلے پر ايك عالمى انقلاب آنے والا تھا۔ يه انقلاب تدريجى طورپر آيا اور بيسويں صدى عيسوى ميں اس كى تكميل هوئي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس عالمى انقلاب سے مرادوهى چيز هے جس كو هم نے دور حديبيه (age of Hudaibia) كها هے۔ معاهده حديبيه كا خلاصه يه تھا كه فريقِ ثانى كى شرطوں كو يك طرفه طورپر مان كر امن قائم كرنا اور پھر تمام موجود مواقع كو دعوت الى الله كے ليے استعمال كرنا۔ يه موافق حالات جو قديم زمانے ميں رسول اور اصحابِ رسول كى قربانيوں كے ذريعے ظهور ميں آئے تھے، وه اب عالمى تبديليوں كے نتيجے ميں خود زمانى تقاضے كے تحت مزيد اضافے كے ساتھ حاصل هوگئے هيں۔
يه جديد موافق حالات جن اسباب كے ذريعے ظهور ميں آئے، وه وهى هيں جن كو مغربى تهذيب، جمهورى افكار، اقوامِ متحده، وغيره كهاجاتا هے۔ يه بظاهر سيكولر انقلابات تھے، ليكن الله نے اِن بظاهر سيكولر انقلابات كو دين كى تائيد كا ذريعه بناديا۔
خلاصه كلام
ساتويں صدى عيسوى ميں حديبيه معاهدے كا جو موافق نتيجه ظاهر هوا تھا، اس كو قرآن ميں ’فتحِ مبين‘ كهاگيا هے۔ حديبيه معاهده كوئى پراسرار چيز نه تھي، وه ايك معلوم حكيمانه تدبير تھي۔ ساتويں صدى عيسوى ميں اِس تدبير كو صرف محدود طورپر استعمال كيا جاسكتا تھا۔ وه بھى اِس طرح كه رسول اور اصحابِ رسول كو يه قربانى دينى پڑى تھى كه وه فريق ثانى كى شرطوں كو يك طرفه طورپرمان ليں، حتى كه لفظ ’’رسول الله‘‘ كو وه معاهدے كى دستاويز سے مٹا ديں۔ مگر بعد كو الله كى مدد سے جو حالات پيدا هوئے، اُس كے بعد ايسا هوا كه حديبيه انقلاب وسيع تر معنى ميں ايك عالمى انقلاب بن گيا۔
حديبيه معاهدے كے ذريعے جو امكانات صرف دس سال كے ليے حاصل كيے گئے تھے، موجوده زمانے ميں انھوں نے مستقل طورپر عالمى اصول (universal norm) كى حيثيت حاصل كرلى هے۔ اب نه دوسروں كى شرطوں كو ماننے كى ضرورت هے اور نه كسى دستاويز سے ’’رسول الله‘‘ كے لفظ كو مٹانے كى ضرورت۔
حديبيه معاهدے كے بعد اهلِ ايمان كو كام كے جو مواقع ملے تھے، وه اب مزيد اضافے كے ساتھ اُن كو حاصل هوچكے هيں۔ ضرورت صرف يه هے كه اِن مواقع كو دريافت كيا جائے اور دانش مندى كے ساتھ اس كو استعمال كيا جائے ۔
ايك تاريخى قانون
قرآن كى سورۃ البقره ميں ايك تاريخى قانون كو اِن الفاظ ميں بيان كيا گيا هے وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ڐ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَاٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَاۗءُ ۭ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ (2:250-251)۔ يعنى، جب جالوت اور اس كى فوجوں سے اُن (بنى اسرائيل) كا سامنا هوا تو انھوں نے كها اے همارے رب، همارے اوپر صبر ڈال دے اور همارے قدموں كو جما دے اور منكروں كے مقابلے ميں تو همارى مدد كر۔ پھر انھوں نے الله كے اذن سے اُن (فلسطينيوں) كو شكست دي۔ اور داؤد نے جالوت كو قتل كرديا۔ اور الله نے داؤد كو ملك اور حكمت عطا كيا اور جن چيزوں كا چاها، اس كا علم بخشا۔ اور اگر الله بعض كو بعض لوگوں سے دفع نه كرتا رهے تو زمين فساد سے بھر جائے۔ مگر الله دنيا والوں پر بڑا فضل كرنے والا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Had it not been for God’s repelling some people by means of others, the earth would have been filled with corruption. But God is bountiful to mankind.
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن كى اِن آيات ميں جس واقعے كا ذكر هے، وه واقعه قبل مسيح دور سے تعلق ركھتا هے۔ فلسطين كے جنوبى حصه (southern coastal area) ميں ايك واقعه هوا۔ بارهويں صدى قبل مسيح ميں يهاں ايك قوم آكر آباد هوئى جس كو تاريخ ميں، فِلسطى يا فلسطينى (Philistines) كهاجاتا هے۔ اِن لوگوں نے يهاں اپنى حكومت قائم كرلي۔ بعد كو اُن كے درميان بگاڑ آيا۔ اُس زمانے ميں فلسطين كے شمالى حصے ميں بنى اسرائيل آباد تھے۔ فلسطيني، بنى اسرائيل كے خلاف سركشى كرنے لگے، يهاں تك كه 1010 قبل مسيح ميں فلسطينيوں كا بنى اسرائيل سے مسلّح ٹكراؤ هوا ۔ اِس ٹكراؤ ميں ايك اسرائيلى نوجوان داؤد كى بهادرى سے فلسطينيوں كو شكست هوئي۔ اِس كے بعد رفته رفته 732 قبل مسيح ميں فلسطينيوں كا اِس علاقے سے خاتمه هوگيا۔
قرآن كى مذكوره آيت ميں ’دفع‘ (repel)كا لفظ استعمال هوا هے، يعنى هٹانا۔ لسان العرب ميں ’دفع‘ كى تشريح ’الإِزالَةُ بِقُوَّةٍ‘ (جلد8، صفحہ 87) سے كى گئى هے۔ يه ’دفع‘ دراصل تاريخ كے بارے ميں الله كا ايك قانون هے۔ مذكوره واقعے ميں الله تعالى نے اسرائيلى گروه كے ذريعے فلسطينى گروه كو اقتدار سے هٹايا تھا۔ الله انسانى تاريخ كى مسلسل نگرانى كررها هے، وه انسان كى آزادى كو باقى ركھتے هوئے انسانى تاريخ كو مينيج (manage) كررها هے، وه بار بار ايسے حالات پيدا كرتا هے جب كه ايك قوم دوسرى قوم كو مقامِ اقتدار سے هٹائے۔ اگر ايك قوم مسلسل طور پر مقامِ اقتدار پر قابض رهے تو اُس كے اندر جمود (stagnation) پيدا هوجائے گا۔ يه جمود مختلف صورتوں ميں فساد (corruption) كا سبب بنے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دفع كے اِس قانون كا تعلق سيكولر قوموں سے بھى هے اور مذهبى قوموں سے بھي۔ اِس معاملے كى ايك مثال هندستان هے۔ هندستان ميں پهلے راجاؤں كى حكومت تھي۔ راجاؤں كے بعد يهاں مغل دور آيا، پھر مغل دور ختم هوا اور برٹش دور آيا۔ اس كے بعد 1947 ميں برٹش دور كا خاتمه هوا اور قومى حكومت (national government)كا دور آيا۔ يه تمام تبديلياں دفع كے قانون كے تحت هوئيں۔ هر بار جب ايك گروه كے اندر ’’فساد‘‘ آگيا تو اس كو هٹا كر اس كى جگه دوسرى قوم لائى گئي۔ گويا پرانے خون (old blood) كى جگه نئے خون (new blood) كو كام كرنے كا موقع دياگيا۔ اِس عمل كو ريڈيكل آپريشن (radical operation) كهاجاسكتا هے۔
اوپر كى آيت ميں يه الفاظ آئے هيں وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ۔ آيت كے اِس ٹكڑے ميں الله تعاليٰ كے جس ’فضل‘ كا ذكر هے، اُس سے مراد يهى قانونِ دفع هے جو مسلسل طورپر سياسى اقتدار كى تنظيم كررها هے۔ يه تنظيم انسان كى اعليٰ بهبود كے ليے هے۔ اگر قانونِ دفع كى صورت ميں انسانى اقتدار كى تنظيم نه كى جائے تو دنيا ميں سياسى اجاره دارى (political monopoly) آجائے اور پھر انسانى تاريخ اپنى مطلوب منزل پر نه پهنچ سكے گي۔
يهود كى تاريخ
دفع كے اِس قانون كا نفاذبعد كے زمانے ميں خود يهود (بنى اسرائيل) پر كياگيا۔ بنى اسرائيل كو الله تعاليٰ نے عروج اور غلبه عطا كيا، ليكن ايك مدت كے بعد يهود ميں بھى وهى ’’فساد‘‘ پيدا هوا جو كه هر قوم ميں پيداهوتا هے۔ جب ايسا هوا تو الله تعاليٰ نے كسى اور قوم كے ذريعے يهود كے ساتھ دفع كا وهى معامله كيا جس كو هم نے ريڈيكل آپريشن (radical operation) كا نام دياهے۔
اِس سلسلے ميں قرآن ميں دو متعين آپريشن كا حواله دياگيا (17:4-8)۔ پهلا واقعه بابِل (عراق)كے بادشاه نبوكد نضر (Nebuchadnezzar) كا هے۔ اس نے 586 قبل مسيح ميں فلسطين پر حمله كيا، جو اُس وقت بنى اسرائيل كے زير قبضه تھا۔ نبوكد نضر نے بنى اسرائيل كى سياسى طاقت كو توڑ ديا اور يروشلم ميں ان كے عبادت خانه (هيكل سليماني) كو مكمل طور پر ڈھاديا۔اِس كے بعد دوسرا واقعه وه هے جو رومى بادشاه ٹائٹس (Titus) كے ذريعے پيش آيا۔ ٹائٹس نے 70 عيسوى ميں يروشلم پر حمله كركے اس كو پورى طرح تباه كرديا۔ (تفصيل كے ليے ملاحظه هو تذكير القرآن، صفحه 760-762)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
بنى اسرائيل كے خلاف يه آپريشن بطور سزا (punishment) نه تھا، بلكه اپنى حقيقت كے اعتبار سے، وه بطور انتباه (warning) تھا۔ وه اِس ليے تھا كه بنى اسرائيل متنبه هوں، اُن كا جمود ٹوٹے اور وه اپنى اصلاح كركے دوباره الله كى رحمت كے مستحق بن جائيں۔ يهى وه حقيقت هے جس كو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے عَسَى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا (17:8)۔ یعنی، بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے۔ ليكن بنى اسرائيل دوباره اصلاح قبول نه كرسكے۔ وه بدستور اپنى حالت پر قائم رهے۔ اس كے بعد الله تعاليٰ نے بنى اسرائيل كو حاملِ كتاب الٰهى هونے كى حيثيت سے معزول كرديا اور بنو اسماعيل كو حاملِ كتاب الٰهى كى حيثيت دے دي۔ تبديلى كے اِس واقعے كا ذكر قرآن كى ايك آيت ميں اِن الفاظ ميں كياگيا هے اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۚ فَقَدْ اٰتَيْنَآ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاٰتَيْنٰھُمْ مُّلْكًا عَظِيْماً(4:54)۔ یعنی، کیا یہ لوگوں پر حسد کر رہے ہیں اس بنا پر جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے۔ پس ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت دی ہے اور ہم نے ان کو ایک بڑی سلطنت بھی دے دی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلم تاريخ كى مثال
مسلم ملت دفع كے اِس تاريخى قانون سے مستثنىٰ نهيں۔ چنانچہ پچھلے چوده سو سال ميں يه معامله بار بار پيش آيا هے، يعنى ايك گروه كو مقامِ اقتدار سے هٹاكر اس كى جگه دوسرے گروه كو مقامِ اقتدار پر لانا، ايك گروه كو معزول كركے دوسرے گروه كو كام كا موقع دينا۔ پچھلے چوده سو سال ميں جن مسلم گروهوں كو اقتدار ملا، اُن كى بنيادى تقسيم يه هے
1۔ خلافتِ راشده (Rashidun Caliphate) 632-661 ء
2۔ خلافتِ اميه (Umayyad Caliphate) 661-750 ء
3۔ خلافتِ اندلس (Moorish Empire) 711-1492 ء
4۔ خلافتِ بنوعباس (Abbasid Empire) 750-1258 ء
5۔ مغل سلطنت (Mughal Empire) 1226-1857 ء
6۔ عثمانى خلافت (Ottoman Empire) 1299-1922ء
مذكوره سياسى واقعات ميں هم ديكھتے هيں كه ايك مسلم گروه كو اقتدار حاصل هوتا هے اور پھر ايك مدت كے بعد اُس كو هٹا كر اس كى جگه دوسرے گروه كو لايا جاتا هے۔ مسلم ملت كےدرميان يه سلسله تقريباً انيسويں صدى كے آخر تك جارى رهتا هے۔ اس كے بعد مسلمانوں كا غلبه ختم هوجاتا هے اور مغربى قوموں كو غلبه حاصل هو جاتا هے، خواه براهِ راست طورپر يا بالواسطه طورپر۔ يه تمام واقعات اتفاقاً نهيں هورهے هيں، بلكه وه الله رب العالمين كے قائم كرده تاريخى قانون كے تحت هورهے هيں۔
خلافتِ راشده كى اصطلاح ايك سياسى اداره كى حيثيت سے بعد كے دور ميں وضع هوئي۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے بعد خلافت كا جو سياسى اداره قائم هوا، وه تقريبا 30 سال تك باقى رها۔ اس كے بعد اس كا خاتمه هوگيا۔ ايسا اتفاقاً نهيں هوا۔ اِس كا سبب يه تھا كه بعد كے زمانے ميں خلافت كا يه اداره اپنى اخلاقى خوبيوں كے باوجود سياسى استحكام (political stability) كو باقى ركھنے كے قابل نه رها، اِس ليے اس كو هٹا كر بنو اميه كا دور لايا گيا۔ بنو اميه كا خاص كارنامه يه تھا كه انھوں نے عربى زبان اور عرب كلچر (المروءة، وغيره) كے فروغ كا شدت سے اهتمام كيا جو كه اُس وقت قرآن كى كامل حفاظت كے ليے ضرورى تھا۔
بنو اميه كى حكومت تقريباً 90 سال تك جارى رهي۔ ان كے دورِ حكومت كے آخرى زمانے ميں يه بات واضح هوگئى كه عربيت كے تحفظ ميں انھوں نے عالمى تقاضے كو فراموش كرديا۔ چنانچہ اس كے بعد بنو اميه كو اقتدار كے مقام سے هٹا كر ان كى جگه بنو عباس كو لايا گيا۔ بنو عباس كےدور ميں كئى بڑے بڑے كام انجام پائے — احاديث كو جمع كرنا، علومِ اسلامى كى تدوين، اسلام كى اشاعت، وغيره۔ اِس كے علاوه انھوں نے اُس وقت كے سيكولر علوم كو حاصل كيا اور ان كو فروغ ديا۔
اِس كے نتيجے ميں مسلمانوں كے اندر عالمى فكر پيدا هوا۔ بنو عباس كے دبدبے كے تحت حفاظتِ دين كا كام كاميابى كے ساتھ جارى رها۔ واضح هو كه دورِ قديم ميں حفاظتِ دين كےليے سياسى دبدبه ضرورى تھا، مگر اب پرنٹنگ پريس اور دوسرے موافق اسباب كے ظهور كے بعد سياسى دبدبے كے بغير خدا كا دين كامل طور پر محفوظ هے۔
بنو عباس كى سلطنت تقريبا 500 سال تك جارى رهي۔ اس كے بعد فطرى طورپر بنو عباس ميں جمود كا دور آگيا۔ وه ترقى كے سفر كو مزيد جارى ركھنے كے قابل نه رهے۔ چنانچہ تيرھويں صدى عيسوى ميں تاتاريوں كے ذريعے ايك آپريشن كياگيا اور اِس طرح عباسى سلطنت كا خاتمه هوگيا۔
اِس كے بعد تاريخى قانون كے مطابق، دوسرى قوموں كو موقع دياگيا۔ عباسى دور هى ميں ايك مسلم گروه اٹھا جس نےاندلس (اسپين) ميں اپنا اقتدار قائم كرليا۔ اِس حكومت كو سيكولر مورخين مورش سلطنت (Moorish Empire) كا نام ديتے هيں۔ مورش سلطنت كو موافق حالات ملے، چنانچہ انھوں نے علم كى ترقى ميں مزيد بهت زياده اضافه كيا۔ اُس دور كے ترقياتى نمونوں كو استنبول (تركي) كے ميوزيم (The Istanbul Museum of the History of Science and Technology in Islam) ميں ديكھا جاسكتا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر بعد كے دور ميں اندلس كى مسلم سلطنت ميں بگاڑ آگيا۔ اس كے حكمراں عيش وعشرت ميں پڑ گئے۔ آخر كار 700 سال سے زياده مدت كے بعد اُن پر دفع كا قانون نافذ هوا اور اسپين كے مسيحى حكمراں نے لڑ كر اُن كا خاتمه كرديا۔
اِسى دور ميں مغل حكمراںهندستان ميں داخل هوئے اور يهاں ايك طاقت ور مسلم سلطنت قائم كردي۔ مغل سلطنت كے زير سايه هندستان ميں كئى كام انجام پائے۔ مغل حكمرانوں كو دعوت وتبليغ سے كوئى دلچسپى نه تھي، ليكن اُن كے دبدبے كے تحت صوفيوں كو يه موقع ملا كه وه اِس ملك ميں اسلام كى اشاعت بڑے پيمانے پر كرسكيں۔ ليكن بعد كے دور ميں مغل حكمرانوں ميں بھى وهى بگاڑ آيا جو هر قوم ميں آتا هے۔ چنانچہ 600 سال كے بعد هندستان ميں برٹش قوم ابھرى اور اس نے 1857 ميں مغل سلطنت كا خاتمه كرديا۔
اِس سلسلے ميں آخرى نام عثمانى خلافت كا هے۔ اس نے يورپ اور ايشيا اور افريقه كے بڑے رقبے ميں اپنى سلطنت قائم كي۔ اس نے لمبے عرصے تك اسلام كا دبدبه قائم ركھا۔ اِس طرح يه هوا كه پرنٹنگ پريس اور دوسرے موافق اسباب كے ظهور سے پهلے كے دور ميں وه دينِ اسلام كى محافظ بنى رهي۔آخر كار عثمانى خلافت ميں بھى بڑے پيمانے پر جمود پيدا هوا، وه مسلسل كمزور هوتى چلى گئي، يهاںتك كه 600 سال كے بعد مغربى قوموں كا ظهور هوا اور اِس طرح عثمانى خلافت كا دور ختم هوگيا۔ كهاجاتاهے كه كمال اتاترك (وفات 1938) نے عثمانى خلافت كا خاتمه كرديا، مگر اصل حقيقت يه هے كه كمال اتاترك نے 1924 ميں ترك خلافت كے خاتمے كا صرف اعلان كيا تھا، اُس كا خاتمه اِس سے بهت پهلے هوچكا تھا(تفصيل كے ليے ملاحظه هو، ماهنامه الرساله، نومبر 2012)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جمهوريت كا رول
دفع كا قانون پچھلے زمانے ميں انقلابى عمل (ريڈيكل آپريشن) كے ذريعے انجام پاتا تھا، مگر موجوده زمانے ميں اِس طريقے كو بدل دياگيا۔ اِسى بدلے هوئے طريقے كو موجوده زمانے ميں جمهوريت كها جاتا هے۔ جمهوريت دراصل دفع كے قانون كا باقاعده انسٹى ٹيوشنلائزيشن (institutionalization)هے۔ فرانسيسى انقلاب (French Revolution) جمهورى دور كا آغاز هے جس نے 1792 ميں بادشاهى نظام كا خاتمه كيا۔ اس كے بعد عالمى سياست ميں ايك نيا دور آيا، جس كے نتيجے ميں يه ممكن هوگيا كه اليكشن كے ذريعے پُرامن طورپر حكومت كى تبديلى ممكن هوگئي۔ اِس طرح تاريخ ميں ريڈيكل تبديلى كے بجائے، پر امن تبديلى (peaceful change) كا دور آگيا۔
موجوده زمانے كے مسلمان اِس الٰهى منصوبے كو سمجھ نه سكے۔ وه خود ساخته ذهن كے تحت يه كررهے هيں كه كهيں وه ناكام طورپر دوسرى قوموں سے لڑ رهے هيں۔ مسلمانوں كى يه منفى روش قانون الٰهى كے خلاف هے، اِس ليے اس كا كوئى مفيد نتيجه نكلنے والا نهيں۔ اِسى طرح كهيں ايسا هے كه مسلمان پچھلے سياسى ماڈل كى گرفت سے آزاد نه هونے كى بنا پر خاندانى ليڈر شپ قائم كئے هوئے هيں۔ كهيں اگر ان كو كچھ سياسى اقتدار مل گيا هے تو وهاں وه آپس ميں ايك دوسرے سے لڑ رهے هيں۔ اِن ميں سے كوئى بھى صورت خدا كے منصوبے كے مطابق نهيں، اِس ليے وه نتيجه خيز بننے والى بھى نهيں۔
رول كى تبديلى
الله نے انسان كى هدايت كے ليے جو دين بھيجا، اُس كے دو تقاضے تھے — ايك تھا، اس كى حفاظت (preservation) اور دوسرا تھا، اس كا اظهار۔ دين كى حفاظت كا كام پهلے بنى اسرائيل كو سونپا گيا، مگر وه اس ميں ناكام هوگئے۔ اِس واقعه كا ذكر قرآن ميں ان الفاظ ميں كيا گيا هے اَلَّذِيْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا (62:5)۔یعنی، ان لوگوں کو توراۃ کا حامل بنایا گیا مگر انھوں نے اس کو نہ اٹھایا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بنى اسرئيل كى ناكامى كے بعد بنو اسماعيل (امتِ محمدي) كو دينِ خداوندى كے حامل هونے كى يه ذمے دارى سپرد كى گئي۔ امت محمدى نے اپنے آغاز كے بعد هزار سال كى مدت ميں دين كى حفاظت كا كام پورى طرح انجام دے ديا۔ اب خدا كا دين كامل طورپر محفوظ هے۔ امت محمدى كو اس كے آغاز كے بعد لمبى مدت تك مددگار قوت كے طورپر سياسى دبدبه عطا كياگيا۔ اس دبدبے كا خاص مقصد يهى تھا كه دين كا متن (text) اور اس كى تاريخ مستند طورپر محفوظ هوجائے۔
اِس كے بعد دوسرا كام جو مطلوب تھا، اس كو ايك لفظ ميں اظهار كها جاسكتا هے۔ امت مسلمه اِس دوسرے كام كو انجام نه دے سكي۔ الله تعاليٰ كى طرف سے اس كو غير معمولى مواقع دیے گئے — تعداد، دولت اور سياسى طاقت، وغيره ۔
مگر امت مسلمه اِس دوسرے مطلوب كام كو انجام دينے ميں ناكام رهي۔ اٹھارھويں صدى كے آخر ميں يه واضح هوگيا كه امت مسلمه اب اُسى طرح ايك بے جان قوم بن چكى هے، جيسا كه اِس سے پهلے بنى اسرائيل اپنے دورِ زوال ميں ايك بے جان قوم بن چكے تھے۔
بے جان هونے كا مفهوم
كسى امت كے بے جان هونے كا مطلب يه نهيں هے كه وه دينِ خداوندى كو چھوڑ دے اور اعلان كے ساتھ كوئى دوسرا دين اختيار كرلے۔ اِس قسم كى تبديلى نه پهلے كبھى هوئى اور نه آج هوگي۔ يه ايك واقعه هے كه 14 صدياں گزرنے كے بعد امتِ مسلمه پر وه وقت آگيا جو پچھلى امتوں پر آيا تھا، يعنى مسلمان عملاً ايك بے جان قوم بن گئے۔ اب كوئى بھى اصلاحى جدوجهد ان كو مجموعى طورپر دوباره زنده كرنے والى نهيں۔ اب جو چيز هونے والى هے، وه صرف يه كه امت كے كچھ افراد كو شخصى طورپر زندگى ملتى رهے گي، نه كه پورے مجموعے كو۔
اِس صورتِ حال كا سبب كيا هے۔ اِس كا سبب يه هے كه دھيرے دھيرے امت كى بعد كى نسلوں ميں يه واقعه پيش آتا هے كه لوگ اسلام كے نام پر ايك خود ساخته اسلام (self-styled version of Islam) بنا ليتے هيں۔
اِس خود ساخته اسلام ميں اسپرٹ حذف هوجاتى هے اور صرف كچھ ظاهرى شكليں باقى رهتى هيں۔ پھر لمبى مدت تك اُس پر قائم رهتے هوئے وه اُس پر پخته (conditioned) هوجاتے هيں۔ اِس پختگى (conditioning) كے ساتھ هميشه ايك فرضى يقين (false conviction) جمع هوجاتا هے۔ وه اپنےوضع كرده اسلام پر اِس طرح جينے لگتے هيں، جيسے كه وه خدا اور رسول كےدين پر قائم هيں۔ اِسى فرضى يقين كا نام بے جان هونا يا زندگى سے محرومى هے۔ جو لوگ اِس حالت پر پهنچ جائيں، وه اِس صلاحيت سے محروم هوجاتے هيں كه وه دوباره اپنى روش پر نظر ثانى كرسكيں۔
كنڈيشننگ كى حالت
يهى وه حالت هے جس كا ذكر يهود كے حوالے سے قرآن ميں اِن الفاظ ميں آيا هے وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ۭ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِھِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ (2:88)۔ يعنى، وه كهتے هيں كه همارے دلوں كے اوپر غلاف هے۔ نهيں، بلكه الله نے ان كے كفر كى وجه سے ان پر لعنت كردى هے، اِس ليے وه بهت كم ايمان لاتے هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں ’غُلْفٌ‘ كا لفظ استعمال هوا هے۔ عبد الله بن عباس نے اس كى تشريح اِن الفاظ ميں كى هے أَيْ قُلُوبُنَا مُمتَلِئَةٌ عِلْمًا، لَا تَحْتَاجُ إِلَى عِلْمِ مُحَمَّدٍ وَلَا غَيْرِهِ (تفسیر القرطبى،جلد 2، صفحہ 25)۔ يعنى، همارے دل علم سے بھرے هوئے هيں، وه محمد يا كسى اور كے علم كے محتاج نهيں۔ لعنت كوئى پراسرار چيز نهيں، لعنت سے مراد شديد قسم كى كنڈيشننگ هے جس كى ڈى كنڈيشننگ عام طورپر ممكن نهيں هوتي۔ يهاں ’’علم‘‘ سے مراد معروف معنوں ميں علم نهيں، بلكه خود ساخته تصورِ دين هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يهود كا يه خود ساخته دين اپنى حقيقت كے اعتبار سے، علم پر مبنى نهيں تھا، بلكه وه امانى (2:78) پر مبنى تھا۔ ٹھيك يهى حال موجوده زمانے ميں مسلم ملت كاهواهے۔ وه دين كے خود ساخته ماڈل پر قائم هيں۔ زمانه گزرنے كے بعد وه اپنے اِس خود ساخته ماڈل پر اتنے پخته هوچكے هيں كه اب وه اُس پر نظر ثانى كى ضرورت نهيں سمجھتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پچھلى امتوں كے بارے ميں قرآن ميں يه آيت آئى هے الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا ۭكُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ (30:32)۔ يعنى، انھوں نے اپنے دين كو ٹكڑے ٹكڑے كرليا اور وه بهت سے گروه هوگئے۔ هر گروه اپنے خود ساخته طريقے پر نازاں هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يهى حال موجوده زمانے كے مسلمانوں كا هوا هے۔ وه خود ساخته تعبيرات كے مطابق، مختلف گروهوں ميں بٹ گئے هيں۔ يه تمام گروه خود ساخته تصورِ دين پر قائم هيں۔ ليكن لمبى مدت گزرنے كے بعد اب هر گروه كا ذهن اپنے ماڈل كے حق ميں اتنا زياده پخته هوچكا هے كه اب وه اِس كى ضرورت نهيں سمجھتا كه وه اُس پر نظر ثانى كرے۔
امت مسلمه اور اس كے بعد
امتِ مسلمه كے حال اور مستقبل كو سمجھنے كے ليے قرآن كے سورۃ الانبياء كى اِن آيات كا مطالعه کیجیے وَحَرٰمٌ عَلٰى قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ (21:95-96)۔ يعنى، جس بستى والوں كے ليے هم نے هلاكت مقرر كردى هے، اُن كے ليے حرام هے كه وه رجوع كريں، يهاںتك كه جب ياجوج اور ماجوج كھول دیے جائيں گے اور وه نهايت تيزى كے ساتھ هر بلندى سے نكل پڑيں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه قرآن كى دو آيتيں هيں۔ دوسرى آيت ميں واضح طورپر مستقبل ميں پيش آنے والے ايك واقعے كا ذكر هے، يعنى ياجوج اور ماجوج كا ظهور۔ پهلى آيت ميں اگرچه استقبال كا صيغه استعمال نهيں هواهے، ليكن اِس سے مراد بھى مستقبل ميں پيش آنے والا واقعه هے، يعنى ياجوج اور ماجوج كے ظهور سے فوراً پهلے كاواقعه۔
اصل يه هے كه پهلى آيت ميں قرآن كے مخصوص اسلوب ميں، امتِ مسلمه كے مستقبل كا ذكر هے۔ اِس آيت ميں دفع كا وهى قانون بيان كيا گيا هے جس كا اوپر ذكر كيا گيا۔ يهاں حرام سے مراد امت كا ’غلف‘ كى حالت تك پهنچ جانا هے، يعنى دورِ زوال كى حالت۔ اور اهلاك سے مراد يه هے كه جب امت پر يه حالت آئے گى تو اُس كو خدائى رول كے ليے رد كرديا جائے گا۔
