← Izhar-e-DeenIzhar-e-Deen
باب سوم
Urdu · 403 min read
اسلام اكيسويں صدى ميں
اكيسويں صدى غالباً تهذيبى ارتقا كا نقطهٔ انتها (culmination) هے۔ انسانى تهذيب مختلف مراحل سے گزرتےهوئے اب غالباً اپنے آخرى مرحلے ميں پهنچ چكى هے۔ بظاهر حالات اب تهذيب كے سفر كا كوئى مزيد مرحله باقى نهيں۔
پيغمبرانه مشن ميں ارتقا (evolution) كا كوئى تصور نهيں۔ پيغمبرانه مشن اپنى آئڈيالوجى كے اعتبار سے، هميشه ايك هى تھا اور آخر تك ايك هى رهے گا، البته دعوتى طريقِ كار كے اعتبار سے، وه ايك ارتقا پذير واقعه هے۔ نئے حالات هميشه نئے مواقع پيدا كرتے هيں اور داعى كا كام يه هے كه وه اِن نئے مواقع كو دريافت كرے اور اُن كو بھر پور طور پر دعوت الى الله كے كام ميں استعمال كرے۔
اسلام كى تكميل كے دو پهلو
اسلام كى تكميل كے دو پهلو هيں— ايك، وه جس كو قرآن ميں دين كى تكميل (5:3) كهاگيا هے۔ قرآن كى مذكوره آيت ميں ’’تكميل‘‘ سے مراد احكامِ دين كى فهرست كى تكميل نهيں هے اور نه اُس سے يه مرادهے كه كوئى ارتقائى ترتيب هے اور 10 هجرى ميں يه ارتقائى ترتيب مكمل هوگئي۔ اِس سے مراد صرف آياتِ قرآنى كے نزول كى تكميل هے۔ اِس سے مراد عملاً وهى چيز هے جس كو قرآن كى دوسرى سوره ميں اِن الفاظ ميں بيان كيا گيا هے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)۔یعنی، یہ یاد دہانی (قرآن) ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تكميل كا دوسرا پهلو وه هے جس كا تعلق دين كى تكميل سے نهيں هے، بلكه اس كا تعلق دعوت كى اشاعت اور توسيع سے هے۔ اِس دوسرے پهلو كا ذكر قرآن ميں اشارةً آيا هے۔ يه اشاره قرآن كى اِس آيت ميں موجود هے قُلْ اَى شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً ۭ قُلِ اللّٰهُ ڐ شَهِيْدٌۢ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۣوَاُوْحِى اِلَى هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ (6:19)۔ يعنى، پوچھو كه سب سے بڑا گواه كون هے۔ كهو، الله۔ وه ميرے اور تمھارے درميان گواه هے۔ اور ميرى طرف يه قرآن وحى كيا گيا هے، تاكه ميں تم كو اس سے خبردار كردوں اور وه بھى جن كو يه (قرآن) پهنچے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس كا مطلب يه هے كه پيغمبر اِس قرآن كے ذريعے سے اپنے معاصرين كو آگاه كرے اور بعد كے زمانے ميں پيغمبر كے ماننے والے اگلى نسلوں كو هردور ميں اُس سے آگاه كرتے رهيں۔ دعوت كايه عمل مسلسل طور پر قيامت تك جارى رهے گا۔دعوت الى الله كى اِس عالمى تكميل كا ذكر ايك حديثِ رسول لا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ كَلِمَةَ الإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)—یعنی، دنیا کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں اللہ تعالی اسلام کا کلمہ داخل کردے گا— ميں زياده واضح طورپر آيا هے۔ دعوت الى الله كى عالمى اشاعت كے ليے عالمى ذرائع مواصلات دركار تھے، جو كه ساتويں صدى عيسوى ميںقابلِ حصول نه تھے۔ اِس ليے دعوت الى الله كى تكميل كو مستقبل ميں پيش آنے والے واقعے كى حيثيت سے بطور پيشين گوئى (prediction) بيان كيا گيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دورِ آخر كے دُعاة
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى ايك حديث اِن الفاظ ميں آئى هے عِبادٌ لَيْسوا بِأَنْبِياءِ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ لِمَقْعَدِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللهِ يَوْمَ القِيَامَةِ (مسند احمد، حدیث نمبر 22894)۔ يعنى، الله كے كچھ ايسے بندے هيں جو نه پيغمبر هوں گے اور نه شهيد، مگر قيامت كے دن انبياء اور شهدا بھى اُن پررشك كريں گے، الله سے اُن كے قرب كى بناپر۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حديثِ رسول ميں غبطة (envy) كا لفظ اپنے لفظى معنى ميں نهيں هے، يعنى اس كا مقصد مذكوره افراد كى پراسرار فضيلت بيان كرنا نهيں هے، بلكه يه دراصل تحير خيز پسنديدگى (wondrous appreciation) كے معنى ميں هے، يعنى وه لوگ اگر چه پيغمبركے امتى هوں گے، ليكن پيغمبر كى هدايت كا اتباع كرتےهوئے اُن كے ذريعے كچھ ايسے كام انجام پائيں گے جو پچھلى پورى تاريخِ نبوت ميں انجام نهيں پايا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه معامله كوئى پراسرار معامله نهيں، غور كركے اس كو سمجھا جاسكتا هے۔ اصل يه هے كه دينِ خداوندى ميں جو چيز مطلوب هيں، وه به تمام وكمال وجود ميں آچكى هيں— وحى الٰہی كے ذريعے آئى هوئى هدايت كا پورى طرح محفوظ هوجانا، پيغمبر كى صورت ميں انسان كى زندگى كا ايك رول ماڈل (role model) تيار هوجانا، دينِ خداوندى كى تاريخ كا ايك مستند ريكارڈ وجود ميں آجانا، مذهبى جبر كا هميشه كے ليے ختم هوجانا، دورِ بادشاهت ميں هر چيز پر جو شخصى كنٹرول قائم تھا، اس كا ختم هو كر دورِ جمهوريت آجانا، جب كه انسانى سرگرميوں كے تمام مواقع پورى طرح كھل گئے، وغيره۔پيغمبرانه مشن كے تحت يه تمام چيزيں مطلوب تھيں جو كه مكمل طورپر حاصل هوگئيں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مگر ايك مطلوب ايسا تھا جو پيغمبر اور اصحابِ پيغمبر كى تاريخ كے دوران پورى طرح حاصل نهيں هواتھا، اور وه هے دعوتِ خداوندى كى عالمى اشاعت۔ قرآن ميں كها گياهے كه الله نے يه كتاب اِس ليے بھيجى هے، تاكه وه تمام اهلِ عالم تك پهنچے اور تمام لوگوں كے ليے آگاهى كا ذريعه بنے (25:1)۔ مگر جيسا كه معلوم هے، پيغمبرانه تاريخ كے دور ميں يه عالمى مطلوب پورى طرح واقعه نه بن سكا۔ اِس كا فطرى سبب يه تھاكه دين كى عالمى اشاعت كے ليے عالمى مواصلات كى ضرورت هے، اور عالمى مواصلات كے يه ذرائع پچھلے زمانے ميں موجود هى نه تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس پهلو سے غور كرنے كے بعد يه بات سمجھ ميں آتى هے كه مذكوره حديثِ رسول ميں جن خوش قسمت لوگوں كا ذكر هے، وه سچے اهلِ ايمان كى وه جماعت هے جو دورِ مواصلات ميں دينِ خداوندى كے اِس دعوتى نشانے كو اس كى آخرى تكميل تك پهنچائے گى كه اُس سے روئے زمين پر بسنے والے تمام مرد اور عورت باخبر هوجائيں۔ قيامت ميں كوئى فرد يا گروه ايسا نه رهے كه جو جائز طورپر يه كهه سكے كه إِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِينَ(7:172)۔ یعنی، ہم کو اس کی خبر نہ تھی۔ تاريخ انسانى كے دورِ آخر ميں الله كى توفيق سے جو اهلِ ايمان اِس دعوتى نشانے كو پورا كريں گے، وهى غالباً وه لوگ هيں جن كا ذكر مذكوره حديثِ رسول ميں كيا گيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ٹيم اسپرٹ
وه گروه جس كو آخرت ميں قربِ خداوندى كى نسبت سے اتنا بڑا درجه ملے گا كه انبياء اور شهدا بھى اُن پر رشك كريں گے، ان كى وه صفتِ خاص كيا هوگى جو اُن كو قربت كے اِس مقام تك پهنچائے گي۔ اِس صفت كا ذكر مذكوره حديثِ رسول ميں اِن الفاظ ميں آيا هے المُتَحابُّونَ فِي (مسند احمد، حدیث نمبر 11829)۔ یعنی، الله كے ليے آپس ميں ايك دوسرے سے محبت كرنے والے۔اِس حديث رسول ميں قابلِ غور بات يه هے كه اس ميں يه نهيں فرمايا كه الله كى ذات سے محبت كرنے والے، بلكه يه فرمايا كه الله كے ليے آپس ميں محبت كرنے والے۔ گويا اِس كا مطلب يه هے كه خالص الله كے كاز (cause) كے ليے ايك دوسرے سے محبت كرنے والے۔ اس معاملے كو مزيد واضح كيا جائے تو يه كها جاسكتا هے كه اِس سے مراد وه لوگ هيں جو— الله كے مشن كى خاطر صرف الله كے ليے باهم مجتمع هوجائيں، جن كى ٹيم اسپرٹ اتنى بڑھى هوئى هوكه ٹيم كا هر فرد اُن كے ليے ايك محبوب ساتھى بن جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت كا عالمى نشانه صرف ٹيم ورك كے ذريعے پورا كيا جاسكتا هے اور كسى مادى انٹرسٹ كے بغير ٹيم ورك ايك بے حد مشكل كام هے۔ اِس كا سبب يه هے كه ٹيم ورك كا مطلب اجتماعى ورك هے اور اجتماعى زندگى ميں لازماً شكايت اور اختلاف كى صورتيں پيدا هوجاتى هيں۔ ايسى حالت ميں صرف اعلى درجے كى محبت الٰہی يا تعلق بالله هى آدمى كو مشن سے وابسته ركھ سكتا هے۔
اِس معاملے كى ايك مثال يه هے كه خليفه ثانى عمر فاروق كے زمانے ميں ايك جنگ پيش آئى جس كو تاريخ ميں جنگ يرموك (13 هجري) كهاجاتا هے۔ اِس جنگ ميں اهلِ ايمان كو كاميابى حاصل هوئي۔ اِس جنگ ميں خالد بن الوليد سپه سالار تھے۔ جنگ كے آخرى مرحلے ميں يه واقعه پيش آيا كه خليفه ثانى عمر فاروق نے كسى وجه سے خالد بن الوليد كو سپه سالارى كے منصب سے هٹا ديا اور ان كو عام سپاهى كا درجه دے ديا۔ فوج كے كچھ لوگ خالد بن الوليد سے ملے اور اِس واقعے پر اپنى عدم رضامندى كا اظهار كيا۔ خالد بن الوليد نے ان كى بات كو نظر انداز كرتے هوئے كها إِنِّي لَا أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ عُمَرَ، وَلَكِنْ أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ رَبِّ عُمَرَ (يعنى ميں عمر كى راه ميں جنگ نهيں كرتا، بلكه ميں عمر كے رب كى راه ميں جنگ كرتاهوں) ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
عالمى دعوتى مشن بهت بڑا دعوتى مشن هے۔اِس قسم كا مشن صرف ايسے لوگوں كے ذريعے كاميابى كے ساتھ انجام پاسكتا هے جو پورے معنى ميں ٹيم اسپرٹ كے ساتھ اكھٹا هوئے هوں۔ دعوتى مشن ايك ايسا مشن هے جس ميں كسى بھى قسم كا مادى يا ذاتى انٹرسٹ شامل نهيں۔ دعوتى ٹيم كى كاميابى كے ليے ضرورى هے كه اس كے افراد كے اندر مادى انٹرسٹ كا كوئى اعلى بدل موجود هو۔ يه بدل صرف ايك هے اور وه هے الله كے ساتھ غير متزلزل محبت۔ الله سے يهى گهرا تعلق اس بات كا ضامن هے كه ٹيم كے افراد بنيانِ مرصوص (الصف، 61:4) كى طرح باهم جڑے رهيں۔ كوئى بھى شكايت اُن كى ٹيم اسپرٹ ميں خلل ڈالنے والى نه هو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے كى ايك مثبت مثال وه هے جو خالد بن الوليد كے حوالے سے اوپر بيان كى گئى هے۔ اِس كى مزيد وضاحت كے ليے ايك متقابل مثال يهاں درج كى جاتى هے۔ يه مثال سعد بن عباده الانصارى كى هے۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم كى وفات كے بعد حضرت ابوبكر صديق كو خليفه منتخب كيا گيا۔ سعد بن عباده انصارى كو اِس پر اختلاف هوا۔ وه مدينے كے بڑے سرداروں ميں سے تھے۔ ان كى شكايت ايك سياسى شكايت تھي۔ يه شكايت اتنى بڑھى كه انھوں نے حضرت ابوبكر صديق كى خلافت پر بيعت نهيں كي۔ انھوں نے كبھى اپنى رائے سے رجوع نهيں كيا، يهاں تك كه وه اصحابِ رسول كى جماعت سے الگ هو كر شام چلے گئے اور وهيں 14 هجرى ميں ان كا انتقال هوگيا۔
ٹيم ورك كے اندر لازمى طورپر آپس ميں شكايت اور اختلاف پيدا هوتا هے۔ ايسى حالت ميں ٹيم ورك كى كاميابى كى شرط صرف يه هے كه ٹيم كے افراد كے اندر يه ناقابلِ شكست عزم پايا جاتا هو كه وه كسى بھى عذر كو عذر نهيں بنائيں گے، وه الله كى خاطر هر حال ميں ايك دوسرے كے ساتھ محبت كے ساتھ جڑے رهيں گے۔ الله كے كاز كے ليے آپس ميں محبت كرنے والے شكايت كا كوئى منفى اثر نهيں ليں گے۔ اِس كے برعكس، جن لوگوں كے اندر يه صفت نه هو، وه شكايت سے بددل هو كر ٹيم سے دور هوجائيں گے۔
دينِ خداوندى كے دو تقاضے
اسلام كا اصل خارجى نشانه دعوت الى الله هے۔ اهلِ اسلام كا يهى ابدى مشن هے كه وه پُرامن طورپر الله كے دين كا پيغام هر دور كے انسانوں تك پهنچاتے رهيں۔ اِس دعوتى مشن كو كاميابى كے ساتھ جارى ركھنے كے ليے دو چيزوں كى ضرورت هے— تائيدى انفراسٹركچر (supporting infrastructure) اور توجيهى لٹريچر (explanatory literature) ۔
تائيدى انفراسٹركچر
قديم زمانه بادشاهت كا زمانه تھا۔ قديم زمانے ميں صرف ايك چيز تھى جس سے تائيدى انفراسٹركچر كا فائده حاصل هوتا تھا، اور وه تھا پولٹكل انفراسٹركچر، يعنى سياسى اقتدار كى سرپرستى حاصل هونا۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم سے پهلے جو انبياء آئے، اُن كو سياسى اقتدار كى سرپرستى حاصل نه تھي، اس ليے اُن كے زمانے ميں دعوتِ خداوندى كو استحكام كا درجه بھى نه مل سكا۔ پيغمبر اسلام اور آپ كے اصحاب كے ذريعے الله تعالى نے تاريخ ميں پهلى بار ايك ايسا انقلاب برپا كيا جس كے نتيجے ميں خود اهلِ اسلام كا سياسى اقتدار قائم هوگيا اور اِس طرح دعوت الى الله كے كام كے ليے سياسى اقتدار كى سطح پر وه تائيدى انفراسٹركچر قائم هوا جو كه دعوتى مشن كے ليے مطلوب تھا۔
ليكن الله كے تخليقى نقشے كے مطابق، سياسى اقتدار كسى ايك گروه كى اجاره دارى (monopoly) نهيں هوسكتا، اِس ليے فطرى طورپر ايسا هونا تھا كه يه سياسى سرپرستى ابدى طور پر قائم نه رهے۔ اِس ليے تقريباً ايك هزار سال كے بعد تاريخ ميں ايك نيا انقلاب آيا۔ اِس انقلاب كو جمهورى انقلاب (democratic revolution) كهاجاتا هے۔ قانونِ فطرت كے مطابق، جمهورى انقلاب ايك تاريخى عمل كے تحت وجود ميں آيا۔ اِس عمل كا نقطه انتها انقلاب فرانس هے۔
جمهورى انقلاب محدود معنوں ميں صرف ايك سياسى ڈھانچے كى تبديلى كے هم معنى نه تھا، بلكه اپنے اثرات كے اعتبار سے، وه ايك مكمل انقلاب (total revolution) تھا۔ اِس كے نتيجے ميں آخر كار تاريخ ميں ايك نيا دور وجود ميں آيا۔ اِس دور ميں تاريخ ميں پهلى بار ايسا هوا كه زندگى كے تمام مواقع هر انسان كے ليے يكساں طورپر كھل گئے۔ فرد كى آزادى كو خير اعلى كا درجه حاصل هوگيا، هر انسان كا يه غير مشروط حق تسليم كرليا گيا كه وه پر امن رهتے هوئے جو چاهے كرے۔
انيسويں صدى اور بيسويں صدى ميں جمهوريت (democracy)ايك مسلمه عالمى اصول (universal norm) بن گئي۔ دعوت الى الله كے مشن كے ليے دورِ جمهوريت بهت زياده با معنى تھا۔ اِس كا مطلب يه تھا كه دعوتى مشن كے ليے جو تائيدى انفراسٹركچر دركار هے، اس كے ليے اب مسلم اقتدار كى ضرورت نهيں۔ اب خود عالمى نظام زياده بهتر طورپر وه تائيدى انفراسٹركچر فراهم كررهاهے جو دعوت الى الله كے عالمى مشن كے ليے مطلوب هے۔
توجيهى لٹريچر
دعوت الى الله كے مشن كى اصل نظرياتى بنياد صرف قرآن اور سنت هے۔ قرآن اور سنت كے سوا كوئى چيز نهيں جو اِس مشن كى نظرياتى بنياد بن سكے۔ ليكن اِس كے ساتھ ايك اور چيز هے جو علمى اعتبار سے اس كى لازمى ضرورت هے۔ يه قرآن اور سنت كى بنياد پر تيار كيا جانے والا توجيهى لٹريچر هے۔
عباسى دور ميں مسلم علما نے جو لٹريچر تيار كيا، وه اِس معاملے كى پهلى مثال هے۔ يه لٹريچر اُس دور كے فقها اور علما نے تيار كيا تھا۔ جلدهى اِس لٹريچر كو مستند پيٹرن (authentic pattern) كى حيثيت حاصل هوگئي۔ بعد كے زمانے ميں جو اسلامى كتابيں لكھى گئيں، وه اِس پيٹرن پر لكھى گئيں۔ يه لٹريچر اُس زمانے ميں تيار كيا گيا جب كه زمين كے بڑے حصے ميں مسلمانوں كى سلطنتيں قائم تھيں۔ اِس ماحول ميں ايسا هوا كه يه لٹريچر براهِ راست يا بالواسطه طورپر سياسى پيٹرن ميں ڈھل گيا۔
مثال كے طور پر اِسى دور ميں وه كتابيں لكھى گئيں جن ميں يه كهاگيا تھاكه شتمِ رسول كى سزا قتل هے۔ تمام فقها نے يه قانون وضع كرديا كه شاتم كو بطور حد قتل كيا جائے گا (يُقتل حدا)۔ اِسى طرح ارتداد (apostasy) كى سزا قتل قرار پائي۔ اِن قوانين كا ماخذ قرآن وسنت ميں موجود نه تھا، وه صرف دورِ سلطنت كے سياسى ماحول كى پيداوار تھے۔ اِسى طرح اِس دور ميں بهت سے مسائل اور قوانين وضع كيے گئے جو صرف وقت كے سياسى ماحول كى پيداوار تھے۔ مثلاً دار الاسلام اور دار الكفركى اصطلاحيں،ذمى اور غير ذمى كے قوانين، وغيره۔
اسلامى دعوت كى نظرياتى بنياد (قرآن وسنت) هميشه ايك هى رهے گي، ليكن اس كاتوجيهى لٹريچر هميشه ايك نهيں ره سكتا۔ كيوں كه توجيهى لٹريچر كا تعلق ابدى حقائق سے نهيں هے، بلكه حالاتِ زمانه سے هے۔ قديم زمانے ميں جو توجيهى لٹريچر تيار هوا تھا، وه قديم سياسى حالات كے اعتبار سے تھا۔ اب اس كى حيثيت كلاسكل لٹريچر (classical literature) كى هوچكى هے۔ آج كے حالات كے اعتبار سے اس كا ريلونس (relevance) تقريباً ختم هوچكا هے۔ اب نئے حالات كے اعتبار سے نيا توجيهى لٹريچر دركار هے جو جديد ذهن كو ايڈريس كرسكے۔
آج اسلام كے دعوتى مشن كے ليے ايسا لٹريچر دركار هے جو روحِ عصر (spirit of the age) كے مطابق هو۔ صرف ايسا لٹريچر هى جديد ذهن كو ايڈريس كرسكتا هے اور لوگوں كو يه يقين عطا كرسكتا هے كه اسلام ميں آج كے انسان كے ليے بھى اُسى طرح قابلِ اعتماد رهنمائى موجود هے جس طرح قديم انسان نے اس ميں اپنے ليے قابلِ اعتماد رهنمائى پائى تھي۔
موجوده زمانے ميں اسلام كے ليے جو نيا توجيهى لٹريچر دركار هے، اس كى چند خصوصيات هيں۔ اول يه كه وه اپنے دلائل كے اعتبار سے مبنى بر عقل (reason based) هو۔ قديم روايتى طريقه آج كے ليے كار آمد نهيں۔ دوسرے يه كه اس كا اپروچ يونى ورسل اپروچ (universal approach) هو۔ قديم انداز كا گروهى اپروچ (sectarian approach) آج كے انسان كے ليے قابلِ قبول نهيں هے۔ تيسرى بات يه كه اِس لٹريچر كو مكمل طورپر پيس فل (peaceful) لٹريچر هونا چاہیے۔ كوئى ايسا لٹريچر جس كے اندر براهِ راست يا بالواسطه طورپر تشدد (violence) كا فكر موجود هو، وه آج كے انسان كے ليے قابلِ قبول نهيں هوسكتا— آخرت ميں قابلِ رشك درجه اُس گروه كو ملے گا جو اِن تقاضوں كے مطابق، اكيسويں صدى ميں دعوت الى الله كا فريضه انجام دے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
احيائے امت
قرآن ميں بتايا گياهے كه طولِ امد كے نتيجے ميں امتوں كے اندر قساوت (57:16) پيدا هوجاتى هے، يعنى هر امت كى بعد كى نسلوں ميں زوال آتا هے۔امت ميں زوال كے بعد احيا (57:17) كے ليے كيا كرنا چاهيے، قرآن ميں اس كا ايك ماڈل حضرت موسى كى مثال كى صورت ميں بتايا گياهے۔ قرآن كے مطابق، جس طرح پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى زندگى ايك مستند ماڈل كى حيثيت ركھتى هے، اِسى طرح حضرت موسى اور دوسرے پيغمبروں كى زندگى بھى اهلِ ايمان كے ليے ايك قابلِ تقليد ماڈل هے (6:90)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت موسى ايك اسرائيلى پيغمبر تھے۔ وه قديم مصر ميں پيدا هوئے۔ اُن كا زمانه تقريباً ساڑھے تين هزار سال پهلے كا زمانه هے۔ ان كے حالات تفصيل كے ساتھ قرآن، اور بائبل ميں موجود هيں۔ اِس كے مطالعے سے جهاں دوسرى باتيں معلوم هوتى هيں، وهيںيه بات بھى معلوم هوتى هے كه ايك زوال يافته امت كو زوال كى حالت سے نكالنے كے ليے عملى طورپر كيا كرنا چاہیے۔
الله كى طرف سے حضرت موسى كو دو كام سپرد هوا تھا— ايك طرف، فرعون كے سامنے الله كا پيغام پهنچانا اور دوسرى طرف، بنى اسرائيل كو زوال كى حالت سے نكالنے كى تدبير كرنا۔ انھوں نے يه دونوں كام پورى طرح انجام ديا۔ انھوں نے ايك طرف، فرعون اور اس كى قوم كے سامنے الله كى حجت تمام كى اور دوسرى طرف، بنى اسرائيل كو مصر سے نكال كر صحرائے سينا ميں لے گئے۔ اِس كا مقصد زوال يافته قوم كى اصلاح كرنا تھا۔
فرعون اور اس كے درباريوں نے حضرت موسى كے پيغام كو ماننے سے انكار كرديا۔ اتمامِ حجت كے بعد الله نے اُن كے ساتھ اُسى انجام كا فيصله كيا جو اِس طرح كى دوسرى قوموں كے ساتھ الله كى طرف سے كيا جاتا رها هے، يعنى اُن كى كامل هلاكت۔ چنانچہ فرعون، اس كى فوجى طاقت، اس كے دربارى سب كے سب بيك وقت سمندر ميں غرق کردیے گئے۔
ايك تخمينے كے مطابق، اُس وقت مصر كى كُل آبادى تين ملين سے كچھ زياده تھي۔ اِس آبادى ميں بنى اسرائيل كى تعداد تقريباً ايك چوتھائى حصے پر مشتمل تھي۔ اگر حضرت موسى كے نزديك بنى اسرائيل كے احیائے نو كا طريقه يه هوتا كه اُن كو حكومت دلائى جائے يا ملك ميں اُن كے سياسى ادارے قائم كيے جائيں، تو فرعون كى غرقابى كے بعد اِس منصوبے كو عمل ميں لانے كا وقت اس كے ليے بهترين وقت تھا۔غرقابى كا واقعه پيش آنے كے بعد فرعون كى سياسى اور فوجى طاقت ختم هوچكى تھي۔ جادوگروں كا طبقه حضرت موسى كے دين كو اختيار كرچكا تھا۔
اِس طرح كے واقعات كے نتيجے ميں پورے مصر ميں حضرت موسى اور ان كى قوم كا دبدبه قائم هوچكا تھا۔ اِس طرح حالات پورى طرح تيار هوچكے تھے كه حضرت موسى مصر كى حكومت پر قبضه كرليں اور سياسى اقتدار كے ذريعے بنى اسرائيل كے احیائے نو كا كام كريں۔
مگر حضرت موسى نے ايسا نهيں كيا۔ اِس كے برعكس، حضرت موسى نے جو كچھ كيا، وه يه تھاكه انھوں نے مصر كو چھوڑ ديااور بنى اسرائيل كى پورى جمعيت كو لے كر صحرائے سينا ميں چلے گئے، جهاں مشقت كى زندگى كے سوا بنى اسرائيل كے ليے كچھ اور نه تھا۔ اِس واقعے كا حواله قرآن كى سورۃ المائده كى آيت نمبر 26 ميں دياگيا هے۔ اِس صحرائى ماحول ميں بنى اسرائيل چاليس سال (1400۔1440 قبل مسيح) تك سخت مشقت كى زندگى گزارتے رهے، يهاں تك كه ايسا هوا كه اُن ميں جو زياده عمر كے لوگ تھے، وه سب مر گئے اور جو نوجوان تھے، وه صحرا كے پُرمشقت ماحول ميں تربيت پاكر ايك نئى زنده قوم كى صورت ميں ابھرے۔ بنى اسرائيل كى يهى تربيت يافته نسل تھى جس نے بعد كے دور ميں تاريخى كارنامے انجام دئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بنى اسرائيل كے ساتھ جو طريقه اختيار كيا گيا، اُس كو صحرائى طريقِ علاج (desert therapy) كها جاسكتا هے۔ صحرائى علاج كا يه طريقه اِس سے پهلے بنو اسماعيل كے ساتھ اختيار كيا گيا تھا۔ وه عرب كے صحرا ميں تربيت پاكر تيار هوئے اور پھر پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم پر ايمان لاكر ايك طاقت ور ٹيم كى صورت ميں انھوں نے بڑے بڑے كارنامے انجام دئے۔
امت مسلمه كا كيس
قانونِ فطرت كے مطابق، امت مسلمه كى بعد كى نسلوں ميں وهى زوال آنا مقدر تھا جو اِس سے پهلے بنى اسرائيل پر آيا۔ زوال كى يه حالت اپنى آخرى صورت ميں انيسويں صدى اور بيسويں صدى ميں كھل كر سامنے آگئي۔
اب امت كے رهنماؤں كو وهى كرنا تھا جو اِس سے پهلے حضرت موسى نے اپنى قوم كے ساتھ كيا تھا، يعنى زمانے كے اعتبار سے امت كو ايك تربيتى كورس سے گزارنا ، تاكه اُن پر قرآن كى يه آيت صادق آجائے لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰى مَنْ حَى عَنْۢ بَيِّنَةٍ(8:42)۔ یعنی، تاکہ جس کو ہلاک ہونا ہے، وہ روشن دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جس کو زندگی حاصل کرنا ہے، وہ روشن دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ اِس كا مطلب يه هےكه امت كے جو ناقابلِ اصلاح افراد هيں، وه ختم هوجائيں اور جو قابلِ اصلاح افراد هيں، وه بيدار هو كر مطلوب رول ادا كرنے كے قابل هوسكيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
غور كرنے سے يه بات سمجھ ميں آتى هے كه موجوده زمانے ميں اِس طريقِ علاج كا بهترين ميدان وه تھا جس كو سيكولر تعليم كا نظام كهاجاتا هے۔ يهى تعليمى نظام مكمل طورپر مسابقت (competition)كے اصول پر قائم تھا۔ يهاں دوسرى قوموں كى طرف سے چيلنج كا مقابله كرتے هوئے آگے بڑھنا تھا۔ يهاں كا فارمولا يه تھا كه— مقابله كركے زنده رهو يا مرجاؤ
Compete or perish
اِس اعتبار سے، موجوده زمانے كا سيكولر تعليمى نظام گويا تعليمى طريقِ علاج (educational therapy)كا ميدان بن گيا تھا۔ ضرورت تھى كه قوم كے تمام نوجوانوں كو اِس طريقِ علاج كے پراسس سے گزارا جائے۔ ليكن مسلمانوں كے علما اور رهنماؤں نے اِس حكمت كو نهيں سمجھا۔ انھوں نے اِس معاملے كى حكمت سے بے خبر رهتے هوئے يه اعلان كرديا كه يه تعليمى نظام تمام تر اينٹى مسلم نظام هے۔ چنانچہ كسى نے اِس نظام كو ’قتل گاه‘ قرار ديا۔ اور كسى نے اس كو ’ذهنى ارتداد‘ كا كارخانه قرار ديا، وغيره۔
موجوده سيكولر تعليمى نظام ميں چيلنج اور مسابقت كا مطلوب ماحول پورى طرح موجود تھا۔ ليكن اس ميں ايك چيز مفقود تھي، وه تھى مسلم نوجوانوں كى دينى تعليم وتربيت۔ اِس مسئلے كا حل قرآن ميں، بنى اسرائيل كے حوالے سے اِن الفاظ ميں موجود تھا وَاجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ قِبْلَةً (10:87)۔ يعنى، اپنے گھروں كو مذهبى تعليم وتربيت كا مركز بنا دو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجوده زمانے ميں مسلمانوں كو يهى كرنا تھا۔ وه يه كه مدرسے كى تعليم كے علاوه، مسلم نوجوانوں كى باقاعده تعليم (formal education)وه سيكولر تعليم گاهوں ميں دلوائيں اور اِسى كے ساتھ وه اپنے گھروں كو انفارمل ايجوكيشن (informal education) كا مركز بناديں۔ تاكه دونوں تقاضے بحسن وخوبى پورے هوسكيں۔
مگر مسلم رهنماؤں نے اِس كے برعكس، يه كيا كه انھوں نے قومى بنياد پر مسلمانوں كے الگ تعليمى ادارے قائم كيے۔ يه تعليمى ادارے، جهاں صرف مسلمانوں كے ليے تعليم كا انتظام تھا، وه فطرى طور پر مسابقت اور چيلنج سے خالى تھے۔ نتيجه يه هوا كه بهت جلد يه ادارے مسلم گھيٹو (Muslim ghetto) بن كر ره گئے۔
موجوده زمانے كے مسلمان اپنے زوال كى بنا پر اِس قابل نهيں رهے تھے كه وه خود اپنے الگ قومى ادارے چلائيں۔ اِس طرح كے ادارے قائم كرنے كا مطلب يه تھاكه زوال يافته افراد كو حقيقى لياقت كے بغير، بڑى بڑى پوزيشن دے دى جائے۔ چنانچہ اِن اداروں ميں اسلام تو نهيں آيا، البته ايك زوال يافته قوم كا قومى كلچر فروغ پانے لگا۔ يهى حال اُن ملكوں كا هوا جو اسلام كے نام پر بنائے گئے تھے۔ اِن ملكوں ميں زوال يافته افراد كو اچانك بڑے بڑے عهدے مل گئے اور انھوں نے پورے ملك كو زوال يافته كلچر كا جنگل بناديا۔
زوال كى آخرى مثال
دورِ زوال كے بارے ميں حديث ميں بهت سے انتباهات آئے هيں۔ اُن ميں سے ايك انتباه وه هے جو اِس حديثِ رسول ميں ملتاهے لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّاراً، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ(صحيح البخاري،حدیث نمبر 1739)۔ يعنى، ميرے بعد تم كافر نه هوجانا كه ايك شخص دوسرے شخص كى گردنيں مارنے لگے۔ اِس حديث ميں ’’كفار‘‘ كا لفظ فقهى معنى ميں نهيں هے، يه دراصل تهديدى زبان (language of hammering) هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه شدت كے انداز ميں بتايا گياهےكه زوال جب اپنى آخرى حد تك پهنچتا هے تو امت كا حال كيا هوتا هے۔ اُس وقت لوگوں كے اندر خوفِ خدا كا خاتمه هوجاتا هے۔ اِسى بے خوف نفسيات كى بنا پر وه ايسا فعل كرنے كے ليے جرى هوجاتے هيں جو قرآن كى صراحت كے مطابق، مبينه طور پر ايك جهنمى فعل (4:93) هے، يعنى ايك مومن كا دوسرے مومن كو ناحق قتل كرنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جديد تعليم كى اهميت
جديد تعليمى نظام كو سيكولر نظامِ تعليم كهاجاتا هے، ليكن صحيح بات يه هے كه جديد تعليم نئے دور كا نظامِ تعليم تھا۔ وه نئے دور كى ضرورتوں كو پورا كرنے كے ليے وجود ميں آيا تھا۔ اس كا سيكولر پهلو اس كا اضافى (relative) پهلو هے، نه كه حقيقى (real) پهلو۔
اصل يه هےكه موجوده زمانے ميں جو نئى دريافتيں هوئيں، اُس نے زندگى كے هر شعبے ميں انقلابى تبديلياں پيدا كرديں۔ اِن تبديليوں كا تعلق براهِ راست طورپر انسان كى عملى زندگى سے تھا۔ دورِ جديد ميں زندگى كے تمام شعبے مكمل طورپر بدل گئے۔ اِن شعبوں كو چلانے كے ليے نئے ماهرين اور نئے تربيت يافته افراد دركار تھے۔ جديد تعليمى نظام گويا اِنھيں جديد قسم كے افراد كو تيار كرنے كا كارخانه تھا۔ كسى قوم كے ليے اِس تعليمى نظام سے علاحدگى كا مطلب يه تھاكه اُس قوم كے پاس موجوده دور كے اِس جديد نقشهٔ حيات كو چلانے كے ليے افرادِ كار موجود نه هوں۔
موجوده زمانے ميں امتِ مسلمه كا كيس يهى هے۔ اپنے قائدين كى رهنمائى ميں امت نے يه غلطى كى كه وه جديد تعليمى اداروں كى عصرى اهميت كو سمجھ نه سكے۔ انھوں نے اپنے نوجوانوں كو اِس تعليمى نظام سے دور ركھا۔ نتيجه يه هوا كه پورى امت دورِ جديد ميں بے جگه (displaced) هو كر ره گئي— موجوده زمانے ميں مسلمانوں كى مبينه پس ماندگى كا اصل سبب يهى هے۔
افراد، نه كه مجموعه
موجوده زمانے ميں مسلم علما اور رهنماؤں نے بهت سى تحريكيں چلائيں، ليكن هر تحريك اپنے مطلوب نشانے كو حاصل كرنے ميں ناكام رهي۔ اِس ناكامى كا بنيادى سبب يه تھا كه هر ايك نے غلط مفروضے سے اپنے كام كا آغاز كيا۔ انھوں نے موجوده مسلمانوں كو’’خيرِ امت‘‘ فرض كرليا اور اِسى مفروضے پر وه اپنى منصوبه بندى كرنے لگے، حالانکہ موجوده مسلمان صرف ايك زوال يافته گروه بن چكے تھے۔
يه ايك مشترك غلطى تھى جس ميں يه تمام حضرات مبتلا رهے۔ اِس بنا پر اُن كا حال اُس معمار جيسا هوگيا جو كچى اينٹوں كو پخته اينٹ سمجھ كر قلعے كى تعمير شروع كردے۔ ايسے معمار كا يقينى انجام صرف يه هے كه اس كا قلعه كبھى تعمير نه هوسكے۔
يهاں ايك بات كى وضاحت ضرورى هے۔ وه يه كه كوئى زوال يافته قوم دوباره اس طرح اصلاح قبول نهيں كرتى كه پورى قوم بطور مجموعه اصلاح يافته هوجائے(21:95)۔ ايسا نه ماضى ميں كبھى هوا اور آئنده كبھى هوسكتا هے۔ اِس بنا پر اصلاح كے كام ميں خواه پورے مجموعے كو خطاب كيا گيا هو، ليكن هميشه كچھ افراد هى اُس سے اصلاح قبول كرتے هيں۔ اِس ليے تحريك كى كاميابى كا معيار هميشه افرادِ قوم هوتے هيں، نه كه مجموعهٔ قوم۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انگريزى تعليم
ٹى بى ميكالے (Thomas Babington Macaulay) ايك انگريز مورخ اور سياست داں تھا۔ وه 1800 ميں پيدا هوا، اور 1859 ميں اس كا انتقال هوا۔ وه 1835 ميں انڈيا آيا۔ اُس وقت كى برٹش حكومت ميں اس كو ايك بڑا عهدے دار بنايا گيا۔ اس نے ايك تعليمى نظريه وضع كيا جس كو ميكال ازم (Macaulayism) كهاجاتا هے۔ اس كا مقصد تھا ملك ميں اينگلى سائزڈ انڈين (anglicised Indians) كا ايك نيا طبقه پيدا كرنا۔
لارڈ ميكالے سے پهلے انڈيا كى آفيشيل زبان فارسى تھي۔ لارڈميكالے كى كوششوں سے ايسا هوا كه 1938 ميں انگريزى زبان كو سركارى زبان كا درجه دے دياگيا۔ اِس كے بعد ملك كے اسكولوں ميں انگريزى زبان ذريعه تعليم قرار پائي۔
لارڈ ميكالے كا كهنا تھاكه— اس سے ايك نئى نسل پيدا هوگى جو كه پيدائش كے اعتبار سے هندستانى اور اپنے ذهن كے اعتبار سے انگريز هوگي
other sourceWords of another person or source
So that a generation may arise which is Indian in birth and English in thought.
لارڈ ميكالے نے جب يه كها تو اس كے خلاف سخت هنگامه كياگيا، خاص طور پر مسلم رهنما انگريزى تعليم كے شديد مخالف هوگئے، حتى كه انھوں نے كها كه انگريزى تعليم گاهيں مسلمانوں كے ليے قتل گاه كى حيثيت ركھتى هيں۔مگر يه سب غير ضرورى انديشے تھے۔ عملاً جو كچھ هونے والا تھا، وه صرف يه كه اِن درس گاهوں ميں تعليم پانے كى وجه سے كٹر پن ختم هوجائے اور لوگوں كے اندركھلا پن آجائے۔ اپنے نتيجے كے اعتبار سے دیکھیے تو لارڈ ميكالے كا قول ايك لفظى تبديلى كے ساتھ دراصل يه تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
So that a generation may arise which is Indian in birth and liberal in thought. (Macaulay, T. B.: Minute on Indian Education, 2nd February 1835)
other sourceWords of another person or source
چنانچه تجربه بتاتا هے كه اِن انگريزى اداروں ميں تعليم پائے هوئے مسلم نوجوانوں ميں سے بهت سے ايسے تھے جو بعد كو بهترين مسلمان بنے۔ مسلم جماعتوں اور تنظيموں كو انھيں انگريزى اداروں سے بهترين افراد حاصل هوئے، وغيره۔اِس معاملے ميں اصل قابلِ لحاظ بات يه نهيں هے كه لارڈ ميكالے يا برٹش حكمرانوں نے بطور خود كس نظريے كے تحت انگريزى تعليم گاهيں بنائيں، بلكه اصل قابلِ لحاظ بات يه هے كه باعتبار نتيجه ان كا انجام كيا هوا، اوريه كه يهاں سے كس قسم كے لوگ تعليم پاكر نكلے۔
انگريزى تعليم حقيقتاً برٹش تعليم نه تھي، بلكه وه جديد علم (modern learning) كے حصول كا ذريعه تھي۔ ماڈرن ايجوكيشن اپنى حيثيت كے اعتبار سے نه پروبرٹش (pro-British) تھى اور نه اينٹى مسلم، وه صرف جديد علوم تك پهنچنے كا ايك ذريعه تھي۔ ’’انگريزى تعليم‘‘ كا نتيجه يه هوا كه لوگوں كے اندر ذهنى جمود ٹوٹا، ان كے اندر كھلا پن آيا، ان كے اندر متعصبانه طرز فكر (biased thinking) كا خاتمه هوا، وه چيزوں كو موضوعى انداز (objective way) ميں ديكھنے لگے، ان كے اندر كٹر پن ختم هوگيا، ان كے اندر چيزوں كو عقل (reason)كے معيار پر جانچنے كا مزاج پيداهوگيا، وغيره۔
يه تمام چيزيں عين دينِ حق كے موافق تھيں، كيوں كه دين حق انسانى فطرت كےعين مطابق هے، وه عقل كى كسوٹى پر پورا اترتا هے۔ دين حق كے راستے ميں اگر كوئى چيز ر كاوٹ هے تو وه صرف متعصبانه طرز فكر هے۔ كسى بھى طريقے سے اگر متعصبانه طرز فكر كو ختم كرديا جائے تو دينِ حق اور انسان كے درميان حائل فكر ى ديوار اپنے آپ منهدم هوجائے گي۔ اس كے بعد انسان اِس قابل هوجائے گا كه وه حقيقت كو اس كى بے آميز صورت ميں ديكھ سكے۔
انگريزى تعليم يا سيكولر تعليم كے ذريعے يهى واقعه پيش آيا۔ اِس تعليم كے ذريعے بهت سے نوجوان اِس قابل هوگئے كه وه حقيقت كو دريافت كركے اس كو قبول كرليں۔ موجوده زمانے ميں اِس طرح كى مثاليں هر مقام پر ديكھى جاسكتى هيں— قديم زمانه قياسى استدلال كا زمانه تھا۔ موجوده زمانه سائنسى استدلال كا زمانه هے۔ آج كے انسان كے مائنڈ كو ايڈريس كرنے كے ليے سائنسى استدلال كى ضرورت هے۔ انگريزى تعليم نے اِسى دروازے كو كھولا تھا۔
صحيح طريقه يه هے كه جب بھى كوئى نئى صورتِ حال پيش آئے تو اگر چه وه بظاهر عُسر دكھائى ديتى هو تب بھى آپ اس كے اندر يُسر تلاش كريں۔ هر نئى صورتِ حال هميشه نئے مواقع كو لاتى هے۔ ايسى حالت ميں اصل كام صرف يه هے كه مواقع كو دريافت كركےان كو اپنے حق ميں استعمال كيا جائے۔
اسلام اور مسلمان
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے 610 عيسوى ميں مكه ميں اپنا مشن شروع كيا۔ ابتدائى مشكلات كے بعد آپ كا مشن نهايت تيزى كے ساتھ پھيلا، يهاں تك كه تقريباً 50 سال كے عرصے ميں آپ كے ماننے والوں نے ايشيا اور افريقه اور يورپ ميں بڑى بڑى سلطنتيں قائم كرليں۔ مسلمانوں كا يه دبدبه تقريباً ايك هزار سال تك جارى رها۔ اِس كے بعد وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ(3:140)—یعنی،اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں— كے فطرى قانون كے تحت حالات بدلے۔ يورپ ميں نشاةِ ثانيه (Renaissance) كا دور آيا۔ يورپى قوميں نئى طاقتوں سے مسلح هو كر دنيا كے بيش تر حصے ميں پھيل گئيں۔يه وهى دور تھا جس كو مسلم ايمپائر كا دور كها جاتا هے۔ فطرى طور پر يورپى قوموں كا مقابله براهِ راست مسلم سلطنتوں سے هوا۔ اٹھارھويں صدى عيسوى كا آخرى زمانه اِس معاملے ميں فيصله كن حيثيت ركھتا هے۔ يهى وه زمانه هے جب كه ايك طرف، عثمانى سلطنت كو يورپى طاقت كے مقابلے ميں شكست كا سامنا كرنا پڑا۔ 1770 ميں تركوں كے مضبوط بحرى بيڑے كو ايك لڑائى ميں ميڈى ٹيرينين سمندر ميں تباه كرديا گيا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The Ottoman naval establishment was wiped out at the Battle of Çeşme (1770) by a Russian fleet. (Encyclopedia Britannica, Vol. 13, p. 384)
other sourceWords of another person or source
اِس سلسلے ميں دوسرا واقعه هندستان ميں پيش آيا۔ اُسى زمانے ميں برٹش فوجيں هندستان ميں داخل هوئيں اور تيزى سے پيش قدمى كرنے لگيں۔ اٹھارھويں صدى كے آخر ميں اُن كا مقابله ميسور كے سلطان ٹيپو سے پيش آيا۔ برٹش فوجيں كامياب هوئيں اور 1799 ميں انھوں نے سرى رنگا پٹنم ميں سلطان ٹيپو كو هلاك كركے ميسور كى سلطنت پر قبضه كرليا۔ اُس وقت سلطان ٹيپو كى لاش كے پاس كھڑے هو كر جنرل هيرس (George Harris) نے فاتحانه انداز ميں كها تھا كه— آج هندستان همارا هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Today, India is ours!
نئى سوچ كى ضرورت
اِس كے بعد مغربى قوموں كے خلاف مسلمانوں كا ٹكراؤ شروع هوا۔ يه ٹكراؤ انيسويں صدى اور بيسويں صدى كے درميان دو صديوں تك مسلسل جارى رها۔ اِس طويل جنگ ميں مسلمانوں كو سارى دنيا ميں يك طرفه طور پر تباهى سے دوچار هونا پڑا۔اب اِس تباه كن لڑائى كى تاريخ اكيسويں صدى ميں پهنچ چكى هے۔ اب حالات اُس سنگين حد تك پهنچ چكے هيں، جب كه اِس تباه كن لڑائى كو مزيد جارى ركھنے كا كوئى جواز نهيں۔ اب آخرى طور پر وه قت آگيا هے كه مسلمانوں كے علما اور دانش ور يه فيصله كريں كه اب هميں پورے معاملے كا از سرِ نو جائزه لينا هے۔ اب هميں ماضى كى غلطيوں كا اعتراف كرتے هوئے احیائے ملت كى نئى منصوبه بندى كرنا هے۔ دو سو سال كا ناكام تجربه يه جاننے كے ليے كافى هے كه ماضى كى پاليسى كو بدستور جارى ركھنا، اب صرف ديوانگى هے، نه كه كوئى دانش مندي۔
اسلام كے عملى اصول ميں سے ايك اصول وه هے جس كو نظر ثانى (reassessment) كا اصول كها جاسكتا هے۔ فطرت كے نظام كے مطابق، يه ممكن هے كه آدمى نظريه (ideology) كى سطح پر هميشه ايك هى آئڈيل اصول پر قائم رهے، ليكن عمل كى دنيا ميں آنے كے بعد هميشه پريكٹكل وزڈم (practical wisdom) كى ضرورت هوتى هے، يعنى عملى تقاضے كى نسبت سے اپنے منصوبے پر نظر ثانى كرنا، بدلے هوئے حالات كے مطابق، ازسرِ نو اپنے عمل كا نقشه بنانا۔ يه اسلام كا تقاضا بھى هے اور عقل كا تقاضا بھي۔ موجوده زمانے كے مسلمانوں پر اب آخرى طور پر وه وقت آگيا هے كه وه اِس عملى اصول كے تحت اپنى سرگرميوں كا از سرِ نو جائزه ليں اور حقائق (realities) كى بنياد پر اپنے عمل كا نيا نقشه بنائيں، جو حالات كے مطابق، قابلِ عمل بھى هو اور نتيجه خيز بھي۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اسلامى لٹريچر كا معامله
اسلام استثنائى طورپر ايك ايسا مذهب هے جس كا اصل متن (original text) آج بھى محفوظ طور پر موجود هے۔ يهى متن (قرآن اور سنت) اسلام كى تعليمات كو جاننے كا واحد ماخذ هے۔ اسلام كا يه تاريخى پهلو اسلام كى ايك ايسى خصوصيت هے جو كسى بھى دوسرے مذهب كو حاصل نهيں۔ مگر اسلام كى بعد كى صديوں ميں يه هوا كه اسلام كے متن كى تشريح وتفصيل كے طور پر هزاروں كتابيں عربى زبان ميں لكھى گئيں۔ اس كے بعد دھيرے دھيرے يه هوا كه بعد كو لكھى جانے والى يه كتابيں شعورى يا غير شعورى طورپر اسلام كا اصل ماخذ قرارپاگئيں۔ اب يهى كتابيں مدرسوں اور اداروں اور لائبريريوں ميں استعمال هوتى هيں، هر جگه اُنھيں كا چرچا هوتا هے، حتى كه عملاً اب قرآن اور سنت كى حيثيت ثانوى هوگئى هے اور بعد كو پيدا هونے والے لٹريچر كو بلا اعلان اسلام كے اولين لٹريچر كى حيثيت حاصل هوگئى هے۔
اب موجوده مسلمانوں كى حالت يه هے كه فكرى حيثيت سے وه دينِ منزَّل پر كھڑے هوئے نهيں هيں، اب عملاً وه اُس دين پر كھڑے هوئے هيں جو بعد كى صديوں ميں مسلم علما نے اصل دين كى تشريح وتفصيل كى حيثيت سے بطور خود مدوّن كيا۔ مسلمانوں كى يه صورتِ حال پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كى اُس پيشين گوئى كى تصديق هے جو حديث كى كتابوں ميں اِن الفاظ ميں آئى هے مِنِ اقْتِرابِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الأَشْرارُ، وَيُوضَعَ الأَخْيارُ، وَتُوضَعَ فِي القَوْمِ المِثْناةُ، لَيْسَ أَحَدٌ يُغَيِّرُهَا۔ قِيلَوَمَا المِثْنَاةُ؟ قالَ كِتَابٌ كُتِبَ سِوَى كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ (المستدرک علی الصحیحین ، حدیث نمبر 8874)۔يعنى، قرب قيامت كى ايك علامت يه هے كه برے لوگوں كو بلندى حاصل هوجائے گي، اور اچھے لوگوں كو ذليل كيا جائے گا، اور لوگوں كے درميان ’مِثناة‘ كا رواج عام هوجائے گا، كوئى نه هوگا جو اس كى تغيير كرے۔ پوچھا گيا كه مثناة كيا هے۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه الله كى كتاب كے سوا لكھى جانے والى كتابيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حديث ميں دراصل امتِ مسلمه كے زوال كى حالت كو بتايا گيا هے۔ جب ملت پر زوال كا دور آتا هے تواس كى حالت بھى وهى هو جاتى هے جو دوسرى ملتوں كى هوئي، يعنى لوگ ظاهر پسند بن جاتے هيں۔ اُن كو معنوى حقائق دكھائى نهيں ديتے، البته ظاهرى چيزيں خوب نظر آتى هيں۔ لوگوں كے اِس بگڑے هوئے ذوق كى بنا پر اُن كے درميان دنيا پرست قسم كے لوگ ابھرتے هيں اور آخرت پسند قسم كے لوگ غير نماياں بن جاتے هيں۔ جو لوگ بگڑے هوئے عوامى ذوق كو غذا فراهم كريں، وه مقبوليت حاصل كرليتے هيں اور جو لوگ اپنى سنجيدگى كى بنا پر عوامى ذوق كى رعايت نه كرسكيں، وه اُن كے درميان غير مقبول بن جاتے هيں۔اُس وقت ايسے لوگ ابھرتے هيں جو اگر چه روحانى اعتبار سے خالى هوتے هيں، ليكن اپنے شان دار مذهبى لباس كے ذريعے وه لوگوں كے درميان اپنے كو نماياں بنا ليتے هيں۔ ان كے خوش نما الفاظ ، ان كا بناوٹى انداز، ان كى بڑى بڑى باتيں عوام كو اپيل كرتى هيں۔ ايسے لوگ حقيقت كے اعتبار سے، اگر چه ’’اشرار‘‘ هوتے هيں، ليكن عوام كے بگڑے هوئے ذوق كى بنا پر وه اُن كے درميان ’’اَخيار‘‘ كا درجه حاصل كرليتے هيں۔ يهى وه لوگ هيں جن كى تقرير اور تحرير كو حديث ميں ’مثناة‘ كهاگيا هے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مذكوره حديث ميں الله كى كتاب كے سوا جن كتابوں كا ذكر هے، اُن سے مراد عام كتابيں نهيں هيں، بلكه ان سے مراد وه كتابيں هيں جو امت كے بعد كے زمانے ميں دينِ خداوندى كى تفسير اور تشريح كے طورپر لكھى جائيں۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه اِن قابلِ ترك كتابوں سے مراد وه كتابيں هيں جو اُس زمانے ميں لكھى جائيں جو ’قُرون مشهود لها بالخير‘ كے بعد كا زمانه هے۔ اِس قسم كى كتابيں پچھلى امتوں كے زمانۂ ما بعد ميں لكھى گئى تھيں، اِسى طرح وه يقينى طورپر خود امتِ مسلمه كے زمانۂ مابعد ميں بھى لكھى جائيں گي۔ اِس معاملے ميں كسى حاملِ كتاب امت كا كوئى استثنا (exception) نهيں۔
بعد كے زمانے ميں لكھى جانے والى كتابيں دو قسم كى هوسكتى هيں— ايك وه جو كتاب الله كے گهرے مطالعے كے بعد اس كى حقيقى وضاحت كے طورپر لكھى جائيں۔ اور دوسرى كتابيں وه هيں جو دورِ زوال ميں لوگوں كے بگڑے هوئے ذوق كى رعايت كے طورپر لكھى جائيں۔ مذكوره حديث ميں ’مثناة‘ كے نام سے جن كتابوں كا ذكر هے، وه يهى دوسرے قسم كى كتابيں هيں۔امتِ مسلمه كے بعد كے دور ميں جو كتابيں لكھى گئيں، وه اُس وقت لكھى گئيں، جب كه مسلمان ايك نظرياتى گروه كى حيثيت سے باقى نهيں رهے تھے، بلكه وه عام قوموں كى طرح ايك قوم بن چكے تھے، چنانچہ اِن كتابوں ميں ايك مشترك خامى يه هے كه وه مسلمانوں كے قومى ذهن كى عكاسى كرتى هيں، نه كه اسلام كے اصولى موقف كي۔
بعد كے دور ميں مسلمان دوسرى قوموں كو مدعو كے بجائے محكوم كى نظر سے ديكھنے لگے، اِس ليے ايسا هوا كه بعد كے دور ميں پيدا هونے والے لٹريچر ميں دعوت الى الله كا باب حذف هوگيا۔ بعد كے دور ميں جب كه مسلمانوں كا پولٹكل ايمپائر قائم هوا، اُس وقت مسلمانوں ميں عام طورپر سياسى طرز فكر پيدا هوگيا۔ اِس سياسى ذهن كا نتيجه يه هوا كه بعد كے مسلمانوں ميں جهاد كے نام پر قتال (جنگ) كا تصور غالب آگيا، حتى كه قتال اُن كے ليے مذهبى عقيدے كا جز بن گيا، جب كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے زمانے ميں قتال كو صرف ضرورتِ شديده (law of necessity) كے طورپر اختيار كيا گيا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بعد كے دور ميں مسلمانوں كو جو دبدبه حاصل هوا، اس كے نتيجے ميں مسلمانوں كے اندر عام طورپر فخر (pride) كا ذهن پيدا هوگيا۔ وه دوسروں كے مقابلے ميں، اپنے آپ كو برتر سمجھنے لگے۔ اِسى ذهن كا يه نتيجه تھا كه انھوں نے اپنے زيرِ قبضه علاقوں كو ’دار الاسلام‘ اور دوسروں كے زير قبضه علاقوں كو ’دار الكفر‘ كهنا شروع كرديا، حالانکہ قرآن كے مطابق، تمام دنيا يكساں طورپر دار الانسان كى حيثيت ركھتى تھي۔ دار الكفر اور دار الاسلام كى اصطلاحيں سرتا سر مبتدعانه اصطلاحيں هيںجو بعد كے دور ميں وضع كى گئيں۔ اِسى صورت حال كا يه نتيجه تھا كه بعد كے زمانے ميں اسلام كو صرف احكام اور قوانين كا ايك مجموعه سمجھ ليا گيا، اِسى ذهن كا نتيجه تھا كه علما كے درميان علم فقه كو غلبه حاصل هوگيا اور قرآن اور حديث عملاً فقه كے تابع قرار پاگئے۔ دورِ زوال كا يه بھى ايك ظاهره هے كه دين ميں اسپرٹ (spirit) كى اهميت گم هوجاتى هے اور سارى اهميت فارم (form) كو حاصل هوجاتى هے۔ اِس فرق كا نتيجه يه هوتا هے كه دين ميں سارى بحثيں فنى اور قانونى پهلوؤں پر مرتكز هوجاتى هيں۔ اِس كے نتيجے ميں ايك شديد تر خرابى پيدا هوجاتى هے، يعنى بهت سے فرقوں كا وجود ميں آنا۔ يهاں پهنچ كر ملتِ واحده، ملتِ متفرقه ميں تبديل هوجاتى هے۔
واقعات بتاتے هيں كه بعد كے دور ميں ملتِ مسلمه كے درميان يه تمام خرابياں كامل طورپر پيش آئيں۔ اِن تمام خرابيوں كا سبب وهى چيز هے جس كو مذكوره حديث ميں ’مثناة‘ كهاگيا هے، يعنى ملت كے دورِ زوال ميں پيدا هونے والا لٹريچر۔ موجوده زمانے كے مسلمانوں كے تمام فكرى مسائل براهِ راست طورپر اِسى صورتِ حال كا نتيجه هيں۔ اب اِس صورتِ حال كا حل صرف ايك هے، وه يه كه قرون مشهود لها بالخير كے بعد مسلمانوں نے عربى زبان ميں بطور خود جو لٹريچر تيار كيا، اُن كتابوں كو اب مسلمانوں كے كلاسكل لٹريچر (classical literature) كا درجه دے ديا جائے۔ اب دوباره كھلے ذهن كے تحت قرآن اور سنت كا مطالعه كيا جائے اور پھر ايسا لٹريچر تيا ركيا جائے جو جديد ذهن كو ايڈريس كرنے والا هو۔ بعد كے پيدا شده لٹريچر كى تاريخى حيثيت هميشه باقى رهے گي، ليكن جهاں تك ماخذ كى بات هے، اسلام ميں مستند ماخذ كى حيثيت هميشه قرآن اور سنت كو حاصل رهے گي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ايك’’روشن خيال‘‘مسلمان نے ايك بار لكھا تھا كه— آج قرآن كو دوباره نازل هونا
Quran has to be re-revealed today.
يه ايك صحيح بات هے جس كو غلط الفاظ ميں بيان كياگيا هے۔ آج هم كو نئے قرآن كى ضرورت نهيں،ضرورت صرف يه هے كه اسلوبِ عصر ميں قرآن كى تبيين كى جائے۔ چنانچہ يه كهنا صحيح هوگا كه
Quran has to be re-defined today.
قرآن كى تمام تعليمات ابدى هيںتاهم اسلوب كلام كا تعلق مخاطب گروه سے هے، اِس ليے اسلوب كلام هر دور ميں بدلتا رهتا هے۔ اب ضرورت هے كه قرآن كى ابدى تعليمات كو اسلوبِ عصر ميں اِس طرح بيان كيا جائے كه وه آج كے لوگوں كے ليے قابل فهم بن سكيں۔
ملتِ مسلمه كا كيس
هجرى كيلنڈر كے لحاظ سے آج محرم 1434 كى پهلى تاريخ هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے جب هجرت كى تھي، اُس پر اب 1433 سال گزر چكے هيں۔ آپ كے زمانے ميں جس ملتِ مسلمه كى تشكيل هوئى تھي، اپنى حقيقت كے اعتبار سے، وه اب ختم هوچكى هے۔ آج جس كو هم ملتِ مسلمه كهتے هيں، وه ملت كى بعد كى نسليں هيں جو مختلف حالات سے گزرتے هوئے اكيسويں صدى عيسوى ميں داخل هوئى هيں۔ يه فطرت كا قانون هے كه هر امت اپنے بعد كے دور ميں زوال كا شكار هوتى هے۔موجوده زمانے ميں مسلمان دنيا كے تقريباً تمام ملكوں ميں پائے جاتے هيں۔ يه مسلمان، قرآن كى زبان ميں، خيرِ امت(3:110) نهيں هيں، وه بعد كے دور ميں وجود ميں آنے والے ايك زوال يافته گروه كى حيثيت ركھتے هيں۔ اُن كا كيس وهى هے جس كو قرآن ميں ’طولِ امد‘ كے ذريعے پيدا هونے والى قساوت (57:16) كا كيس كهاگيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تحريكوں كى ناكامى كا سبب
پچھلے دو سوسال كے اندر مسلم علما اور مسلم رهنماؤں نے ملت كے احيا كے ليے بهت سى بڑى بڑى تحريكيں اٹھائيں اور بهت سى بڑى بڑى جماعتيں بنائيں۔ اِن تحريكوں اور جماعتوں كے تحت جو پُرجوش سرگرمياں جارى هيں، ايك فارسى شاعر كے الفاظ ميں، اُن كے بارے ميں يه كهنا صحيح هوگا كه
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زميں شش شد و آسماں هشت شد
مگر يه تحريكيں اپنے اعلان كرده مقصد كے اعتبار سے مكمل طورپر ناكام رهيں۔ اِس كا سبب صرف ايك تھا، وه يه كه اِن رهنماؤں نے موجوده مسلمانوں كو ’’خير امت‘‘ فرض كركے اپنا كام شروع كيا، جب كه اصل واقعه يه تھا كه موجوده زمانے كے مسلمانوں كا يه انبوه ايك زوال يافته گروه كے درجے ميں پهنچ چكا تھا۔
اصلاح كا آغاز افراد سے
دورِ زوال كى نفسيات يه هے كه زوال اگرچه عمومى سطح پر هوتا هے، ليكن اصلاح كا آغاز افراد كى سطح سے كيا جاتا هے۔ دورِ زوال ميں مجموعى اصلاح كا طريقه سراسر بے معنى هے۔ قرآن كےمطابق، صحيح طريقه يه هے كه ايسى حالت ميں كام كا آغاز اصلاحِ افراد سے كيا جائے، يعنى بھيڑ كو ايڈريس كرنے كے بجائے افراد كو ايڈريس كرنا۔ اصلاح كى اِس حكمت كو قر آن كى دو آيتوں ميں اِس طرح بيان كيا گيا هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1۔ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (8:53)۔ يعنى، يه اِس وجه سے هواكه الله اُس انعام كو جو وه كسى قوم پر كرتاهے، اُس وقت تك نهيںبدلتا، جب تك وه اس كو نه بدل ديں جو اُن كے نفسوں ميں هے۔ اور بے شك، الله سننے والا، جاننے والا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ (13:11)۔ يعنى، بے شك، الله كسى قوم كى حالت كو نهيں بدلتا، جب تك وه اُس كو نه بدل ڈاليں جو اُن كے نفسوں ميں هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِن دونوں آيتوں كا مطلب ايك هے، وه يه كه جب كوئى قوم عروج كے بعد زوال كا شكار هوجائے اور اس كو دوباره عروج كى طرف لوٹانا هو تو اصلاح كے كام كا آغاز مجموعى قوم كى سطح سے شروع نهيں كيا جائے گا، بلكه افراد كى سطح سے شروع كيا جائے گا۔ ايسا نهيں كيا جائے گاكه يه فرض كرليا جائے كه قوم تو موجود هے، اب اُس كو صرف اجتماعى اقدام كى طرف متحرك كرنا هے، بلكه يه تسليم كياجائے گا كه قوم موجود نهيں هے اور افراد كى اصلاح كركے دوباره قوم كو وجود ميں لانا هے۔ يهى الله كا قانون هے، اور الله كے قانون ميں كبھى تبديلى نهيں هوتى (33:62)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس معاملے كى ايك واضح عملى مثال موجوده زمانے ميں پائى جاتى هے، اور يه فلسطين اور پاكستان كى مثال هے۔ دونوں كا كيس بالكل ايك هے۔ فلسطين كا تعلق عرب دنيا سے هے، اور پاكستان كا تعلق بقيه مسلم دنيا سے۔ فلسطين اور پاكستان كا معامله گويا موجوده زمانے ميں اِس قانون الٰہی كو سمجھنے كے ليے عملى مثال كى حيثيت ركھتا هے۔ فلسطين اور پاكستان دونوں كے كيس ميں ايسا هوا كه قوم كى سطح پر ايك مسلم ملك وجود ميں لانے كى كوشش كى گئي، مگر دونوں جگه مكمل طور پر ناكامى هوئي۔ فلسطين كا مسئله 1948ميں شروع هوا۔ فلسطينى جدوجهد پر اب 60 سال سے زياده مدت گزر چكى هے۔ اِس جدوجهد ميں جان ومال كى جو قربانى دى گئى هے، وه شايد پورى مسلم تاريخ كى تمام قربانيوں سے بھى زياده هے، مگر انجام كے اعتبار سے ديكھا جائے تو يه پورى جدوجهد معكوس نتيجه (counter productive) كى بدترين مثال ثابت هوئى هے۔
اِس معاملے ميں دوسرى مثال پاكستان كى هے۔ پاكستان 1947 ميں بنا۔ اِس سے پهلے برصغيرهند كا پورا علاقه ايك واحد ملك كى حيثيت ركھتا تھا جس ميں مسلمان دوسرى قوموں كے ساتھ آباد تھے۔ اُس وقت مسلمانوں كے كچھ رهنماؤں نے متحد هندستان ميں دو قومى نظريه (two nation theory) چلايا۔ اُن كا كهنا تھا كه مسلمان ايك الگ قوم هيں۔ اُن كو اپنے مذهب كے مطابق، زنده رهنے كے ليے ايك الگ ملك چاهيے۔ يه تحريك اِس مفروضے پر قائم تھى كه مسلم قوم كے نام سے ايك امت آل ريڈى موجود هے، اب صرف اُس كو ايك علاحده خطه ارض كى ضرورت هے۔ اُس زمانے ميں ايك مسلم شاعر كا يه شعر بهت مقبول هوا
unverifiedAttribution could not be verified automatically
نهيں هے نااميد اقبال اپنى كشتِ ويراں سے
ذرا نم هو تو يه مٹى بهت زرخيز هے ساقي
جان ومال كى بے پناه قربانى كے بعد 1947 ميں جغرافى معنوں ميں پاكستان وجود ميں آگيا، مگر معنوى اعتبار سے، پاكستان كا اب تك كوئى وجود نهيں۔ پاكستان ميں نه اسلام آيا اور نه وهاں كے مسلمانوں كو امن اور تحفظ حاصل هوا۔ حقيقت يه هے كه آج انڈيا كے مسلمان، اسلام اور امن وتحفظ دونوں اعتبار سے، پاكستان كے مسلمانوں سے بهت زياده بهتر حالت ميں هيں۔ يهى وجه هے كه 1971 سے پهلے انڈيا كے مسلمان، پاكستان جانے كے ليے بے تاب رهتے تھے، مگر آج انڈيا كا كوئى مسلمان، پاكستان جانے كےليے تيار نهيں، كيوں كه وه جانتا هے كه انڈيا ميں وه پاكستانى مسلمانوں كے مقابلے ميں هر اعتبار سے زياده بهتر حالت ميں هے۔
پاكستان بننے كے اول دن هى سے وهاں باهمى ٹكراؤ كا سلسله شروع هوگيا۔ پاكستان كے پهلے وزير اعظم نواب زاده لياقت على خاں كو گولى مار دى گئي۔ پاكستان كے مسلمانوں ميں جو باهمى لڑائى شروع هوئي، اس ميں اب تك تقريباً 40 هزار آدمى هلاك هوچكے هيں۔ امريكا ميں ايك آزاد تنظيم هے۔ اس كا نام — فنڈ فار پيس (Fund for Peace) هے۔ اِس تنظيم كا ايك كام يه هے كه وه ملكوں كے حالات كا سالانه انڈيكس تيار كرتى هے۔ اِس تنظيم نے 2011 ميں ملكوں كا جو انڈيكس شائع كيا هے، اس كے مطابق، پاكستان ايك ناكام رياست (failed state) كى حيثيت اختيار كرچكا هے۔
اِس ناكامى كا سبب يه هے كه پاكستان كے مسلم رهنماؤں نے يه فرض كرليا كه امتِ مسلمه عملاً موجود هے، اب صرف يه ضرورت هے كه اس كو اقتدار حاصل هوجائے، جب كه اصل صورتِ حال يه تھى كه اپنى حقيقت كے اعتبا ر سے، امتِ مسلمه كا وجود هى نه تھا۔ جو چيز موجود تھي، وه امت كے نام پر صرف ايك انبوه تھا۔ ايسى حالت ميں كام كا آغاز افراد كى اصلاح كركے دوباره امت كو وجود ميں لانا تھا۔ پاكستان كے مسلم رهنماؤں نے جو كچھ كيا، وه گھوڑے كے آگے گاڑى باندھنا (putting the cart before the horse) تھا۔ اِس قسم كا غير فطرى منصوبه كبھى كامياب نهيں هوسكتا، اور پاكستان كے معاملے ميں ايسا هى هوا۔
فلسطين كى تحريك ميں تمام عرب دنيا براهِ راست طورپر اور بقيه مسلم دنيا بالواسطه طورپر شريك هے، مگر بے پناه قربانيوں كے باوجود ابھى تك ايسا نهيں هوا كه فلسطين ميں عربوں كى مطلوب حكومت قائم هوجائے۔ ليكن جهاںتك سبق كا تعلق هے، وه فلسطين كى مثال ميں بھى پورى طرح موجود هے۔ فلسطين ميں اگر بالفرض عربوں كى حكومت قائم هوجائے تو عملاً وه بھى ايك ناكام رياست هى ثابت هوگي، كيو ں كه فلسطينى عرب بھى دوسرے مسلمانوں كى طرح صرف ايك انبوه هيں، نه كه تيار شده افراد۔ ايسى حالت ميں بالفرض اگر فلسطين ميں عربوں كى حكومت قائم هوجائے تو فلسطين ميں عملاً وهى هوگا جو دوسرے عرب ملكوں ميں هورها هے، يعنى يا تو سخت قسم كى ڈكٹيٹر شپ (dictatorship)، يا اگر بالفرض آزادى كا ماحول هو تو خود فلسطينى مسلمانوں كے درميان سخت قسم كى باهمى جنگ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حقيقت يه هے كه موجوده حالات ميں صرف ايك هى محفوظ طريقه باقى هے، اوروه هے— اسٹيٹس كوازم كا طريقه، يعنى حالتِ موجوده كو يك طرفه طور پر تسليم كرلينا۔ موجوده زمانے ميں مسلمانوں كو يه كرناهے كه وه يك طرفه طورپر نفرت اور تشدد كا طريقه ختم كرديں۔ وه اقدام كى نوعيت كى تمام سرگرميوں كو مكمل طورپر بند كرديں۔ وه يو ٹرن (U turn) ليتے هوئے اپنے عمل كے ميدان كو بدل ديں۔ وه دوسروں سے ٹكراؤ كے بجائے خود اپنے افراد كى تعليم وتربيت كى طرف لوٹ آئيں۔ وه اپنى تمام طاقت كو ’’اقدام‘‘ كے بجائے ’’تياري‘‘ پر مرتكز كرديں۔ موجوده زمانے كے مسلمانوں كےليے زندگى كا يهى واحد راسته هے۔ اِس كے سوا جو كچھ هے، وه صرف هلاكت هے، نه كه زندگي۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
خدا اور پيغمبر
پاكستان كے قدرت الله شهاب (وفات 1986) نے اپنى ضخيم كتاب ’’شهاب نامه‘‘ ميں اپنے زمانه طالب علمى كا ايك تجربه بيان كياهے۔ وه لكھتےهيں كه
’’آبادى سے دور ايك مخبوط الحواس، مجنون صفت، مجذوب نما شخص ويرانے ميں بيٹھا رهتا تھا۔ اور همه وقت اِلاّ الله، اِلاّ الله كى ضربيں لگاتا رهتا تھا۔ ميں اور ميرا ايك هم عمر هندو دوست اكثر اس كے پاس جاكر اس كا منھ چِڑايا كرتے اور اس كے ذكر كى نقليں اتارا كرتے تھے۔ ميرا هندو دوست اِلاّ الله كے وزن پر مهمل، مضحكه خيز اور كبھى كبھى فحش قافيے جوڑ كر مذاق بھى اڑايا كرتا تھا۔ مجذوب نے هميں بار بار ڈانٹا كه هم الله كے نام كى بے حرمتى نه كريں، ليكن هم باز نه آئے۔ ايك روز هم دونوں اِسى مشغلے ميں مصروف تھے كه ايك شخص اُدھر سے چند نعتيه اشعار الاپتاهوا گزرا، جس كا ايك مصرعه يه تھا
unverifiedAttribution could not be verified automatically
محمدؐ نه هوتے، تو دنيا نه هوتى
يه مصرع سن كر ميرا هندو دوست زور زور سے هنسنے لگا۔ اور اس نے اسمِ محمدؐ كى شان ميں كچھ گستاخياں بھى كيں۔ ميں نے آؤ ديكھا نه تاؤ، لپك كر ايك پتھر اٹھايا، اور اسے گھما كر هندو لڑكے كے منه پر ايسے زور سے دے مارا كه اس كا سامنے كا آدھا دانت ٹوٹ گيا۔
لاشعور كى وه كون سى لهر تھى جو الله كے ساتھ مذاق پر تو خاموش رهتى تھي، ليكن رسول الله كے ساتھ گستاخى پر آناً فاناً جوش ميں آگئى تھي؟ كوئى شخص رسول خدا كے متعلق بدزبانى كرےتو اكثر لوگ آپے سے باهر هوجاتے هيں اور كچھ لوگ تو مرنے مارنے كى بازى تك لگا بيٹھتے هيں۔ اس ميں اچھے، نيم اچھے يا برے مسلمان كى بالكل كوئى تخصيص نهيں، بلكه تجربه تو يهى شاهد هے كه جن لوگوں نے ناموسِ رسول پر اپنى جانِ عزيز كو قربان كرديا، ظاهرى طورپر نه تو وه علم وفضل ميں نماياں تھے اور نه زهد وتقوى ميں ممتاز تھے۔ ايك عامى مسلمان كا شعور اور لاشعور جس شدت اور ديوانگى كے ساتھ شانِ رسالت كے حق ميں مضطرب هوتاهے، اس كى بنياد عقيدے سے زياده عقيدت پر مبنى هے۔ خواص ميں يه عقيدت ايك جذبه اور عوام ميں ايك جنون كى صورت ميں نمودار هوتى هے‘‘۔ (شهاب نامه،لاهور، 1988، صفحه 16-17)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قدرت الله شهاب نے جو بات كهى هے، وه بلاشبه ايك واقعه هے۔ يه ايك حقيقت هےكه تمام مسلمان، غالباً كسى استثنا كے بغير، اِسى نفسيات كا شكار هيں۔ خدا كى بے حرمتى هو تو مسلمانوں كے جذبات نهيں بھڑكـتے، ليكن رسول كى بے حرمتى هو تو تمام مسلمان شديد طورپر بھڑك اٹھتے هيں۔ فتوے اور بيانات سے لے كر عوامى مظاهرے تك وه سب كچھ كرنے كے ليے تيار هوجاتے هيں۔ اِس معاملے ميں ان كى جذباتيت كا يه حال هوتا هے كه وه تشدد اور توڑ پھوڑ تك كو اپنے ليے جائز سمجھ ليتے هيں۔ اِس معاملے كى مثاليں بار بار ميڈيا ميں آتى رهتى هيں۔ اِس كى ايك مثال وه هے جو ماه نامه الرساله (دسمبر 2012، صفحه 25) ميں ديكھى جاسكتى هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا اور رسول كے درميان اِس فرق كا سبب كيا هے۔ اِس كے سبب كى تحقيق کیجیے تو اِس كے پيچھے مسلمانوں كى ايك ايسى كمزورى كى دريافت هوتى هے جو صرف ايك كمزورى نهيں، بلكه وه يقينى طورپر ايك سنگين جرم كى حيثيت ركھتى هے۔
خدا كا عقيده
خدا كے خلاف لكھنے اور بولنے والے پهلے بھى دنيا ميں پائے جاتے تھے، ليكن موجوده زمانے ميں ايسے لوگوں كى تعداد هزاروں گنا زياده بڑھ گئى هے۔ فريڈرك نٹشے (Friedrich Nietzsche) مشهور جرمن فلسفى هے۔ 56 سال كى عمر ميں 1900 ميں اس كى وفات هوئي۔ جديد فلسفے ميں اس كا بهت بڑا درجه مانا جاتاهے۔ نٹشے نے كھلے طورپر كهاتھا كه— خدا مر چكا هے
God is dead. (EB. 13/79)
البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) دورِ جديد كا مشهور ترين جرمن سائنس داں هے۔ 76 سال كى عمر ميں 1955 ميں اس كى وفات هوئي۔ خدا كے بارے ميں آئن سٹائن كے خيالات كيا تھے، اس كا اظهار آئن سٹائن كے ايك مطبوعه خط سے هوتاهے۔ يه خط اس نے 3 جنورى 1954 كو اپنى هينڈ رائٹنگ ميں جرمن زبان ميں ايك يهودى فلاسفر ايرك بى گٹ كائنڈ (Eric B. Gutkind) كے نام لكھا تھا۔ اِس خط ميں اس نے لكھا تھا كه — خدا كا لفظ ميرے نزديك اِس سے زياده اور كچھ نهيں كه وه صرف انسانى كمزوريوں كا ايك اظهار هے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
The word God is for me nothing more than the expression of human weaknesses.
موجوده زمانے ميں خدا كے عقيدے كے خلاف جو كتابيں لكھى گئى هيں اور جو مقالات شائع هوئے هيں، ان كى تعداد هزاروں سے بھى زياده هے۔ اِس نوعيت كى چندكتابوں كے نام يه هيں
God: The Failed Hypothesis, by Victor Stenger, 2007
Society without God, by Phil Zuckerman, 2008
God is not Great, by Christopher Hitchens, 2009
انٹرنيٹ پر اِس نوعيت كى كئى مستقل ويب سائٹس هيں۔ مثلاً
God is Imaginary, God Does not Exist
اِس سے بڑھ كر يه كه موجوده زمانے كا سب سے بڑا علمى موضوع سائنس هے۔سائنس كو موجوده زمانے كا سب سے زياده طاقت ور علمى موضوع سمجھا جاتا هے۔ مگر حال يه هے كه سائنس كے تمام شعبوں سے خدا كو مكمل طورپر خارج كردياگياهے۔ سائنس بظاهر تخليق (creation) كےمطالعے كا نام هے، مگر سائنس كى تمام شاخوں ميں خالق (Creator) كو پورى طرح حذف كردياگيا هے۔ اِس كى آخرى حد يه هے كه خود سائنس كے مطالعے سے موجوده زمانے ميں يه معلوم هوا هے كه كائنات ميں واضح طورپر ايك ذهين ڈيزائنر (intelligent designer) پايا جاتاهے۔
يه دريافت اپنے آپ ميں ثابت كرتى هے كه يقينى طورپر كائنات كے پيچھے ايك ذهين ڈيزائنر موجود هے۔ اِس كے باوجود سائنٹفك كميونٹى (scientific community) خدا كے وجود كو ماننے كے ليے تيار نهيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا اور مسلمان
يه ايك حقيقت هے كه موجوده زمانه علم اور كلچر دونوں اعتبار سے، ايك خدا ناشناس زمانه هے۔ موجوده زمانے كے تعليم يافته طبقے كا كيس صرف يه نهيں هے كه وه خدا كے وجود پر يقين نهيں ركھتا، بلكه وه كھلے طورپر خدا كے عقيدے كا استهزا كرتاهے۔ وه كھلے طور پر اُس مذموم روش ميں مبتلا هے جس كو بيان كرنے كے ليے ’’خداكى شان ميں گستاخي‘‘ كا لفظ بھى هلكا هے۔ اس كو بيان كرنے كے ليے كوئى شديد تر لفظ وضع كرنا پڑے گا۔ يه سب كچھ كسى ايك مقام پر نهيں، بلكه سارى دنيا ميں هورهاهے۔
موجوده زمانے كى لائبريريوں ميں ايسى كتابيں كثرت سے موجود هيں جو خدا كے بارے ميں اُس سے بھى زياده قابلِ اعتراض هيں جس كى مثال سلمان رشدى كى كتاب سيٹنك ورسيس (The Satanic Verses) ميں پائى جاتى هے۔اِس كے باوجود كيوں ايسا هے كه اِس سے كم تر درجے كے كيس ميں مسلمانوں كى حميتِ رسول آخرى حد تك بھڑك اٹھتى هے، جب كه خدا كے معاملے ميں ان كى حميت نهيں بھڑكتي۔
مثال كے طور پر ستمبر ۔نومبر 2012 ميں دنيا كے مختلف حصوں ميں مسلمانوں نے بڑے پيمانے پر امريكى فلم (Innocence of Muslims) كے خلاف احتجاج (protest) كيا۔يه احتجاج مصر سے لے كر آسٹريليا تك، بهت سے شهروں ميں كيا گيا۔ اِس ميں هرجگه مسلمانوں كى بڑى تعداد شريك هوئي۔ كئى جگه اِس احتجاج نے تشدد اور توڑ پھوڑ كى صورت اختيار كرلي۔ ميڈيا كى رپورٹ كے مطابق، اِس احتجاج ميں تقريباً 80 لوگ مارے گئے اور ايك سو سے زياده لوگ زخمى هوئے۔ اِس درميان پراپرٹى كا جو نقصان هوا، وه اس كے علاوه هے۔
نفسياتى تجزيه
يه كوئى ساده معامله نهيں، حقيقت يه هے كه اِس كے پيچھے مسلمانوں كى ايك مجرمانه نفسيات پائى جاتى هے۔ يه وهى نفسيات هے جو مشركين كے بارے ميں قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كى گئى هے وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰى شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ (6:136)۔ يعنى، خدا نے جو كھيتى اور چوپائے پيداكيے هيں، اُس ميں سے اُنھوں نے خدا كا كچھ حصه مقرر كيا هے۔ پس، اپنے گمان كے مطابق، وه كهتے هيں كه يه حصه الله كا هے اور يه حصه همارے شريكوں كا۔ پھر جو حصه اُن كے شريكوں كا هوتا هے، وه تو الله كو نهيں پهنچتا اور جو حصه الله كے ليے هے، وه اُن كے شريكوں كو پهنچ جاتا هے۔ كيسا برا فيصله هے جو يه لوگ كرتے هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لوگ الله اور اپنے شركا كے درميان جو تفريق كرتے تھے، وه كوئى ساده بات نه تھي۔ اِس كا سبب دراصل اُن كے غلط مفروضات تھے۔ انھوں نے بطور خود يه عقيده بنا ركھا تھا كه اُن كو دنيا ميں جو كچھ ملتا هے، وه ان كے شركا كى بركت سے ملتاهے۔ اِس خود ساخته عقيدے كى بنا پر وه سمجھتے تھے كه اصل مسئله شركا كو خوش ركھنے كا هے۔ اگر شركا خوش رهيں گے تو ان كے سارے معاملات درست رهيں گے۔ اِس عقيدے كى بنا پر وه شركا كے حصے كو تو پورا كرديتے تھے اور خدا كا حصه كم كرنے ميں كوئى حرج نهيں سمجھتے تھے۔
ٹھيك يهى معامله مسلمانوں كا ايك اور اعتبار سے هے۔ صحابه اور تابعين كے بعد مسلمانوں ميں جو ذهن بنا، اُس ذهن كے تحت مسلمانوں نے خود ساخته طورپر يه كيا كه انھوں نے اپنے پيغمبر كو سب سے بڑا درجه دے ديا۔ انھوں نے اپنے پيغمبر كا درجه اتنا بڑھايا كه خدا اُن كے ليے عملاً صرف ايك رسمى عقيده بن كرره گيا۔
اِس معاملے كى ايك مثال يه هے كه دورِ تصنيف ميں مسلمانوں كے لكھنے والوں نے پيغمبر كى عظمت پر هزاروں كتابيں لكھيں، ليكن وه الله كى عظمت پر كوئى قابلِ ذكر كتاب نه لكھ سكے۔
بعد كے زمانے ميں يه هواكه مسلمانوں كے پاس جتنے بڑے بڑے القاب تھے، وه سب انھوں نے اپنے پيغمبر كو دے ديے۔ مثلاً سرورِ عالم، شهنشاهِ كونين، تاج دارِ دو عالم، سيد الكونين، وغيره۔ اِس قسم كے بڑے بڑے القاب جب پيغمبر كو دے دیے جائيں تو اس كے بعد انسانى الفاظ ميں، الله كو دينے كے ليے كچھ باقى نهيں رهتا۔ اِس بنا پر ايساهوا كه الله كا تصور ايك باعظمت تصور كى حيثيت سے شعورى طورپر مسلمانوں كے ذهن ميں باقى نهيں رها۔يهى وه ذهن هے جس كى نمائندگى ايك مسلم شاعر نے اِن الفاظ ميں كى هے
الله كے پلّے ميں وحدت كے سوا كيا هے
جو كچھ هميں لينا هے، لے ليں گے محمد سے
اسلام كى تاريخ
اپنے پيغمبر كے بارے ميں بعد كے زمانے ميں مسلمانوں كے اندر جو ذهن بنا، اس كا ايك سياسى پس منظر تھا۔ اصل يه هے كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے ساتھ استثنائى طورپر يه واقعه پيش آيا كه ايك عظيم تاريخ آپ كے نام كے ساتھ وابسته هوگئي۔ آپ كے زمانے ميں اور آپ كے اصحاب كے زمانے ميں ايك بڑا سياسى انقلاب پيش آيا۔ اِس سے پهلے كسى پيغمبر كے زمانے ميں اِس قسم كا سياسى انقلاب پيش نهيں آيا تھا۔
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے 610 عيسوى ميں مكه ميں اپنا موحدانه مشن شروع كيا، جب كه اُس وقت آپ ايك فردِ واحدكى حيثيت ركھتے تھے، مگر 23 سال كے بعد جب 632 عيسوى ميں آپ كى وفات هوئى تو پورا عرب آپ كے دين كا پيرو بن چكا تھا۔ اُس كے بعد آپ كے اصحاب نے آپ كے مشن كو جارى ركھا، يهاں تك كه اگلے 25 سال كے دوران عرب كے اطراف كے بيش تر ممالك ميں آپ كے پيروؤں كا اقتدار قائم هوگيا۔ ساسانى ايمپائر اور بازنتينى ايمپائر كا خاتمه هوگيا۔ آپ كى بعثت كے 100 سال كے اندر يه هوا كه آپ كے ماننے والوں نے ايك عظيم مسلم ايمپائر قائم كرليا، جس كا دبدبه كم وبيش هزار سال تك باقى رها۔
يه سياسى انقلاب اتنا زياده واضح تھا كه سيكولر مورخين نے بھى كھلے طورپر اس كا اعتراف كيا هے۔ مثال كے طورپر ايك امريكى مصنف جان ڈرنك واٹر (وفات 1937)نے اپنى ايك كتاب ميں پيغمبر اسلام كا تذكره كرتے هوئے لكھا هے كه— وه عالمى تاريخ ميں ايك انتهائى ممتاز انسان كى حيثيت ركھتے هيں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
One of the most remarkable men in history of the world. (The Outline of Literature by John Drinkwater, 1923)
other sourceWords of another person or source
انڈيا كے ايك مشهور اسكالر ايم اين رائے (وفات 1954) نے پيغمبر اسلام اور آپ كے بعد بننے والى تاريخ كا ذكر كرتے هوئے لكھا هے كه— محمد كا اِس حيثيت سے اعتراف كرنا چاهيے كه وه تمام پيغمبروں ميں سب سے بڑے پيغمبر تھے۔ اسلام كى توسيع تمام معجزات ميں سب سے بڑا معجزه هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Muhammad must be recognised as by far the greatest of all prophets. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (The Historical Role of Islam, by M. N. Roy, 1939, p.4)
other sourceWords of another person or source
امريكى مصنف ڈاكٹر مائكل هارٹ نے ايك كتاب شائع كى هے۔ اس ميں انھوں نے انسانى تاريخ كے ايك سو ايسے افراد كا ذكر كيا هے جنھوں نے تاريخ ميں سب سے زياده كاميابى حاصل كي۔اِس فهرست ميں انھوں نے پيغمبر اسلام كو نمبر ايك پر ركھاهے۔ وه لكھتے هيں كه — آپ تاريخ كے تنها شخص هيں جو انتهائى حد تك كامياب رهے۔ مذهبى سطح پر بھى اور سيكولر سطح پر بھي
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Mohammad was the only man in history who was supremely successful on the religious and secular levels. (Dr. Michael H. Hart, The 100, 1978)
other sourceWords of another person or source
اِسى طرح، ايك امريكى اسكالر چارلس اساوى (وفات 2000) نے اپنى ايك كتاب ميں پيغمبر اسلام كا اعتراف اِن الفاظ ميں كيا هے— يه كهنا مبالغه نهيں هے كه اگر كوئى ايك شخص ايسا هے جس نے تاريخ كے دھارے كو بدل ديا، تو وه شخص محمد تھے
other sourceWords of another person or source
It does not seem too much to say that if any one man changed the course of history, that man was Muhammad. (Muhammad’s Historical Role, by Charles Issawi, 1950, p. 95)
other sourceWords of another person or source
اِس طرح كے بهت سے سيكولر مصنفين اور غير مسلم محققين هيں جنھوں نے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كا تذكره نهايت شان دار الفاظ ميں كيا هے۔ پيغمبر اسلام كے مشن كے ذريعے تاريخ ميں جو انقلابى دور آيا، وه اتنا عظيم تھا كه تمام اهلِ علم نے اس كا اعتراف كيا، خواه وه سيكولر اهلِ علم هوں يا مذهبى اهلِ علم۔ انھوں نے كثرت سے اِس موضوع پر كتابيں لكھيں اور مقالات شائع كيے۔ مذكوره چنداقتباسات اِس معاملے كى وضاحت كے ليے كافى هيں۔
خدا كاحصه پيغمبر كو دينا
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے مشن كے تحت جو عظيم تاريخ بني، وه تمام تر منصوبه الٰہی كے تحت بني۔ پيغمبر اسلام سے پهلے هزاروں سال كے درميان خدا كى طرف سے بهت سے پيغمبر آئے۔ اِن پيغمبروں كے زمانے ميں توحيد كا اعلان توهوا، ليكن توحيد كى بنياد پر كوئى اجتماعى انقلاب نه آسكا، جب كه الله تعالى كو مطلوب تھا كه پيغمبر كے ذريعے ايك ايسا موحدانه انقلاب برپا هو جو شرك كے دور كو ختم كرے اور توحيد كا دور دنيا ميں لے كر آئے۔ آخر كار الله تعالى كى يه منشا هوئى كه وه تاريخ ميں مداخلت كرے اور خصوصى نصرت كے ذريعے وه انقلاب برپا كرے جو كه الله كے تخليقى منصوبے كے تحت ضرورى تھا۔ الله تعالى كے عام منصوبے كے مطابق، اِس منصوبے كى تكميل اسباب كى صورت ميں كى گئي۔ خاتم النبيين محمد صلى الله عليه وسلم اِس انقلاب كى بنيادى كڑى تھے۔
الله تعالى كے اِس خصوصى منصوبے كا آغاز چار هزار سال پهلے حضرت هاجره، حضرت ابراهيم اور حضرت اسماعيل كے ذريعے عرب كے صحرا ميں هوا۔ اِس منصوبے كے تحت لمبى مدت كے دوران ايك خصوصى نسل تيار كى گئى جس كو بنو اسماعيل كهاجاتاهے۔ اِس نسل كى اعلى خصوصيات كى بنا پر ايك مستشرق نے اس كو هيروؤں كى ايك قوم (a nation of heroes) كا لقب ديا هے۔ اِسى خصوصى نسل ميں پيغمبراسلام اور آپ كے اصحاب پيداهوئے۔ اِس كے بعد الله كى برتر تدبير كے تحت بهت سے موافق حالات ظهور ميں آئے۔ يه اپنے آغاز سے انجام تك، ايك انتهائى اعلى نوعيت كا خدائى منصوبه تھا۔ پيغمبر اسلام اور آپ كے اصحاب كے ذريعے جو عظيم اسلامى تاريخ بني، وه در اصل اِسى منصوبه الٰہی كا نتيجه تھي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن ميں اِس حقيقت كو نهايت واضح الفاظ ميں بيان كيا گيا هے كه پيغمبر اور اصحاب پيغمبر كے زمانے ميں جو تاريخى انقلاب آيا، وه كسى فرد كا شخصى كارنامه نه تھا، بلكه وه براهِ راست طورپر الله كے ايك برتر منصوبے كا نتيجه تھا۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى دو آيتيں يه هيں يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ۔هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (61:8-9)۔ يعنى، يه لوگ چاهتے هيں كه وه الله كے نور كو اپنے منه سے بجھا ديں، حالانکہ الله اپنے نور كو پورا كركے رهے گا، خواه يه منكروں كو كتنا هى ناگوار هو۔وه الله هى هے جس نے اپنے رسول كو هدايت اور دينِ حق كے ساتھ بھيجا، تاكه الله اس كو سب دينوں پر غالب كردے، خواه يه مشركوں كو كتنا هى ناگوار هو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے بھى اِس حقيقت كو بار بار نهايت واضح الفاظ ميں بيان فرمايا هے۔ اِس كى ايك مثال يه هے كه آپ كے مشن كے آغاز كے تقريباً 20 سال بعد مكه فتح هوا، جو كه اُس وقت پورے عرب ميں هر اعتبار سے مركز كى حيثيت ركھتا تھا۔ روايات ميں آتا هے كه فتح مكه كے وقت جب آپ فاتحانه حيثيت سے مكه ميں داخل هوئے تو احساسِ تواضع كے باعث آپ كى گردن جھكى هوئى تھي، حتى كه لوگوں نے ديكھا كه آپ كى داڑھى كجاوے كى لكڑى كو چھورهى هے۔ اُس وقت كعبه كے دروازے پر كھڑے هو كر آپ نے جوخطبه ديا، اُس ميں يه الفاظ تھے لا إلهَ إلّا اللهُ وحدَهُ، صدقَ وعدَهُ، ونصرَ عبدَهُ، وهزمَ الأحزابَ وحدَهُ ( سنن أبى داؤد،حدیث نمبر 4547)۔ يعنى، ايك الله كے سوا كوئى الله نهيں۔ الله نے اپنا وعده سچ كر دكھايا۔ الله نے اپنے بندے (محمد) كى نصرت كى اور الله نے دشمن كى جماعتوں كو تنها شكست دے دي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حبِ شديد كا تعلق
قرآن ميں بتايا گياهے كه اهلِ ايمان كو حب شديد (2:165) كا تعلق صرف الله سے هوتا هے، كسى اور سے نهيں۔ حُبّ كا مطلب هے اسٹرانگ افكشن (strong affection)، يعنى شديد قلبى تعلق۔ بعد كے دور كے مسلمانوں كے ساتھ يه حادثه پيش آيا كه جذباتى طورپر اُن كے ليے حب شديد كا مركز الله كے بجائے پيغمبر بن گيا۔ اِس طرح اُن كے جذبات كا مرجع بدل گيا۔ يهى وجه هے كه وه الله كى اهانت پر مشتعل نهيں هوتے، ليكن وه اپنے پيغمبر كى اهانت پر سخت مشتعل هوجاتے هيں۔ به الفاظِ ديگر، انھوں نے مشركين كے طريقےكو اختيار كرتےهوئے يه كيا كه الله كے كارنامے كو اپنے پيغمبر كا كارنامه سمجھ ليا، جو كچھ الله كے ليے تھا، اس كو انھوں نے اپنے پيغمبر كے حصے ميں ڈال ديا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سيرت اور تاريخ كى كتابيں
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے بعد سيرت ا ور تاريخ پر جو كتابيں لكھى گئيں، وه فخر كى نفسيات كے تحت لكھى گئيں۔ سيرتِ رسول كے موضوع پر لكھى جانے والى كتابوں كا عنوان غزواتِ رسول (مغازي) بن گيا، اور تاريخ اسلام پر لكھى جانے والى كتابوں كا عنوان شاه نامه اسلام اور فتوح البلدان قرار پايا۔ اِس بنا پر ايسا هوا كه سيرتِ رسول اور تاريخ اسلام كى كتابوں ميں خدا كا عامل (divine factor) حذف هوگيا۔ اسلام كى تاريخ عام طرز كى انسانى تاريخ بن گئي، وه خدائى تاريخ نه بن سكي۔ جب كه اصل حقيقت كے اعتبار سے، سيرتِ رسول اور اسلامى تاريخ دونوں ميں الله كا خصوصى منصوبه كارفرما تھا۔
سيرت نگارى اور تاريخ نگارى كا يهى غير واقعى طريقه بعد كے زمانے كے مسلمانوں ميں رائج هوگيا۔ اُس كے نتيجے ميں مسلمانوں كے اندر جو ذهن بنا، وه شعورى يا غير شعورى طورپر يه تھاكه انھوں نے تاريخ كى تمام عظمتوں كو اپنے پيغمبر كے خانے ميں ڈال ديا، جو چيز اصلاً خدا كا حصه تھي، وه پيغمبر كا حصه قرار پائي۔ اِس كے بعد مسلمانوں كے اندر جو نفسيات بني، وه فطرى طورپر يه تھى كه اُن كو تمام بڑائى اپنے پيغمبر كى طرف دكھائى دينے لگي، مسلمانوں كے اپنے ذهن كے مطابق،الله كے حصے ميں كچھ بھى باقى نه رها۔
منصوبهٔ خداوندى
بارش كے موسم ميں بارش هو تو يه اِس بات كا ايك خاموش اعلان هوتاهے كه كسان اٹھيں اور اپنے كھيتوںميں كام كركے اُن ميں بيچ ڈاليں، تاكه كھيتوں سے سرسبز وشاداب فصل اگے۔ليكن كسان اگر ايسا كرے كه وه اپنے گھر سے نكل كر پهاڑ كى طرف جائے اور وهاں وه كوه پيمائى (mountaineering) كرنے لگے۔ كوئى انسان اگر ايسا كرے تو كوششوں اور قربانيوں كے باوجود وه كوئى نتيجه حاصل نه كرسكے گا، كيوں كه وه خالق كى مرضى كے خلاف چل رها هے۔
يهى معامله دين كا بھى هے۔ دين كے معامله ميں بھى يهى هوتاهے كه الله كى طرف سے امكانات كھولے جاتے هيں۔ اهلِ ايمان كا كام هوتاهے كه وه اِن امكانات كو پهچانيں اور اُن كو بھر پور طورپر استعمال(avail) كريں۔ اگر اهلِ ايمان ايسا كريں كه الله نے امكانات تو كهيں اور كھولے هوں، ليكن اهلِ ايمان كسى دوسرے محاذپر كوشش شروع كرديں۔ اهلِ ايمان اگر ايسى غلطى كريں تو خواه وه كتنى هى قربانياں ديں، مگر اس كا كوئى نتيجه هر گز برآمد نهيں هوگا۔ ايسے لوگ قرآن كے الفاظ ميں، حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (2:217) — یعنی، ایسے لوگوں کے عمل ضائع ہوگئے دنیا میں اور آخرت میں— كا مصداق قرار پائيں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس دنيا ميں كوئى بھى عمل صرف انسان كى كوشش سے كامياب نهيں هوسكتا۔ اِس دنيا ميں كسى عمل كى كاميابى كى لازمى شرط يه هے كه اس كو خداكى تائيدحاصل هو۔ يهى وه مقام هے جهاں انسان كى عقل كا امتحان هو رها هے۔ خدا كى طرف سے جب بھى كوئى امكان كھولا جاتا هے تو وه هميشه ايك خاموش امكان كى صورت ميں هوتا هے۔ اس كے ساتھ كبھى آسمان سے آواز نهيں آتي، حتى كه جب اِس دنياميں خدا كا كوئى پيغمبر آتا هے تو بلاشبه وه خدا كا ايك خصوصى منصوبه هوتاهے، ليكن اُس وقت بھى آسمان سے يه آواز نهيں آتى كه— اے لوگو، يه خدا كا رسول هے۔ اس كو سنو اور اس كا اتباع كرو۔ يه ايك دريافت كا معامله هے جو انسان كو اپنى عقل كے استعمال كے ذريعے خود كرنا پڑتاهے۔
موجوده زمانے كے مسلم رهنماؤں كى سب سے بڑى غلطى يه هے كه وه اِس معاملے ميں مكمل طورپر ناكام رهے۔ موجوده زمانے ميں خدا نے انتهائى اعلى قسم كے دينى مواقع كھول دیے هيں، ليكن مسلم رهنما، خواه وه عرب رهنما هوں يا غير عرب رهنما، سب كے سب اِس معاملے ميں بے خبر رهے۔ وه خدا كى اسكيم كے خلاف كسى اور ميدان ميں زور آزمائى كرتے رهے۔ نتيجه يه هوا كه 200 سال سے بھى زياده مدت تك جان ومال كى قربانياں دينے كے باوجود اُنھيں كچھ بھى حاصل نهيں هوا۔
خدا كا مقصود كيا هے
خدا كے نزديك كرنےكا سب سے بڑا كام يه هے كه انسان كو خدا كے منصوبهٔ تخليق سے باخبر كيا جائے۔اِسى مقصد كے ليے خدا نے اپنے تمام رسول بھيجے، اور اِسى مقصد كے ليے آخر ميں قرآن بھيجا اور اس كے متن (text) كو مكمل طور پر محفوظ كرديا۔ قرآن اِس تخليقى منصوبے كا ايك مستند بيان (authentic statement)هے۔ اب ضرورت هے كه يه خدائى بيان هر دور كے انسانوں تك پهنچتا رهے۔ اِسى عمل كا نام دعوت الى الله هے۔
مقامى دعوت سے عالمى دعوت تك
پچھلے زمانوں ميں جن داعيوں نے دعوت الى الله كا كام كيا، ان كا كام مقامى دائرے تك محدود رها۔ دعوت كا كام هميشه وسائل كى مدد سے هوتا هے اور پچھلے زمانے ميں عالمى وسائل نه هونے كى بناپر زياده وسيع دائره ميں كام نهيں كيا جاسكتا تھا۔انسانى آبادى پورے كره ارض پر پھيلى هوئى تھي، ليكن پچھلے زمانے كے داعيوں كا دعوتى كام وسائل كے فقدان كى وجه سے عملاً مقامى دائرے تك محدود رها۔
تائيد كا انتظام
الله تعالى نے عالمِ فطرت (nature) كے اندر بالقوه (potential) طور پر ايسے امكانات ركھے تھے جن كو دريافت كركے اهلِ ايمان عالمى دائرے ميں اپنے دعوتى عمل كو انجام دے سكيں۔ يه امكان بنيادى طورپر وه تھا جس كو كميونكيشن (communication) كهاجاتاهے۔ وه تمام چيزيں جن كو موجوده زمانے ميں ماڈرن كميونكيشن (modern communication) كها جاتا هے، وه فطرت كے امكانات كو دريافت كركے هى وجود ميں آئے هيں— پرنٹنگ پريس، تيز رفتار سوارياں اور ملٹى ميڈيا، سب كا سب، عالم فطرت كے امكانات كو دريافت كركے تيار كياگيا هے۔ يه تمام مواصلاتى ذرائع اِسى ليے وجود ميں آئے هيں كه اهلِ ايمان اُن كو بھر پور طورپر استعمال كريں اور الله كے پيغام كو پرامن طورپر تمام انسانوں تك پهنچا ديں۔
موجوده مسلمانوں كى ناكامي
اسلام كے ظهور كے بعد الله تعالى نے مسلمانوں كو سياسى اقتدار عطا كيا۔ يه سياسى اقتدار ساتويں صدى عيسوى سے لے كر اٹھارھويں صدى تك كسى نه كسى طورپر جارى رها۔ اِس اقتدار كا مقصد حكومت يا عيش وعشرت نهيں تھا۔ اس كا مقصد صرف يه تھا كه مسلمان بے خوف هو كر فطرت (nature) كى تحقيق كريں اور فطرت ميں چھپے هوئے امكانات كو دريافت كركے وه مواصلاتى وسائل تيار كريں جن كے ذريعے سے دعوت الى الله كے كام كو عالمى طورپر انجام ديا جاسكے۔
اِس معاملے ميں الله تعالى نے ايسے اشارے کردیے تھے جو مسلمانوں كے ليے اپنے رول كو سمجھنے كے ليے كافى هوسكتے تھے، مگر مسلمان اشارے كى زبان كو سمجھ نه سكے۔ مثلاً قرآن ميں كثرت سے ايسى آيتيں هيں جن ميں يه بتايا گياهے كه زمين اور آسمان كى تمام چيزيں تمھارے ليے مسخر كردى گئى هيں ۔ اِس كا مطلب يه تھا كه كائنات كى تخليق اِس طرح هوئى هے كه انسان اُس ميں غوروفكر كركے اس كے اندر چھپے هوئے موافق امكانات كو دريافت كرے اور اُن كو اپنے حق ميں استعمال كرے۔ وه چيز جس كو آج مواصلاتى ٹكنالوجى كهاجاتا هے، وه سب اِس كے اندر شامل هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسرا اهم اشاره وه هے جو اسراء كے واقعے كى صورت ميں پيش آيا۔ مكى دور كے آخر ميں يه واقعه هوا كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كو خصوصى انتظام كے تحت ايك رات كے اندر مسجد حرام (مكه) سے مسجد اقصى (يروشلم) لے جايا گيا اور پھر واپس اپنے مقام پر پهنچا دياگيا۔ اِس واقعے كا ذكر قرآن كى سورۃ الاسراء (17) ميں كيا گياهے۔ واضح هو كه مكه اور يروشلم كے درميان تقريباً 1250كلوميٹر كا فاصله هے، يعنى رٹرن جرنى (return journey) كے اعتبار سے 2500 كلوميٹر كا فاصله۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى جس سوره ميں اِس واقعے كا ذكر هے، اس ميں مقصدِ سفر كو اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا(17:1) يعنى تاكه هم اس كو اپنى كچھ نشانياں دكھائيں
Qur'anQuotes the Qur'an
So that We might show him some of Our signs.
اِس آيت ميں جس نشانى كا ذكر هے، اس سے مراد خود سفر هے، نه كه يروشلم ميں واقع كوئى چيز۔ الله تعالى نے اپنے آخرى پيغمبر كے ذريعے جو كتاب هدايت (قرآن) بھيجي، وه اِس ليے تھى تاكه وه كرهٔ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں تك پهنچے۔ يه عالمى پيغام رسانى كيوں كر ممكن هوگي، اس كے بارے ميں اشاراتى طورپر بتايا گيا كه عالمِ فطرت (nature) ميں الله نے بالقوه طورپر تيز رفتار ترسيل (rapid communication) كے امكانات ركھ دیے هيں جن كو دريافت كركے واقعه بناؤ اور اُن كو تمام اهلِ عالم تك پيغام خداوندى (قرآن) كو پهنچانے كے ليے استعمال كرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
استبدالِ قوم كا اصول
امتِ مسلمه كو الله تعالى نے لمبى مدت تك يه موقع دياكه وه فطرت كے اِس امكان كو واقعه بنائے اور قرآن كے سلسلے ميں اپنى عالمى ذمے دارى كو پورا كرے، ليكن امتِ مسلمه كے رهنما اور قائدين اِس راز كو نه سمجھ سكے۔ وه دوسرے ميدانوں ميں سرگرم رهے، ليكن دعوت الى الله كے عالمى تقاضوں كو پورا كرنے كے ليے جو عمل مطلوب تھا، اُس عمل كو انجام دينے ميں وه پورى طرح ناكام رهے۔
اِس كے بعد الله تعالى كى وه سنت ظاهر هوئى جس كو قرآن ميں استبدالِ قوم (47:38) كها گياهے، يعنى ايك خدائى مطلوب كو انجام دينے ميں اگر ايك گروه ناكام هوجائے تو اس كى جگه دوسرے گروه كو لے آنا— موجوده زمانے ميں جن مغربى قوموں نے دورِ مواصلات (age of communication) پيدا كيا هے، وه اِسى استبدالِ قوم كى توسيعى صورت هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تائيد بذريعه سيكولر اقوام
پيغمبراسلام صلى الله عليه وسلم كى بهت سى پيشين گوئياں حديث كى كتابوں ميں آئى هيں۔ اُن ميں سے ايك پيشين گوئى كے الفاظ يه هيں إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ(صحيح البخاري،حدیث نمبر 3062)۔ يعنى، الله يقيناً اِس دين كى تائيد فاجر انسان كے ذريعے كرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حديث ميں ’فاجر‘ سے مراد سيكولر هے۔ اِس حديث كا مطلب يه هے كه جب امتِ مسلمه دعوتِ دين كے عالمى ذرائع كو دريافت كرنے ميں ناكام هوجائے گى تو اُس وقت الله تعاليٰ سيكولر لوگوں كو كھڑا كرے گاجو اِس كام كو انجام ديں، يعنى جب دينى محرك (religious incentive) اِس كام كو انجام دينے ميں ناكام هوجائے گا تو الله كچھ لوگو ں كو دنيوى محرك (secular incentive) كے ذريعه اٹھائے گا۔ وه فطرت ميں تحقيق وجستجو كے ذريعے فطرت ميں چھپے هوئے امكانات كو واقعه بنائيںگے۔ يه اُن لوگوں كى طرف سے امتِ مسلمه كے ليے ايك سپورٹنگ رول هوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجوده زمانے ميں، خاص طورپر انيسويں صدى اور بيسويں صدى ميں، اهلِ مغرب نے سائنس اور ٹكنالوجى كے ميدان ميں جو دريافتيں كى هيں، وه سب اِسى نوعيت كى هيں۔ اِن دريافتوں كے ذريعے الله تعالى نے اپنے دعوتى مشن كو انجام دينے كے ليے ايك خارجى سپورٹ كا انتظام كيا هے۔
ملى رهنماؤں كى ناكامى
اهلِ مغرب نے تائيد كا جو كام انجام ديا، اُس كے پيچھے كوئى دينى جذبه نهيں تھا۔ يه كام انھوں نے اپنے مادى اور قومى جذبے كے تحت كيا۔ يه بالكل فطرى تھا۔ اِس قسم كے ذاتى محرك كے بغير وه خارجى سپورٹ فراهم كرنے كا كام انجام نهيں دے سكتے تھے۔ مزيد يه كه جب انھوں نے اتنا بڑا تاريخى كام انجام ديا تو يه بھى فطرى تھا كه اُن كو عالمى دبدبه حاصل هوجائے۔ كسى بڑے رول كے ساتھ دبدبه اِس طرح جڑا هوا هے كه دونوں كو ايك دوسرے سے الگ نهيں كيا جاسكتا۔ اِس كے ذريعے اُن كو نه صرف مادى فائدے حاصل هوئے، بلكه اُن كو براهِ راست يا بالواسطه طورپر سياسى غلبه بھى حاصل هوگيا۔ يه اُن كے سپورٹنگ رول كى قيمت تھي۔ اِس قيمت كے بغير وه اپنا سپورٹنگ رول انجام نهيں دے سكتے تھے۔
موجوده زمانے كے مسلم رهنماؤں نے اِس راز كو نهيں سمجھا۔ وه ايك چيز اور دوسرى چيز كے درميان فرق كرنے ميں عاجز رهے۔ وه اِس حكمت (wisdom) كا ثبوت نه دے سكے جس كو اِن الفاظ ميں بيان كيا جاسكتا هے كه— متعلق حصے كو لينا اور غير تعلق حصے كو چھوڑدينا۔
مغربى قوميں جب جديد طاقتوں كے ساتھ ايشيا اور افريقه ميں داخل هوئيں تو اِس داخلے كے دو پهلو تھے — ايك، يه كه اِن مغربى قوموں نے فطرى طورپر اُس وقت كى مسلم دنيا ميں سياسى غلبه حاصل كرليا۔ اِس واقعے كا دوسرا پهلو يه تھاكه يه قوميں اُس عظيم نعمت كو لے كر آئى تھيں جو خود اسلام كا عين مطلوب تھا، جس كا هزار سال سے تاريخ كو انتظار تھا، يعنى جديد مواصلات (modern communication)۔مگر موجوده زمانے كے مسلم رهنمابر وقت اُس دانش مندى كا ثبوت نه دے سكے جو اُس وقت اُن سے مطلوب تھي، يعنى سياسى مسئلے كو عملى طورپر نظر انداز كرنا اور كميونكيشن كے جديد ذرائع كو بھر پور طور پر دعوت كے ليے استعمال كرنا۔ موجوده زمانے ميں مسلمانوں كے تمام مسائل اِسى دانش مندى كے فقدان كا نتيجه هيں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ايك عرب شيخ عبد الرحمن حبنكه الميدانى نے اپنى ايك كتاب ميں بتايا هے كه اِس وقت امتِ مسلمه كے تمام مسائل كا اصل سبب تين اژدهے هيں۔ مصنف كے نزديك، يه تين اژدهے يا يه تين بڑے سانپ يه هيں — استعمار (colonialism)، استشراق (orientalism)، مسيحى مبلغين (Christian missionaries)۔ يه كسى ايك مصنف كى بات نهيں، يهى موجوده زمانے كے تقريباً تمام مسلم رهنماؤں كى سوچ هے۔ اسى غلط سوچ كا يه نتيجه هے كه سارى دنيا كے مسلمان پچھلے 200 سال سے اِن مفروضه ’’افاعي‘‘ سے لڑنے اور ان كو ختم كرنے ميں مشغول هيں، ليكن عملى نتيجه مكمل طورپر برعكس صورت ميں ظاهر هوا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقيقت يه هے كه يه تينوں ’’افاعي‘‘ اپنى حقيقت كے اعتبار سے افاعى نه تھے، بلكه مذكوره حديثِ رسول كے مطابق، وه مويدينِ اسلام (supporters of Islam) كى حيثيت ركھتے تھے۔ يهى وه لوگ هيں جن كى كوششوں سے موجوده زمانے ميں وه چيز وجود ميں آئى جس كو جديد مواصلات كها جاتاهے۔ جديدمواصلات كو انھوں نے اپنے مقصد كے ليے ڈيولپ كيا تھا، ليكن جديد مواصلات، عالمى مواصلات هيں، اُن پر كسى كى اجاره دارى نهيں۔ اگر مسلم علما ا ور رهنما صرف يه كرتے كه وه اِن مفروضه افاعى كے خلاف ٹكراؤ كا محاذ نه كھولتے اور پُرامن طريقِ كار اختيار كرتے تو بلاشبه وه جديد مواصلات كو كامل طورپر اپنے حق ميں استعمال كرسكتے تھے اور اسلام كى عالمى دعوت كے اُس منصوبے كو پورا كرسكتے تھے، جس كا تاريخ كو هزارسال سے انتظار هے۔
ايك تاريخى حواله
پروفيسر ٹى ڈبلوآرنلڈ (Thomas Walker Arnold) ايك ممتاز برٹش مستشرق (orientalist) تھے۔ وه 1864 ميں لندن ميں پيداهوئے اور 1930 ميں اُن كى وفات هوئي۔ انھوں نے اپنے وسيع مطالعه كى بنياد پر اسلامى دعوت كے موضوع پر ايك كتاب لكھى تھي۔ يه كتاب 508 صفحات پر مشتمل هے۔ وه پهلى بار 1896 ميں شائع هوئي۔ اِس كتاب كا نام يه هے
The Preaching of Islam
اِس كتاب ميں بتاياگياهے كه ساتويں صدى عيسوى سے لے كر بعد كے هزار سال تك مختلف ملكوں ميں اسلام كى دعوت كس طرح پھيلي۔ مثال كے طورپر افريقه كے بارے ميں انھوں نے ايك رپورٹ كے حوالے سے اپنى اِس كتاب ميں لكھاهے كه— اِس وقت جس رفتار سے افريقه ميں اسلام پھيل رها هے، اس كى روشنى ميں يه كها جاسكتا هے كه نائجر دريا كے دونوں كناروں پر 1910 تك مشكل هى سے كوئى گاؤں بچے گا جو اسلام كے حلقے ميں نه آگيا هو
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
A Christian missionary reports: "When I came out in 1898, there were few Muhammadans to be seen below Iddah. Now they are everywhere, excepting below Abo, and at the present rate of progress there will scarcely be a heathen village on the river (Niger) banks by 1910." (p. 329)
other sourceWords of another person or source
پروفيسر آرنلڈ نے يه بات مغربى افريقه كے نائجر دريا كے دونوں طرف واقع بستيوں كے بارے ميں لكھى هے۔ واضح هو كه نائجر درياتقريباً چار هزار دو سو كلو ميٹر (4,180) لمبا هے۔ وه افريقه كے پانچ ملكوں كے درميان بهتا هے، يعنى — گائنا (Guinea)، مالى (Mali)، نائجر (Niger) بينن (Benin)، نائجيريا (Nigeria)۔ اِسى مثال پر دوسرے ملكوں كے بارے ميں قياس كيا جاسكتاهے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام كى دعوتى توسيع كا يه عمل انيسويں صدى ميں عين اُس وقت رك گيا، جب كه پرنٹنگ پريس اور جديد مواصلات كى آمد نے اسلامى دعوت كى عالمى توسيع كا امكان بڑے پيمانے پر كھول ديا تھا— اِس كا سبب يه تھا كه انيسويں صدى ميں جب يه نئے امكانات كھلےتو عين اُسى زمانے ميں ايك ’’مسئله‘‘ بھى پيدا هوگيا، وه يه كه مغربى تهذيب اور مغربى استعمار (Western Colonialism) نے نئے طريقوں كو استعمال كرتے هوئے مسلم ملكوں ميں اپنا دبدبه قائم كرليا۔
اُس وقت يه هوا كه تمام دنيا كے مسلمان منفى رد عمل (negative reaction) ميں مبتلا هوگئے۔ انھوں نے مغربى تهذيب اور مغربى استعمار كے خلاف لڑائى كا محاذ كھول ديا۔ كچھ لوگ تقرير اور تحرير كے ذريعے اِس قومى مهم ميں شريك هوگئے، اور كچھ لوگوں نے بطور خود اس كو جهاد قرار دے كر اس كے خلاف مسلح جنگ چھيڑدي۔
يه صورتِ حال عملاً آج بھى باقى هے۔ دعوت كے مواقع برباد هورهے هيں اور مسلمان انتهائى ناكام طورپر قومى اور سياسى لڑائى ميں مشغول هيں۔ اب آخرى طورپر وه وقت آگيا هے جب كه سارى دنيا كے مسلمان ان تباه كن سرگرميوں كو مكمل طورپر ختم كرديں اور پورى يكسوئى كے ساتھ دعوت الى الله كے كام ميں مشغول هوجائيں۔
ربوبيت كائنات ميں ربانى تنظيم
قرآن ميں بتايا گياهے كه الله سارے عالم كا رب هے(1:2)۔ اِس كا مطلب يه هے كه الله نے كائنات كو پيدا كركے اس كو چھوڑ نهيں ديا، بلكه وه هر لمحه كائنات كو مينج كررها هے، مادى كائنات كو بھى اور انسانى تاريخ كو بھي۔ مادى كائنات ميں الله كا مينج مينٹ (management) كلى معنوں ميں هے، ليكن انسان كو چونکہ انتخاب كى آزادى (freedom of choice) ملى هوئى هے، اِس ليے انسانى زندگى ميں الله كا طريقه يه هے كه وه انسان كى آزادى كو پورى طرح برقرار ركھتے هوئے، اس كو مينج كررها هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجوده دنيا ميں هر انسان اپنا امتحان دے رها هے۔ موجوده دنيا ميں هر انسان كو يه موقع دياگيا هے كه وه اپنى شخصيت كو اِس طرح تعمير كرے كه وه آخرت ميں جنت ميں داخلے كا مستحق قرار پائے جو كه انسان كى اصل منزل هے۔ اِس مصلحت كے تحت الله موجوده دنيا كى مسلسل نگرانى كرتا هے۔ وه انسانى تاريخ كو اِس طرح مينج كررها هے كه موجوده زمين اپنے دار الامتحان (testing ground) هونے كى حيثيت كو كسى خلل كے بغير مسلسل طور پر برقرار ركھے۔ اِس كا مقصد زمين پر اجتماعى معنوں ميں كوئى صالح نظام قائم كرنا نهيں هے، بلكه اِس كا مقصد يه هے كه جو شخص اپنى انفرادى تعمير كرنا چاهے، وه كسى خلل كے بغير اپنى شخصى تعمير كرتا رهے۔
الله كى اِس سنت كو قرآن ميں اِس طرح بيان كيا گيا هے وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ (2:251)۔ يعنى، اگر الله بعض لوگوں كو بعض لوگوں سے دفع نه كرتا تو زمين فساد سے بھر جائے، مگر الله دنيا والوں پر بڑا فضل كرنے والا هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
And if God did not check one set of people by means of another, the earth would indeed be full of mischief. But God is full of bounty to all worlds.