يه فطرت كا ايك عام قانون هے جو امتِ مسلمه پر بھى لازما آئے گا لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر7320)، ليكن ايك فرق كے ساتھ، وه يه كه امت يهود كو نظرى اور عملى دونوں اعتبار سے رد كيا گيا تھا، ليكن امتِ مسلمه كا رد كيا جانا صرف نظرى اعتبار سے هوگا، اِس كے بعدبھى عملى طورپر موجوده دنيا ميں اُن كى حيثيت باقى رهے گي، كيوں كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے بعد اب كوئى اور نبى آنے و الا نهيں جو دونوں اعتبار سے امتِ مسلمه كے رد كيے جانے كا اعلان كرسكے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى مذكوره آيات ميں صرف پهلى آيت امتِ مسلمه كے بعد كے دور كے بارے ميں هے۔ جب كه قانونِ فطرت كے مطابق، امت اپنے زوال كى آخرى حد پر پهنچ چكى هوگي۔ اِس آيت ميں هلاكت سے مراد معروف هلاكت نهيں هے، بلكه اِس سے مراد وهى چيز هے جس كو ذهنى جمود (intellectual stagnation) كها جاتا هے۔ آيت ميں حرام سے مراد بھى معروف حرام نهيں هے، بلكه اس سے مراد جمود كى وه حالت هے، جب كه لوگوں كے اندر بے حسى كا وه درجه آجائے جس كو قرآن ميں قساوت كهاگيا هے، يعنى قبوليت (receptivity) كے مادے كا ختم هوجانا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس معاملے كى مثال فطرت ميں پتھر اور زرخيز زمين (soil) كى صورت ميں ركھ دى گئى هے۔ پتھر پر پانى ڈالا جائے تو پتھر اس كو قبول نهيں كرے گا۔ پانى اس كے اوپر سے بهه جائے گا۔ اس كے برعكس، زرخيز مٹى ميں پانى ڈالا جائے تو وه اس كو بھر پورطورپر قبول كرليتى هے۔ اِسى طرح جب كوئى قوم زنده هو تو اس كے اندر قبوليت كى صلاحيت بھر پور طورپر موجود هوتى هے۔ اِس كے برعكس، جب قوم ميں جمود آجائے تو وه قبوليت كى صلاحيت سے محروم هوجاتى هے۔
كسى امت كى يه حالت كيوں هوتى هے۔ اس كا سبب صرف ايك هے، اور وه هے فرضى يقين (false conviction)۔ دور زوال ميں يه هوتا هے كه امت حقيقتاً بے روح(spiritless) هوجاتى هے، ليكن ظاهرى طور پر وه ايك خود ساخته دين (self-styled version of religion) پر قائم رهتى هے۔ دھيرے دھيرے وه اپنے اسى خود ساخته دين پر اتنى پخته هوجاتى هے كه اس كے خلاف سوچنا اس كے لیے ناممكن هوجاتا هے۔ اس كا حال يه هوجاتاهے كه حقيقى دين اس كے ليے اجنبى (غريب) بن جاتا هے، خواه اس كو كتنا هى دلائل كے ساتھ پيش كيا گيا هو۔ اس كا نتيجه يه هوتا هے كه ايسى امت كے اندر كوئى نيا فكرى انقلاب (intellectual revolution) لانا ناممكن هوجاتا هے۔ اِس مرحلے پر پهنچ كر وه تخليقى فكر (creative thinking) سے محروم هوجاتى هے۔ يهى وه حقيقت هے جس كو مذكوره آيت (21:95) ميں ’أَ نَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ‘ (اُن كے ليے حرام هے كه وه رجوع كريں)كے الفاظ ميں بيان كيا گيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اهلِ مغرب كا رول
صحيح البخارى ميں ايك روايت اِن الفاظ ميں آئى هے إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (حدیث نمبر 3062)۔ يعنى، الله ضروراِس دين كى تائيد فاجر شخص كے ذريعے كرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حديث ميں ’فاجر‘كا لفظ غير مومن كے معنى ميں آيا هے۔ آج كل كى زبان ميں اس كو سيكولر انسان كهه سكتے هيں۔اِس روايت ميں پيشين گوئى كى زبان ميںيه بات كهى گئى هے كه الله بعد كے زمانے ميں ايسے سيكولر لوگوں كو اٹھائے گا جو خدا كے دين كے معاملے ميں تائيدى كردار (supporting role) ادا كريں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاريخى اعتبار سے غور کیجیے تو معلوم هوگا كه يه تائيدى رول بالفعل عمل ميں آچكا هے۔ اب ضرورت صرف يه هے كه اس كى معرفت حاصل كى جائے اور اس سے فائده اٹھايا جائے۔
دو مطلوب رول
اصل يه هے كه دين اسلام كے حاملين سے دو رول مطلوب تھا— ايك رول وه هے جس كو قرآن ميں حفاظتِ دين (15:9) كهاگيا هے۔ اور دوسرا وه هے جس كے ليے قرآن ميں اظهارِ دين(48:28) كے الفاظ آئے هيں۔
حفاظتِ دين سے مراد هے دين كا قلمى يا كتابى تحفظ — قرآن كے اصل متن كا مكتوب حالت ميں محفوظ هوجانا، حديث كا مدوّن مجموعه تيار هوجانا، سيرتِ رسول اور سيرتِ صحابه كا لكھى هوئى حالت ميں ريكارڈ هوجانا، اسلام كا وه دور جس كو قرون مشهود لها بالخير كهاگيا هے، اس كو مستند تاريخ كى حيثيت دے دينا، اسلام كى بنياد پر ايسے ادارے (مسجد، مدرسه، حج كا نظام، وغيره) قائم هوجانا جن كے ذريعے ابدى طور پر اسلام كو ايك اجتماعى بنيادحاصل هوجائے۔
يه تمام كام ايك لفظ ميں، تحفظِ دين كےكام هيں۔ امتِ مسلمه نے اپنے ابتدائى تقريباً هزار سال كے دوران اِس كام كو كامل طور پر اور مستند طور پر انجام دے ديا۔ يهاں تك كه اب يه حال هے كه اسلام كا مستند ماخذ نه صرف لائبريريوں ميں موجود هے، بلكه پورا ذخيره انٹرنيٹ پر اِس طرح محفوظ هوگيا هے كه ايك شخص فنگر ٹپ (fingertip) كے استعمال سے ايك لمحے ميں اِس پورے ذخيرے تك رسائى حاصل كرسكتا هے۔
تائيد دين كے چار اهم كام
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى ايك حديث اِن الفاظ ميں آئى هے مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ (سنن الترمذي،حدیث نمبر3086)۔ يعنى، ميرى امت كى مثال بارش جيسى هے، نهيں معلوم كه اس كا اول زياده بهتر هے يا اس كا آخرزياده بهتر هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جيسا كه معلوم هے، بارش كا اول اور آخر دونوں اپنے اپنے لحاظ سے بهتر هوتا هے۔ اِس حديث ميں امت كے دو دور كا ذكر هے — ابتدائى دور اور آخرى دور، ايك پهلو سے امت كا ابتدائى دور بهتر هے اور دوسرے پهلو سے اس كا آخرى دور بهتر هے۔
اِس حديثِ رسول ميں دراصل امت كے بارے ميں ايك پيشين گوئى كى گئى هے جو كه اب واقعه بن چكى هے۔ امت كے پهلے دور ميں ايك طرف، دين كو محفوظ دين كى حيثيت دى گئى هے اور دوسرى طرف، اِس دور ميں ايك ايسا انقلاب برپا هوا جس نے انسانى تاريخ ميں ايك نيا پراسس جارى كرديا۔ اِس تاريخى پراسس كا آغاز امتِ مسلمه نے كيا تھا، ليكن بعد كے زمانے ميں يه رول مشرق سے مغرب كى طرف منتقل هوگيا۔ اِس عمل (process) كے تكميلى مرحلے ميں جو چيزيں مطلوب تھيں، وه زياده تر اهلِ مغرب كے ذريعے انجام پائيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس تاريخى عمل كا آغاز ساتويں اور آٹھويں صدى عيسوى ميں امت مسلمه كے ذريعے هوا۔ اِس كے بعد اهلِ مغرب نے اِس معاملے ميں تائيدى رول (supporting role) انجام ديا، جس كى تكميل انيسويں صدى اور بيسويں صدى ميں هوئي۔
چار پهلو
1۔ اِس معاملے ميں اهلِ مغرب كے ذريعے جو كام انجام پايا، اس كے چار خاص پهلو هيں اور اِن چاروں پهلوؤں كا اشاره قرآن ميں موجود هے۔ اِن ميں سے ايك كام وه هے جس كا ذكر بطور پيشين گوئى قرآن كى اِس آيت ميں كياگيا هے سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقّ (41:53)۔ يعنى، عنقريب هم اُن كو آفاق ميں اور انفس ميں اپنى نشانياں دكھائيں گے، يهاں تك كه اُن پر يه بات كھل جائے گى كه يه حق هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں جس پيشين گوئى كا ذكر هے، اس كا پس منظر يه هے كه اِس دنيا ميں معرفت اور ايمانى رزق كے بے شمار آئٹم هيں، جن كو قرآن ميں آيات اور آلاء الله اور كلمات الله كے الفاظ ميں بيان كياگيا هے۔ اِس قسم كى چيزوں كا ذكر قرآن اور حديث ميں ابتدائى طور پر موجود هے، ليكن ان كى تفصيلات كو جاننا سائنٹفك مطالعے پر موقوف تھا جس كو قرآن ميں زمين وآسمان پر تفكر سے تعبير كيا گيا هے۔سائنسى مطالعے كے اِ س كام كا آغاز امتِ مسلمه كے افراد نے كيا تھا، ليكن اس كى تكميل تمام تر اهلِ مغرب كے ذريعے انجام پائي۔ يهى وه كام هے جس كو موجوده زمانے ميں، ماڈرن سائنس (modern science) كهاجاتا هے۔ ماڈرن سائنس كا نظرياتى حصه پورا كا پورا قرآن كى اِس آيت كى تفصيل هے۔ قديم زمانے ميں آيات الله كا علم صرف عينى مشاهدے كے ذريعے ممكن هوتاتھا، اهلِ مغرب نے اس كو وسيع كركے دور بينى مشاهده اور خورد بينى مشاهدے تك پهنچا ديا۔
موجوده زمانے كى نظرياتى سائنس نے فطرت (nature) كے بارے ميں جو حقيقتيں دريافت كى هيں، اُن كے ذريعے سے پهلى بار يه ممكن هوا كه انسان تخليق ميں خالق كو دريافت كرسكے،وه معرفتِ حق كے اُن اعليٰ درجات تك پهنچ سكے جو قديم روايتى دور ميں انسان كے ليے ممكن نه تھا۔
2۔ اِس معاملے ميں اهلِ مغرب كى دوسرى دَين يه هے كه انھوں نے شكر خداوندى كے نئے بے شمار آئٹم دريافت كيے۔ انسان سے يه مطلوب هے كه وه انعامات كو شعورى طورپر جانے اور اُن كے ليے منعم كا اعتراف كرے۔ اِسى اعتراف كا مذهبى نام شكر هے۔ شكر كى حيثيت دين كے اهم ترين مطلوب كى هے، ليكن اعليٰ شكر، انعامات كى اعليٰ معرفت هى سے هوسكتاهے، اور يه وه كام هے جو تاريخ ميں پهلى بار اهلِ مغرب كے ذريعے انجام پايا۔
اِس سلسلے ميں قرآن كى ايك متعلق آيت يه هے وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ (14:34)۔ يعنى، خدا نے تم كو وه سب كچھ دے ديا جو تم نے اُس سے مانگا۔ اگر تم الله كى نعمتوںكو گنو تو تم گن نهيں سكتے۔ يقيناً انسان بهت ظالم اور بهت ناشكرگزار هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خالق نے انسان كو اس كى ضرورت كى تمام چيزيں بطور عطيه دے دى هيں۔ يه عطيات سب كے سب خدائى انعامات هيں۔ اِن عطيات كى واقفيت سے الله كے ليے بے پناه شكر پيدا هوتا هے۔ يه عطيات يا نعمتيں بے شمار هيں، مگر قديم زمانے ميں انسان اِن ميں سے بهت كم عطيات كو جانتا تھا۔ ايسى حالت ميں وه بڑا شكر نهيں كرسكتا تھا۔ جديد مغربى سائنس نے فطرت ميں چھپے هوئے بے شمار نئے عطيات كو دريافت كيا اور جديد صنعت او ر ٹكنالوجى كے ذريعے اس كو عام انسان كے ليے قابلِ حصول بنا ديا۔ يه ايك ايسا واقعه هے جو اهلِ مغرب كے ذريعے پهلى بار انجام پايا۔ اِس طرح يه ممكن هوگيا كه انسان اپنے رب كے ليے زياده بڑا شكر ادا كرسكے — اهلِ مغرب كا يه عطيه بلا شبه تائيد دين كى ايك اعلى مثال كى حيثيت ركھتاهے۔
3۔ اِس سلسلے ميں اهلِ مغرب كى تيسرى دَین(contribution) وه هے جس كو عالمى مواصلات كهاجاتا هے۔ الله تعالى كو يه مطلوب تھا كه اس نے اپنا پيغام جو پيغمبروں كے ذريعے بھيجا هے، وه تمام اهلِ عالم تك پهنچے۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى ايك آيت يه هے تَبٰرَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْراً (25:1)۔ يعنى، بهت بابركت هے وه ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل كيا، تاكه وه تمام عالم كے ليے آگاه كرنے والا هو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يهى بات حديث ميں پيشين گوئى كى زبان ميں اِس طرح آئى هے لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد،حدیث نمبر 24215)۔ يعنى، زمين كى سطح پر كوئى گھر يا خيمه نهيں بچے گا، مگر الله اس ميں اسلام كا كلمه داخل كردے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سے معلوم هوتا هے كه الله كو يه مطلوب تھا كه اُس نے پيغمبروں كے ذريعے جو هدايت نامه بھيجا هے، وه دنيا ميں بسنے والے تمام انسانوں تك پهنچے۔ مگر قديم زمانے ميں يه عالمى پيغام رسانى ممكن نه تھي۔ قديم زمانے ميں دعوت الى الله كا كام عملاً صرف مقامى طورپر هوا، وه عالمى طورپر انجام نه پاسكا۔ موجوده زمانے ميں پهلى بار وه ذرائع اور وسائل وجود ميں آئے هيں جن كو استعمال كركے كره ارض كے هر چھوٹے اور بڑے گھر ميں الله كا پيغام پهنچ جائے، زمين پر بسنے والا كوئى بھى انسان اُس سے بے خبر نه رهے۔
يه ذرائع اور وسائل خالق نے فطرت (nature) كے اندر بڑے پيمانے پر ركھ دیے تھے، مگر قديم زمانے ميں اِن ذرائع اور وسائل كو دريافت كرنا ممكن نه هوسكا۔ اهلِ مغرب نے پهلى بار ان كو دريافت كيا اور ان كو صنعتى مصنوعات (industrial products) كى صورت دے كر داعيوں اور مبلغوں كے ليے قابلِ حصول بنا ديا۔
4۔ قديم زمانے ميں اقوام كى تنظيم (international organisation) كا تصور نه تھا۔ قديم زمانے ميں صرف سياسى تنظيم (political organisation) كا تصور تھا، جو كسى بڑى سلطنت كے تحت بذريعه طاقت قائم هوتا تھا۔اِس تصور كے تحت قديم زمانے ميں وه نظريه وضع هوا جس كو جنگ برائے امن (war for peace) كها جاتا هے۔ موجوده زمانے ميں پهلى بار يه واقعه پيش آيا هے كه اقتدار كے باهر اصول كى بنياد پر قوموں كى تنظيم قائم كى جائے جو بين اقوامى معاملات ميں اقتدار كے استعمال كے بغير پرامن طورپر فيصله كن رول ادا كرسكے۔
قديم زمانے ميں يه سمجھا جاتا تھا كه امن صرف سياسى اقتدار كے ذريعے قائم هوتا هے۔ اِس تصور كا نتيجه يه تھا كه قديم زمانے ميں هزاروں سال تك سارى دنيا ميں جنگوں كا سلسله جارى رها۔ يه طريقه خدا كے تخليقى منصوبے كے خلاف تھا۔ خدا كے تخليقى منصوبے كا تقاضا هے كه قوموں كے درميان پرامن تعلقات هوں، تاكه دعوت اورتعليم جيسا تعميرى كام كسى ركاوٹ كے بغير جارى رهے۔ اِس ليے اسلام ميں يه مطلوب تھا كه بين اقوامى امن كو سياسى اقتدار سے الگ كرديا جائے۔ بين اقوامى امن كو معاهدات كى بنياد پر قائم كيا جائے، نه كه سياسى اقتدار كى بنياد پر۔
پيغمبر اسلام اور آپ كے اصحاب كے زمانے ميں جو انقلاب آيا، اُس كا ايك پهلو يه بھى تھا۔اُس زمانے ميں پهلى بار ايسا هواكه معاهدات كى بنياد پر بين الاقوامى امن كا قيام عمل ميںآيا ۔ يه معاهده حديبيه تھا جو 628عيسوى ميں تشكيل پايا۔ اِس معاهده امن ميں براهِ راست طورپر اهلِ مدينه اور اهلِ مكه شامل تھے، ليكن بالواسطه طورپر يهود بھى اس ميں شامل تھے جو كه اُس وقت مدينه كى آبادى كا تقريبا نصف حصه تھے۔ تاريخ كا يه پهلا بين اقوامى معاهده امن تھا جو اِس ليے كياگيا كه قومى تعلقات كو جنگ كے بجائے امن كى بنياد پر قائم كيا جائے۔
معاهده حديبيه صرف ايك واحد واقعه نه تھا، وه تاريخ ميں ايك نئے دورِ امن كا آغاز تھا۔ اس كے بعد تاريخ ميں ايك نيا عمل شروع هوا، جو سفر كرتے هوئے يورپ تك پهنچا۔ چنانچہ 1920 ميں جنيوا (سوئزرلينڈ) ميں ايك بين اقوامى اداره قائم كيا گيا جس كا نام جمعيتِ اقوام (League of Nations) تھا۔ اِس جمعيت ميں كُل 63 قوميں شامل تھيں، البته امريكا اس ميں شامل نه تھا۔ يه تنظيم مستقل ثابت نه هوسكي، يهاں تك كه 1946 ميں باقاعده طورپر اس كے خاتمے كا اعلان كرديا گيا۔
اِس كے بعد اِس مقصد كے ليے 1945 ءميں اور زياده بڑى تنظيم قائم هوئي۔ اس كا نام تنظيم اقوامِ متحده (United Nations Organisation) تھا۔ اِس دوسرى تنظيم ميں 193 ممالك شامل هيں۔ اس كا صدر دفتر نيويارك (امريكا) ميں هے۔ يه ايك غير سياسى تنظيم هے۔ وه امن كے ميدان ميں زياده موثر رول ادا كررهى هے۔
يه واقعه بھى انھيں واقعات ميں سے هے جس كا ذكر ’’تائيد دين‘‘ كے طورپر كياگيا هے، اِس واقعے كو دوسرے الفاظ ميں، دورِ شمشير كو ختم كركے عملا دورِ امن كو لانا كهاجاسكتا هے۔ بين اقوامى تعلقات ميں يه تبديلى عين اسلام كے حق ميں هے۔ يه واقعه اُس تاريخى عمل (historical process) كا نقطه انتها هے جس كا آغاز ساتويں صدى كے ربع اول ميں معاهده حديبيه كے ذريعے كياگيا تھا۔
قديم زمانے ميں جنگ اور امن كا كوئى متفقه اصول نه تھا۔ جو لوگ سياسى اقتدار پر قابض هوتے تھے، وهى جنگ اور امن كا فيصله كرتے تھے۔ قوموں كے درميان معاهداتى تنظيم كے مذكوره طريقے نے اِس صورتِ حال كو ختم كرديا۔ اب يه ممكن هوگيا كه باهمى مسائل كا فيصله بين اقوامى گفت وشنيد (international negotiation) كے ذريعے طے كيا جائےاور باهمى ا ختلافات كے باوجود عالمى امن كو برقرار ركھا جائے۔ اِس طرح يه ممكن هوگيا كه هر حال ميں تعميرى سرگر مياں كسى ركاوٹ كےبغير جارى رهيں۔
جو لوگ چيزوں كو معيار كے پيمانه (ideal yardstick) سے ناپتے هيں، وه اِن اداروں پر تنقيد كرتے رهتے هيں۔پهلے وه جمعيت اقوام كے ناقد تھے، اب وه اقوامِ متحده كے ناقد بنے هوئے هيں، مگر يه صرف بے دانشى كى بات هے۔ يه لوگ معيارى امن (ideal peace) كى باتيں كرتے هيں، مگر اِس دنيا ميں معيارى امن كا حصول سرے سے ممكن هى نهيں۔
اِس دنيا ميں كوئى چيز صرف خدا كے تخليقى منصوبے كے تحت هى حاصل كى جاسكتى هے، اور يه ايك حقيقت هے كه خدا كے تخليقى منصوبے كے تحت اِس دنيا ميں صرف قابلِ عمل امن (workable peace) كا حصول ممكن هے، اور بلاشبه اقوام متحده نے قابلِ عمل امن كے حصول كو ممكن بنا ديا هے۔
خداكے منصوبے كے مطابق، اِس دنيا ميں انسان كو كامل آزادى دى گئى هے۔ اِس آزادى كو منسوخ كرنا كسى كے ليے بھى ممكن نهيں۔ يهى وجه هے كه اِس دنيا ميں كوئى چيز معيارى درجے ميں نهيں، بلكه صرف قابلِ عمل (workable) درجے ميں حاصل هوتى هے، خواه وه امن اور عدل هو يا اور كوئى چيز۔
قرآن كى سورۃ الانفال ميں رسول اور اصحابِ رسول كو ايك حكم اِن الفاظ ميں دياگيا تھا وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلهِ (8:39) يعنى تم اُن سے قتال كرو، يهاں تك كه فتنه باقى نه رهے اور دين سب كا سب، الله كے ليے هوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس آيت ميں جو بات كهى گئى هے، وه قرآن كے مخصوص اسلوب ميں يهى بات هے۔ دوسرے الفاظ ميں، اِس حكم كا مطلب يه هے كه— اپنى سارى طاقت استعمال كركے تاريخ ميں ايك نيا پراسس جارى كرو جس كے نتيجے ميں ايسا هو كه دنيا ميں جنگ كى حالت نه رهے اور امن كى حالت قائم هوجائے۔ قرآن كى يه آيت ايك دور كو ختم كرنے اور دوسرے دور كا آغاز كرنے كے معنى ميں هے، نه كه كسى وقتى كارروائى كے معنى ميں۔
استبدالِ قوم كا قانون
قرآن ميں ايك خدائى قانون كو اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ(47:38)۔ يعنى، اگر تم پھر جاؤ تو الله تمھارى جگه دوسرى قوم كو لے كر آئے گا، پھر وه تم جيسے نه هوں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں جس استبدال (replacement) كا ذكر هے، اس كے دو پهلو هيں۔ ايك پهلو سے اس كا تعلق مسلمانوں سے هے۔ اگر مسلمانوں كے اندر عمومى طورپر زوال اور فساد آجائے تو الله تعالى كو يه مطلوب هوگا كه يه صورتِ حال بدلے اور ايسے اهلِ ايمان پيدا هوں جو صحيح معنوں ميں دينِ خداوندى پر قائم هوں۔ ليكن اِس استبدال كا مطلب يه نهيں هے كه بگڑى هوئى امت اگر ايك بلين كى تعداد ميں هے تو اس كى جگه ايك بلين هى كى تعداد ميں دوسرى صالح امت پيدا كردى جائے۔ يه استبدال هميشه افراد كے اعتبار سے هوتا هے، نه كه مجموعى طورپر ايك پورى امت كے اعتبار سے۔
اِس استبدال كا دوسرا پهلو وه هے جس كا اوپر ذكر كياگيا، يعنى اظهارِ دين كے اجزا كو دريافت كرنے ميں اگر امتِ مسلمه ناكام هوجائے تو الله تعالى سيكولر طبقے ميں سے ايسے مؤيدِين كو اٹھائے گا جو اس كام كو انجام ديں اور معرفت اور شكر اور دعوت كے اعلى درجات تك پهنچنے كو ممكن بنا ديں۔
خلاصه كلام
انسان كے بارے ميں الله كا تخليقى منصوبه (creation plan) يه هے كه انسان كو آزادى دے كر اس كو يه موقع ديا جائے كه وه خود دريافت كرده معرفت (self-discovered realisation) پر كھڑا هو اور كامل اختيار ركھتے هوئے الله كے تخليقى منصوبے كے تحت زندگى گزارے۔ جو لوگ اِس امتحان ميں كامياب هوں، وهى وه لوگ هيں جو آخرت كى ابدى جنتوں ميںداخل كيے جائيں گے۔الله نے نبيوں كو اِسى ليے بھيجا كه وه انسان كى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے اس كى رهنمائى كريں۔ اِس رهنمائى كے مختلف مراحل هيں، جو كه قرآن وحديث كے مطالعے سے معلوم هوتے هيں۔
حضرت ابراهيم كا زمانه تقريباً چار هزار سال پهلے كا زمانه هے۔ حضرت ابراهيم كے زمانے تك جو پيغمبر آئے، وه انفرادى سطح پر انسان كو رهنمائى ديتے رهے۔حضرت ابراهيم كے بعد ايك نئى منصوبه بندى كى گئي، يعنى ايك قوم وجود ميں لانا اور تاريخ ميں ايك انقلابى عمل (revolutionary process) جارى كرنا، جو بالآخر الله كے دين كے كامل اظهار تك پهنچ جائے۔
يه نيا منصوبه حضرت هاجره اور حضرت اسماعيل سے شروع هوا۔ اس كے بعد رسول اور اصحاب رسول كے ذريعے اس كو طاقت ور تحريك (boost)ملي۔ اِس كے بعد امتِ مسلمه كى حكومتوں كا دور آيا۔ اِس دورِ اقتدار ميں خدا كا دين اصولى اور نظرياتى طورپر پورى طرح محفوظ هوگيا۔ اِسى كے ساتھ تاريخ ميں ايك نيا عمل جارى هوا۔
اِس آخرى دور ميں اهلِ مغرب نے بالواسطه طورپر تائيد كا رول اداكيا۔ انھوں نے فطرت كے قوانين كو دريافت كركے اِس بات كو ممكن بنا ديا كه خدا كے دين كو انسان كے مسلّمه علمى معيار پر مدلل كيا جاسكے۔ عطياتِ الٰہی كے چھپے هوئے اجزا كو دريافت كركے انھوں نے اِس بات كو ممكن بنايا كه انسان اعلى عطياتِ الٰہی كا تجربه كرے اور اپنے رب كے ليے اعلى شكر كا رسپانس دے سكے۔ اِس طرح اهلِ مغرب نے يه كيا كه انھوں نے فطرت كے اندر چھپے هوئے امكانات كو دريافت كركے جديد مواصلات تك دست رس حاصل كي۔ اِس طرح يه ممكن هوگيا كه الله كے پيغام كو عالمى سطح پر هر عورت اور مرد تك پهنچايا جاسكے۔ اِسى طرح اهلِ مغرب نے انسانى تاريخ كو دور سياست سے نكال كر دورِ تنظيم (age of organization) تك پهنچايا۔ اِس طرح يه ممكن هوگيا كه سياسى طاقت كے بغيرآزادانه طورپر تمام دينى تقاضے انجام دیے جاسكيں۔
جهاں تك حفاظتِ دين كا تعلق هے، اس كو تمام تر امتِ مسلمه نے انجام ديا۔ اظهارِ دين كے كام كا آغاز بھى امتِ مسلمه كے ذريعے هوا، ليكن كامل اظهار كے ليے جو وسائل دركار تھے، وه قديم زمانے ميں موجود نه تھے۔ اِس ميدان ميں بھى امتِ مسلمه نے ابتدائى كام كيا، ليكن اس كو اتمام تك پهنچانا باقى تھا۔ اظهارِ دين كا يه تكميلى مرحله اهلِ مغرب كى جديد دريافتوں كے ذريعے انجام پايا۔ تاهم اس معاملے ميں اهلِ مغرب كا حصهٔ تائيد باعتبارِ وسائل هے، تاهم تائيد كا يه واقعه اتفاقاً پيش نهيں آيا، بلكه وه اُس تاريخى عمل (historical process) كا نقطه انتها (culmination) تھا جو امتِ مسلمه كے ذريعے ساتويں صدى عيسوى ميں شروع هوا تھا۔
قرآن کا تصورِ تاریخ— ایک جائزہ
انسائکلوپیڈیا برٹینکا میں حسب ذیل عنوان کے تحت ایک مقالہ چھپا ہے (Historiography and Historical Methodology )اِس مقالے میں ایک ذیلی عنوان (Muslim Historiography) قائم کیا گیاہے۔اِس کے تحت مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ— محمد نے اسلام کو ایک ایسے مذہب کی حیثیت سے پیش کیا جس میں تاریخ کا طاقت ور تصور موجود تھا۔ اسلام کی مقدس کتاب قرآن انتباہات سے بھرا ہوا ہے جو کہ تاریخ کے اسباق سے ماخوذ ہے
other sourceWords of another person or source
Muhammad made Islam a religion with a strong sense of history. The Quran, Islam’s holy book, is full of warnings derived from the lessons of history. (Encyclopedia Britannica, Vol. 8, p.959, 1974)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس سے قرآن کا تصورِ تاریخ معلوم ہوتاہے۔ قدیم زمانے میں شاہی خاندان (dynasty) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھی جاتی تھی۔ عبد الرحمن ابن خلدون (وفات 1406) کے بعد ایک نیا دور آیا، جب کہ نیشن (nation) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھی جانے لگی۔ اس کے بعد آرنلڈ ٹائن بی (وفات1975) نے بارہ جلدوں میں ایک کتاب (A Study of History) لکھی۔ اِس میں تہذیب (civilization)کو یونٹ بنا کر پوری انسانی تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔
قرآن کا تصورِ تاریخ اِن سب سے مختلف ہے۔ یہ کہاجاسکتاہے کہ قرآن کا تصورِ تاریخ خدائی منصوبہ (divine plan) پر مبنی ہے، یعنی خدا کے تخلیقی پلان کی روشنی میں انسانی تاریخ کا جائزہ لینا۔ زیر نظر مقالے میں اِس قرآنی تصور کے مطابق، تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اِس جائزے کے لیے بنیادی طورپر9 ذیلی عنوانات مقرر کیے گئے ہیں— خلافتِ آدم، اعلان واِسرار، ذبح عظیم، احسن القصص، مقامِ محمود، آیتِ اسرا، اظہارِ دین، لوحِ محفوظ، ادخالِ کلمه۔
جنتی افراد، جنتی معاشرہ
قرآن کی ایک آیت یہ ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی، میں نے جن اور انس کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ صحابی مفسر عبد اللہ بن عباس نے اِس آیت میں ’ لیعبدون‘ کی تشریح ’لیعرفون‘سے کی ہے، یعنی جنات اورانسان کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کی معرفت (realization) حاصل کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معرفت کا تعلق فرد سے ہے۔ کیوں کہ یہ ایک فرد ہی کا ذہن ہے جو اِس موضوع پر غور وفکر کرتاہے اور پھر اس کا ذہن اُس فکری واقعے کا تجربہ کرتاہے جس کو معرفت کہاجاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق کے منصوبے کے مطابق، تخلیق کا نشانہ یہ ہے کہ ایسے افراد پیدا ہوں جو عارف باللہ کا درجہ رکھتے ہوں۔ اِس کے مطابق، تخلیق کا نشانہ افراد ہیں، نہ کہ کوئی مجموعہ یا نظام۔
تخلیق کا نشانہ وہی چیز ہوسکتی ہے جو فی الواقع قابلِ حصول ہو۔ اِس پہلو سے انسانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر دور میں بلا شبہ ایسے افراد پیدا ہوئے جو عارف باللہ (realized person)کی حیثیت رکھتے تھے۔اِس کے برعکس، اگر مقصد تخلیق کو اجتماعی معنوں میں لیا جائے، مثلاً صالح معاشرہ بنانا، عادلانہ نظام کی تشکیل، عالمی سطح پر حکومتِ الٰہیہ کا قیام، زندگی کے تمام شعبوں میں شرعی قوانین کا نفاذ، وغیرہ۔ اِس طرح کے اجتماعی انقلاب کو برپا کرنا اگر تخلیق کا نشانہ ہو، تو وہ پوری تاریخ بشری میں کبھی معیاری معنوں میں وقوع میں نہیں آیا، نہ انبیاء کے زمانے میں اور نہ انبیا کے زمانے کے بعد۔
آدم کی تخلیق سے لے کر اب تک انسانی تاریخ پر بہت لمبا عرصہ گزر چکا ہے۔ اِس پوری مدت میں، انبیاء یا پیروانِ انبیاء کے ذریعے مسلسل طور پر یہ کام ہوتا رہا کہ تخلیق کا منصوبہ پورا ہو۔ یہ لوگ اللہ کے نمائندے تھے اور اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کی ضرور مددکرتاہے، نہ صرف آخرت میں بلکہ موجودہ دنیا میں بھی (40:51)۔ اِس طرح کی قرآنی آیات کی روشنی میں ہم کو یہ ماننا ہوگا کہ انبیاء اور اُن کے پیروؤں کا مشن یقینی طورپر کامیاب ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک مسلّمہ واقعہ ہے کہ اِن حضرات کی کوششیں پورے انسانی مجموعہ یا نظام کی سطح پر کبھی معیاری معنوں میں کامیاب نہیں ہوئیں، البتہ افراد کی سطح پر وہ ہمیشہ کامیاب ہوئیں۔ ہر زمانے میں اور ہر کوشش کے ذریعے ایسے افراد وجود میں آئے جو پورے معنوں میں عارف باللہ تھے، جنھوں نے اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ کو اپنا کنسرن بنایا، جو اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے اور جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے بھی۔
اِس تاریخی تجربے کا تقاضا ہے کہ خالق کے منصوبۂ تخلیق کی کامیابی کا معیار پورے مجموعۂ انسانیت (mankind) کو قرار نہ دیا جائے، بلکہ اس کی کامیابی کا معیار افراد کو قرار دیا جائے۔ اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو خالق کا منصوبہ تخلیق آخری حد تک کامیاب نظر آئے گا۔ آدم سے قبل جنات پیدا کیے گئے تھے (15:27)۔ جنات کی بڑی اکثریت اگر چہ سرکش بن گئی، لیکن قرآن کے مطابق، اُن میں شخصی اعتبار سے اعلیٰ درجے کے صالح افراد بھی پیدا ہوئے (72:11)۔ اِس طرح انبیا کے زمانے میں اگر چہ یہ ہوا کہ انبیاء کے مخاطبین کی بڑی اکثریت منکر بنی رہی، لیکن انھیں کے درمیان یہ واقعہ بھی ہوا کہ شخصی اعتبار سے اعلیٰ درجے کے صالح افراد پیدا ہوتے رہے۔ اِسی طرح ختم نبوت کے بعد دُعاۃ (داعیوں) کی کوششوں کے ذریعے بھی یہ واقعہ پیش آیاکہ اگرچہ نظام یا مجموعہ انسانیت کی سطح پر کبھی کامل معنوں میں صالح انقلاب نہیں آیا، لیکن شخصی سطح پر ہر دور میں بلا شبہ ایسے افراد پیدا ہوتے رہے جو عارف باللہ کا درجہ رکھتے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دور ہیں، قیامت سے پہلے اور قیامت کے بعد۔ قیامت سے پہلے کا دور برائے امتحان ہے اور قیامت کے بعد کا دور برائے انجام۔ یہ دونوں دور خالقِ کائنات کے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں دور یکساں طورپر پوری طرح کامیاب دور ہوں۔ یہ خالق کے منصوبۂ تخلیق کا کمتر اندازہ (underestimation) ہوگا کہ کامیابی کے اعتبار سے دونوں دوروں میں فرق کیا جائے۔ اس اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے دونوں دوروں کی بہترین توجیہ یہ ہے کہ پہلے دور کو انتخابِ افرادکا دور (period of individual selection) قرار دیاجائے اور دوسرے دور کو اقامتِ سماج (establishment of society) کا دور کہا جائے، یعنی پہلے دورمیں اس اعلیٰ سماج کے لیے مستحق افراد (deserving individuals) کا انتخاب اور دوسرے دور میں پوری تاریخ کے ان مشترک افراد کو یکجا کرکے ان کی بنیاد پر ایک اعلیٰ معاشرہ (high society) بنانا۔ انسانی حیات کا یہی وہ دوسرا دور ہے جس کو قرآن میں جنت کہا گیاہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
خلافتِ آدم
قرآن کے مطابق، انسانیت کا آغاز آدم اور حوا کی تخلیق سے ہوا۔آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ قرآن کے بیان کے مطابق، انسان کی پیدائش سے پہلے سیارۂ ارض پر ایک ناری مخلوق جنات کو بسایا گیا تھا (15:27)۔ یہ غالباً اُس وقت کی بات ہے جب کہ زمین ابھی گرم حالت میں تھی۔ اِس کے بعد جب زمین ٹھنڈی ہوئی اور یہاں کے سمندروں میں پانی بھر گیا تو اس کے بعد اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے لیے خلافتِ ارضی کا فیصلہ کیا۔ اِس لحاظ سے انسان، خلیفۃ الجن ہے۔ روایات کے مطابق، جنات نے زمین پر فساد برپا کیا، اِس لیے زمین کا چارج جنات سے چھین لیاگیا اور اس کو انسان کے حوالے کیا گیا۔ اِسی معاملے کو قرآن میں ’’خلافت‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمین پر انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے بسایا گیا ہے، لیکن یہ آزادی ایک مشروط آزادی ہے۔ اِس کے مطابق، موجودہ زمین انسان کے لیے ایک امتحان گاہ ہے، وہ انسان کے لیے عیش گاہ نہیں۔ اِس معاملے کی ایک عملی مثال ابلیس اور ملائکہ کی صورت میں قائم کردی گئی ہے۔ جو لوگ ملائکہ کی مانند خدا کے حکم کے آگے سرینڈر کردیں، وہ قیامت کی عدالت میں کامیاب قرار پائیں گے، اور جو لوگ ابلیس کی مانند خدا کے حکم کے آگے سرینڈر نہ کریں، وہ قیامت کی عدالت میں ناکام قرار دیے جائیں گے۔ انسان کا یہ امتحان خود انسان کی سطح پر ہے، جیسا کہ ابلیس اور ملائکہ کے معاملے میں پیش آیا۔اِس معاملے سے انسان کو ہر زمانے اور ہر نسل میں باخبر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے۔ یہ پیغمبر لوگوں کی اپنی زبان میں صراطِ مستقیم کی وضاحت کرتے رہے۔ یہ پیغمبر جو کچھ کہتے تھے، وہ اللہ کی وحی سے کہتے تھے۔ تمام پیغمبروں کا ایک ہی مشترک اصول تھا— نصح وخیر خواہی، یعنی اپنے مدعو کی یک طرفہ طورپر خیر خواہی، مدعو کی طرف سے پیش آنے والی کسی بھی زیادتی پر رد عمل کا طریقہ اختیار کیے بغیر مثبت انداز میں اپنا پیغام دیتے رہنا۔
خدا اور فرشتوں کا مکالمہ
آدم کی تخلیق کے وقت خدا اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اِس سلسلے میں قرآن کی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے ’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھائے آدمی کو سارے نام، پھر اُن کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اُن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک، تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے‘‘۔ (2:30-32)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہاں یہ سوال ہے کہ وہ کیا بات تھی جس پر فرشتوں کو اشکال پیدا ہوا، اور بعد کو کیا چیز اُن کے علم میںآئی جس کے بعد اُن کا اشکال دور ہوگیا۔ اصل یہ ہے کہ ابتدا میں فرشتوں نے آدمی کی نسل کو اس کے پورے مجموعۂ انسانیت کے اعتبار سے لیا۔ اُن کو نظر آیا کہ جس طرح اختیار پاکر جنات کا گروہ سرکش بن گیا، اس طرح اختیار پانے کے بعد انسانی نسل بھی مجموعی طور پر سرکش بن جائے گی۔
مگر اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرے کے ذریعے انسانی نسل کے منتخب افراد کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور آدم نے اِن منتخب افراد کا تعارف کرایا۔ اُس وقت فرشتوں کو اندازہ ہوا کہ اگر چہ مجموعہ کے اعتبار سے انسانی نسل میں فساد آجائے گا، لیکن عمومی فساد کے باوجود ہر زمانے میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو فساد سے خالی ہوں اور اصلاح کے راستے پر چلنے والے ہوں۔ نسلِ انسانی کے اِنھیں منتخب افراد کو قرآن میں انبیاء اور صدیقین اور شہدا اور صالحین (4:69) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس مظاہرے کے بعد فرشتوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبے کا علم ہوا۔ فرشتوں نے جانا کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کا تعلق پورے مجموعۂ انسانیت کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ اِس مجموعے کے استثنائی افراد سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جنت کی معیاری دنیا میں آباد کرنے کے لیے ایسے افراد درکار تھے جو مکمل آزادی کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچائیں اور خدا کی زمین پر خدا کے مطیع بن کر رہیں۔ ایسے افراد صرف کھلی آزادی کے ماحول میں بن سکتے تھے، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرکے اس کو کامل آزادی کے ماحول میں بسایا اور پھر فرشتوں کو مقرر کیا کہ وہ اُن استثنائی افراد کا ریکارڈ تیار کریں جو دباؤ کے بغیر خدا کی معرفت حاصل کریں اور پھر اپنے آزادانہ فیصلے کے تحت اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کا پابند بنائیں۔ یہی استثنائی افراد اللہ کے مطلوب افراد ہیں۔ انھیں مطلوب افراد کا انتخاب کرکے اُن کو جنت کی معیاری دنیا میں بسایا جائے گا۔
اعلان واِسرار
حضرت آدم کے بعد ان کی نسل جس علاقے میں پھیلی، وہ غالباً وہی علاقہ تھا جس کو میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہاجاتا ہے، یعنی دجلہ اور فرات کے درمیان کا زرخیز علاقہ۔ حضرت آدم کے بعد کئی نسلوں تک وہ درست حالت پر قائم رہے۔ پھر ان کے درمیان بگاڑ آیا۔ ان میں شرک پھیل گیا، یعنی خالق کے بجائے مخلوق کی پرستش کرنا۔ اِس کے بعد ان کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔حضرت نوح نے وحی کے ذریعے ان کو خدا اور آخرت کا پیغام دیا۔ ان کی کوشش سے ان کی قوم کی ایک محدود تعداد اُن پر ایمان لائی،لیکن قوم کی بڑی اکثریت سرکشی پر قائم رہی۔ حضرت نوح نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ— خدایا، میں نے اعلان کے ساتھ بھی کام کیا اور اسرار کے ساتھ بھی (71:9)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس آیت میں اعلان سے مراد قوم سے اجتماعی خطاب ہے،اور اِسرار سے مراد انفرادی سطح پر اُن کو نصیحت کرنا ہے۔ حضرت نوح نے لمبی مدت تک دونوں طریقے سے اپنا دعوتی مشن جاری رکھا، مگر قوم کی سرکشی ختم نہ ہوسکی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا طوفان بھیجا جس میں چند لوگ زندہ بچے جو حضرت نوح کی کشتی پر سوار تھے، بقیہ پوری قوم طوفان میں غرق ہو کر ہلاک ہوگئی۔
کہا جاتا ہے کہ اِس طوفان کے بعد حضرت نوح کے تین بیٹے زندہ بچے جن کا نامحام، سام، یافث تھا۔ اِنھیں تین بیٹوں سے بعد کی انسانی نسل چلی اور پھر وہ دھیرے دھیرے پوری سطح ارض پر پھیل گئی۔ جب انسانی نسل زمین کے مختلف حصوں میں آباد ہوئی تو ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے انھیں میں سے کسی فرد کو پیغمبر بنایا جس نے اپنی قوم کو خدائی صداقت کا پیغام دیا۔ مگر جو انجام ہوا، وہ قر آن کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ لوگوں نے اپنے پیغمبروں کا مذاق اڑایا اور ان کو ماننے سے انکار کردیا(36:30) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس عام گمراہی کا سبب لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ لوگ مخلوقات کو دیکھتے تھے، مگر خالق ان کو نظرنہ آتا تھا۔ اِس بنا پر ایسا ہوا کہ مخلوقات میں سے جو چیز بظاہر بڑی دکھائی دی، اُسی کو انھوں نے اپنا معبود سمجھ لیا اور اس کو پوجنے لگے۔ مثلاً سورج اور چاند، وغیرہ۔اِس عام گمراہی کی بنا پر ایسا ہوا کہ پیغمبروں کی یا پیغمبروں کے مشن کی کوئی تاریخ ریکارڈ نہ ہوسکی۔ انسان نے جب لکھنا پڑھنا سیکھا تو اس نے اپنی تاریخ بھی لکھی، مگر اِن تاریخوں میں بادشاہوں اور جنرلوں کے واقعات لکھے گئے، مگر پیغمبروں کو یا ان کے مشن کو ناقابلِ ذکر سمجھ کر چھوڑ دیاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک کسی بھی پیغمبر کا حوالہ مدوّن تاریخ (recorded history) میں موجود نہیں۔
تاہم موجودہ زمانے میں زمین کی کھدائی سے پیغمبروں کے دور کے کچھ آثار برآمد ہوئے ہیں جن کی بنیاد پر کچھ پیغمبروں کے حالات مورخین نے تحریر کیے ہیں۔ مثلاً حضرت ابراہیم انیسویں صدی عیسوی تک تاریخی شخصیت نہیں سمجھے جاتے تھے۔ بیسویں صدی کے نصف اول (1922-1943) میں کھدا ئی (excavation)کے ذریعے عراق کا قدیم شہر اُر (Ur) دریافت ہوا جو کہ حضرت ابراہیم کا مقامِ عمل تھا۔ اِس کے بعد پیغمبر ابراہیم کو ایک تاریخی شخصیت کی حیثیت سے مان لیا گیا۔
ذبحِ عظیم
ہزاروں سال تک پیغمبروں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ضرورت تھی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے خدائی مشن کی ایک تاریخ بنے۔ وہ انفرادی واقعات سے بڑھ کر ایک تہذیب (civilization) کی صورت اختیار کرلے۔ اِس مقصد کے لیے ضرورت تھی کہ بڑی تعداد میں ساتھی ملیں، جن سے ایک مضبوط ٹیم تیار ہو۔ یہ ٹیم جدوجہد کرکے صورتِ حال کو بدلے۔ وہ تاریخ میں ایک نیا دور لائے، جب کہ خدائی مشن ایک تہذیب کی صورت اختیار کرلے۔ اِس قسم کی مطلوب ٹیم بنانے کے لیے وہ واقعہ ہوا جس کو قرآن میں ذبحِ عظیم (37:107) کہا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہزاروں سال تک ایساہوا کہ پیغمبر آتے رہے، مگر بڑی تعداد میں قبولِ ایمان نہ کرنے کی وجہ سے کسی پیغمبر کے ساتھ کوئی ٹیم نہیں بنی۔ اِس کا سبب وہی چیز تھی جس کو ماحول کی کنڈیشننگ کہاجاتا ہے۔ اِس کنڈیشننگ کا ذکر حدیث میں اِن الفاظ میں کیاگیاہے كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَ وْ يُمَجِّسَانِهِ، أَ وْ يُنَصِّرَانِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385) ۔یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی بنادیتے ہیں، یا نصرانی، یا مجوسی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس صورتِ حال کی بنا پر آبائی مذہب ایک سماجی رواج بن گیا تھا۔ اِس تسلسل کو توڑنے کے بعد ہی یہ ممکن تھا کہ ایک ایسی نئی نسل بنائی جائے جو اپنی فطری حالت پر قائم ہو اور پھر پیغمبر کی دعوت کو قبول کرکے وہ خدا پرست انسانوں کی ٹیم کا حصہ بن سکے۔
اِس مخصوص منصوبے کے تحت، حضرت ابراہیم نے یہ کیا کہ وہ اُس دور کے متمدن ملک عراق کو چھوڑ کر عرب کے صحرا میں آئے اور یہاں خالص صحرائی ماحول میںاپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو آباد کیا۔ صحرائی ماحول میں آباد کرنے کا مقصد یہ تھا کہ متمدن دنیا سے منقطع ہو کر ایک نسل بنے جو متمدن ماحول کی کنڈیشننگ (conditioning)سے پاک ہو۔
یہی وہ خصوصی منصوبہ تھا جس کے تحت حضرت ابراہیم کو یہ خواب دکھایا گیا کہ آپ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کررہے ہیں (37:102)۔ حضرت ابراہیم نے اِس معاملے کو اپنے بیٹے کے جسمانی ذبح کے ہم معنی سمجھا اور بیٹے کولٹا کر اس کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ عین اُس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو اسماعیل کے جسمانی ذبیحہ سے روک دیا۔ اُس وقت فرشتے نے کہا کہ آپ بیٹے کے بجائے ایک دنبہ ذبح کردیں اور بیٹے کو لے جاکر صحرا میں اُس مقام پر بسا دیں، جہاں آج مکہ آباد ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس واقعے کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ (37:107) یعنی ہم نے چھڑا لیا اسماعیل کو ایک بڑے ذبیحہ کے بدلے۔ یہاں بڑے ذبیحہ سے مراد صحرا کے غیرمتمدن اور بے آب وگیاہ ماحول میںآباد ہونا تھا، جو کہ جسمانی ذبیحہ سے بلا شبہ بہت زیادہ سخت تھا۔ اِس آیت میں ذبحِ عظیم (عظیم قربانی) کا لفظ اسماعیل کے لیے آیا ہے، نہ کہ دنبہ کے لیے۔ دنبہ کو حضرت ابراہیم نے بطور فدیہ ذبح کیا اور اسماعیل کو ایک عظیم تر قربانی کے لیے منتخب کرلیاگیا۔ یہ عظیم تر قربانی کیا تھی، وہ یہ تھی کہ اس کے بعد اسماعیل کو اپنی ماں ہاجرہ کے ساتھ مکہ کے صحرا میں آباد کردیاگیا، تاکہ اُن کے ذریعے سے ایک نئی نسل تیار ہو۔ اُس وقت یہ علاقہ صرف ایک بے آب وگیاہ صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہاں اسباب حیات میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی، اِس لیے اِس معاملے کو قرآن میں ذبحِ عظیم کا درجہ دیا گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
احسن القصص
قرآن کی سورۃ یوسف میں پیغمبر یوسف علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیاہے۔ اِس واقعے کو قرآن کا احسن القصص (12:3) بتایاگیاہے۔ احسن القصص کا لفظی مطلب ہے— بہترین قصہ (best story) مگر قرآن میں یہ بات قصہ برائے قصہ کے طورپر نہیں آئی ہے، بلکہ وہ ایک اہم سبق (lesson)کے طور پر آئی ہے۔ ہر پیغمبر کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ حق کا داعی ہوتا ہے۔ اِسی کے ساتھ وہ دعوت کا عملی نمونہ ہوتاہے۔ مختلف پیغمبر مختلف حالات میں آئے۔ اِس لحاظ سے یہ ہوا کہ مختلف پیغمبروں کے ذریعے مختلف قسم کی عملی مثالیں قائم ہوئیں۔ اُنھیں میں سے ایک مثال یا ماڈل وہ ہے جو حضرت یوسف کے ذریعے قائم ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت یوسف کنعان (فلسطین) کے علاقے میں ایک گاؤں میں پیداہوئے۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو مصر جیسے متمدن ملک کے دارالسلطنت میں پہنچا دیا، جہاں ایک بادشاہ کی حکومت قائم تھی۔ ایسا غالباً اِس لیے ہوا کہ حضرت یوسف کے ذریعے دعوت کی جو مثال قائم کرنا مطلوب تھا، وہ مصر جیسے ملک ہی میں ممکن تھی۔حضرت یوسف کے اِس واقعے کی تفصیل قرآن میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ اُس وقت کے مصری بادشاہ نے حضرت یوسف کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر انھیں ایک اعلیٰ عہدے کی پیش کش کی۔ اِس پیش کش کو حضرت یوسف نے قبول کرلیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ بادشاہ اپنے مذہبی عقیدے کے اعتبار سے مشرک تھا۔ مزید یہ کہ سیاسی تخت بھی بدستور اُس کے قبضے میں تھا۔ اِس کے باوجود حضرت یوسف نے بادشاہ کے تحت ملنے والے اِس عہدے کو قبول کرلیا۔
قرآن کے مطابق، اِس کا سبب یہ تھا کہ خزائن ارض پوری طرح حضرت یوسف کو حاصل ہورہے تھے۔ قدیم زمانے کے لحاظ سے، خزائن ارض کا مطلب تھا— سر زمین مصر کا زراعتی انتظام۔ اِس سے معلوم ہوا کہ یہ بھی ایک مطلوب پیغمبرانہ ماڈل ہے کہ داعی اگر ایسے ملک میں ہو، جہاں سیاسی اقتدار (political power) کسی اور کے ہاتھ میں ہو، لیکن یہ امکان ہو کہ اگر داعیِ حق دوسرے کے سیاسی اقتدار کو تسلیم کرلے تو اس کو کام کے مواقع بلا روک ٹوک حاصل ہوجائیںگے، تو اُس وقت حکمت کا تقاضا یہ ہوگا کہ ایسی پیش کش کو کھلے دل سے قبول کرلیاجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت یوسف کے ساتھ یہ معاملہ اُس دور میں پیش آیا، جب کہ دنیا میں ہر جگہ زراعت کا دور (agricultural age) پایا جاتا تھا۔ کام کے مواقع تمام تر زراعت کے ساتھ وابستہ تھے۔ اُس وقت خزائنِ ارض کا مطلب تھا— خزائنِ زراعت۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب ہم جمہوریت کے دور میں ہیں۔ اب سیاست کا ڈی سنٹرلائزیشن (de-centralization) ہوچکا ہے۔ اب انتظام (administration) کے سوا تمام شعبے ہر ایک کے لیے آزادانہ طورپر کھلے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں حضرت یوسف کا ماڈل موجودہ حالات میں مکمل طورپر قابلِ انطباق (applicable) ہے۔ آج اگر داعیِ حق، سیاسی حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرے تو کسی باضابطہ اعلان یا معاہدہ کے بغیر ہی تمام خزائن ارض، بہ الفاظ دیگر، تمام مواقع کار آزادانہ طورپر داعی کے زیر تصرف آجائیں گے۔ حضرت یوسف کے اِس ماڈل کو دوسرے الفاظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتاہے کہ حق کے داعی کو چاہیے کہ وہ سیاسی اقتدار کے معاملے میں غیر نزاعی طریقِ کار (non-confrontational approach) اختیار کرے۔ اِس حکمت کا یہ نتیجہ ہوگا کہ خزائنِ ارض پوری طرح اس کے استعمال میں آجائیں گے اور وہ پُرامن رہنے کی شرط پر دعوت کا کام اعلیٰ ترین معیار پر انجام دے سکے گا۔
حضرت یوسف کے واقعے کو قرآن میں احسن القصص کہاگیا ہے۔ یہ محض ایک قصے کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ ایک بہترین ماڈل ہے جس کو ایک پیغمبر کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔ حضرت یوسف کا قصہ قرآن کے علاوہ، بائبل میں بھی تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ بائبل میں بتایا گیاہے کہ بادشاہِ مصر نے جب حضرت یوسف کو مصر کے خزائن پر مقرر کیا تو اس نے کہا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Only in regard to the throne, I will be greater than you. (Genesis 37: 50)
other sourceWords of another person or source
حضرت یوسف کی مثال کی روشنی میں اگر یہ متعین کیا جائے کہ اس کے مطابق، کام کا بہترین ماڈل کیا ہے، تو وہ ماڈل یہ ہوگا کہ بادشاہِ وقت سے سیاسی ٹکراؤ نہ کرو۔ اِس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ آپ غیر سیاسی دائرے میں موجود تمام مواقع کو آزادانہ طورپر حق کے مشن کے لیے استعمال کرسکیں گے۔ اِس ماڈل کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے— سیاسی اقتدار کے معاملے میں موجودہ صورت حال کو تسلیم کرنا، اور سیاسی اقتدار کے باہر کے دائرے میں اپنے عمل کی تنظیم کرنا
Political statusquoism, non-political activism.