Qur'anQuotes the Qur'an
انسانى تاريخ كے بارے ميں الله كا يه منصوبه بظاهر كسى اعلان كے بغير اپنا كام كررها هے۔ قرآن كى سورۃ الكهف (18:60-82) ميں موسى اور خضر كے جو واقعات بيان كيے گئے هيں، وه اِسى مينج مينٹ كى ايك جزئى مثال هيں۔ اِس ميں جس كردار كو خضر كها جاتا هے، وه دراصل ايك فرشته تھا، نه كه كوئى انسان۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دو طرفه انتظام
الله نے انسان كو پيدا كرنے كے بعد ايك طرف يه كيا كه پيغمبروں كو بھيجنے كا سلسله شروع كيا جو ساتويں صدى عيسوى ميں خاتم النبيين كے ظهور تك جارى رها۔ يه پيغمبر اِس ليے آئے تاكه انسان كو لفظى طور پر يه بتاديا جائے كه انسان كے بارے ميں الله كا تخليقى منصوبه كيا هے، تاكه جو انسان اِس تخليقى منصوبے كے مطابق، زندگى گزارنا چاهے، وه اس كے مطابق اپنى زندگى كى تشكيل كرسكے۔ خاتم النبيين كے ذريعے الله كا جو كلام قرآن كى شكل ميں آيا، وه پورى طرح محفوظ هوگيا، اور پرنٹنگ پريس كے دور ميں هر انسان تك اس كا مستند نسخه پهنچ گيا۔ اِس ليے اب كسى پيغمبر كے آنے كى ضرورت نهيں۔
اِس خدائى انتظام كا دوسرا پهلو وه هے جس كو تاريخ كا ربانى مينج مينٹ (divine-management of history) كهاجاسكتا هے۔ اِس مينج مينٹ كا خاص حصه يه هے كه زمين پر كوئى فتنے كى حالت قائم نه هونے پائے۔ چنانچہ جب بھى زمين پر فتنے كى كوئى حالت قائم هوتى هے تو الله ايسے حالات پيدا كرتا هے جو اس كو ختم كردينے والے هوں۔ موجوده زمانے ميں اِس قانونِ دفع كى ايك مثال يه هے كه 1917 ميں كميونسٹ ايمپائر قائم هوا۔ اس نے ايك بڑے رقبے ميں خلافِ مذهب قانون بنا كر انسان سے چوائس (choice) كا حق چھين ليا۔ اُس وقت الله تعالى نے امريكا كو استعمال كيا اور تقريباً 75 سال كے بعد 1991 ميں كميونسٹ ايمپائر كے تحت قائم شده جبرى نظام كا خاتمه هوگيا۔
امت مسلمه كا رول
اِس خدائى منصوبے ميں امتِ مسلمه كا رول كيا هونا چاہیے، اس كو قرآن ميں اشارات كى زبان ميں بتا دياگيا هے۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى سورۃ الصف كى ايك آيت يه هے يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ ۚ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ (61:14)۔ يعنى، اے ايمان والو، تم الله كے مددگار بنو، جيسا كه عيسى بن مريم نے حواريوں سے كها كون الله كے واسطے ميرا مددگار هوتاهے۔ حواريوں نے كها هم هيں الله كے مددگار۔ پس بنى اسرائيل ميں سے كچھ لوگ ايمان لائے اور كچھ لوگوں نے انكار كيا۔ پھر هم نے ايمان لانے والوں كي، اُن كے دشمنوں كے مقابلے ميں، مدد كي، پس وه غالب هوگئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں ايك بهت اهم بات كهى گئى هے۔ اِس آيت كا خطاب امتِ مسلمه سے هے، ليكن اِس ميں امتِ مسيح كے ايك نمونے كو بطور ماڈل پيش كيا گيا هے اور امتِ مسلمه سے يه كها گيا هے كه تم بھى اُسى ماڈل كے مطابق كام كرو جس كے مطابق، امتِ مسيح نے كام كيايا مستقبل ميں كام كريں گے۔ يه ماڈل آئڈيالوجى يا عقيده كے اعتبار سے نهيں هے، بلكه وه صرف طريقِ كار (method) كے اعتبار سے هے۔ اِس اعتبار سے، امتِ مسيح (Christian community) كے يهاں جو ماڈل ملتا هے، اس كى دو تاريخى مثاليں يهاں درج كى جاتى هيں۔ حديث ميں آيا هے كه بعد كے زمانے ميں مسيحى گروه، تعداد كے اعتبار سے، سب سے بڑا مذهبى گروه بن جائے گا (صحيح مسلم، حدیث نمبر 2898)۔ ايسا كيوں كر هوگا، اس كا جواب بھى اِسى مثال پر غور كرنے سے معلوم هوتا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے كى پهلى مثال وه هے جو خود حضرت مسيح كے زمانے ميں پيش آئي۔حضرت مسيح كا مقامِ عمل قديم فلسطين تھا۔ فلسطين ميں حضرت مسيح كے ابتدائى پيروؤں پر سخت ظلم كيا گيا، مگر حضرت مسيح كى تعليم كے مطابق، اُن كے پيروؤں نے اپنے دشمنوں سے كوئى نفرت نهيں كي۔ انھوں نے دشمنوں كے خلاف كوئى جوابى كارروائى نهيں كي، حتى كه ان كے خلاف كوئى پروپيگنڈه بھى نهيں كيا۔ وه خاموشى كے ساتھ فلسطين سے باهر چلے گئے اور حضرت مسيح كى تعليم دشمن سے محبت كرو(love your enemy) كے اصول پر عمل كرتے هوئے پرامن دعوت (peaceful missionary work) ميں مشغول هوگئے۔
تاريخ بتاتى هے كه سينٹ پال كے زير اثر مسيحى گروه كے اندر كچھ نظرياتى انحرافات پيدا هوئے، ليكن جهاں تك پرامن طريقِ كار كا معامله هے، اُس پر وه بدستور پورى طرح قائم رهے۔ پرامن مشنرى سرگرميوں كے ذريعے مسيحيت مختلف ملكوں ميں پھيلتى رهي، يهاں تك كه رومى شهنشاه كانسٹينٹين اول (Constantine I)نے 337 ميں مسيحى مذهب قبول كرليا۔ يه النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ (جو بادشاہ کا دین وہی رعایا کا دین) كا دور تھا۔ چنانچہ جلد هى ايسا هوا كه يورپ كے تقريباً تمام باشندوں نے مسيحى مذهب كو اختيار كرليا، مسيحى گروه كو يه غيرمعمولى كاميابى تمام تر پرامن دعوت كے ذريعے حاصل هوئي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسيحى گروه كے ذريعے تاريخ ميں اِس سلسلے ميں دوسرا ماڈل ساتويں صدى عيسوى ميں قائم هوا۔ ساتويں صدى ميں مسلمانوں كو جب عروج هوا تو انھوں نے رومن ايمپائر كو توڑ ديا اور اِس مسيحى سلطنت كے پورے علاقے پر قبضه كرليا۔ اِس علاقے ميں مسيحى عقيدے كے مطابق، مقدس مقامات، شام اور فلسطين، بھى شامل تھے۔ بعد كے زمانے ميں يورپ كے مسيحى بادشاهوں كے اندر يه جذبه پيدا هوا كه وه اپنے مقدس مقامات كو مسلمانوں سے واپس لے ليں۔ اِس مقصد كے ليے انھوں نے وه جنگ چھيڑ ى جو تاريخ ميں، صليبى جنگ (Crusades) كے نام سے مشهور هے۔صليبى جنگ وقفے وقفے سے تقريباً دو سو سال (1095-1291) تك جارى رهي۔ مورخ گبن كے الفاظ ميں، اِس جنگ ميں يورپ كى مسيحى قوموں كو ذلت آميز شكست (humiliating defeat) هوئي۔ مگر تاريخ كا يه انوكھا معجزه هے كه اِس شكست كے بعد مسيحى قوموں ميں منفى ردّعمل (negative reaction) كا جذبه پيدا نهيں هوا، بلكه انھوں نے يه كيا كه اپنے جذبے كو پُرامن عمل كى طرف ڈائـورٹ(divert) كرديا، يعنى مسلمانوں سے مسلح مقابله ختم كركے علم وتحقيق كے ميدان ميں اپنى كوششوں كو صرف كرنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ڈائـورژن(diversion)كے اِس عمل كو ابتدائى زمانے ميں، اسپريچول كروسيڈ (spiritual crusades) كهاگيا تھا۔ بعد كو وه رفته رفته سائنٹفك كروسيڈ (scientific crusades) ميں تبديل هوگيا۔ اِس عمل ميں اُس وقت چرچ ركاوٹ بن گيا تو انھوں نے سخت جدوجهد كے بعد چرچ كے اختيارات پر حد بندى قائم كردي، پھر 1929 ميں چرچ كو ويٹكن (روم) كے محدود رقبے ميں گويا هاؤس اريسٹ (house arrest) كرديا جس كا كُل رقبه صرف 109 مربع ايكڑ هے۔
اِس دور ميں يورپ كے جن لوگوں نے سائنٹفك كروسيڈ (scientific crusades) يا سائنسى ريسرچ كے ميدان ميں كام كيا، وه تقريباً سب كے سب مسيحى افراد تھے۔ اِس سائنسى عمل ميں بريك تھرو (breakthrough) اُس وقت آيا، جب كه 1609 ميں اٹلى كے فلكياتى عالِم گليليو (Galileo Galilei) نے ابتدائى دور بين تيار كى اور اس كے ذريعے خلا كا مشاهده كيا۔ اس مشاهدے نے سائنس دانوں كے سامنے عمل كا ايك ايسا ميدان كھول ديا جو ناقابل قياس حد تك وسيع تھا۔ اُس وقت يورپى ذهن نے يه جانا كه هم عالمِ صغير ميں جى رهے تھے، جب كه يهاں عالمِ كبير همارا استقبال كرنے كے ليے موجود هے۔ اس كے بعد يورپ كے مسيحى اهلِ علم پورى طرح سائنسى تحقيق كے ميدان ميں سرگرم هوگئے، يهاں تك كه انھوں نے تاريخ ميں پهلى بار ايك نيا دور پيدا كرديا جس كو عام طور پر جديد تهذيب (modern civilization) كهاجاتا هے۔
قابلِ تقليد ماڈل
قرآن كى سوره الصف ميں پيروانِ مسيح كے اِس ماڈل كو اهلِ ايمان كے ليے قابلِ تقليد ماڈل كے طورپر پيش كيا گياهے۔ اِس سے مراد خاص طورپر پيروانِ مسيح كى تاريخ كے يهى دو واقعات هيں۔ پهلا واقعه وه هے جو حضرت مسيح كے بعد كى ابتدائى صديوں ميں پيش آيا، اُس وقت پيروانِ مسيح كو سخت طورپر ظلم وستم كا نشانه بنايا گيا تھا، ليكن انھوں نے اس كے مقابلے ميں رد عمل كا طريقه اختيار نهيں كيا، بلكه وه طريقه اختيار كيا جو حضرت مسيح نے اُن كو اِن الفاظ ميں بتايا تھا— اپنے دشمن سے محبت كرو۔ اِس كا مطلب يه تھا كه دوسروں كى طرف سے اگر تم كو دشمنى كا تجربه هو تب بھى تم اپنے آپ كو منفى نفسيات سے بچاؤ اور يك طرفه طورپر پر امن طريقه اختيار كرتے هوئے دوسروں تك اپنا پيغام پهنچاؤ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پيروانِ مسيح كے ماڈل ميں دوسرا نمونه وه هے جو صليبى جنگوں كے بعد سامنے آيا، يعنى عسكرى ميدان ميں ناكامى كے بعد اپنے ميدانِ عمل كو بدل دينا، جيسا كه پيروانِ مسيح نے كيا۔ انھوں نے مسلح كروسيڈ كے ميدان ميں اپنى كوششوں كو بے نتيجه پايا تو انھوں نے ڈائـورژن كا طريقه اختيار كيا، اِس طرح كه عسكرى ميدان كو چھوڑ كر پر امن سائنسى ميدان ميں اپنے آپ كو سرگرمِ عمل كرليا۔
امت مسلمه كى كوتاهي
عجيب بات هے كه سورۃ الصف ميں مسلمانوں كو جوعملى نصيحت كى گئى تھي، اس كو وه اختيار نه كرسكے۔ مسلمانوں سے يه مطلوب تھا كه وه پيروانِ مسيح كے اُس ماڈل كو اپنائيں جس كو قرآن ميں پيشگى طورپر بتاديا گيا تھا۔ يهى وه پرامن ماڈل هے جس كو پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے حديبيه كے موقع پر اختيار فرماياتھا۔ مگر مسلمان بحيثيت قوم اِس سے بے خبر رهے، وه اِس ماڈل كو اپنانے ميں ناكام رهے۔ مسلمانوں كى تاريخ ميں اِس كى دو بڑى مثاليں موجود هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پهلى مثال وه هے جو نوآبادياتى طاقتوں كے ظهور كے بعد پيش آئي۔ اِس دور ميں يورپ كى نو آبادياتى طاقتوں نے مسلمانوں كى سلطنتوں كو توڑ ديا اور ان كے سياسى دبدبے كو ختم كرديا۔ اس كے بعد مسلمان منفى رد عمل كى نفسيات كا شكار هوگئے۔ وه نفرت اور انتقام اور تشدد ميں مبتلا هو كر ره گئے، حالانکہ قرآن ميں بيان كرده پيروانِ مسيح كے ماڈل كے مطابق، انھيں يه كرنا تھا كه وه پُرامن طريقِ كار اختيار كرتے، يعنى وه ميدانِ جنگ كو چھوڑ كرميدانِ دعوت ميں آجاتے، جن لوگوں كو وه اپنا حريف سمجھ كر اُن سے متشددانه ٹكراؤ كررهے تھے، اُن كو مدعو كا درجه دے كر وه ان كے اوپر پر امن دعوه ورك شروع كرديتے۔ اگر مسلمان ايسا كرتے تو يقيناً اُن كے اوپر قرآن كے وه الفاظ صادق آتے جو اِس سے پهلے پيروانِ مسيح كے اوپر صادق آچكے تھے، يعني فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ (61:14)۔ یعنی، پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی، پس وہ غالب ہوگئے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
پيروانِ مسيح كے ماڈل ميں دوسرا نمونه وه تھا جو صليبى جنگوں كے بعد ظهور ميں آيا۔ اس كا نتيجه يه تھا كه دنيا كے اوپر پهلى بار فطرت كے قوانين (laws of nature) منكشف هوئے اور جديد تهذيب وجود ميں آئى جس كے نتيجے ميں پورى انسانيت كو بے شمار فائدے حاصل هوئے۔
اِس دوسرے معاملے ميں بھى مسلمان پورى طرح ناكام هوگئے۔ قرآن ميں بيان كرده پيروانِ مسيح كے ماڈل ميں ان كے ليے يه پيغام تھا كه مغربى قوموں سے مقابله آرائى ميں جب باعتبار نتيجه وه ناكام هوجائيں تو وه اپنى پاليسى پر نظرثانى (revision) كريں۔اِسى نظر ثانى كو قرآن ميں اجتماعى توبه (24:31) كهاگيا هے۔ نظرثانى كا وه عمل يه تھا كه مسلمان اپنى كوششوں كو ٹكراؤ كے ميدان سے هٹائيں اور وه اپنےآپ كو پورى طرح تعميرى كام ميں لگاديں، مگر مسلمان نفرتِ مغرب ميں اتنى شدت سے مبتلا هوئے كه ان كے اندر يه تعميرى سوچ پيدا نه هوسكي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگر مسلمان اپنى منفى نفسيات سے باهر آكر مثبت انداز ميں سوچتے تو اُن كو معلوم هوتا كه مغرب كى مسيحى قوموں نے جو كارنامه انجام ديا هے، وه عين اُن كى اپنى موافقت ميں هے۔ اِس كے نتيجے ميں جو جديد تهذيب وجود ميں آئى هے، اس نے مسلمانوں كے ليے خدمتِ دين اور اشاعتِ اسلام كے نئے وسيع تر دروازے كھول دیے هيں۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے پيشگى طور پر فرمايا تھا كه بعد كے دور ميں الله تعالى كچھ سيكولر لوگوں كو كھڑا كرے گا جو دين كے حق ميں تائيدى رول (supporting role) انجام ديں گے۔ مغرب كى مسيحى قوموں كا كارنامه اِسى قسم كا تائيدى كارنامه تھا۔ اِس موقع پر مسلمانوں كو چاہیے تھاكه وه مغربى قوموں كے خلاف نفرت اور تشدد كى پاليسى كو مكمل طورپر ختم كرديں۔ اگر وه ايسا كرتے تو ان كے اندر ايك نيا مثبت ذهن ابھرتا۔ اس كے بعد وه جان ليتے كه مغربى قوموں نے ان كے ليے كتنا بڑا تائيدى كام انجام ديا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس تائيدى كام كا ايك پهلو وه هے جس كو قرآن ميں اِس طرح بيان كيا گيا هے— عنقريب هم اُن كو اپنى نشانياں دكھائيں گے، آفاق ميں بھى اور انفس ميں بھي، يهاں تك كه ان كے اوپر يه آشكارا هوجائے گا كه يه (قرآن) حق هے(41:53)۔ قرآن كى اِس آيت ميں جن چيزوں كو آيات (signs) كها گيا هے، اُن سے مراد وهى سائنسى حقيقتيں هيں جو پهلى بار مغربى قوموں كے ذريعے انسان كے علم ميں آئيں۔ يه سائنسى دريافتيں بے شمار پهلوؤں سے اسلام اور دعوتِ اسلام كے ليے مفيد اور معاون هيں۔حقيقت يه هے كه ساتويں صدى ميں جو اسلامى انقلاب آيا تھا، وه ايك پهلو سے تاريخ ميں ايك نئے عمل (process) كا آغاز تھا۔ يه عمل تدريجى طورپر اپنا كام كرتا رها۔ نشاةِ ثانيه كے بعد يورپ ميں جو انقلابات آئے، وه سب اِسى تاريخى عمل كى تكميل تھے۔ مثلاً افكار كے معاملے ميں كھلا پن (intellectual openness)، مذهبى آزادي، تشدد كے طريقے كا بحيثيت اصول ختم هوجانا، بادشاهت كے بجائے جمهوريت كا نظام، پرنٹنگ پريس كا دور، وغيره۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قسم كى تمام تبديلياں جو مغربى تهذيب كے بعد دنيا ميں آئيں، وه سب خود اسلام كا مطلوب تھيں۔ اِن تبديليوں كے ذريعے يه ممكن هوگيا كه اسلام كى صداقت كو خالص علمى اعتبار سے مدلّل كيا جائے۔ جديدٹكنالوجى اور كميونكيشن نے اِس بات كو ممكن بنا ديا كه اسلام كى اشاعت كو عالمى سطح پر انجام ديا جاسكے۔ اِس طرح كى بے شمار جديد چيزيں هيں جو عين اسلام كے حق ميں هيں اور وه عملاً سب كى سب مغربى تهذيب كے نتيجے ميں انسان كو حاصل هوئى هيں۔
خاتمه كلام
امتِ مسلمه كى تاريخ اب اكيسويں صدى عيسوى ميں پهنچ چكى هے۔ اب آخرى طورپر وه وقت آگيا هے، جب كه امت كے اندر وه سوچ پيدا هو جس كو قرآن كے اندر اجتماعى توبه كها گيا هے، يعنى قومى پاليسى كو بدلنا۔ يهى امت مسلمه كے مسائل كا واحد حل هے۔ اِس كے سوا كوئى اور حل نه ممكن هے اور نه مطلوب۔ پچھلى صديوں ميں جو حالات پيدا هوئے، اس كے نتيجے ميں، سارى دنيا كے مسلمانوں كے اندر منفى نفسيات كا ذهن پيدا هوا۔ اِس كا نتيجه يه هوا كه مسلمان اپنى اصل حيثيت كو بھول گئے، يعنى يه كه وه الله كے دين كے داعى هيں اور دوسرى قوميں ان كے ليے مدعو كا درجه ركھتى هيں۔
اصل حقيقت كے اعتبار سے، مسلمانوں اور دوسرے انسانوں كے درميان داعى اور مدعو كى نسبت هے، ليكن مسلمانوں كى منفى نفسيات كى بنا پر يه هوا كه مسلمانوں اور دوسرے انسانوں كے درميان حريف اور رقيب كى نسبت قائم هوگئي۔ موجوده زمانے ميں كرنے كا اصل كام يه هے كه مسلمانوں اور دوسرے انسانوں كے درميان اِس نسبت كو درست كيا جائے۔ مسلمانوں كے اندر عمومى طورپر يه سوچ پيدا كى جائے كه وه داعى هيں اور دوسرى قوميں ان كے ليے مدعو كى حيثيت ركھتى هيں۔ اِسى ميں مسلمانوں كى دنيا كى كاميابى بھى هے اور اِسى ميں ان كى آخرت كى كاميابى بھي۔
فكرى مستوىٰ كے مطابق خطاب
ايك روايت كے مطابق، پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے فرمايا بُعِثْنَا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ نُخَاطِبُ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ(المقاصد الحسنة للسخاوي،حدیث نمبر 120)۔ يعنى، تمام پيغمبروں كو يه حكم دياگيا هے كه وه لوگوں كو اُن كے عقلى معيار كے مطابق، خطاب كريں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حديث ميں ’قدرِ عقل‘ سے مراد فكرى مستوى (intellectual level) هے، يعنى لوگوں سے ايسى زبان ميں خطاب كرنا جو اُن كے ليے قابلِ فهم هو اور ان كے ذهن كو ايڈريس كرے۔ جس دعوتى خطاب ميں مدعو كى يه رعايت شامل نه هو، وه مطلوب دعوتى خطاب نهيں۔ اِس حديثِ رسول كا ايك تقاضا يه هےكه داعى اور مدعو كے درميان اگر ذهنى بُعد (intellectual gap) پيدا هو جائے تو داعى كو چاہیے كه وه اپنے آپ كو اِس طرح تيار كرے كه مدعو كے ذهن كے اعتبار سے، اس كا كلام ايك موثر كلام بن جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجوده زمانے كى نسبت سے ايك بهت بڑا مسئله يه هے كه مسلم علما اپنى تعليم كے اعتبار سے، صرف روايتى ذهن كو خطاب كرنا جانتے هيں۔ اِس بنا پر جديد تعليم يافته طبقه، علما كى پهنچ سے باهر هوگيا هے۔ علما كا روايتى طرزِ خطاب جديد ذهن كو اپيل نهيں كرتا۔ ايسى حالت ميں علماكا يه فرض هے كه وه اپنے آپ كو اِس طرح تيار كريں كه وه جديد ذهن كو خطاب كرنے كے قابل هوسكيں۔
جديد فكرى مستوى كوئى پراسرار چيز نهيں، وه دراصل عقلى مستوى (rational level) كا دوسرا نام هے۔ آج كا انسان صرف اُس كلام سے متاثر هوسكتا هے جو جديد عقلى معيار پر پورا اترتا هو، جو دورِ جديد كے مسلّمات سے مطابقت ركھنے والا هو، جو دينى حقائق كو عقل كے معروف اصولوں پر ثابت شده بناتا هو۔ قديم اسلوب كو اگر روايتى اسلوب كهاجائے تو جديد اسلوب كو سائنسى اسلوب كها جائے گا۔
جو بات مذكوره حديثِ رسول ميں كهى گئى هے، اس كى اصل خود قرآن ميں موجود هے۔ قرآن كى سوره ابراهيم ميں يه آيت آئى هے وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُم (14:4)۔ يعنى، هم نے جو پيغمبر بھى بھيجا، اس كى قوم كى زبان ميں بھيجا، تاكه وه اُن سے اچھى طرح بيان كردے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
And We have not sent any Messenger except with the language of his people in order that he might make the message clear to them.
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن كى يه آيت پيغمبر كے حوالے سے هر دور كے تمام داعيوں كے ليے هے۔ بعد كے زمانے ميں اپنے هم عصر مخاطبين كى نسبت سے داعيوں كى بھى وهى ذمے دارى هے جو قديم زمانے ميں اپنے هم عصر مخاطبين كى نسبت سے پيغمبروں كى ذمے دارى تھي۔ قرآن كى اِس آيت كے مطابق، دعوت الى الله كے سلسلے ميں داعى كى ذمے دارى صرف يه نهيں هے كه وه مدعو كى زبان ميں بول كر اس كو دعوت كا پيغام دے دے۔ اِسى كے ساتھ لازمى طورپر وه چيز بھى ضرورى هے جس كو قرآن كى مذكوره آيت ميں ’’تبيين‘‘ كهاگياهے۔ تبيين كا مطلب هے واضح كرنا، بات كو پورى طرح قابلِ فهم بنادينا۔
اِس سے معلوم هوا كه داعى كے ليے صرف مدعو كى زبان كا جاننا كافى نهيں، اِسى كے ساتھ ضرورى هےكه وه مدعوكے مزاج كو سمجھے، وه مدعو كى ذهنى ساخت كے مطابق، اُس سے خطاب كرے، تاكه اس كا ذهن ايڈريس هوسكے۔ اِس اعتبار سے دیکھیے تو موجوده زمانے ميں داعى كى ذمے دارى بهت بڑھ گئى هے۔ قديم زمانه اگر روايتى اسلوب كا زمانه تھا تو موجوده زمانه سائنٹفك اسلوب كا زمانه هے۔ آج كا مدعو كسى بات كو صرف اُس وقت سمجھ پاتا هے جب كه اُس بات كو عقلى اسلوب ميں مدعو كے سامنے پيش كيا جائے۔اِس شرط كا تقاضا هےكه داعى نه صرف آج كى زبان سيكھے، بلكه وه آج كے ذهن كو پورى طرح سمجھے اور جديد ذهن كو سمجھنے كا يه كام صرف اُس وقت ممكن هے جب كه انتهائى بے تعصبانه انداز ميں جديدافكار كا مطالعه كيا جائے۔ يه كام صرف اُس وقت ممكن هے جب كه داعى كے دل ميں مدعو كے ليے كامل خير خواهى موجود هو۔ اگر كامل خيرخواهى موجود نه هو تو نه زبان كا جاننا كافى هوسكتا هے اور نه جديد علوم كا مطالعه۔
اِس معاملے كى ايك مثال يه هے كه موجوده زمانے كے تمام علما مستشرقين (orientalists) كے بارے ميں منفى رائے ركھتے هيں۔ وه مستشرقين كو اسلام كا دشمن اور اسلام كے خلاف سازش كرنے والا قرار ديتے هيں، حتى كى ايك عرب عالم نے مستشرقين كو دورِ جديد كے تين اژدهوں ميں سے ايك اژدها قرار دياهے۔ (ملاحظه هو اجنحة المكر الثلاثة، تأليف عبد الرحمن حبنكة الميداني)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مستشرقين كے بارے ميں يه رائے يقينى طورپر درست نهيں۔ اصل يه هے كه مسلم علما، مغربى مستشرقين كو غير متعصبانه ذهن كے ساتھ نه پڑھ سكے، اِس ليے وه اُن كے كيس كو بھى سمجھنے سے قاصر رهے۔ مستشرقين كے كيس كو سمجھنے كے ليے ضرورى هے كه اُس فرق كو سمجھا جائے جو مسلم علما اور مستشرقين كے درميان پايا جاتاهے۔ مسلم علما دين اسلام كو وحى (revelation)كے ظاهره كے تحت ديكھتے هيں۔ اِس كے برعكس، مستشرقين اپنے طريقِ مطالعه كے تحت دينِ اسلام كو صرف ايك سماجى ظاهره (social phenomenon)يا تاريخى ظاهره (historical phenomenon) كے طورپر ديكھتے هيں۔ طريقِ مطالعه كے اِس فرق كى بنا پر فطرى طورپر ايسا هوتاهے كه دونوں كى رائے ميں كچھ فرق واقع هوجاتا هے۔ يه فرق يقينى طورپر كسى سازشى ذهن يا بدنيتى كى بنا پر نهيں هوتا، بلكه وه صرف طريقِ مطالعه (method of study)ميں فرق كى بنا پر هوتاهے۔
استشراق كى حقيقت
استشراق (orientalism) كيا هے، استشراق اپنى اصل حقيقت كے اعتبار سے، صرف ايك چيز كا نام هے، وه يه هے كه نشاةِ ثانيه (Renaissance) كے بعد مختلف اسباب سے يورپ ميں ايك ذهن ابھرا جس كو روحِ تجسس (spirit of inquiry) كهاجاتاهے۔ اِس روحِ تجسس نے مزيد ترقى پاكر موضوعى طريقِ مطالعه (objective method of study) كا عنوان اختيار كيا۔ نشاةِ ثانيه كے بعد يورپ ميں پيدا هونے والے تمام علوم، خواه وه مذهبى هوں يا سيكولر، وه اصلاً اِسى طريقِ مطالعه كى پيداوار هيں۔اِس طريقِ مطالعه كا استعمال بنيادى طورپر دو بڑے ميدانوں ميں هوا— ايك، علمِ فطرت(natural sciences) اور دوسرا، علمِ انسانيات (humanities)۔ اِس طريقِ مطالعه سے بهت زياده فائدے حاصل هوئے۔ هر شعبے ميں نئى نئى حقيقتيں سامنے آئيں، تحقيق كے نئے نئے دروازے كھلے، سوالات كے نئے نئے جوابات ملے، زندگى كے ليے نئى نئى رهنمائياں حاصل هوئيں۔ تاهم علم كے دونوں شعبوں ميں ايك بنيادى فرق تھا۔ علمِ فطرت كا ميدان فطرت كے اٹل قوانين تھے۔ اس ميں يه ممكن تھا كه علمِ رياضى (mathematics) كے قطعى فارمولے كو استعمال كرتےهوئے قطعى نتيجے تك پهنچا جائے اور اگر بالفرض كوئى انسان اپنے اندازے ميں غلطى كرجائے تو دوسرا انسان مزيد تجزيه كے ذريعے اس كى تصحيح كرسكے۔ اِسى ليے اِن علوم كو قطعى علوم (exact sciences)كهاجاتاهے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ليكن علم انسانيات، به شمول مذهب، ميں اِس كے استعمال كا معامله بالكل مختلف تھا۔ اِس شعبے ميں حتمى نوعيت كا كوئى رياضياتى طريقه قابلِ حصول نه تھا، اِس ليے يهاں لازمى طورپر يه هونا تھا كه انسانيات كے شعبے ميں مطالعه كرنے والوں كى رائے ميں اختلاف پيدا هو، وه كسى معاملے ميں غلط استنباط (wrong inference) كا شكار هوجائيں۔ اِس بنا پر يه ممكن هى نه تھا كه انسانيات كے دائرے ميں مطالعه كرنے والا انسان كوئى ايسا اصول وضع كرسكے جس ميں سرے سے كوئى غلطى نه پائى جاتى هو۔ انسانيات كے مطالعے ميں جو غلطياں پائى جاتى هيں، وه اختلافِ رائے كى بنا پر هيں، نه كه سازش يا بدنيتى كى بنا پر۔ يهى استشراق كا معامله هے۔ استشراق كا كيس ايك طريقِ مطالعه كا كيس هے، نه كه سازش يا بدنيتى كاكيس۔
اِس معاملے ميں صحيح طريقه يه هے كه مستشرقين كے اِس ذهن كو مدعو كے ذهن كے طورپر ليا جائے، نه كه كسى دشمن كے سازشى ذهن كے طورپر۔ هر مدعو كى اپنى سوچ هوتى هے۔ اِس طرح مستشرقين كا كيس بھى مدعو كا كيس هے اور ان كى بھى اپنى ايك سوچ هے۔ اگر هم مستشرقين كے كيس كو مدعو كے كيس كے طورپر ليں تو همارے دل ميں اُن كے بارے ميں وهى خيرخواهى پيدا هوجائے گى جو هر مدعو كے ليے ايك داعى كے دل ميں هوتى هے۔ اِس طرح يه ممكن هوجائے گا كه هم مستشرقين كے ذهن كو غيرجانب دارانه انداز ميں سمجھيں اور اُن سے داعيانه ذهن كے تحت ڈسكشن كريں اور اُن كو اسلام كا فطرى پيغام پهنچائيں۔مستشرقين بھى انسان هيں۔ اُن كے اندر بھى وهى فطرت موجود هے جو دوسرے انسانوں كے اندر پائى جاتى هے۔ اگر اُن كى فطرت ايڈريس هوجائے تو اُن كے ساتھ وهى واقعه پيش آسكتا هے جس كو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے فَاِذَا الَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِى حَمِيْمٌ(41:34)۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاريخ بتاتى هے كه مستشرقين كے معاملےميں اِس طرح كے واقعات بار بار پيش آئے هيں۔ بهت سے ايسے مستشرق هيں جنھوں نے اسلام كا مطالعه كيا۔ وه اسلام كى صداقت سے متاثر هوئے اور انھوں نے اسلام كے بارے ميں بهت سى اعلى كتابيں لكھيں۔ مثلاً ٹامس كارلائل (وفات 1881)، ٹى ڈبلو آرنلڈ (وفات 1930)، فلپ كے هٹى (وفات 1978)، وغيره۔ كچھ اور لوگ هيں جنھوں نے اسلام كے تفصيلى مطالعے كے بعد باقاعده اسلام قبول كرليا۔ مثلاً هنگرى كے عبدالكريم جُرمانوس (وفات 1979)، وغيره۔
مستشرق عام طورپر اُس كو كها جاتا هے جو كسى مغربى ملك ميں پيدا هوا هو اور پھر وه مشرقى مذاهب كا مطالعه كرے۔ ليكن توسيعى طورپر اِس فهرست ميں ايسے افراد بھى شامل كيے جاسكتے هيں جو كسى دوسرے مذهب ميں پيداهوئے هوں اور پھر وه مختلف مذاهب كا مطالعه كريں اور مطالعه كے بعد اسلام قبول كرليں۔ اِس دوسرى قسم ميں بھى بهت سے افراد پائے جاتے هيں۔ مثلاً ڈاكٹر نشى كانت چٹوپادھيائے، وغيره۔ڈاكٹر نشى كانت چٹوپادھيائے كا مختصر تعارف در ج ذيل هے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Chattopadhyay, Nishikanta (1852-1910) research scholar and the first Bengali to obtain a PhD degree (1882) from a European university, was born in July 1852 in the village of Pashchimpara in Vikrampur, Dhaka. Nishikanta passed the FA from Presidency College. He then went to Germany to study German, Sanskrit, linguistics, history and philosophy at Leipgiz University. But he was expelled from there for being an atheist. He proceeded to Switzerland and completed his doctoral studies at the University of Zurich. He returned to India in 1883 and subsequently taught at different colleges in Hyderabad, Mysore and Muzaffarpur. Towards the end of his life, he embraced Islam.
(www.banglapedia.org, accessed on 25.01.2026)
ضمیر کی آزادی
خدا کی تخلیقی اسکیم میں انسانی آزادی کے تصور کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ انسان کو اِس دنیا میں امتحان کے لیے رکھا گیاہے، اور آزادی کے بغیر امتحان ممکن نہیں۔ انسان کا مستقبل تمام تر اِس پر منحصر ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتاہے، یا وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتاہے۔ اگر انسان کی آزاد فکری پر روک لگادی جائے تو اس کے بعد امتحان کا تصور بے معنی ہو جاتاہے۔
قرآن میں واضح لفظوں میں ارشاد ہوا ہے لَآ اِكْرَاهَ فِى الدِّيْنِ ڐ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۤ لَا انْفِصَامَ لَهَا ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ(2:256)۔ یعنی، دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت، گمراہی سے الگ ہوچکی ہے۔ پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا فَذَكِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَهُمْ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ(88:21-26)۔ یعنی، (اے پیغمبر) تم بس یاد دہانی کرو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم اُن پر داروغہ نہیں۔ مگر جس شخص نے روگردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ ہماری ہی طرف ہے ان کی واپسی، پھر ہمارے ہی ذمے ہے اُن کا حساب لینا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس طرح کی قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو اِس بات کی کامل آزادی دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہے، سوچے او ر جس طرح چاہے، بولے اور لکھے۔یہ آزادی انسان کو اُس وقت تک حاصل رہتی ہے جب تک کہ وہ دوسرے انسانوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ اسلام میں سماجی جرم (social crime) کا تصور ہے، مگر اسلام میں فکر ی جرم (thought crime) کا کوئی تصور نہیں۔
لندن سے 406 صفحات پر مشتمل ایک کتاب چھپی ہے۔ کتاب کا نام اور مصنف کانام یہ ہے
Richard Dawkins, The God Delusion (2006)
کتاب کے مصنف نے افغانستان کے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جب کہ ایک افغانی شخص (عبد الرحمن) نے اپنا مذہب بدل دیا۔ اُس نے اسلام کو چھوڑ کر مسیحی مذہب اختیار کر لیا۔ اِس پر افغانستان کی عدالت میں اس کے لیے موت کی سزا سنائی گئی۔ اِس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
It is still an article of constitution of 'liberated' Afghanistan that the penalty for apostasy is death. Apostasy, remember, doesn't mean actual harm to persons or property. It is pure thought crime, to use George Orwell's 1984 terminology, and the official punishment for it under Islamic law is death. (p.287)
یعنی اب بھی آزاد افغانستان کے قانون کا ایک حصہ یہ ہے کہ ارتداد کی سزا قتل ہے۔ یاد رکھیے کہ ارتداد کا مطلب کسی انسان کو یا کسی کی پراپرٹی کو حقیقی نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ 1984 میں انگلش آتھر جارج آرویل کی وضع کردہ اصطلاح کو لیتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک خالص ’فکری جرم‘ ہے، اور اسلام کے قانون کے مطابق، اِس جرم کی مسلّمہ سزا قتل ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ صرف غلط فہمی کا ایک معاملہ ہے۔ مصنف نے افغانستان میں ہونے والے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے اور اُس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اِس قانون کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ یہ بعد کے کچھ فقہا کا مسلک ہے، نہ کہ قرآن اور سنت کا مسلک۔ اسلام کے قانون کا مستند ماخذ صرف قرآن وسنت ہے، کوئی بھی دوسری چیز اسلام میں قانون کا ماخذ نہیں۔
جدید مغربی فکر میں آزادی کو خیر اعلیٰ (summum bonum) سمجھا جاتاہے۔ مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ آزادیِ فکر کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ اِس کے برعکس، وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں صرف محدود آزادی کا تصور ہے، اِس لیے اسلام دورِ جدید کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ یہ بات صرف غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں آزادی کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ مغربی تہذیب میں۔ اور یہ بالکل فطری بات ہے، کیوں کہ اسلام کے مطابق، انسان کو موجودہ دنیا میں امتحان (test) کے لیے رکھا گیاہے۔ امتحان کے لیے آزادی لازمی طورپر ضروری ہے۔ آزادی کے بغیر امتحان ممکن نہیں، اِس لیے آزادی خود خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کا ایک لازمی حصہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام میں آزادی ہر انسان کا مطلق حق ہے، لیکن وہ ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ یہ شرط وہی ہے جو خود مغربی تہذیب کا مسلّمہ ہے، یعنی انسان کو آزادی صرف اپنے ذاتی دائرے میں حاصل ہے۔ آدمی کی آزادی اُس وقت ختم ہوجاتی ہے، جب کہ وہ دوسرے کے لیے ضرر رساں (harmful) بن جائے۔
اِس کے علاوہ، اسلام میں آزادی ایک اور لحاظ سے بھی ہے۔ خالق نے اِس دنیا میں ہر چیز کو امکان (potential) کے طور پر پیدا کیا۔ اِس امکان کو واقعہ بنانے کا کام انسان کو خود کرنا ہے۔ مثلاً خالق نے خام لوہا (ore) بنایا۔ خام لوہے کو مشین کی صورت دینا، یہ انسان کا اپنا کام ہے۔ یہ تمام تر ترقیاں صرف اُس وقت حاصل ہوسکتی ہیں جب کہ انسان کے اندر آزادانہ طورپر ذہنی سرگرمیاں جاری ہوں۔ اِس مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان کو اِس دنیا میں کامل آزادی حاصل ہو۔
تاہم اسلام میں جرم کی دو قسمیں ہیں— جرم بہ مقابلہ انسان (crime vis-à-vis man) اور جرم بہ مقابلہ خدا (crime vis-à-vis God)۔ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، ہر انسان کو دوسرے انسان کے مقابلے میں مکمل طورپر فکری آزادی حاصل ہے۔ اُس کا معاملہ صرف اُس وقت قابلِ مواخذہ یا قابلِ سزا (punishable) بنے گا، جب کہ وہ دوسرے انسان کے لیے عملی طورپر جارح بن جائے۔
مگر خدا کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ کوئی شخص خدا کو عملی جراحت نہیں پہنچا سکتا۔ خداکے معاملے میں جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف رویہ اختیار کرے، وہ خدا کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم کا اتباع نہ کرے۔ اِس میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان خدا کے معاملے میں غلط عقیدہ بنائے۔ مثلاً خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا، انسان کو خدا کا بیٹا قرار دینا، خدا کے پیغمبر کا انکار کرنا، وغیرہ۔ یہ سب چیزیں اگر چہ تھاٹ کرائم (thought crime) کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن وہ خدا کے نزدیک، قابلِ سزا کرائم (punishable crime) ہیں۔ ایسے لوگ اگر اِسی حال میں مريں تو بلاشبہ وہ خداکی سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔لیکن جرم بہ مقابلۂ خدا کے معاملے میں، سزا کا اختیار صرف خدا کو ہے، جو کہ آخرت میں کسی انسان کو دی جائے گی۔ جرم بہ مقابلہ انسان کے بارے میں فیصلہ کرنا، انسانی عدالت کا کام ہے۔ لیکن جرم بہ مقابلہ خدا کا تعلق انسانی عدالت سے نہیں۔ ایسے معاملے میں انسان کو صرف پرامن دعوت وتبلیغ کاحق ہے، نہ کہ عملی سزا کا حق۔
اسلام میں آزادیِ ضمیر (freedom of conscience) کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہے جتنی کہ کسی دوسرے نظامِ فکر میں۔ البتہ اسلامی نظامِ فکر اور سیکولر نظامِ فکر میں اِس اعتبار سے ایک فرق پایا جاتا ہے۔سیکولر نظامِ فکر میں آزادیِ ضمیر کو مطلق (absolute) حیثیت حاصل ہے، یعنی سیکولر نظامِ فکر کے مطابق، ایک شخص کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو مطلق معنوں میں صداقت سمجھے، مگر اسلامی نظام فکر میں ایسا نہیں۔ اسلامی نظامِ فکر کے مطابق، صداقت کا معیار کسی کے ضمیر کی آواز نہیں ہے، بلکہ اس کا معیاروحی الٰہی ہے۔ جو تصور وحی الٰہی کے مطابق ہو، وہی درست تصور ہے۔ اور جو تصور وحی الٰہی سے مطابقت نہ رکھتا ہو، وہ انسان کا ذاتی واہمہ (obsession) یا کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے، نہ کہ مطلق معنوں میں صداقت۔
آزادی ضمیر سے وابستہ یہ سوال بھی ہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی کا حکم کیا ہے۔ اِس معاملے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ انسان کو اظہارِ خیال کی آزادی کا کلی حق حاصل ہے۔ آدمی جب تک دوسرے انسان کے لیے جارح نہ بنے، اس کو کامل معنوں میںاظہار خیال کی آزادی حاصل رہے گی۔مگر اسلام کے مطابق، انسانی زندگی کے دومرحلے ہیں— موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ اظہارِ خیال کی کامل آزادی کا حق صرف موت سے قبل کی دنیا کے لیے ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں خدا یہ فیصلہ کرے گا کہ کس نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا اور کس نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ پھر اس کے بعد ہر ایک کے لیے اس کے دنیوی ریکارڈ کے مطابق، انعام یا سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔
عصری تقاضے— چند قابلِ غور پہلو
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهٰذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4291)۔ یعنی، اللہ اِس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پرایک شخص کو اٹھائے گا جو اُس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کرے گا۔
hadithQuotes a hadith
یہ کوئی پُراسرار بات نہیں۔ یہ فطری قانون کے تحت پیش آنے والا ایک معاملہ ہے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کی عمر بہت محدود ہے۔وہ سو سال سے پہلے ہی مرجاتا ہے۔ اِس طرح ہمیشہ ایک کے بعد دوسری نسل آتی رہتی ہے۔ ایک تیار شدہ نسل ختم ہوجاتی ہے، اس کے بعد ایک غیر تیار شدہ نسل پیدا ہوکر اس کی جگہ لے لیتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ جس طرح پہلی نسل کو تیار کیاگیاتھا، اُسی طرح دوبارہ اگلی نسلوں کو تیار کیا جائے۔ زوال کا مذکورہ عمل ایک مسلسل عمل ہے، اور اِسی کو انحطاط (degeneration) کہاجاتاہے۔ تجدید اِسی صورتِ حال کی اصلاح کا نام ہے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس فطری پراسس کے معاملے میں امتِ محمدی کا کوئی استثنا نہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت پر جب زوال کا دور آیا، تو باربار مجددینِ اسلام پیدا ہوتے رہے۔ مثلاً عمر بن عبد العزیز اُموی (وفات 720 ء)، ابن تیمیہ الحرانی (وفات 1328ء)، شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات 1762ء)، وغیرہ۔ یہ لوگ مسلّمہ طورپر مجدد تھے، اور انھوں نے اپنے زمانے کے لحاظ سے تجدید کا کام کیا۔
دو دور
امتِ مسلمہ کے ثابت شدہ طورپر دو دور ہیں — روایتی دور (traditional period)، اور سائنسی دور (scientific period)۔ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پچھلی صدیوں میں جو مجددینِ اسلام پیدا ہوئے، وہ سب روایتی دور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے روایتی ڈھانچے میں دین کو ازسرِ نو منقّح کرکے پیش کیا۔ اب امتِ مسلمہ سائنسی دور میں پہنچ چکی ہے۔ اِس دور کے حالات مکمل طورپر پچھلے دور سے مختلف ہیں۔ اِس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مسلم اسکالر نے کہا تھا کہ
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Quran has to be re-revealed today.
مگراصل یہ ہے کہ یہ کہاجائے کہ— ضرورت ہے کہ آج قرآن کی دوبارہ توضیح کی جائے
Quran has to be re-defined today.
تجدید دین دراصل اِسی توضیح ثانی (re-defination) کا نام ہے۔ مجدد وہ ہے جو بدلے ہوئے حالات کو سمجھے اور نئے حالات میں دین کو دوبارہ واضح کرے۔ یہ کام اپنی حقیقت کے اعتبار سے تجدید (revival) کا کام ہے۔ یہ اصلِ دین کا دوبارہ احیا ہے۔ اس کا کوئی تعلق اُس عمل سے نہیں جس کو موجودہ زمانے میں اصلاح (reformation) یا نظرثانی (revision) کہاجاتا ہے۔
موجودہ سائنسی دور میں تجدید کا یہ کام پوری شدت کے ساتھ مطلوب ہوچکا ہے۔ اب جب کہ سائنسی تحقیقات کے مطابق، سائنس داں یہ اعلان کررہے ہیں کہ انسانی تاریخ اپنے خاتمہ (end) پر پہنچنے والی ہے۔ جس زِلزالِ شدید (99:1) کا ذکر قرآن میں کیاگیا ہے، اس کے آثار عملاً شروع ہوچکے ہیں۔ یہاں تک کہ اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ— قیامت اب زیادہ دور نہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Doomsday is not far.
ایسی حالت میں اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس کو متعین کیاجائے کہ جدید دورِ سائنس کی نسبت سے تجدید واحیاکا جو کام مطلوب ہے، وہ کیا ہے۔ اور وہ کام کیا ہے جس کو جدیدحالات کی نسبت سے تجدیدواحیا کا کام کہا جائے گا۔ قرآن اور حدیث کے حوالے سے اِس کام کی نوعیت کو پوری طرح معلوم کیا جاسکتا ہے۔
آفاق اور انفس میں ظاہر ہونے والی نشانیاں
قرآن میںواضح طورپر یہ پیشین گوئی موجود ہے کہ بعد کے دور میں فطرت کی چھپی ہوئی نشانیاں (signs) ظاہر ہوںگی، اور یہ ضرورت ہوگی کہ اِن نشانیوں کی روشنی میں دینِ خداوندی کو از سرِ نو مدلّل کیا جائے۔ یہ ضرورت قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’عنقریب مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر یہ پوری طرح کھُل جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے‘‘ (41:53)۔
Qur'anQuotes the Qur'an
آفاق اور انفس میں جن نشانیوں کے ظہور کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ واضح طورپر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میںسامنے آچکی ہیں۔ مثال کے طورپر قرآن میں بتایا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کا جسم خدا نے محفوظ کردیا ہے، اور وہ بعد کے زمانے میں ظاہر ہوگا (10:92)۔ اِس آیت کے نزول کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک یہ واقعہ لوگوں کے لیے غیر معلوم رہا۔ انیسویں صدی کے آخر میں پہلی بار سائنسی ذرائع سے یہ ممکن ہوا کہ فرعون کے اِس جسم کو دریافت کیا جاسکے اور اس کی معاصر تاریخ کا تعین کیا جاسکے۔ اِس طرح کے بہت سے نئے حقائق ہیں، جو قرآن کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ دورِ جدید کے تجدیدی کام کا ایک حصہ ہے، یعنی اِن نئی دریافتوں کو قرآن کی صداقت کی حیثیت سے پیش کرنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لسانِ قوم میں دعوت
قرآن کی سورۃ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:4)۔یعنی ،خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مخاطب قوم کی زبان میں کلام کرتا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں ’لسان‘ سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، بلکہ اُس میں کلام کا اسلوب (idiom) بھی شامل ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی زبان میں کلام کیا۔ یہ آپ کے لیے قوم کی زبان (لسانِ قوم) میں بولنا تھا۔ حضرت ابراہیم نے زمین اور آسمان کے ملکوت (6:75) سے استدلال کرتے ہوئے مدعو کے سامنے اپنے بات پیش کی۔ اور حضرت مسیح نے تمثیل (metaphor) کے انداز میں اپنی بات کہی۔ یہ دونوں اسلوب کی مثالیں ہیں، جو اپنے زمانے کے لحاظ سے استعمال کی گئیں۔
موجودہ زمانے میں دعوتی کلام وہ ہے جو وقت کی زبان میں ہو۔ وقت کی زبان کا ایک مطلب داعی کے اپنے علاقے کی زبان ہے۔ پھر یہ کہ موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ اِس لحاظ سے ضروری ہے کہ داعی آج کی انٹرنیشنل زبان میں کلام کرے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، آج کی انٹرنیشنل زبان صرف ایک ہے، اور وہ انگریزی زبان ہے۔
’’لسان‘‘ کے مسئلے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ معاصر مخاطبین کے اسلوب میں ہو۔ آج کا اسٹینڈرڈ اسلوب وہ ہے جس کو سائنٹفک اسلوب کہاجاتا ہے۔ اگر آج کے انسان کو مخاطب کرنا ہے تو ضروری ہے کہ داعی کا کلام وقت کے اسلوب میں ہو، ورنہ یہ حال ہوگا کہ داعی بظاہر بولے گا، لیکن مدعو کا مائنڈ اس سے ایڈریس نہیں ہوگا۔ ایسے کلام کو دعوتی کلام نہیں کہاجاسکتا۔
سائنٹفک اسلوب کیا ہے اور قدیم روایتی اسلوب کیا تھا۔ قدیم روایتی اسلوب وہ تھا جس میں شعر، ادب، خطابت، رومانیت، تمثیل اور مبالغہ آرائی کی زبان میں کسی بات کے کہنے کو بھی کہنا سمجھا جاتا تھا۔ جذباتی طورپر پُرکشش الفاظ بولنے والے لوگ بھی داد کے مستحق قرار پاتے تھے۔ موجودہ زمانے میں اِس قسم کا اسلوب پوری طرح متروک ہوچکا ہے۔
موجودہ زمانے کا اسٹینڈرڈ اسلوب سائنٹفک اسلوب ہے۔ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو مبنی بر حقیقت اسلوب ہو۔ جس کے الفاظ اور معنی میں کامل مطابقت پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو پورے معنوں میں علمی اور منطقی (rational) اسلوب ہو۔ موجودہ زمانے میں وہی لٹریچر دعوتی لٹریچر ہے جو اِس سائنٹفک اسلوب میں لکھا گیا ہو— یہی سائنٹفک اسلوب قرآن کا اسلوب ہے۔
تعلقاتِ انسانی کا اصول
انسانوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے لیے ہمیشہ ایک جامع اصول درکار ہوتا ہے۔ ایک ایسا اصول جو اپنے ا ور غیر کے درمیان مساوات (equation) کے قیام کی بنیاد بن سکے۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی سماج کو منظّم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
اسلام کی تاریخ میںابتدائی اور معیاری زمانہ وہ ہے جس کو عہدِ رسالت کہاجاتا ہے۔ اِس زمانے میں انسانی تعلقات کی بنیاد جس اصول پر قائم کی گئی تھی، وہ شاہد اور مشہود (85:3)کی بنیاد تھی۔ یہ دونوں لفظ شہادت (گواہی) سے اخذ کیے گئے ہیں۔ شاہد کا مطلب ہے گواہ (witness)، اور مشہود کامطلب ہے وہ جس پر گواہی دی جائے(witnessed) ۔ شہادت سے مراد دعوت ہے اور شاہد اور مشہود سے مراد وہی چیز ہے جس کے لیے داعی اور مدعو کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان شاہد اور مشہود کی یہ مساوات (equation) عہدِ رسالت اور عہد صحابہ میں قائم رہی۔ اِس کے بعد عباسی سلطنت کا زمانہ آیا، جب کہ دنیا کے بڑے حصے میں ایک مسلم ایمپائر قائم ہوگیا۔ اب شاہد اور مشہود کی یہ سابق مساوات ٹوٹ گئی اور نئی مساوات، حاکم اور محکوم کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ یہی وہ زمانہ ہے، جب کہ مسلم فقہاء نے دار الکفر اور دار الاسلام کی اصطلاحیں وضع کیں۔ اِس مساوات کے تحت، دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیاگیا۔ مسلم اکثریت کے علاقے دار السلام بن گئے۔ اور اس کے مقابلے میں غیر مسلم علاقے دار الکفر قرارپائے۔
انیسویں صدی عیسوی میں یورپ کی نوآبادیاتی طاقتوں (colonial powers)کے ظہور کے بعد یہ مساوات (equation) دوبارہ ٹوٹ گئی۔ اب مغربی تہذیب کے غلبہ کے تحت، دنیا میں جمہوریت (democracy) کا زمانہ آیا۔ سیاست کے جمہوری تصور کے تحت، حاکم اور محکوم کی مساوات بے معنیٰ قرار پائی۔ اُس نے اپنے حق میں فکری اساس کھو دی۔
مسلمانوں اور مغربی قوموں کے درمیان بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگیں (crusades) پیش آئیں۔ اِن جنگوں میںمغربی قوموں کو شکست ہوئی، لیکن اِس شکست نے مغربی قوموں کے اندر ایک مثبت نتیجہ پیدا کیا۔ یہ لوگ علم کے میدان میںسرگرم ہوگئے، یہاں تک کہ مغربی یورپ میں پندرھویں اور سولھویں صدی میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو یورپ کی نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کہاجاتا ہے۔
اِس کے بعد مغربی دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مغربی قوموں نے تجارت اور صنعت کے نئے طریقے دریافت کیے، یہاںتک کہ عمومی پیمانے پر ایک نئی مساوات (equation) قائم ہوگئی۔ یہ تاجر اور خریدار (trader and customer) کی مساوات تھی۔ اِس مساوات کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے ایک نیا کلچر وجود میں آیا جو خریدار دوست کلچر (customer-friendly culture) کے اصول پر مبنی تھا۔ یہی کلچر آج کی دنیا میں ابھی تک باقی ہے۔
اِس نازک وقت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک المیہ (tragedy) پیش آیا۔ مسلمان حاکم اور محکوم کی سابقہ سوچ سے باہر نہ آسکے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جدید اقتصادیات کی مین اسٹریم میں شامل نہ ہوسکے۔ اِس پچھڑے پن کی قیمت مسلمانوں کو یہ دینی پڑی کہ وہ موجودہ زمانے میں دہرا نقصان کا شکار ہوگئے۔
جدید حالات سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بنا پر ایک طرف یہ ہوا کہ وہ اقتصادیات میں دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے۔ دوسرا اِس سے بھی بڑا نقصان یہ تھا کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر ڈبل اسٹینڈرڈ (double standard) کا کیس بن گئے۔ ذہنی طور پر وہ دوسری قوموں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے، لیکن ان کا یہ منفی فکر قابلِ عمل نہیں ہوسکتا تھا۔ اپنی مادّی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اُن کو اِنھیں قوموں سے مل کر کام کرنا تھا۔ داخلی طورپر وہ اِن قوموں کے بارے میں منفی ذہن رکھتے ہوئے، خارجی زندگی میںاُنھیں ان قوموں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا۔
اِس طرح مسلم تاریخ میں پہلی بار ایک سنگین بُرائی پیدا ہوئی، یعنی داخلی طورپر منفی رائے رکھتے ہوئے، خارجی معاملات میں دوسروں کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اپنی مادّی زندگی کی تعمیر کرنا۔ یہ دو عملی یا ڈبل اسٹینڈرڈ کی عمومی حالت تھی۔ اِس قسم کی عمومی دو عملی مسلمانوں کی تاریخ میں اِس سے پہلے کبھی پیش نہیں آئی۔
اِس برائی سے بچنے کا واحد طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دورِ اوّل کی طرف فکری واپسی، یعنی دورِ اول کی طرح دوبارہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کی مساوات (equation) قائم کرنا۔ داعی اور مدعو کی مساوات ہی اسلام کے مطابق، صحیح مساوات ہے۔ اِس مساوات کو دوبارہ قائم کرکے مسلمان موجودہ دو عملی کی بُرائی سے بچ سکتے ہیں اور اِسی کے ساتھ امتِ مسلمہ ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی عمومی ذمے داری کو ادا رسکتے ہیں، یعنی دعوت الی اللہ کی ذمے داری۔
آئڈیالوجی آف دعوہ
حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت عملاً زندہ نہ رہے اور پھر کوئی شخص اس کو اپنی کوششوں سے زندہ کرے، تو اِس عمل پر اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ مَنْ عَمِلَ بِهَا(سنن الترمذي، حدیث نمبر 2677)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیث کوسامنے رکھا جائے اور غور کیا جائے کہ موجودہ زمانے میں وہ کون سی سنت رسول ہے جو آج زندہ نہیں ہے تو بلاشبہ وہ صرف ایک سنت ہوگی، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھیے تو ان کے درمیان نماز اور روزہ اور حج اور زکاۃ جیسے دینی اعمال بہت بڑے پیمانے پر انجام دیے جارہے ہیں، لیکن صرف ایک ہی بڑی سنت ہے جو آج عملاً زندہ نہیں، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ اِس معاملے میں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ ملّی خدمت یا اصلاح المسلمین کا کام کریں گے اور وہ اس کو دعوت الی اللہ کا نام دے دیں گے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کے رشتے کو زندہ کرنا، اِس معاملے میں سنتِ رسول کو زندہ کرنا ہے۔ لیکن یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ بلا شبہ ایک عظیم ترین کام ہے۔ دعوت کی اِسی اہمیت کی بنا پر قرآن میں اُس کو جہادِ کبیر (25:52)کہاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمانوں کے درمیان دعوت الی اللہ کی سنت کو حقیقی معنوں میں زندہ کرنے کے لیے ایک مکمل دعوہ آئڈیا لوجی(ideology of dawah) درکار ہے، ایک ایسی آئڈیا لوجی جو دعوت کی اہمیت کو جدید علمی اصول پر مدلّل کرے، جو اُن سوالات کا تشفی بخش جواب دے جو دعوت کے راستے میں ذہنی رکاوٹ (intellectual obstacle) کی حیثیت رکھتے ہیں۔
دعوت کا کام ایک ایسے ماحول کا طالب ہے، جہاں داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور تشدد کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہو۔ واضح رہے کہ یہ خاتمہ فریقِ ثانی کی طرف سے کبھی نہیں کیا جائے گا۔ یہ خاتمہ جب بھی ہوگا، وہ داعی گروہ کی طرف سے یک طرفہ طورپر کیا جائے گا، اِسی لیے قرآن میں دعوت کا حکم دیتے ہوئے پیغمبر اسلام سے فرمایا گیا وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ (74:7)۔ یعنی، اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔ مدعو کی طرف سے تمام زیادتیوں پر یک طرفہ صبرکرو اور پوری طرح مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جدید نظریات
موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے نظریات سامنے آئے ہیں جو بظاہر اسلام کے روایتی موقف سے ٹکراتے ہیں۔اِس ظاہری ٹکراؤ نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو اِن جدید نظریات کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا کردیاہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اِن نظریات کی ایسی توضیح کی جائے جو اس معاملے میں مسلمانوں کے منفی ذہن کا خاتمہ کرسکے۔ بصورتِ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان وہ نارمل تعلقات قائم نہیں ہوں گے جو دعوت کے مثبت عمل کے لیے ضروری ہیں۔
مثلاً موجودہ زمانے میں شتمِ رسول کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ مسلمان جب بھی کوئی ایسی تحریر پڑھتے ہیں یا تقریر سنتے ہیں، جو اُن کے نزدیک شتمِ رسول کے ہم معنیٰ ہو، تو وہ فوراً مشتعل ہوجاتے ہیں اور تشدد کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہایت سنگین طورپر دعوتی عمل کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
اِس کا سبب یہ ہے کہ جدید تہذیب کے زیر اثر آج تمام غیر مسلم قوموں میں یہ مان لیاگیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی مطلق معنوں میں انسان کا ایک حق ہے، کسی بھی عذر کی بناپر اس کو ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے ماحول میں مسلمان جب بطورِ خود شتم کے واقعے کو لے کر ہنگامہ شروع کرتے ہیں اور وہ میڈیا کے ذریعے فوراً لوگوں کے علم میں آجاتا ہے، تو لوگ یہ تصور قائم کرلیتے ہیں کہ اسلام آزادیِ رائے کے خلاف ہے۔ اِس بنا پر اسلام اِس قابل نہیں کہ وہ جدید انسان کا مذہب بن سکے۔
میں ذاتی طورپر شتمِ رسول کو ایک ایسا معاملہ سمجھتا ہوں جس پر مسلمان صرف دو قسم کے رویّے کا حق رکھتے ہیں۔ یا تو وہ اس سے اعراض کرتے ہوئے خاموش رہیں، یا دلیل کی زبان میں پُرامن طورپر وہ اس کا جواب دیں۔ اِس موضوع پر میں نے ’’شتمِ رسول کا مسئلہ‘‘ کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جو 191صفحات پر مشتمل ہے اور 1997 میں نئی دہلی سے شائع ہوچکی ہے۔
تاہم بالفرض اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ شتمِ رسول ایک قابلِ گردن زدنی معاملہ ہے، اور شتم کا کیس یُقتل حدًّا کا کیس ہے، تب بھی اس کو اِس معاملے میںاجتہاد کرنا چاہیے۔ دعوت الی اللہ کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ ایسا شخص اِس معاملے کو الضَّرُورَاتُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ کے خانے میں ڈالے، اور قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت، اس کو موجودہ زمانے میں ساقط قرار دے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مسلمانوں کا منفی ذہن بدستور باقی رہے گا اور وہ دعوت جیسے مثبت عمل کے لیے نا اہل (incompetent) قرار پائیں گے۔
اوپر جن مسائل کا بیان ہوا، وہ براہِ راست طورپر دعوت الی اللہ کی تجدید سے تعلق رکھتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئے حالات پیدا ہوئے ہیں، ان کے ریفرنس میں دعوت کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرنا ہے۔ نئے حالات میں جو نئے موانع (obstacles) پیدا ہوئے ہیں، ان کااِس طرح جواب دینا ہے جو دعوت کے راستے کو دوبارہ کھولنے والا ہو۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کی بات کرنا دراصل اِنھیں سوالات کو ایڈریس کرنے کا نام ہے۔ اِس سے کم تر درجے کا کوئی عمل موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے کو ہموار کرنے والا نہیں۔
اِن مسائل سے صرفِ نظر کرکے اگر کوئی کام کیا جائے اور بطور خود اس کو دعوت الی اللہ کا نام دیا جائے، تو یہ قرآن (3:188)کے الفاظ میں وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا (وہ چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیے اس پر ان کی تعریف ہو ) کا مصداق ہوگا، یعنی ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا جس کو آدمی نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آئڈيالوجى يا نظام
اسلام كا نشانه انسان كو اسلامى بنانا (Islamization of man) هے، اسلام كا نشانه اجتماعى نظام كو اسلامى بنانا (Islamization of system) نهيں۔ فرد اور اجتماع كے درميان يه فرق عقيده كى بنياد پر نهيں هے، بلكه وه پريكٹكل وزڈم (practical wisdom) كى بنياد پر هے۔ الله كے تخليقى منصوبه (creation plan) كے مطابق، يهى چيز ممكن هے، اِس كے سوا كوئى اور چيز عملاً ممكن هى نهيں۔
قرآن كا مطالعه بتاتا هے كه قرآن ميں فرد كا دين پورى طرح موجود هے، فكرى اعتبار سے بھى اور عملى اعتبار سے بھي۔ ليكن قرآن ميں اجتماعى يا سياسى زندگى كے ليے كوئى مكمل نظام موجود نهيں۔ مكمل نظام كے ليے ضر ورى هے كه اس كے ليے ايك ويل اسٹركچرڈ ماڈل (well-structured model) موجود هو، مگر ايسا ماڈل نه قرآن ميں بيان هوا هے اور نه حديث ميں۔
فرد كے احكام اور اجتماع كے احكام كے بارے ميں يه فرق كسى اتفاق كى بنا پر نهيں هے، بلكه يهى اصولى طورپر اسلام ميں مطلوب هے۔ اگر يه اصولى طورپر مطلوب نه هوتا تو يقينى طورپر قرآن ميں اس كا واضح بيان موجود هوتا۔ اِس بنا پر يه تسليم كرنا پڑے گا كه اكمالِ دين (5:3) وهى هے جو بالفعل قرآن ميں موجود هے، يعنى قرآن ميں فرد كى نسبت سے جس دين كا بيان هے، وهى دين كامل دين هے اور اجتماع كى نسبت سے قرآن ميں جس دين كا بيان هے، وهى دين اجتماع كى نسبت سے كامل دين هے۔
قرآن كى سورۃ الشورى ميں كهاگيا هے كه جو دين تمام نبيوں كے درميان مشترك تھا، وهى ’الدين‘ هے اور اُسى الدين كى تم پيروى كرو (42:13)۔ يه ايك معلوم حقيقت هے كه تمام نبيوں كے درميان مشترك دين وهى تھا جو فرد كى نسبت سے مطلوب هے۔ اجتماع كى نسبت سے اگر كوئى مكمل نظام مطلوب تھا تو وه مشترك طورپر تمام نبيوں كو ديا هى نهيں گيا۔ اِس فرق سے واضح طورپر معلوم هوتا هے كه انسان كے ليے انفرادى دين اور اجتماعى دين دونوں كا معامله ايك دوسرے سے الگ هے، دونوں كا مطالعه ايك واحد معيار كے تحت نهيں كيا جاسكتا۔ قرآن كى مذكوره آيت ميں ’أَقِيمُوا الدِّينَ‘ كا خطاب فرد سے هے، يعنى ايك فردِ مسلم كى نسبت سے جو دين مطلوب هے، اس كو چاهيے كه اپنى انفرادى زندگى ميں وه اس پر قائم هوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصولِ عمليت
اِس سلسلے ميں ايك حديث رسول كا مطالعه کیجیے ۔ زير بحث موضوع كى نسبت سے ايك اهم روايت هے جو حديث كى مختلف كتابوں ميں آئى هے۔ اس كے الفاظ يه هيں إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا ، وَحَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا ، وَحَّدَ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا ، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 4396)۔ يعنى، الله نے كچھ فرائض مقرر كيے هيں، تم اُن كو ضائع نه كرو۔ الله نے كچھ چيزوں كو حرام قرار ديا هے، تم اُن كا ارتكاب مت كرو۔ الله نے كچھ حدود مقرر كيے هيں، تم اُن سے تجاوز نه كرو۔ الله نے كچھ چيزوں كے بارے ميں سكوت اختيار فرمايا هے، تم اُن امور كے معاملے ميں بحث مت كرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حديث رسول ميں چار باتوں كا ذكر هے۔ اِن ميں سے ابتدائى تين چيزوں كا تعلق فرد سے هے۔ فرائض كا اهتمام فردكرتا هے۔ حدود سے تجاوز نه كرنے كا تعلق فرد سے هے، حرام چيز سے بچنے كا تعلق فرد سے هے۔ گويا كه اِن تين فقروں ميں ايك شخص كے انفرادى دين كو بتايا گيا۔ حديث كے آخرى فقرے ميں جو بات كهى گئى هے، اس كا ايك پهلو اجتماعى زندگى سے بھى تعلق ركھتا هے۔ اجتماع كے معاملے ميں دينى روش كا تعلق خود اجتماع يا سماج كے حالات پر منحصر هے۔ اجتماع كے معاملے ميں ايك مومن كى روش كسى پيشگى معيار (ideal) كى بنياد پر متعين نهيں هوگي، بلكه اِس بنياد پر متعين هوگى كه خود اجتماع كے حالات كيا هيں ، يعنى اجتماع كے قبوليت كى سطح (level of acceptance) كيا هے۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه ايك مومن كو اپنى انفرادى زندگى ميں معيار پسند (idealist)بننا هے اور اجتماعى زندگى ميں وه روش اختيار كرنا هے جس كو اصولِ عمليت (pragmatism) كها جاتا هے۔
حديث كے آخرى فقرے ميں ’سكوت‘ كا مطلب مطلق سكوت نهيں هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه اجتماعى معاملات ، يعنى سماجى اور سياسى معاملات كو اهلِ ايمان كے ليے كھلا (open) ركھا گيا هے۔ اُن كو يه موقع دياگيا هے كه وه حالات كى رعايت كرتےهوئے اپنے ليے كوئى مناسب روش اختيار كريں۔
اسلام ميں فرد كے دين اور اجتماع كےدين كے درميان تفريق كا يه اصول اُس مشهور اصول كى بنياد پر نهيں هے جو مغرب ميں چرچ اور سائنس كے درميان ٹكراؤ كے بعد پيدا هوا اور جس كو مذهب اور سياست كے درميان علاحدگى كا نام ديا جاتا هے۔ اِس معاملے ميں مغرب كا اصول مطلق تفريق يا نظرياتى تفريق كے اصول پر قائم هے۔ اِس كے برعكس، اسلام ميں فرد اور اجتماع كے درميان جو تفريق هے، وه ممكن اور ناممكن كے درميان پائے جانے والے فطرى فرق كے اصول پر مبنى هے، يعنى تقريباً وهى اصول جس كو عام طور پر اِس مقولے ميں بيان كيا جاتا هے كه— سياست ممكن كا آرٹ هے
Politics is the art of the possible.
اجتماعى اور انفرادى اصول كے درميان فرق كى حكمت
خالق نے انسان كو كامل آزادى دى هے۔ انسانى آزادى خالق كےمنصوبے كا ايك لازمى حصه هے جس كو منسوخ كرنا ممكن نهيں هے۔ يهى وه حقيقت هے جس كى بنا پر فرد اور اجتماع كا معامله ايك دوسرے سے الگ هوجاتا هے۔ چنانچہ جهاں تك فرد كا معامله هے، هر فرد كى زندگى اس كے اپنے اختيار ميں هوتى هے، ليكن فرد سے باهر جو انسانى مجموعه هے، اس كا معامله كسى كے اختيار ميں نهيں۔ گويا حركياتِ فرد كا اصول الگ هے اور حركياتِ اجتماع كا اصول الگ۔
ايك فرد اپنى ذاتى زندگى ميں كوئى دينى مسلك اختيار كرے تو اس سے كوئى مسئله پيدا نهيں هوگا، ليكن جب آپ اجتماعى زندگي، يعنى سماجى نظام يا سياسى نظام ميں كوئى تبديلى لانا چاهيں تو فوراً ٹكراؤ كا ماحول پيدا هوجائے گا، كيوں كه هميشه ايسا هوتا هے كه سماجى اور سياسى نظام پر كوئى شخص يا گروه پهلے سے اپنا اقتدار قائم كيے هوئے هوتا هے۔ جب آپ سماجى اور سياسى نظام ميں تبديلى كا علم بلند كرتے هيں تو فوراً هى آپ كا ٹكراؤ اُن لوگوں سے شروع هوجاتا هے جو يه محسوس كرتے هيں كه آپ اُن كو اُن كے اقتدار كے منصب سے هٹانا چاهتے هيں۔ كوئى بھى شخص يا گروه اِس قسم كى معزولى كو برداشت نهيں كرسكتا، اِس ليے وه فوراً اپنے دفاع كے ليے اٹھ كھڑاهوتا هے اور پھر طرفين كے درميان ايك ايسى لڑائى شروع هوجاتى هے جو كبھى ختم نهيں هوتي۔
تاريخ بتاتى هے كه اِس طرح كے معاملے ميں كسى ايك فريق كى جيت كبھى لڑائى كا خاتمه نهيں كرتي، كيوں كه جو فريق هارتاهے، وه فوراً هى انتقام (revenge) كى نفسيات ميں مبتلا هوجاتا هے۔ وه اپنى شكست كا بدله لينے كے ليے دوباره ايك نئى جنگ چھيڑ ديتا هے، يهاں تك كه اگر وه كسى جوابى كارروائى كى پوزيشن ميں نه هو، تب بھى وه خود كش بم بارى شروع كرديتا هے، تاكه اگر وه فريقِ ثانى كو هرا نهيں سكتا تو كم از كم اس كو نقصان پهنچائے يا اُس كو كم از كم غير مستحكم (unstable) كردے۔
اِس سے معلوم هوا كه اگر ’’كامل دين‘‘ كے نام پر اِس اصول كو اختيار كرليا جائے كه فرد نے جس دين كو اپنے ليے اختيار كيا هے، اُسى دين كو اُسے اجتماع پر بھى نافذ (implement) كرنا هے، تو اِس كے نتيجے ميں دونوں فريق كے درميان ايك ايسى لڑائى شروع هوگى جو كبھى ختم نه هوگي۔ يه كوئى قياسى بات نهيں، بلكه يهى پورى تاريخ كا عملى تجربه هے۔
پريكٹكل فارمولا
ايسى حالت ميں خالق كے منصوبے كو برقرار ركھتے هوئے اسلام ميں ايك ايسا اصول بتايا گياجو هميشه كے ليے امن كا ضامن بن جائے، جو هر حال ميں امن كے قيام كو يقينى بنانے والا هو۔ كيوں كه كسى بھى قسم كى تعمير كے ليے امن لازمى طور پر ضرورى هے امن نهيں تو تعميرى سرگرمياں بھى نهيں۔
مذكوره صورتِ حال كى بناپر اجتماع كے ليے كوئى معيارى فارمولا ممكن نهيں، اِس ليے اسلام ميں ايڈجسٹ مينٹ كا طريقه اختيار كرتے هوئے ايك ايسا فارمولا اختيار كيا گيا هے جس كو اِس معاملے ميں پريكٹكل فارمولا (practical formula) كهاجاسكتا هے۔ اِس فارمولے كو قرآن ميں أَمْرُهُمْ شُوْرَى بَيْنَهُمْ (42:38)— یعنی، وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں— كے الفاظ ميں بيان كياگيا هے ، يعنى اجتماعى معاملے ميں وهى طريقه اختيار كيا جائے گا جس پر اجتماعى مشورے كے بعد لوگ راضى هوجائيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شورى يا جمهوريت كا اصول
اجتماعى معاملے ميں كسى مطلق معيار كے بجائے لوگوں كى رائے سے فيصله كيا جانا كوئى ساده بات نهيں، يه ايك اهم اجتماعى اصول هے۔جب انسانى مجموعه يا مجتمع (human society) كا معامله هو تو اس كے اندر نظمِ اجتماعى قائم كرنے كى دو صورتيں هيں— ايك يه كه ايك شخص كو حاكمِ مطلق كى حيثيت حاصل هو اور وه سب كے اوپر اپنى مرضى نافذ كرے۔ دوسرى صورت يه هے كه مجموعے كے هر فرد كو اپنى رائے دينے كا موقع دياجائے اور پھر يا تو اتفاقِ عام يا كثرتِ رائے كى بنياد پر فيصله كيا جائے۔ پهلے طريقے كو آمريت (dictatorship) كها جاتا هے اور دوسرے طريقے كو جمهوريت (democracy)۔ اسلام ميں شورى كا اصول عملاً وهى هے جس كو موجوده زمانے ميں جمهوريت كهاجاتا هے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
شورى يا جمهوريت كا يه اصول شرعى عقيدے كا مسئله نهيں هے۔ اپنى نوعيت كے اعتبار سے، يه فطرت كے ايك اصول پر مبنى هے۔ خالق نے مصلحتِ امتحان كے تحت هر عورت اور مرد كو كامل آزادى عطا كى هے، يه آزادى قيامت سے پهلے منسوخ هونے والى نهيں۔ايسى حالت ميں نظمِ اجتماعى (socio-political system) كو كس بنياد پر قائم كيا جائے۔ اگر نظمِ اجتماعى كے ليے ايك معيارى اصول مقرر كرديا جائے اور يه مطلوب هو كه پورے انسانى مجموعے كو اسى معيارى اصول كے تابع بنانا هے۔ ايسى حالت ميں لازماً يه هوگا كه ابدى طور پر لوگوں كے درميان ٹكراؤ كى حالت جارى رهے گي۔ كچھ لوگ اِس معيارى اصول كو مانيں گے اور كچھ لوگ اپنے چوائس (choice)كا آزادانه استعمال كرتے هوئے اس كے خلاف هوجائيں گے۔ اِس طرح سماج مستقل طورپر دو متحارب گروه ميں تقسيم هوجائے گا، اُن كے درميان ايسى لڑائى جارى هوجائے گى جو كبھى ختم نه هو۔
ايسى حالت ميں همارے ليے دو ميں سے ايك كا انتخاب (choice)هے— ايك، معيارى اجتماعى اصول پر اصرار كرنا، جس كا نتيجه يه هو كه معيارى اجتماعى اصول تو عملاً كبھى قائم نه هو اور نتیجتاً انسانى معاشره هميشه كے ليے امن (peace) سے محروم هوجائے۔ اس معاملے ميں دوسرا انتخاب يه هے كه نظمِ اجتماعى كے ليے كوئى مطلوب اصول نه هو، بلكه پريكٹكل وزڈم (practical wisdom) كے اصول پر يه كيا جائے كه اجتماعى نظم كے معاملے ميں رائے عامه كو عملاً تسليم كرليا جائے۔ اِس طرح سماج ميں فورى طورپر امن قائم هوجائے گا اور هر فرد كو يه موقع مل جائے گا كه وه اپنے انفرادى دائرے ميں تعمير وترقى كا جو منصوبه چاهے، اس كو بروئے كار لاسكے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
فطرت كے اِس اصول كو ايك حديث ميں اِن الفاظ ميں بيان كيا گياهے كَمَا تَكُونُوا كَذَلِكَ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ (شعب الایمان للبہیقی، حدیث نمبر 7391)۔ يعنى، جيسے تم لوگ هوگے، ويسے هى تمھارے حكمراں هوں گے۔ اِس كا مطلب يه هے كه سياسى انتظام (political administration) مطلق معنوں ميں كسى اصول كے تابع نهيں هوگا، بلكه معاشرے كى رائے عامه كے مطابق، اس كا تعين كيا جائے گا۔ اِس بات كو دوسرے الفاظ ميں اِس طرح كها جاسكتا هے كه اسلام ميں حكومت كے معاملے كو كسى مطلق معيار (political idealism) كے تابع نهيں كيا گيا، بلكه وه عملى طريقه اختيار كيا گياهے جس كو سياسى بندوبست (political adjustment) كا طريقه كها جاسكتا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فطرت كا نظام
قرآن كى سوره الفرقان اِس آيت سے شروع هوتى هے تَبٰرَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا(25:1)۔ يعنى، بڑا بابركت هے الله جس نے فرقان (قرآن) اتارا، تاكه وه سارے عالم كے ليے آگاه كرنے والا بنے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس آيت كے مطابق، قرآن ايك كتابِ فرقان هے، يعنى فرق كرنے والى كتاب۔ فرقان فرق كا مبالغه هے۔ اِس كا مطلب هے الفَصْلُ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ (دو چيزوں كے درميان فرق كرنا)۔ يه بلاشبه انسان كى سب سے بڑى ضرورت هے۔ موجوده دنيا ميں امتحان كى مصلحت كى بنا پر تمام چيزيں غيرمميّزحالت ميں پائى جاتى هيں۔ انسان كى يه لازمى ضرورت هے كه وه اِن چيزوں كو درست طور پر سارٹ آؤٹ (sort out)كرسكے۔ايسا نه كرنے كى صورت ميں انسان فكرى اعتبار سے، كنفيوژن (confusion) كا شكار هوجائے گا اور عملى اعتبار سے وه اپنے كاموں كى نتيجه خيز پلاننگ نه كرسكے گا۔ اِس اصول كو دوسرے الفاظ ميں فطرت كا نظام كهاجاسكتا هے۔اِس دنيا ميں كوئى بھى كاميابى صرف اُس وقت ممكن هے جب كه فطرت كے اِس نظام كو ملحوظ ركھتے هوئے زندگى كا نقشه بنايا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان بظاهر وسيع كائنات كا ايك حصه هے، ليكن انسان كى ايك مميز صفت هے جو بقيه كائنات ميں موجود نهيں، وه يه كه انسان كى زندگى بيك وقت دو مختلف تقاضوں كا مجموعه هوتى هے— فرد(individual) اور اجتماع (society)۔ مطالعه بتاتا هے كه فرداور اجتماع كے تقاضے مشترك هونے كے باوجود ايك دوسرے سے بهت زياده مختلف هيں، بلكه بعض اوقات ايك دوسرے سے متضاد هيں، حتى كه يه كهنا صحيح هوگا كه انسان كى زندگى گويا ايك قسم كا مجموعهٔ اضداد (mixture of opposites) كى حيثيت ركھتى هے۔
بقيه كائنات كا معامله اِس سے مختلف هے، بقيه كائنات ميں يه تقسيم موجود نهيں۔ بقيه كائنات كا معامله يه هے كه جو ايك درخت كا كيس هے، وهى پورے باغ كا كيس هے، جو ايك قطرهٔ آب كا كيس هے، وهى پورے سمندر كا كيس هے، جو ايك ستارے كا كيس هے، وهى پورى كهكشاں كا كيس بھى هے۔ بقيه كائنات ميں واحده (unit) اور مجموعه دونوں كا كيس يكساں هے، دونوں كے درميان كوئى فرق نهيں— انسان كا معامله اس سے مختلف هے۔ انسانى زندگى كى منصوبه بندى ميں اِس فرق يا اختلاف كو ملحوظ ركھنے كا نام كاميابى هے اور اِس فرق يا اختلاف كو ملحوظ نه ركھنے كا نام ناكامي۔
تاريخ كى تصوير
تاريخ ميں جو سوچنے والے لوگ (thinkers) گزرے هيں، اُن ميں سے تقريباً هر ايك كا يه حال هوا هے كه انھوں نے اپنى سوچ كے مطابق، ايك عظيم فكرى نشانه (great vision) كے ساتھ اپنى زندگى كا آغاز كيا۔ ليكن سارى كوشش كے بعد آخر ميں وه اپنے نشانه (goal) كو حاصل كرنے كے بارے ميں نااميد هوگئے۔ اور جب وه دنيا سے گئے تو وه مايوسى (despair) كا كيس بن چكے تھے۔ ارسطو (Aristotle) سے لے كر برٹرنڈرسل تك كتنے لوگ هيں جنھوں نے آئڈيل گورنمنٹ كے قيام كو اپنا نشانه بنايا، ليكن سارى كوشش كے باوجود وه عملاً آئڈيل گورنمنٹ نه بنا سكے۔ ليوٹالسٹاے (Leo Tolstoy) سے لے كر مهاتما گاندھى تك كتنے لوگ هيں، جنھوں نے پرامن دنيا (peaceful world) بنانے كا خواب ديكھا، ليكن اُن كا خواب كبھى عملى واقعه نه بن سكا، يهاں تك كه ناكامى كے احساس كے ساتھ وه اِس دنيا سے چلے گئے۔
سيد قطب سے لے كر ڈاكٹر محمد مرسى (مصر) تك كتنے لوگ هيں جنھوں نے اپنا يه مشن بنايا كه ان كو دنيا ميں انصاف (justice) پر مبنى نظام قائم كرنا هے، مگر اُن كا آخرى احساس يه تھا كه سارى كوشش كے باوجود دنيا ميں وه اپنا مطلوب نظام قائم كرنے ميں كامياب نه هوسكے۔ اُن سب كا حال وهى هوا جو رابندر ناتھ ٹيگور نے تمثيل كى زبان ميں اِس طرح بيان كياتھا — سارى عمر بينا (ستار) كے تاروں كو سلجھانے ميں بيت گئي، مگر جو اَنتم گيت ميں گانا چاهتا تھا، وه ميں نه گاسكا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
منصوبهٔ تخليق
يه پورى تاريخ كا ايك عظيم فكرى الميه (intellectual tragedy) هے۔اس كا سبب صرف ايك هے— زندگى كے بارے ميں خدا كے تخليقى منصوبه (creation plan) سے بے خبر هونا اور خود ساخته ذهن (self-styled mindset)كے تحت منصوبه بنا كر اس كو ايك ايسى دنيا ميں بروئے كار لانے كى كوشش كرنا جو اُس كے مطابق، بنائى نهيں گئى تھي۔ يهى وه حقيقت هے جو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كى گئى هے قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ ۭ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا (17:84)۔ يعنى، هر ايك اپنے طريقے پر عمل كررها هے۔ اب تمھارا رب بهتر جانتا هے كه كون زياده ٹھيك راستے پر هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت كا مطلب يه هے كه خالق كا منصوبهٔ اشيا (scheme of things) هى صحيح تخليقى منصوبه هے۔ اُس كا اتباع كركے دنيا ميں كاميابى حاصل كى جاسكتى هے۔ ليكن لوگوں كا حال يه هے كه وه سنجيدگى كے ساتھ خالق كے منصوبے كو جاننے كى كوشش نهيں كرتے۔ وه صرف اپنے فكرى شاكله (mindset) كو جانتے هيں اور اُسى كے مطابق، عمل شروع كرديتے هيں۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه وه اپنے كاگ (cog)كو خالق كے كاگ سے نهيں ملاتے۔ اِس بنا پر اُن كا منصوبه غيرحقيقت پسندانه بن جاتا هے۔ اِس معاملے ميں لوگوں كى عمومى ناكامى كا اصل سبب يهى هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے ميں ايك بنيادى پهلو يه هے كه خالق نے انسان كو مصلحتِ امتحان كى بنا پر مكمل آزادى (total freedom) عطا كيا هے۔ هر انسان كو كلى طور پر يه اختيار حاصل هے كه وه جو چاهے كرے اور جو چاهے نه كرے۔ اِس تخليقى نقشے كى بنا پر عملاً يه بات ناممكن هوگئى هے كه اِس دنيا ميں عوام (masses) كى سطح پر كوئى آئڈيل نظام بنايا جاسكے۔كيوں كه كچھ لوگ اگر اُس سے اتفاق كريں گے تو كچھ لوگ اپنے اختيار كا آزادانه استعمال كرتے هوئے اس كے خلاف هو جائيں گے اور پھر وه مجوّزه اجتماعى اسكيم كو درهم برهم كرديں گے۔ تاريخ ميں باربار ايسے واقعات پيش آئے هيں، جب كه ايك شخص يا چند اشخاص نے بڑى بڑى اسكيموں كا خاتمه كرديا۔
خالق كے اِس نقشے كى بنا پر حقيقت پسندانه رويه يه هے كه آدمى اِس سے مطابقت كرتے هوئے اپنا نقشه بنائے۔هر انسان كو پيشگى طورپر يه جاننا چاهيے كه اس كا منصوبه صرف اُس وقت كامياب هوسكتا هے، جب كه وه خالق كے نقشے كے ساتھ مكمل مطابقت ركھتا هو۔ خالق كے نقشے سے ادنى انحراف بھى يقينى طورپر اس كے منصوبے كو ناكام بنادے گا، خواه بطور خود وه اس كو كتنا هى زياده اچھا سمجھتا هو۔
انفرادى معيار پسندي، اجتماعى عمليت
اِس حقيقت كو ملحوظ ركھتے هوئے غور كيا جائے تو موجوده دنيا ميں قابلِ عمل منصوبے كا اصول صرف ايك هے، اور وه هے فرد (individual) اور اجتماع (society) كو ايك دوسرے سے الگ كركے منصوبه بنانا۔ فرد كے تقاضے اور اجتماع كے تقاضے كے درميان فرق كى رعايت كرتے هوئے اپنے عمل كا نقشه بنانا يهى فطرى طريقه هے۔ اِس فطرى طريقے كا اصول مختصر طور پر يه هے
1۔ فرد كے ليے نظرى معيار (individual idealism)
2۔ اجتماع كے ليے عملى امكان (social pragmatism)
فرد كا معامله يه هے كه اس ميں عامل اور معمول دونوں ايك هوتے هيں۔ فرد كے كيس ميں ايك آدمى خود معيار مقرر كرتا هے اور خود اس كے اپنے اختيار ميں يه هوتا هے كه وه اِس معيار كو اپنى زندگى ميں اختيار كرے۔ اِس ليے فرد كے كيس ميں كسى معيار كو عمل كى صورت دينا پورى طرح ممكن هوتا هے۔ اِسى ليے الله كے يهاں لوگوں كا درجه فرد كى نسبت سے متعين هوگا، نه كه مجموعه كى نسبت سے۔
هر فرد كو چاهيے كه وه جس اصول كو درست سمجھتا هے، اس كو وه اپنى ذاتى زندگى ميں پورى طرح اختيار كرے۔ وه اِس معاملے ميں كسى سے سمجھوته (compromise) نه كرے۔ يهى وه اصول هے جس كو هم نے انفرادى معيار پسندى (individual idealism) كے الفاظ ميں بيان كيا هے۔
اِس كے بعد جهاں تك اجتماع يا انسانى مجموعه كا تعلق هے،اس كے معاملے ميں قانونِ فطرت كے مطابق، جو چيز قابلِ عمل هے، وه صرف يه هے كه ممكن الحصول اور ناممكن الحصول كے درميان فرق كرتے هوئے اپنا منصوبه بنانا، يعنى ذاتى ماڈل كو چھوڑ كر عملى ماڈل اختيار كرنا، اجتماع كے درجهٔ قبوليت (level of acceptance) كو ملحوظ ركھتے هوئے اپنے عمل كا نقشه بنانا۔ يهى وه عملى حقيقت (practical wisdom) هے جس كو هم نے اجتماعى عمليت (social pragmatism) كے الفاظ ميں بيان كيا هے۔
تاريخ ميں جو مفكرين عملاً ناكام هوگئے، اُن كى ناكامى كا مشترك سبب يهى هے كه انھوں نے ذاتى سوچ كے تحت اپنے ذهن ميں اجتماع كا ايك خوب صورت ماڈل بنايا اور پھر اس كو وقوع ميں لانے كے ليے پُر شور تحريكيں شروع كرديں۔ اِس كا فطرى نتيجه يه هوا كه اُن كا تصوراتى ماڈل حقائق كى چٹان سے ٹكرا كر بكھر گيا— معيار (ideal) مجموعے كى سطح پر ناقابلِ حصول هے، ليكن فرد (individual) كى سطح پر بلاشبه وه قابلِ حصول هے۔
مذهب اور سياست
فرداور اجتماع كے درميان اِسى فرق كى بنا پر اسلام ميں مذهب اور سياست كو ايك دوسرے سے الگ كردياگيا ۔ مذهب كا نشانه ذاتى ارتقا (personal development) هے، يعنى ربانى بنيادوں پر فرد كى تعمير۔ اِس اعتبار سے، مذهب اُس دائرے كى چيز هے جس كے ليے هم نے انفرادى معيار پسندى (individual idealism) كا لفظ استعمال كيا هے۔
اِس كے برعكس، سياسى اقتدار كا معامله پورے انسانى مجموعے سے تعلق ركھتا هے اور قانونِ فطرت كے مطابق، پورے انسانى مجموعے كو ايك معيار پر ڈھالا نهيں جاسكتا۔ ايسى حالت ميں قابلِ عمل صورت صرف يه هے كه سياسى اقتدار كے معاملے كو اُس دائرے كى چيز قرار ديا جائے جس كے ليے هم نے اجتماعى عمليت (social pragmatism) كى اصطلاح استعمال كى هے۔
مذهب اور سياست كے درميان تفريق اِسى عملى اصول (practical wisdom)كى بنا پر هے۔ اس كا مطلب يه هے كه فرد كو معيارى اصول پر قائم هونے كى تاكيد كى جائے، ليكن ذاتى اقتدار كے معاملے ميں اُس اصول كو اختيار كرليا جائے جس كو ايك حديث ميں اِن الفاظ ميں بيان كيا گيا هے كَمَا تَكُونُونَ يُوَلَّى أَوْ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ (شعب الیمان للبیہقی، حدیث نمبر 7391)۔ يعنى، تم جيسے هوگے، ويسے تمھارے حكمراں هوں گے۔ دوسرے لفظوں ميں، يه كه سياسى اقتدار كے معاملے ميں سماجى قبوليت (social acceptability) كوديكھا جائے گا، نه كه كسى مطلق معيار (absolute ideal) كو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه فطرت كا اصول هے۔ اِس اصول كى بنياد پر زندگى كى تشكيل كى جائے تو سماج ميں هميشه امن قائم رهے گا، كيوں كه امن كى حالت هر قسم كى ترقى كے ليے لازمى طورپر ضرورى هے۔ اِس كے برعكس، اگر فطرت كے اِس اصول كو نظر انداز كرديا جائے اور فرداور مجموعه كو ايك هى نظام كا پابند بنانے كى كوشش كى جائے تو ابدى طورپر امن كا خاتمه هوجائے گا۔ اِس كے بعد سماج ميں نفرت اور ٹكراؤ اور تشدد جيسى برائياں جنم ليں گى جو كبھى ختم نه هوں گي۔
اسلام كا اصل نشانه
هر نظام ميں ايسا هے كه كچھ چيزيں اِس نظام كا اصل حصه (real part) هوتى هيں اور كچھ چيزيں وه هيں جو اِس نظام كا اضافى حصه (relative part) هوتى هے۔ اسلام ميں خارجى اعتبار سے ، اصل نشانے كى حيثيت صرف ايك چيز كو حاصل هے، اور وه دعوت يا شهادت هے۔ اس كے سوا جو خارجى چيزيں هيں، اُن كى حيثيت اسلام كے اضافى حصه (relative part) كى هے۔ اسلام كو عقلى طورپر سمجھنے كے ليے اِس حقيقت كو جاننا بهت ضرورى هے۔ اِس حقيقت كو جانے بغير اسلام كى جو توجيهه كى جائے گي، وه كبھى درست نهيں هوسكتي۔
شهادتِ عظميٰ
اسلام كا نشانه اقامتِ نظام نهيں هے، بلكه دعوت الى الله هے، يعنى تمام انسانوں كو الله كا پيغام پهنچانا۔ تمام انبياء كا مشن يهى دعوت الى الله تھا۔پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے بھى اِسى دعوتى مشن كے ليے كام كيا۔ يه دعوتى مشن پورى تاريخ ميں جارى رها۔عالمى ابلاغ كے اعتبار سے، اِس كا كامل اظهار دورِ آخر ميں هوگا۔ اِس كامل اظهار كو ايك حديثِ رسول ميں شهادتِ عظمى كها گياهے، يعنى تمام انسانيت كے سامنے الله كے دين كى عالمى گواهى — هٰذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
احاديث كے مطالعے سے معلوم هوتا هے كه اِس شهادت عظمى يا عالمى گواهى كے ليے ضرورى هے كه اس كے مطابق، وسائل دستياب هوچكے هوں۔ اِس معاملے كے دو پهلے هيں— ايك يه كه اِس طرح كى عالمى شهادت كے ليے عالمى مواصلات (global communication) لازمى طورپر ضرورى هے۔ بيسويں صدى ميں عالمى مواصلات كے معاملے ميں غير معمولى ترقى هوئى هے، يهاں تك كه موجوده زمانے كو مواصلات كا زمانه (age of communication) كهاجاتا هے۔ اِس واقعے ميں اِس بات كا اشاره هے كه موجوده زمانے ميں پورى طرح وه وقت آگياهے كه شهادتِ عظمى يا عالمى دعوت كا كام موثر طورپر انجام ديا جاسكے۔موجوده زمانے ميں ايك طرف، مكمل معنوں ميں مذهبى آزادى آگئى هے اور دوسرى طرف مواصلات كى ترقى نے اِس بات كو آخرى حد تك ممكن بنا ديا هے كه كسى ركاوٹ كے بغير عالمى دعوت كا كام كيا جاسكے۔ يه وهى كام هے جس كو حديث ميں ’إِدْخَالُ الْكَلِمَةِ فِي كُلِّ الْبُيُوتِ‘ كها گياهے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے ميں دوسرى بات وه هے جس كا ذكر مذكوره حديث ميں آيا هے۔ شهادت عظمى كى روايت ميں ’حجيج‘ كا لفظ استعمال هوا هے، يعنى مطلوب دعوت كے كام كو حجت يا دليل كى سطح پر انجام دينا۔ يه بھى موجوده زمانے كى ايك خصوصيت هے۔ چنانچہ موجوده زمانے كو دورِ تعقل (age of reason) كها جاتا هے۔ موجوده زمانے ميں علم كى ترقى كى بنا پر ايساهوا هے كه پهلى بار يه ممكن هوا هے كه عقلى ڈيٹا (rational data) كى بنياد پر كسى بات كومدلل كيا جاسكے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زمانے كى يه تبديلى بھى حديث كى پيشين گوئى كے عين مطابق هے۔ موجوده زمانے ميں پهلى بار يه ممكن هوا هے كه اسلام كى صداقت كو عقلِ انسانى كى بنياد پر مدلل كركے اس كو انسان كے سامنے پيش كيا جاسكے۔ گويا شهادتِ عظمى كے دو تقاضے موجوده زمانے ميں پهلى بار انسان كى دسترس ميں آئے هيں— عالمى مواصلات اور عقلِ انسانى كى مسلّمه سطح پر حقائق كا اثبات۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حديثِ رسول كے مطابق، دورِ آخر ميں شهادت عظمى كا جو واقعه ظهور ميں آنے والا هے، وه حديث كے مطابق، ايك ايسا واقعه هوگا جو اِس سے پهلے كبھى پيش نهيں آيا۔ اُس كے ليے ضرورى هے كه انسانى علم عقلى ارتقا كے اعلى درجے تك پهنچ چكا هو۔ اِسى كے ساتھ وه تمام وسائل موجود هوچكے هوں جو اِس طرح كى عالمى شهادت كى ادائيگى كے ليے ضرورى هيں۔ موجوده زمانے ميں يه تمام وسائل پورى طرح وجود ميں آچكے هيں۔ اِس ليے يه كهنا صحيح هوگا كه موجوده زمانه هى وه زمانه هے جب كه شهادتِ عظمى كا وه واقعه ظهور ميں آئے جس كى پيشين گوئى حديثِ رسول ميں كى گئى هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خلاصه كلام
اسلام ميں انفرادى دين اور اجتماعى دين كے بارے ميں يهاں جو كچھ كهاگيا، وه اِس معاملے ميں كوئى نئى اسكيم نهيں هے۔ اس كى حيثيت صرف يه هے كه اسلام كى تاريخ ميں بالفعل جوكچھ پيش آيا، يهاں اس كى ايك قابلِ قبول توجيهه (acceptable explanation) بيان كى گئى هے۔ اِس توجيهه كى روشنى ميں اسلام كى تاريخ ايك بامعنى تاريخ بن جاتى هے۔ اِس كے بعد تاريخ كے بارے ميں يه نظر آنے لگتا هے كه جو كچھ هوا، وه قانونِ فطرت كے مطابق هوا اور اجتماعيات كے معاملے ميں اسلام كا اصول وهى هے جو خدا كے تخليقى نقشه كے مطابق، فطرت كا اصول هے۔
يه ايك معلوم واقعه هے كه اسلام كى بعد كى تاريخ ميں كئى ايسے واقعات پيش آئے جو خالص معيار (ideal)سے مطابقت نه ركھتے تھے۔ مثلاً خليفه يا امير المومنين كے تقرر كے ليے مختلف طريقے اختيار كرنا۔ بعد كے زمانے ميں حكومتى ادارے كا خاندانى حكومت (dynasty) كى صورت اختيار كرلينا، اهلِ اسلام كا مختلف گروهوں ميں بٹ جانا اور ان كے درميان پر تشدد ٹكراؤ پيش آنا، بيت المال كے نظام ميں بظاهر خلل واقع هونا، وغيره۔
اسلام كى بعد كى تاريخ ميں جو واقعات پيش آئے، وه بظاهر معيار كے مطابق نه تھے۔ اِس طرح كے واقعات كے معاملے ميں عام طورپر اهلِ علم نے دو قسم كا موقف اختيار كيا هے — ايك موقف اُن لوگوں كا هے جو يه كهتے هيں كه بعد كى تاريخ ميں اسلام كا ابتدائى معيار باقى نه رها، وه بگاڑ كا شكار هوگيا۔ دوسرا موقف اُن لوگوں كا هے جو يه كهتے هيں كه يه وه معاملات هيں جن كے بارے ميں هميں خاموشى كا طريقه اختيار كرنا چاہیے ، هميں اُن كا تجزيه نهيں كرنا چاہیے ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مگر يه دونوں موقف ناقابلِ قبول هيں، كيوں كه اسلام انسان كے ليے هے اور انسان اپنى فطرت كے اعتبار سے هر واقعے كى عقلى توجيهه (rational interpretation)چاهتا هے۔ اِس ليے اسلام كى تاريخ كى ايسى توجيهه كرنا ضرورى هے جو عقلى طورپر قابلِ فهم هو۔ ايسا نه كرنے كى صورت ميں لوگ اسلام كى صداقت كے بارے ميں مشتبه هوجائيں گے، وه كامل يقين كے ساتھ اسلام كو اختيار نه كرسكيں گے — مذكوره وضاحت كا يه فائده هے كه اِس سے اسلامى تاريخ كى ايك قابلِ فهم توجيهه حاصل هوجاتى هے، بغير اِس كے كه اسلام كى كامل صداقت پر كوئى حرف آيا هو۔
تخليقِ انسانى كا مقصد
هر زمانے كے اهلِ فكر هميشه يه سوچتے رهے هيں كه انسان كى تخليق كا مقصد (purpose of creation) كيا هے۔ معلوم تاريخ كےمطابق، تقريباً 5 هزار سال سے انسان اِس سوال كا جواب معلوم كرنے كى كوشش كرتا رها هے۔ مگر اكيسويں صدى عيسوى كے ربع اول تك اِس كا كوئى متفق عليه جواب انسان دريافت نه كرسكا۔
مشهور برٹش سائنس داں سر جيمز جينز (وفات 1946)نے اپنى كتاب پراسرار كائنات (The Mysterious Universe) ميں لكھاهے كه ايسا معلوم هوتا هے كه انسان بھٹك كر ايك ايسى دنيا ميں آگيا هے جو اس كے ليے بنائى نهيں گئى تھي
other sourceWords of another person or source
It seems that man was strayed in a world that was not made for him.
اِس موضوع پر سوچنے والے لوگوں نے عام طورپر مايوسى كى باتيں كى هيں۔ ايك روسى مصنف نے لكھا هے كه اِس دنيا ميں هر چيز حسين (beautiful) هے، صرف ايك چيز هے جو حسين نهيں، اور وه انسان هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ڈاكٹر الكسس كيرل نے اِس موضوع پر ايك كتاب لكھى هے۔ اِس موضوع كى پيچيدگيوں كى بناپر انھوں نے اِس كا نام انسانِ نامعلوم (Man the Unknown)ركھ ديا هے۔ برطانى مصنف ايڈورڈ گبن نے لكھا هے كه انسانى تاريخ جرائم كے رجسٹر سے كچھ هى زياده هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فرانس كے مشهور فلسفى ڈيكارٹ نے انسان كى هستى پر غور كيا۔ اس نے كها كه ميں سوچتا هوں، اِس ليے ميں هوں(I think, therefore, I exist)۔ ڈيكارٹ كے اِس قول سے صرف انسان كے وجود كى تصديق هوتى هے، ليكن يه سوال پھر بھى باقى رهتا هے كه انسان كے وجود كا مقصد (purose of existence) كيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مشهور يونانى فلسفى ارسطو (وفات 322 ق م) نے اِس مسئلے پر غور كيا۔ انھوں نے اپنى كتاب ميں لكھا كه — صرف قانونى نظام يه كرسكتاهے كه وه لوگوں كو اُن كے وحشيانه سلوك سے بچائے
other sourceWords of another person or source
The legal system alone saves people from their own savagery.