مقامِ محمود
قرآن کی سورۃ الاسرا میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا گیا ہے عَسٰٓى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (17:79)۔ یعنی، امید ہے کہ تمھارا رب تم کو مقامِ محمود پر کھڑا کرے۔ قرآن کی اِس آیت میں جس مقامِ محمود کا ذکر کیاگیا ہے، اس کا ایک پہلو وہ ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے۔ اِس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو آخرت سے پہلے موجودہ دنیا میں پیش آنا ہے۔ مقامِ محمود کے اِس دوسرے پہلو کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو استثنائی طورپر خود انسانی تاریخ کے مطابق، ایک مسلَّم نبوت (acknowledged prophethood) کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو پیغمبر دنیا میں آئے، ہمارے عقیدے کے اعتبار سے، وہ بلاشبہ خدا کے پیغمبر تھے۔ مگر قدیم زمانے میں موافق اسباب نہ ہونے کی وجہ سے پچھلے پیغمبر قدیم تاریخی ریکارڈ میں درج نہ ہوسکے۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں پہلی بار وہ اسباب پیدا ہوئے جب کہ آپ کو آزاد تاریخی ریکارڈ میں ایک معلوم اورمسلّم شخصیت کے اعتبار سے درج کیاگیا۔ اِس تاریخی حقیقت کو ایک مستشرق نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے— محمد تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Muhammad was born within the full light of history.
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب 570 میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ بنو اسماعیل کے ایک فرد تھے۔ پچھلے تقریباً ڈھائی ہزار سال کے دوران عرب کے ماحول میں بنو اسماعیل کے نام سے ایک پوری نسل تیار ہوچکی تھی۔جس کے افراد کی اعلیٰ صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروؤں کی نسل (a nation of heroes) کہا تھا۔ یہی وہ گروہ ہے جس میں دعوت وتربیت کا کام کرکے وہ جماعت تیار ہوئی جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول نے غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے یہ کیا کہ انھوں نے ایک نیا دور پیدا کردیا۔ اُن سے پہلے توحید کا عقیدہ صرف ایک نظریے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اصحاب رسول کی غیر معمولی کوششوں سے وہ انقلاب کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ شرک کا دور ختم ہوگیا اور توحید کا دور پوری طاقت کے ساتھ شروع ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی انقلاب کا نتیجہ تھا کہ تاریخ میں ایک نیا پراسس (process) شروع ہوگیا۔ اِس پراسس کا آغاز ساتویں صدی کے نصف اول میں عرب سے ہوا، اس کا اختتام (culmination) ایک ہزار سال کے بعد یورپ میں ہوا۔اس انقلاب کے بہت سے پہلو تھے۔ مثلاً اِس انقلاب نے اسلام کے عقیدے کو سائنسی حقیقت (scientific reality)کے درجے تک پہنچا دیا۔ اس نے مذہبی آزادی کا دروازہ کھولا۔ اس کے بعد دعوت وتبلیغ کے راستے کی تمام رکاوٹیں ختم ہوگئیں۔ اس کے نتیجے میں جدید کمیونکیشن وجود میں آیا، جس کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچایا جاسکے۔ آفاق وانفس میں سائنس کی دریافتوں سے یہ ممکن ہوگیاکہ اعلیٰ ترین علمی معیار پر حق کی تبیین کی جاسکے (41:53)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آیتِ اسرا
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور، یعنی ہجرت (622 ء) سے ایک سال پہلے ایک واقعہ پیش آیا، جس کو قرآن میں اسراکہاگیا ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِى بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا (17:1)۔ یعنی، پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ اِس آیت میں اسرا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسراکا لفظی مطلب ہے— رات کا سفر (night journey)۔ اللہ تعالیٰ کے خصوصی انتظام کے تحت، پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ رات کے ایک لمحے میںآپ نے مکہ سے یروشلم کا سفر کیا، اور پھر آپ اسی رات کو یروشلم (فلسطین) سے مکہ واپس آئے۔ اِس سفر کی مجموعی مسافت تقریباً 25 سو کلو میٹر تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سفر کا مقصد قرآن میں اِن الفاظ میں بتایاگیا ہے لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا۔ یعنی، اللہ تعالیٰ کی نشانیاں پیغمبر کو دکھانا۔ یہ نشانیاں (آیات اللہ) کیا تھیں، وہ یروشلم کی عمارتیں یا وہاں کے درخت اور چشمے نہ تھے۔ وہ نشانی دراصل فطرت میں چھپا ہوا وہ امکا ن تھا جس کو تیزرفتار سفر اور تیز رفتار پیغام رسانی کہا جاتا ہے، یعنی آنے والا دورِ مواصلات (age of communication)۔ اِس تجربے کے ذریعے پیغمبر اسلام کو بتایا گیا کہ انسان کو وہ ذرائع حاصل ہوجائیں گے جن کی مدد سے عالمی سطح پر خداکے آخری دین کی اشاعت ممکن ہوجائے، یعنی وہی واقعہ جس کو حدیث میں ’ادخال الکلمۃ فى کل البیوت‘ (ہر گھر میں کلمۂ اسلام کا داخلہ) کہا گیاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اسرا کے واقعے کی صورت میں جو تجربہ کرایا گیا، وہ مستقبل کے بارے میں ایک بشارت تھی۔ اِس بشارت کا ذکر احادیث میں مختلف الفاظ میں آیاہے۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام نے فرمایا وَلَيُتِمَّنَّ اللهُ هٰذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ (صحیح البخاري، حدیث نمبر 3852)۔ یعنی، اللہ ضرور اِس امر (دین ) کو تکمیل تک پہنچائے گا، یہاںتک کہ ایک سوار صنعا سے حضرت موت تک جائے گااور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا خوف نہ ہوگا۔اِس سلسلے میں ایک اور روایت ان الفاظ میں آئی ہے لَيَبْلُغَنَّ هٰذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی، خدا کی قسم، یہ امر (دین) ضرور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں۔اِسی طرح ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ كَلِمَةَ الإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی، زمین کی پشت پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیںبچے گا، جہاں اللہ تعالیٰ اسلام کے کلمہ کو داخل نہ کردے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی سورۃ الاسرا میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو تیز رفتار کمیونکیشن کا تجربہ کرایاگیا تھا۔ مذکورہ احادیث میں پیشین گوئی کے انداز میں بتایا گیا ہے کہ یہ امکان ضرور مستقبل میں واقعہ بنے گا اور خدا کا دین جو عرب میں شروع ہوا، وہ گلوبل کمیونکیشن کے ذریعے سارے عالم میں پہنچ جائے گا، یہاں تک کہ کوئی بھی انسان اُس سے بے خبر نہ رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اظہارِ دین
قرآن میں بتایاگیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد ’اظہارِ دین‘ تھا۔ اظہارِ دین کی آیت قرآن میں تین بار آئی ہے (9:33; 48:28; 61:9)۔ اِس سلسلے میں قرآن کی سورۃ التوبہ کے الفاظ یہ ہیں هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (9:33)۔ یعنی، اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو سارے دین پر غالب کردے۔اِس آیت کی تفسیر کے تحت مفسر القرطبی نے لکھا ہے کہ— اظہارِ دین کا مطلب ہے حجت اور دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنا — أَيْ بِالْحُجَّةِ وَالْبَرَاهِينِ (تفسیر القرطبی، جلد8، صفحہ 121)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اظہارِ دین کے جس واقعے کا قرآن میں ذکر ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خو د زمانۂ رسول میں وہ پوری طرح واقع ہوجائے گا۔ اِس آیت میں ایک تاریخی تبدیلی کا ذکر ہے، اور تاریخ میںکوئی بڑی تبدیلی اچانک یا محدود مدت میں نہیں آتی، ایسی تبدیلی ہمیشہ لمبی مدت کے پراسس (process) کے بعد آتی ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول کی جدوجہد سے ساتویں صدی کے نصف اول میں ایک انقلابی عمل شروع ہوا۔ یہ عمل مختلف حالتوں سے گزرتا ہوا تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا اور پھر اس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے طورپر وہ واقعہ اپنی کامل صورت میں پیش آیا جس کو قرآن میں ’لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حجت یا برہان کیا ہے۔ یہ ایک دو طرفہ عمل ہے، یعنی ایک طرف حجت کو پیش کرنے والا ہوتا ہے اور دوسری طرف حجت کو سننے والا۔ اِس لیے حجت کو مخاطب کے ذہنی تقاضے کے مطابق ہونا چاہیے۔ علمی استدلال دراصل اِس بات کا نام ہے کہ مخاطب کے علمی مسلّمہ پر اپنی بات کو ثابت کیا جائے۔ ساتویں صدی کے نصف اول میں جب کہ قرآن اترا، اُس وقت دنیا روایتی دور سے گزر رہی تھی۔ اُس وقت صرف روایتی استدلال ہی ممکن تھا۔ مگر قرآن ایک ابدی کتاب کی حیثیت سے اتارا گیا ہے، ا س لیے قرآن کے مذکورہ الفاظ میں یہ بات شامل ہے کہ نہ صرف روایتی دور میں، بلکہ بعد کو ظہور میں آنے والے سائنسی معیار کے مطابق بھی قرآن مسلّمہ طورپر اپنی ایک ثابت شدہ کلام کی حیثیت کو برقرار رکھے گا۔
اِس مصلحت کا تقاضا تھا کہ انسانی علم کا ارتقا ایسے نہج پر ہو جو قرآن کی صداقت کو بعد کے دورمیں بھی یکساں طورپر برقرار رکھے۔ یہی وہ مطلوب ہے جو بعد کے سائنسی دور میں حاصل ہوا۔ سائنس کی دریافتوں نے صرف یہ کیا کہ قرآن کے نظریات کو دوبارہ سائنس کے معیار پر ایک مسلّمہ معیار کی حیثیت دے دی۔ مستقبل میں پیش آنے والا یہی موافقِ قرآن واقعہ ہے جس کی پیشگی خبر ان الفاظ میں دی گئی تھی سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں آفاق وانفس کی جن نشانیوں کا ذکر ہے، اُس سے مراد وہی چیز ہے جس کو جدید سائنس کی دریافتیں (scientific discoveries)کہا جاتا ہے۔ یہ دریافت دراصل فطرت میں قائم شدہ خدائی قانون کی دریافتیں ہیں۔ چوں کہ قرآن کو نازل کرنے والا جو خدا ہے، اُسی نے فطرت کے اِن قوانین کو بھی قائم کیا ہے، اِس لیے دونوں کے درمیان کامل مطابقت پائی جاتی ہے۔ اِس مطابقت نے حاملینِ قرآن کو موجودہ زمانے میں ایک یہ موقع دیا ہے کہ وہ قرآن کی صداقتوں کو سائنس کے مسلّمات کی روشنی میں ثابت شدہ بنا سکیں۔
قرآن میں اظہارِ دین کے جس واقعے کا ذکر ہے، اُس سے مراد یہ نہیں ہے کہ خود زمانۂ نزول میں یہ واقعہ عملاً پیش آجائے گا، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے جو انقلاب آئے گا، وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے پراسس کو شروع کرے گا۔ یہ پراسس عرب میں شروع ہوا اور بتدریج ارتقا کرتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی عیسوی میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اِس تکمیل کے ذریعے نہ صرف واقعاتِ فطرت ظہور میں آئے جنھوں نے اسلامی عقائد کے اثبات کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کی، بلکہ اِس کے ذریعے دوسرے وہ اجتماعی واقعات ظہور میں آئے جو اسلامی دعوت کے عین موافق تھے۔ مثلاً آزادی، جمہوریت اور مذہب کے اعتبار سے کھلاپن (openness) ، وغیرہ۔
قرآن کی اِس آیت میں اظہار سے مراد سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد فکری غلبہ اور ایسے حالات کا پیدا ہونا ہے جس کے بعد قرآن کے مشن کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے، ہر قسم کے مواقع اس کے لیے قابلِ استعمال ہوجائیں— اکیسویں صدی عیسوی میں، قرآن کی یہ پیشین گوئی عملاً پوری طرح وقوع میں آچکی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اکیسویں صدی عیسوی اظہارِ دین کی صدی ہے۔ اسلامی انقلاب کے ذریعے جو تاریخی عمل ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا، وہ اکیسویں صدی میں اپنے آخری نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا ہے۔ اب اہلِ اسلام کا واحد فریضہ یہ ہے کہ وہ تمام دوسری چیزوں کو ثانوی (secondary)بنائیں۔ وہ دعوت الی اللہ، بہ الفاظ دیگر دورِ جدید کی نسبت سے قرآنی تعلیمات کی اشاعتِ عام کریں، یہاں تک کہ ہر عورت اور ہر مرد اس سے باخبر ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لوحِ محفوظ
قرآن کی سورۃ البروج میں یہ آیت آئی ہے بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ فِى لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (85:21-22) یعنی وہ ایک باعظمت قرآن ہے، لوح محفوظ میں۔ اِس آیت میں لوحِ محفوظ (well-guarded tablet) کا مطلب کیا ہے۔ اِس سلسلے میں کوئی مستند حدیث موجود نہیں۔ تاہم عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ملاءِ اعلیٰ میں ایک محفوظ لوح ہے اور اِس لوح پر قرآن کا متن لکھا ہوا ہے۔ یہ بات اصولاً درست ہے، لیکن لوح سے مراد معروف لوح نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد ربانی لوح ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل یہ ہے کہ پورا عالمِ موجودات مکمل طورپر اللہ کے امر کے تحت ہے۔ شمس وقمر اور د وسرے ستاروں اور سیاروں کے بارے میں قرآن میں بتایا گیاہے کہ اُن کا ایک مقرر کورس ہے، اور وہ ادنیٰ انحراف کے بغیر اِس مقرر کورس پر چلتے ہیں (36:38)۔ اِسی معاملے کو علمی طورپر اِس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ عالمِ مادی، فطرت کے قانون کی پابند ہے، اور عالمِ حیوانات اپنی جبلت (instinct) کی پابند۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کا معاملہ بظاہر مختلف ہے، کیوں کہ انسان کو اپنے قول وعمل کی آزادی دی گئی ہے۔ مگر اِس آزادی کے باوجود انسانی تاریخ پر اللہ نے اپنا کنٹرول قائم کررکھا ہے۔ تاریخ پر اِسی کنٹرول کی ایک صورت وہ ہے جس کو قرآن کے حوالے سے اِس طرح بتایاگیا ہے کہ قرآن ایک لوح محفوظ میں ہے۔ لوحِ محفوظ کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں ہے، مطالعہ کے ذریعے اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اللہ تعالیٰ نے قرآن سے پہلے اپنے نبیوں کے ذریعے بہت سی کتابیں بھیجیں جو انسان کے لیے معتبر ہدایت نامہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ مگر پچھلی کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ اب آخری پیغمبر بھیج دیاجائے تو اِس فیصلے کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ آخری پیغمبر کے ذریعے آئی ہوئی کتاب (قرآن) کی مستقل حفاظت کا انتظام کردیا جائے— لوح محفوظ کے الفاظ میں قرآن کے اِسی مخصوص حفاظتی انتظام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کی تدبیر یہ کی گئی کہ اولاً قرآن کا معیاری متن (standard version) علمِ الٰہی یا بہ الفاظِ دیگر، ملاءِ اعلیٰ میں محفوظ کردیاگیا اور پھر تاریخ کے لیے مقدر کردیا گیا کہ وہ اِس معاملے میں اِسی رخ پر سفر کرے۔ چنانچہ عملاً یہی ہوا۔ اولاً یہ ہوا کہ ساتویں صدی کے نصف اول میں قرآن کو حافظے سے کتابت کی صورت میں محفوظ کیاگیا۔ ہزاروں لوگوں نے نسل درنسل یہ کیا کہ قرآن کو نہ صرف یاد کرکے اپنے حافظے میں ریکارڈ کرلیا، بلکہ اِسی کے ساتھ وہ قرآن کے کتابت شدہ نسخے برابر تیار کرتے رہے۔ اِس طرح وہ ایک نسل سے دوسری نسل تک مکتوب قرآن کو پہنچاتے رہے۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کی طرف قرآن میں اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیا ہے عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (96:4)۔یعنی، جس نے علم سکھایا قلم سے۔ تعلیم بالقلم کا یہ عمل اِس طرح مسلسل تقریباً ہزار سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ انسانوں کو یہ توفیق دی کہ وہ طباعت کے آلات ایجاد کریں۔ اِس فن کے ارتقا میں بہت سے انسانوں نے کام کیا۔ آخر کار جرمن گولڈ سمتھ جوہانس گوٹن برگ (وفات 1468) اِس میں کامیاب ہوگیا کہ وہ ایک قابلِ عمل طباعتی آلہ دریافت کرے۔ اِس دریافت کے بعد تاریخ میں ایک پرنٹنگ انقلاب (printing revolution) آیا جو تیزی سے ترقی کرتے ہوئے موجودہ اعلیٰ طباعتی مشین (printing press) تک پہنچا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
لوح محفوظ کے الفاظ میں اِسی تاریخ کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔ قرآن کا نزول 610 عیسوی میں شروع ہوا۔ اس کی تکیل تقریباً 23 سال میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق سے استثنائی طورپر یہ واقعہ پیش آیا کہ خداکے نزدیک، قرآن کا جو معیاری متن (standard version) تھا، وہ ادنی تغیر کے بغیر پہلے انسانی حافظے میں ریکارڈ ہوا، پھر ادنیٰ تغیر کے بغیر کتابت کے ذریعے اس کی جلدیں بنائی گئیں، پھر تاریخ میں ایک پراسس جاری ہوا جس کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں یہ ممکن ہوگیا کہ قرآن کا ایک نسخہ نہایت درست طورپر تیار کیا جائے اور پھر اس کی بلین اور بلین کاپیاں تیار کرلی جائیں۔ آج ہر گھر میں اور ہر مسجد میں اور ہر مدرسہ اور ہر لائبریری میں قرآن کے نہایت صحیح مطبوعہ نسخے موجود ہیں۔ اِس طرح خدا کی تقدیر اِس بات کی ضامن بن گئی کہ قرآن کسی بھی قسم کے تغیر اور تبدل کے بغیر ہر انسان کے لیے قابلِ دستیاب ہوجائے۔
ادخالِ کلمہ
سیکولر مبصرین عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا سفر اس کے پیغمبر کے جلد ہی بعد ٹوٹ گیا، بعد کی تاریخ میں اسلام کا تسلسل باقی نہ رہا۔ مگر یہ رائے صرف سرسری مطالعے کا نتیجہ ہے۔ اسلام خدا کا دین ہے۔ اسلام کی تاریخ خدائی منصوبے کے تحت مسلسل سفر کررہی ہے۔ غلط فہمی صرف اِس لیے ہوتی ہے کہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ تاریخ کا ہر سفر ناموافق حالات میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا سفر انسانی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے جاری ہے، نہ کہ انسانی آزادی کو منسوخ کرکے۔ انسانی تاریخ میں اسلام کے سفر کے تین مرحلے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Land expansion — consolidation — overseas expansion
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں اپنے مشن کا آغاز 610 عیسوی میں کیا۔ اِس کے بعد دینِ توحید کی ایک نئی تاریخ بنی۔ اِس تاریخ کا خلاصہ یہ تھا کہ — انسانی آزادی کو منسوخ کیے بغیر دینِ توحید کی تاریخ بنانا اور اس کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچانا۔ اس تاریخ پر اب تقریباً ڈیڑھ ہزار سال گزر چکے ہیں۔ یہ تاریخ مسلسل طورپر اپنی منزل کی طرف سفر کررہی ہے۔ اِس مدت کے دوران بظاہر جو اتار چڑھاؤ کے واقعات نظر آتے ہیں، وہ انسانی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے تاریخ کو مینیج کرنے کی مثالیں ہیں۔
قرآن کی سورۃ الانعام میں بتایا گیا ہے کہ— یہ قرآن اِس لیے اتارا گیا ہے کہ تم اے پیغمبر، آگاہ کردو اہلِ مکہ کو اور مکہ کے اطراف کے لوگوں کو (6:92)۔ قرآن کی اِس آیت میں، مکہ اور اطرافِ مکہ سے مراد بَرّی حصۂ ارض ہے، جہاں تک اُس زمانے کے درمیان حق کا پہنچنا بہ آسانی ممکن تھا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زمین کے نقشہ پر نظر ڈالیں تو عرب کے ایک طرف بحرِ متوسط (Mediterranean Sea) ہوگا، جس کے دوسری طرف یورپ کا براعظم واقع ہے۔ اِسی طرح اگر آپ عرب سے افریقہ کی طرف چلیں تو اس کی آخری سرحد پر اٹلانٹک سمندر (Atlantic Ocean) ہوگا، جس کے دوسری طرف امریکا کا براعظم واقع ہے۔ اسی طرح اگر آپ عرب سے بحرِ ہند (Indian Ocean) کی طرف چلیں تو اس کے دوسری طرف آسٹریلیا کا براعظم دکھائی دے گا۔
عقبہ بن نافع (وفات 683 ء) ایک تابعی تھے۔ وہ عرب سے ایک دستہ لے کر نکلے اور افریقہ میں اسلام کی اشاعت کرتے ہوئے اس کے مغربی ساحل تک پہنچ گئے۔ یہاں تاحدِ نظر اٹلانٹک سمندر (Atlantic Ocean) پھیلا ہوا تھا۔ وہ اُس وقت گھوڑے پر سوار تھے ۔انھوں نے اپنا گھوڑا سمندر کے کنارے کھڑا کیا اور کہا اللَّهُمَّ إِنِّي لَوْ أَعْلَمُ وَرَاءَ هٰذَا الْبَحْرِ بَلَدًا لَخُضْتُهُ إِلَيْهِ، حَتَّى لَا يُعْبَدَ أَحَدٌ دُونَكَ(الکامل فی التاریخ لابن الاثیر، جلد 3، صفحہ 206)۔ یعنی، خدایا، اگر میں جانتا کہ اِس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا، یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عقبہ بن نافع کا یہ واقعہ علامتی طورپر یہ بتاتا ہے کہ دورِ اول میں اسلام کی دعوتی توسیع زمین کے برّی حصے میں برابر ہوتی رہی، لیکن وہ سمندر پار کے ملکوں تک نہ پہنچ سکی، کیوں کہ سمندری سفر کے لیے اُس زمانے میں قابلِ اعتماد اسباب موجود نہ تھے۔ اِس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ اِس کا ایک پہلو استحکام (consolidation) تھا۔ استحکام کے بغیر دعوتی توسیع عملاً غیر موثر ہوجاتی، حتی کہ قرآن کی حفاظت بھی ممکن نہ ہوتی۔ اِس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے عالمی حالات پیدا کیے کہ ایشیا اور افریقہ میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہوگیا۔ یہ مسلم ایمپائر اِس بات کا ضامن تھا کہ خدا کا آخری دین پوری طرح محفوظ ہوجائے اور اس کی اشاعت مسلسل جاری رہے۔
مذکورہ استحکام کے دورمیں اس کے زیر اثر ایک اور تاریخی پراسس (historical process) شروع ہوا۔ اِس کا مقصد تھا فطرت (nature) میں چھپے ہوئے امکانات کو وقوع میں لانا۔ یہ عمل تدریج کے ساتھ تاریخ میں جاری رہا۔ اِس عمل کا آغاز ابتداء ً مسلمانوں نے کیا۔ اس کے بعد یورپ میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر کار وہ چیزوجود میں آگئی جس کو کمیونکیشن کا دور کہاجاتا ہے۔ اِس مواصلاتی انقلاب کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کی توسیع زمین کے برّی حصے تک محدود نہ رہے، بلکہ وہ سمندر پار کے ملکوں تک بہ آسانی پہنچ جائے۔
اسلامی دعوت کی عالمی توسیع اول دن سے اسلام کا نشانہ تھی (25:1) ۔ مگر اسلام کی یہ عالمی توسیع، اسباب کی اِس دنیا میں ضروری وسائل کے بغیر ممکن نہ تھی۔ جدید مواصلاتی انقلاب نے اِس کو پوری طرح ممکن بنا دیا۔ مستقبل میں پیش آنے والا یہی واقعہ تھا جس کی خبر پیشگی طورپر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن الفاظ میں دے دی تھی لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ كَلِمَةَ الإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی، زمین کی پشت پر کوئی گھر یا خیمہ ایسا نہیں بچے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام انسان جو اِس زمین پر پیدا ہوئے، اُن کو موت سے پہلے یہ بتادیا جائے کہ خدا کا تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) ان کے بارے میں کیا ہے۔ انسان کی پوری تاریخ میں اس کو مسلسل طورپر جاری رہنا ہے۔ آغاز کے پہلے مرحلے میں اس کی توسیع زمین کے بری حصہ (ایشیا اور افریقہ) میں ہوتی رہی۔ اس کے بعد استحکام کے ساتھ ایسے مادی اسباب پیدا ہوئے جس کے تحت مواصلاتی ذرائع میں ایسا انقلاب آیا جس کے تحت یہ ممکن ہوگیا کہ اسلامی دعوت کی عالمی اشاعت کا کام کیا جاسکے۔ موجودہ زمانے میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اور دوسرے ذرائع کی بنا پر اسلامی دعوت کے اِس عالمی نشانے کو پورا کرنا آخری حد تک ممکن ہوگیا ہے۔ اسی کے ساتھ موجودہ زمانے میں مذہبی آزادی (religious freedom)بھی مکمل طورپر حاصل ہوچکی ہے۔ اب امتِ محمدی سے وابستہ افراد کی یہ لازمی ذمے داری ہے کہ وہ اسلام کے دعوتی مشن کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچائیں، یہاں تک کہ کرۂ ارض پر بسنے والا کوئی مرد یا عورت خدا کے اِس پیغام سے بے خبر نہ رہے۔
انسانی تاریخ کی تعبیر
(Interpretation of Human History)
تاریخ کیا ہے، تاریخ گزرے ہوئے ماضی کی سرگزشت کا دوسرا نام ہے۔ تاریخ کے موضوع پر جو کتابیں لکھی جاتی ہیں، وہ عام طور پر گزرے ہوئے واقعات کا ریکارڈ ہوتی ہیں۔ لیکن تاریخ کا ایک ضمنی موضوع وہ ہے جس کو فلسفہ تاریخ (philosophy of history) یا تعبیر تاریخ (interpretation of history) کہا جاتا ہے۔ اِس موضوع کا مقصد یہ ہے کہ تاریخ انسانی کے واقعات کی ایک ایسی توجیہ تلاش کی جائے جس میں مختلف واقعات کے درمیان ایک قابلِ فہم ربط دریافت کیاجاسکے۔ تاریخ کے پہلے موضوع (تاریخ نگاری) پر بڑی تعداد میں کتابیں موجود ہیں، لیکن جہاں تک تعبیر تاریخ کے موضوع کا تعلق ہے، اس موضوع پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کو تاریخ کی قابلِ فہم توجیہ قرار دیا جاسکے۔
اِس کا سبب ڈاکٹر الکسس کیرل نے اپنی کتاب ’’انسان نامعلوم‘‘ (Man the Unknown) میں درست طورپر یہ بتایا ہے کہ تعبیر تاریخ کا موضوع براہِ راست طور پر انسان کی آزادی سے تعلق رکھتاہے۔ انسان قابلِ پیشین گوئی نہیں، اِس لیے اس کے عمل کی کوئی جامع توجیہ بھی ممکن نہیں۔ ہرانسان آزاد ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے، اِس لیے انسانی تاریخ کی مجموعی تعبیر سخت مشکل کام ہے۔
other sourceWords of another person or source
اصل یہ ہے کہ انسان کی تاریخ دو متضاد تقاضوں کے درمیان سفر کرتی ہے۔ اِن دونوں تقاضوں کو آزادی اور جبر (freedom and determinism) کہاجاسکتا ہے۔ میرے علم کے مطابق، کوئی مورخ اِن دو متضاد تقاضوں کے درمیان ربط قائم کرنے کا کوئی اصول دریافت نہ کرسکا، اِس لیے وہ انسانی تاریخ کی کوئی کامیاب تعبیر بھی پیش نہ کرسکا۔
راقم الحروف نے اِس موضوع پر کافی غور وفکر کیا اور تعبیر تاریخ کا اصول دریافت کرنے کی کوشش کی۔ آخر کار مجھے قرآن کی ایک آیت میں یہ اصول دریافت ہوا۔ وہ آیت یہ ہے وَعَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ (16:9)۔ یعنی، اللہ کے اوپر ہے (انسانیت کو) صراطِ مستقیم پر قائم رکھنا، اور کچھ راستے منحرف راستے ہیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے منصوبۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو مینج (manage) کررہا ہے۔ خدا، انسان کو آزادی بھی دیے ہوئے ہے اور اِسی کے ساتھ وہ اِس کی نگرانی بھی کررہا ہے کہ انسانی قافلہ بھٹک کر صراطِ مستقیم سے بہت دور نہ چلا جائے۔ تاریخ کے بارے میں اِس خدائی اصول کو ایک لفظ میںاِس طرح بیان کیا جاسکتاہے کہ— انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کی تنظیم کرنا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
It is to manage history while maintaining human freedom.