ارسطو كو معلمِ اول كهاجاتا هے۔ چناںچه يهى سوچ بعد كى تاريخ ميں رائج هوگئي۔ ارسطو كى سوچ كا مطلب يه تھا كه انسان كو اعلى اوصاف كے ساتھ پيدا كيا گيا هے، ليكن يه اوصاف ابتدائى طورپر بالقوه حالت ميں هوتے هيں۔ اِس بالقوه كو بالفعل بنانے كے ليے ضرورى هے كه ايك موافق سماجى اور سياسى نظام (socio-political system) موجود هو۔ اُس وقت كا يونانى بادشاه سكندر اعظم (وفات 323 ق م) ارسطو كا شاگرد تھا۔ ارسطو نے چاها كه بادشاه كے تعاون سے وه يونان ميں مطلوب سياسى اور سماجى نظام بنا سكے، مگر ايسا ممكن نه هوسكا۔ چنانچہ ارسطو مايوسي (despair) كى حالت ميں صرف 62 سال كى عمر ميں مرگيا۔
ارسطو كے نزديك انسانى فلاح صرف صالح اجتماعى نظام كے ذريعے ممكن هوسكتى تھي۔ ارسطو نے اپنے اس تصور كو فلسفه كى زبان ميں بيان كيا۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه اس نے اپنے اِس تصور كو فلاسفائز(philosifise)كيا۔ اِس كے ايك عرصه بعد جرمنى ميں كارل ماركس(وفات 1883) كا دور آيا۔ كارل ماركس نے اِس تصور كو اقتصادى اصطلاحوں ميں بيان كيا۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه ماركس نے اِس تصور كو سيكولر ائز (secularise)كيا۔ مگر كارل ماركس، عالمى كميونسٹ پارٹى اور اِس تصور پر بننے والى سوويت رياست (USSR) سب كى سب، اپنے اجتماعى نشانے كے حصول ميں مكمل طورپر ناكام هوگئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس كے بعد يه فكرى منهج مسلمانوں كے درميان رائج هوا۔ عرب دنيا ميں سيد قطب (وفات 1966) اور برصغير هند ميں سيد ابو الاعلى مودودي(وفات 1979) پيدا هوئے۔ اِن لوگوں نے شعورى يا غيرشعورى طور پر اِس فكرى منهج كو اسلام ميں داخل كرديا۔ انھوں نے اسلام كى سياسى تفسير بيان كي۔ انھوں نے اسلامى زندگى كے ليے اس كے مطابق، سماجى اور سياسى نظام (socio-political system) كے قيام كو ضرورى قرار ديا— ارسطو نے اِس تصور (concept) كا فلسفيانه ايڈيشن تيار كيا تھا۔ كارل ماركس نے اِس تصور كا سيكولر ايڈيشن بنايا اور سيد قطب اور سيد ابو الاعلى مودودى نے اِس تصور كا اسلامى ايڈيشن تيار كرديا۔
تاريخ بتاتى هے كه پچھلے ڈھائى هزار سال كے دوران يه نظريه كبھى بھى واقعه نه بن سكا۔ كبھى كسى ملك ميں ايسا نهيں هوا كه مصلح كے بيان كرده نشانے كے مطابق، كوئى اجتماعى نظام ياكوئى سماجى نظام قائم هوا۔ تاريخ بتاتى هے كه اِس نظريے كے تمام علمبردار آخر كار مايوسى كى حالت ميں مرے، وه دنيا كواپنے تصور كے مطابق، مطلوب نظام نه دے سكے۔
اِس سے بھى زياده تلخ بات يه هے كه اِس قسم كے تمام نام نهاد مصلحين كا انجام يه هوا كه وه تعمير كے نام پر اٹھے اور دنيا كو عملاً تخريب كا تحفه دے كر چلے گئے۔ ارسطو كے شاگرد سكندر اعظم نے سارى دنيا كے خلاف جنگ چھيڑ دي۔ كارل ماركس كے ماننے والوں نے اپنا مفروضه نظام قائم كرنے كے نام پر روس ميں 25 ملين انسانوں كو هلاك كرديا۔ سيد قطب اور سيد ابو الاعلى مودودى كى تحريك كے نتيجے ميں مختلف ملكوں ميں اپنے مطلوب نظام كے قيام كے ليے مسلح جدوجهد (armed struggle) شروع هوئى جس كے نتيجے ميں مسلمانوں كو مزيد تباهى كے سوا اور كچھ نهيں ملا۔
اجتماعى اصلاح كى اِن تحريكوں كا يه منفى انجام كيوں هوا۔ اِس كا سبب يه هے كه اجتماعى نظام كا تعلق براهِ راست سياسى اقتدار سے هے۔ جب بھى آپ كسى ملك ميں اپنى پسند كا اجتماعى نظام قائم كرنے كے ليے اٹھيں گے تو وهاں لازماً اُن لوگوں سے آپ كا ٹكراؤپيش آئے گا جو بروقت سياسى اقتدار پر قابض هيں۔ اِس طرح اجتماعى نظام كا نظريه اول دن سے ٹكراؤ كے هم معنى بن جاتاهے۔
سياسى ٹكراؤ كوئى ساده بات نهيں۔ سياسى ٹكراؤ كا طريقه عين اپنے نتيجے كے طور پر انسان كو دو طبقوں ميں تقسيم كرديتاهے۔ اسلام كے پولٹكل مفسرين كے الفاظ ميں، ايك، ’’طاغوت‘‘ اور دوسرے، مخالفِ طاغوت۔ مخالفِ طاغوت گروه اپنى تحريك كو پهلے قائم شده حكومت كے مقابلے ميں اپوزيشن كے طورپر شروع كرتا هے۔آغاز ميں يه كام بظاهر پُرامن طورپر شروع هوتا هے، ليكن جب پُرامن ذريعه ناكام هوجاتا هے تو اس كے بعد دھيرے دھيرے قائم شده حكومت كے خلاف تشدد شروع هوجاتا هے، پھر جب تشدد سے بھى مطلوب كاميابى حاصل نهيں هوتى تو اس كے بعد آخرى چارهٔ كار كے طورپر خود كش بم بارى شروع كردى جاتى هے۔ اجتماعى انقلاب كا نتيجه اپنے آخرى انجام كو پهنچ كر صرف اجتماعى هلاكت بن كر ره جاتا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے ميں تباه كن ناكامى كا سبب يه هے كه اجتماعى انقلاب كا نظريه اپنے آپ ميں ايك غيرفطرى نظريه هے۔ وه خالق كے تخليقى نقشه كے خلاف هے، اور يه ايك حقيقت هے كه اِس دنيا ميں كوئى ايسا نظريه كبھى مثبت نتيجه پيدا نهيں كرسكتا جو خالق كے تخليقى نقشه كے خلاف هو۔
خالق كا نقشهٔ تخليق
خالق كا نقشه تخليق(creation plan) كيا هے۔ اس كو جاننے كا واحد مستند ذريعه صرف قرآن هے۔ قرآن كے مطالعے سے معلوم هوتا هے كه خالق نے انسان كو جس نقشے كے مطابق، پيدا كيا هے، وه كسى مفروضه اجتماعى نظام پر مبنى نهيں هے، وه تمام تر انفرادى اصلاح كے تصور پر مبنى هے۔ خالق نے دنيا ميں اپنى اسكيم كو برروئے كار لانے كے ليے هر دور ميں پيغمبر بھيجے۔ اِن تمام پيغمبروں كا نشانهٔ دعوت هميشه فرد (individual) هوا كرتا تھا، نه كه كسى قسم كا سوشيو پولٹكل سسٹم (socio-political system) خالق كا اپنے تخليقى نقشے كے مطابق، اصل كنسرن (concern) يه نهيں هے كه دنيا ميں اجتماعى سطح پر كوئى آئڈيل نظام بنايا جائے۔ خالق كا نشانه فرد سازى هے، مجتمع سازى نهيں، كيوں كه تخليقى نقشے كے مطابق، مجتمع سازى آئڈيل معنوں ميں ممكن هى نهيں۔ آئڈيل نظام يا آئڈيل سماج صرف جنت ميں قائم هوسكتا هے۔ موجوده دنيا كى حيثيت انتخابى ميدان (selection ground) كى هے۔ خالق كى منشا يه هے كه موجوده دنيا ميں ايسے اعلى افراد چنے جائيں جو آخرت كى ابدى جنت ميں بسائے جانے كے مستحق هوں۔اِس معاملے كو سمجھنے كے ليے قرآن كى سورۃ البقره كا مطالعه كرنا چاہیے ۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى متعلق آيتوں كا ترجمه حسب ذيل هے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھادیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتائو‘‘۔ (2:30-31)
Qur'anQuotes the Qur'an
الله تعالى نے جب انسان كو ايك آزاد مخلوق كى حيثيت سے پيدا كيا اور يه فيصله كيا كه وه زمين كو اِس آزاد مخلوق كے چارج ميں دے دے، اُس وقت فرشتوں نے يه شبه ظاهر كيا كه آزادى پاكر انسان زمين پر فساد كرے گا اور خون بهائے گا۔ فرشتوں كا يه شبه بے بنياد نه تھا۔ خود قرآن كے بيان سے ثابت هے كه فى الواقع ايسا هى هوا۔ ساتويں صدى كے ربع او ل ميں جب قرآن اترا تو الله تعالى نے اس ميں يه آيت شامل فرمائي ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ (30:41)۔ يعنى، خشكى اور ترى ميں فساد پھيل گيا، لوگوں كے اپنے هاتھوں كى كمائى كے سبب سے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يهاں يه سوال هے كه جب بطور واقعه وهى هوا جس كا شبه فرشتوں نے ظاهر كيا تھا، تو پھر الله نے اولادِ آدم كو كيوں پيدا كيا اور كيوں اُن كو زمين پر بسنے كا موقع ديا۔
جيسا كه معلوم هے، آدم كى پيدائش سے لے كر ساتويں صدى عيسوى كے ربع اول تك جب كه قرآن نازل هوا، هر قوم اور هر بستى ميں مسلسل طورپر الله كى طرف سے نذير (بتانے والے) آتے رهے، اس كے باوجود آدم كى بعد كى نسلوں ميں پيدا هونے والے لوگوں كى اكثريت مفسد ثابت هوئي، حتى كه پورى تاريخ فساد سے بھرى هوئى تاريخ بن گئي۔ ايسى حالت ميں يه سوال هےكه الله تعالى نے انسان كو كيوں پيدا كيا۔ اِس سوال كا جواب قرآن كى مذكوره آيتوں كے مطالعے سے معلوم هوتا هے۔
قرآن كى اِن آيتوں سے معلوم هوتا هے كه الله نے آدم كو اُن كى اولاد كے نام (أسماء) بتائے۔ يهاں علمِ اسماء سے مراد علمِ مسمَّيات هے۔ يهاں اسم سے مراد افراد كے نام (names) نهيں، بلكه يهاں اسم سے مراد مُسمّيٰ (named) هے، يعنى نام سے موسوم افراد۔دوسرى بات يه كه اُس وقت آدم كے سامنے الله نے اُن كى اولاد كے جن لوگوں كو پيش كيا، وه پورى ذريتِ آدم يا پورا مجموعهٔ انسانى نه تھا۔ كيوں كه اگر تمام پيدا هونے والے انسان اُن كے سامنے پيش كيے جاتے تو فرشتوں كا شبه رفع نهيں هوسكتا تھا، بلكه اِس قسم كے مظاهرے سے فرشتوں كے شبه كى تصديق هوجاتي۔ كيوں كه خود قرآن كى تصديق كے مطابق، پيدا هونے والے انسانوں كى عظيم اكثريت عملاً مفسدثابت هوئي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس پهلو پر غور كرنے سے سمجھ ميں آتا هے كه الله تعالى نےاُس وقت پورى اولادِ آدم كو نهيں بلكه صرف اولادِ آدم كے منتخب افراد كو پيش كيا تھا۔ يه منتخب افراد وهى تھے جن كو قرآن ميں دوسرے مقام پر نبى اور صديق اور شهيد اور صالح كے الفاظ ميں بيان كيا گيا هے (4:69)۔ يه مظاهره الله تعالى نے صرف فرشتوں كے ليے نهيں كياتھا، بلكه بالواسطه طورپر اُس كا مخاطب وه انسان بھى تھے جو الله كے مقصد تخليق كو سمجھنا چاهتے هوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے كى مزيد وضاحت قرآن كى سورۃ الملك كى ايك آيت سے معلوم هوتى هے جس كے الفاظ يه هيں الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ یعنی، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔اِس آيت سے اور قرآن كى دوسرى آيتوں سے معلوم هوتا هے كه تخليق سے الله تعالى كا مقصود احسن العمل افراد هيں، پورے مجموعهٔ انسانى ميں عدل اور فلاح كا نظام قائم كرنا منصوبه الٰہی كا نشانه نهيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس كا سبب يه هے كه خالق نے جس نقشے كے تحت انسان كو پيدا كيا، اس ميں ايسا هونا ممكن هى نه تھا۔ كيوں كه اِس منصوبهٔ تخليق كے مطابق، هر انسان كو كامل آزادى دى گئى تھي۔ هر انسان كے ليے كامل معنوں ميں آزادانه انتخاب (fredom of choice) كا موقع كھلا هوا تھا۔ ايسى حالت ميں يه بالكل فطرى بات تھى كه لوگ اپنى آزادى كا غلط استعمال كريں اور اِس طرح اكثر لوگ عملاً مفسد بن جائيں۔اِس بنا پر الله تعالى نے ايك قابلِ عمل نشانے كا انتخاب كيا، يعنى اپنے منصوبه تخليق كو مبنى بر فرد كے اصول پر قائم كرنا، نه كه مبنى بر مجموعه كے اصول پر۔ الله تعالى كے مقرر كرده نقشه تخليق كے مطابق، اب جو هورهاهے، وه يه كه زمين پر كامل معنوں ميں آزادى كا ماحول هے۔ لوگ ايك كے بعد ايك پيدا هورهے هيں۔ اُن ميں سے كوئى فرد اپنى آزادى كا صحيح استعمال كرتا هے اور كوئى غلط استعمال۔ عين اُسى وقت ايك غيبى نظام كے تحت فرشتے هرايك كا پورا ريكارڈ تيار كررهے هيں۔ يه ريكارڈ قيامت كے دن الله كے سامنے پيش هوگا۔ اُس وقت جو هوگا، اس كو قرآن ميں پيشگى طورپر مختلف الفاظ ميں بيان كرديا گياهے۔ مثلاً كهاگيا هے فَرِيْقٌ فِى الْجَنَّةِ وَفَرِيْقٌ فِى السَّعِيْرِ (42:7)۔ يعنى، ايك گروه جنت ميں هوگا اور ايك گروه جهنم ميں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تخليق كے اِس تصور كے مطابق، آخرت ميں يه هوگا كه پورى نسلِ انسانى سے صالح افراد چنے جائيں گے، يعنى وه لوگ جنھوں نے يه ثبوت ديا تھا كه آزادى كے باوجود انھوں نے اپنى آزادى كا غلط استعمال نهيں كيا۔ آزادى كے باوجود وه كامل معنوں ميں با اصول زندگى كے پابند رهے، آزادى كے باوجود انھوں نے اپنے آپ كو پورى طرح بے راه روى سے بچايا۔ اِس طرح انھوں نے ثابت كيا كه وه جنت كے آئڈيل معاشرے ميں بسائے جانے كا استحقاق ركھتے هيں۔ آخرت ميں پورى تاريخ بشرى كے اِن منتخب افراد كو جنت كے معيارى معاشرے ميں بساديا جائے گا، اور بقيه لوگ جو اپنى آزادى كا صحيح استعمال كرنے ميں ناكام رهے، اُن كو دوسرے انسانوں سے الگ كركے كائناتى كوڑا خانه (universal litterbin) ميں ڈال ديا جائےگا، جس كا دوسرا نام جهنم هے۔
خلافت كا تصور
قرآن كى سورۃ البقره سے معلوم هوتا هے كه الله تعالى نے جب انسان كو پيدا كيا تو الله اور فرشتوں كے درميان ايك مكالمه هوا۔ اِس مكالمے كے دوران الله نے انسان كى پيدائش كا مقصد اِس طرح بيان كيا وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً (2:30)۔ يعنى، ياد كرو اُس وقت كو جب كه تمھارے پروردگار نے فرشتوں سے كها كه ميں زمين ميں ايك خليفه بنانے والا هوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’خلافت‘ كے لغوى معنى هيں بعد كو آنا۔ ’خليفه‘ كا مطلب هے كسى كے بعد اس كى جگه پر آنے والا، يعنى جانشين (successor)۔ خليفه كا اصل لفظى مطلب يهى هے، ليكن اِس طرح كسى كے بعد جو شخص جانشين بنتا هے، وه عام طورپر صاحبِ اقتدار هوتا هے، اس ليے استعمال ميں خليفه كا لفظ مجرد طورپر صاحبِ اقتدار كے ليے بولا جانے لگا، خواه ايسا شخص جانشين كے طورپر صاحبِ اقتدار بنا هو يا جانشينى كے بغير اس كو يه پوزيشن حاصل هوگئى هو۔
قرآن كى اِس آيت ميں خليفه كا لفظ اِسى دوسرے مفهوم ميں استعمال هوا هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه الله نے انسان كو زمين پر ايك بااختيار مخلوق كى حيثيت سے آباد كيا۔ ايك عارضى مدت كے ليے زمين انسان كے چارج ميں دے دى گئي۔ نظامِ فطرت كے مطابق، اگرچه زمين كا انتظام انسان چلا رهے هيں جس طرح كائنات كے دوسرے حصوں كا انتظام فرشتے چلارهے هيں۔ ليكن محدود معنى ميں زمين انسان كے چارج ميں هے۔ قيامت تك كے ليے انسان كو كامل اختيار هے كه وه اپنے دائرے ميں زمين پر آزاد مخلوق كى حيثيت سے زندگى گزارے، خواه وه اپنى آزادى كا صحيح استعمال كرے يا غلط استعمال۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن فهمى كا ايك اصول يه هے القرآنُ يُفَسِّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا (قرآن كا ايك حصه اُس كے دوسرے حصے كى تفسير كرتاهے)۔ اِس اصول كے مطابق، غور كيا جائے تو قرآن كى متعدد آيتوں سے واضح هوتا هے كه انسان كو خليفه بنانے كا مطلب كيا هے۔ اُن ميں سے ايك آيت يه هے ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِى الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ (10:14)۔ یعنی، پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل يه هے كه انسان كو الله تعالى نے ايك كامل مخلوق كى حيثيت سے پيدا كيا۔ اپنى صلاحيتوں كے اعتبار سے، پهلا انسان اتنا هى كامل تھا، جتنا كه اكيسويں صدى كا انسان۔ ليكن جس سياره ارض (planet earth) پر انسان كو بسايا گيا، وهاں تمام چيزيں موجود تھيں، ليكن يه چيزيں زياده تر بالقوه (potential) طور پر موجود تھيں۔ اب يه انسان كا كام تھاكه وه اِس بالقوه كو بالفعل (actual) بنائے۔ پورى انسانى تاريخ اِس معاملے كى تصوير هے۔ وه بالقوه سے بالفعل كى طرف سفر كررهى هے۔
اِس سفر كے ليے انسانى زبان ميں سب سے زياده موزوں لفظ تهذيب هے۔ پورى انسانى تاريخ، آدم سے لے كر قيامت تك، اِسى تهذيبى سفر كا دوسرا نام هے۔ خالق نے كره ارض كو تهذيب كے مقام يا مقر (abode of civilization) كے طورپر بنايا۔ انسان كا كام يه تھا كه وه اِس پوٹنشيل تهذيب (potential civilization) كو ايكچول تهذيب (actual civilization) كى صورت ميں ڈيولپ كرے— اِسى رول كو انجام دينے والے كا نام خليفه هے، خواه وه مذهبى انسان هو يا سيكولر انسان۔
تهذيب كا لفظ عام طورپر مادى ترقى كے معنى ميں بولا جاتا هے۔ معروف تصور كے مطابق، تهذيب كا مطلب هے — سوشل ، كلچرل اور سائنٹفك ترقى كا اعلى مرحله۔ مگر تهذيب كى يه تعريف ايك محدود تعريف هے۔ تهذيب كے تصور كو پورى طرح سمجھنے كے ليے ضرورى هے كه اس كو خدا كے تخليقى منصوبه (creation plan) كے پس منظر ميں ديكھا جائے۔ چونكه تهذيب كے معمار خود سے كوئى چيز تخليق نهيں كرتے، وه خالق كے پيدا كرده ذرائع (natural resources) يا انفراسٹركچر كو استعمال كرتے هوئے تهذيب كا سفر جارى كرتے هيں۔ گويا كه تهذيب كے تمام انسانى معمار، خالق كے كارندے هيں۔ وه خدا كے تخليقى منصوبے كو واقعے كى صورت دے رهے هيں۔
تهذيب كا يه سفر اپنى حقيقت كے اعتبار سے، ربانى تهذيب كا سفر هے۔ وه انسان كو اُس منزل كى طرف لے جانے والا هے جهاں وه حمدِ الٰہی اور شكرِ خداوندى كا اعلى تجربه كرے، جهاں وه ربانى معرفت كے اعلى مراتب كو حاصل كرسكے۔ مگر يه كام چونکہ انسانى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے انجام ديا جارها هے، اِس ليے لوگ اس كى معنويت كو سمجھنے سے قاصر رهے۔ تهذيب كے اِس سفر كو سمجھنے كے ليے ضرورى هے كه آدمى انسانى آزادى سے پيدا هونے والى خرابيوں (evils) كو الگ كركے يه ديكھ سكے كه خدا كس طرح انسانى تاريخ كو مينيج كررها هے۔ انسانى تاريخ كو بامعنى طورپر سمجھنے كے ليے سب سے زياده ضرورى يه هے كه مبصر، انسانى عنصر كو الگ كركے تاريخ ميں عمل كرنے والے خدائى عنصر كو ديكھ سكے۔
ايك جائزه
الله نے انسان كو كامل آزادى عطا فرمائى هے۔ يه آزادى اِس ليے هے تاكه انسان خود سے چيزوں كو دريافت كرے، وه اپنے اندر ايك خود تعمير كرده شخصيت (self-developed personality) بنائے۔ انسان كبھى اپنى آزادى كو صحيح استعمال كرتا هے اور كبھى غلط استعمال۔ ليكن الله اپنى قوتِ قاهره كے ذريعے تاريخ كو مينيج كرتے هوئے اُس كو اُس منزل كى طرف لے جارها هے جو اس كى اصل منزل هے، يعنى معرفتِ خداوندى (realization of God) كى تكميل۔
الله نے انسانيت كے آغاز سے پيغمبروں كو بھيجنے كا جو سلسله جارى كيا، وه اِس ليے تھا كه پيغمبر، انسان كو خدا كے تخليقى منصوبے سے باخبر كريں اور يه كوشش كريں كه انسانى تهذيب كا سفر صحيح رخ (right direction) ميں جارى رهے۔مگر تاريخ كا مطالعه بتاتا هے كه انسان اپنى آزادى كو استعمال كرنے ميں زياده ذمے دار ثابت نهيں هوا۔ بهت جلد ايسا هوا كه تاريخ عمومى طورپر توحيد كے راستے سے هٹ كر شرك كے راستے پر چل پڑي۔ اس كا سبب يه تھا كه انسان نے پايا كه پيغمبر جس الله كى خبر دے رهے هيں، وه الله اس كو دكھائى نهيں ديتا، البته الله كى پيدا كرده مخلوقات هر طرف دكھائى دے رهى هيں۔ اِس كا نتيجه يه هوا كه انسان نے نه دكھائى دينے والے خدا كو چھوڑ كر، دكھائى دينے والى چيزوں كو اپنا خدا سمجھ ليا۔
يه واقعه كس طرح هوا، اس كا اشاره قرآن كے اِن الفاظ ميں ملتا هے هَذا رَبِّى هَذا أَكْبَرُ (6:78)۔ يعنى، هر وه چيز جو بظاهر بڑى (great) دكھائى دے، اس كو خدا يا شريكِ خدا سمجھ لينا۔ اِسى سے قديم تاريخ ميں شرك كى وه صورت پيدا هوئى جس كو مظاهر فطرت كى پرستش (nature worship) كها جاتا هے۔ فطرت پرستى كا يه نظريه لوگوں ميں بهت مقبول هوا۔ اِس كا سبب يه تھا كه پچھلے زمانے كے تمام بادشاه فطرت پرستى كو اپنے ليےموزوں (convenient)سمجھ كر اِس مذهب كى سرپرستى كرنے لگے۔ انھوں نے اِسى مشركانه مذهب سے اپنے ليے حق حكمرانى (mandate) لينا شروع كرديا۔ اِس طرح ايسا هوا كه قديم زمانے ميں سارى دنيا ميں شرك كو سركارى مذهب (official religion) كى حيثيت حاصل هوگئي۔شرك اور سياسى اقتدار كے اِسى تعلق (nexus) كے نتيجے ميں قديم زمانے ميں شرك كو سارى دنيا ميں دبدبه حاصل هوگيا۔ شرك كا يه دبدبه مذهبِ توحيد كے ليے سب سے بڑى ركاوٹ تھا۔ شرك كے اِسى دبدبے كو قرآن ميں فتنه (8:29) كهاگيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شخصى حكومت
قديم زمانے ميں هزاروں سال سے سارى دنيا ميں حكومت كا وه نظام قائم تھا جس كو شخصى بادشاهت (Monarchy)كها جاتا هے۔ شخصى بادشاهت بهت جلد شخصيت پرستى (personality cult) ميں تبديل هوجاتى تھي۔ اور پھر شخصيت پرستى رفته رفته بت پرستى (idol worship) كى صورت اختيار كرليتى تھي۔يهى وجه هے كه قديم زمانے ميں ايسا هوا كه شخصى حكومتيں آخر كار مشركانه حكومتيں بن گئيں۔ اس كى ايك مثال يه هے كه حضرت موسى كے معاصر بادشاه فرعون نے كها كه أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى(79:24)۔یعنی، پس اس نے کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قديم زمانے ميں شخصى حكومت كا نظام سب سے بڑى برائى (greatest evil) بن كر ابھرا۔ يه انسانى آزادى كا سب سے زياده سنگين استعمال تھا۔ دنيا ميں اِس نظام كو جمهورى انقلاب كے ذريعے سياسى طور پر ختم كيا گيا۔ آخرت ميں باعتبار حقيقت اُس كى مجرمانه حيثيت كا اعلان كيا جائے گا۔ يهى وه حقيقت هے جس كو ايك حديث ميں اِن الفاظ ميں بيان كيا گيا هے يَقْبِضُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ (صحيح مسلم، حدیث نمبر، 2787)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خلافت كے تين دور
قرآن ميں خلافت كے معنى ’’اسلامى خلافت‘‘ كے نهيں هيں۔ قرآن كے مطابق، وه تمام لوگ خلائف فى الأرض (10:14) هيں جن كو مختلف زمانوں ميں بااختيار رول ملا، خواه وه اپنے عقيدے كے اعتبار سے، مذهبى هوں يا غير مذهبي۔ تاريخ ميں جن لوگوں كو بارى بارى خلافتِ ارضى كا رول ادا كرنے كا موقع ملا، اُن كو تين گر وهوں ميں تقسيم كيا جاسكتا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1۔ مشركين كى خلافت — يه دور قديم زمانے سے لے كر ساتويں صدى عيسوى تك جارى رها۔
2۔ موحدين كى خلافت— يه مسلم سلاطين كا دور هے۔ يه دور تقريباً آٹھويں صدى سے لے كر اٹھارھويں صدى تك قائم رها۔
3۔ سيكولر لوگوں كى خلافت— يه دور انيسويں صدى عيسوى ميں شروع هوا اور اب تك قائم هے۔
قديم زمانے ميں جن مشرك گروهوں كو خلافتِ ارضى كا رول ادا كرنے كا موقع ملا، انھوں نے اپنى آزادى كا نهايت غلط استعمال كيا۔ ان كى سب سے بڑى غلطى يه تھى كه انھوں نے ناحق طورپر سارى دنيا ميں جبر كى حكومت (despotic rule) كا نظام قائم كرديا۔ اِس دور ميں انسان كو مذهبى آزادى حاصل نه تھي۔ اِس دور ميں هر جگه وه كلچر قائم تھا جس كو مذهبى تشدد كا دور كها جاتا هے۔
اِس مشركانه دور ميں آزادانه سوچ (free thinking) كا خاتمه هوگيا تھا۔ اِس بنا پر فكرى ارتقا كا عمل پورى طرح ختم هوگيا تھا۔ علم كى ترقى عملاً ناممكن هوگئى تھي۔ اِس كا ايك شديد نقصان يه تھا كه فطرت (nature) ميں تحقيق كا كام پورى طرح رك گياتھا۔ الله كو يه مطلوب تھا كه انسان فطرت ميں چھپے هوئے قوانين كو دريافت كرے، تاكه انسان پر اعلى معرفت كے دروازے كھليں، دعوتى عمل كو زياده موثر طورپر انجام دينا ممكن هوجائے۔ مگر مشركانه اقتدار كے زمانے ميں اِس قسم كا عمل پورى طرح بند هوگيا تھا۔ الله نے كثير تعداد ميں پيغمبر بھيجے، تاكه وه انسان كو بتائيں كه وه اپنى آزادى كو غلط استعمال كركے الله كے منصوبے ميں ركاوٹ ڈال رها هے۔ ليكن پيغمبروں كى پُرامن دعوتى كوشش عملاً غير موثر هوگئي۔
اِس كے بعد الله تعالى نے اپنے تخليقى منصوبے كى بنا پر انسان كى آزادى كو تو ختم نهيں كيا، البته يه فيصله كيا كه خلافتِ ارضى كا رول مشركين سے چھين ليا جائے اور اس كو موحدين كے حوالے كرديا جائے۔ يهى خدائى فيصله تھا جس كا ذكر قرآن ميں اِن الفاظ ميں آيا هے وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ (8:39)۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ قرآن كى اِس آيت ميں جو بات كهى گئى هے، اُس كو اگر لفظ بدل كر كها جائے تو وه يه هوگى كه دورِ شرك اپنے وجود كا جواز ختم كرچكا هے، اس كو توڑ كر دورِ توحيد كا آغاز كرو، تاكه انسان كے اوپر الله كى ابدى رحمتوں كے دروازے كھليں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جيسا كه معلوم هے، پيغمبر اور آپ كے پيروؤں نے واقعتاً ايسا هى كيا۔ پيغمبر اور آپ كے ساتھيوں نے دورِ قديم كى تقريباً پورى آباد دنيا ميں وه كام كيا جس كو ايك مبصر نے اِن الفاظ ميں بيان كيا هے كه — پيغمبر اور اُن كے پيروؤں نے قديم زمانے كے پورے سياسى نقشے كو بدل ديا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس طرح خلافتِ ارضى كا رول مسلمانوں يا موحدين كے هاتھ ميں آگيا۔ مسلمانوں نے اِس عهد ميں جو رول ادا كيا، وه كوئى نظام قائم كرنا نه تھا۔ حقيقت يه هے كه نظام قائم كرنا امتِ مسلمه كا نشانه هى نهيں۔مسلم عهد ميں جو كام انجام پايا، اس كے دو بڑے پهلو تھے — ايك تھا دنيا ميں آزادى كا دور لانا اور دوسرے، علومِ فطرت كے انكشاف كا دروازه كھولنا۔
قرآن ميں كها گيا تھا كه أَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (42:38)۔ یعنی، اور وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ يه آيت كسى محدود معنى ميں نهيں هے۔ اِس آيت ميں دراصل ايك مطلوب عالمى انقلاب كى خبر دى گئى هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه الله كو يه مطلوب هے كه دنيا سے شخصى حكومت كا دور ختم هو اور اس كے بجائے جمهورى حكومتوں كا دور آئے، تاكه انسان كو يه موقع ملے كه وه آزادى كے ساتھ سوچ سكے، تاكه انسان كے پوٹنشيل كى انفولڈنگ هو، تاكه انسان كو فطرت كے رموز كى دريافت كا موقع ملے، تاكه ربانى تهذيب كو قلم بند كرنے كا وه دور شروع هو جس كا ذكر قرآن ميں اِن شاهانه الفاظ ميں كيا گياهے وَلَوْ اَنَّ مَا فِى الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (31:27)۔یعنی، اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں۔ بیشک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جمهوريت كا دور
دورِ جمهوريت دراصل دورِ آزادى كا دوسرا نام هے۔الله كے تخليقى نقشے كے مطابق، زمين پر آزادانه ماحول كا باقى رهنا بے حد ضرو رى هے۔ انسان سے جو رول مطلوب هے، وه صرف آزادى كے ماحول ميں ممكن هے۔ جمهوريت كا يه دور مسلم عهد ميں شروع هوا۔ وه پراسس كے روپ ميں آگے بڑھتا رها، يهاں تك كه 1789ميں انقلابِ فرانس كى صورت ميں اس كى تكميل هوئي۔
جمهوريت (democracy) انسانى تاريخ كا ايك عظيم مرحله هے۔ اِس دور ميں پهلى بار ايسا هوا هے كه آزادى اور امن انسان كا اپنا چوائس (choice) بن گياهے۔ اِس سے پهلے ايسا تھا كه كسى انسان كو آزادى اور امن صرف اُس وقت ملتا تھا، جب كه حاكمِ وقت اس كو بطور عطيه اُسے دے دے۔ اب يه معامله كسى دينے والے كا عطيه نهيں رها، بلكه وه هر انسان كا مطلوب حق (absolute right) بن چكا هے۔ كسى بھى شخص يا گروه كے ليے ممكن نهيں كه وه اِس حق كو آپ سے چھين لے۔
موجوده زمانے ميں بهت سے لوگ مليں گے جو يه شكايت كريں گے كه اُن كو آزادى اور امن كے ماحول ميں كام كرنے كے مواقع حاصل نهيں۔ ايسے لوگ بلا شبه زندگى كے راز سے بے خبر هيں۔ موجوده زمانے ميں آزادى اور امن كى جو نعمت ملى هے، اس كو استعمال كرنے كے ليے ضرورى هے كه آدمى اِس حكمت كو جانے كه اس كو اپنے عمل كے ليے ايسا نشانه مقرر كرنا هے جو دوسرے سے ٹكراؤ كيے بغير جارى كيا جاسكے۔ اگر آپ اپنے ليے ايسا نشانه مقرر كريں جو دوسروں كى زندگى ميں خلل ڈالنے والا هو تو آپ كے حصے ميں صرف شكايت اور پروٹسٹ آئے گا، ليكن اگر آپ اپنے عمل كے ليے ايسا نشانه مقرر كريں جو كسى حال ميں دوسروں كے ليے مسئله (problem) نه بنے، تو آپ سارى عمر كام كرتے رهيں گے اور كبھى آپ كو د وسروں كے خلاف شكايت نه هوگي۔
يهى وه راز هے جو قرآن كى اِس آيت ميں بتايا گيا هے الصُّلْحُ خَيْرٌ(4:128)۔یعنی، اور صلح بہتر ہے۔ اِس آيت كا مطلب يه هے كه تم ايسا نشانه مقرر كرو جس ميں دوسروں سے ٹكراؤ نه پيش آتا هو۔ اگر تم ايسا كروگے تو تمھارے ليے اِس دنيا ميں خير هى خير هوگا۔ تمھارے ليے يه ممكن هوجائے گا كه تم دوسروں كے خلاف شكايت سے محفوظ رهتے هوئے اپنے كام كو مكمل كرو۔ جو آدمى شكايت كى زبان بولے، وه صرف يه اعلان كررها هے كه اس نے اپنے ليے غلط نشانے كا انتخاب كيا تھا۔ يه معامله خود اپنے نشانے كى غلطى كا معامله هے، نه كه دوسروں كے ظلم يا دشمنى كا معامله۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلم دورِ سلطنت ميں دوسرا جو بڑا كام هوا، وه يه كه فطرت كو پرستش كے موضوع سے هٹا كر تحقيق كا موضوع بنا ديا گيا۔ يه عمل بھى تدريجى طورپر جارى هوا اور آخر كار اُس علمى انقلاب تك پهنچا جس كو سائنسى انقلاب (scientific revolution) كها جاتا هے۔ اِس سائنسى انقلاب نے اُس پيشين گوئى كو واقعه بناديا جس كى خبر قرآن ميں اِن الفاظ ميں دى گئى تھي سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔موجوده زمانے ميں جمهورى انقلاب اور سائنسى انقلاب كى صورت ميں جو انقلابات ظهور ميں آئے، وه پورى طرح اسلام كے حق ميں تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه ايك حقيقت هے كه جديد دور (modern age) پورے معنوں ميں ايك موافقِ اسلام دور هے۔ اِس دور كا آغاز مسلمانوں كے سياسى عروج كے زمانے ميں هوا، ليكن اِس دور كى تكميل تاريخ كے اُس تيسرے دور ميں هوئى جس كو اوپر كى تقسيم ميں ’’سيكولر لوگوں كى خلافت‘‘ كهاگيا هے۔
امتِ مسلمه كا نيا رول
قرآن كى سوره آل عمران ميں فطرت كے ايك اصول كو اِن الفاظ ميں بتايا گيا هے قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (3:26)۔ يعنى، تم كهو، اے الله، سلطنت كے مالك، تو جس كو چاهے، سلطنت دے اور جس سے چاهے، سلطنت چھين لے۔ اور تو جس كو چاهے، عزت دے اور جس كو چاهے، ذليل كرے۔ تيرے هاتھ ميں هے سب خوبي۔ بے شك تو هر چيز پر قادر هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس كا مطلب يه هے كه خلافتِ ارضى كسى گروه كى اجاره دارى (monopoly) نهيں۔ يه ايك رول هے جس كو الله اپنے منصوبے كے تحت كبھى ايك گروه كو ديتاهے، كبھى دوسرے گروه كو۔ جب كسى گروه كو خلافتِ ارضى ملے تو اس كو يه دريافت كرنا چاهيے كه اس كو يه رول كس مقصد كے ليے دياگيا هے۔ اور جب اُس سے خلافتِ ارضى چھين لى جائے تو اُس وقت بھى اس كو جاننا چاہیے كه يه منصب كيوں اُس سے چھينا گيا۔ اِس حقيقت سے بے خبرى كا يقينى نقصان يه هے كه متعلقه گروه كو الله كى نصرت نه ملے اور نتیجتاً وه هر اعتبار سے ناكام هو كر ره جائے۔
آٹھويں صدى عيسوى ميں مسلم ايمپائر قائم هوا۔ يه اِس بات كى علامت تھى كه اب خلافتِ ارضى كا رول مسلمانوں كو ديا گيا هے۔ وه رول يه تھا كه دنيا سے قديم طرز كى بادشاهت (kingship) كا خاتمه كرديا جائے۔ يه كام مسلمانوں كے ذريعے عالمى پيمانے پر انجام پايا۔ صديوں تك مسلمانوں كا حال يه تھا كه وه جس ملك ميں داخل هوئے، وهاں انھوں نے قديم طرز كى سياسى آمريت كا خاتمه كرديا۔ليكن پھر وه وقت آيا كه مسلم سلطنتوں كا زوال شروع هوا۔ انيسويں صدى كا آغاز مسلمانوں كے سياسى غلبے كے خاتمے كا اعلان تھا۔ پورى دنيا ميں ايك كے بعد ايك، مسلم سلطنتيں مغربى اقوام سے مغلوب هو كر ره گئيں۔ اِس كے بعد مسلمانوں نے بڑے پيمانے پريه كوشش كى كه وه اپنى سياسى عظمت كو دوباره حاصل كرسكيں، ليكن دو سو ساله جدوجهد كے باوجود وه اپنى ان كوششوں ميں مكمل طور پر ناكام رهے۔
يه كوئى ساده واقعه نه تھا۔ يه عملاً مسلمانوں كے رول ميں تبديلى كا اعلان تھا۔اٹھارھويں صدى ميں مسلمانوں كا سياسى رول ختم هو چكا تھا۔ اب اُن سے جو رول مطلوب تھا، وه دوسرا رول تھا، اور وه تھا — جديد امكانات كو استعمال كركے عالمى سطح پر دينِ خداوندى كى اشاعت۔ دورِ جديد ميں الله نے اپنى مصلحت كے تحت اهل مغرب كو يه موقع ديا كه وه نئے وسائل كى دريافت كركے اُن كو عام كريں۔ اهلِ مغرب كے ذريعے دنيا ميں پهلى بار وه چيزيں آئيں جو عالمى دعوت كے ليے ضرورى هيں۔ مثلاً مذهبى آزادي، كھلا پن، عالمى آمد ورفت، پرنٹنگ پريس، عالمى كميونكيشن، وغيره۔
يه نئے حالات اِس بات كا اشاره تھے كه اب امتِ مسلمه كا رول بدل گيا هے۔ اب اُن كا رول يه هے كه نئے مواقع كو استعمال كرتے هوئے وه اسلام كے فطرى پيغام كو تمام قوموں اور تمام انسانوں تك پهنچا ديں۔ مگر عجيب بات هے كه تقريباً پورى امت اِس عظيم حقيقت سے بے خبر رهي۔ انھوں نے رول كى اِس تبديلى كو نهيں سمجھا۔ وه اپنى گزرى هوئى سياسى عظمت كى واپسى كو دوباره حاصل كرنے كے ليے اپنے مفروضه دشمنوں سے لڑائى كرتے رهے۔ يه عمل خدائى منصوبے كے خلاف تھا، اِس ليے اس كو خدا كى مدد حاصل نهيں هوئى اور وه مكمل طور پر ناكام هوگيا۔امتِ مسلمه كے اِس نئے رول كو حديث ميں بطور پيشين گوئى اِن الفاظ ميں بيان كرديا گيا تھا لَا يَبْقَىٰ عَلَىٰ ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ كَلِمَةَ الْاِسْلَامِ(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی، زمین کی پشت پر نہ کوئی پختہ گھر باقی رہے گا اور نہ کوئی خیمہ، مگر اللہ اس میں کلمۂ اسلام داخل کر دے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رول كى تبديلي
انيسويں اور بيسويں صدى نے امت مسلمه كو ايك نئے دور ميں پهنچا ديا۔ نئے دور كے حالات بتارهے تھے كه امتِ مسلمه كا رول اب بدل گيا هے اور وه صرف ايك هے، اور وه هے — عالمى دعوت ۔ مگر نئے دور كے مسلم رهنما ناقابلِ فهم طورپر جديد دور سے بے خبر رهے۔ چنانچہ وه امتِ مسلمه كو اس كا نيا رول بھى نه بتا سكے۔ نئے دور ميں امتِ مسلمه كى بهت بڑى ٹريجڈى يه هے كه امت دور جديد ميںاپنے اِس نئے رول سے بے خبر هوگئي۔ اِس كا نتيجه يه هوا كه پورى امت كا كيس اُس قوم كا كيس بن گيا جو اپنى سمتِ سفر (direction) سے بے خبر هوگئى هو۔
يه زمانه وه تھا جب كه امت اپنے دور زوال ميں پهنچ چكى تھي۔ اِس دور ميں امت كے تقريباً تمام رهنماؤں نے ايك هى كام كيا، وه ايسى باتيں لكھنے اور بولنے لگے جو امت كى زوال يافته نفسيات سے مطابقت ركھتى تھي، ليكن وه يقينى طورپر خدا كے تخليقى نقشے كے خلاف تھي۔ انيسويں صدى اور بيسويں صدى امتِ مسلمه كے ليے زبردست سرگرميوں كى صدى هے، مگر يه سرگرمياں خود ساخته قومى رول كے ليے تھيں، نه كه خدا كے مطلوب رول كے ليے۔ اِس كا نتيجه يه هوا كه امت اپنى سرگرميوں ميں خدا كى نصرت سے محروم هوگئي۔ اِس دور ميں اُس نے جو نشانے مقرر كيے، وه سب قومى نشانے تھے جو زوال يافته نفسيات كے تحت بنے تھے۔ اِس بنا پر اِن نشانوں كے ليے يهى مقدر تھا كه وه پورے نه هوں۔
اِس قومى ناكامى كے بعد دوسرى زياده بڑى ناكامى سامنے آئي، وه يه كه پورى امت منفى نفسيات ميں مبتلا هوگئي — مايوسي، منفى سوچ، شكايت اور پروٹسٹ كا ذهن، مشتعل مزاجي، تشدد، سارى دنيا كو اپنا دشمن سمجھ لينا، هر طرف سازش دكھائى دينا، گن كلچر اور بم كلچر اور آخر ميں احساس ناكامى كى بدترين صورت، يعنى خود كش بم باري۔اكيسويں صدى ميں امتِ مسلمه كى يه ايك عمومى تصوير هے۔ اِسى كا يه نتيجه هے كه پورى قوم تشدد كى نفسيات ميں مبتلا هوگئي، اِس فرق كے ساتھ كه كچھ لوگوں كا كيس فعال تشدد (active violence) كا كيس هے اور كچھ لوگوں كا كيس منفعل تشدد (passive violence) كا كيس هے۔
يه ايك عمومى بربادى كى حالت هے۔ امت كو اس بربادى سے نكالنے كى صورت صرف يه هے كه اس كے اندر سے منفى سوچ كو مكمل طورپر ختم كياجائے اور اس كے اندر مكمل طورپر مثبت سوچ (positive thinking) لائى جائے، اس كو تيار كيا جائے كه وه دوباره اپنے اصل مشن پر كھڑى هوجائے، يعنى دعوت الى الله كا مشن۔ اِس معاملے ميں كوئى بھى عذر (excuse) قابل قبول نهيں هوسكتا۔
دعوه ايمپائر
قديم زمانے ميں مسلمانوں كا سياسى ايمپائر قائم تھا۔ آج بھى تمام مسلمان اِسى ماضى كى واپسى كا خواب ديكھ رهے هيں۔ مگر يه ايك قسم كى خلافِ زمانه بات (anachronism) هے۔ مسلمانوں كو چاهيے كه وه تاريخ كے بارے ميں الله كے منصوبے كو سمجھيں اور اس كے مطابق، اپنے عمل كا نقشه بنائيں۔ حقيقت يه هے كه اب سياسى ايمپائر بنانے كا زمانه ختم هوگيا، ليكن امتِ مسلمه كے ليے ايك اور زياده بڑا موقع پورى طرح كھل چكا هے اور وه هے پُرامن اسلامى دعوت كا عالمى ايمپائر قائم كرنا۔اِس قسم كے دعوه ايمپائر كا امكان ايك حديثِ رسول ميں پيشگى طورپر بتادياگيا هے۔ مكى دور ميں رسول الله صلى الله عليه وسلم نے وهاں كے لوگوں كو مخاطب كرتے هوئے فرمايا تھا كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ تُعْطُونَهَا، تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ، وَتَدِينُ لَكُم بِهَا الْعَجَمُ (البداية والنهاية، جلد 3، صفحہ 123)۔ يعنى، ميں تم كو ايك ايسے كلمه كى طرف بلاتا هوں جس كے ذريعے تم عرب كے مالك بن جاؤگے اور عجم تمھارى اطاعت كريں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قديم زمانے ميں سياسى ايمپائر بنانے كے ليے بڑى بڑى لڑائياں هوئيں، لوگوں كو جانوں كى قربانياں دينى پڑيں، مگر آج اسلام كا دعوه ايمپائر يا آئڈيا لاجكل ايمپائر بنانے كے ليے كسى لڑائى كى ضرورت نهيں۔ نئے حالات ميں پورى طرح ممكن هوگيا هے كه اسلام كا پرامن دعوه ايمپائر بنايا جائے اور دنيا اس كے خلاف مزاحمت كرنے كے بجائے اس كے ساتھ اپنا بھر پور تعاون پيش كرے۔
دورِ مسائل كا خاتمه
قرآن كى سورۃ البقره كے آخر ميں اُس وقت كے اهلِ ايمان كى زبان سے ايك دعا نقل هوئى هے۔ اِس دعا كا ايك حصه يه هے رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286)۔ يعنى، اے همارے رب، هم پر بوجھ نه ڈال جيسا بوجھ تونے ڈالا تھا هم سے اگلوں پر۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس دعا ميں ’إصر‘ كا لفظ آيا هے۔ اصر كا مطلب بوجھ (burden) هے۔اِس بوجھ سے مراد كوئى محدود بوجھ نهيں هے، بلكه اِس سے مراد وه ناموافق عالمى حالات هيں جو هزاروں برس سے چلے آرهے تھے۔ اِسى اصر كو قرآن ميں دوسرے مقام پر ’فتنه‘ كهاگيا هے اور حكم هوا هے وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ (8:39)۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ قرآن كى مذكوره آيت ميں’إصر‘ سے مراد قديم شرائع نهيں، بلكه وه قديم حالات هيں جو اهلِ توحيد كے ليے ركاوٹ بنے هوئے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل يه هے كه قديم زمانے ميں جس كلچر كا عمومى طور پر دبدبه تھا، وه شرك ا ور شخصى بادشاهت كے تحت بنا تھا۔ اِس كلچر نے مذهبى آزادى كا خاتمه كرديا تھا۔ اسى بنا پر پچھلے زمانے ميں اهلِ ايمان كو ستايا گيا۔ اِسى بنا پر ساتويں صدى عيسوى كے ربع اول ميں پيغمبر اسلام اور آپ كے ساتھيوں كو ستايا گيا اور ان كے خلاف جنگيں چھيڑى گئيں۔ الله كو يه مطلوب تھا كه خدائى دين كے خلاف اِن ناموافق اسباب كا خاتمه هو اور عالمى سطح پر ايسے حالات پيدا هوں جب كه ايك انسان پورى آزادى كے ساتھ الله كے دين كى پير وى كرسكے۔
اِس حقيقت كو قرآن كى ايك اور آيت ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدا (48:28)۔ یعنی، اور اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ وہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے۔ اور اللہ کافی گواہ ہے۔ قرآن كى اِس طرح كى آيتوں سے مراد ايك عظيم انقلاب هے۔ مگر اِس سے مراد كوئى سياسى يا حكومتى انقلاب نهيں۔ اس كا مطلب يه نهيں هے كه لوگوں سے لڑ كر ’’اسلامى حكومت‘‘ قائم كرو۔ اِس سے مراد مكمل طورپر ايك غير سياسى انقلاب هے، يعنى ايك ايسا انقلاب جس كے بعد تمام مواقع (opportunities) اهلِ ايمان كے ليے كھل جائے۔ اهلِ ايمان كے ليے يه ممكن هوجائے كه وه كسى ركاوٹ كے بغير دينِ توحيد كى پيروى كريں اور كسى ركاوٹ كے بغير دعوت الى الله كا كام كرسكيں اِس انقلاب سے مراد به اعتبار مواقع (in terms of opportunities) انقلاب هے، نه كه به اعتبار سياسى اقتدار (in terms of political power) انقلاب۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلامى حكومت كا تصور
اسلامى حكومت يا خدائى حكومت كا تصور قرآن ميں سرتاسر اجنبى (alien) هے۔ حقيقت يه هے كه حكومت انسان كى هوتى هے، نه كه اسلام كي۔ اِس ليے قرآن ميں جهاں حكومت كا ذكر هے، وهاں اُس كو انسان سے منسوب كيا گيا هے۔ مثلاً اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِى الْاَرْضِ(22:41)۔یعنی، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم زمین میں غلبہ دیں۔ اور وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (24:55)۔ یعنی، اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔حقيقت يه هے كه الله كے تخليقى منصوبے كے مطابق، يه الله كا مطلوب هى نهيں كه دنيا ميں هميشه اهلِ ايمان كى حكومت قائم رهے يا لوگوں سے لڑ كر حكومت پر قبضه كيا جائے، تاكه دنيا ميں نظامِ حكومت قائم كيا جاسكے۔ اِس قسم كا سياسى نشانه الله نے كبھى نهيں ديا۔ الله كو جو چيز مطلوب هے، وه صرف يه كه عمل كے مواقع هميشه كھلے رهيں۔ هر شخص كے ليے يه ممكن هو كه وه آزادانه طورپر دين كے انفرادى تقاضوں كو پورا كرسكے۔ يهى الله كا اصل مطلوب هے اور قرآن ميں جو انقلاب برپا كرنے كا حكم دياگيا هے، اُس سے مراد يهى غير سياسى انقلاب هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اقامتِ نظام، اقامتِ مواقع
الله كے تخليقى پلان كے مطابق، دنيا ميں جو چيز مطلوب هے، وه اقامتِ نظام نهيں، بلكه اقامتِ مواقع هے، يعنى ايسا نهيں هے كه ايك مقرر قسم كا سوشيو پولٹكل (socio-politicial) نظام هے اور اهلِ ايمان كى يه ذمے دارى هے كه وه اِس نظام كو اُس كے تمام اطراف وجوانب كے ساتھ زمين پر قائم كريں۔ دين كا يه مبنى بر نظام تصور (system-based concept) سرتاسر ايك مبتدعانه تصورهے۔ اِس قسم كا تصورِ دين صرف كچھ لوگوں كے خود اپنے ذهن كى پيدوار هے، خدا اور رسول كے دين سے اُس كا كوئى تعلق نهيں۔ اِس قسم كا تصورِ دين وهى چيز هےجس كو مضاهات (9:30) كهاگيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
الله كے نقشهٔ تخليق كے مطابق، اصل مطلوب چيز يه هے كه هر قسم كے مواقع پورى طرح كھلے هوئے هوں، هر انسان كو مكمل آزادى هو كه وه دين كے معاملے ميں جس طرح چاهے اپنى قوتوں كو استعمال كرے۔ قديم زمانے ميں جارحانه شرك، مذهبى جبر اور استبدادى حكومت (despotism) كا نظام قائم تھا۔ هزاروںسال كى روايات كے نتيجے ميں يه ذهن لوگوں كے اوپر اِس طرح چھاگيا كه وه اس كے خلاف سوچ نهيں پاتےتھے۔ پيغمبر اور اصحابِ پيغمبر كو جو انقلاب برپا كرنے كا حكم دياگيا تھا، وه يه تھا كه جدوجهد كركے اِس دور كو ختم كرو اور وه حالات برپا كرو جب كه هر ايك كو مكمل آزادى حاصل هوجائے اور هر ايك كے ليے تمام مواقع يكساں طورپر كھل جائيں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
پيغمبر اور اصحابِ پيغمبر كے ذريعے ساتويں صدى ميں جو انقلاب آيا، اُس كى اصل حقيقت يهى تھي۔ وه اپنى حقيقت كے اعتبار سے، حكومت يا خلافت قائم كرنا نه تھا، بلكه يه تھا كه هدايت كے تمام مواقع تمام انسانوں كے ليے كھل جائيں، دينِ خداوندى كے معاملے ميں كوئى ركاوٹ باقى نه رهے۔ اسلام كے دورِ اول ميں پيش آنے والا يهى وه انقلابى واقعه هے جس كا ذكر فرانسيسى مورخ هنرى پرين نے اِن الفاظ ميں كيا هے— اسلام نے زمين كے نقشے كو بدل ديا ۔ روايتى دورِ تاريخ كا خاتمه كردياگيا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِ س معاملے ميں الله تعالى كو جو انقلاب مطلوب تھا، وه ايك نسل يا دو نسل ميں انجام نهيں پاسكتا تھا، اِس ليے اِس انقلاب كو تاريخ ميں ايك پراسس كے روپ ميں جارى كيا گيا۔ مزيد يه كه اِس عمل ميں صرف مسلمان نهيں، بلكه سيكولر قوميں بھى شريك هوئيں۔ اِس طرح يه تاريخى عمل چلتا رها۔ آخر كار انيسويں صدى اور بيسويں صدى ميں مغرب ميں اس كى تكميل هوئي۔ موجوده مغربى تهذيب اِسى عمل كا نقطهٔ انتها هے۔ حقيقت يه هے كه مغربى تهذيب نے تاريخ ميں پهلى بار ايسا كيا هے كه جو دنيا مسائل سے بھرى هوئى تھي، وه هر اعتبار سے كھلے هوئے مواقع ميں تبديل هوگئي۔
دين كا اصل مطلوب يه نهيں هے كه موجوده دنيا ميں معيارى اجتماعى نظام بنايا جائے۔ معيارى معاشره يا معيارى اجتماعى نظام كى جگه جنت هے، نه كه موجوده زمين۔ الله كے تخليقى منصوبے كے مطابق، موجوده دنيا ميں جو چيز مطلوب هے، وه انفرادى سطح پر شخصيت كى تعمير هے، يعنى ايسے افراد كا وجود ميں آنا جو اپنے اعلى اوصاف كے اعتبار سے، جنت ميں داخلے كے مستحق قرار پائيں۔
جنت كى دنيا
جنت كيا هے، قرآن كے مطابق، جنت وه وسيع دنيا هے جس كا كيمپس پورى كائنات كے برابر هوگا۔ جنت وه معيارى جگه هے جهاں تمام محدوديتيں (limitations) اور نامواقف اسباب (disadvantages)ختم هوجائيں گے۔ جنت وه جگه هے جهاں انسان اِس قابل هوگاكه وه زمان ومكاں سے ماورا چيزوں كا احاطه كرسكے۔ جنت وه جگه هے جهاں انسان براهِ راست طورپر الله رب العالمين كو ديكھے گا اور اس سے كلام كرے گا۔ جنت وه جگه هے جهاں انسان كى نگاه پورى انسانى تاريخ كا احاطه كرسكے گي۔ جنت وه جگه هے جهاں پورى تاريخ كے تمام منتخب بندے يكجا كيے جائيں گے۔ جنت وه جگه هے جهاں انسان كے ليے ممكن هوگا كه وه اعلى معيارى مناظر كا مشاهده كرے، وه اعلى معيارى نغموں كو سنے، وه اعلى معيارى ذائقوں كا ٹيسٹ لے سكے۔ جنت وه جگه هے جهاں انسان كا لامحدود دماغ انفولڈ (unfold) هوگا۔ جنت وه جگه هے جهاں آلاء الله اور كلمات الله كو قلم بند كيا جائے گا۔ جنت وه جگه هے جهاں انسان كو كامل معنوں ميں فل فل مينٹ لے گا۔ جنت وه جگه هے جهاں انسان كو الله كى قربت حاصل هوگي۔ جنت وه جگه هے جهاں هر قسم كى اعلى سرگرمياں موجود هوں گي، ليكن يه تمام سرگرمياں معيارى معنوں ميں پرمسرت سرگرمياں (joyful activities) هوں گي، وغيره۔
جنتى شخصيت
اِس طرح كى معيارى دنيا (perfect world) ميں قيام كے ليے اعلى ترين سطح كے تيار افراد دركار هيں۔ صرف اعلى سطح كى تيار شده شخصيت هى اِس قابل هے كه اس كو جنت جيسى دنيا ميں جگه ملے۔ موجوده دنيا اِسى قسم كى اعلى شخصيتوں كے بننے كا مقام هے۔ اِس قسم كى اعلى شخصيت كسى كو پيدائشى طور پر نهيں ملتي۔ يه هر انسان كا اپنا كام هے كه وه اِس معاملے ميں اپنے آپ كو باشعور بنائے اور پھر پورے اهتمام كے ساتھ وه اپنے اندراِس قسم كے انسان كى تشكيل كرے۔
مذكوره قسم كى جنتى شخصيت بلا شبه صرف ايك صاحبِ ايمان كے اندر بنتى هے، مگر صاحبِ ايمان سے مراد وه شخص هے جس كو معرفت كےدرجے ميں ايمان حاصل هو، وه اپنے اندر اتنا زياده تخليقى فكر پيدا كرے كه وه خود دريافت كرده معرفت (self-discovered realization) پر كھڑا هوسكے۔ اس كے اندر وه آفاقى ذهن پايا جائے جو سارى كائنات كو اپنے ربانى رزق كا دستر خوان بنا سكے، جس كى مثبت سوچ (positive thinking) اتنى بڑى هوئى هو كه وه منفى آئٹم (negative item) كو بھى مثبت آئٹم (positive item) ميں تبديل كرسكے۔ اس كا عبادتى شعور اتنا ترقى يافته هو كه وه اِس طرح الله كى عبادت كرے، جيسے كه وه الله كو ديكھ رها هے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
انسان كى تخليق كے بارے ميں قرآن ميں يه الفاظ آئے هيں الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ یعنی، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ قرآن كى اِس آيت كے مطابق، موجوده دنيا ميں انسان كو اِس ليے بسايا گيا هے كه يهاں احسن العمل افراد كا انتخاب كيا جاسكے۔ يه عمل پورى انسانى تاريخ ميں جارى هے۔ خدائى نظام كے تحت اِس دنيا ميں هر فرد كا مكمل ريكارڈ تياركيا جارها هے۔ اِس مقصد كے ليے انسان كو كامل آزادى دى گئى هے۔ كيوں كه آزادى كے ماحول هى ميں يه معلوم كيا جاسكتا هے كه كون شخص احسن العمل تھا اور كون شخص احسن العمل نه تھا۔قديم زمانے ميں مذهبى جبر كا جو نظام قائم تھا، وه اِس ميں ركاوٹ تھا كه كوئى فرد آزادانه طورپر اپنى شخصيت كى مثبت تعمير كرے اور اپنے آپ كو احسن العمل بنائے۔ يه نظام، الله كے تخليقى منصوبے كے خلاف تھا۔ اِس ليے قرآن ميں اس كو فتنه كهاگيا هے اور اهلِ ايمان كو يه حكم ديا گيا كه وه الله كى خصوصى مدد كے ذريعے اِس ناموافق نظام كو توڑ ديں، تاكه هر انسان كو يه موقع مل جائے كه وه اگر چاهے تواپنے آپ كو احسن العمل كى حيثيت سے تيار كرے ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اسلام كا انقلابى رول
مورخ ابنِ كثير نے اپنى مشهور كتاب البداية والنهاية ميں ابنِ اسحاق كے حوالے سے ايك روايت نقل كى هے۔ اِس روايت ميں ايك واقعے كا ذكر هے جو نبوت كے دسويں سال مكه ميں پيش آيا ۔ وه واقعه يه هے كه ’’رسول الله صلى الله عليه وسلم كے چچا ابو طالب اپنى آخر عمر ميں جب بيمارهوئے اور اُن كا مرض بڑھ گيا تو قبيله قريش كے لوگوں نے آپس ميں كها كه حمزه اور عمر نے اسلام قبول كرليا اور محمد كا امر (دين) پورے قبيله قريش ميں پھيل گيا۔ آؤ هم ابو طالب كے پاس چليں۔ وه هم سے عهد لے ليں اپنے بھتيجے كے بارے ميں اور بھتيجے سے عهد لے ليں همارے بارے ميں۔ كيوں كه خدا كى قسم، هم اِس سے مامون نهيں هيں كه وه همارے امر(دين) پر غالب آجائے۔ چنانچہ قريش كے سردار ابو طالب كے پاس آئے اور اُن سے بات كي۔ يه تھے— عتبه بن ربيعه، شيبه بن ربيعه، ابو جهل بن هشام، اميه بن خلف، ابو سفيان بن حرب، وغيره۔ انھوں نے كها كه اے ابو طالب، آپ كا همارے نزديك جو درجه هے، وه آپ كو معلوم هے۔ آپ پر جو وقت آچكا هے، وه آپ خود ديكھ رهے هيں۔ آپ كے بارے ميں هميں تشويش هے۔همارے اور آپ كے بھتيجے كے درميان جو معامله هے، اُس سے آپ باخبر هيں۔ آپ ان كو بلائيے۔ اُن سے همارے بارے ميں عهد لے لیجیے اور هم سے ان كے بارے ميں عهد لے لیجیے، تاكه وه هم سے باز رهيں اور هم اُن سے باز رهيں، تاكه وه همارے دين سے تعرض نه كريں اور هم ان كے دين سے تعرض نه كريں۔ پھر ابو طالب نے رسول الله كو بلايا اور آپ ان كے پاس آئے۔ ابو طالب نے آپ سے كها كه اے ميرے بھتيجے، يه تمھارى قوم كے بڑے لوگ هيں۔ يه تمھارے پاس جمع هوئے هيں، تاكه تمھارے اور ان كے درميان معاهده هوجائے۔ اُس وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم نے كها يَا عَمُّ، كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ تُعْطُونَهَا تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ وَتَدِينُ لَكُم بِهَا الْعَجَمُ (البدايةوالنهاية، جلد 3، صفحہ 123)۔ يعنى، اے ميرے چچا، ميں اُن سے صرف ايك كلمه چاهتا هوں جس كو اگر وه دے ديںتو وه عرب كے مالك بن جائيں گے اور عجم تمھارے تابع هو جائيں گے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس كے بعد آپ نے بتاياكه وه كلمه يه هے كه تم كهو كه الله كے سوا كوئى اله نهيں اور تم چھوڑ دو اُن چيزوں كو جن كى تم الله كے سوا عبادت كرتےهو (تَقُولُونَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَتَخْلَعُونَ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ) پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے اِس قول ميں ايك تاريخى بات كو مخاطبين كى مانوس زبان ميں كهاگيا هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه يه مشن كوئى محدود مشن نهيں هے۔ يه خالق كى ايك عظيم منصوبه بندى كا نتيجه هے۔ يه ايك د ور كو ختم كركے دوسرے دور كو لانے كا منصوبه هے۔ اگر تم اُس كا ساتھ دو تو يه تمھارے ليے سرفرازى كا باعث هوگا۔ اِس مشن كا ساتھ دے كر تم ايك نئے دورِ تاريخ كے نقيب (harbinger) بن سكتے هو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
توحيد كے مشن كے ذريعے بعد كى تاريخ ميں يه انقلابى دور آيا۔ اُس نے انسانى تاريخ كے رخ كو بدل ديا۔ مگر عجيب بات هے كه مسلم علما اور مورخين نے اِس واقعے كو صرف امتِ مسلمه كے ايك سياسى فخر (political glory) كے طور پر ليا۔ وه اِس انقلاب كے وسيع تر پهلوؤں كو سمجھنے سے قاصر رهے۔ ليكن سيكولر مورخين نے اِس پهلو كو دريافت كيا اور كھلے طورپر اس كا اعتراف كيا۔ انھيں ميں سے ايك فرانس كا مورخ هنرى پرين (وفات 1935) هے۔ هنرى پرين نے اِس حقيقت كا اظهار اِن الفاظ ميں كيا هے— اسلام نے زمين كے نقشے كو بدل ديا۔ تاريخ كا روايتى ڈھانچه توڑ ديا گيا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne: A History of Europe, London, 1939, p. 46)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس تاريخى واقعے كى اصل اهميت اِس اعتبار سے نهيں تھى كه اس كے نتيجے ميں ايك مسلم ايمپائر وجود ميں آئے۔ اِس واقعے كى اصل اهميت يه تھى كه اُس نے انسانى تاريخ كے سفر كو صحيح رخ كى طرف موڑ ديا، اس نے انسانى تاريخ كو خدائى منصوبے كے ساتھ هم آهنگ كرديا۔
الله تعالى نے انسان كو پيدا كيا اور اس كو زمين پر بسايا اور اس كو هر طرح كى آزادى دي۔ اِس تخليق كا مقصد يه نهيں تھا كه انسان موجوده دنيا ميں آئڈيل حكومت بنائے يا آئڈيل سماج قائم كرے۔ انسان كى آزادى كى بنا پر دنيا ميں وهى هونا تھا جس كو فرشتوں نے فساد (2:30) سے تعبير كيا تھا۔ تخليق كے اعتبار سے، فساد كا لفظ كوئى منفى لفظ نهيں۔ اِس كا مطلب يه هے كه زمين ميں مختلف قسم كے ناموافق حالات پيدا هوں، تاكه انسان كے ليے مسلسل طورپر چيلنج كى صورت حال باقى رهے۔ چيلنج كى يه صورتِ حال عين مقصودِ تخليق هے، كيوں كه اِسى صورتِ حال كى بنا پر ايسا هوتا هے كه افراد كے ليےامتحان كا ماحول جارى رهے اور مطلوب افرادكا انتخاب ممكن هوسكے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى سورۃ الانعام ميں انسان كو خطاب كرتے هوئے كها گيا هے وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى(6:94)۔ قرآن كے اِن الفاظ كا لفظى ترجمه شاه عبد القادر دهلوى نے اِس طرح كيا هے— اور آئے تم همارے پاس ايك ايك۔ شاه عبد القادر دهلوى كا يه ترجمه قرآن كى مذكوره آيت كا نهايت صحيح ترجمه هے۔ ’فرادى‘ كا لفظ ’فرد‘ كى جمع هے، يعنى افراد۔ قرآن كى يه آيت خدا كے تخليقى منصوبے كے ايك اهم پهلو كى طرف اشاره كرتى هے۔ الله نے انسان كو پيدا كرنے كے بعد اس كو زمين پر بسايا۔ اِس آبادكارى كا مقصد يه نهيں تھا كه انسان دنيا ميں بهتر سماجى نظام بنائے۔ بهتر سماجى نظام كى جگه صرف جنت هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا كے تخليقى منصوبے كے مطابق، موجوده دنيا اقامتِ نظام كے ليے نهيں هے، بلكه انتخابِ افراد كے ليے هے۔ حقيقت يه هے كه انسان كى آزادى كى بنا پر اِس دنيا ميں كسى معيارى نظام كا بننا ممكن هى نهيں۔ پورى تاريخ ميں تقريباً تمام ذهن، مسلم اور غير مسلم دونوں، ايك هى مشترك غلطى ميں مبتلا رهے هيں۔ انھوں نے بهتر سماجى نظام قائم كرنے كو اپنى جدوجهد كا نشانه بنايا۔ مگر بلا استثنا سب كے سب اِس مقصد ميں ناكام رهے۔ اس كا سبب يه تھا كه اِس قسم كا نشانه عملى طورپر ممكن هى نه تھا، كيوں كه وه منصوبه خداوندى كے خلاف تھا۔
خالق نے اپنے منصوبے كے مطابق، دنيا كو اِس طرح بنايا هے كه وه هميشه ’دار الكبد‘ بنى رهے۔ اِس طرح يه ممكن هوتا هے كه دنيا ميں هر قسم كے حالات پيدا هوں۔ لوگوں كو بار بار نقصان (2:155) كا تجربه هو۔ طرح طرح كے حادثات پيش آئيں۔ انسان اور شيطان كى طرف سے آزادى كے غلط استعمال كى بنا پر لوگوں كے درميان كشمكش جارى رهے۔ يه ناموافق حالات عين مطلوب هيں۔ كيوں كه اِسى صورتِ حال كى بنا پر يه ممكن هوتا هے كه هر انسان كے بارے ميں يه ديكھا جائے كه مختلف حالات كے درميان اس نے كيسا رسپانس ديا۔ اُس نے حالات كو اپنى شخصيت كى تعمير كے ليے استعمال كيا يا منفى رد عمل ميں اپنا وقت ضائع كرديا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امتحانى صورتِ حال كے اِس نتيجے كا تعلق افراد سے هے۔ هر فرد الگ الگ حالتِ امتحان ميں هے۔ هر فرد الگ الگ اپنا ريكارڈ تيار كررها هے۔ هر فرد الگ الگ يه بتا رها هے كه وه جنت كى معيارى دنيا ميں بسائے جانے كے قابل هے يا نهيں۔
اسلامى انقلاب كا مقصد
رسول اور اصحابِ رسول كے ذريعے جو انقلاب آيا اور آخر كار اس كے نتيجے ميں دنيا كا نقشه بدل گيا، وه اِسى ليے تھا كه مذكوره قسم كى حالت دنيا ميں غير منقطع طورپر جارى رهے۔ اسلامى انقلاب كا مقصد نه كوئى ايمپائر قائم كرنا تھا اور نه كوئى بهتر سياسى يا سماجى نظام۔ اِس انقلاب كا واحد مقصد يه تھا كه فرد كے ليے اپنى شخصيت كى تعمير كے مواقع لامحدود طور پر كھل جائيں۔ جو فرد يه چاهے كه اس كو حقيقتِ اعلى كو دريافت كرنا هے، اُس كو اپنى شخصيت كو جنتى شخصيت كے طورپر ڈيولپ كرنا هے، اِسى كے ساتھ اُس كو دعوت الى الخير (3:104) كے مشن كو اپنى زندگى كا مشن بنانا هے، جو فرد يا افراد ايسا چاهيں، اُن كے ليے هر قسم كے مواقع پورى طرح كھلے رهيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلامى انقلاب كا مقصد اصلاً يهى تھا۔ اسلامى انقلاب كا مقصد يه تھا كه زمين پر عالمى مواقع كى ايك دنيا (world of universal opportunities) وجود ميں آئے۔ اِس قسم كى ايك دنيا صرف لمبے عمل كے ذريعے بن سكتى تھي۔ چنانچہ ايسا هى هوا۔ پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے ظهور كے بعد تاريخ ميں جو پراسس جارى هوا تھا، وه تقريباً هزار سال تك اپنا كام كرتا رها، يهاں تك كه بيسويں صدى ميں وه اپنى آخرى تكميل تك پهنچ گيا۔
عجيب بات هے كه اسلامى انقلاب كى اِس نوعيت كو نه مسلم مفكرين نے سمجھا اور نه غير مسلم مفكرين نے۔ دونوں كے ليے اس كا مشترك سبب يه تھا كه وه تاريخ كا مطالعه الله كے تخليقى منصوبے كى روشنى ميں نه كرسكے۔ وه خود اپنے خود ساخته ذهن كے تحت تاريخ كا مطالعه كرتے رهے۔ اِس بنا پر دونوں گروهوں كا حال يه هوا كه وه اُس خدائى حكمت (divine wisdom) سے بے خبر رهے جو انسانى تاريخ كے درميان مسلسل طورپر اور موثر طورپر جارى رهي۔
دورِ آزادى
اسلام كا ظهور تاريخ ميں ايك انقلاب كا ظهور تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول كى كوششوں كے ذريعے تاريخ انسانى ميں پهلى بار آزادى كا دور آيا۔ اِس سے پهلے هزاروں سال سے دنيا ميں شخصى سلطنت كا مستبدانه نظام (despotism) قائم تھا۔ اس كى جڑيں اتنى مضبوط هوچكى تھيں كه بظاهر اُن كو ختم كرنا ناممكن هوگيا تھا۔ رسول اور اصحاب رسول كى قربانيوں سے تاريخ ميں ايك ايسا طاقت ور پراسس جارى هوا جس نے شخصى مطلق العنانى كے نظامِ حكومت كو هميشه كے ليے ختم كرديا۔قرآن ميں اِس انقلابى واقعے كى طرف اِن الفاظ ميںاشاره كيا گيا هے وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا (24:55)۔ يعنى، ايسا لازماً هونا هے كه دنيا سے دورِ خوف كا خاتمه هو اور دورِ امن ابدى طورپر دنيا ميں آجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت عمر فاروق نے ايك عظيم سلطنت كے حكمراں كى حيثيت سے اپنے عهد خلافت ميں اِسى حقيقت كا اظهار كيا تھا، جب كه انھوں نے ايك واقعے كے بعد مصر كے مسلم گورنر كو خطاب كرتےهوئے كها مُذْ كَمْ تَعَبَّدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا (فتوح مصر والمغرب لابن عبد الحكم، صفحہ 195)۔ يعنى، اے عمرو، تم نے كب سے لوگوں كو غلام بناليا، جب كه ان كى ماؤں نے اُن كو آزاد پيدا كيا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه انقلابى عمل تاريخ ميں جارى رها، يهاں تك كه وه سفر كرتے هوئے يورپ تك پهنچ گيا۔ گياره سو سال كے بعدفرانس كے جمهورى مفكر روسو(Rousseau) نے اپنى كتاب ’سوشل كنٹريكٹ‘ ميں لكھا كه— انسان آزاد پيدا هوا تھا، ليكن ميں اس كو زنجيروں ميں جكڑا هوا ديكھتا هوں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Man was born free, but I see him in chains.