تاریخ اور تعبیر تاریخ
تاریخ سادہ طورپر واقعہ نگاری (narration of events) کا نام ہے۔ تعبیر تاریخ (interpretation of history)کا تعلق فلسفۂ تاریخ سے ہے، یعنی اُن قوانین کو دریافت کرنا جو تاریخ کے عمل میں کام کررہے ہیں۔ اِس سلسلے میں مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں، مگر یہ تمام نظریات محض انسانی قیاس پر مبنی ہیں۔ تاریخ کی صحیح تعبیر وہ ہے جو انسان کے بارے میں خالق کے نقشۂ تخلیق (creation plan)کے مطابق ہو۔
قدیم زمانے میں بادشاہ کو تاریخ کا مرکزی کردار سمجھا جاتا تھا۔ اِس لیے تاریخ عملاً بادشاہوں کی تاریخ بن گئی۔ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کے بعد دنیا میں جمہوریت کا دور آیا۔ اب تاریخ کا مرکزی کردار فرد کے بجائے سوسائٹی کو سمجھا جانے لگا۔ اب سماجی افکار کی روشنی میں تاریخ لکھی جانے لگی۔ اِس میں ایک نمایاں نام جرمن مفکر کارل مارکس (وفات1883) کا ہے۔ مارکس نے تاریخ کا ایک نیا تصور پیش کیا جس کو تاریخی مادیت کہا جاتا ہے۔ یہ تصورِ تاریخ بنیادی طورپر یہ تھا کہ انسان کا شعور تاریخ کی صورت گری نہیں کرتا، بلکہ مادی حالات تاریخ کی صورت گری کرتے ہیں
The mode of production in material life determines the general character of the social, political, and spiritual process of human life.
other sourceWords of another person or source
تاریخ کا ایک تصور وہ ہے جو نیشن (nation) پر مبنی ہے۔ کسی نیشن کی مختلف سرگرمیوں کے ریکارڈ کو اس کی تاریخ سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً انڈین نیشن کی تاریخ، جرمن نیشن کی تاریخ، وغیرہ۔
ایک اور تاریخی نظریہ وہ ہے جس کو برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (وفات1975) نے پیش کیا۔ اُس نے اِس موضوع پر ایک مکمل کتاب 12 جلدوں میں لکھی جس کا نام یہ ہے
other sourceWords of another person or source
A Study of History
ٹائن بی نے تاریخ کا یہ تصور پیش کیا کہ تاریخ، تہذیب کے ارتقائی مراحل کے ساتھ سفر کرتی ہے۔ تہذیبوں کے معمار ہی تاریخ کے معمار ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک زمانے میں رومی تہذیب نے تاریخ سازی کا رول ادا کیا۔ اِس کے بعد مسلم تہذیب، تاریخ ساز تہذیب کی حیثیت سے ابھری۔ اس کے بعد برٹش تہذیب کو تاریخ سازی کا یہ مقام ملا، وغیرہ۔
other sourceWords of another person or source
دوسرا تصورِ تاریخ وہ ہے جس کو مذہبی تاریخ کہا جاتاہے۔ مذہبی تصور تاریخ کو علمی اعتبار سے، کوئی مستند درجہ نہیں ملا، حتی کہ موجودہ زمانے میں اس کو بالکل ناقابلِ حوالہ سمجھ لیا گیا۔انسائکلو پیڈیا برٹینکا کے مقالہ نگار (Patrick Lancaster Gardinar)نے اپنے مقالہ فلسفۂ تاریخ (Philosophy of History) کے تحت لکھاہے کہ— مذہبی اور مابعد الطبیعی قیاسات کی روشنی میں، انسانی تقدیر کے معاملات کی تعبیر کا دور، جدید مورخین کے نزدیک، اب ختم ہوچکا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The age of religious and metaphysical conjectures concerning the destiny of human affairs had, in their opinion, come to a close (EB. 8/962, 1974)
other sourceWords of another person or source
یہ بات بلا شبہ بے بنیاد ہے۔ یہ بات اُسی طرح غیر علمی ہے جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کا دور ختم ہوگیا (God is dead)، یا یہ کہ پیغمبر کی وحی صرف ایک شاعرانہ تجربہ (poetic experience) تھی، یا یہ کہ مذہب کی کوئی بنیاد نہیں، وہ صرف ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon) ہے، وغیرہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کا منصوبۂ تخلیق
اللہ نے ایک معیاری دنیا بنائی۔ یہ دنیا ہر اعتبار سے ایک پرفکٹ دنیا تھی۔ اللہ نے یہ مقدر کیا کہ اِس معیاری دنیا میں ایسے افراد بسائے جائیںجو ہر اعتبار سے معیاری انسان ہوں۔ اِس مقصد کے لیے اللہ نے انسان کو پیدا کرکے اس کو سیارہ ارض پر آباد کیا۔ اس نے انسان کو مکمل آزادی عطا کی۔ موجودہ دنیا اِس منصوبے کے لیے ایک سلیکشن گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ تاریخ کے خاتمے پر یہ ہوگا کہ آزادی کا غلط استعمال کرنے والے افراد رد کردیے جائیں گے اور جن افراد نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا، اُن کو منتخب کرکے اُنھیں جنت میں آباد کردیا جائے گا۔ جنت کے تصور کو ملحد مفکرین انسانی تمناؤں کی خوب صورت نظریہ سازی (beautiful idealization of human wishes) کا نام دیتے ہیں۔ مگر زیادہ صحیح یہ ہے کہ جنت کے تصور کو انسانی تاریخ کی خوب صورت تعبیر (beautiful interpretation of human history) کہا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک پیچیدہ منصوبہ ہے۔ اِس کا ایک جُز یہ ہے کہ انسان کی آزادی پوری طرح برقرار رہے۔ اِس کا دوسرا جز یہ ہے کہ اللہ اس منصوبے کی تکمیل تک اپنے علم کے مطابق، اس کی تنظیم کرتا رہے۔ اِس طرح یہ دو طرفہ تقاضے کو منیج کرنے کا ایک معاملہ ہے۔ تاریخ کی کوئی قابلِ فہم تعبیر صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ تاریخ کو اِس دوطرفہ تقاضے کی روشنی میں دیکھا جائے ۔ تعبیر تاریخ کا یہی درست اصول ہے۔ اِس اصول کو نظر انداز کرنے کے بعد تاریخ کی تعبیر کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیں۔
انسانی تاریخ کی تعبیر کا کام انسان کرتاہے، مگر انسان کا خالق خود انسان نہیں، انسان کا خالق اللہ ہے۔ اِس لیے تاریخ کی تعبیر کا رہنما اصول (guiding principle) صرف یہ ہوسکتاہے کہ مورخ سب سے پہلے خالق کے منصوبۂ تخلیق (creation plan of the Creator) کو معلوم کرے۔ یہی اِس معاملے میں ماسٹر پرنسپل (master principle)ہے۔ اِس ماسٹر پرنسپل کو ذہن میں رکھے بغیر کوئی شخص تاریخ کی درست تعبیر نہیں کرسکتا— زیر نظر مقالے میں اِسی اصول کی روشنی میں تاریخ کی ایک قابلِ فہم تعبیر تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مطلوب افراد کا انتخاب
خدا کے اِس تخلیقی منصوبہ کا ذکر قرآن کی سورۃ البقرہ میں آیا ہے۔ اِن آیات کا ترجمہ یہ ہے ’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میںایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھادیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اِن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے‘‘۔ (2:30-32)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
فرشتوں کو یہ معلوم تھا کہ تمام موجودات مکمل طورپر خدا کے تابع فرمان ہیں، مگر انسان کو آزادی دے کر زمین پر بسایا جارہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ لوگ آزادی کا غلط استعمال کریں گے اور وہ زمین میں فساد اور خوں ریزی برپا کریں گے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرہ کے ذریعے فرشتوں کو بتایا کہ اگر چہ انسانوں کی بڑی تعداد آزادی کا غلط استعمال کرکے مفسد بن جائے گی، لیکن انھیں میں سے ایسے افراد بھی نکلیں گے جو صالح افراد ہوں گے۔ آدم نے فرشتوں کے سامنے انھیں صالح افراد کا تعارف کرایا اور پھر فرشتے مطمئن ہوگئے۔
اصل یہ ہے کہ فرشتے پورے انسانی مجموعے کو دیکھ کر اپنی رائے بنا رہے تھے۔ اللہ نے ایک مظاہرہ کے ذریعے واضح کیا کہ خدائی تخلیق کا نشانہ مجموعہ نہیں ہے، بلکہ افراد ہیں۔ مجموعے کی سطح پر اگرچہ بگاڑ آئے گا، لیکن افراد کی سطح پر ہمیشہ اچھے افراد وجود میں آتے رہیں گے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا ایک سلیکشن گراؤنڈ (selection ground) ہے، یعنی پورے مجموعے میں سے مطلوب افراد کا انتخاب کرنا۔ تخلیق کا نشانہ یہ نہیں ہے کہ انسان اِسی سیارۂ ارض پر معیاری نظام بنائے، بلکہ تخلیق کا نشانہ یہ ہے کہ ہر دور اور ہر نسل میں سے اُن افراد کو منتخب کیا جائے جو کامل آزادی کے باوجود اپنے آپ کو بطور خود ضابطۂ خداوندی کا پابند بنا لیں۔
تاریخ کے چند اوراق
خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسانی تاریخ کے سفر کو چند بڑے ادوار میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ یہ ادوار یا یہ تاریخی مراحل حسب ذیل ہیں
1 ۔ پہلا دور نبیوں کے ذریعے اعلان کا دور ہے۔ یہ دور حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد تک پھیلا ہوا ہے۔ اِس دور میں بہت سے پیغمبر آئے، لیکن اُن کا مشن اعلان کے مرحلے تک محدود رہا، وہ انقلاب کے مرحلے تک نہیں پہنچا۔
2 ۔ دوسرا مرحلہ وہ ہے جو حضرت اسماعیل بن ابراہیم سے شروع ہوتاہے۔ اِس مرحلے میں ایک ایسی امت تیار ہوئی جو خدا کی کتاب کی حامل امت بن سکے۔
3 ۔ حاملِ کتاب امت کے وجود میں آنے کے بعد جو اہم واقعہ ہوا، وہ یہ کہ قرآن خدا کی ہدایت کے مستند متن (authentic text) کی حیثیت سے محفوظ ہوگیا۔
4 ۔ اصحاب رسول کے ذریعے تاریخ میں جو نیا دور آیا، اُس کا ایک اہم جُز آزادیِ رائے (freedom of thought) تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اِس کا آغاز ایک پراسس (process) کی شکل میں ہوا۔ ہزاروں سال بعد مغربی تہذیب کی صورت میں وہ اپنے کمال کو پہنچا۔
5 ۔ اس تاریخی عمل میں مغربی تہذیب کا ایک سپورٹنگ رول ہے۔ مغربی تہذیب کی حیثیت اِس تاریخی سفر میں ایک سیکولر مؤید (secular supporter) کی ہے۔
6 ۔ دورِ جدید میں سائنس کی حیثیت اِ س تاریخی سفر میں ایک مؤید عنصر (supportive element) کی ہے۔ جدید سائنس نے نیچر کی انفولڈنگ کرکے اُن خدائی نشانیوں کو کھولا جن کو قرآن میں آیات (signs) کہاگیا ہے (41:53)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
7 ۔ جدید دور کو ایج آف کمیونکیشن کہاجاتا ہے۔ یہ ایج دراصل موافقِ دعوت ایج ہے۔ گلوبل کمیونکیشن نے پہلی بار گلوبل دعوہ کو ممکن بنادیا ہے۔
8 ۔ پچھلی ہزار سالہ تاریخ میں پہلی بار دعوت الی اللہ کا ایک نیا امکان پیداہوا ہے۔ اس امکان کو جو لوگ استعمال کریں گے، اُن کو حدیث میں اخوانِ رسول کہاگیا ہے(صحیح مسلم، حدیث نمبر 249)۔اخوانِ رسول کا لفظ فضیلت کو نہیں، بلکہ رول کو بتاتا ہے۔ اصحابِ رسول وہ لوگ تھے جنھوں نے ساتویں صدی میں اُس وقت کے امکانات کو استعمال کیا۔ اخوانِ رسول وہ لوگ ہوں گے جو اکیسویں صدی کے امکانات کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مقصدِ تخلیق
فلاسفہ اورمفکرین کے یہاں زیر بحث سوالات میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ تخلیق کی غایتِ اصلی (raison d’être) کیا ہے۔ سیکولر مفکرین نے اس کا جواب مختلف انداز سے دینے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً یہ کہ تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے خالق خود اپنی تکمیل چاہتا ہے۔ قرآن میں اِس سوال کا جواب ایک آیت میں اِس طرح دیاگیا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (51:56)۔ یعنی، میں نے جن اور انس کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صحابی مفسر عبد اللہ بن عباس نے اِس آیت کی تشریح اِس طرح کی ہے کہ اِس آیت میں ’ لِيَعْبُدُونِ‘ سے مراد ’ لِيَعْرِفُونِ‘ ہے، یعنی خدا کی عبادت کرنے سے مراد ہے خدا کی معرفت حاصل کرنا۔
other sourceWords of another person or source
خالق کی معرفت کوئی سادہ بات نہیں۔ انسان اپنے خالق کو براہِ راست نہیں دیکھ سکتا، لیکن تخلیق کا مطالعہ اور صاحبِ تخلیق کی کتاب (قرآن) کا مطالعہ کرکے آدمی یقینی طورپر خالق کی عظمتوں کو دریافت کرسکتا ہے۔ تخلیق کی اعلیٰ معنویت خالق کا اعلیٰ تعارف ہے۔ تخلیق کے مطالعے سے آدمی خالق کا جو علم حاصل کرتاہے، اُسی کا نام معرفت ہے۔
کسی آدمی کو جب خالق کی یہ معرفت حاصل ہوتی ہے تو یہ اُس کے لیے سپر تھرل (super thrill) کا ایک تجربہ ہوتا ہے۔ یہ تجربہ آدمی کی شخصیت میں ایک عظیم انقلاب پیدا کردیتا ہے۔ اِس کے بعد فطری طورپر ایسا ہوتاہے کہ آدمی کی سوچ خدا رخی سوچ بن جاتی ہے، آدمی کا کلام خدا رخی کلام بن جاتا ہے، آدمی کا سلوک خدا رخی سلوک بن جاتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، آدمی کی پوری زندگی خدا کے رنگ میں رنگ جاتی ہے (2:138)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی معرفت مزید وسعت پاکر دعوت الی اللہ بن جاتی ہے۔ دعوت الی اللہ کیا ہے۔ وہ آدمی کی معرفتِ خدا کی توسیع یا اس کا خارجی ظہور ہے۔ جو آدمی گہرائی کے ساتھ خدا کی معرفت حاصل کرے، اس کے اندر شدید طورپر یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اِس معرفت میں دوسروں کو حصے دار بنائے۔ اِسی واقعے کا دوسرا نام دعوت الی اللہ ہے۔
خدا کی معرفت ایک فرد کے اندر متحقق ہوتی ہے، نہ کہ کسی مجموعے کے اندر۔ جب ایک بڑی تعداد خدا کے عارفوں پر مشتمل ہو جائے تو اُس وقت پورے مجموعے یا اس کی بڑی تعداد معرفت کی حامل بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام اصلاً فرد پر مبنی کام ہے، نہ کہ مجموعے پر مبنی کام۔ دعوت الی اللہ کا نشانہ اصلاً کسی سسٹم یا کسی اجتماعی نظام کے وجود میں لانا نہیں ہے، بلکہ فرد فرد کو معرفتِ خداوندی کا حامل بنانا ہے۔ اِس کے بعد جو واقعات پیش آتے ہیں، وہ اصل نشانے کے بالواسطہ نتائج ہیں، نہ کہ اصل نشانہ۔
تاریخ کی با معنیٰ تعبیر
ایک بڑی انڈسٹری قائم کی جائے تو بظاہر اُس میں بہت سے اجزا اور بہت سی سرگرمیاں دکھائی دیں گی، لیکن انڈسٹری کا مقصودِ اصلی صرف ایک ہوگا، اور وہ ہے— کوئی خاص پروڈکٹ (product) نکالنا، یہی پروڈکٹ انڈسٹری کا حقیقی جُز ہوگااور بقیہ تمام چیزیں انڈسٹری کے اضافی اجزا قرار پائیں گے۔ یہی وہ واحد اصول ہے جس پر انڈسٹری کی صحتِ کارکردگی کو جانچا جائے گا۔
یہی معاملہ انسانی تاریخ کا ہے۔ انسانی تاریخ کے بظاہر بہت سے اجزا ہیں۔ اس میں بظاہر بہت سی سرگرمیاں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، لیکن تاریخ کی توجیہ کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ تاریخ کے معاملے میں خالق کا منصوبہ کیا ہے اور خالق کے منصوبے کے مطابق، اِس عظیم کارخانۂ تاریخ سے کون سا پروڈکٹ نکالنا مقصود ہے۔ اِس کے سوا، کوئی دوسرا نقطۂ نظر تاریخ کی درست توجیہ میں کار آمد نہیں ہوسکتا۔
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ تاریخ کی مختلف سرگرمیوں کے دوران خالق کو جو پروڈکٹ وجود میں لانا مقصود ہے، وہ صرف ایک ہے۔ اِس پروڈکٹ کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہاگیا ہے، یعنی ایک فرد کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر۔ یہی ربانی افراد خدا کے منصوبۂ تخلیق کی اصل غایت (raison d’être) ہیں۔ جب تک یہ ربانی افراد بنتے رہیں گے، اُس وقت تک تاریخ کے ہنگامے جاری رہیں گے، اور جب اِس قسم کے افراد پیدا ہونا بند ہوجا ئیں تو اِس کے بعد وہ وقت آجائے گا، جب کہ تاریخ کے موجودہ دور کو ختم کرکے اس کے دوسرے دور کا آغاز کردیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خالق کے منصوبے کے مطابق، انسانی تاریخ کو عادلانہ اجتماعی نظام (just social system) کی اصطلاح میں جانچنا درست نہیں۔ خالق کا منصوبہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں عادلانہ نظام قائم ہو، بلکہ خالق کا منصوبہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی تجربہ گاہ میں عادل افراد پیداہوں اور پھر اِن عادل افراد کو منتخب کرکے اُنھیں یہ موقع دیا جائے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ابدی طورپر رہ سکیں۔ تاریخ کی بامعنی تعبیر (meaningful interpretation of history) صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ مذکورہ اصول کی روشنی میں تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ کوئی دوسرااصول، تاریخ کی معنویت (meaning)کو واضح کرنے کے لیے کار آمد نہیں۔
افراد، نہ کہ مجموعہ
تاریخ کی صحیح تعبیر صرف وہ ہے جو خالق کے تخلیقی پلان کی روشنی میں کی جائے۔ تعبیر تاریخ کے اِس موضوع پر، قرآن کو ایک مستند ماخذ کا درجہ حاصل ہے۔ قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا کے منصوبۂ تخلیق کے مطابق، تاریخ کی تعبیر کیا ہونا چاہیے۔ پچھلے ادوار میں ہزاروں مورخین پیدا ہوئے، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اِن تمام مورخین کی تیار کردہ کتابیں صرف تاریخی واقعات کا دفتر (chronicles) ہیں، وہ انسانی تاریخ کی معنویت کو واضح نہیں کرتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کتبِ تاریخ کی روشنی میں تاریخ صرف بے معنی واقعات کا ایک جنگل نظر آتی ہے۔ اِسی حقیقت کو انگریزمورخ ایڈورڈ گبن (وفات 1794) نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے— انسانیت کی تاریخ، جرائم، حماقت اور بد قسمتی کے رجسٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
History, which is, indeed, little more than the register of crimes, follies and misfortunes of mankind. (The Decline And Fall Of The Roman Empire, vol 1, p. 72, London)
other sourceWords of another person or source
تعبیر تاریخ کے اعتبار سے، سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تمام مورخین تاریخ کو مجموعہ کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور وہ مجموعہ کے اعتبار سے، اس کے حسن وقبح کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مگر خدائی تخلیق کے مطابق،تعبیر تاریخ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مجموعۂ انسانیت کو دیکھ کر تاریخ کی تعبیر نہ کی جائے، بلکہ افرادِ انسانی کو دیکھ کر اس کی تعبیر کی جائے۔ مجموعہ کے اعتبار سے دیکھنے کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ تاریخ کا کوئی عہد عہد زریں (golden age) نظر نہیں آتا۔ لیکن اگر افراد کے اعتبار سے، تاریخ کو دیکھاجائے تو ہر عہد، زریں افراد (golden individuals) کا عہد نظر آئے گا۔
معیاری افراد کا انتخاب
اصل یہ ہے کہ خالق نے موجودہ دنیا کو اِس لیے نہیں بنایا کہ یہاں مجموعہ کی سطح پر معیاری نظام (ideal system) قائم كياجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے، وہ چاہے مصلح بن کر رہے یا مفسد بن کررہے۔ اِس لیے یہاں مجموعہ کی سطح پر کبھی معیاری نظام نہیں بن سکتا۔ معیاری نظام کا مقام صرف جنت ہے اور وہ جنت ہی میں بنے گا۔
موجودہ دنیا دراصل معیاری افراد کا انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ یہاں ہر نسل سے معیاری افراد کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ مثلاً آدم کی پہلی نسل میں قابیل، قابلِ رد تھا اور ہابیل، قابلِ قبول۔ یہی معاملہ پوری تاریخ میں جاری ہے۔ ہر دور میں اور ہر نسل میں خدا معیاری افراد کو منتخب کررہا ہے اور غیر معیاری افراد کو رد کررہا ہے۔ ردوقبول کے اِسی معاملے کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ (56:39-40)۔ یعنی، اگلوں میں سے ایک بڑا گروہ اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قابلِ قبول اور قابلِ رد انسانوں کی یہ مطلوب فہرست جب مکمل ہوجائے گی تو اس کے بعد خالق کائنات موجودہ دنیا کو ختم کرکے ایک اور دنیا بنائے گا، جہاں وہ معیاری دنیا ہوگی جس کو جنت کہاجاتاہے۔ قابلِ قبول افراد اِس جنت میں بسا دیے جائیں گے، جہاں وہ ابد تک خوف وحزن سے پاک زندگی گزاریں گے۔ اور ناقابلِ قبول افراد کو رد کرکے کائناتی کوڑے خانے میں ڈال دیاجائے گا، جہاں وہ ابد تک حسرت کی زندگی گزاریں گے۔
معیارِ تاریخ
یہی تاریخ کو دیکھنے کا صحیح معیار ہے۔ اِس معیار سے تاریخ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ فساد کے جنگل میں ہمیشہ اعلیٰ درجے کے صالح افراد پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اِسی جنگل میں آدم کے بیٹے ہابیل بھی تھے جنھوں نے اپنے قاتل سے کہا لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَى يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِى اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ (5:28)۔ یعنی، اگر تم مجھ کو قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاؤگے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ ہابیل کا یہ قول امن کا قول تھا۔ ہابیل نے اپنی اِس روش سے امن پسندی کی وہ اعلیٰ ترین مثال قائم کی جس کے آگے امن پسندی کا کوئی اور درجہ نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح، تاریخ کے اِس جنگل میں ہاجرہ اُمّ اسماعیل جیسی خاتون پیدا ہوئیں۔ انھوں نے ڈھائی ہزار سال پہلے، خدا کے منصوبے کے مطابق، ایک نئی نسل برپا کرنے کے لیے یہ قربانی دی کہ وہ اپنے چھوٹے بچے (اسماعیل) کو لے کر عرب کے صحرا میں آباد ہوگئیں۔ اُس وقت اُن کی زبان سے یہ تاریخی کلمہ نکلا کہ جب خدا کا یہی منصوبہ ہے تو خدا ہم کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا — إِذًا لَا يُضَيِّعُنَا اللهُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364)۔ ہاجرہ کی اِسی قربانی کے نتیجے میں بنو اسماعیل کی وہ نسل پیدا ہوئی جو اعلیٰ انسانی اوصاف کی حامل تھی۔ ایک مغربی اسکالر پروفیسر ڈی ایس مارگولیتھ (وفات1940) نے اِس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے بنو اسماعیل کی اِس نسل کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) قرار دیا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح، تاریخ کے اِس جنگل میں ابوبکر اور عمر جیسے افراد پیداہوئے جن کو اقتدار ملا، لیکن انھوں نے اپنے آپ کو بگاڑ سے کامل طورپر بچایا۔ مہاتما گاندھی نے ابوبکر ا ور عمر کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ— اگرچہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے، مگر انھوں نے فقیروں جیسی زندگی گزاری
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Though, they were masters of vast empire, yet they lived the life of paupers. (Harijan, July 27, 1937)
other sourceWords of another person or source
انسان کو پیدا کرنے والا خداہے۔ خدانے انسان کی فطرت میں جنت کا تصور ودیعت کردیاہے۔ اِسی لیے ہر عورت اور مرد جو پیدا ہوتے ہیں، وہ تمناؤں اور خواہشوں (desires) کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ہر انسان کے اندر فطری طورپر ایک تصوراتی دنیا بسی ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے، انسان ایک طالبِ جنت مخلوق (paradise-seeking animal) ہے۔
اِسی فطرت کی بنا پر ایسا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا انسان اپنے لیے ایک معیاری دنیا کی تعمیر میں لگ جاتاہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی طاقت اور اپنے تمام وسائل کو ایک ایسی دنیا کے حصول میں لگا دیتاہے، جو اس کے لیے خوشی اور سکون کی دنیا ہو، جہاں اس کو پورے معنوں میں فل فل مینٹ (fulfilment) مل سکے۔مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر آدمی جو اِس دنیا میں آیا، وہ اپنی مطلوب دنیا کی تعمیر میں ناکام رہا، اور مایوسی کی نفسیات میں مر کر اِس دنیا سے چلا گیا۔ اِس عموم میں کسی بھی شخص کا کوئی استثنا نہیں۔ راقم الحروف نے ایک بار انٹرنیٹ کے ذریعے ایسے تقریباً 400 ممتاز افراد کے بارے میں یہ معلوم کیا کہ ان کے آخری ایام کیا تھے۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ بلا استثنا اُن میں سے ہر شخص سخت مایوسی (despair) کی حالت میں مرا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں جو معیاری دنیا بسی ہوئی ہے، وہ جنت ہے۔ مگر جنت کو پانے کا مقام آخرت ہے، نہ کہ موجودہ دنیا۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جنت میں بسائے جانے کے قابل بنائے۔ مگر ساری تاریخ میں انسان نے یہ کیا کہ ہر ایک موجودہ دنیا ہی میں اپنی جنت کی تعمیر کرنے لگا۔ ایسا کرنا خداکے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا۔ اِس لیے ہر انسان صرف ناکامی کی ایک مثال بن کر رہ گیا۔مفکرین اور مصلحین نے عام طورپر اپنا نشانہ یہ بنا یا کہ وہ اِس دنیا میں انصاف اور انسانی اقدار (human values) کے اعتبار سے ایک معیاری دنیا بنائیں۔ مگر اُن کا نشانہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا، اِس لیے وہ کبھی واقعہ نہ بن سکا۔ خدا کا تخلیقی نشانہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں معیاری نظام (ideal system) وجو د میں لایا جائے، بلکہ خدا کا تخلیقی نشانہ یہ ہے کہ معیاری افراد وجود میں آئیں۔ اِس قسم کے معیاری افراد تاریخ میں بکھرے ہوئے ہیں۔ آخرت میں یہ ہوگا کہ اِن افراد کو منتخب کرکے اُنھیں جنت کی معیاری دنیا میں بسادیا جائے گا۔
تعبیر تاریخ کی مثالیں
تاریخ کی تعبیر (interpretation of history) ایک مستقل سبجکٹ ہے، مگر اِس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، وہ سب کی سب کنفیوژن کا کیس ہیں۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی شخص اِس موضوع پر اب تک ایسی کتاب نہ لکھ سکا جس میں انسانی تاریخ کی قابلِ فہم تعبیر پیش کی گئی ہو۔
اِس موضوع پر سب سے زیادہ نمایاں نام غالباً کارل مارکس (وفات1883) کا ہے۔ اس نے بطور خود تاریخ کی ایک متعین تعبیر دینے کی کوشش کی۔ مارکس کی اِس تعبیر تاریخ کو مادی تعبیر تاریخ (material interpretation of history)یا تاریخی مادیت (historical materialism) کہا جاتا ہے۔ کارل مارکس نے یہ کیا کہ اس نے نیوٹن کے دریافت کردہ قانون فطرت (law of nature) کو انسانی تاریخ پر منطبق کردیا، مگر مارکس کی یہ تعبیر تاریخ پہلی ہی نسل میں اہل علم کے درمیان قابلِ رد قرار پاگئی۔ انسان ایک صاحب اختیار مخلوق ہے۔ اِس کے برعکس، مادہ کوئی ذاتی اختیار نہیں رکھتا۔ ایسی حالت میں ایک کے قانون کو دوسرے کے اوپر چسپاں کرنا قیاس مع الفارق ہے، جو کہ عملاً ممکن نہیں۔
پہلی عالمی جنگ (1914-1918) کا واقعہ اس مارکسی نظریے کی عملی آزمائش تھا۔ یہ نظریہ اِس پہلی ہی آزمائش میں مکمل طور پر رد ہوگیا۔ اِس کی تفصیل یہ ہے کہ مشہور کمیونسٹ لیڈر ولادمیر لینن (وفات 1924) نے1919 میں کمیونسٹ انٹرنیشنل (comintern) قائم کی۔ اُس کا نظریہ تھا کہ ساری دنیا کے مزدور ایک طرف ہیں اور تمام دنیا کے سرمایہ دار ایک طرف۔ اس کے بعد 1939 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی۔ یہ جنگ جن ملکوں کے درمیان ہوئی، اُن ملکوں کے سربراہ مارکسی تصور کے مطابق، سرمایہ دار طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ مارکسی تصور کے مطابق، یہ فرض کرلیا گیا کہ اِن ملکوں کے مزدور اپنے ملکوں کی سرمایہ دار حکومتوں کا ساتھ نہیں دیں گے، بلکہ وہ عالمی مزدور طبقہ (class)کا ساتھ دیں گے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ ہر ملک کے مزدوروں نے خود اپنے ملک کی حکومتوں کا ساتھ دیا۔ اِس طرح تاریخی مادیت یا جدلیاتی مادیت کا نظریہ اپنے پہلے ہی تجربے میں ختم ہوگیا۔
اِسی طرح کچھ اور اہل علم نے انسانی تاریخ کو ایک تعبیر دینے کی کوشش کی۔ مگر عملاً وہ بھی کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گئے۔ اِس کی ایک مثال کیمبرج کے پروفیسر ایچ بٹر فیلڈ (H. Butterfield) کی ہے۔ انھوں نے اِس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جو 146 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب 1931میں لندن سے چھپی ہے۔ اِس کتاب کا نام یہ ہے
The Whig Interpretation of History
اِس کتاب میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ کسی یونی ورسل مارل کوڈ (universal moral code) کی روشنی میں پوری تاریخ کو ایک اخلاقی تعبیر دی جائے، مگر خود مصنف نے یہ اعتراف کیا ہے کہ تاریخ کی عملی تصویر کے مطابق، اِس قسم کی تعبیر ممکن نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح ایک مثال مشہور برطانی رائٹر جارج برناڈ شا (وفات 1950) کی ہے۔ اِس سلسلے میں اس کی ایک کتاب ’’مین اینڈ سپر مین‘‘ (Man and Superman) ہے۔ اِس کتاب میں اُس نے مفروضہ ارتقائی اصول کی روشنی میں تاریخ کی ایک تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان لازمی ارتقائی قانون کے مطابق، بشر (man) سے فوق البشر (superman) کی طرف سفر کررہا ہے۔ مگر اس کا یہ نظریہ صرف ایک خیالی کہانی ہے۔ خالص علمی اعتبار سے اس کا کوئی وزن نہیں۔
منفی تصورِ تاریخ
انسانی تاریخ کے بارے میں عام طور پر اہلِ علم کا نقطۂ نظر منفی ہوتا ہے۔ مثلاً مشہور انگریز مورخ ایڈورڈ گبن (Edward Gibbon)نے لکھا ہے کہ— انسانیت کی تاریخ جرائم، حماقت اور بدقسمتی کے رجسٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
History, which is, indeed, little more than the register of crimes, follies and misfortunes of mankind. (The Decline And Fall Of The Roman Empire, vol 1, p. 72, London)
other sourceWords of another person or source
مختلف زبانوں میں جو بڑے بڑے ناول لکھے گئے ہیں،وہ سب کے سب المیہ (tragedy) ہیں،نہ کہ طربیہ (comedy)۔ انسانی تاریخ کے بارے میں اِس قسم کا منفی تصور کیوں ہے۔ اِس کا سبب دراصل تاریخ کا غیر فطری طریق مطالعہ ہے۔ تاریخ کا فطری طریقِ مطالعہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تاریخ کے بارے میں خالق کے نقشہ (model) کو دریافت کیا جائے، اور اس کے بعد اِس خدائی نقشے کی روشنی میں تاریخ کا جائزہ لیا جائے۔
جو لوگ تاریخ کے بارے میں منفی نقطۂ نظر رکھتے ہیں، اُن سب کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے مفروضہ نقشے کی روشنی میں تاریخ کو سمجھنا چاہتے ہیں، اور جب تاریخ ان کے مفروضہ نقشے کے مطابق، بامعنی نظر نہیں آتی تو وہ تاریخ کے بارے میں منفی سوچ کا شکار ہوجاتے ہیں۔
تاریخ کے بارے میں اِسی منفی نقطۂ نظر کے تحت ایک مغربی مفکر نے کہا کہ— اِس دنیا میں ہر چیز حسین ہے، صرف ایک چیز حسین نہیں، اور وہ انسان ہے
other sourceWords of another person or source
In this world everything is beautiful except man.