اِسى انقلابى عمل (revolutionary process) كے بعد كے مرحلے ميں 1789 ميں فرانسيسى انقلاب (French Revolution) كا واقعه هوا۔ اِس انقلابى عمل كى تكميل 1948 ميں هوئى جب كه دنيا كى تمام قوموں كے اتفاق سے اقوامِ متحده (UNO) كى عالمى تنظيم وجود ميں آئي۔
انسانى تاريخ ميں آزادى كے دور كا آنا كوئى ساده بات نه تھي۔ يه گويا كه تاريخ ميں ايك شاه ضرب (master stroke) كا معامله تھا جس كے نتيجے ميں اُن تمام امكانيات كى انفولڈنگ (unfolding) شروع هوگئى جس كو خالق نے انسان كے ليے مقدر كيا تھا۔
اِس دورِ آزادى كا پهلا فائده يه تھا كه الله كے تخليقى نقشے كے مطابق، انسانى زندگى ميں آزادى كا وه دور شروع هوا جب كه كھلے ماحول ميں هر عورت اور مرد كا امتحان (test) ممكن هوسكے۔ اِسى كے نتيجے ميں دنيا كى سياست ميں سيكولرازم اور جمهوريت كا زمانه آيا جس نے تاريخ ميں پهلى بارمذهبى جبر كا مكمل خاتمه كرديا۔ اِسى كے بعد يه ممكن هوا كه انسان هر قسم كے توهمات (superstitions) سے آزاد هو كر فطرت كا مطالعه كرے۔ اِسى مطالعے كا نتيجه سائنسى علوم كا ظهور تھا جس نے پهلى بار انسان كے ليے اعلى معرفت (higher realization) كا دروازه كھول ديا۔ اِسى كے نتيجے ميں پرنٹنگ پريس اور جديد مواصلات كى دريافت هوئى جس نے تاريخ ميں پهلى بار عالمى دعوت كو ممكن بنا ديا، وغيره۔
موجوده زمانے ميں آزادى كو خير اعلى كهاجاتا هے۔ يه بات بالكل درست هے۔ليكن موجوده دنيا ميں آزادى كے ساتھ آزادى كے غلط استعمال (misuse of freedom)كا امكان هميشه موجود رهتا هے۔ اِس بنا پر آزادى كى قدر وقيمت كو صرف اُس وقت سمجھا جاسكتا هے، جب كه لوگوں كى طرف سے آزادى كے غلط استعمال كے پهلو كو الگ كركے اس كا مطالعه كيا جائے۔
دورِ ظلم، دورِ دجل
دعوت الى الله كا كام هميشه كسى نه كسى چيلنج كے مقابلے ميں انجام ديا جاتا هے۔ داعى كے خلاف يه چيلنج مدعو كى طرف سے پيش آتا هے۔ مدعو اپنے زمانے كے حالات كى پيداوار هوتاهے۔ داعي، ابدى حقيقت كا نمائنده هوتا هے۔ اِس كے مقابلے ميں، مدعو زمانى حالات كے زير اثر عمل كرتاهے۔ داعى كى طاقت اس كى نظرياتى صداقت هوتى هے۔ اِس كے برعكس، مدعو كى طاقت وقت كا قائم شده نظام هوتا هے۔ يه صورتِ حال بظاهر وقت كے ماحول ميں داعى كو تنها بناديتى هے۔ اِس كے برعكس، مدعو كے بارے ميں ايسا محسوس هوتاهے گويا كه پورا زمانه اس كے ساتھ هے۔
اِس اعتبارسے، دعوت كے دوبڑے دور هيں— ايك، ماضى كادور جب كه داعى كو ظلم كا مقابله كركے دعوت كا كام كرنا پڑا۔ اِس قديم دور كا ذكر قرآن ميں اِن الفاظ ميں آيا هے وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ (85:8)۔ اور ان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ ایمان لائے اللہ پر جو زبردست ہے، تعریف والا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں اُس گزرے هوئے دور كى طرف اشاره كياگيا هے جب كه توحيد كا اعلان جان كى قربانى كى قيمت پر كيا جاتا تھا۔ اُس زمانے ميں هرجگه جبر كا نظام (despotism) قائم تھا۔ جبر اور شرك دونوں متحد هو كر داعى كے مخالف بن جاتے تھے اور يه كوشش كرتے تھے كه طاقت كے زور پر وه اس كو كچل ديں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چيلنج كا دوسرا دور وه هے جو سائنسى علوم كے ظهور سے پيداهوا۔ جب يه دوسرا دور آيا تو اُسى كے ساتھ آزادى اور جمهوريت كا انقلاب آچكاتھا۔ اب داعى كے خلاف جو چيلنج تھا، وه ظلم اور جبر كا چيلنج نهيں تھا، بلكه وه انسان كے پيدا كرده علوم كا چيلنج تھا۔ اب داعى كا كام يه تھا كه وه علم كا جواب علم سے دے۔ وه توحيد كى صداقت كو علم كى طاقت كے ذريعے ثابت شده بنائے۔
اِس دوسرے دور كا ذكر قرآن كى اِس آيت ميں كيا گيا هے سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقّ (41:53)۔ یعنی،عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن كى يه آيت ساتويں صدى كے ربع اول ميں اتري۔اُس وقت مستقبل كے صيغے ميں بتايا گياكه آئنده وه دور آئے گاجب كه انسانى علم كى بنا پر ايسے افكار وجود ميں آئيں گے جو دين توحيد كو علم كى سطح پر چيلنج كريں گے۔ اُس وقت داعى كا يه كام هوگا كه وه جوابى علم كے ذريعے اس چيلنج كا مقابله كرے۔ وه آفاق وانفس كى نشانيوں ، بالفاظ ديگر، دلائل فطرت كے ذريعے توحيد كى صداقت كو مبرهن كرے۔ اِسى واقعے كو قرآن ميں تبيين حق كها گياهے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس دوسرے دور ميں نظريه توحيد كو چيلنج كرنے والے جو افكار پيدا هوں گے، وه بظاهر علمِ انسانى كى بنياد پر پيداهوں گے، ليكن اپنى حقيقت كے اعتبار سے، وه علم كى غلط تعبير (wrong interpretation) كى بنياد پر كھڑے هوں گے۔ دعوتِ توحيد كے خلاف يه بظاهر ايك فكرى چيلنج هوگا، ليكن اپنى حقيقت كے اعتبار سے، وه ايك بے بنياد (false) چيلنج هوگا۔ وه از اول تا آخر حقائق كى غلط تعبير پر كھڑا هوگا۔
دعوت كے خلاف يهى دوسرا چيلنج هے جس كو حديث ميں ’’دجال‘‘ سے تعبير كيا گيا هے۔ دجال مبالغے كا ايك صيغه هے۔ اس كا مطلب هے بڑا دھوكے باز (great deciever)۔ عربى زبان ميں سونے كے ملمّع (golden polish) كو دجل كها جاتا هے۔ جيسے پيتل كے برتن كے اوپر سونے كا ملمّع كركے اس كو غلط طورپر سونے كا برتن ظاهر كيا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حديث ميں پيشين گوئى كى گئى هےكه بعد كے زمانے ميں دجال كا ظهور هوگا۔ يه اپنى حقيقت كے اعتبار سے، بات نهيں هے، بلكه وه ايك دور كى بات هے۔ اِس پيشين گوئى سے مراد بعد كے زمانے ميں آنے والا وه دور هے جب كه دعوتى مشن كو ايك نئے چيلنج كا سامنا پيش آئے گا۔ اُس زمانے ميں داعى كے خلاف جسمانى ظلم (physical persecution) ختم هوچكا هوگا۔ اس كے بجائے شديد تر قسم كا فكرى چيلنج (intellectual challenge) پيش آئے گا۔ يه فكرى چيلنج دجل كى زمين پر كھڑا هوگا، يعنى علمى حقيقتوں كى باطل تعبير كركے اُس سے خود ساخته طور پر غلط مفهوم نكالنا اور اِس طرح انسان كو گمراه (mislead) كركے سچائى سے هٹانے كى كوشش كرنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فكرى دجل كے اِس دور ميں داعى كا كام يه هوگاكه وه علم كا مقابله علم كے ذريعے كرے۔ قديم زمانے ميں اگر داعى كو جهاد بالسيف كرنا پڑتا تھا تو اِس دوسرے دور ميں داعى كو جهاد بالعلم كا طريقه اختيار كرنا هوگا، يعنى وه اهلِ باطل كے علمى مغالطوں كا بے حقيقت هونا ثابت كرے گا۔ وه علم كى غلط تعبير كى جگه علم كى صحيح تعبير پيش كرے گا۔
اِسى دعوتى عمل كو حديث ميں، دجال كے مقابلے ميں ’حجيج‘ كے كردار سے تعبير كيا گيا هے (صحيح مسلم،حدیث نمبر 2937) يعنى حجت كے ذريعے دجالى فتنے كا ابطال۔ دوسرے الفاظ ميں، علمى چيلنج كا جواب برتر علمى دلائل سے دينا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عظيم ترين شهادت
دجال كا يه دور بيسويں صدى ميں اپنى پورى صورت ميں ظاهر هوچكا هے۔ اِس دجالى چيلنج كے مقابلے ميں جو دعوتى عمل كيا جائے گا اور صداقتِ خداوندى كو جس طرح اعلى علمى دلائل كے ذريعے مبرهن كيا جائے گا، وه پورى تاريخِ دعوت كا سب سے بڑا واقعه هوگا۔ اِسى ليے حديث ميں اس كو هٰذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ(صحيح مسلم،حدیث نمبر 2938) كے الفاظ ميں بيان كيا گيا هے، يعنى خداوندِ عالم كے نزديك، حق كى سب سے بڑى گواهي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حق كى سب سے بڑى گواهى كا مطلب حق كى سب سے افضل گواهى نهيں هے۔ مذكوره حديثِ رسول ميں يه بات كمياتى معنوں (quantitative terms) ميں كهى گئى هے، نه كه كيفياتى معنوں (qualitative terms)ميں۔ يه بات اِس معنى ميں نهيں هے كه اس كا درجه الله كے يهاں زياده هوگا، بلكه اِس معنى ميں هے كه اپنے ظاهر كے اعتبار سے، وه شهادت كا سب سے بڑا كام هوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِن دو دوروں كو روايتى دو راور سائنٹفك د ور ميں تقسيم كيا جاسكتا هے۔ روايتى دور ميں، دعوت كى حمايت ميں فطرى دلائل استعمال كيے جاتے تھے، ليكن سائنسى دور ميں دعوت كے حق ميں نئے دريافت شده علمى دلائل استعمال كيے جائيں گے۔روايتى دور ميں دعوت كى تائيد كے ليے ساده قسم كے ذرائع استعمال كيے جاتے تھے، ليكن سائنسى دور ميں دعوت كى تائيد كے ليے جديد قسم كے ذرائع (پرنٹ ميڈيا اور الكٹرانك ميڈيا) كا استعمال كيا جائے گا۔
روايتى دور ميں ايسا تھا كه داعى الگ هوتا تھا اور مدعو الگ ، ليكن سائنسى دورميں ايك انوكھا واقعه يه هوگا كه خود مدعو داعى كى طاقت بن جائے گا۔مدعو كى پيدا كرده تهذيب اور اس كے دريافت كرده علوم داعى كے ليے پر امن هتھيار كا كام كريں گے۔ خودمدعو كے ذريعے نئے نئے دعوتى مواقع كھل جائيں گے جن كو استعمال كركے داعى كے ليے يه ممكن هوجائے گا كه وه تاريخ كى عظيم ترين شهادت دے سكے— غالباً يهى وه واقعه هے جس كى طرف ايك حديث رسول ميں اِن الفاظ ميں اشاره كيا گيا هے كه الله، فاجر انسان كے ذريعے بھى اِس دين كى تائيد كرے گا (صحيح البخاري، حدیث نمبر 3062)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قديم لادينيت، جديد لادينيت
قديم زمانے كى لادينيت ظلم پر كھڑى هوئى تھي۔ اس كو تاريخ مذاهب ميں مذهبى جبر (religious persecution) كهاجاتا هے۔ يه دور اُس وقت ختم هوگيا جب دنيا سے بادشاهت (kingship) كا دور ختم هوا اور دنيا ميں مسلّمه طور پر مذهبى آزادى (religious freedom)كا دور آگيا۔ اِس دور كا آغاز اسلام كے ذريعے هوا، مگر اس كى تكميل نشاةِ ثانيه كے بعد يورپ ميں هوئي۔
دورِ جديد كى لادينيت اپنے دعوے كے مطابق، علم (سائنس) پر كھڑى هوئى هے۔ اِس دوسرے دور كى لادينيت جهاد بالسيف كے ذريعے ختم نهيں هوسكتي، اس كا خاتمه صرف جهاد بالعلم كے ذريعے هوسكتا هے۔ تاهم يهاں علم سے مراد حقيقى علم نهيں هے، بلكه اس سے مراد علم كى توجيهه وتعبير (interpretation) هے۔ يه توجيهه تمام تر مغالطے پر قائم هے۔ ذيل ميں اس كى كچھ مثاليں درج كى جاتى هيں۔
1۔ اِس معاملے كى ايك مثال يه هے كه برٹش سائنس داں سر آئزاك نيوٹن (وفات 1727) نے مادى دنيا كا مطالعه كيا۔ اِس مطالعے ميں اس نے پايا كه مادّى دنيا كے اندر سبب اور نتيجه (cause and effect) كا اصول پايا جاتا هے۔ هرمادى واقعے كے پيچھے ايك مادى سبب هوتاهے۔ اِس اصول كو اصولِ تعليل (principle of causation) كهاجاتا هے۔نيوٹين نے جو بات كهى تھي، اس كاتعلق مذهب يا عقيده سے نهيں تھا، اس نے يه بات صرف ايك مادى ظاهره كى علمى توجيهه كے طورپر كهى تھي۔
ليكن الحاد پسند مفكرين نے اس كو بطور خود مذهب كے ساتھ وابسته كرديا اور كها كه يه سائنسى دريافت خدا كے وجود كى نفى كررهى هے۔ انھوں نے اِس سے يه فارمولابنايا كه— اگر واقعات طبيعى اسباب كے تحت پيش آرهے هيں تو وه ما فوق الطبيعى اسباب كا نتيجه نهيں هوسكتے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
يه صرف ايك مغالطے كى بات هے، وه كوئى دليل نهيں۔ نيوٹن يا دوسرے سائنس دانوں نے جو بات كهي، وه صرف ايك طريقه (method) كى بات تھي۔ اِس كے باوجود يه سوال اپنى جگه پر قائم رهتا هے كه يه متھڈ كس نے قائم كيا۔ حقيقت يه هے كه طبيعى قانون اصل واقعے كى توجيهه نهيں كرتا، بلكه طبيعى قانون خود توجيهه كا طالب هے
Nature does not explain, nature herself is in need of an explanation.
اصولِ تعليل پر مزيد مطالعے كے ليے ملاحظه هو سر جيمز جينز كى كتاب ’پراسرار كائنات‘ (The Mysterious Universe)۔
other sourceWords of another person or source
2۔ علم كے حوالے سے ايك معروف الحادى استدلال يه هے كه دنياكا مطالعه بتاتا هے كه يهاں مختلف قسم كے نقائص پائے جاتے هيں۔ اِن حضرات كے نزديك، يه پرابلم آف اِول (problem of evil) هے۔ اُن كا كهنا هے كه اگر اِس دنيا كا خالق ايك ايسا خدا هے جو قادرِ مطلق هے تو دنيا ميں برائى كيوں هے۔خدا اِس بر ائى كو ختم كيوں نهيں كرتا۔ كهاجاتا هے كه يه خدا كے وجود كے خلاف سب سے بڑى دليل هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر يه دليل صرف ايك غلط فكرپر مبنى هے۔ يه حضرات دنيا كا مطالعه خود اپنے ذاتى ذهن كے تحت كرتے هيں، حالانکہ صحيح طريقه يه هے كه اس كا مطالعه خود خالق كے تخليقى منصوبه (creation plan) كى روشنى ميں كيا جائے۔ خالق نے اپنے نقشے كے مطابق، اِس دنيا كو دار الامتحان (testing graound) كے طور پر پيدا كياهے۔ اِسى مصلحت كى بنا پر خالق نے انسان كو آزادى دى هے۔ وه چيز جس كو ’برائى كا مسئله‘كها جاتا هے، وه دراصل اِس ليے هے كه كچھ انسان اپنى آزادى كا غلط استعمال كرتے هيں جس كا نتيجه فسادهوتا هے۔
خالق كے نقشے كے مطابق، يه صورتِ حال قيامت تك باقى رهے گي۔ برائى سے پاك دنيا (evil-free world) موت كے بعد كے مرحلهٔ حيات ميں بنے گي، نه كه موت سے پهلے كے مرحلهٔ حيات ميں۔ موجوده دنيا ميں برائى سے پاك فرد (evil۔free individual) كا بننا تو ممكن هے، ليكن موجوده دنيا ميں برائى سے پاك سماج (evil free society) كا قيام ممكن نهيں۔
3۔ كها جاتا هے كه خالق كے وجود كے خلاف سب سے بڑى عقلى دليل وه نظريه هے جس كو نظريهٔ ارتقا (theory of evolution) كهاجاتا هے۔ مگر حقيقت يه هے كه نظريهٔ ارتقا محض ايك مفروضه هے، نه كه كوئى سائنٹفك حقيقت۔ ارتقا كے ايك عالم كے الفاظ ميں — ارتقا كا نظريه صرف ايك ورك ايبل (workable) نظريه هے، خالص سائنسى معيار پر وه كوئى ثابت شده نظريه نهيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4۔ موجوده زمانے كا ايك نظريه وه تھا جس كو هيومن ازم (humanism)كهاجاتا هے۔ نظريه هيومن ازم كا خلاصه يه هے كه اِس دنيا ميں انسان هى سب كچھ هے، انسان كے اوپر كوئى اور طاقت موجود نهيں۔ هيومن ازم كے نظريے كو اِس طرح بيان كيا جاتا هے— سيٹ كى منتقلى خدا سے انسان كى طرف
Transfer of seat from God to man.
هيومن ازم كا نظريه سراسر ايك بے بنياد نظريه هے۔يه ايك ثابت شده حقيقت هے كه انسان كے پاس كسى بھى قسم كى كوئى طاقت نهيں۔ ايسى حالت ميں انسان، خدا كى جگه كيوں كر لے سكتا هے۔ اِس نظريه كے ايك حامى جولين هكسلے نے ايك كتاب لكھى تھى جس كا ٹائٹل يه تھا— انسان تنها كھڑا هوتا هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Man Stands Alone
جولين هكسلے كى اِس كتاب كا نهايت مدلل جواب ايك امريكى سائنس داں نے ديا هے۔ اِس امريكى مصنف كا نام كريسى ماريسن (Cressy Morison) هے۔ اس كى كتاب كا نام يه هے
Man Does not stand Alone
جديد ماديت كى پشت پر مختلف ملحدانه افكار كا حواله ديا جاتاهے ، ليكن حقيقت يه هے كه جديد ماديت كے پھيلاؤ كا اصل سبب كوئى فلسفه يا نظريه نهيں هے۔ جديد ماديت كى توسيع زياده تر عملى بنيادوں (practical reasons)پر هوئى هے، نه كه نظرياتى بنيادوں (theoritical reasons) پر۔
جديد ماديت كے حامى اكثر اپنى حمايت كے ليے سائنس كا حواله ديتے هيں، مگر حقيقت يه هے كه جديد ماديت سائنس پر كھڑى هوئى نهيں هے، بلكه وه انطباقى سائنس (applied science) پر كھڑى هوئى هے جس كا دوسرا نام ماڈرن ٹكنالوجى هے۔
دورِ جديد كى مسحور كن ترقياں جس چيز كا نتيجه هيں، وه يهى ماڈرن ٹكنالوجى هے۔ يه ماڈرن ٹكنالوجى هے جس كے نتيجے ميں جديد قسم كے شهر بنے، جس كے نتيجے ميں جديد قسم كے شاپنگ سنٹر وجود ميں آئے، جس كے نتيجے ميں جديد قسم كى سوارياں وجود ميں آئيں۔ وه قوميں جن كو ترقى يافته قوميں (developed nations) كهاجاتا هے، ان كى ترقى كى بنياد يهى ماڈرن ٹكنالوجى هے۔
موجوده زمانے ميں عمومى طور پر جو اباحيت (permissiveness) آئى هے، وه زياده تر اِسى كا نتيجه هے۔ لوگ جديد ٹكنالوجى سے پيدا هونے والى ترقيوں كو ديكھ كر مسحور هوئے اور اس ميں اپنا مستقبل تلاش كرنے لگے۔ يه مزاج ابتداء ً صرف دنيوى ترقى كے هم معنى تھا، ليكن دھيرے دھيرے هر قيمت پر ترقى حاصل كرنے كا مزاج پيدا هوا جو بڑھ كر كامل اباحيت تك پهنچ گيا۔
چار نظرياتى ستون
وه چيز جس كو جديد فكر (modern thought) كها جاتا هے، اُس كے چار نظرياتى ستون هيں۔ يه چار نظرياتى ستون خالص علمى اعتبار سے، ابھى تك غير ثابت شده هيں، ليكن عملاً يهى چار نظريات دنيا كے ذهن پر چھائے هوئے هيں۔
دنيا كى بيش تر آبادى كے ليے يه چار نظريات گويا سيكولر عقيده (secular belief) كى حيثيت ركھتے هيں، كچھ لوگوں كے ليے شعورى طورپر اور كچھ لوگوں كے ليے غير شعورى طور پر۔
1۔ اِن ميں سے ايك نظرياتى ستون وه هے جس كو نظريه ارتقا (evolution theory) كها جاتا هے۔ يهى مبنى بر ارتقا فكر (evolution-based thinking)هے جس كے تحت موجوده زمانے ميں تمام حياتياتى مظاهر كى توجيهه كى جاتى هے۔ يه توجيهات اگرچه خالص علمى اعتبار سے مفروضات كى حيثيت ركھتى هيں، مگر عملاً عصر حاضر كے ذهن پر اِنھيں كا غلبه هے۔ نظريه ارتقا كا بانى چارلس ڈارون (Charles Robert Darwin) تھا۔ ڈارون 1809 ميں برطانيه ميں پيدا هوا اور 1882 ميں اس كا انتقال هوا۔
2۔ دوسرا نظرياتى ستون وه هے جس كو اصولِ تعليل (principle of causation)كها جاتا هے۔ يهى مبنى بر اسباب فكر (causation-based thinking)هے جس كے تحت تمام طبيعى واقعات كى توجيهه كى جاتى هے۔ اِس نظريے كا بانى آئزك نيوٹن (Isaak Newton) تھا۔ نيوٹن 1642 ميں انگلينڈ ميں پيداهوا اور 1727 ميں اس كى وفات هوئي۔ طبيعى واقعات كى توجيهه نيچرل اسباب (natural causes) سے كرنا سائنسى دنيا ميں عام طور پر رائج هوگيا اور عملاً وه ابھى تك رائج هے، اگرچه بعد كى سائنسى تحقيقات اِس توجيهه كو غير علمى ثابت كرچكى هيں۔
3۔ تيسرا نظرياتى ستون وه هے جس ميں انسانى شخصيت كى توجيهه خواهش كى بنياد پر كى جاتى هے، يعنى مبنى بر خواهش فكر (desire-based thinking) ۔ اِس نظريے كے مطابق، انسان كے اندر جو خواهش هے، وهى اس كى شخصيت كى تشكيل كرتى هے۔ گويا انسان كو اپنى خواهش پر كنٹرول كرنا نهيں هے، بلكه اس كا اتباع كرنا هے۔ اِس نظريے كا بانى سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) تھا۔ وه 1856 ميں آسٹريا (مشرقى يورپ) ميں پيدا هوا اور 1939 ميں اس كى وفات هوئي۔
4۔ چوتھا نظرياتى ستون وه هے جو كارلس ماركس (Karl Henrich Marx) كے افكار (thoughts)پر مبنى هے۔ كارل ماركس 1818 ميں جرمنى ميں پيداهوا اور 1883 ميں لندن ميں اس كى وفات هوئي۔ كارل ماركس كے پيش كرده نظرياتى ستون كو ميں اپنے الفاظ ميں، مبنى بر نظام فكر (system-based thinking)كهوں گا۔ كارل ماركس كے افكار كے تحت تاريخ ميں پهلى بار وه اجتماعى فكر پيدا هوا جس نے سماج كى تشكيل ميں نظام (system) كو بنيادى حيثيت دے دي۔ كارل ماركس كا اصل فلسفه اگرچه اب زياده تركتب خانے کی چيز بن چكا هے، ليكن مبنى بر نظام فكر اب بھى بهت سے لوگوں كے ذهن كا سرگرم حصه بنا هوا هے۔
يورپ كى نشاةِ ثانيه (Renaissance)كے بعد جو تهذيب وجود ميں آئى اور جو افكار دنيا ميں رائج هوئے، ان كے يهى چار نظرياتى ستون تھے۔ اِن چار نظرياتى ستونوں كو ايك لفظ ميں، زندگى اور كائنات كى مادى توجيهه (material interpretation) كهاجاسكتا هے۔ يه نظرياتى توجيهات موجوده زمانے ميں اتنا زياده عام هوئيں كه انھوں نے قديم الٰهياتى توجيهه (theological interpretation) كى جگه لے لي۔ موجوده زمانے ميں جو دنيا پرستانه ذهن رائج هوا، اس كا سبب يهى جديد افكار تھے۔ اِن جديد افكار كا اثر كم وبيش تمام قوموں پر پڑا، مسلم اقوام پر بھى اور غير مسلم اقوام پر بھي۔ مذكوره چار نظرياتى ستون اگرچه خالص علمى اعتبار سے، ابھى تك غير ثابت شده هيں، مگر عملى اعتبار سے ابھى تك انھيں كا رواج سارى دنيا ميں قائم هے۔
زندگی کا مقصد
11 مارچ 2006کو شام کی فلائٹ سے میں حیدر آباد سے دہلی آرہا تھا۔ میرے ساتھ سی۔پی۔ایس ٹیم کے کئی اور افراد شامل تھے۔ اِس جہاز میں ایک خاتون نیہا بٹوارا (Neha Batwara) بھی سفر کررہی تھیں۔ ہماری ٹیم کے لوگ جہاز کے اندر مسافروں کے درمیان دعوہ ورک کررہے تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مز نیہا سے بھی بات کی اور انھیں دعوتی پمفلٹ دیے۔ یہ خاتون دہلی ائر پورٹ پر اُتر کر اپنے وطن اَلور (راجستھان) چلی گئیں۔ بعد کو حیدرآباد سے ان کا ایک خط مورخہ 28 مارچ2006 بذریعے ای میل موصول ہوا۔ وہ خط حسب ذیل تھا
Respected Maulana!
I am Neha, working in an MNC for some people, it cannot be better than to get a job in top MNC just after graduation. But believe me, I am in search of a more purposeful life. That's why I am writing to you.
I met Priya Malik, Khalid Ansari and Sadia Khan on a flight to Delhi and could apparently see the difference your guidance has made to their lives.
Maulana, I know we have been created by God, and we all have a purpose here to fulfill on earth, which, if done, will be more satisfying than getting heaven after death.
The point where I am lacking is to know the purpose for which I have been sent here. I could not come to your class in Delhi, because my family was against going to some spiritual classes. You understand.
I will be grateful to you for the whole of my life if you could help me in any way. I am currently in Hyderabad.
(Neha Batwara, Software Engg. MIEL, Hyderabad)
یہ خط سادہ طورپر صرف ایک خاتون کا خط نہیں ہے، بلکہ وہ ہر رُوح کی پکار ہے۔ یہ خط گویا ہر عورت اور مرد کے دل کی ترجمانی ہے۔ ہر انسان ایک بامقصد زندگی (purposeful life) کی تلاش میں ہے۔ یہ ہر انسان کی فطرت کی آواز ہے۔ لیکن لوگ یہ چاہتے ہیں کہ یہ بامقصد زندگی ان کو پوری طرح موت سے پہلے کے دورِ حیات میں مل جائے۔ موت کے بعد کے دورِ حیات کا نہ اُن کو شعور ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اِس سلسلے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آدمی اس بامقصد زندگی کو کہاں حاصل کرناچاہتا ہے۔ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں یا خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ۔ ظاہر ہے کہ یہ مقصد اس کو خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں حاصل کرنا ہے۔ کیوں کہ خود اپنی بنائی ہوئی دنیا اُس کے لیے سِرے سے موجود ہی نہیں۔
ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات ہے کہ آدمی سب سے پہلے یہ جانے کہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا کے قوانین کیا ہیں اور اس کے بنانے والے نے کس تخلیقی منصوبے کے تحت اس کو بنایا ہے۔ کیوں کہ اس کی مطابقت کے بغیر وہ کسی بھی حال میں اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکتا۔
اگر آپ کے پاس ایک اچھی کار ہو اور اس کو آپ سڑک پر دَوڑانا چاہیں تو آپ کو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ جس ملک میںآپ اپنی گاڑی دوڑانا چاہتے ہیں وہاں لفٹ ہینڈ ڈرائیو (left-hand drive) کا اصول ہے یا رائٹ ہینڈ ڈرائیو (right-hand drive) کا۔ کامیاب سفر کے لیے اِس بات کو جاننا ضروری ہے۔ اگر آپ ایسا کریں کہ لفٹ ہینڈ ڈرائیو کے ملک میں اپنی گاڑی دائیں طرف دَوڑانے لگیں، یا رائٹ ہینڈ ڈرائیو کے ملک میں اپنی گاڑی بائیں طرف دوڑانے لگیں تو دونوں حالتوں میں آپ کامیاب سفر سے محروم رہ جائیں گے۔
یہی معاملہ زندگی کے وسیع تر سفر کا بھی ہے۔ انسان اپنی زندگی کا وسیع تر سفر کسی خلا میں یا خود اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں کرتا۔ وہ اپنا یہ سفر خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں کرتا ہے۔ اِس لیے ہر عورت اور مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کو سمجھے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ اپنے آپ کو ناکامی سے نہیں بچا سکتا۔
خود انسان کا اپنا تجربہ اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ ہر انسان کا یہ مسئلہ ہے کہ اس کو پیاس لگتی ہے۔ وہ اپنی پیاس بجھانا چاہتا ہے۔ مگر یہ ایک معلوم بات ہے کہ ہر انسان اپنی پیاس بجھانے کے لیے پانی کو استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ پانی کے سوا کسی اور چیز سے وہ اپنی ضرورت پوری نہیں کرسکتا۔ اِسی طرح انسان کو بھوک لگتی ہے۔ بھوک کے معاملے میں بھی انسان یہی کرتا ہے کہ وہ فطرت کی فراہم کردہ غذا کے ذریعے اپنی بھوک مٹائے۔ ہر انسان کو سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہر انسان آکسیجن لینے کے لیے اُسی نظام کو استعمال کرتا ہے جو اس کے باہر فطرت نے قائم کیا ہے۔ یہی تمام دوسری ضرورتوں کا معاملہ ہے۔
ٹھیک یہی معاملہ مقصدِ حیات کا بھی ہے۔ مقصدِ حیات کے معاملے میں بھی انسان کو اپنے خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کو جاننا ہے۔ اِس معاملے میں کوئی دوسرا متبادل، انسان کے لیے نہیں۔
قرآن خالقِ فطرت کی کتاب ہے۔ قرآن میں اِس سوال کا جواب اس کی سورۃ العصر میں دیاگیا ہے۔ قرآن کا یہ جواب اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ ہے
History is a witness that man is in loss, except those who follow the course of life set by the Creator.
اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ خالق نے انسان کی زندگی کو دو دَوروں میںتقسیم کیا ہے— قبل از موت دَور، اور بعد از موت دَور۔ موت سے پہلے کا دَور عمل کرنے کا دَور ہے اور موت کے بعد کا دَور عمل کا انجام پانے کا دَور۔ جو کچھ موت کے بعد ملنے والا ہے وہ موت سے پہلے نہیں مل سکتا۔ جو کچھ موت سے پہلے کرنا ہے اس کو کرنے کا موقع موت کے بعد باقی نہیں رہے گا۔
انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان لامحدود خواہشوں (unlimited desires)کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ ڈیزائر ہر ایک کو بہت محبوب ہوتی ہیں۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں کوئی ایک شخص بھی اپنی اِن خواہشوں کی تکمیل نہ کرسکا۔ مختلف انسانوں نے اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے ساری عمر محنت کیا۔ بظاہر انھوں نے بڑی بڑی کامیابی حاصل کی۔ مگرہر ایک اِس حسرت کے ساتھ مرا کہ وہ اپنی خواہشوں کی تکمیل نہ کرسکا۔ آج کی دنیا میں وہ جس خوشی کو پانا چاہتا تھا اس کو پانے میں وہ ناکام رہا۔
دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں جوڑا(pair) کا اصول قائم ہے۔ یہاں ہر چیز اپنا جوڑا رکھتی ہے۔ ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنے وجود کی تکمیل کرتی ہے۔ یہ اصول عالمی سطح پر قائم ہے۔ زمین سے لے کر اسپیس تک ہر جگہ یہی نظام رائج ہے— نگیٹیو پارٹکل کا جوڑا پازیٹیو پارٹکل، نباتات میں میل سیکس اور فی میل سیکس، حیوانات میں مؤنث حیوان اور مذکر حیوان، انسان میں عورت اور مرد، وغیرہ۔
جوڑا یا زَوجین کا نظام تمام مخلوق میں عالمی سطح پر قائم ہے۔ اِس وسیع اور کامل نظام میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ انسانی خواہشات کا ہے۔ ہر انسان خواہشات کا گہرا احساس لے کر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہر انسان اپنی اِن خواہشات کی تکمیل کیے بغیر مرجاتا ہے۔ دنیا میں خواہش ہے مگر اس کا جوڑا، تکمیلِ خواہش یہاں موجود نہیں۔
یہ سوال اس دنیا میں آنے والے ہر عورت اور مرد کا سوال ہے۔ ہر پیدا ہونے والا اِس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے سوال کا تشفی بخش جوا ب پائے وہ حسرت کے ساتھ اِس دنیا سے چلا جاتا ہے۔
امریکی مشنری بلی گرہم(Billy Graham) نے لکھا ہے کہ ایک بار اس کے پاس امریکا کے ایک عمر رسیدہ دولت مند کاارجنٹ مسیج آیا۔ بلی گراہم اپنے پروگرام کو ملتوی کرکے فوراً روانہ ہوگئے۔ وہ امریکی دولت مند کے گھر پہنچا تو اس کو ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ وہاں اس کی ملاقات امریکی دولت مند سے ہوئی۔ امریکی دولت مند نے کسی تمہید کے بغیر کہا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope. (The Secret of Happiness, by Billy Graham, p. 2)
other sourceWords of another person or source
بلی گرہم کے پاس اِس سوال کا کوئی تشفی بخش جواب نہ تھا۔ امریکی دولت مند جواب سے محرومی کا احساس لے کر مرگیا۔ خود بلی گرہم کا یہ حال ہوا کہ تازہ اطلاع کے مطابق، وہ شدید حادثے کا شکار ہو کر معذوری کی حالت میں بستر پر پڑا ہوا ہے، اور اپنے آخری انجام کے طورپر موت کا انتظار کررہا ہے۔
یہی معاملہ اِس دنیا میں ہر عورت اور مرد کا ہے۔ ہر ایک اپنی زندگی کا مقصد جاننا چاہتا ہے۔ ہر ایک، ایک پُر مسرت زندگی کی تلاش میں ہے۔ ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کو ایسی زندگی ملے جس میں اس کو پوری طرح فُل فلمینٹ(fulfillment)حاصل ہو۔ مگر ہر ایک کا انجام صرف ناکامی پر ختم ہورہا ہے۔واقعات بتاتے ہیںکہ ہر عورت اور مرد نے یہ سمجھا کہ دنیا کے مادّی سازوسامان ہی اصل ہیں۔ ہر ایک نے مادی سازوسامان اکھٹا کرکے اس کے ذریعے فل فلمینٹ کی زندگی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر کسی استثنا کے بغیر ایک شخص کو بھی مطلوب فل فلمینٹ حاصل نہ ہوسکا۔
ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اِس ناکام تجربے کو دہرایا جاتا رہے۔ اب اِس معاملے میں اصل مسئلہ نظرثانی (reassessment) کا ہے۔ اب اصل کام یہ ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچا جائے کہ دنیا کی قابلِ حصول مادّی چیزوں میں تو ثابت شدہ طورپر فل فلمینٹ کا سامان موجود نہیں۔ ایسی حالت میں پھر یہ سامان کہاں ہے۔ جب انسانی خواہش کا تسلسل جاری ہے تو یہ ماننا ہوگا کہ وہ ایک حقیقی چیز ہے، اور جب وہ ایک حقیقی چیز ہے تو یقینا اس کی تکمیل کا سامان بھی کائنات میں ہونا چاہیے۔
اِس معاملے کو سفر کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ کوئی شخص جب سفر کرتا ہے، خواہ وہ ٹرین سے سفر کرے یا ہوائی جہاز سے، اس کے سفر کے دو مرحلے ہوتے ہیں۔ ایک ، وہ جب کہ وہ حالتِ سفر میں ہوتا ہے۔ دوسرا وہ جب کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ کامیاب سفر کے لیے ضروری ہے کہ مسافر دونوں حالتوں کے فرق کو سمجھے۔ جو مسافر اِس فرق کو نہ جانے وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہوجائے گا اور غیر ضروری پریشانی میں مبتلا ہوکر اپنی عقل کھو بیٹھے گا۔
صحیح مسافر وہ ہے جو سفر کو سفر سمجھے، وہ سفر کو منزل کی حیثیت نہ دے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ سفر کے دَوران وہ سہولتیں حاصل نہیں ہوتیں جو منزل پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن ہر مسافر اِس کو گوارا کرتا ہے۔ کیوںکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ سفر کی حالت ایک وقتی حالت ہے۔ آخر کار اس کا سفر ختم ہوگا اور وہ اپنی مطلوب منزل پر پہنچ جائے گا۔ منزل پر پہنچنے کے بعد اس کو وہ سب کچھ مل جائے گا جس کو وہ چاہتا تھا لیکن سفر کے دَوران وہ اُن کو حاصل نہ کرسکا۔
ہماری موجودہ زندگی بے حد مختصر مدت کے لیے ہوتی ہے۔ اس کا مختصر مدت کے لیے ہونا خود اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دَورانِ سفر کی حالت ہے، وہ منزل پر پہنچنے سے پہلے کا لمحہ ہے۔ اِس بنا پر یہ ممکن نہیں کہ موجودہ مختصر زندگی میں ہم وہ تمام چیزیں پالیں جن کو ہم پانا چاہتے ہیں۔ یہ چیزیں بلا شبہ ہم کو ملیں گی لیکن وہ منزل پر پہنچ کر ملیں گی، سفر کے درمیانی مرحلے میں وہ ہرگز ہم کو ملنے والی نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، ہماری زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے— موت سے پہلے کا مرحلہ اور موت کے بعد کا مرحلہ۔ موت سے پہلے کا مرحلہ گویا حالتِ سفر کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ گویا منزل پر پہنچنے کا مرحلہ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ہر انسان کی زندگی کو بامعنیٰ بناتی ہے، جو ہر عورت اور مرد کو اُس مقصد سے متعارف کرتی ہے جو اس کی زندگی کو پوری طرح بامعنیٰ بنادے جو اس کو اطمینان کا سرمایہ عطا کرے۔
زندگی کی یہ توجیہ اِس سوال سے جُڑی ہوئی ہے کہ موت کے بعد دوبارہ انسان زندہ ہوتا ہے۔ کیا موت کے بعد بھی اسی طرح زندگی ہے جس طرح موت سے پہلے ہم زندگی کا تجربہ کررہے ہیں۔ اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ اِس سوال کا جواب ہم عین اُسی سائنسی طریقے کے ذریعے جان سکتے ہیں جس سائنسی طریقے سے دوسری حقیقتوں کو جانا جاتا ہے۔
حقیقتوں کو جاننے کے معاملے میں سائنٹفک متھڈ کیا ہے۔ وہ یہ نہیں ہے کہ جس بات کو جاننا ہے وہ اپنی کامل صورت میں سائنس داں کے سامنے آجائے۔ اگر یہ شرط ہوتو ساری حقیقتیں سائنسی طورپر غیر معلوم رہ جائیں ۔ علم کی ترقی رُک جائے۔ حقائق کی نسبت سے انسان ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں پڑا رہے۔ کیوں کہ کوئی بھی حقیقت اِس طرح علم میں نہیں آتی کہ وہ پہاڑ کی طرح مشہود چیز کے طور پر سامنے آجائے۔
اِس کے بجائے جو ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مطالعے کہ دَوران سائنس داں کے سامنے ایک سُراغ (clue) آتا ہے۔ اِس سُراغ پر غور کرکے وہ ایک ایسی حقیقت تک پہنچتا ہے جو پہلے اس کو معلوم نہ تھی۔ اِس دنیا میں ہر حقیقت سراغ کی سطح پر دریافت ہوتی ہے۔ اِس دنیا میں سراغ ہی تمام حقیقتوں کی دریافت کی کنجی ہے۔
مثلاً سائنس میں اِس کو بطور حقیقت مان لیا گیا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے بِگ بینگ کا واقعہ پیش آیا۔ اِسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ زمین پر حیاتیاتی ارتقا کا واقعہ ہوا۔ اسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے، وغیرہ۔
اِس قسم کی حقیقتیں جو آج مسلّم حقیقت بن چکی ہیں وہ اِس طرح حقیقت نہیں بنیں کہ انسان نے اس کو مشاہداتی سطح پر دیکھ لیا۔ اِس کے بجائے جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ ایک سراغ انسان کے علم میںآیا۔ پھر اِس سراغ پر غور کرکے انسانی علم ایک بڑی حقیقت تک پہنچا۔ یہ بڑی حقیقت اگر چہ دکھائی نہیں دے رہی تھی مگر وہ موجود تھی۔ اس کی موجودگی کو بطور ایک واقعہ کے تسلیم کرلیا گیا۔ اگر چہ اِس سلسلے میں سُراغ کے سوا کوئی اور چیز انسان کے مشاہدے میں نہیں آئی تھی۔
یہی معاملہ موت کے بعد زندگی کا یا اگلے دَورِ حیات کا ہے۔ اگلے دَور حیات کے بارے میں بھی واضح سُراغ (clue) موجود ہیں۔ سراغ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو وہ ہمیں اِس یقین تک پہنچاتے ہیں کہ موت کے بعد بھی زندگی ہے۔ موت کے بعد بھی اِسی طرح ایک اور مرحلۂ حیات ہے جو لازمی طورپر ہر ایک کے سامنے پیش آئے گا۔
وہ سر اغ کیا ہے۔ مثلاً انسان کا جسم بے شمار خلیوں(cells) پر مبنی ہے۔ یہ خلیّے ہر وقت ٹوٹتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا نظامِ ہضم یہ کام کرتا ہے کہ جو کچھ ہم کھاتے ہیں وہ خلیّوں کی صورت اختیارکر لیتا ہے۔ ہمارا نظام ہضم گویا خلیہ ساز فیکٹری ہے۔ اِس نظام کے تحت یہ ہوتا ہے کہ عملاً تقریباً ہر دس سال میں ہمار ا پورا جسم بدل جاتا ہے۔ نیے خلیوں کے ساتھ مکمل طورپر ایک نیا جسم وجود میں آجاتا ہے۔
گویا کہ ہمارے جسم پر بار بار ’’موت‘‘ طاری ہوتی رہتی ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا ذہنی وجود نہیںمرا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ذہنی وجود ہی انسان کا اصل وجود ہے۔ یہ ذہنی وجو بظاہر جسمانی موت کے باوجود یکساں طورپر باقی رہتا ہے۔ یہ ایک سراغ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے۔ اس کے ابدی وجود کا تھوڑا سا حصہ قبل ازموت مرحلۂ حیات میں ہے، اور اس کا بقیہ پورا حصہ بعد ازموت مرحلۂ حیات میں۔
اِسی طرح اِس معاملے کا ایک سُراغ یہ ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طورپر عدل (justice) کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان اپنے فطری ذہن کے تحت، یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عدل قائم ہو۔ یعنی اچھا عمل کرنے والوں کو اچھا انجام ملے اور بُرا عمل کرنے والوں کو بُرا انجام ملے۔ اِس سراغ کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو انسانی ذہن اِس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ موجودہ مرحلۂ حیات چوں کہ اپنی مدت کے اعتبار سے نہایت ناکافی ہے اس لیے بعد کے مرحلۂ حیات میںعدل کے تقاضے کی تکمیل ہو۔ بعد کے مرحلۂ حیات میں ہر انسان کو اس کے کیے کے مطابق، جزا یا سزا ملے۔
اِسی طرح اِس معاملے کا ایک سراغ یہ ہے کہ انسان پیدائشی طورپر معیاری دنیا (perfect world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا کی محدودیت (limitations)کی بنا پر یہاں مطلوب معیاری دنیا بن نہیں پاتی۔ اِس سراغ پر غور کرتے ہوئے انسانی ذہن اِس دریافت تک پہنچتا ہے کہ جو معیاری دنیا قبل ازموت مرحلۂ حیات میں محدود حالات کی بنا پر حاصل نہ ہوسکی وہ بعد از موت مرحلۂ حیات میں اپنی مطلو ب معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔
اِسی طرح اِس معاملے میں ایک سراغ یہ ہے کہ انسان استثنائی طورپر ایک ایسی مخلوق ہے جو کَل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ کسی بھی دوسرے حیوان یا غیر حیوان کے اندر کل کا تصور موجود نہیں۔ اِس سراغ کو لے کر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو تی ہے کہ موجودہ محدود حالات میں آدمی اپنی جس مطلوب دنیا کو نہیں پاتا اس کو وہ موت کے بعد آنے والے لا محدود مرحلۂ حیات میں پالے گا۔ یہ دنیا وہ ہوگی جہاں آدمی اپنے لیے پوری طرح فُل فلمینٹ کا تجربہ کرسکے گا۔
موت کے بعد معیاری دنیا بننا ویسا ہی ایک ثابت شدہ واقعہ ہے جیسا کہ دوسرے ثابت شدہ واقعات۔ تاہم مستقبل کی اِس معیاری دنیا میںہر ایک کو خود بخود جگہ نہیں مل جائے گی بلکہ صرف وہ عورت اور مرد اِس معیاری دنیا میں جگہ پائیں گے جو موت کے پہلے کی اِس دنیا میں اس کا استحقاق ثابت کرسکیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ ہر انعام مستحقین کو ملتا ہے۔ غیر مستحقین کے لیے کبھی کوئی بڑا انعام مقدر نہیں ہوتا۔
سوال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اپنے آپ کو اس معیاری دنیا کا مستحق بنانے کا فارمولا کیا ہے۔ وہ فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنے روح کی تطہیر (purification of soul) ۔
جو آدمی مستقبل کی اس معیاری دنیا میں اپنے لیے جگہ حاصل کرنا چاہتا ہو اس کو آج کی اِس دنیا میں یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے دکھائی دینے والی دنیا (seen world) میں نہ دکھائی دینے والی دنیا (unseen world) کو اپنی بصیرت سے جانا۔ اس نے کنفیوژن کے جنگل میں سچائی کو دریافت کیا۔ اس نے منفی تجربات کے ماحول میں اپنے آپ کو مثبت رویّے پر قائم رکھا۔ اس نے اپنے آپ کو حیوانی سطح سے اوپر اٹھایا اور انسانیت کی اعلیٰ سطح پر کھڑا کیا۔ اس نے اپنے آپ کو بے اعترافی، بددیانتی، سرکشی، خود غرضی، خواہش پرستی اور انانیت جیسی پست صفات سے بچایا۔ جو پورے دل اور جان کے ساتھ جنت کا طالب بنا۔ خلاصہ یہ کہ جس نے خدا رُخی زندگی (God-oriented life) کو پوری طرح اختیار کیا۔
یہ صفات رکھنے والے عورت اور مرد خلاصہ ٔ انسانیت ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جومستقبل کی معیاری دنیا میںبسائے جانے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ جو لوگ اس معیارپر پورے نہ اتریں ان کو رد کرکے کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا۔ جہاں وہ ہمیشہ کے لیے حسرت کی زندگی گزاریں گے۔ وہ کبھی اِس ذلّت اور حسرت کی زندگی سے نجات نہ پاسکیں گے۔
انسان کی کہانی
حیوانات کے لیے زندگی صرف ایک بار ہے مگر انسان کے لیے استثنائی طورپر زندگی دوبار ہوتی ہے۔ ہر انسان اصلاً ابدی حیات کا مالک ہے۔ اِس ابدی زندگی کا بہت مختصر حصہ قبل ازموت دورِ حیات میں ہے۔ اور اس کا بقیہ تمام حصہ بعد از موت دورِ حیات میں۔
کائنات کی دوسری چیزیں قانون فطرت کے ماتحت ہیں۔ یہاں کی ہر چیز جبری طورپر وہی کرتی ہے جو اس کے لیے قانونِ فطرت کے تحت مقدر کردیا گیا ہے۔ لیکن انسان کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ انسان استثنائی طورپر ایک آزاد مخلوق ہے۔ وہ اپنا مستقبل خود اپنے آزاد ارادے کے تحت بناتا ہے۔ وہ اپنی آزادی کا یا تو صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط استعمال۔ وہ اپنے مواقع کو یا تو پاتا ہے یا اس کو نادانی کے ساتھ کھو دیتا ہے۔
اس حقیقت کو قرآن میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ قرآن کی سورۃ التين میں خدا نے یہ اعلان کیا ہے کہ— ہم نے انسان کو بہترین بناوٹ کے ساتھ پیدا کیا ۔ پھر اس کو سب سے نیچے درجے میں پھینک دیا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
We created man in the best mould, then we cast him down to the lowest of the low. (95:4-5)
Qur'anQuotes the Qur'an
یہ گویا انسان کے لیے ایک وارننگ ہے جو اس کو اس کے حال اور اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اعلیٰ امکانات کے ساتھ پیدا کیا، مگر انسان اپنے امکانات کا کم تر استعمال کرکے اپنے آپ کو بدترین ناکامی میں ڈال دیتا ہے
God created man with great potential, but by under۔utilizing his potential he makes himself a worst case of failure.