یہ تبصرہ غلط معیار کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے سوا بقیہ دنیا جتنی حسین ہے، اُس سے بھی زیادہ انسانی دنیا حسین ہے۔ انسان مقصدِ کائنات ہے، پھر وہ غیر حسین کیسے ہوسکتا ہے۔ انسانى تاريخ
یہ تبصرہ دراصل ایک غلط معیار کا نتیجہ ہے۔ مذکورہ مبصر نے مادی دنیا کو دیکھا۔ اس کو نظر آیا کہ مادی دنیا میں پورے مجموعے کی سطح پر حسن پایا جاتا ہے۔ اس نے چاہاکہ یہی مجموعی حسن اس کو انسانی دنیا میں بھی نظر آئے۔ جب اُس نے پایا کہ انسانی دنیا میں اِس قسم کا مجموعی حسن نہیں ہے، تو اُس نے مذکورہ قسم کا ریمارک (remark) دے دیا۔
خالق کے منصوبے کے مطابق، انسانی دنیا اور بقیہ مادی دنیا کے درمیان ایک فرق پایا جاتاہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں مجموعی نظم (collective discipline) درکار ہے، کیوں کہ بقیہ دنیا امتحان (test) کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہے، بلکہ وہ انسان کے لیے ایک معاون ذریعے کے طور پر پیدا کی گئی ہے، مجموعی نظم کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔
اِس کے برعکس، انسان کا معاملہ فرد فرد کا معاملہ ہے۔ یہاں مجموعی حسن مطلوب نہیں، بلکہ یہاں انفرادی حسن مطلوب ہے۔ انسانی دنیا میں ہر فرد کو الگ الگ جانچا جارہا ہے۔ ہر فرد کو الگ الگ یہ موقع دیاجارہاہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرکے اپنے آپ کو جنت کے معاشرے کا ایک کامیاب ممبر بناسکے۔ اِسی منصوبۂ تخلیق کی بنا پر دونوں کی جانچ کا الگ الگ معیار ہوگا۔ انسان کو فرد کی سطح پر جانچنا چاہیے اور بقیہ کائنات کو مجموعے کی سطح پر۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق کی دونوں مثالیں شاہ کار ہیں، انسان بھی اور بقیہ کائنات بھی، مگر دونوں کو جانچنے کا معیار ایک دوسرے سے الگ ہے۔
تاریخ کے مطالعے کے بارے میں جو لوگ منفی نقطہ نظر رکھتے ہیں، ان کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ پورے انسانی معاشرے یا پورے انسانی مجموعے کو دیکھ کر اپنی رائے بناتے ہیں۔ چوں کہ مجموعے کی سطح پر اُنھیں مطلوب معیاری سماج نظر نہیں آتا، اِس لیے وہ کہہ دیتے ہیں کہ انسانی دنیا میں برائی (evil) کے سوا کچھ اور نہیں، حالانکہ اُنھیں یہ کہنا چاہیے کہ انسانی دنیا میں اگرچہ مجموعہ کی سطح پر برائی ہے، لیکن افراد کی سطح پر خیر موجود ہے۔مذکورہ منفی سوچ کے تحت ’پرابلم آف اِول‘ (problem of evil) جیسا نظریہ وجود میں آیاہے، جو کہ موجودہ زمانے میں عام طورپر اہلِ علم کے ذہن پر چھایا ہوا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
انسانی دنیا کو مجموعی سطح پر معیاری بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انسانی آزادی کو منسوخ کردیا جائے، کیوں کہ انسانی سماج میں تمام برائیوں کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ انسان کی طرف سے آزادی کا غلط استعمال (misuse of freedom) ہے۔ مگر انسان کی آزادی کو منسوخ کرنا خود خالق کے منصوبے کو منسوخ کرنے کے ہم معنی ہے۔ اِس لیے خالق نے اپنے منصوبے کی اِس طرح تشکیل کی کہ اس نے انسان کے معاملے کو مبنی بر مجموعہ (collective-based) نہیں بنایا، بلکہ اس کو مبنی برفرد (individual-based) بنایا۔ اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، خدا کا کنسرن (concern) یہ نہیں ہے کہ پورے مجموعۂ انسانی میں لازماً معیاری نظام قائم ہو۔ ایسا صرف اُس وقت ہوسکتا تھا جب کہ انسان کی آزادی کو کلی طورپر منسوخ کردیا جاتا، اور خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔
اِس منصوبۂ تخلیق کے مطابق، پورے اجتماع یا پورے مجموعے کی سطح پر معیار (ideal) کا حصول ممکن نہیں، لیکن یہ عین ممکن ہے کہ انسانوں کی بھیڑ میں ایسے معیاری افراد وجود میں آتے رہیں جو اپنی ذات کی سطح پر سچائی کو دریافت کریں اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیں، یہی استثنائی افراد خالق کو مطلوب ہیں — یہی مطلب ہے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مطلوب کے مطابق، تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا۔
خالقِ کائنات کی یہ اسکیم قرآن کے مطالعے سے واضح طورپر معلوم ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی سورۃ النساء کی دو آیتوں کا ترجمہ یہ ہے ’’اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے، یعنی نبی اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ کا علم کافی ہے‘‘(4:69-70)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کے اِس بیان سے معلوم ہوتاہے کہ وہ کون سے منتخب افراد ہوں گے جن کے مجموعے سے جنت کا معاشرہ وجود میں آئے گا۔ اِن افراد کو بتانے کے لیے یہاں چار الفاظ استعمال کیے گئے ہیں— نبی، صدیق، شاہد، صالح۔ نبی سے مراد صاحب وحی انسان (revealed person) ہے۔ صدیق سے مراد وہ انسان ہے جو حق کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ وابستہ کرے کہ اس کو پیغمبر کے ساتھ مزاجی مناسبت حاصل ہوجائے۔شہید یا شاہد سے مراد وہ انسان ہے جس کی زندگی میں حق اتنا زیادہ متشکّل ہوجائے کہ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ لوگوں کے درمیان حق کا گواہ بن جائے۔ صالح سے مراد وہ انسان ہے جس کی زندگی میں فکروعمل کی مطابقت کامل درجے میں پائی جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بنیادی طورپر یہی چار قسم کے افراد ہیں جن کے مجموعے سے وہ معیاری معاشرہ تشکیل پائے گا جس کو جنت کہاجاتاہے۔ اِن افراد کا تعلق کسی ایک زمانے یا کسی ایک معاشرے سے نہیں ہوگا، بلکہ وہ مختلف غیر معیاری معاشروں کے منتخب کیے ہوئے افراد ہوں گے۔ خالق کی اِس اسکیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اِس دنیا میں صرف انفرادی کامیابی (individual achievement) ممکن ہے۔ جہاں تک اجتماعی کامیابی (social achievement) کا تعلق ہے، وہ امتحان کی اس دنیا میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔
موجودہ دنیامیں درست روش پر قائم ہونے کے لیے مثبت ذہن ضروری ہے۔ مگر مثبت ذہن کے ساتھ جینا کوئی سادہ بات نہیں۔ مثبت ذہن کے ساتھ جینے کے لیے آدمی کو ایک لازمی امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ ہے دو متضاد رجحانات کو مینج (manage) کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔
اصل یہ ہے کہ آدمی پیدائشی طورپر ایک معیار پسند مخلوق ہے، مگر عملاً اس کو ایک غیر معیاری دنیا میں رہنا پڑتاہے۔ اس حقیقت سے شعوری طورپر با خبر ہونا بہت ضروری ہے۔ ورنہ یہ ہوگا کہ اس کا معیار پسند ذہن دنیا کے غیر معیاری تجربات کی بناپر رد عمل کا شکار ہوتا رہے گا اور نتیجتاً وہ مثبت ذہن سے محروم ہوجائے گا، اور مثبت ذہن سے محروم ہونا ہر چیز سے محروم ہونے کے ہم معنی ہے۔
آدمی کو شعوری طورپر یہ جاننا چاہیے کہ اس کا معیار پسند ذہن اس لیے ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا کا طالب بنے، نہ یہ کہ وہ اسی موجودہ دنیا میں جنتی زندگی یا جنتی معاشرہ کو حاصل کرنے لگے۔ موجودہ دنیا جنتی انسان بنانے کے لیے ہے، نہ کہ جنتی معاشرہ بنانے کے لیے ۔ جو آدمی شعوری طورپر اس راز کو جان لے کہ موجودہ دنیامیں اس کو اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے وہ کامیاب ہوا۔ اور جو آدمی موجودہ دنیا ہی کو جنتی دنیا بنانے کی کوشش میں لگ جائے، وہ ناکام ونامراد رہا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں جنتی شخصیت بننا تو ممکن ہے، مگر جنتی نظام بننا ممکن نہیں۔
تاریخ کی خدائی تنظیم
قرآن میں تاریخ کا جو تصور پیش کیاگیا ہے، اس کے مطابق، انسانی تاریخ آدم سے شروع ہوتی ہے، جو کہ پہلے انسان (first man)تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اور ان کی بیوی حوا کو پیدا کرکے اُنھیں جنت میں آباد کیا۔ خدا کی طرف سے اُن کو صرف ایک ہدایت دی گئی تھی، وہ یہ کہ اے آدم، تم اور تمھاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس سے کھاؤ آسودگی کے ساتھ، جہاں سے چاہو۔ اور اس درخت کے قریب مت جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے‘‘ (2:35)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آدم کے ساتھ ان کی بیوی کو پیدا کرنے میں اِس بات کا اشارہ تھا کہ انسان کی پیدائش سے اللہ تعالیٰ کو جو چیز مطلوب ہے، وہ صرف ایک انسانی فرد نہیں، بلکہ ایک انسانی نسل ہے۔ انسان کے لیے جنت کا مستحق ہونے کی شرط صرف ایک تھی، یہ کہ وہ خود انضباطی کردار (self-disciplined character) کا پابند رہے، وہ آزادی کا غلط استعمال نہ کرے۔ مگر آدم اور حوا اِس شرط پر پورے نہیں اترے۔ اِس لیے انھیں جنت سے نکال کر سیارۂ ارض پر آباد کردیا گیا۔
اِس کا مطلب یہ تھا کہ پہلے انسان کو یہ موقع دیاگیا تھا کہ انسان عمومی بنیاد (general basis) پر جنت میں رہے، یعنی ہر پیدا ہونے والے عورت اور مرد کو جنت کی زندگی حاصل ہو۔ لیکن جب انسان اِس اعتماد پر پورا نہیں اترا تو اس کے بعد اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ انسان کی آزادی تو برقرار رہے گی، لیکن اب عمومی بنیاد پر نہیں، بلکہ انتخابی بنیاد پر صرف مستحق افراد کو جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ یہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو خدا کی طرف سے مینج کرنے کا پہلا واقعہ تھا۔
موجودہ زمین اِس تخلیقی مقصد کے لیے سلیکشن گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب یہ ہوگا کہ قیامت کے بعد فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، صرف منتخب عورتوں اور مردوں ، قرآن کے الفاظ میں احسن العمل (67:2) افراد کو، یہ خوش نصیبی حاصل ہوگی کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں آباد ہوسکیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام تو خدا کی طرف سے کیا گیا تھا، مگر انسان کو اپنے قول وعمل کی مکمل آزادی حاصل تھی، لیکن دوبارہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ عمومی طورپر انسانی نسل شرک یا فطرت پرستی میں مبتلا ہوگئی۔ گویا کہ پہلے انسان نے ’’درخت‘‘ کا صرف پھل کھایا تھا، اب انسان نے ’’درخت‘‘ کو معبود قرار دے کر اس کی پرستش شروع کردی۔
تاہم منصوبۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق، یہ ممکن نہیں تھا کہ انسان کی آزادی کو منسوخ کردیا جائے، اِس لیے اللہ نے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو مینج (manage) کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ اللہ نے یہ کیا کہ انسانوں میں سے کسی فرد کو منتخب کرکے اُس کو اپنا پیغمبر بنایا۔ اُس کو وحی (revelation) کے ذریعے اپنی رہنمائی بھیجی۔ اِن پیغمبروں نے انسانوں کو بتایا کہ عبادت کے قابل صرف ایک اللہ ہے۔ تم ایک اللہ کی عبادت کرو اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔
مگر انسانوں کی بڑی تعداد ایسا نہ کرسکی۔ اللہ کی عبادت کا معاملہ ناقابلِ مشاہدہ (unobservable) ہستی کو معبود بنانے کا معاملہ تھا۔ انسان نے اپنی ظاہر پرستی کی بناپر نیچر کو اپنا معبود بنا لیا، جو کہ اس کے لیے ایک قابلِ مشاہدہ (observable) معبود کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِسی نیچر ورشپ کا دوسرا نام شرک ہے۔
پیغمبروں کی آمد کے باوجود انسان کے لیے آزادیِ اختیار (freedom of choice) کا موقع بدستور باقی تھا۔ اِس لیے انسان پیغمبروں کا انکار کرتا رہا۔ یہ معاملہ نسل درنسل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک انسان کے لیے غالب کلچر بن گیا، تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔
مشرکانہ کلچر کے عمومی غلبہ کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ وقت کی حکومتوں نے شرک کو اسٹیٹ کے مذہب کے طور پر اختیار کرلیا۔ اِس طرح شرک کو ہر جگہ سیاسی طاقت کی سرپرستی حاصل ہوگئی۔ پہلے اگر شرک سادہ معنوں میں ایک اعتقادی برائی تھی تو اب وہ ایک طاقت ور برائی بن گئی۔ مشرکانہ اقتدار کا کلچر بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ برائی پیدا ہوئی جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شرک کی اِسی سیاسی سرپرستی کے نتیجے میں وہ جارحانہ مذہبیت پیدا ہوئی جس کو تاریخ میں، مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتاہے۔ سیاسی حاکموں نے ایسا ماحول قائم کیا جس کے نتیجے میں لوگوں کے لیے صرف ایک ہی آپشن باقی رہا، اور وہ مشرکانہ مذہب تھا۔ توحید کامذہب اختیار کرنے والوں کے لیے یہ انجام مقدر ہوگیا کہ وہ یا تو ریاست کے مذہب کو اختیار کرلیں، یا وہ قتل کردیے جائیں۔ دورِ قدیم کی یہی وہ صورتِ حال ہے جس کی طرف قرآن کی سورۃ البروج کی آیات (85:4-8) میں اشارہ کیاگیا ہے۔اِس صورت حال سے یہ واضح ہوگیا کہ اب مذہبِ حق کا صرف اعلان کافی نہیں ہے۔ اب پہلی ضرورت یہ ہے کہ مذہب کو سیاسی اقتدار سے جدا کردیا جائے، تاکہ انسان کے لیے آزادی کے ساتھ اپنے عقیدے کا فیصلہ کرنا ممکن ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تخلیقِ آدم
اللہ تعالیٰ نے پہلے لمبے تدریجی عمل (gradual process) کے ذریعے مادی کائنات بنائی۔ آخر میں اُس نے سیارہ ارض پر انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا۔اللہ تعالیٰ نے جب انسانِ اوّل (آدم) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو اُس وقت اللہ اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ یہ واقعہ قرآن کی سورۃ البقرہ میں آیا ہے۔ یہاں متعلق آیات کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا کہ میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ اوراللہ نے سکھائے آدم کو سارے نام، پھر اُن کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اُن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ نے کہا اے آدم، ان کو بتاؤ اُن لوگوں کے نام، تو جب آدم نے بتائے اُن کو اُن لوگوں کے نام تو اللہ نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں، اور مجھ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو‘‘ (2:30-33) ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہاں یہ سوال ہے کہ فرشتوں نے آدم کے بارے میں جس شک کا اظہار کیا تھا، وہ کیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کے وضاحتی جواب کے بعد فرشتے جس چیز پر مطمئن ہوئے، وہ چیز کیا تھی۔ یہ بات قرآن میں بطور اشارہ موجودہے۔ اِس اشارے کی تفصیل جاننے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا منصوبہ کیا تھا اور وہ کس طرح اپنی تکمیل تک پہنچا۔
یہ اشارہ قرآن کی ایک اور سورۃ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورۃ التین میں ارشاد ہوا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ (95:4-6)۔ یعنی، ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اُس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ لیکن جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو اُن کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ساتھ ایک عظیم احسان کا معاملہ کیا جس کو قرآن میں تکریم (17:70) کہاگیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا، اُس کو کامل آزادی دی، اس کو یہ موقع دیا کہ وہ خود اپنے آزادانہ انتخاب (choice) سے اپنی زندگی کے لیے درست روش کو اختیار کرےاور پھر اللہ تعالیٰ یہ کہہ کر اس کے لیے جنت کا فیصلہ کرے کہ یہ تیرے اپنے عمل کی جزا ہے جو تونے دنیا میں کیا۔ مگر انسانوں کی اکثریت نے اِس منصوبۂ الٰہی کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا اور اِس طرح انھوں نے جنت کا استحقاق کھو دیا۔ البتہ اِس عموم میں کچھ مستثنیٰ افراد پیدا ہوئے جنھوں نے اِس منصوبۂ الٰہی کو سمجھا اور اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرکے انھوں نے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنالیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قرآنی بیان کی روشنی میں غور کیجیے تو سورۃ البقرہ کے مذکورہ بیان کا مطلب یہ ہے کہ فرشتوں نے پوری انسانی نسل (total human race) کو لے کر سوچا تو وہ اِس رائے پر پہنچے کہ کامل آزادی انسان کے اندر بگاڑ پیدا کرے گی۔ وہ ظلم اور فساد جیسے کاموں میں ملوث ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرہ کی صورت میں اس کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انسانوں کی مجموعی تعداد کے اعتبار سے بلا شبہ اُن کے اندر بگاڑ آئے گا، لیکن اِس مجموعے میں ایسے مستثنیٰ افراد بھی پیدا ہوتے رہیں گے جو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کریں گے، اور اِس طرح وہ ابدی رحمتِ خداوندی کے مستحق قرار پائیں گے۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے ایک مظاہرہ کے ذریعے انسانی تاریخ کے اِن مستثنیٰ افراد کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ یہ دیکھ کر فرشتے مطمئن ہوگئے۔ یہ دیکھ کر فرشتوں نے جانا کہ اُن کا اشکال انسانوں کے پورے مجموعے کی نسبت سے تھا، جب کہ اللہ کا یہ منصوبہ نہیں۔ اللہ کا منصوبہ مبنی بر افراد (individual-based) ہے، وہ مبنی بر مجموعہ (totality-based) نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ کامل آزادی دینے کی بنا پر انسانی دنیا ظلم وفساد کا جنگل بن جائے گی، مگر اِس عموم میں استثنا بھی ہوگا۔ انسانوں کے پھیلے ہوئے جنگل میں ایسے استثنائی افراد بھی پیدا ہوں گے جو ظلم وفساد کے جنگل میں ربانی پھول کے مانند ہوں گے۔ اللہ کی نظر اِنھیں ربانی پھولوں پر تھی۔ اللہ کو یہ کرنا تھا کہ وہ فرشتوں کے ذریعے پوری انسانی تاریخ کا ریکارڈ تیار کرے، پھر اِن ربانی افراد کو منتخب کرکے اُنھیں انسانوں کی عمومی بھیڑ سے الگ کیا جائے اور پھر ان کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے۔
جنت سادہ معنوں میں کوئی عیش کدہ نہیں۔ جنت وہ اعلیٰ مقام ہے جہاں تاریخ انسانی کے منتخب افراد کا معاشرہ بنایا جائے۔ وہاں اُن کو ہر قسم کا بہترین انفراسٹرکچر (infrastructure) حاصل ہو۔ تاریخ انسانیت کے یہ منتخب افراد یہاں فرشتوں کے تعاون سے ایک برتر تہذیب (super civilization) وجود میں لائیں۔ موجودہ دنیا میں جو تہذیب بنی، وہ قوانین فطرت (laws of nature) کی جزئی دریافت سے بنائی گئی۔ آخرت میں جو مافوق تہذیب بنے گی، وہ کلمات اللہ کی کلّی انفولڈنگ کے ذریعے تشکیل پائے گی۔
اِس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی دوسری آیتوں سے ہوتی ہے۔ اِس سلسلے کی ایک آیت یہ ہے وَلَوْ اَنَّ مَا فِى الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (31:27)۔ یعنی، اگر زمین میں جو درخت ہیں، وہ قلم بن جائیں اور سمندر سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی یہ آیت بظاہر خبر کے اسلوب میں ہے، مگر حقیقت میں وہ انشا ہے، یعنی اِس میں کلمات اللہ کے بارے میں صرف ایک موجود امکان کو نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ اُس میں مخصوص قرآنی اسلوب کے تحت یہ بتایاگیا ہے کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ اِن لامحدود کلمات اللہ کی انفولڈنگ کی جائے۔ یہ کام جنت کے ابدی ماحول میں انجام پا ئے گا۔ وہاں پوری تاریخ بشری کے منتخب افراد اکھٹا ہوں گے اور وہ اعلیٰ ترین مواقع کے درمیان کلمات اللہ کی انفولڈنگ کا کام انجام دیں گے۔ یہ ایک لامحدود کام ہوگا جو ابد تک جاری رہے گا۔ اِس عمل کو قرآن میں شغلِ فاکہ (36:55) یعنی پُرمسرت سرگرمی (joyful activity) کا نام دیا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فردِ انسانی، مجموعۂ انسانی
تاریخ میں جتنے مفکر اور مصلح گزرے ہیں، وہ سب کے سب آئڈیلسٹ (idealist) تھے۔ اُن میں سے ہر ایک پوری انسانیت کی سطح پر معیاری نظام (ideal system)قائم کرنا چاہتا تھا۔قدیم یونان کے فلسفی افلاطون اور ارسطو کا خواب یہ تھا کہ دنیا میں آئڈیل سوسائٹی بنے۔ برٹش فلسفی برٹرینڈرسل چاہتا تھا کہ ایک پرامن دنیا وجود میں آئے۔ انڈیا کے لیڈر مہاتما گاندھی کا نشانہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں مبنی برخدمت سماج (سیواسماج) تشکیل پائے، وغیرہ۔ یہ سب انسانی زندگی کے معیاری تصورات تھے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ عملاً تمام کے تمام مفکرین اور مصلحین معیاری دنیا (ideal world)کو وجود میں لانے میں ناکام رہے۔
اِس کا سبب یہ تھا کہ ہر مفکر اور ہر مصلح نے اپنے دماغ سے سوچا۔ کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں كى کہ اِس معاملے میں خالق کی اسکیم (scheme of things) کیا ہے۔ مفکرین اور مصلحین کا منصوبہ خالق کے منصوبے سے مطابقت نہ رکھتا تھا، اِس لیے وہ مکمل طور پر ناکام رہا۔