انسان کی شخصیت ایک دوہری شخصیت ہے— جسم اور روح (یا ذہن)۔سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ جہاں تک انسان کے جسم کا تعلق ہے، وہ غیر ابدی ہے۔ جب کہ انسان کی روح ایک ابدی وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان کی روح ایک غیرمادّی حقیقت ہے۔ وہ مادّی قوانین سے بالا تر ہے۔ جب کہ انسان کا جسم مادی قوانین کے ماتحت ہے اور مسلسل طورپر فنا پذیر ہے۔
حیاتیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کا جسم بہت چھوٹے چھوٹے خلیوں (cells) سے بنا ہے۔ یہ خلیے ہر لمحہ ہزاروں کی تعداد میں ٹوٹتے رہتے ہیں۔ انسان کا نظامِ ہضم گویا ایک خلیہ ساز فیکٹری ہے۔ یہ فیکٹری مسلسل طورپر خلیّات کی سپلائی کرتی رہتی ہے۔ اِس طرح جسم اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے۔ یہ عمل اِس طرح ہوتا ہے کہ ہر چند سال کے بعد آدمی کا جسم بالکل ایک نیا جسم بن جاتا ہے۔ لیکن اس کا روحانی وجود کسی تبدیلی کے بغیر اسی طرح باقی رہتا ہے۔ چنانچہ کہاگیا ہے کہ انسان کی شخصیت تغیر کے درمیان عدم تغیر کا نام ہے
Personality is changelessness in change.
انسان کی ناکامی کا پہلا مظہر یہ ہے کہ وہ اپنی شخصیت کے غیر متغیر حصے کو نظر انداز کرتا ہے، اور اپنی شخصیت کے تغیر پذیر حصے کو اچھا بنانے میں لگا رہتا ہے۔ وہ اپنی ساری توجہ فانی انسان کی بہتری میں لگا دیتا ہے، اور ابدی انسان کی بہتری کے لیے وہ نہ کچھ سوچتا ہے اور نہ کچھ کرتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک محدود مدت گزار کر جب وہ مرتا ہے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کا فانی وجود اپنی تمام ظاہری ترقیوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے مٹ جاتا ہے اور اس کا ابدی وجود ترقیات سے محروم حالت میں زندگی بعد موت کے مرحلے میں داخل ہوجاتا ہے۔
یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں انسان کی ناکامی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ بلاشبہ بدترین ناکامی ہے کہ انسان انتہائی اعلیٰ امکانات (potentials) کے ساتھ پیدا کیا جائے مگر وہ اپنے امکانات کو صرف ناقص طورپر استعمال کرے اور اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے اپنے اِس عدم استعمال کی قیمت دینے کے لیے اپنے ابدی دورِ حیات میں داخل ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان استثنائی طورپر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تصوّراتی فکر (conceptual thought) انسان کی ایک ایسی صفت ہے جو وسیع کائنات کی کسی بھی چیزمیں نہیں پائی جاتی۔ حتی کہ حیوانات میں بھی نہیں۔ اِسی لیے کہا گیا ہے کہ انسان ایک سوچنے والا حیوان ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Man is a thinking animal.
اِس اعتبار سے دیکھیے تو انسان کی شخصیت دو چیزوں پر مشتمل ہے— غیر تفکیری جسم، اور تفکیری روح۔ جو لوگ اپنے امکانات کو محدود طورپر صرف مادّی دائرے میں استعمال کریں وہ گویا اپنے وجود کے غیر تفکیری حصے کی تو خوب تزئین کررہے ہیں لیکن اپنے وجود کے تفکیری حصے کی ترقی کے لیے وہ کچھ نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ موت سے پہلے کی اپنی تمام عمر جسمانی ترقی (physical development) میں صرف کردیتے ہیں،اور جہاں تک ذہنی ترقی (intellectual development) کی بات ہے وہ اس کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں پر جب موت آتی ہے تو اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اُسی طرح مرجاتے ہیں جس طرح کوئی حیوان مرتا ہے، یعنی اپنے جسم کو خوب فربہ بنانا، اور اگلے دورِ حیات میں اِس طرح داخل ہونا کہ ان کا ذہن تمام ترقیوں سے محروم ہو اور اگلے دورِ حیات میں طویل حسرت کے سوا کچھ اور ان کے حصے میں نہ آئے۔
اِسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر کل(tomorrow) کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کائنات کی تمام چیزیں، بشمول حیوانات، صرف اپنے آج (today) میں جیتے ہیں۔ یہ صرف انسان ہے جو کل کا شعور رکھتا ہے، اور کل کو نشانہ بنا کر اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ گویا کہ بقیہ چیزیں صرف حال (present) میںجیتی ہیں اور انسان استثنائی طورپر مستقبل (future) میں ۔
قرآن کے بیان کے مطابق، وہ لوگ بدترین محرومی کا شکار ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو صرف آج کی چیزوں کے حصول میں لگا دیں اور اپنے کل کی تعمیر کے لیے وہ کچھ نہ کریں۔ ایسے لوگ موت سے پہلے کی زندگی میں بظاہر خوش نما دکھائی دے سکتے ہیں لیکن موت کے بعد کی زندگی میں وہ محرومی کی بدترین مثال بن جائیں گے۔ کیوں کہ موت کے بعد کی زندگی میں جو چیز کام آنے والی ہے وہ ذہنی اور روحانی ترقی ہے نہ کہ دنیوی مفہوم میں مادّی ترقی۔
اِسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر لامحدود خواہشیں رکھتا ہے۔ اِسی کے ساتھ ہر انسان کے اندر لامحدود صلاحیتیں پائی جاتی ہیں جن کو استعمال کرکے وہ لامحدود حد تک اپنی خواہشوں کی تکمیل کرے، مگر ہر انسان کا یہ انجام ہوتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا صرف اتنا استعمال کرپاتا ہے جو اس کو موت سے پہلے کی محدود دنیا میں کچھ وقتی راحت دے سکے۔ مگر آخر کار ہر انسان کا یہ انجام ہوتا ہے کہ وہ اپنی اِن تمام صلاحیتوں کو لیے ہوئے موت کے بعد والی ابدی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے جہاں وہ ابدی طور پر بے راحت زندگی گزارے، کیوں کہ اُس نے اِس دوسرے دورِ حیات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال ہی نہیں کیا تھا۔
ایسی حالت میں انسان کے لیے حقیقت پسندانہ طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اِس طرح کرے کہ اس کی فطری صلاحیتیں بھر پور طورپر اس کے ابدی مستقبل کی تعمیر میں استعمال ہوں۔ وہ اپنے امکانات (potentials) کو سمجھے اور اُن کو اِس طرح استعمال کرے کہ وہ اپنے ابدی دورِ حیات میں ان کا مفید نتیجہ پاسکے۔ وہ اپنے آپ کو اِس بُرے انجام سے بچائے کہ آخر میں اس کے پاس صرف یہ کہنے کے لیے باقی رہے کہ میں اپنے امکانات کو استعمال کرنے سے محروم رہا
I was a case of missed opportunities.
انسان کے لیے حقیقت پر مبنی منصوبہ بندی یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے کے دورِ حیات میں مادی چیزوں کے معاملے میں صرف ضرورت (need) پر قناعت کرے، اور اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کا بیش تر حصہ اِس پر خرچ کرے کہ وہ موت کے بعد کی زندگی میں ایک مُطہَّر شخصیت (purified personality) کے ساتھ داخل ہو۔ تاکہ اس کو ابدی دورِ حیات کی معیاری دنیا (perfect world) میں عزت اور راحت کی مطلوب زندگی مل سکے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ موت سے پہلے کے دورِ حیات اور موت کے بعد کے دورِ حیات دونوں میں کامیابی کا اصول صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو تیّار شخصیت (prepared personality) بنانا۔ مادّی معنوں میں تیار شخصیت موت سے پہلے کے دورِ حیات میں ترقی کا ذریعہ بنتی ہے، اور روحانی معنوں میں تیار شخصیت اُس دورِ حیات میں کام آئے گی جہاں موت کے بعد آدمی کو رہنا ہے۔
مادی معنوں میں تیار شخصیت یہ ہے کہ آدمی پروفیشنل ایجوکیشن حاصل کرے۔ آدمی کے اندر تجارتی صلاحیت ہو۔ آدمی کے اندر وہ صفات ہوں جن کے ذریعے کوئی شخص لوگوں کے درمیان مقبول ہوتا ہے۔ آدمی قریبی مفاد(immediate gain) کو آخری حد تک اہمیت دیتا ہو، وغیرہ۔
موت کے بعد کے دورِ حیات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جو تیار شخصیت درکار ہے وہ ایسی شخصیت ہے جس نے موجودہ دنیا کے مواقع کو روحانی ارتقا (spiritual development) اور فکری ارتقا (intellectual development) کے لیے استعمال کیا۔ ایسی ہی شخصیت موت کے بعد کے دورِ حیات میں باقیمت ٹھہرے گی۔
یہ شخصیت وہ ہے جس نے اپنی عقل کو استعمال کرکے سچائی کو دریافت کیا۔ جو شبہات کے جنگل میں یقین پر کھڑا ہوا۔ جس نے خدا کو اپنی زندگی کا واحد کنسرن بنایا۔ جس نے خود پسندی کے جذبات کو کچل کرخدا پرستی کے طریقے کو اختیار کیا۔ جو منفی حالات میں مثبت سوچ پر قائم رہا۔ جس نے نفسانی انسان بننے کے بجائے ربّانی انسان ہونے کا ثبوت دیا۔جس نے مفاد پرستی کے بجائے اصول پسندی کا طریقہ اختیار کیا۔ جس نے اپنے آپ کو نفرت سے بچایا اور اپنے اندر انسانی خیر خواہی کے جذبات کی پرورش کی۔ جس نے آزادی کے باوجود اطاعت(submission) کا طریقہ اختیار کیا۔
دیوارِ قہقہہ
The Story of the Wall of Laughter
ایک پُرانا قصہ ہے کہ کسی مقام پر ایک مضبوط دیوار تھی۔ یہ دیوار بہت اونچی تھی۔ اِسی کے ساتھ وہ دونوں طرف بہت زیادہ دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ دیوار کے اِس طرف رہنے والوں کو کچھ بھی معلوم نہ تھا کہ دیوار کے دوسری طرف کیا ہے، اور کس قسم کے لوگ اُدھر رہتے ہیں۔ دیوار کے اِس طرف جو لوگ رہتے تھے، انھوں نے یہ چاہا کہ دیوار کے دوسری طرف کا حال معلوم کریں۔
اِس مقصد کے لیے انھوں نے ایک بہت لمبی سیڑھی بنائی، پھر انھوں نے اُس سیڑھی کو دیوار کے ایک طرف کھڑا کیا اور اپنے ایک آدمی کو سیڑھی پر چڑھایا، تاکہ وہ دیوار کے اوپر تک جائے اور وہاں سے دیکھے کہ دیوار کے دوسری طرف کیا ہے۔ اِس مشاہدے کے بعد وہ نیچے آکر دیوار کے اِ س طرف رہنے والوں کو دیوار کے دوسری طرف کا حال بتائے۔ لیکن جب یہ آدمی لمبی سیڑھی پر چڑھ کر دیوار کے اوپر پہنچا تو دوسری طرف کی دنیا اُس کو اتنی زیادہ خوب صورت معلوم ہوئی کہ وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور قہقہہ لگا کر دیوار کے دوسری طرف کود پڑا۔
اِس کے بعد دیوار کے اِس طرف رہنے والوں نے اپنے ایک اور آدمی کو تیار کیا اور اس کو لمبی سیڑھی کے اوپر چڑھایا، لیکن دوبارہ یہی ہوا کہ جب وہ آدمی دیوار کے اوپرپہنچا تو قہقہہ لگا کر وہ دوسری طرف کود پڑا۔ یہ تجربہ بار بار کیا جاتا رہا، لیکن ہر بار یہی ہوا کہ اوپر چڑھنے والے آدمی کو دوسری طرف کا منظر اتنا پُر کشش نظر آیا کہ وہ قہقہہ لگا کر دیوار کے دوسری طرف کود پڑا۔ اِس طرح دیوار کے اِس طرف رہنے والوں کے لیے دیوار کے دوسری طرف کا حال بدستور نامعلوم بنا رہا۔
اِس افسانوی دیوار کو اگر موت کی دیوار مانا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ انسان کی زندگی کا ایک حصہ دیوار کے اِس طرف ہے، اور اس کا دوسرا حصہ دیوار کے دوسری طرف۔ دیوار کے دوسری طرف خوشیوں کی دنیا، یا دوسرے لفظوں میں، جنت کی دنیا بسی ہوئی ہے اور دیوار کے اِس طرف محنت اور مشقت کی دنیا ہے، تو یہ کہانی انسانی تاریخ کے اوپر مکمل طورپر صادق آئے گی۔ یہ تمثیلی کہانی گویا کہ پوری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔
انسان پیدائشی طورپر اپنے لیے خوشیوں کی ایک زندگی چاہتا ہے۔ اِس اعتبار سے انسان کو متلاشی ٔ مسرت حیوان (joy-seeking animal) کہاجاسکتا ہے۔ قدیم انسان نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی زندگی مختلف قسم کے غم سے بھری ہوئی ہے، تو اس نے اپنے لیے ایک پُر مسرت زندگی کی تلاش شروع کردی۔ اِس تلاش کا غالباً پہلا نمایاں واقعہ پہیہ (wheel) کی دریافت تھی۔ پہیے کی دریافت کے بعد تلاشِ مسرت کا یہ انسانی سفر شروع ہوگیا۔ اِس سفر کو ایک متعین نام دینا ہو تو اُس کو تہذیب (civilization) کا سفر کہاجاسکتا ہے۔تہذیب کا یہ سفر چلتا رہا۔ لمبی مدت کے بعد آخر کار یہ سفر جدید تہذیب (modern civilization) کے دَور تک پہنچ گیا۔ اب اُس کو تیز رفتار سفر کے لیے مشین کی طاقت حاصل ہوگئی۔ جدید کمیونی کیشن کا زمانہ آیا اور جسمانی سفر کے بغیر انسان کی آواز اور اس کی متحرک تصویر بعید ترین مسافت تک پہنچنے لگی۔ جدید انڈسٹری نے کنزیومرازم (consumerism)کا دور پیدا کیا، جب کہ راحت اور آسائش کی تمام چیزیں غلّے اور سبزی کی طرح بازار میں بکنے لگیں، وغیرہ۔
اِس طرح انسانی تہذیب کا میابی کے ساتھ لمبا سفر طے کرتے ہوئے آخر کار اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ گئی، لیکن اِس آخری منزل پر پہنچ کر انسان کے لیے ایک نیا شدید تر مسئلہ پیدا ہوگیا۔ اب یہ ہوا کہ دیوارِ قہقہہ (laughter wall) اُن کے لیے ایک نئی قسم کی دیوارِ گریہ (wailing wall) بن گئی۔ اب معلوم ہوا کہ انسان نے لمبی جدوجہد کے بعد جو دنیا اپنے لیے بنائی تھی، وہ انسان کے لیے خوشیوں کی دنیا نہ تھی، بلکہ وہ صرف نئی ناقابلِ عبور مصیبتوں کی ایک دنیا تھی۔ چنانچہ اکیسویں صدی میں انسانی تہذیب ایک بندگلی (blind alley) تک پہنچ کر انسانی تاریخ کے خاتمہ (end of history) کے ہم معنیٰ بن گئی۔
ایسا کیوں ہوا۔ اِس کا سبب بنیادی طورپر صرف ایک ہے،وہ یہ کہ خوشیوں کی ایک دنیا بنانے کے لیے ایک مکمل انڈسٹری درکار ہے۔انسان نے لمبی جدوجہد کے بعد ایک ایسی انڈسٹری تیار کی، لیکن جب یہ انڈسٹری تیار ہوگئی تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ انڈسٹری ایک نیا ناقابلِ عبور مسئلہ لے کر آئی ہے۔ یہ مسئلہ فضائی کثافت (air pollution)کا مسئلہ ہے، جو کہ انسانی انڈسٹری کے ساتھ لازمی طور پر جُڑا ہوا ہے۔ ہم کو اپنی مطلوب راحتوں کی دنیا بنانے کے لیے بے کثافت انڈسٹری (pollution-free industry) درکار ہے، اور بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانا انسان کے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اِس طرح کثافت کے مسئلے نے عملی طورپر تہذیب کے تمام ثَمرات (achievements)کی نفی کردی ہے۔
ایک طرف، اپنی مطلوب دنیا بنانے کے لیے انسان کے عجز کا یہ معاملہ ہے اور دوسری طرف، اِسی دنیا میں یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ یہاں ایک بے کثافت انڈسٹری عملاً ہزاروں سال سے مکمل طورپر قائم ہے۔ یہ فطرت (nature) کی انڈسٹری ہے۔ تہذیب ، بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانے میںمکمل طورپر ناکام رہی، لیکن اِسی دنیا میں فطرت (nature) ایک مکمل قسم کی بے کثافت انڈسٹری بہت بڑے پیمانے پر بالفعل(in action) قائم کیے ہوئے ہے۔
موجودہ سیارۂ زمین جس پر انسان رہتا ہے، وہ مسلسل طورپر گردش میں ہے۔ وہ اپنے محور (axis) پر ایک ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے گھوم رہا ہے۔ اِسی کے ساتھ وسیع خلا میں سورج کے گرد وہ اپنے مدار (orbit) پر 19 کروڑ میل کا لمبا سفر طے کرتاہے، پہلا سفر 24 گھنٹے میں پورا ہوتاہے اور دوسرا سفر ایک سال میں۔ سیارۂ زمین کا یہ دو طرفہ تیز رفتار سفر مسلسل طورپر جاری ہے، لیکن یہاں نہ کوئی شور (noise) ہے اور نہ کسی قسم کی کثافت (pollution) ۔
سورج آگ اور انرجی کا بہت بڑا بھنڈار ہے۔ وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اُس سے 12 لاکھ زمینیں بن سکتی ہیں۔ وہ زمین سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور رہتے ہوئے مسلسل طورپر ہم کو روشنی اور حرارت بھیج رہا ہے، لیکن دوبارہ یہاں کسی قسم کی کوئی کثافت (pollution) مطلق موجود نہیں۔ اِسی طرح نیچر میں ایک اور انڈسٹری ہے۔ یہ درختوں اور پودوں کی صورت میں قائم ہے۔ یہ انڈسٹری ایک نہایت پیچیدہ نظام کے تحت، انسان کو مسلسل طورپر صحت بخش آکسیجن سپلائی کررہی ہے۔ اِسی کے ساتھ وہ ہماری سانس سے نکلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر جذب کررہی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم انڈسٹری ہے، لیکن یہ انڈسٹری بھی شور اور کثافت جیسی نامطلوب چیزوں سے مکمل طورپر پاک ہے۔
اِسی طرح پانی کو دیکھیے۔ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ بڑے بڑے سمندروں کی صورت میں ہماری زمین پر موجود ہے۔ اِس ذخیرے میں تحفظّاتی مادّہ (preservative) کے طورپر تقریباً 10 فی صد نمک ملا ہوا ہے۔ اِس بنا پر وہ براہِ راست طورپر انسان کے لیے قابلِ استعمال نہیں۔ یہاں بارش کی صورت میں ایک عظیم آفاقی عمل جاری ہے، جس کو ازالۂ نمک (desalination) کا عمل کہا جاتا ہے۔ یہ بھی ناقابلِ بیان حد تک ایک عظیم انڈسٹری ہے، لیکن یہ انڈسٹری کسی قسم کی کوئی کثافت پیدا نہیں کرتی۔
یہی معاملہ انسانی خوراک کا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ خوراک غلّہ اور سبزی اور پھل اور دودھ اور مچھلی اور گوشت، وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ تمام خوراک بھی مسلسل طور پر انسان کے لیے وجود میں لائی جارہی ہے۔ یہ عمل بھی ایک عظیم انڈسٹری کے ذریعے انجام پاتا ہے، لیکن یہاں بھی انسانی صنعتوں کی مانند کوئی کثافت پیدا نہیں ہوتی۔
یہ دو مختلف قسم کے تجربے ہیں۔ ایک، انسانی تہذیب کی انڈسٹری اور دوسرے، ڈوائن نیچر کی انڈسٹری۔ انسانی تہذیب کی انڈسٹری ہمارے لیے خوشیوں اور راحتوں کی دنیا بنانے میں ناکام ہے۔ وہ راحت کے سامان وجود میں لانے کی کوشش میں مصیبتوں کا ایک نیا جنگل اُگا دیتی ہے۔ دوسری طرف، عین اُسی وقت، ڈوائن نیچر کی انڈسٹری راحت کے تمام سامان پیدا کررہی ہے، لیکن وہ مکمل طورپر ایک بے کثافت انڈسٹری ہے، نہ کہ انسانی انڈسٹری کی طرح پُرکثافت انڈسٹری۔
اب اگر قدیم کہانی کے مطابق، دیوار کو موت کی دیوار قرار دیاجائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اِس دیوار کے ایک طرف دنیائے گریہ (wailing world) ہے، اور اِس دیوار کے دوسری طرف دنیائے قہقہہ (laughter world)ہے۔ اکیسویں صدی میں پہنچ کر تہذیبِ انسانی کی ناکامی ہمیں ایک نیاپُرامید سبق دے رہی ہے، وہ یہ کہ ہم ’’دیوار‘‘ کے اِس طرف ناکام طورپر اپنی دنیائے قہقہہ بنانے کی کوشش نہ کریں، بلکہ ’’دیوار‘‘ کے دوسری طرف کی ’’دنیائے قہقہہ‘‘ میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں، جو کہ بَروقت ہی ڈوائن نظام کے تحت ’’دیوار‘‘ کے دوسری طرف موجود ہے۔
جنت اور انسان
غالباً 1998 کی بات ہے، ڈاکٹر مہیش چندر شرما نے مجھے دہلی کے ایک سینئر اسکالر سے ملایا۔ یہ پروفیسر نونہال سنگھ (پیدائش 1923) تھے۔ امریکا سے رٹائر ہو کر آنے کے بعد یہاں ان کو راجیہ سبھا کا ممبر (1992-1998) بنادیا گیا تھا۔ اُن کا گھر ایک کتب خانہ معلوم ہوتا تھا۔ اُس میں ہرطرف لکھنے پڑھنے کا ماحول تھا۔ وہ پورے معنوں میں ایک اسکالر دکھائی دیتے تھے۔
ملاقات کے وقت انھوں نے بتایا کہ پولٹکل سائنس میں انھوں نے ایم اے کیا تھا۔ اِس کے بعد انھوں نے انٹرنیشنل رلیشنس (international relations) کے سبجیکٹ پر ڈاکٹریٹ کیا۔ اُس زمانے میں امریکا کی ایک یونی ورسٹی کو اپنے لیے اِس موضوع پر ایک پروفیسر کی ضرورت تھی۔ اُس کا اشتہار دیکھ کر پروفیسر سنگھ نے اس کے لیے اپنی درخواست بھیج دی۔ جلد ہی انھیں یونی ورسٹی کی طرف سے ایک لیٹر ملا، اِس میں انھیں انٹرویو کے لیے امریکا بلایا گیا تھا۔
وہ امریکا پہنچے تو ائر پورٹ پر ایک صاحب اُن سے ملے۔ اُنھوں نے کہا کہ میں یونی ورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا ہوں، تاکہ یہاں میں آپ کو گائڈ کروں۔ اِس کے بعد اُس آدمی نے پروفیسر سنگھ کو اپنی گاڑی پر بٹھایا اور اُن کو لے کر یونی ورسٹی پہنچا۔ یونی ورسٹی میں پروفیسر سنگھ کو وہاں کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھیرایا گیا۔
اِس کے بعد وہ آدمی روزانہ پروفیسر سنگھ کے پاس آتا اور ان کو لے کر صبح سے شام تک یونی ورسٹی کے وسیع کیمپس میں گھماتا رہتا۔ اِس طرح وہ آدمی پروفیسر سنگھ کو یونی ورسٹی کے ہر شعبے میں لے گیا اور یونی ورسٹی کی ہر سرگرمی میںانھیں شامل کیا۔ مثلاً لائبریری، ڈائننگ ہال، کلاس روم ، ٹیچرس کلب، اسٹوڈنٹس میٹنگ، یونی ورسٹی ورکرس، وغیرہ۔
اِس طرح ایک ہفتہ گزر گیا۔ پروفیسر سنگھ کو تشویش ہوئی۔ انھوں نے اپنے ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین سے کہا کہ میں ایک ہفتے سے یہاں ہوں۔ مجھے انٹرویو کے لیے بلایا گیا تھا، لیکن اب تک میرا انٹرویو نہیں ہوا۔ چیئر مین نے کہا کہ آپ کا انٹرویو ہوچکا ہے۔ ہم نے آپ کا سلیکشن کرلیا ہے، اور اب آپ کل سے ہمارے یہاں جوائن کرلیجیے۔ اِس کے بعد چیئر مین نے بتایا کہ ائر پورٹ پر ہمارا جو آدمی آپ سے ملا تھا، وہ یہاں کا سینئر پروفیسر تھا۔ اور وہی آپ کا انٹرویور بھی تھا۔
چیئرمین نے کہا کہ آپ کے بھیجے ہوئے کاغذات کو دیکھنے کے بعد ہم نے جان لیا تھا کہ جہاں تک تعلیمی لیاقت کا تعلق ہے، آپ اس کے پوری طرح اہل ہیں۔ اب ہم کو یہ جاننا تھا کہ آپ ہمارے یونی ورسٹی کلچر کے معیار پر پورے اترتے ہیں یا نہیں۔ آپ کا مذکورہ انٹرویور یہی کام کررہا تھا۔ وہ آپ کو یونی ورسٹی کے ہر شعبے میں لے گیا۔ اس نے یہاں کی تمام ایکٹوٹیز (activities) سے آپ کو متعارف کرایا۔ اس نے اسٹوڈنٹس اور ٹیچرس دونوں کے ساتھ آپ کے سلوک کو دیکھا۔ اِس دوران وہ آپ کی ہر بات کا دقّتِ نظر کے ساتھ معائنہ کرتا رہا۔ انٹرویور کی رپورٹ آپ کے بارے میں پوری طرح مثبت ہے۔ چنانچہ آپ کے ریکارڈ کو دیکھنے کے بعد ہم نے آپ کا انتخاب کرلیا ہے۔ آپ کل سے یہاں اپنا کام شروع کردیں۔
other sourceWords of another person or source
یہ واقعہ ایک حقیقی مثال کی صورت میں، جنت اور انسان کے معاملے کو بتاتا ہے۔ خدا نے ایک وسیع دنیا بنائی، جنت کی دنیا۔ یہ دنیا پورے معنوں میںایک کامل دنیا تھی۔ یہاں ہر چیز اعلیٰ معیار کے مطابق تھی۔ خدا نے چاہا کہ اِس کامل دنیا میں وہ ایسے لوگوں کو بسائے جو اپنے کردار کے اعتبار سے اُس کے لیے پوری طرح اہل ہوں، جو اِس معیاری دنیا میں معیاری انسان کی حیثیت سے رہ سکیں۔
اب خدا نے اِس دنیا کے تعارفی نمونے کے طورپر موجودہ زمینی سیّارہ بنایا۔ یہاں وہ ساری چیزیں پائی جاتی ہیں جو جنتی دنیا کے اندر موجود ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ جنتی دنیا، معیاری دنیا (perfect world) ہے اور موجودہ زمینی دنیا، غیر معیاری دنیا (imperfect world)۔ جنتی دنیا کامل ہے اور موجودہ زمینی دنیا غیر کامل۔ جنتی دنیا ابدی ہے اور موجودہ زمینی دنیا غیر ابدی۔ جنتی دنیا ہر قسم کے خوف اور حُزن سے خالی ہے، جب کہ موجودہ دنیا کا حال یہ ہے کہ وہ خوف اور حزن سے بھری ہوئی ہے۔ جنتی دنیا انعام(reward) کی دنیا ہے اور موجودہ دنیا آزمائش (test) کی دنیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس منصوبے کے تحت، خدا نے انسان کو پیدا کرکے اس کو موجودہ زمینی دنیا میں بسایا۔ خدا نے انسان کو کامل آزادی دے دی۔ اُس نے انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ یہاں کسی پابندی کے بغیر رہے۔ اُس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی آزادی کو چاہے تو غلط طور پر استعمال کرے اور چاہے تو درست طورپر استعمال کرے۔ ہر انسان جو زمین پر پیدا ہوتا ہے، اُس کے ساتھ خدا کے دو غیر مَرئی (invisible) فرشتے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ وہ انسان کے ہر قول اور عمل کا مکمل ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔اِسی ریکارڈ کی بنیاد پر اس کے لیے اگلی دنیا میں جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوگا۔
جنتی دنیا میں انسان کامل آزادی کے ساتھ رہے گا، لیکن وہ اتنا زیادہ پختہ اور اتنا زیادہ با شعور ہوگا کہ وہ کسی بھی حال میںاپنی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ وہ پوری طرح آزاد ہوتے ہوئے بھی پوری طرح ڈسپلن میں رہے گا۔یہی وہ انسان ہے جس کے سلیکشن کے لیے موجودہ زمینی سیّارہ بنایا گیا۔ موجودہ دنیا میں بھی وہ سارے حالات پائے جاتے ہیں جو جنتی دنیا میں موجود ہوں گے۔ اب یہ دیکھا جارہا ہے کہ وہ کون انسان ہے جس نے ہر قسم کے حالات سے گزرتے ہوئے جنتی کیریکٹر کا ثبوت دیا۔ اُسی انسان کا انتخاب کرکے اس کو جنتی دنیا میں ابدی طورپر بسا دیا جائے گا۔
ہر انسان کے ساتھ خدا کے غیر مرئی فرشتے لگے ہوئے ہیں اور وہ ہر لمحہ اس کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ یہی انسان کا ٹسٹ ہے، اور اِسی ٹسٹ کے نتیجے کی بنیاد پر ہر آدمی کے مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ وہ ٹسٹ یہ ہے کہ آدمی ہر موقع پر خدا کی بڑائی کا اعتراف کرے، یعنی آدمی کے ضمیر نے جب اس کو ٹوکا تو اس نے ضمیر کی آواز کو مانا، یا اس کو نظر انداز کردیا۔ جب اس کے سامنے دلیل کے ساتھ ایک سچائی آئی تو وہ اس کے آگے جھک گیا، یا اس نے اس کے خلاف سرکشی دکھائی۔ جب اپنی انا اور سچائی کا مقابلہ ہوا تووہ اپنی انا کے پیچھے چلا، یا اُس نے سچائی کا اعتراف کیا۔
اِسی طرح لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ انصاف پر قائم رہا، یا اپنے انٹرسٹ کی خاطر بے انصافی کرنے لگا۔ وہ صرف لوگوں کے سامنے اچھا بنا رہا، یا اپنی پرائیویٹ زندگی میں بھی وہ اچھائی پر قائم رہا۔ اس نے حق کو اپنا سپریم کنسرن بنایا، یا حق کے سوا کسی اور چیز کو وہ اپنا کنسرن بنائے رہا۔ اسی طرح یہ کہ جب اس کو اقتدار ملا تو وہ بگاڑ کا شکار ہوگیا،یا اقتدار کے باوجود اس نے اپنے آپ کو انصاف پر قائم رکھا۔ جب اس کو دولت حاصل ہوئی یا اس کو غریبی کا تجربہ ہوا تو دونوں حالتوں میں یکساں طورپر اس نے اعتدال کا ثبوت دیا، یا وہ اعتدال کے راستے سے ہٹ گیا۔ سماجی زندگی میں جب اس کو آگے کی سیٹ ملی، اس وقت وہ کیسا تھا اور جب اس کو پیچھے کی سیٹ پر بیٹھنا پڑا تب اس کا رویہ کیا تھا۔ اس نے اپنے جذبات اور اپنی خواہشوں کو اصول کا پابند رکھا، یا اصول سے ہٹ کر وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے لگا۔اِسی ریکارڈ کی بنیاد پر ہر عورت اور مرد کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
موجودہ زمینی دنیا ایک محدود مدت کے لیے بنائی گئی ہے۔ اِس مدت کے پورا ہونے کے بعد یہاں پیدا ہونے والے تمام انسان، خدا کے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔ خدا، فرشتوں کے تیار کیے ہوئے ریکارڈ کے مطابق، ہر ایک کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ جس عورت یا مرد کا ریکارڈ بتائے گا کہ وہ زمینی دنیا میں جنتی کردار کے ساتھ رہا، اُس نے اپنی آزادی کو خدا کے مقرر کیے ہوئے دائرے کے اندر استعمال کیا اور اِس طرح یہ ثابت کیا کہ وہ جنتی دنیا کے ماحول میں بسائے جانے کے قابل ہے، ایسے لوگوں کو جنت کے باغوں میں رہنے کے لیے منتخب کرلیا جائے گا۔ اور وہ تمام لوگ جو جنتی کردار کا ثبوت نہ دے سکے، اُن کو رد کر کے کائنات کے ابدی کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے گا، تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے مایوسی اور حسرت کی زندگی گزارتے رہیں اور کبھی اُس سے چھٹکارا نہ پاسکیں۔
ذہنی سکون کا راز
چارلس ڈیوک (Charles Mass Duke Jr.) ایک امریکی خلاباز (astronaut) ہیں۔ وہ 1935 میں امریکا (North Carolina) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اسپیس سائنس میںاعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ 1966 میں ناسا (NASA) کے پانچویں خلاباز گروپ کے لیے منتخب کیے گئے۔ انھوں نے خلا (space) میں کئی پروازیں کیں۔ 1972میں انھوں نے اپالو (Apollo-16) کے ذریعے چاند کا سفر کیا۔ 16 اپریل 1972 میںوہ چاند کی سطح پر اُترے۔
21فروری 2008کی شام کو ہماری ٹیم کے دو ممبر (رجت ملہوترا، سعدیہ خان) ڈاکٹر چارلس ڈیوک سے نئی دہلی کے اشوکا ہوٹل میںانٹرویو کے لیے ملے۔ ملاقات کے وقت انھوں نے اپنے دستخط کے ساتھ اپنی ایک تصویر دی۔ اِس تصویر میں وہ خلائی سوٹ میں چاند کی سطح پر کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تصویر اِس مضمون کے ایک الگ صفحے پر دیکھی جاسکتی ہے۔
ہماری ٹیم کے مذکورہ د ونوں ممبروں نے امریکی خلا باز ڈاکٹر چارلس ڈیوک کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اِس انٹرویو کا موضوع اسپریچولٹی (spirituality) تھا۔ انٹرویو کے دوران اُن سے ایک سوال یہ کیا گیا کہ کیا آپ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں، اور آپ کو پُرمسرت زندگی حاصل ہے۔
اِس کے جواب میں امریکی خلا باز ڈاکٹر چارلس ڈیوک نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ — ابتدائی طورپر میری زندگی میں سکون نہ تھا۔ میں نے یہ سمجھا کہ چاند مجھ کو سکون دے گا۔ میں نے یہ سمجھا کہ خلابازی کی زندگی مجھے سکون عطا کرے گی۔ میںخلاباز(astronaut) بن گیا، مگر خلابازی کی زندگی نے مجھ کو سکون نہیں دیا۔ پھر میں نے سوچا کہ میںاپنا کیریر بدل دوں۔ میں نے ناسا (NASA) میںایسٹروناٹ کا جاب چھوڑ دیا اور بزنس شروع کردیا۔ میں نے کافی دولت کمائی، مگر اب بھی میری زندگی میں سکون نہ تھا۔ میںمحسوس کرتاہوں کہ اب بھی میری زندگی میں کوئی چیز مفقود ہے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
I had no peace in life. I thought the moon would give me peace. I thought all these goals, all these accomplishments, this great career would give me peace, but it didn’t, So I thought I'll change career. So I left NASA as an astronaut and went into business. Imade a lot of money but I still had no peace in my life. There was still something missing.
(Charlse Duke Jr., New Delhi, February 21, 2008)
یہ معاملہ صرف ڈاکٹر چارلس ڈیوک کا نہیں، یہی موجودہ زمانے میں تمام لوگوں کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں دولت اور شہرت اور اقتدار حاصل کرنے کے مواقع بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ لوگ نہایت تیزی کے ساتھ اِن چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اِن چیزوں کو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سپر اچیورس (super achievers) کہاجاتا ہے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ تمام سپر اچیور کا کیس سپر ناکامی (super failure) کا کیس تھا۔ سب کچھ پانے کے باوجود اِن لوگوں کو داخلی مسرت حاصل نہیں ہوئی۔ آخر کار وہ مایوسی کا احساس لے کر مر گئے۔
کہاجاتا ہے کہ موجودہ زمانہ بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کا زمانہ ہے۔ اِس صورتِ حال نے موجودہ زمانے میں ایک نئی اصطلاح پیدا کی ہے جس کو اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والے (super achievers) کہاجاتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر بڑی کامیابی آخر میں صرف بڑی ناکامی (super failure) بن گئی۔ اِس قسم کے لوگ نئے قسم کے سنگین مسائل میں مبتلا ہوگئے۔ مثلاً مہلک بیماریاں، وغیرہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِنھیں نئے مسائل میں سے ایک ٹنشن (tension) یا اسٹریس (stress) ہے۔ لوگوں کے پاس دولت اور شہرت اور اقتدار سب کچھ موجود ہے، لیکن اِن ظاہری کامیابیوں کے باوجود لوگ مسلسل طورپر ٹنشن اور اسٹریس میں مبتلا رہتے ہیں۔ زیادہ دولت صرف زیادہ بیماری کا سبب بن رہی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ رسرچ میڈیکل سائنس میں ہورہی ہے، تاکہ نئی نئی بیماریوں کا علاج دریافت کیا جاسکے۔
اِس صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نیا بزنس شروع ہوگیا ہے جس کو ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کہاجاتا ہے۔ اِن اداروں میںبڑے بڑے ماہرین، لوگوں کو اسٹریس سے نجات دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ لوگوں کا ٹنشن اور اسٹریس بدستور بڑھتا جارہا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا خطرہ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ نہیں ہے، بلکہ ٹنشن اور اسٹریس کا خطرہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ صورتِ حال ہم کو قرآن کی ایک آیت کی یاد دلاتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ (13:28)۔ یعنی، سنو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اِسی بات کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن الفاظ میں فرمایا اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6413)۔ یعنی، اے اللہ! حقیقی زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدائے برتر ہی کو اپنا سپریم کنسرن (supreme concern) بنانے سے انسان کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اپنی پسند کی جو زندگی انسان چاہتا ہے، وہ صرف موت کے بعد کے دورِ حیات میں کسی انسان کو ملے گی۔ موت سے پہلے کے دورِ حیات میں کسی کو اپنی پسند کی زندگی ملنے والی نہیں۔
اِس معاملے کا براہِ راست تعلق خالق کے کریشن پلان (creation plan of God) سے ہے۔ خالق نے موجودہ دنیا کو امتحان گاہ (testing ground) کے طور پر بنایا ہے۔ موجودہ دنیا کسی کے لیے بھی اپنی آرزوؤں کی تکمیل کی جگہ نہیں بن سکتی۔ موجودہ دنیا ہر عورت اور مرد کے لیے سفر کا مرحلہ ہے، اور بعد کو آنے والی آخرت کی دنیا اس کی ابدی منزل ہے۔
آپ، بس یا ٹرین یا ہوائی جہاز میں سفر کررہے ہوں اور اس کے اندر آپ گھر والی سہولتیں حاصل کرنا چاہیں، تو آپ اس کو حاصل نہ کرسکیں گے۔ کیوں کہ سواری صرف سواری ہے، وہ گھر کا بدل نہیں۔ اِس طرح موجود دنیا میں خواہشوں کی تکمیل (fulfillment) کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ جو آدمی اپنی خواہشوں کی تکمیل چاہتا ہو، اس کو آخرت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ (37:61)۔ یعنی، ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تخلیق کس لیے
Creation For What
3 جنوری2006 کی رات کو میں دہلی میں اپنی رہائش گاہ(سی- 29، نظام الدین ویسٹ) میں تھا۔ رات کو پچھلے پہرمیں نے ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ امریکا کے صدر جارج بش جو نیئر، میرے پاس آتے ہیں اور مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ آپ میرے بیٹے کو پڑھا دیجیے۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ میں ایک بڑے مکان میں ہوں۔ میں اس مکان کے اوپر کی منزل کے ایک کمرے میں جاتا ہوں۔ وہاں جارج بش کے بیٹے مغربی لباس پہنے ہوئے میرے پاس آتے ہیں۔ ان کی عمر تقریباً باره سال ہے۔ بیٹے نے مجھ سے پہلا سوال یہ کیا
Why was man created
نیند کھلی تو میں نے اس خواب پر غور کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ آج کی پوری دنیا کا سوال ہو۔ آج پوری انسانیت شعوری یا غیر شعوری طورپر اس سوال سے دوچار ہے۔ آج ہر انسان یہ جاننا چاہتا ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کے آنے کا حقیقی مقصد کیا ہے۔ زندگی کیا ہے اور موت کیا۔ کائنات کے وسیع نقشے میں اس کا مقام کیا ہے۔ وہ کون سا راستہ ہے جس پر چل کر وہ اپنی اس مطلوب منزل تک پہنچ سکتا ہے، جو اس کے دماغ میں بسی ہوئی ہے۔
وہ دنیا جس کو جدید دنیا کہا جاتا ہے، وہ پوری بشری تاریخ کا ایک انوکھا دور ہے۔ انسان ہر زمانے میں اپنے اندر کچھ آرزوئیں لے کر پیدا ہوتا تھا۔ وہ ان آرزوؤں کو صرف اپنی کہانیوں میں ظاہر کرسکتا تھا۔ مگر ساری عمر کی کوشش کے باوجود وہ ان آرزوؤں کی تکمیل نہیں کرسکتا تھا اور محرومی کے احساس کے ساتھ مرجاتا تھا۔
موجودہ دنیا میں بظاہر اِن آرزوؤں کی تکمیل کا سامان حاصل ہوچکا ہے۔ جس اڑن کھٹولے کا تصور صرف کہانیوں میں پایا جاتا تھا وہ اب ہوائی جہاز کی صورت میں ایک واقعہ بن چکا ہے۔ جو عالمی کمیونی کیشن صرف افسانوی کبوتر کے ذریعے متصور ہوتا تھا وہ اب جدید کمیونی کیشن کے ذریعے ایک عملی واقعہ بن چکا ہے۔
یہی معاملہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہوا ہے۔ قدیم زمانے کے تمام خواب آج بظاہر واقعہ بن چکے ہیں۔ قدیم زمانے کے افسانوی شہر اب بظاہر عملاً بنائے جاچکے ہیں جن کے اندر دنیا بھر میں عورت اور مرد رہ رہے ہیں۔ قدیم زمانے کی افسانوی زندگی اب بظاہر واقعہ بن چکی ہے۔
لیکن جہاں تک حقیقی خوشی کا سوال ہے، انسان آج بھی حقیقی خوشی حاصل نہ کرسکا۔ درخت کی شاخوں پر چہچہانے والی چڑیاں خوش ہوںگی لیکن انسان اب بھی خوشی سے محروم ہے۔ آج دنیا کے بازار میں ہر چیز مل سکتی ہے، مگر سکون کا سرمایہ کسی بازار میں میسر نہیں۔
اِس اَلمناک صورتِ حال کاواحد سبب ایک ہے۔ اور وہ ہے— صرف ،قبل از موت دورِ حیات (pre-death period) کو سامنے رکھ کر زندگی کو اکسپلین کرنے کی کوشش کرنا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا ایک بعد از موت دورِ حیات (post-death period) ہے، اور اس ابدی دورِ حیات کو شامل کیے بغیر زندگی کی اطمینان بخش توجیہ کرنا ممکن نہیں۔
اصل یہ ہے کہ خالق کے کریشن پلان (creation plan)کے مطابق، انسان کی زندگی دو دَوروں میں تقسیم ہے — قبل از موت دَور، اور بعد از موت دَور۔ قبل از موت دَورکی مدتِ حیات گویا فصل بونے کی مدت ہے، اور بعد از موت دَورکی مدتِ حیات گویا پھل حاصل کرنے کی مدت۔ اِس دنیا کا قانون یہ ہے کہ فصل کے بغیر پھل نہیں اور پھل کے بغیر ذراعت کی کوئی معنویت نہیں۔ انسانی زندگی کے اِس معاملے کو جانے بغیر، انسانی زندگی کی اطمینان بخش توجیہ کرنا ممکن نہیں۔
قدیم شرک، جدید شرک
موجودہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی کے دوراستے ہیں— سیدھا راستہ اور بھٹکاؤ کا راستہ (16:9)۔ سیدھا راستہ یہ ہے کہ آدمی خالق کو اپنی زندگی میں مرکزی مقام دے، وہ خالق کو اپنا سب کچھ بنالے۔ بھٹکاؤ کا راستہ یہ ہے کہ آدمی مخلوق میں گُم ہو جائے، وہ مخلوق کی نسبت سے اپنی زندگی کا پورا نقشہ بنائے۔ پہلے طریقے کا نام توحید ہے،اور دوسرے طریقے کا نام شرک ہے۔ہماری کائنات میں صرف دو چیزیں ہیں— خالق اور مخلوق ۔ خالق کو اپنا کنسرن بنانے کا مذہبی نام توحید ہے، اور مخلوق کو اپنا کنسرن بنانے کا مذہبی نام شرک۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ معلوم ہے، انسانیت کے آغاز ہی سے ہر زمانے میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور انسان کو صحیح اور غلط کی رہنمائی دیتے رہے۔ ہر پیغمبر کا مشن ایک ہی تھا— انسان کو توحید کی طرف بلانا، اور اس کو شرک سے بچنے کی تلقین کرنا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ہر زمانے میں توحیدایک تھی، اسی طرح شرک بھی ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔
قدیم شرک یا شرک کا قدیم ورژن (ancient version of shirk) نیچر پرستی (nature worship) پر قائم تھا۔ نیچر کی حیثیت مخلوق کی ہے۔ قدیم زمانے کے انسان نے نیچر کو معبود کا درجہ دے دیا۔ وہ نیچر پرستی (nature worship) کی بُرائی میںمبتلا ہوگیا، یعنی خالق کی پرستش کے بجائے مخلوق کی پرستش کرنا۔ اِسی کو مظاہرِ فطرت کی پرستش کہاجاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں بھی یہ شرک اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے۔ آج کا انسان بھی یہی کررہا ہے کہ وہ خالق کے بجائے مخلوق کو اپنا سب کچھ (supreme concern) بنائے ہوئے ہے۔ قدیم شرک اور جدید شرک کے درمیان جو فرق ہے، وہ ظاہر کے اعتبار سے ہے، نہ کہ حقیقت کے اعتبار سے۔
قدیم انسان نے نیچر کو پرستش کا موضوع (object of worship) بنایا تھا۔ جدید انسان نے نیچر کو تفریح کا موضوع (object of entertainment) بنا لیا ہے۔ جذباتِ عُبودیت کا مرکز پہلے بھی مخلوقات تھیں، اور اب بھی جذباتِ عبودیت کا مرکز مخلوقات ہیں۔
موجودہ زمانے کے انسان کا نظریہ یہ ہے کہ اپنے آج (now) میں خوش رہو، کل کی فکر چھوڑ دو۔ یہ ’’آج‘‘ کیا ہے۔ یہ وہی سامانِ حیات ہے جو ہم کو نیچر کی صورت میں ملا ہے۔ یہ سامانِ حیات خدا کی دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ تفریح کے سامانوں میں سے کوئی بھی سامان انسان نے خود نہیں بنایا، وہ اس کو خالق کی طرف سے ملا ہے۔ یہ خالق ہے جو ساری چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ آج کے انسان نے یہ کیا کہ اُس نے نعمت (blessing) کو لیا، اور منعم (giver) کو چھوڑ دیا۔ یعنی خالق رُخی نظریے کو ترک کرکے، مخلوق رخی نظریے کو اختیار کرلیا۔
انسان کی یہ فطرت ہے کہ اُس کو جب کوئی چیز ملے تو وہ دینے والے کا اعتراف کرے۔ احساسِ تشکُّر (gratitude) انسان کی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے دوربارہ یہ کیا کہ اُس نے اپنے احساسِ تشکر کو خالق کے بجائے مخلوق کی طرف موڑ دیا۔ جو قلبی اعتراف اس کو مُنعم کے لیے پیش کرنا چاہیے تھا، اُس کو وہ منعم کی پیدا کردہ مخلوق کے لیے پیش کرنے لگا۔
آج کل کے لوگوں کی باتیں سنیے، یا ان کی تحریریں پڑھیے تو بار بار اِس قسم کے نمونے سامنے آتے ہیں۔ہر آدمی اپنے روزانہ کے تجربات میں اِس کے نمونے دیکھ سکتا ہے۔ یہاں مثال کے طورپر میںایک حوالہ نقل کروں گا۔
نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (27 جنوری 2008) میں اِس موضوع پر ایک مضمون چھپا ہے۔ اِس کے لکھنے والے کا نام ڈونا (Donna Devane) ہے۔ اِس مضمون کاعنوان یہ ہے
Be happy here and now.
آج کل کے زمانے میں انسان ایک عام مسئلے سے دوچار ہے۔ وہ ٹنشن یا اسٹریس (stress) ہے۔ یہ ٹنشن کیوںہے، اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کو اُس کی مطلوب خوراک نہیں دے رہا ہے۔ وہ خالق کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بھر پور انتفاع کررہا ہے، لیکن وہ خالق کا اعتراف نہیںکرتا۔ یہ بے اعترافی، یا عدم تشکر فطرت کے خلاف ہے۔
اِس لیے وہ انسان کے اندر شعوری یا غیر شعوری طورپر ٹنشن یا اسٹریس کا سبب بنا ہوا ہے۔ موجودہ انسان نے اِس کا یہ غیر فطری حل دریافت کیا ہے کہ دینے والے کے بجائے، خود دی ہوئی چیزوں پر تشکر کا اظہار کرنا۔ مذکورہ مضمون اِسی جدید ذہن کی نمائندگی کررہا ہے۔ چنانچہ اس میں کہاگیا ہے کہ— تم ملی ہوئی چیزوں پر خوب تشکر کا اظہار کرو اور تم ٹنشن سے بچ جاؤ گے۔ اِس سلسلے میں مضمون نگار کے الفاظ یہ ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Gratitude feels my soul as I enjoy my computer, more about my home, enjoy the feeling of a hug from my daughter. There is so much to be grateful for each moment of each day. I find that where gratitude goes, joy flows, spend a few moments throughout the day with thought shifter statements. A few of the thought shifter statements that I use are—I am so happy and joyful to believe. I am so happy and grateful for this wonderful mind, and body that allows me to enjoy touch, taste, sound, and movement. I am so happy and grateful for my family, and friends, and the love we share. I am so happy and grateful for my home and utilities. I am so happy and grateful for my computer, my internet, my ability to type and share with friends all over the world.
انسان کے اندر جس طرح بھوک اور پیاس کا طاقت ور جذبہ موجود ہے، اُسی طرح یہ جذبہ بھی انسان کے اندر نہایت طاقت ور شکل میںموجود ہے کہ وہ اپنے محسن کے احسان کا اعتراف کرے۔ اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان اِس کا تحمل نہیںکرسکتا کہ اُس کو کسی سے کوئی بڑی چیز ملے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ آدمی کا فطری مزاج یہ ہے کہ جب اُس کو کسی سے کوئی بڑا فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی پوری شخصیت چاہتی ہے کہ چیخ کر وہ اس کا اعتراف کرے۔ یہ انسان کی ایک ایسی صفت ہے جس سے کوئی بھی عورت یا مرد خالی نہیں۔
انسان کے پاس جو کچھ ہے، وہ سب خداکا عطیہ ہے۔ خواہ اس کا اپنا وجود ہو یا اس کے باہر کا وہ پورا نظام جس کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتا ہے، سب کا سب اس کو خدا کی طرف سے یک طرفہ عطیہ کے طور پر ملا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ وہ اِن تمام عطیات (blessings) کے لیے ان کے مُعطی (giver) کا بھر پوراعتراف کرے۔ اِن عطیات میںسے ایک قسم اُن عطیات کی ہے جو براہِ راست طورپر خدا کی طرف سے انسان کو مل رہے ہیں۔ مثلاً ہوا اور پانی اور روشنی ، وغیرہ۔ اور دوسری چیزیں وہ ہیں جو بالواسطہ طورپر خدا کا عطیہ ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو انسان نے عالمِ فطرت میں دریافت کرکے خدا کی دی ہوئی عقل کے ذریعے اُن کو مختلف قسم کی مصنوعات میںتبدیل کیا ہے۔ مثلاً تمام قسم کے کنزیومر گُڈس (consumer goods)۔
یہ تمام عطیات تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے سارے دل اور سارے دماغ کے ساتھ اُن کا اعتراف کرے۔ لیکن خود ساختہ فلسفوں کے تحت ،انسان نے یہ کیا کہ اُس نے عطیات کو لیا، اور اُن کے معطی (giver) کو حذف کردیا۔ یہ ایک بھیانک غلطی تھی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی فطرت ایڈریس ہونے سے رہ گئی
The human nature was left unaddressed.
یہ کسی انسان کے لیے ایک داخلی تضاد کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام عورت اور مرد اِسی داخلی تضاد میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کا وہ مسئلہ جس کو ٹنشن اور اسٹریس کہا جاتا ہے، وہ براہِ راست طورپر اِسی داخلی تضاد کا نتیجہ ہے۔
اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ (13:28)۔ یعنی، اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتاہے
Qur'anQuotes the Qur'an
Peace of mind can be achieved only through the remembrance of God.