خالق نے ہر انسان کو آزادیِ اختیار (freedom of choice) دی ہے۔ یہ آزادیِ اختیار قیامت سے پہلے، ہر گز منسوخ ہونے والی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِس دنیا میں مجموعۂ انسانی کی سطح پر کسی معیاری نظام کا بننا ممکن نہیں۔ یہاں معیاری فرد تو وجود میں آسکتا ہے، لیکن مجموعے کی سطح پر کوئی معیاری نظام کبھی وجود میں نہیں آسکتا۔ معیاری افراد کا وجود میں آنا تو ممکن ہے، مگر معیاری سماجی نظام کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔
واقعات بتاتے ہیں کہ اِس دنیا میں مجموعۂ انسانیت کی سطح پر کوئی معیاری نظام تو کبھی وجود میں نہ آسکا، لیکن عین اسی وقت ہر زمانے میں فرد (individual) کی سطح پر معیاری انسان وجود میں آتے رہے۔ خالق کے نقشے کے مطابق، یہ ممکن نہیں کہ موجودہ دنیا میں پورے سماج کی سطح پر کوئی معیاری نظام تشکیل پائے۔ لیکن عین اِسی وقت پوری تاریخ میں ایک واقعہ مسلسل پیش آرہا ہے، وہ یہ کہ ہر دور میں معیاری افراد بن رہے ہیں۔ خالق کی اسکیم کے مطابق، جو ہونے والا ہے، وہ یہ کہ مختلف زمانوں میں پیدا ہونے والے اِن معیاری افراد کو چن کر الگ کرلیا جائے اور پھر مختلف زمانوں میں پیدا ہونے والے اِن معیاری افراد کے اجتماع سے ایک آئڈیل سوسائٹی بنائی جائے۔ اِسی معیاری سماج کا نام مذہبی اصطلاح میں جنت (paradise) ہے۔
حضرت نوح کا رول
آدم پہلے انسان تھے اور پہلے نبی بھی۔اُن کو اور ان کی بیوی حوا کو غالباً عراق کے اُس مقام پر بسایا گیا جس کو قدیم زبان میں میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہا جاتاتھا۔ آدم اور حوا کی نسل سے جو لوگ پیدا ہوئے، وہ کئی نسل تک شریعتِ آدم پر قائم رہے، پھر دھیرے دھیرے اُن کے اندر بگاڑ پیدا ہوا اور تقریباً تمام نسل شرک میں مبتلا ہوگئی۔ انھوں نے اپنے بڑوں (وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر) کو اپنا معبود بنالیا۔ پھر اِسی علاقہ (میسوپوٹامیا) میں حضرت نوح پیدا ہوئے۔ انھوں نے لمبی مدت تک نسلِ آدم کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر ان کی قوم کے بہت کم لوگ اُن پر ایمان لائے (11:40)۔ بعض روایات کے مطابق، ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کی تعداد 80 تھی۔ اُن کی قوم کے بقیہ تمام افراد اصرار کے ساتھ شرک پر قائم رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت نوح نے اِسرار واعلان (71:9) کی تمام صورتیں اختیار کیں۔ لیکن آخر کار اُن پر یہ واضح ہوا کہ معاشرے کی کنڈیشننگ (conditioning)اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ اب قوم کے اندر جو بچہ پیدا ہوگا، وہ آخر کار قوم ہی کے مذہب کو اختیار کرے گا۔ جب بگاڑ اِس حد تک پہنچ چکا تو اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ مومنینِ نوح کو بچا کر بقیہ قوم کو ہلاک کردیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اُس وقت حضرت نوح نے اللہ کے حکم سے ایک بڑی کشتی بنائی۔ اِس کشتی میں ایمان لانے والے80 مردوں اور عورتوں کو سوار کیاگیا۔ اِس کے بعد اُس علاقے میں ایک سیلاب آیا۔ یہ سیلاب اتنا بڑا تھا کہ اُس علاقے کی پہاڑیاں بھی پانی کے اندر ڈوب گئیں۔ حضرت نوح کی کشتی تیرتی ہوئی جودی پہاڑ پر رُکی (11:44)۔ یہ واقعہ تقریباً 5 ہزار سال پہلے پیش آیا۔ اِس پہاڑ کا موجودہ نام ارارات (Mount Ararat) ہے۔ جدید دریافت کے مطابق، وہ مشرقی ترکی میں واقع ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کسی قوم کو عذاب دینے کا واقعہ تاریخ میں کئی بار پیش آیا ہے، لیکن ایک عظیم سیلاب کے ذریعے عذاب دینے کا واقعہ صرف ایک بار پیش آیا۔ یہ واقعہ بھی خدا کی طرف سے تاریخ کی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس بنا پر یہ ممکن ہوا کہ کشتی میں سوار اہلِ ایمان دور کے علاقے میں پہنچ جائیں۔ چنانچہ یہی بچے ہوئے اہلِ ایمان تھے جن کی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں انسان کی آبادیاں قائم ہوئیں۔ حضرت نوح کے زمانے تک انسان کی نسل صرف میسو پوٹامیا (عراق) کے محدود علاقے میں پائی جاتی تھی، لیکن طوفانِ نوح کے بعد انسان کی نسل زمین کے مختلف حصوں میں پھیل گئی۔
تاریخ کے دو دھارے
قرآن کے بیان کے مطابق، انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے انسانی زندگی کے دو دھارے بن گئے— ایک، اتباعِ ابلیس کا دھارا، اور دوسرا، اتباعِ ملائکہ کا دھارا۔ زندگی میں ہمیشہ مثبت اور منفی دونوں قسم کے پہلو موجود ہوتے ہیں۔ اتباعِ ابلیس یہ ہے کہ آدمی مثبت پہلو کو نظر انداز کرکے منفی پہلو کو اختیار کرے۔ اس کے برعکس، اتباعِ ملائکہ یہ ہے کہ آدمی منفی پہلو کو نظر اندازکرکے مثبت پہلو پر فوکس کرے۔ پوری انسانی تاریخ اِسی دو قسم کے اتباع کی کہانی ہے۔ ایک روش کو اتباع ابلیس کا کلچر کہہ سکتے ہیں اور دوسری روش کو اتباعِ ملائکہ کا کلچر۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خالق نے انسان کو مکمل آزادی دے دی ہے، خواہ اِس آزادی کی بنا پر بگاڑ کی وہ صورت پیدا ہوجائے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میںبیان کیا گیا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ (30:41)۔ یعنی،خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے۔ مگر خالق نے انسان کی آزادی منسوخ نہیں کی، البتہ خالق نے اِس کا اہتمام کیا کہ اصل مقصد تخلیق میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ خالق نے انسان کو آزادی بھی دے دی ہے اور اِسی کے ساتھ وہ تاریخ کو اِس طرح مینج (manage) کررہا ہے کہ مجموعے کی سطح پر بگاڑ کے باوجود مطلوب افراد کی پیدائش کا سلسلہ برابر جاری رہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو تاریخ کی معنویت کو واضح کرتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاریخ میں ایسے انسانوں کی مثالیں کم ہیں جنھوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا۔ زیادہ مثالیں وہ ہیں، جب کہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ بظاہر یہ تاریخ کی ایک منفی تصویر ہے، مگر اِس منفی تصویر کا بھی ایک مثبت پہلو ہے، وہ یہ کہ اِسی ماحول کے دوران وہ حالات پیدا ہوتے ہیں جب کہ انسانوں کا امتحان لے کر مطلوب افراد کا انتخاب کیا جاسکے۔ مزید یہ کہ یہ نظام مطلق معنوں میں شر نہیں ہے، بلکہ اس میں خیر کا بھی ایک پہلو پایا جاتاہے، وہ یہ کہ آزادی کی بنا پر جب ایسا ہوتاہے کہ ہر آدمی اپنی اپنی سرگرمیاں جاری کرتاہے تو اِس سے لوگوں کو طرح طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کو طرح طرح کے نقصانات پیش آتے ہیں۔ یہ سب گویا ایک طرح کا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہوتا ہے۔ اِس طرح کے ناخوش گوار تجربات کی بنا پر افراد کے اندر وہ ذہنی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں جس کو نفسیات کی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کہا جاتا ہے— نفسیاتی مطالعے کے مطابق، یہی برین اسٹارمنگ ہر قسم کی ذہنی ترقیوں کا ذریعہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معتدل حالات میں آدمی بڑے بڑے کام نہیں کرتا۔ بڑے بڑے کام صرف اُس وقت کیے جاتے ہیں، جب کہ غیر معتدل حالات پیدا ہوں۔ غیر معتدل حالات کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر شدید قوتِ عمل جاگتی ہے۔ اس کے اندر شدید محرک (strong incentive) پیدا ہوتا ہے۔ یہی شدید محرک تمام بڑے بڑے واقعات کو رونما کرنے کا سبب ہے۔
مثلاً صلیبی جنگوں کے ذریعے وہ حالات پیدا ہوئے جن کے ذریعے اہلِ یورپ میں نیچر کی طاقتوں کی دریافت کا شدید جذبہ پیدا ہوا۔ پہلی عالمی جنگ کے زمانے میں اِسی طرح کاشدید جذبہ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں ہوا بازی(aviation) کو ترقی ہوئی۔ اِسی طرح دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں وہ شدیدمحرک پیدا ہوا جس کی بنا پر کمیونکیشن کو ترقی ہوئی، وغیرہ۔
نئی منصوبہ بندی
منصوبۂ تخلیق کے مطابق، یہ ممکن نہیں تھا کہ انسان کی آزادی کو منسوخ کیاجائے۔ اِس لیے اب اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں بالواسطہ طورپر ایک دخل دیا۔اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک ایسا گروہ پیدا کیا جائے جو مذہب اور سیاسی اقتدار کو ایک دوسرے سے الگ کردے، تاکہ انسانی تاریخ اپنے صحیح رخ پر سفر کرسکے، بغیر اس کے کہ انسانی آزادی کو منسوخ کیاگیاہو۔ اِس نئے منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں کا مجموعہ خواہ آزادی کا صحیح استعمال نہ کرنے کی بناپر غلط رخ پرچلتا رہے، لیکن پھر بھی افراد کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق، صحیح مذہب کو اختیار کرسکیں۔
اِس نئے منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعے ہوا۔ حضرت ابراہیم کا مقامِ عمل قدیم عراق تھا۔ یہاں اُس وقت مشرکانہ کلچر کا غلبہ تھا۔ حضرت ابراہیم نے لمبی مدت تک اُنھیں توحید کی دعوت دی، مگر وہ لوگ اپنی کنڈیشننگ کی بنا پر توحید کی فکر کو قبول نہ کرسکے، یہاں تک کہ انھوں نے حضرت ابراہیم کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اِس صورتِ حال کا تقاضا ہوا کہ حضرت ابراہیم اپنے مقامِ عمل کو بدل دیں۔ چنانچہ وہ اپنی اہلیہ ہاجرہ اوراپنے فرزند اسماعیل کو لے کر مکہ کے قریب آگئے جواُس وقت صرف ایک ویران صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔
اِس صحرائی ماحول میں توالد وتناسل کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں وہ گروہ وجود میں آیا جس کو بنو اسماعیل کہاجاتا ہے۔ صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے ماحول میں ایک نئی قوم بنانے کا یہ عمل تقریباً ڈھائی ہزار سال تک جاری رہا۔ پھر بنو اسماعیل کے اِسی گروہ میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب پیدا ہوئے۔ پیغمبر اسلام کی 23 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں یہ ہوا کہ بنو اسماعیل کے صالح افراد بڑی تعداد میں آپ کے گرد جمع ہوگئے، یہاں تک کہ وہ گروہ بنا جس کو اصحاب رسول کہاجاتاہے۔
اصحابِ رسول کا زمانۂ عمل ساتویں صدی عیسوی ہے۔ اُن کے ذریعے منصوبہ خداوندی کے مختلف کام انجام پائے۔ مثلاً کتاب الٰہی (قرآن) کا محفوظ ہوجانا۔ دینِ خداوندی کا ایک عملی ماڈل قائم ہوجانا۔ دین خداوندی جو پچھلے انبیاء کے زمانے میں زیادہ تر فکری مرحلے تک محدود تھا، وہ اب انقلابی مرحلے میں پہنچ گیا۔ اِن تبدیلیوں کی بنا پر یہ ممکن ہوگیا کہ پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم کردیا جائے۔ تاریخ میں انفرادی پیغمبر کا دور ختم ہوجائے اور اجتماعی امت کا دور شروع ہوجائے ، وغیرہ۔
اللہ کی خصوصی نصرت سے، اصحاب رسول کے ذریعے جو انقلابی کام انجام پایا، اُس کا ایک خاص پہلو وہ تھا جس کا ذکر قرآن کی اِس آیت میں کیاگیا ہے وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلهِ (8:39)۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد وہ جارحانہ نظام ہے جو قدیم طرز کی شہنشاہیت (imperialism) کی سرپرستی میں قائم تھا۔ اِس شہنشاہی نظام نے ایک ایسا نظام قائم کررکھا تھا جو خدا کے تخلیقی منصوبے کی تنسیخ کے ہم معنی تھا، یعنی آزادیِ فکر کا خاتمہ۔ اِس لیے خدا کو یہ مطلوب تھا کہ اِس جبری شہنشاہی نظام کو توڑ دیا جائے، تاکہ انسانی قافلے کے سفر میں کوئی مصنوعی رکاوٹ حائل نہ رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ساتویں صدی عیسوی میں اِس جبری شہنشاہیت کے دو بڑے نمائندے تھے— ایک ساسانی ایمپائر (Sassanid Empire) اور دوسرے، رومن ایمپائر یا بازنتینی ایمپائر (Byzantine Empire)۔ یہ دونوں ایمپائر اتنا زیادہ طاقت ور تھے کہ اصحابِ رسول کے ذریعے ان کو مغلوب کرنا عملاً ناممکن تھا۔ عین اُس زمانے میں ایک معاون واقعہ پیش آیا، یعنی دونوں سیاسی چٹانوں کے درمیان باہمی ٹکراؤ۔ چنانچہ دونوں ایمپائر ایک دوسرے سے لڑ گئے۔ پہلے ساسانی ایمپائر نے رومن ایمپائر کو تباہ کیا، اس کے بعد رومن ایمپائر نے ساسانی ایمپائر کا زور توڑ دیا۔ اِس کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ خدائی منصوبے کے مطابق، اصحابِ رسول اُن کو مغلوب کرسکیں۔ یہ تاریخی واقعہ پیشگی طورپر منصوبۂ الٰہی میں مقدر کردیا گیا تھا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کی طرف بائبل میں پیشین گوئی کے طورپر ان الفاظ میں اشارہ کیاگیا تھا— اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے(Habakkuk, 3:6)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ساتویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے۔ اِس کے بعد یہ ہوا کہ اہلِ اسلام کو وہ سیاسی غلبہ حاصل ہوگیا جو اس سے پہلے صرف اُن سیاسی نظاموں کو حاصل تھا جو مشرکانہ کلچر کی سرپرستی کرتے تھے۔ مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کے تحت تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ اِس عمل کا نشانہ تھا— فطرت (nature) کو موضوعِ تحقیق (object of investigation) بنانا، جو اَب تک انسان کے لیے صرف موضوعِ پرستش (object of worship) بنی ہوئی تھی۔ انسان کو مکمل آزادی عطا کرکے اس کے لیے ذہنی ارتقا کا راستہ کھولنا، فطرت میں چھپے ہوئے اُن وسائل کو وقوع میں لانا جو عالمی دعوت کو ممکن بنانے والے ہوں، وغیرہ۔
انسانی آزادی کی بنا پر اِس دنیا میں تمام واقعات اسباب کے ماحول میں پیش آتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان علمی تحقیق کا کام خاص طورپر عباسی دور میں شروع ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت قائم ہوچکی تھی۔ اِس بنا پر علمی تحقیق کی طرف مسلمان صرف جزئی طورپر متوجہ ہوسکے۔ مسلمانوں کی توانائی کا بڑا حصہ سیاسی سرگرمیوں میں لگا ہوا تھا۔ ان کی توانائی کا صرف محدود حصہ علمی تحقیق کے میدان میں صرف ہورہا تھا۔ یہ تناسب ناکافی تھا۔ علمی تحقیق کا یہ کام بہت بڑا کام تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ مسلمان اپنی طاقت کو پوری یکسوئی کے ساتھ علمی تحقیق کے میدان میں وقف کردیں۔ مگر سیاسی اقتدار اِس قسم کی علمی یکسوئی میں رکاوٹ بنا ہواتھا۔
اِس کے برعکس، صلیبی جنگوں کے بعد علمی تحقیق کا کام جب یورپ کی مسیحی قوموں میں شر وع ہوا تو سیاسی اقتدار اُن کے لیے رکاوٹ نہ بن سکا، کیوں کہ عملاً وہ اُن کے پاس موجود ہی نہ تھا۔ چنانچہ مسیحی قوموں کے اعلیٰ ذہن بڑی تعداد میں علمی تحقیق کے میدان میں مصروف ہوگئے۔ انھوں نے پوری یکسوئی کے ساتھ علمی تحقیق کا کام شروع کردیا۔
یہ بھی انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا معاملہ تھا۔ جب خالق نے دیکھا کہ مسلم دنیا کے حالات علمی تحقیق کو زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دینے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، تو اُس نے علمی تحقیق کے کام کو مسلم دنیا سے نکال کر مسیحی دنیا کی طرف منتقل کردیا، جہاں اِس قسم کی رکاوٹ والے اسباب موجود نہیںتھے۔
مشرق سے مغرب کی طرف
اسلام کا آغاز 610 عیسوی میں ہوا۔ حالات کی موافقت کی بنا پر اس کی توسیع اتنی تیز رفتاری کے ساتھ ہوئی کہ 50 سال کے اندر اہلِ اسلام کا ایک ایمپائر قائم ہوگیا۔ اب یہ مطلوب تھا کہ امتِ محمدی تسخیرِ فطرت اور سماجی انقلا ب کے وہ مطلوب کام انجام دے جس کے لیے اُس کو سیاسی غلبہ عطا کیاگیا تھا۔ مگر مسلمان بہت جلد آپس کے سیاسی ٹکراؤ میں مشغول ہوگئے اور مطلوب کام کی طرف وہ زیادہ پیش قدمی نہ کرسکے۔
اب خدائی منصوبے کے مطابق، تاریخ میں وہ واقعہ پیش آیا۔ جس کو قرآن کی سورۃ محمد میں استبدالِ قوم (47:38)کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ استبدال (replacement) کا مطلب یہ تھا کہ مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے بجائے ایک اور قوم کو کھڑا کرنا۔ صلیبی جنگوں (Crusades) کے ذریعے استبدال کا یہی معاملہ پیش آیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلمانوں نے فلسطین کو مسیحیوں سے چھین لیااور اُس پر اپنا اقتدار قائم کرلیا۔ فلسطین مسیحی قوموں کے لیے ایک مقدس سرزمین (holy land) کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ مسیحی قومیں اِس قبضے کو کبھی قبول نہ کرسکیں۔ یہ نزاع باقی رہی، یہاںتک کہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے وہ شام اور فلسطین کے علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیں۔
صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ 1095 ء میں شروع ہوا۔ تقریباً 200 سال کے اندر دونوں قوموں کے درمیان وقفے وقفے سے 9 بار خوں ریز لڑائیاں ہوئیں، مگر یورپ کی مسیحی سلطنتوں کی متحدہ کوشش کے باوجود اُن کو زبردست ناکامی ہوئی۔ اِس کے بعد وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ مسلّح جنگ کے ذریعے مسلمانوں کو شکست دینا اُن کے لیے ممکن نہیں۔ چنانچہ مسیحی قوموں میں ایک نیا ذہن شروع ہوا۔ اس نئی جدوجہد کا نام اسپریچول کروسیڈ (spiritual crusades) تھا۔ اسپریچول کروسیڈ سے مراد دراصل انٹلکچول کروسیڈ (intellectual crusades) تھا۔ چنانچہ مسیحی قوموں نے اب اپنی کوششوں کو علمی ترقی کی طرف موڑ دیا۔ یونانی فلسفیوں اور مسلم فلسفیوں کی کتابوں کے ترجمے وسیع پیمانے پر لاتینی زبان میں کیے جانے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ یورپ میں تعلیم اور علمی رسرچ کی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہوئیں۔ چنانچہ اِس کی دو مثالیں یہ ہیں کہ ’’اسپریچول کروسیڈ‘‘کے سینٹر کے طورپر 1096 میں برطانیہ میں آکسفورڈ یونی ورسٹی قائم ہوئی اور 1209 میں کیمبرج یونی ورسٹی قائم کی گئی، وغیرہ۔
اس کے بعد چودھویں صدی اور سولھویں صدی عیسوی کے درمیان یورپ میں وہ انقلاب آیا جس کو نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کہاجاتاہے۔ اب اسپریچول کروسیڈس نے مزید ترقی کرکے نیچرل کروسیڈس (natural crusades) کی حیثیت اختیارکرلی۔
مغرب میں اسپریچول کروسیڈ اور نیچرل کروسیڈ ابتداء ً منفی ذہن کے تحت پیدا ہوئی۔ مغربی قوموں کو جس چیز نے ابتداء ً متحرک کیا تھا، وہ یہ تھاکہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے میدان میں ہاری ہوئی جنگ کو دوبارہ علم کے میدان میں کامیاب بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ مغرب کی اس منفی نفسیات کو محرک (incentive) کے طورپر استعمال کیا۔ اللہ نے اہلِ مغرب کو اِس کا ذریعہ بنایا کہ وہ نیچر میں چھپے ہوئے اسرار کو دریافت کریں اور ایک ایسی دنیا وجود میں لائیں جو اسلامی مشن کے لیے تائید کا ذریعہ ثابت ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اہلِ مغرب کے ذریعے یہ تائیدی واقعہ جو اپنی پوری صورت میں بیسویں صدی میں ظہور میں آیا، اس کی پیشگی خبر قرآن کی ایک آیت میں دی گئی تھی سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، مستقبل میں ہم اُن کو اپنی آیات دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاںتک کہ اُن کے اوپر یہ آشکارا ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اہلِ مغرب کے اِس رول کا تذکرہ حدیث میں بھی بطور پیشین گوئی موجود ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں إنّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفاجِرِ (صحیح البخاري، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی، اللہ اِس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے بھی کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیث میں ’فاجر‘ کا لفظ سیکولر کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِن سیکولر مؤیدین سے مراد مغربی دنیاکے وہ لوگ ہیں جن کی کوششوں سے جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی اور اس کے ذریعے آفاق وانفس کی آیات دریافت ہوئیں۔ اہلِ مغرب کے اندر انتقام کی جو نفسیات پیداہوئی، وہ فطری طور پر نہایت شدید تھی۔ اِس شدید محرک کو اللہ نے رموزِ فطرت کی دریافت کے لیے استعمال کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رموزِ فطرت کی دریافت کا یہ کام ایک بے حد مشکل کام تھا۔ اُس میں اپنے آپ کو ڈیڈی کیٹ (dedicate) کرنے کے لیے نہایت شدید محرک (strong incentive) درکار تھا۔ صلیبی جنگوں میں اہلِ مغرب کی توہین آمیز شکست (humiliating defeat) نے اُن کے اندر یہی شدید محرک پیدا کیا۔ اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں برطانیہ کی ایک سائنٹفک ٹیم نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ انٹارکٹکا (Antarctica) کی دریافت کریں۔ یہ ایک نہایت جان جوکھم کا کام تھا۔ ٹیم کے سربراہ سر ارنسٹ شیکلٹن (Sir Ernest Shackleton) نے 1900ء میں لندن کے اخبار ٹائمس (The Times) میں ایک اشتہار چھپوایا۔ اس کے الفاظ یہ تھے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
"Men wanted for hazardous journey. Small wages, bitter cold, long months of complete darkness, constant dangers, safe return doubtful. Honour and recognition in case of success."
یعنی ایک پر خطر سفر کے لیے آدمی درکار ہیں۔ بہت کم معاوضہ، شدید ٹھنڈک، لگاتارتاریکی کے لمبے مہینے، مسلسل خطرہ، محفوظ واپسی مشتبہ، کامیابی کی صورت میں عزت اور اعتراف۔
یہ اشتہار جب ٹائمس میں چھپا تو اس میں شرکت کے لیے اتنے زیادہ افراد کی درخواستیں آئیں کہ سلیکشن (selection) کی بنیاد پر اُن میں سے صرف منتخب افراد کو لیا گیا— یہی وہ مجنونانہ اسپرٹ تھی جس نے اہلِ مغرب کو یہ موقع دیا کہ وہ جدید دور کو وجود میں لاسکیں۔
فطرت کا ایک قانون
اہلِ مغرب، اصلاً خدائی دین کے مؤید کے طور پر ابھرے تھے، لیکن رد عمل کی نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اِس خدائی منصوبے کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے غیر ضروری طورپر اہلِ مغرب کو اپنا دشمن سمجھ لیا اور اُن سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کی دوسو سالہ تاریخ اِس غیر ضروری لڑائی میں ضائع ہوگئی۔تاریخ کے اِس ارتقائی سفر کو جاری رکھنے کے لیے ہمیشہ ایک قائد درکار ہوتاہے۔ اہلِ مغرب اِسی قسم کے ایک قائد تھے۔ اِس سے پہلے اہلِ اسلام کو قیادت کا یہ موقع ملا تھا۔ موجودہ زمانے میں منصوبۂ الٰہی کے تحت یہ موقع اہلِ مغرب کے حصے میں آیا۔
ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول جب ایران میں داخل ہوئے تو اہلِ ایران اُن سے خائف ہوگئے۔ انھوں نے اصحابِ رسول کے طاقت ور داخلے کو دیکھ کر کہا دیواں آمدند، دیواں آمدند (الأخبار الطوال لأبی حنيفة الدينوری، صفحہ 126)۔ یعنی دیو آگئے، دیو آگئے۔ اہلِ ایران نے اصحابِ رسول کے داخلے کو منفی معنوں میں لیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ ایک نئی تہذیب کے نقیب (harbinger) تھے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار ایک صحابی رسول ربعی بن عامرنے ایران کے سپہ سالار رستم سے گفتگو کرتے ہوئے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا اللّٰهُ ابْتَعَثَنا لِنُخْرِجَ مَن شَاءَ مِن عِبادَةِ العِبادِ إلى عِبادَةِ اللّٰهِ (البدایۃ والنھایۃ، جلد 7، صفحہ 46)۔ یعنی، اللہ نے ہم کو بھیجا ہے، تاکہ وہ جس کو چاہے، ہم اُس کو بندوں کی بندگی سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ساتویں صدی میں اٹھنے والے اصحاب رسول کی اصل حیثیت یہی تھی کہ وہ اُس زمانے میں ایک نئے دور کے نقیب تھے۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ جو گروہ نئے دور کا نقیب بن کر ابھرتا ہے، اس کو دوسروں کے اوپر قیادت (leadership) کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے۔ یہ قیادت کسی سازش یا دشمنی کے سبب وجود میں نہیں آتی، بلکہ وہ فطرت کے لازمی تقاضے کے طور پر وجود میں آتی ہے۔
یہی معاملہ موجودہ زمانے میں اہلِ مغرب کے ساتھ پیش آیا۔ اہلِ مغرب اصلاً ایک نئی تہذیب کے نقیب (harbinger) تھے۔ لیکن فطری تقاضے کے طورپر مزید یہ ہوا کہ اُن کو اپنی ہم عصر قوموں کے اوپر قیادت حاصل ہوگئی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ وہ اہلِ مغرب کی اس قیادت کو ایک فطری واقعہ سمجھ کر قبول کرلیں، جیسا کہ اِس سے پہلے دنیا کی قوموں نے مسلم قیادت کو قبول کرلیا تھا۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان اِس راز کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ انھوں نے مغربی تہذیب کو دشمنی اور سازش کا کیس قرار دے دیا۔ وہ اُن سے نفرت کرنے لگے، یہاں تک کہ ہر جگہ وہ اُن سے لڑنے لگے۔ یہ لڑائی جو جہاد کے نام پر کی گئی تھی، وہ قانونِ فطرت کے خلاف تھی، اِس لیے وہ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود مکمل طورپرناکام ثابت ہوئی۔
اِس ناکامی کی ذمے داری مکمل طور پر خود مسلمانوں کے اوپر ہے۔ مسلمانوں نے اہلِ مغرب کے خلاف جو جنگ چھیڑی، وہ اُن کے خیال کے مطابق، اہلِ مغرب کے خلاف جنگ تھی، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ منصوبۂ الٰہی کے خلاف جنگ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ مکمل طورپر ناکام ہوئی، اُس کا انجام اِس کے سوا کچھ اور نہیں نکلا کہ مسلمانوں کی تباہی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
خلافتِ آدم
قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے جب آدم (انسانِ اول) کو پیدا کیا، اُس وقت آدم کے علاوہ دو اور مخلوقات تھیں— جن اور ملائکہ۔ اللہ تعالیٰ نے جن اور ملائکہ سے کہا کہ تم آدم کے آگے جھک جاؤ۔ اُس وقت فرشتے آدم کے سامنے جھک گئے، لیکن جنات کا سردار ابلیس نہیں جھکا۔ ابلیس نے کہا کہ میں آدم سے برترہوں، کیوں کہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ایسا کیوں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب زمین بنائی تو پہلے اس کو جنات کے چارج میں دے دیا۔ مگر جنات نے سرکشی کی اور باہم لڑ کر فساد برپا کیا۔ اِس طرح جنات زمین کا انچارج بننے کے لیے نااہل ہوگئے۔ اِس کے بعد اللہ نے جنات کو معزول کردیا اور ان کی جگہ انسان کو پیدا کرکے زمین کو انسان کے چارج میں دے دیا۔ اِس تبدیلی کو جنات نے قبول نہیں کیا، اس لیے جنات کے سردار ابلیس نے آدم کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔
قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے پہلے جنات کو پیدا کیا تھا (15:27)۔ اِس لحاظ سے انسان زمین پر جنات کا جانشین، یعنی خلیفۃ الجن ہے۔ کچھ لوگ خلافت کی آیت اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً (2:30)۔ یعنی، میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں— سے یہ نظریہ اخذ کرتے ہیں کہ انسان زمین پر خدا کا خلیفہ (خلیفۃ اللہ) ہے۔ یہ نظریہ بلاشبہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کو زمین میں خلیفہ بنانے کا مطلب کیا ہے، اِس کو قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے سمجھا جاتاہے۔ یہاں اِس قسم کی دو آیتوں کا ترجمہ نقل کیا جاتاہے
1۔ ’’کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے گا، اِس سے پہلے کہ میرے رب کہ باتیں ختم ہوں، اگر چہ ہم اس کے ساتھ اِسی کے مانند اور سمندر ملادیں‘‘ (18:109)۔
Qur'anQuotes the Qur'an
2 ۔ ’’اور اگر زمین میں جو درخت ہیں، وہ قلم بن جائیں اور سمندر سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں ۔ بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے‘‘ (31:27)۔
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن کی اِن آیتوں میں جن لامحدود کلماتِ الٰہی کا بیان ہے، وہ صرف بطور خبر نہیں ہے، بلکہ وہ بطور انشاء ہے۔ اِن آیتوں میں اشارۃً یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ کائنات میں چھپے ہوئے اِن کلمات کو دریافت کیا جائے اور ان کو ’’قلم‘‘ سے لکھا جائے، تاکہ انسان اللہ کی عظمتوں سے واقف ہو اور اعلیٰ درجۂ معرفت کے ساتھ الحمد للہ کہہ سکے۔
اللہ کے منصوبے کے مطابق، کلمات اللہ کی دریافت (discovery) اور ان کو قلم بند کرنے کا پراسس (process) موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور آخرت میں دوبارہ جاری رہ کر وہ تکمیل کے منازل طے کرتا ہے۔ موجودہ دنیا میں اِس عمل کے ذریعے ظہور میں آنے والے واقعے کا نام انسانی تہذیب (human civilization) ہے۔ جدید انسانی تہذیب اپنی نوعیت کے اعتبار سے، دراصل، فطرت (nature) میں چھپے ہوئے کلماتِ الٰہی کو دریافت کرنے ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہ عمل ابتدائی طورپر اِسی دنیا میں انجام پاچکا ہے اور اِسی کا نام جدید تہذیب ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن کی اِس آیت میں پیشگی طورپر کیا گیا ہے سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کلمات اللہ کے اِس دنیوی اظہار کا کام زیادہ تر سیکولر اہلِ علم نے کیا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر ایک حدیث رسول میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفاجِرِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی، بیشک اللہ تعالیٰ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعہ فرمائے گا۔ اِس حدیث میں، ’’رجل فاجر‘‘ سے مراد موجودہ زمانے کے سیکولر اہلِ علم ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے غیر معمولی محنت کے ذریعے جدید تہذیب کو وجود دیا ہے جو کہ ’’کلمات اللہ‘‘ کی جزئی انفولڈنگ (unfolding) کے ہم معنی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کلمات اللہ لامحدود ہیں اور موجودہ دنیا کے امکانات محدود۔ اِس لیے موجودہ دنیا میں کلمات اللہ کی انفولڈنگ صرف محدود طورپر ہی ہوسکتی ہے۔ کلمات اللہ کی کامل انفولڈنگ کے لیے ایک اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔ اِسی وسیع تر دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت میں یہ ہوگا کہ پوری انسانی تاریخ سے، لائق افراد منتخب کیے جائیں گے اور اِن منتخب افراد کو آخرت کی ابدی دنیا میں بسایا جائے گا۔ وہاں یہ منتخب افراد کلمات اللہ کی مزید انفولڈنگ کا کام انجام دیں گے۔
یہ انفولڈنگ ابد تک جاری رہے گی، وہ کبھی ختم نہ ہوگی۔ آخرت میں کلمات اللہ کی انفولڈنگ کے ذریعے ایک برتر تہذیب وجود میں آئے گی۔ اِس کو خدائی تہذیب (divine civilization) کہاجاسکتا ہے۔ کلمات اللہ کی اِس لامحدود انفولڈنگ کو قرآن میں وَأَشْرَقَتِ الأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا (39:69)۔ یعنی، اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی— کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بسم اللہ کے بعد قرآن کی پہلی سورۃ کی پہلی آیت یہ ہے اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (1:2)۔ یعنی، سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہان کا مالک ہے۔ یہ حمد خداوندی کا ابتدائی درجہ ہے جو موجودہ دنیا میں کلمات اللہ کی جزئی انفولڈنگ کے دوران ادا ہوگا۔ٹھیک یہی کلمہ (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) قرآن کی سورۃ الزمر میں آیا ہے (39:75)۔ سورۃ الفاتحہ میں حمدخداوندی کے اُس درجے کا بیان تھا جو کہ دنیا میں کلمات اللہ کی ابتدائی انفولڈنگ کے وقت ادا ہوا۔ اور سورۃ الزمر میں اُس حمد خداوندی کا ذکر ہے جو کہ آخرت میں کلمات اللہ کی انتہائی انفولڈنگ کے وقت اہلِ جنت کی زبان سے ادا ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ دنیا وہ جگہ تھی جہاں انسان کو تمام چیزیں بقدر ضرورت دی گئی تھیں (14:34) ۔ آخرت کی جنت وہ جگہ ہوگی جہاں اس کے باشندوں کو تمام اعلیٰ نعمتیں درجۂ اشتہا (41:31) میں حاصل ہوں گی۔ آخرت کی جنت میں یہ تمام نعمتیں اس کے باشندوں کو خدائی میزبانی (divine hospitality) کے طور پر حاصل ہوں گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آخرت میں اہلِ جنت کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ یہ ہوگا کہ وہ لامحدود کلمات اللہ کی بقیہ انفولڈنگ کریںاور ایک برتر تہذیب (super civilization) کو وجود میں لائیں۔ کلمات اللہ کی انفولڈنگ کا یہ کام ابد تک جاری رہے گا۔ اس لیے اہلِ جنت کا دورِ مسرت بھی ابد تک جاری رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہوگا۔
اسلام کی تاریخ
خدا نے انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ اِسی کے ساتھ خدا عام تاریخ کو نیز اسلامی تاریخ کو مینج (manage) کررہاہے، تاکہ تخلیق کا خدائی مقصد یقینی طور پر حاصل ہوتا رہے۔ خدائی سنت کے مطابق، اس مینج مینٹ کی تکمیل ہمیشہ کچھ افراد کے ذریعے ہوتی ہے۔ اِس خدائی مینج مینٹ کی چار بڑی صورتیں ہیں
1 ۔ ادارتی رول (institutional role)
2 ۔ انقلابی رول (revolutionary role)
3 ۔ علمی رول (academic role)
4 ۔ انفرادی رول (individual role)
ادارتی رول کی ایک معلوم تاریخی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے۔ انھوں نے تقریباً چار ہزار سال پہلے مکہ میں کعبہ (بیت اللہ) کی تعمیر کی۔ یہ کعبہ گویا کہ مذہبِ توحید کا ایک ادارتی مرکز (institutional centre) ہے۔ کعبہ سارے عالم کے موحدین کا مرکز ہے اور قیامت تک وہ موحدین کا مرکز بنا رہے گا۔
خدا کے دین کی لمبی تاریخ میں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم (وفات 632 ء) کا رول ایک انقلابی رول ہے۔ آپ نے تاریخ انسانی کو ایک نئے دور میں داخل کیا۔ اِس انقلابی عمل میںصحابہ اور تابعین کا رول مددگار رول (supporting role) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس انقلاب کے اثرات تاریخ میں آج تک جاری ہیں اور قیامت تک جاری رہیں گے۔
علمی رول یا اکیڈمک رول کی حیثیت سے محدثین کا نام سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ محدثین نے یہ کیا کہ انھوں نے دینِ خداوندی کے دوسرے مستند ماخذ حدیثِ رسول کو اِس طرح مدوّن کردیا کہ وہ بعد کی تمام نسلوں کے لیے خدا کے رسول کی رہنمائی کو جاننے کا قابلِ اعتبار ماخذ بنا۔ ابتدائی دور کے ان محدثین کا زمانہ نویں صدی عیسوی ہے۔
انفرادی رول کی حیثیت سے نمایاں نام اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز (وفات 720 ء) کا ہے۔ وہ 717 عیسوی میں بنو امیہ کے خلیفہ منتخب ہوئے جن کا دارالسلطنت دمشق تھا۔ ان کی خلافت کی مدت صرف ڈھائی سال ہے۔ انھوں نے اِس مختصر مدت میں ایک بہت بڑا تجدیدی کام کیا، مگر اُن کا یہ رول ایک انفرادی رول تھا جو اُن کی زندگی تک باقی رہا اور ان کی وفات پر عملاً ختم ہوگیا۔
مذکورہ چار تاریخی ماڈل میں ابتدائی تین ماڈل صرف ایک بار کے لیے تھے۔ بعد کی نسلوں کے لیے یہ رہنمائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، لیکن اب ان کا اعادہ ممکن نہیں۔ البتہ چوتھا رول (انفرادی رول) بدستور جاری ہے۔ بعد کی نسلوں میں بھی یہ ممکن ہے کہ اُن کے درمیان کوئی فرد اٹھے اور اپنے حالات کی نسبت سے کوئی مطلوب انفرادی رول ادا کرے۔ مگر اصلاً یہ ایک شخص کا رول ہوگا جو عملاً اس کی شخصی زندگی تک جاری رہے گا اور اس کے بعد ختم ہوجائے گا۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ کسی پہلو سے اس کا اثر حسب حالات بعد کے زمانے میں بھی باقی رہے۔
واضح ہو کہ اگر اس قسم کا کوئی فرد اپنے زمانے میں ایک تنظیم بنائے اور وہ تنظیم اس کی وفات کے بعد باقی رہے تو یہ تنظیم اس فرد کے رول کے استمرار (continuation) کے ہم معنی ہوگی، بلکہ وہ ایک ایسے ڈھانچہ کے استمرار کے ہم معنی ہوگا جو متوفیّٰ کے نام پر اس کے بعد بھی جاری رہے گا۔ ایسی کوئی تنظیم بعد کو اگر باقی رہتی ہے تو وہ کسی مادی بنیاد پر باقی رہتی ہے، نہ کہ مشن کی اصل اسپرٹ کی بنیاد پر۔
اخوانِ رسول کا رول
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت حدیث کی کتابوں میں اِس طرح آئی ہے وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا، قالواأَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قالأَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْ تُوا بَعْدُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیںہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تاریخ میں دو اہم رول مقدر تھے— ایک، اصحابِ رسول کا رول، اور دوسرے، اخوانِ رسول کا رول۔ اصحابِ رسول کا رول یہ تھا کہ وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا آغاز کریں، ایک ایسا عمل جب کہ قدیم دور ختم ہو اور ایک نیا دور نئے مواقع اور نئے امکانات کے ساتھ ظہور میں آئے۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے اِس طرح کہا جاسکتا ہے کہ پہلے دور سے مراد روایتی دور ہے، اور دوسرے دور سے مراد سائنٹفک دور۔
اصحاب رسول اور اخوانِ رسول دونوں ہی کا نشانہ ایک ہوگا اور وہ ہے دعوت الی اللہ۔ اِس دعوت الی اللہ کے دو بڑے دور ہیں— ایک ہے عالمی کمیونکیشن سے پہلے کا دور۔ دوسرا ہے، عالمی کمیونکیشن کے بعد کا دور۔ اصولی طورپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ عالمی کمیونکیشن کے ظہور سے پہلے جو مواقع تھے، اصحابِ رسول نے اُن کا بھر پور استعمال کیا۔ بعد کو عالمی کمیونکیشن کے زمانے میں جو مواقعِ دعوت پیدا ہوں گے، اُن کو جو لوگ بھر پور طورپر استعمال کریں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو حدیث میں اخوانِ رسول کہاگیا ہے۔اخوانِ رسول کسی پراسرار گروہ کا نام نہیں۔
جنت کی دنیا
انسانی تاریخ ایک عورت اور ایک مرد سے شروع ہوئی، پھر لوگ پیدا ہوتے رہے او ر مرتے رہے۔ اِس طرح یہ سلسلہ نسل درنسل ہزاروں سال سے قائم ہے۔ اکیسویں صدی کے رُبع اوّل میں پورے کرۂ ارض پر انسانوں کی تعداد سات بلین سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اس سے پہلے جو لوگ مرگئے، وہ بھی معدوم نہیں ہوئے، بلکہ وہ آخرت کی دنیا میں بدستور زندہ موجود ہیں۔
جس طرح انسانی تاریخ کا ایک آغاز ہے، اُسی طرح اس کا ایک اختتام بھی ہے۔ انسانی تاریخ کے خاتمے کے بعد ایک اور دنیا بنے گی۔ یہ دنیا کامل معنوں میں ایک معیاری دنیا ہوگی۔ اِس معیاری دنیا میں پوری تاریخ کے منتخب افراد آباد کیے جائیں گے۔ قرآن میں اِس حقیقت کو اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِى الصّٰلِحُوْنَ (21:105)۔ یعنی، زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوںگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ حقیقت پچھلی آسمانی کتابوںمیں بھی بیان ہوئی ہے۔ موجودہ بائبل میں اِس سلسلے میں یہ الفاظ آئے ہیں— بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر اور ہمیشہ تک آباد رہ ، کیوں کہ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے اور وہ اپنے مقدسوں کو ترک نہیں کرتا، وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں،پر شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔ صادق زمین کے وارث ہوں گے اوراس میں ہمیشہ آباد رہیں گے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Depart from evil, and do good; And dwell forevermore. For the Lord loves justice, And does not forsake His saints; They are preserved forever, But the descendants of the wicked shall be cut off. The righteous shall inherit the land, and dwell in it forever. (Psalm 37:27-29)
other sourceWords of another person or source
قرآن کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ جنت میں کیسا معیاری ماحول ہوگا اور وہاں ہر قسم کے اعلیٰ سامان وافرمقدار میں موجود ہوں گے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا (76:20)۔ یعنی، تم جہاں دیکھو گے، وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Wherever you look, you will see bliss and a great kingdom.
جنت میں اہلِ جنت کے لیے جو اعلیٰ انتظامات ہوں گے، اُن کا خلاصہ قرآن کے اِن الفاظ میں بیان کردیاگیا ہے— نعیم، اور ملکِ کبیر۔ نعیم سے مراد ہر قسم کی نعمتیں (blessings) ہیں۔ انسان جو کچھ چاہے گا، وہ سب وہاں اُس کے لیے کامل صورت میں موجود ہوگا (41:31) ۔ ملکِ کبیر سے مراد مکمل آزادی ہے، یعنی کسی بھی قسم کی پابندی کے بغیر زندگی گزارنے کا موقع حاصل ہونا۔ اِس مکمل آزادی کی نعمت اُن خوش قسمت افراد کو حاصل ہوگی جنھوں نے موجودہ دنیامیں یہ ثبوت دیا تھا کہ وہ آزادی کے باوجود اپنی آزادی کا صرف صحیح استعمال کرنے والے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنت کی وسعتوں کو بتاتے ہوئے قرآن میں یہ بات آئی ہے وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ (3:133)۔ یعنی، دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اُس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی طرح ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کے الفاظ یہ ہیں وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِى صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ۚفَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ (39:74)۔ یعنی، اہلِ جنت کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کردکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، ہم جنت میں جہاں چاہیں، مقام کریں۔ پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنت کی یہ وسعت موجودہ زمانے میں ایک قابلِ فہم واقعہ بن چکی ہے۔ جدید دوربینوں کے مشاہدے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کائنات کی وسعتوں میں ایسے قابلِ آباد کاری سیارے (habitable planets) بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ صرف ہماری کہکشاں (Milky Way) کے اندر کئی بلین کی تعداد میں اِس طرح کے سیارے موجود ہیں۔
اِس نئی دریافت کو لے کرغور کیا جائے تو جنت کے بارے میں عجیب قسم کا پراہتزاز تصور (thrilling concept) معلوم ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ غالباً جنت بے شمار ہرے بھرے سیاروں کا ایک کائناتی مجمع الجزائر (universal archipelago) ہے۔ تمام جزیرے اپنی اپنی جگہ پر مکمل دنیائیں ہیں۔ اِسی کے ساتھ وہ انتہائی اعلیٰ قسم کے کمیونکیشن کے ذریعے باہم جڑے ہوئے ہیں۔ آخرت کے دور میں شاید ایسا ہوگا کہ ہر جنتی کو زندگی گزارنے کے لیے مستقل دنیائیں حاصل ہوں گی۔ اِسی کے ساتھ وہ دوسرے جنتی باشندوں سے معیاری کمیونکیشن کے ذریعے ہر لمحہ مربوط ہوگا۔ جنت میں ہر قسم کی نعمتیں بھی ہوں گی اور کامل آزادی بھی۔ اِسی کے ساتھ جنت گویا اعلیٰ انسانوں پر مبنی ایک کائناتی سماج ہوگا، جہاں ہر انسان کو کامل معنوں میں فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔
ابدی جنت کی یہ ناقابلِ بیان حد تک اعلیٰ نعمتیں اہلِ جنت کو تمام تر اور یک طرفہ طورپر اللہ کی رحمت کے ذریعے حاصل ہوں گی، لیکن اہلِ جنت کے اعزاز کے لیے اللہ کی طرف سے یہ اعلان کیا جائے گا کہ وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (43:72)۔ یعنی، یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیے گئے ہو، اُس عمل کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کا تصورِ تاریخ
قرآن کے بارے میں ایک لمبی حدیث کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے کتاب اللہ، فِيهِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3130)۔ یعنی، قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں تم سے پہلے کے لوگوں کی باتیں ہیں اور اس میں تمھارے بعد کے لوگوں کی خبریں ہیں۔ ایک صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود نے قرآن کے بارے میں فرمایا فِيهِ عِلْمُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ (شعب الایمان للبہیقی، حدیث نمبر 1808)۔ یعنی، قرآن میں پچھلے لوگوں کا بھی علم ہے اور بعد کے لوگوں کا بھی علم ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن جامع معنوں میں انسانی نسلوں کی کوئی تفصیلی تاریخ ہے۔ اِس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قرآن میں تاریخِ بشری کے نمائندہ واقعات موجود ہیں، یعنی ایسے تاریخی حوالے جن پر غور کرکے پورے دورِ تاریخ کی ایک جامع تصویر بنائی جاسکتی ہے۔
تاریخ کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ گزرے ہوئے واقعات کا سلسلہ وار بیان (chronicle) ہو۔ یہ تاریخ کا معروف مؤرخانہ تصور ہے۔ تاریخ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تاریخی واقعات کو اِس اعتبار سے بیان کیا جائے کہ وہ خالق کے نقشۂ تخلیق کو بتانے والا ہو۔ تاریخ کے پہلے تصور میں تمام واقعات کا احاطہ مقصود ہوتاہے۔ تاریخ کے دوسرے تصور میں تاریخ کے صرف منتخب اور نمائندہ اجزا بیان کیے جاتے ہیں۔
یہی دوسرا طریقہ قرآن کے تصورِ تاریخ کے مطابق ہے۔ مگر یہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ تاریخ کے نمائندہ واقعات بھی قرآن میں مروّجہ تاریخی اسلوب میں نہیں ہوتے، وہ صرف حوالہ (reference) کے اسلوب میں ہوتے ہیں۔ اِس معاملے میں قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں جن تاریخی حوالوں کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ اشارے کی زبان میں ہوتے ہیں۔ یہ قاری کے اوپر چھوڑ دیاجاتاہے کہ وہ ایسا کرے کہ قرآن کے باہر جو تاریخی ریکارڈ موجود ہے، اُس سے ضروری اجزا لے کر وہ قرآن کے اشارات کی تفصیل کرے۔ وہ بظاہر غیر متعین زبان میں کہی ہوئی بات کو متعین اسلوب میں مدوّن کرے۔
اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت آدم کے بعد ان کی نسل میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کے علاقے میں آباد ہوئی۔ یہ نسل شریعتِ آدم پر قائم تھی۔ بعد کے زمانے میں جب اُن کے اندر بگاڑ آیا تو تقریباً پانچ ہزار سال پہلے پیغمبر نوح پیدا ہوئے۔ انھوں نے لمبی مدت تک لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ کچھ افراد نے آپ کی دعوت کومانا، لیکن بیش تر افراد نے اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ اِس کے بعد اِس علاقے میں ایک بڑا طوفان آیا۔ اِس موقع پر ایمان لانے والے افراد ایک کشتی کے ذریعے بچا لیے گئے اور بقیہ تمام افراد ہلاک کردیے گئے۔
اِس کشتی کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَصْحٰبَ السَّفِيْنَةِ وَجَعَلْنٰهَآ اٰيَةً لِّــلْعٰلَمِيْنَ (29:15)۔ یعنی، پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور ہم نے اس کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنادیا۔ قرآن کی ایک اور آیت میں اس واقعے کا ذکر اِن الفاظ میں آیاہے وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (54:15)۔ اِس آیت کا ترجمہ شاہ عبدالقادر دہلوی نے اِن الفاظ میں کیا ہے— اور اس کو ہم نے رہنے دیا نشان کے لیے (We have left it as a sign)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت نوح کا واقعہ ایک پورے دورِ تاریخ سے تعلق رکھتا ہے جو حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا ایک نمائندہ جُز کشتی ٔ نوح (Noah's Ark) ہے۔ کشتی ٔ نوح کے بارہ میں قرآن نے بتایا کہ اُس کو اللہ نے عبرت کے طورپر باقی رکھا ہے۔ ساتویں صدی کے ربع اول میں بوقتِ نزولِ قرآن کسی کو اِس کشتی کا علم نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پہاڑوں کے اوپر جمی ہوئی برف بڑے پیمانے پر پگھلنے لگی۔ اس کے بعد ہوائی سروے کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ ترکی کے مشرقی علاقے میں کوہِ ارارات (Mount Ararat) کے اوپر وہ کشتی برف کی موٹی تہ کے نیچے دبی ہوئی موجود تھی جو اکیسویں صدی میں سامنے آگئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں کشتی نوح کا ذکر مختصر طورپر موجود تھا۔ اب بعد کو دریافت کردہ معلومات کی روشنی میں یہ ممکن ہوگیا کہ تاریخ بشری کے اس باب کو زیادہ تفصیل کے ساتھ مرتب کیا جائے اور اس کو قرآن کی تاریخی تفہیم کے لیے استعمال کیا جائے۔
اِس قسم کا ایک اور تاریخی حوالہ وہ ہے جو پیغمبر موسیٰ کے دورِ تاریخ سے تعلق رکھتاہے۔ تقریباً تین ہزار سال پہلے مصر میں یہ واقعہ ہوا کہ پیغمبر موسیٰ کے معاصر بادشاہ فرعون کو خدا نے بحرِ قلزم (Red Sea) میں غرق کردیا۔ اس کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے کہ بوقتِ غرق اللہ نے فرمایا فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً (10:92)۔یعنی، آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فرعون کا یہ واقعہ بھی ایک پورے دورِ تاریخ کی علامت ہے۔ مگر ساتویں صدی عیسوی میں جب کہ قرآن نازل ہوا، یہ بات کسی کو معلوم نہ تھی کہ فرعون کی لاش کہاںمحفوظ ہے۔ انیسویں صدی کے آخر میں یورپ کے کچھ مستشرقین نے دریافت کیا کہ مذکورہ فرعون کی لاش محفوظ حالت میں اہرامِ مصر میں موجود ہے۔ اب یہ لاش اہرامِ مصر سے نکال کر قاہرہ کے میوزیم میں رکھ دی گئی ہے۔ اِس واقعے کی تفصیل ڈاکٹر موریس بکائی کی کتاب (The Bible, The Quran and Science) میں دیکھی جاسکتی ہے۔
قرآن نے انسانی تاریخ کا جو تصور دیا ہے، اس کے مطابق، ایسے علامتی واقعات قرآن میں موجود ہیں جن کو مزید معلوم تاریخ کے اضافے سے از اول تا آخر مدون کیا جاسکتاہے۔ قرآن میں پچھلی تاریخ کے بارے میں علامتی واقعات ملتے ہیں اور بعد کی تاریخ کے بارے میں ایسی پیشین گوئیاں موجود ہیں جو قیامت تک کی پوری تاریخِ انسانی کا احاطہ کررہی ہیں۔ قرآن میں موجود اِن تاریخی حوالوں کی حیثیت صرف عنوانات کی ہے۔ اِن عنوانات کی روشنی میں اگر دیگر حاصل شدہ معلومات کو شامل کیا جائے، تو اس کے ذریعے قرآن کے تصورِ تاریخ کے مطابق، انسانی تاریخ کی پوری تصویر بنائی جاسکتی ہے۔
خلاصۂ کلام
مورخین کے یہاں مختلف قسم کے تاریخی تصورات پائے جاتے ہیں۔مثلاً خاندانی بادشاہت کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، قوموں کے عروج و زوال کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، مختلف تہذیبوں (civilizations) کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، وغیرہ۔ مگر خدائی تصورِ تاریخ (divine concept of history) اِس سے مختلف ہے۔ خدائی تصورِ تاریخ کیا ہے، اس کو قرآن کے مطالعے سے سمجھا جاسکتاہے۔
خدائی تصورِ تاریخ کے مطابق، اللہ نے انسان کو پیداکیا۔ اس کے بعد انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ توالد وتناسل کے ذریعے اپنی تعداد بڑھائے۔ اس کی نسلیں کرۂ ارض (planet earth) کے مختلف حصوں میں آباد ہوں۔ اللہ نے انسان کو مکمل آزای عطا کی۔ اللہ نے انسان کو یہ موقع دیا کہ خواہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اس كا غلط استعمال کرے، وہ زمین میں اصلاح کرے یا وہ زمین میں فساد برپا کرے، وہ اپنی زندگی کو عدل پر قائم کرے یا بے انصافی پر قائم کرے، حتی کہ انسان کو یہ بھی آزادی حاصل ہے کہ چاہے تو وہ اللہ کا اقرار کرے اور چاہے تو وہ اللہ کا انکار کرکے سرکش بن جائے۔ اللہ کے منصوبے کے مطابق، آزادی کی یہ صورتِ حال قیامت تک جاری رہے گی۔
اِس پورے تاریخی عمل کے دوران اللہ کا مطلوب صرف ایک ہے، اور وہ ہے صالح افراد کا انتخاب۔ یہ افراد وہ ہیں جو ہر قسم کے ہنگاموں کے باوجود اپنے آپ کو آزادی کے صحیح استعمال پر قائم رکھیں، جو اپنی ذہنی قوتوں کو استعمال کرتے ہوئے اور نبیوں کی ہدایت سے استفادہ کرتے ہوئے اللہ کودریافت کریں اور اپنی زندگی کو ہدایتِ الٰہی کے مطابق بنائیں۔ اِسی قسم کے صالح افراد اللہ کو مطلوب ہیں۔ اللہ اپنے خصوصی انتظام کے تحت پوری تاریخ میں مسلسل طورپر ایسے ہی صالح افراد کا انتخاب کررہا ہے۔
آدم سے لے کر قیامت تک کے پورے تاریخی عمل کے دوران اللہ کی سنت یہ ہے کہ انسان کی آزادی کو منسوخ نہ کیا جائے، البتہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو اِس طرح مینج (manage) کیا جائے کہ اللہ کا اصل مطلوب (صالح افراد کی پیداوار) کا عمل برابر جاری رہے۔
دوسرے مورخین تاریخ کو مجموعے کی صورت میں دیکھتے ہیں، جب کہ خدائی تصور کے مطابق، صحیح یہ ہے کہ تاریخ کو افراد کے اعتبار سے دیکھا جائے۔ انسانی مجموعے کو لے کر تاریخی رائے قائم کرنا مورخین کا طریقہ ہے، جب کہ خدائی تصور کے مطابق، صحیح طریقہ یہ ہے کہ انسانی افراد کو لے کر تاریخ کے بارے میں رائے قائم کی جائے۔