جنّت ایک آفاقی تصور
پیراڈائز (جنت) کا تصور تمام انسانی سماجوں میں پایا گیا ہے۔ پیراڈائز تمام عورتوں اور مردوں کا ایک عالمی خواب ہے۔ ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے، وہ ایک خوب صورت دنیا کا تصور لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اِسی کو پیراڈائز کہاگیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان ایک متلاشی ٔ جنت حیوان (Paradise-seeking animal) ہے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ پیراڈائز کا تصور ہر سماج میں اور ہر کلچر میں ہمیشہ پایا گیا ہے۔ اِس اعتبار سے پیراڈائز ایک عالمی لفظ ہے۔ معمولی تغیر کے ساتھ وہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ قرآن کا لفظ فردوس (18:107)بھی خود پیراڈائز ہی کی ایک معرّب(Arabicized) صورت ہے۔ ذیل میں چندزبانوں کی مثالیں درج کی جاتی ہیں، جس سے پیراڈائز کی عالمی نوعیت کا اندازہ ہوگا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Avesta Pairidaêza Persian Firdaus
Greek Paradeisas Latin Paradisus
French Paradis English Paradise
Hebrew Pardes Akkadian Pardesu
Aramaic Pardaysa Sanskrit Paradesha
Arabic Firdaus
پیراڈائز (جنت) کا تصور انسانی فطرت میںاتنا زیادہ پیوست ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جُدا نہیں کیا جاسکتا۔ پیراڈائز کو پانا، ہر عورت اور مرد کا مشترک خواب ہے، خواہ شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر عورت اور مرد نے عالمِ تصور میں ایک انتہائی خوب صورت دنیا کو پہلے سے دیکھا ہے، اور اب وہ اِس دیکھی ہوئی جنت کو عملی طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انسان کی اِس خواہش کے تحت، پیراڈائز کے تقریباً ایک درجن ماڈل بن گئے ہیں۔ ہر انسان اپنے اِس معلوم ماڈل کو واقعاتی طورپر حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے۔
پیراڈائز کا مطالعہ میری پوری زندگی میں شامل رہا ہے۔ تاریخ میں پیراڈائز کے جتنے ماڈل بنائے گئے ہیں، تقریباً اُن سب کو میں نے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے اپنے طویل مطالعے اور تجربے کے بعد پایا ہے کہ پیراڈائز کا صرف وہی ماڈل مطابقِ فطرت ماڈل ہے جو قرآن میں ملتا ہے۔ بقیہ تمام ماڈل یا تو فطرت سے مطابقت نہیں رکھتے، یا وہ صرف جزئی طورپر فطرت کے مطابق ہیں۔ اور یہ دونوں حالتیں اُن کو ناقابلِ قبول قرار دے دیتی ہیں۔
اِس فہرست میں صرف قرآن کا ماڈل واحد قابلِ قبول ماڈل ہے۔ اِسی لیے قرآن میں سچے انسانوں کی بابت یہ ارشاد ہوا ہے کہ خدا اُن کو ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کی اُس نے اُنھیں خوب پہچان کرادی ہے وَيُدْخِلُهُمُ الْجَــنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47:6)۔ یعنی، اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ جنت کے معروف ماڈلوں میں سے کون سا ماڈل درست ہے، اس کا معیار وہی اصول ہے جس کو اِس طرح کے معاملات میں سائنس میں استعمال کیا جاتا ہے، یعنی اصولِ مطابقت (principle of corroboration)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نظریے کی صحت کو معلوم کرنے کے لیے یہ کیا جائے گا کہ اُس کو تمام متعلق (relevant) واقعات یا مظاہر کی نسبت سے جانچا جائے گا۔ اگر یہ نظریہ تمام متعلق چیزوں سے مطابقت (corroborate) کررہا ہو تو اس کو درست مان لیا جائے گا اور اگر کوئی ایک واقعہ بھی اس نظریے سے مطابقت نہ کرے تو اس نظریے کو غلط قرار دے کر اُس کو رد کر دیا جائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی واحد اصول ہے جس کی روشنی میں پیراڈائز کے مختلف تصورات کا مطالعہ کرکے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اُن میں سے کون سا نظریہ درست نظریہ ہے۔ذیل میںاِسی اصول کی روشنی میں پیراڈائز کے مختلف ماڈلوں کا مطالعہ کیا جاتاہے۔ اِس مطالعے سے واضح ہوجائے گا کہ سائنٹفک طریقِ مطالعہ کے مطابق، اِن میں سے کون سا ماڈل علمی طورپر قابلِ قبول ماڈل ہے۔
بدھسٹ ماڈل
سب سے پہلے بُدھسٹ ماڈل (Buddhist model) کو لیجیے۔ بدھ ازم میں اگرچہ مہایانا (Mahayana) اسکول کو چھوڑ کر، بقیہ کسی اسکول میں پیراڈائز کا لفظ استعمال نہیں کیاجاتا ہے۔ لیکن اصولی طور پر بدھ ازم میں پیراڈائز کا تصور موجود ہے۔ بدھ ازم کے نظریے کے مطابق، انسان پُنر جنم (re-birth) کے ذریعے لمبا ارتقائی سفر کرتا ہے۔اِس ارتقائی سفر کے دوران وہ ہر قسم کی خواہشوں سے مکت ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ انسانی ارتقا کی آخری منزل پر پہنچ جاتا ہے، جو بدھسٹ نظریے کے مطابق، ابدی سعادت (eternal bliss) کی منزل ہے۔
مگر یہ بدھسٹ ماڈل واضح طور پر انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔ انسان ایک باشعور مخلوق ہے۔ انسان کے لیے اعلیٰ یافت وہی ہوسکتی ہے جو شعور کی سطح پر اُس کو ملے، لیکن بدھسٹ ماڈل میں لاکھوں سال کا پورا سفر، اور آخری منزل سب بے شعوری کی حالت میں طے ہوتے ہیں۔ انسان نہ تو حالتِ سفر میں شعوری طورپر اِس عمل (process) سے باخبر رہتا ہے اور نہ وہ سفر کے خاتمے پر شعوری طورپر اس کا تجربہ کرتاہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بدھسٹ ماڈل انسان کے لیے ناخوش گوار باتوں سے بے خبری کا سُکھ (blissful ignorance) ہے، وہ انسان کے لیے حقیقی معنوں میں مطلوب سعادت نہیں۔
یہودی ماڈل
اس کے بعد یہودی ماڈل (Jewish model) کو لیجیے۔ اِس ماڈل میں اگر چہ پیراڈائز کا تصور موجود ہے، لیکن اس کا نقص یہ ہے کہ موجودہ یہودیت کے مطابق، اس کی بنیاد ایک مخصوص نسل پر رکھی گئی ہے۔ موجودہ یہود یت کا ماننا ہے کہ یہودی نسل ایک منتخب گروہ (chosen people) کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی منتخب گروہ پیراڈائز کا حق دار ہے۔ یہ تصور انسان کی آفاقی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اِس لیے علمی اعتبار سے وہ درست نہیں قرار پاسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسیحی ماڈل
یہی معاملہ کرسچن ماڈل (Christian model) کا ہے۔ موجودہ مسیحیت میں پیراڈائز کے وجود کو مانا گیا ہے۔ لیکن موجودہ مسیحیت کے مطابق، پیراڈائز کا استحقاق عقیدۂ کفّارہ (atonement) سے جڑا ہوا ہے، یعنی آدم کی خطا کے بعد تمام انسان پیدائشی طورپر گنہ گار اور پیراڈائز سے محروم ہوچکے ہیں۔ اب پیراڈائز صرف ان عورتوں اور مردوں کے لیے ہے، جو اِس عقیدے کو مانیں کہ مسیح مصلوب ہو کر اُن کی طرف سے ان کے تمام گناہوں کا کفّارہ بن گئے ہیں۔
موجودہ مسیحیت کا یہ تصور بھی انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پیدائشی گناہ (original sin) کا نظریہ ایک فلسفیانہ نکتہ تو ہوسکتا ہے، لیکن وہ انسان کی فطرت کے اعتبار سے بالکل اجنبی ہے۔ انسان کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ جو شخص کوئی بُرا عمل کرے، وہی اپنے عمل کی سزا بھگتے۔ گناہ کوئی اور شخص کرے اور اس کی گنہ گاری پیدائشی طور پر کسی اور شخص تک پہنچ جائے، یہ وراثتی گنہ گاری (hereditary sin) ہے۔ اور وراثتی گنہ گاری کا نظریہ انسانی فطرت سے ہر گز مطابقت نہیں رکھتا۔
تہذیبی ماڈل
اِسی طرح ایک ماڈل وہ ہے جس کو تہذیبی ماڈل (civilizational model) کہاجاسکتا ہے۔ تہذیب (civilization) سے مراد ہے— سماجی ترقی کا برتر مرحلہ
An advanced stage or system of social development.
موجودہ زمانے میں جب تہذیبی ترقی یہاں تک پہنچی کہ نئی قسم کی ٹکنالوجی اور نئی قسم کی ترقی انسان کی دست رس میں آگئی، تو یہ سمجھا جانے لگا کہ اب پیراڈائز کے لیے ایک اور دنیا کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب اِسی دنیا میں انسان اپنی پیراڈائز آپ بنا سکتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان اب اِس پوزیشن میں ہوگیا ہے کہ وہ اپنی پیراڈائز آپ بنا سکے۔ لیکن جلد ہی یہ خواب منتشر ہوگیا۔ بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں پہنچ کر یہ معلوم ہوا کہ پیراڈائز کو تعمیر کرنے والی انڈسٹری اپنے آخری اسٹیج میں پہنچ کر ایک نئے قسم کا جہنم وجود میں لانے کا سبب بن رہی ہے۔ اس نئے جہنم کا نام موجودہ زمانے میں گرین ہاؤس گیس (green house gas) ہے، یعنی دنیا کا ایسی مضر گیسوں سے بھر جانا جس میں انسان کی زندگی ہی ممکن نہ رہے۔
اِس تجربے نے بتایا کہ پیراڈائز کو وجود میں لانے کے لیے بے کثافت انڈسٹری (pollution free industry) درکار ہے، اور تمام تجربات بتاتے ہیں کہ بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانا انسان کے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس طرح تہذیبی جنت کا نظریہ، پیراڈائز کو وجود میں لانے سے پہلے ہی اپنی آخری ناکامی کے ساتھ ختم ہوگیا۔
بھلاوہ کلچر
پیراڈائز کے معاملے میں ایک اور قسم کا تصور بہت اہم ہے۔ اس کو تمثیل کی زبان میں آسٹرچ پیراڈائز (ostrich paradise) کہاجاسکتاہے۔ یہ اُن لوگوں کا تصور ہے جن کے سامنے پیراڈائز کی بات کہی جائے تو وہ اپنا یہ فارمولاپیش کردیں گے— آج کی بات آج، کل کی بات کل۔ اُن کا کہنا ہے کہ ابھی اور آج جو کچھ مل رہاہے، اُس کو حاصل کرو۔ ایک لفظ میں اُن کا فارمولا یہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
right here, right now
ان کی زندگی اِس نظریے پر مبنی ہے کہ— محنت سے پیسہ کماؤ اور عیش کی زندگی گزارو
work hard, party hard
اِس نظریے کی صحت کو جانچنے کے لیے ہمیں اس کو نتیجہ (result) کے نقطۂ نظر سے دیکھنا ہوگا، اور جب نتیجے کے پہلو سے اِس نظریے کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں۔ جولوگ اِس قسم کے الفاظ بولتے ہیں، وہ خود اِس کا مثبت نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ بظاہر یہ خوب صورت الفاظ ہر ایک کے لیے صرف منفی نتیجہ لے کر سامنے آئے ہیں۔
اِس قسم کے لوگ زیادہ پیسہ کماتے ہیں، مگر زیادہ پیسہ صرف ان کے لائف اسٹائل اور ان کی غذائی عادت (food habit) کو بگاڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں شوگر، بلڈ پریشر اور کینسر جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ زیادہ پیسہ کما کر یہ لوگ اپنا اسٹریس (stress) دور کرنے کے لیے آؤٹنگ پر جاتے ہیں، لیکن جب وہ اپنی آؤٹنگ سے لوٹتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نیا مسئلہ ہالی ڈے اسٹریس (holiday stress) کی صورت میں لے کر واپس آئے ہیں۔
زیادہ پیسہ کما کر وہ اپنی شاپنگ کو بڑھاتے ہیں، لیکن اُس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سطحی چیزوں میں اپنی مشغولیت کی وجہ سے اُس چیز سے محروم ہوجاتے ہیں، جس کو اعلیٰ سوچ (high thinking) کہاجاتاہے۔ زیادہ پیسہ کما کر وہ لَو افئر (love affair) کا کلچر چلاتے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ برعکس طورپر ہیٹ افئر (hate affair) کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے لوگ فیملی لائف کی خوشی سے یک سر محروم ہو کر رہ جاتے ہیں، وغیرہ۔
بالفرض اِس قسم کا کوئی انسان اپنے نظریے کے منفی انجام سے بچ جائے، تب بھی یہ واقعہ تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لازمی طور پر پیش آتا ہے کہ وہ سو سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی بوڑھا ہو کر بستر پر پڑجاتا ہے اور اس کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اسپتال میں داخل ہوجائے اور پھر اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک دن اِس دنیا سے چلا جائے۔
اِس کی ایک مثال 12 جنوری 2008 کے اخبارات میں سامنے آئی ہے۔ نیوزی لینڈ کے سرایڈمنڈ ہیلیری نہایت طاقت ور انسان تھے۔ جب وہ کوہ پیمائی کرتے ہوئے دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ایورسٹ (Everest) پر پہنچ گئے تو ساری دنیا کے اخباروں میں بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ یہ خبر چھپی۔ وہ فاتحِ ایورسٹ کہے جانے لگے۔ جب انھوں نے ایورسٹ کی چوٹی پر قدم رکھا تھا تو اس وقت اُن کی زبان سے یہ پُر فخر الفاظ نکلے تھے
To my great delight, I realized we were on top of Mount Everest and the whole world spread out below us.
(The Times of India, New Delhi, January 12, 2008, p. 12)
لیکن 11 جنوری 2008 کو جب 88 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا تو وہ اسپتال کے بستر پر ایک نہایت کم زور انسان کی حیثیت سے پڑے ہوئے تھے اور ان کے سامنے اس کے سوا کوئی اور انتخاب (option) نہ تھا کہ موت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے وہ اپنے تمام اثاثے اور اپنی تمام تمناؤں کے ساتھ اِس دنیا کو چھوڑ کر ایک ایسی دنیا میں چلے جائیں، جس کا سامنا کرنے کے لیے اُن کے پاس بظاہر کچھ بھی موجود نہ تھا۔
قرآنی ماڈل
اب پیراڈائز کے بارے میں قرآنی ماڈل (Quranic model) کو لیجیے۔ اِس معاملے میں قرآن کا ماڈل، خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) پر مبنی ہے۔ قرآن کے مطابق، خداوندِ عالم کا تخلیقی پلان اور پیراڈائز دونوں ایک دوسرے سے پوری طرح جُڑے ہوئے ہیں۔ اِسی لیے قرآن کے مطابق، پیراڈائز کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خداوندِ عالم کے تخلیقی پلان کی روشنی میں سمجھا جائے۔
قرآن، خدا کی کتاب ہے۔ وہ پوری طرح اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ قرآن کے مطابق، خدا نے انسان کو بنایا اور اس کو موجودہ زمین پر آباد کیا۔ یہ آباد کاری بطور امتحان تھی، نہ کہ بطور انعام، یعنی یہ آبادکاری اِس لیے تھی کہ دنیا کی عارضی زندگی میں انسان اپنے آپ کو پیراڈائز کا اہل ثابت کرے اور پھر موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں اس کو اس کے عمل کے مطابق، پیراڈائز میں بسایا جائے۔
اِس اعتبار سے موجودہ دنیا گویا کہ ایک انتخابی میدان(selection ground)ہے۔ یہاں آدمی کو مختلف قسم کے احوال میں رکھ کر جانچا جارہا ہے کہ کون اپنے عمل سے اِس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے۔ جو لوگ اِس جانچ میں پورے اتریں، ان کو منتخب کرکے جنت کی ابدی دنیا میں داخل کردیا جائے گا۔ اور جو لوگ اِس جانچ میں ناکام ہوگئے، اُن کو ابدی طورپر کائنات کے کوڑے خانے (جہنم) میں ڈال دیا جائے گا۔
قرآن کے مطابق، یہ جنت ابدی ہوگی اور اِسی کے ساتھ ایک معیاری اور آئڈیل جنت۔ یہاں یہ ممکن ہوگا کہ انسان ہر قسم کے خوف اور ہر قسم کے حزن سے بچ کر زندگی گزارے۔ جنت کی یہ دنیاہر قسم کے ناموافق حالات (disadvantages) اور ہر قسم کی محدودیت (limitations) سے خالی ہوگی۔ یہاں انسان وہ سب کچھ پالے گا جس کی تمنا وہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنت کی اِس دنیا میںآدمی کی تمام خواہشیں (desires) پوری ہوں گی۔یہاں اُس کو مکمل فلفل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ موجودہ دنیا میں بھی اگر چہ تمام اچھی چیزیں موجود ہیں، لیکن یہ دنیا ایک غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے، جب کہ جنت کی دنیا ہر اعتبار سے ایک معیاری دنیا (perfect world) ہوگی۔ جنت کی دنیا میں نہ شور ہوگا اور نہ کسی قسم کی کثافت۔ یہ دنیا ہر قسم کی منفی باتوں سے خالی ہوگی۔موجودہ دنیا ایک ناقص دنیا ہے، اور جنت ایک کامل دنیا ہوگی۔ اور کسی معاملے میں ناقص نمونے کا وجود میںآنا، اپنے آپ اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کامل نمونہ بھی وجود میں آسکتا ہے۔ یہی ہے جنت کا قرآنی ماڈل۔ یہ ماڈل بلا شبہ فطرت کے تقاضے سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ وہ تمام متعلق مظاہر سے مطابقت (corroborate) کر رہا ہے۔
پیراڈائز کے قرآنی ماڈل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اُس میں آدمی کامل شعور کے ساتھ اور اپنے مائنڈ کی اعلیٰ ترقیاتی سطح پرجئے گا۔ یہ جنت انسان کے لیے نہ کوئی محدود دنیا ہوگی اور نہ ایسا ہوگا کہ وہ شعور سے کم تر کسی سطح پر اُس کو حاصل ہوگی۔
پیراڈائز کے بارے میں قرآنی ماڈل کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ کوئی پراسرار (mysterious) جگہ نہیں ہوگی، بلکہ وہ ہماری دنیا جیسی ایک جگہ ہوگی۔ قرآن میںواضح طورپر بتایا گیاہے کہ جنت میں وہ تمام اچھی چیزیں اہلِ جنت کو ملیں گی، جو اُنھیں دنیا کی زندگی میں ملی تھیں، مگر یہ تمام چیزیں نہایت اعلیٰ صورت میں ہوں گی۔ اِسی طرح جنت میں اس کے باشندوں کو ہر قسم کی سرگرمیوں کا موقع ہوگا، مگر یہ سرگرمیاں اوّل سے آخر تک پُرکیف ہوں گی۔ وہاں نہ کوئی بورڈم ہوگا اور نہ کوئی تکان۔ مزید یہ کہ دنیا میں آدمی چیزوں سے محظوظ ہونے کی بہت کم طاقت رکھتا ہے۔ جنت میں ایسا ہوگا کہ وہاں کے باشندوں کو چیزوں سے انجوائے کرنے کی لامحدود طاقت حاصل ہوگی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ پیراڈائز کے قرآنی ماڈل میںانسان، خدا کے پڑوس میں رہنے کا موقع پالے گا، جو کہ ہر قسم کی خوبیوں اور ہر قسم کے کمالات کا اتھاہ خزانہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معرفت کا سفر
نومبر 1959 کا واقعہ ہے۔ آریہ سماج نے اپنی گولڈن جُبلی (golden jubilee) منائی۔ اِس سلسلے میں مختلف مقامات پر ان کے پروگرام ہوئے۔بجنور (سیوہارہ) میں 29نومبر 1959 کو ایک آل مذاہب کانفرنس ہوئی۔ اِس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بلایا گیا۔ اُن سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کی روشنی میں ایک سوال کا جواب دیں۔ وہ سوال یہ تھا— گیان کا آغاز کس طرح ہوا
How was the beginning of knowledge.
اِس کانفرنس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میں شرکت کی، اِس سفر میں میرے ساتھ مولانا محمد عبد الحی رام پوری (وفات 1987) بھی تھے۔ اِس کانفرنس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میں شرکت کی اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وہاں ایک تقریر کی۔ یہ تقریر ’’اسلام کا تعارف‘‘ کے نام سے ایک پمفلٹ کی صورت میں چھپ چکی ہے۔ اِس کانفرنس کے چير مین مراد آباد کے ایک ہندو وکیل تھے۔ وہ خود بھی آریہ سماج کے ایک ممبر تھے۔ انھوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ— تمام تقریروں میں صرف ایک تقریر تھی جو موضوع سے متعلق (relevant) تھی اور وه مولانا صاحب كى تقرير تھي۔ بقيه تقریروں میں اصل سوال کا جواب نہیں دیاگیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اُس وقت میں نے انگريز مصنف جولین ہکسلے (Sir Julian Sorell Huxley) (وفات 1979) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ لوگ زندگی اور کائنات کو صرف ایک حادثاتی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چھ بندر ایک ایک ٹائپ رائٹر لے کر بیٹھ جائیں اور ملین اور ملین سال تک الل ٹپ طریقے سے ان کو پیٹتے رہیں، تو ہوسکتا ہے کہ ان کے سیاہ کیے ہوئے کاغذات کے ڈھیر میں کسی صفحے پر شیکسپئر کی ایک نظم (Sonnet) نکل آئے۔ اِس طرح ملین اور بلین سال تک مادّے کے اندھے عمل کے دوران بالکل اتفاق سے یہ دنیا بن گئی ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس طرح کی مثالیں یہ تاثر پیدا کرنے کے لیے دی جاتیں ہیں کہ اِس دنیا میں زندگی کا سفر کوئی شعوری سفر نہیں، وہ صرف بے شعوری کا ایک معاملہ ہے۔ افکار کی تاریخ اتفاقی اسباب کے تحت پیش آنے والے ایک بے شعوری سفر کی کہانی ہے۔ لیکن راقم الحروف کے مطالعے کے مطابق، یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت کا سفر مکمل طورپر شعور کے تحت پیش آنے والاایک سفر ہے۔ وہ ایک ابتدائی منزل سے اپنی آخری منزل کی طرف چلا جارہا ہے۔ معرفت کا سفر انسان کی ایک شعوری ضرورت ہے۔ یہ ہر انسان کی ایک ذاتی ضرورت ہے، خواہ اس نے اِس کا اعلان کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
گیان (معرفت) کے آغاز کا سوال ایک نہایت سنجیدہ سوال ہے۔ میں برابر اِس تلاش میں رہا ہوں کہ اِس سوال کا زیادہ واضح جواب معلوم کروں۔ یہ سوال میرے ذہن میںتقریباً 40 سال تک رہا۔ حال میں انتھراپالوجی (Anthropology) کے ایک سروے میں مجھے اس کا جواب ملا۔ محققین کے مطابق، یہ جواب آرکیالوجی کے شواہد (archaelogical findings) پر مبنی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بتایا جاتا ہے کہ اسٹون ایج (stone age) میں دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مارنے کے لیے ایک دوسرے کی طرف پتھر پھینکا۔ دونوں پتھر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اِس ٹکرانے کے سبب سے وہاں اسپارکنگ (sparking) ہوئی، یعنی دونوں پتھروں کے ٹکرانے سے چنگاری نکلی۔ یہ ظاہرہ دونوں آدمیوں کے لیے نیا تھا۔ اب وہ دونوں آپس کا اختلاف بھول کر وہاں بیٹھ گئے اور دو پتھروں کو آپس میں ٹکرا کر چنگاری نکالنے لگے۔
دوپتھروں کے ٹکرانے سے چنگاری کیوں نکلتی ہے۔ اِس کا سبب یہ نہیں ہے کہ خود اِن پتھروں کے اندر پہلے سے چنگاری موجود ہوتی ہے اور وہ ٹکراؤ کے وقت ان کے اندر سے نکل آتی ہے، بلکہ اِس چنگاری کا سبب خارج میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ فضا میں مختلف قسم کی گیسیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہوا اِن گیسوں کا مجموعہ ہے۔ اِن میں سے ایک گیس وہ ہے جس کو ہائڈروجن (hydrogen) کہا جاتا ہے۔ ہائڈروجن ایک بھڑک اٹھنے والی گیس (inflammable gas) ہے۔ جب پتھر کے دوٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ٹکرایا جاتا ہے تو فضا میں موجود ہائڈروجن کا کچھ حصہ اِس ٹکراؤ کی زد میں آجاتا ہے اور اچانک بھڑک اٹھتا ہے۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اگر یہ واقعہ پیش آیا تو بلاشبہ یہی وہ واقعہ تھا جس سے انسانی تاریخ میں گیان (معرفت) کا آغاز ہوا۔ اِس واقعے کا ایک نہایت اہم پہلو تھا، وہ یہ کہ اس واقعے نے انسان کو بتایا کہ معلوم یا مشہود دنیا کے ماورا بھی ایک دنیا موجود ہے
There is an invisible dimension beyond the visible world.
یہ مسئلہ ہسٹری آف تھاٹ (History of Thought) سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، ہسٹری آف تھاٹ کے بارے میں ماضی کے بہت کم واقعات تاریخ میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اِس لیے اس معاملے میں کوئی تفصیلی نقشہ نہیں بنایا جاسکتا۔ تاہم قیاساً یہ کہاجاسکتا ہے کہ غالباً یہی واقعہ تھا جس سے انسانوں کے درمیان گیان (معرفت) کے سفر کا آغاز ہوا اور پھر ایک کے بعد ایک، چیزیں دریافت ہوتی چلی گئیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہر دریافت نے صرف یہ بتایا کہ اس کے آگے بھی علم کی کوئی سطح موجود ہے جو ابھی تک دریافت نہیں ہوئی
Every discovery tells us that there is something more to discover.
مثلاً حضرت مسیح سے ہزار سال پہلے عراق میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے وقت کے بادشاہ نمرود (Nemrud) کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی۔ اس سلسلے میں انھوں نے کہا کہ یہ خدا ہے جو سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے اور اس کو مغرب کی طرف لے جاتا ہے۔ کوئی انسان اس نظام کو بدلنے پر قادر نہیں۔ یہ سادہ انداز میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ تھا جس کو بعد کے زمانے میں علماءِ فلکیات (astronomers) نے دریافت کیا، یعنی زمین اپنے لمبے مدار (orbit) پر گردش کرنے کے علاوہ اپنے محور (axis) پر گھومتی ہے جس سے رات کے بعد دن پیدا ہوتے ہیں۔ مگر یہ بھی آخری بات نہ تھیں۔ اس دریافت نے انسان کے اندر مزید جستجو کے دروازے کھولے اور بعد کو خلائی اجرام کے بارے میں نئی نئی دریافتیں ہوئیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح تیسری صدی قبل مسیح میں یونان میں مشہور اسکالر ارشمیدس (Archimedes) پیدا ہوا۔ اس کے ہم عصر بادشاہ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اِس سوال کا جواب دے کہ کشتی پانی میں کیسے تیرتی ہے اور اس کا قانون کیا ہے۔ارشمیدس اِس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مشغول ہوگیا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ پانی کے ٹب میں نہا رہا تھا۔ اِس دوران ایک موقع پر اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کا جسم پانی کے اوپر تیر رہا ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے اس نے وہ سائنس دریافت کی جس کو ہائیڈرو اسٹیٹک (hydro static) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت کا خلاصہ یہ تھا کہ جب پانی میں کوئی چیز ڈالی جاتی ہے تو وہ پانی کی جتنی مقدار کو ہٹاتی (displace) ہے، اسی کے بقدر وہاں اوپری دباؤ (upward pressure) پیدا ہوتا ہے۔ اِسی فطری عمل کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ کشتی پانی میں تیرنے لگتی ہے
Hydrostatics: upward thrust exerted on a body immersed in fluid equals weight of fluid displaced.
اِس طرح، انسان ایک کے بعد ایک دریافتیں کرتا رہا، مگر یہ تمام دریافتیں طبیعیات کے دائرے میں تھیں۔ آخر کار معلوم ہوا کہ طبیعیات (physics)کے ماورا بھی ایک دنیا ہے۔ اِس فوق الطبیعی دنیا کے بارے میں عام ذرائع سے کچھ معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ اِس طرح ایک وقت آیا، جب کہ انسانی سائنس اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ اِس آخرى حدکے بعد علم کا جو اگلا مرحلہ ہے، اِس میں سائنس براہِ راست مددگار نہیں ہوسکتی۔
یہی وہ مقام ہے، جہاں سے پیغمبرانہ رہنمائی کی حد شروع ہوتی ہے۔آدمی طبیعیات کی دنیا میں بطور خود واقفیت حاصل کرسکتا ہے، لیکن بالائے طبیعیات جو دنیا ہے، اس کے بارے میں صرف پیغمبرکے ذریعے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پیغمبر، خدائی وحی کے ذریعے بولتا ہے، نہ کہ انسانی تجربات کے ذریعے۔ یہ پیغمبرانہ رہنمائی اب قرآن کی شکل میں موجود ہے جو محفوظ کلام الٰہی کی حیثیت رکھتا ہے۔
افکار کی تاریخ
فلسفے کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ قدیم یونان میںاس کا ابتدائی نشو ونما ہوا۔یونانی فلاسفہ عام طورپر یہ سمجھتے تھے کہ مادّہ (matter) قدیم ہے، یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ چوتھی صدی قبل مسیح کے یونانی فلسفی ارسطو (Aristotle)کا نظریہ یہی تھا۔ بعد کو یونان کے باہر بھی بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے، جنھوں نے فلسفے کے شعبے میں نمایاں کام انجام دیے۔ تاہم یہ تمام لوگ مادّہ (matter) کو قدیم سمجھنے میںمشترک (common)تھے۔مگر بیسویں صدی عيسوى کے نصف اول میں پہنچ کر کائنات کا یہ قدیم مادّی تصور (material concept) ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا، وہ برطانی عالمِ فلکیات سر جیمز جینز (وفات 1946) کے الفاظ میں یہ تھا علم کا دریا میکانکل حقیقت (mechanical reality) سے نان میکانکل حقیقت (non-mechanical reality) کی طرف چلا جا رہا ہے (The Mysterious Universe, p. 138) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ مادی تعبیر کے تحت یہ نظریہ بنا کہ ہمیں خدا جیسے کسی وجود کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ جس فکری ضرورت کے تحت خدا کے وجود کو مانا جارہا تھا، وہ خود اب مادہ (matter) کے ذریعے پوری ہورہی ہے۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ مادّہ نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا۔ تمام موجودات، مادّہ کے اندر اِسی طبیعی اور کیمیاوی سرگرمیوں (physical and chemical activities) کا نتیجہ ہیں۔
مگر بیسویں صدی کے رُبع اوّل میں بِگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ دریافت ہوا۔ بِگ بینگ کے نظریے نے بتایا کہ پندرہ بلین سال پہلے خلا میں ایک سُپر ایٹم ظاہر ہوا۔ پھر اچانک اس میں ایک دھماکہ (explosion) ہوا۔ اِس سُپر ایٹم کے بے شمار ذرات وسیع خلا میں بکھر گئے، پھر یہ ذرات مختلف فلکیاتی اَجسام (astronomical bodies) کی صورت میں اَن گنت تعداد میں اکھٹا ہوئے، اِس طرح ہماری کائنات وجودمیں آئی۔بِگ بینگ کے نظریے نے کائنات کی قدیم مادّی تعبیر کا خاتمہ کردیا۔ اب خالص علمی اعتبار سے یہ ماننا ممکن ہوگیا کہ اِس کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ وہی اس کو کنٹرول کررہا ہے اور وہی اس کو انتہائی با معنیٰ طورپر چلا رہا ہے۔
سر آئزاک نیوٹن (وفات 1727) کو ماڈرن سائنس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ نیوٹن کے بعد سائنس میں جو نیا دور آیا، اُس میں کچھ نئی حقیقتیں دریافت ہوئیں۔ انھیں میں سے ایک حقیقت وہ ہے جس کو ضابطۂ ناکارگی (Law of Entropy) کہا جاتا ہے۔ اِس طبیعی قانون نے یہ ثابت کیا کہ کائنات اپنی عمر کے لحاظ سے لا محدود (endless)نہیں ہے۔ اس کی ایک مدت ہے اور اِس مدت کے پورا ہونے پر اس کا خاتمہ ہوجائے گا۔
میری مراد اُس قانون سے ہے جس کو حرکیاتِ حرارت کا دوسرا قانون (second law of thermodynamics) کہا جاتا ہے۔ اِس طبیعی قانون کو دوسرے لفظوں میں، ضابطۂ ناكارگی (Law of Entropy) کہتے ہیں۔ یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہوسکتی۔ ضابطۂ ناکارگی بتاتا ہے کہ حرارت مسلسل با حرارت وجود سے بے حرارت وجود میں منتقل ہوتی رہتی ہے، مگر اِس چکر کو الٹا نہیں چلایا جاسکتا۔ ناکارگی، دستیاب توانائی (available energy) اور غیردستیاب توانائی (unavailable energy) کے درمیان تناسب کا نام ہے۔ اور اِس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اِس کائنات کی ناکارگی برابر بڑھ رہی ہے اور ایک وقت ایسا آنا مقدر ہے، جب کہ تمام موجودات کی حرارت یکساں ہوجائے گی اور کوئی کارآمد توانائی باقی نہ رہے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کیمیائی اور طبیعی عمل کا خاتمہ ہوجائے گا اور زندگی بھی اُسی کے ساتھ ختم ہوجائے گی۔ (تفصيل كے ليے ملاحظہ ہوGod Arises ، صفحہ 27)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مگر اکیسویں صدی کے آغاز میں صورتِ حال یک سر بدل گئی۔ پچھلے ہزاروں سال کے درمیان فلاسفہ اور مفکرین اور سائنس دانوں نے تہذیبی جنت کو وجود میں لانے کا جو خواب دیکھا تھا، وہ اپنی تکمیل سے پہلے ختم ہوگیا۔ ثابت شدہ حالات کے مطابق، اب اس کی تکمیل کا کوئی امکان نہیں۔
ہزاروں سال سے انسان کا یہ خواب تھا کہ وہ اپنے لیے اِس دنیا میں ایک بہتر زندگی بنائے۔ انسان کی اِس تمنا نے وہ چیز پیداکی جس کو تہذیب (civilization) کہاجاتا ہے۔ تہذیب کا یہ سفر اپنی واضح صورت میں اُس وقت شروع ہوا، جب کہ انسان نے پہیہ (wheel) دریافت کیا۔ لمبے سفر کے بعد تہذیب یہاں تک پہنچی کہ صنعتی انقلاب وجود میںآگیا اور انسان، موٹر کار اور ہوائی جہاز کے ذریعے تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر طے کرنے لگا۔
1970 میں الون ٹافلر کی کتاب فیوچر شاک (Future Shock) چھپی۔ اِس میں مصنف نے یہ اعلان کیا کہ انسانی تہذیب اب انڈسٹریل دور سے نکل کر سپر انڈسٹریل دور میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ گویا انسان کے تہذیبی سفر کا آخری مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کے تمام مادّی خواب پورے ہوجائیں گے اور انسان مادی راحت کے تمام سامان پالے گا، مگر جلد ہی گلوبل وارمنگ کا ظاہرہ سامنے آیا اور یہ منصوبہ تکمیل سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانے کی تمام مادی ترقیاں جدید صنعتی انقلاب کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں۔ یہ جدید صنعتی دور ،مشینوں کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔ پہلے انسان، فطرت کی پیداوار پر زندگی گزارتا تھا۔ فطرت کا کارخانہ کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر انسان کو اپنی پیداوار دے رہا تھا۔ مگر صنعتی دور میں انسانی ساخت کی مشینوں کو متحرک رکھنے کے لیے مسلسل ایندھن (fuel) کی ضرورت تھی۔ انسانی ساخت کی اِن مشینوں کے حرکت میں آنے سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ وہ کاربن ایمیشن (carbon emission) کا مسئلہ تھا۔ شروع میں یہ مسئلہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نظر نہیں آتا تھا، لیکن اکیسویں صدی عیسوی کے آتے ہی یہ مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کرگیا۔
مثال کے طورپر قدیم زمانے میںانسان، فطرت کے فراہم کردہ گھوڑے اور اونٹ پر سواری کرتا تھا۔ یہ گھوڑے اور اونٹ کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتے تھے۔ گھوڑے اور اونٹ فطرت کی پلوشن فری انڈسٹری (pollution free industry)میں پیدا ہوتے تھے اور خود بھی کوئی پلوشن (کثافت) پیدا کیے بغیر ساری عمر اپنا کام کرتے رہتے تھے۔اِس كے مقابلے ميں، موجودہ زمانے کى کار اورہوائی جہاز انسانی ساخت کے کارخانوں میں بنائے گئے ہیں۔ یہ کارخانے لازمی طورپر مہلک قسم کی فضائی کثافت پیدا کرتے ہیں۔ یہ کثافت اب بڑھتے بڑھتے اُس خطرناک نقطے تک پہنچ گئی ہے، جہاں سے اُس کے لیے واپسی ممکن نہیں۔اب انسان کے لیے اس کی تاریخ کا اگلا مرحلہ صرف یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا سے گزر کر اگلی دنیا میں پہنچ جائے۔
سورۃ التين كا پيغام
قرآن كى سورۃ التين ميں الله كے تخليقى منصوبه (creation plan of God) كو بتايا گيا هے۔ اِ س سوره كا متن اور ترجمه يه هے وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ وَطُوْرِ سِيْنِيْنَ وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ (95:1-8)۔ يعنى، قسم ہے تین کی اور زیتون کی اور طورِسینا کی اور اس امن والے شہر کی۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ لیکن جولوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔تو اب کیا ہے جس سے تم بدلہ ملنے کو جھٹلاتے ہو۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں۔قرآن كے اِس بيان كے مطابق، انسان كو بهترين شخصيت كے ساتھ پيدا كيا گيا، ليكن اس كے بعد انسان كو ايك ايسى دنيا ميں ڈال ديا گياجو انسان جيسى مخلوق كے ليے اسفل سافلين كى حيثيت ركھتى تھي
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
We have created man in the best of mould, then We cast him down as the lowest of the low.
Qur'anQuotes the Qur'an
اسفل سافلين ميں ڈالنے سے كيا مراد هے۔اِس كا جواب قرآن كى ايك آيت سے معلوم هوتا هے۔ قرآن ميں بتايا گيا هے كه آدم اور اُن كى بيوى حوا كو پيدا كرنے كے بعد پهلے جنت ميں ركھا گيا۔ اس كے بعد اُن كو (اور ان كى نسلوں كو)موجوده دنيا (planet earth)ميں منتقل كرديا گيا۔ اِس سلسلے ميں آيت كے الفاظ يه هيں قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا (2:38)۔ يعنى، هم نے كها كه تم سب يهاں سے اترو (زمين پر)۔قرآن كى اِن دونوں آيتوں ميں ايك گهرى مشابهت هے۔ ’’رددنا‘‘ اور ’’اهبطوا‘‘ دونوں قريب المعنى الفاظ هيں۔ اِ س لفظى مشابهت پر غور كرنے سے معلوم هوتا هے كه اسفل سافلين سے مراد يهى موجوده زمين هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه انسان كو جنتى مخلوق كى حيثيت سے پيدا كيا گيا ، پھر اس كو ايك مخصوص منصوبے كے تحت سيارهٔ زمين كے اوپر بسا دياگيا جو كه تخليق كے اعتبار سے، جنتى انسان كا هيبى ٹيٹ (habitat) نه تھا۔ اسفل سافلين سے مراد كوئى پراسرار چيز نهيں، اس سے مرادموجوده زمين هے جو انسان جيسى مخلوق كا مسكن (habitat) نهيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
هيبى ٹيٹ كى اهميت
هيبى ٹيٹ كيا هے۔ هيبى ٹيٹ ايك ارضياتى اصطلاح هے۔ اِس سے مراد وه جغرافى مقام هے جو كسى حيوان يا كسى پودے كے ليے فطرى طورپر موزوں هو
Habitat: The natural abode of an animal or plant.
گويا هيبى ٹيٹ زمين كا وه مخصوص علاقه هے جو كسى جان دار مخلوق كے ليے موزوں جاے قيام كى حيثيت ركھتا هو، جهاں وه حالات موجودهوں جس ميں كوئى جان دار مخلوق بھر پور طور پر نشوونما پاسكے۔
اخروى حقيقتوں كو قابلِ فهم بنانے كے ليے خالق نے دنيا كى زندگى ميں حيوانات كے هيبى ٹيٹ كا ظاهره (phenomenon) قائم كيا هے۔ حيوانات اپنے هيبى ٹيٹ ميں پرسكون طورپر رهتے هيں۔ هيبى ٹيٹ كے باهر ان كو سكون نهيں ملتا۔ اس كى ايك مثال مچھلى هے۔ مچھلى ايك جان دار مخلوق هے اور اس كا فطرى هيبى ٹيٹ پانى هے۔ مچھلى پانى كے اندر پرسكون طورپر رهتى هے، ليكن اگر مچھلى كو پانى كے باهر ركھ ديا جائے، مثلاً كسى محل ميں، كسى گارڈن ميں، كسى صوفه سيٹ پر، كسى كار يا هوائى جهاز ميں تو هر جگه وه تڑپتى رهے گي۔ ليكن جيسے هى آپ اس كو دريا يا سمندر ميں ڈاليں، وه فوراً پرسكون هو كر اس ميں تيرنے لگے گي۔ اِس كا سبب يه هے كه مچھلى اپنى ساخت كے اعتبار سے هوا سے آكسيجن نهيں لے سكتي۔ مچھلى كے ليے آكسيجن حاصل كرنے كا ذريعه صرف تحليل شده آكسيجن (dissolved oxygen) هے جو پانى كے اندر فطرى طورپر موجود هوتا هے۔
موجوده دنيا انسان كا هيبى ٹيٹ نهيں۔ انسان كے خالق نے انسان كو احسن تقويم پر پيدا كيا هے، جب كه موجوده دنيا اِس كے مطابق نهيں۔ انسان اور اس كے رهائشى سياره كے درميان اِسى تبايُن (disparity)كا يه نتيجه هے كه موجوده زمين انسان كا فطرى هيبى ٹيٹ نهيں۔ انسان كو اِس دنيا ميں اُس مچھلى كى طرح رهنا پڑتا هے جو پانى كے باهر كسى غير آبى جگه پر هو۔اگرچه اِس دنيا ميںپھل اور ميوے هيں، اگر چه اِس دنيا ميں سرسبز پهاڑ هيں، اگر چه اِس دنيا ميں متمدن آبادياں هيں، پھر بھى انسان كو اِس دنيا ميں ذهنى سكون حاصل نهيں۔ انسان اپنى زندگى كے اِس تباين پر غور كرے تو وه ايك عظيم حقيقت كو دريافت كرے گا، وه يه كه موجوده دنيا اس كا هيبى ٹيٹ نهيں۔
اسفل سافلين كيا هے
اِس نكتے كو ذهن ميں ركھ كر غور کیجیے تو معلوم هوگا كه اسفل سافلين سے مراد كوئى پراسرار چيز نهيں هے۔ اس سے مراد يهى موجوده زمين هے۔ موجوده زمين كا اسفل سافلين هونا خود زمين كى نسبت سے نهيں، بلكه وه انسان كى نسبت سے هے۔ انسان اپنى تخليق كے اعتبار سے، معيار پسند هے۔ موجوده زمين چونکہ هر اعتبار سے آئڈيل سے كم (less than ideal) هے، اِس ليے عملاًوه انسان جيسى مخلوق كے ليے اسفل سافلين بن جاتى هے۔اِس نكتے كى وضاحت كے بعد سورۃ التين كا پورا مفهوم واضح هوجاتاهے۔ اِس سوره كے ابتدائى الفاظ علامتى الفاظ هيں۔ اِس ميں انجير اور زيتون كے الفاظ سے زمين كى روئيدگى كى طرف اشاره كيا گيا هے، جس كى بنا پر يهاں پھل اور اناج جيسى چيزيں پيدا هوتى هيں۔ جبلِ طورسے مراد زمين كے ليے پهاڑوں كى وه اهميت هے جس كا ذكر قرآن كے مختلف مقامات پر كياگيا هے۔ بلدِ امين سے مراد موجوده زمين كى وه صلاحيت هے جس كى بنا پر يهاں شهر آباد هوتے هيں اور انسانى تهذيب ظهور ميں آتى هے۔
اصل يه هے كه موجوده زمين ايك استثنائى كره هے۔ يهاں جو حالات هيں، وه كائنات كے كسى اور كره پر موجودنهيں۔ مگر يهاں ايك فرق هے، وه يه كه انسان اپنى ذات ميں ايك معيار پسند مخلوق هے، جب كه موجوده زمين دار الامتحان كے طورپر بنائى گئى هے، اِس ليے وه انسانى معيار كے مطابق نهيں۔ يهى وجه هے كه موجوده دنيا انسان كے ليے عملاً دار الكبد بن جاتى هے، يعنى ايك ايسى دنيا جهاں انسان كو چين اور سكون حاصل نهيں۔يه صورتِ حال بتاتى هے كه انسان اور موجوده دنيا كے درميان ايك عدم مطابقت (disparity) پائى جاتى هے۔ موجوده زمين پر انسان كى حيثيت ايك ايسے طالب كى هے جس كا مطلوب اس كو يهاں حاصل نهيں ۔يه صورت حال بتاتى هے كه انسان اور موجوده دنيا كے درميان ايك عدم مطابقت (disparity) پائى جاتى هے۔ موجوده زمين پر انسان كى حيثيت ايك ايسے طالب كى هے جس كا مطلوب اس كو يهاں حاصل نهيں۔ يهى وجه هے كه اِس زمين پر پيدا هونے والے تمام عورت اور مرد بے سكونى كى زندگى گزارتے هيں اور اِسى حال ميں مر جاتے هيں۔ يهى وه حقيقت هے جس كو ايك حديث ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگياهے اللهمَّ لا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الآخِرَةِ ( صحيح مسلم،حدیث نمبر1805)۔ يعنى، انسان كو اس كى مطلوب زندگى تو صرف آخرت ميں مل سكتى هے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن كى اِس سوره ميں اسفل سافلين كا لفظ خارجى حالات كى نسبت سے نهيں آيا هے، بلكه وه انسان كى اپنى داخلى نفسيات كى نسبت سے آيا هے، يعنى ايك ايسى مخلوق جو اپنى تخليق كے اعتبار سے، احسنِ تقويم هے، اس كے ليے يه دنيا عملاً اسفل سافلين كے هم معنى بن جاتى هے۔ انسان كے ليے يهاں رهنا ايسا هى هے جيسے مچھلى كا پانى كے باهر رهنا۔
انسان اور موجوده دنيا كے درميان يه عدم مطابقت ايك سراغ (clue)هے۔ وه عدم مطابقت يه هے كه انسان اپنى تخليق كے اعتبار سے، جس هيبى ٹيٹ كا طالب هے، زمين اس كے ليے وه هيبى ٹيٹ نهيں۔ يه عدم مطابقت انسانى زندگى كا ايك ايسا پهلو هے جس پر غور كركے انسان ايك عظيم حقيقت كو دريافت كرسكتا هے، يعنى يه حقيقت كه انسان كى زندگى كا مقصد كيا هے اور اپنے آپ كو كامياب بنانے كے ليے اس كو كيا كرنا چاہیے ۔
سوره كے اگلے الفاظ اِسى بات كا جواب هيں۔ سوره كے اگلے الفاظ يه هيں اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ(95:6)۔ يعنى جو لوگ الله كے تخليقى منصوبے كو دريافت كريں اور اس كے مطابق، اپنى زندگى كى تشكيل كر يں تو موت كے بعد وه ايك ايسى دنيا (جنت) ميں داخل كيے جائيں گے، جو اُن كا مطلوب هيبى ٹيٹ هوگا اور اِس بنا پر وهاں عدم مطابقت كا مسئله باقى نه رهے گا۔ اِس دنيا ميں اُن كو اپنى مطلوب زندگى مل جائے گى جس كو قرآن ميں غير ممنون اجر (unending award) كهاگيا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اجر غير ممنون
قرآن كى اِس آيت ميں ’أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ‘ كا لفظ ايك ذو معنى لفظ هے، يعنى بلاغت كے اصول كے مطابق، اِس لفظ ميں مذكور معنى كے ساتھ ايك غير مذكور معنى بھى پوشيده هے، يعنى اجر غيرممنون كے ساتھ اجرِ ممنون كا تصور، يا غير منقطع اجر كے ساتھ منقطع اجر كا تصور۔
اِس آيت ميں آخرت كےاجر كو غير ممنون (غير منقطع) اجر بتايا گيا هے۔ يه لفظ دنيا كے اجر كے مقابلے ميں آيا هے، كيوں كه دنيا كااجر ممنون (منقطع) اجر هے اور آخرت كااجر، غير ممنون (غير منقطع) اجر هے۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه دنيا كا اجر عارضى اجر هے اور آخرت كا اجر ابدى اجر۔يه فرق بے حد اهم هے۔ حقيقت يه هے كه دنيا كے اجر كا ممنون (منقطع) اجر هونا هى وه چيز هے جو دنيا كو اسفل سافلين بنا ديتا هے، كيوں كه انسان كا معيار پسند ذهن معيار سے كم پر راضى نهيں هوتا۔ انسان اپنے مزاج كے اعتبار سے صرف معيار پر مطمئن هوسكتاهے، معيار سے كم پر مطمئن هونا به اعتبار مزاج اس كے ليے ممكن نهيں۔ انسان كا يهى مزاج هے جو موجوده دنيا كو اس كے ليے دار الكبد بنا ديتاهے۔ موجوده دنيا مطلق معنوں ميں دار الكبد نهيں هے۔ انسان كے معيار پسندانه ذهن كى بنا پر ايسا هوتا هے كه موجوده دنيا اس كو ايك ايسى جگه محسوس هونے لگتى هے جو گويا كه اس كے ليے دار الكبد هو۔ الله نے دنيا كو دار الكبد كے طورپر پيدا نهيں كيا هے، يه انسان كا اپنا مزاج هے جس كى بنا پر دنيا اس كو دار الكبد نظر آتى هے۔ يه معامله انسان كى نسبت سے هے، نه كه تخليق كى نسبت سے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سوره كے آخر ميں فرمايا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ ۔اِس كا مطلب يه هے كه انسان كى زندگى ميں جو عدم مطابقت هے يا طالب كو اس كا مطلوب حاصل نهيں، يه خالق كى حكيمانه شان كے خلاف هے۔ لازماً ايسا هونا چاهيے كه خالق كى حكيمانه شان كا ظهور هو، اِس عدم مطابقت كا خاتمه هو اور طالب كو اس كا مطلوب مل جائے۔ آخرت اِسى شانِ خداوندى كے ظهور كا دن هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خلاصهٔ كلام
سورۃ التين ميں جو بات ’رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ(95:5)‘ (پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا)— كے الفاظ ميں كهى گئى هے، وهى بات دوسرى سورتوں ميں دوسرے الفاظ ميں كهى گئى هے۔ مثلاً لَقَدْ خَلَقْنَا الْانْسَانَفِيْ كَبَدٍ ۭ(90:4)— یعنی، ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے— اور إنَّ الإنْسَانَ لَفِى خُسْرٍ(103:2)— یعنی، بیشک انسان گھاٹے میں ہے، وغيره۔ قرآن كے الفاظ پورى انسانى تاريخ پر منطبق هوتے هيں۔ اول دن سے اب تك جو عورت يا مرد اس كرهٔ ارض پر پيداهوئے، اُن سب كے ساتھ يهى واقعه پيش آ ٓيا كه آخر كار وه محدود مدت كے بعد مر گئے اور اُن كى بنائى هوئى دنيا بالكل اجڑ گئي۔ اِس معاملے ميں كسى بھى انسان كا كوئى استثنا نهيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاريخ كا يه تجربه ايك سواليه نشان هے، بلكه سب سے بڑا سواليه نشان، وه يه كه انسان احسنِ تقويم كى حيثيت سے پيدا هوتا هے۔ وه تمام مخلوقات ميں افضل مخلوق اور مكرم مخلوق هے۔ انسان واحد مخلوق هے جو اپنى ساخت كے اعتبار سے، معيار پسند (idealist)اور كمال پسند (perfectionist) واقع هوا هے۔يه انسانى شخصيت كا ايك پهلو هے۔ اس كا دوسرا پهلو يه هے كه انسان جس دنيا ميں پيدا هوتا هے، وه اس كا هيبى ٹيٹ نهيں۔ ايك سائنس داں كے الفاظ ميں، بظاهر ايسا محسوس هوتاهے كه انسان بھٹك كر ايك ايسى دنيا ميں آگيا هے جو اس كے ليے نهيں بنائى گئى تھي
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
It appears that man has strayed into a world that was not made for him.
انسان اور موجوده دنيا كے درميان يه عدم مطابقت هر عورت اور مرد كے ليے دعوتِ فكر كى حيثيت ركھتى هے۔ اگر آدمى حقيقى معنوں ميں حق كا متلاشى هو تو انسانى زندگى كا يه پهلو اس كے ليے ايك ايسا سراغ (clue) بن جائے گا جس پر غور كرتے هوئے وه زندگى كى اصل حقيقت كو دريافت كرلے۔ اِس دريافت كے بعد اس كو معلوم هوگا كه موجوده دنيا اس كے ليے صرف ايك عارضى قيام گاه هے، وه اس كا هيبى ٹيٹ نهيں۔ انسان كو چاهيے كه وه اپنے آپ كو اِس كا مستحق بنائے كه موت كے بعد اس كو ابدى جنت ميں داخله ملے جو كه انسان كا اصل هيبى ٹيٹ هے۔
جنت كى نرسرى
كسى انسان كے ليے اِس دنيا ميں سب سے پهلى جاننے كى چيز يه هے كه وه يه دريافت كرے كه جس هستى نے انسان كو اور اس دنيا كو بنايا هے، اس كى اسكيم آف تھنگس (scheme of things) كيا هے۔ قرآن خداكى كتاب هے۔ قرآن كے مطالعے سے جو چيز معلوم هوتى هے، وه يه هے كه خدا نے سب سے پهلے ايك وسيع اور معيارى دنيا بنائى جس كا نام جنت (Paradise) هے۔ پھر اس نے انسان كو پيدا كيا اور انسان كو اس جنت ميں بسايا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان كو خدا نے مكمل آزادى (freedom of choice) عطا كي۔ انسان سے يه مطلوب تھا كه وه خالق كا اعتراف كرے، وه خود اپنے اختيار سے سلف ڈسپلنڈ (self disciplined) زندگى گزارے۔ ليكن انسان اِس امتحان ميں پورا نهيں اترا۔ اُس نے آزاد ى كا غلط استعمال كيا۔ اس كے بعد خدا نے انسان كے بارے ميں دوسرا اصول مقرر كيا۔ پهلے انسان كو عمومى بنياد (general basis) پر جنت ميں بسايا گيا تھا، ليكن جب انسان مقرر كرده معيار پر پورا نهيں اترا تو اس كے بعد خدا نے يه طے كيا كه انسان كے ليے جنت كا فيصله انتخابى بنياد (selective basis) پر كيا جائے، يعنى صرف اُن افراد كو جنت ميں آباد كيا جائے جو سلف ڈسپلن (self discipline) كے مطلوب معيار پر پورے اتريں۔اس مقصد كے لیے خدا نے ابدى جنت كے سوا ايك اور عارضى دنيا بنائي۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
يه عارضى دنيا همارا موجوده سيارهٔ ارض (planet earth) هے۔ سيارهٔ ارض گوياابدى جنت كو فيڈ (feed) كرنے كے لیے عارضى قسم كى ايك زنده نرسرى (living nursery) هے۔ اس سيارهٔ ارض پر انسان گويا پودے (plants) كى مانند اگائے جاتے هيں۔ اُن كو يهاں كے مختلف حالات ميں محدود مدت كے لیے زندگى گزارنے كا موقع ديا جاتا هے۔ اِس مدت ميں انسان فرشتوں كے سپروژن (supervision) ميں هوتا هے۔ فرشتے مسلسل واچ (watch)كرتے هيں كه كوئى انسان مختلف حالات ميں كس قسم كا رسپانس (response)دے رها هے اور اپنے اندر كس قسم كى پرسنالٹى كى تشكيل كررها هے۔ پھر جو فرد (individual)اپنے قول وعمل سے يه ثابت كرتا هے كه وه مطلوب معيار كے مطابق هے، اس كو عارضى نرسرى سے نكال كر جنت کے ابدى باغ ميں نصب كرديا جاتا هے، تاكه وه وهاں جنت كے ماحول ميں فروغ پائے اور ابدى طورپر ترقى كا سفر طے كرتا رهے۔ موت وه دن هے جب كه كسى فرد كو سيارهٔ ارض سے ٹرانسفر كركے ابدى جنت ميں پهنچا ديا جائے۔
دو دنيائيں
قرآن كى سورۃ الذاريات ميں تخليق كا ايك اصول اِن الفاظ ميں بتايا گيا هے وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (51:49)۔ يعنى، هم نے هر چيز كو جوڑے جوڑے پيدا كيا هے، تاكه تم نصيحت حاصل كرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فطرت كا يه نظام هے كه يهاں تمام چيزيں جوڑے جوڑے كى صورت ميں پيدا كى گئى هيں۔ اِسى طرح موجوده دنيا بھى دو دنيا (pair world)كى صورت ميں بنائى گئى هے۔ سيارهٔ ارض (planet earth) اس كا ايك جوڑا هے۔ اس كا دوسرا جوڑا آخرت كى دنيا هے، جهاں جنت (paradise) واقع هے۔ جنت موجوده دنيا كا تكميلى حصه (complementary part) هے۔ جنت كے بغير موجوده دنيا ناقابلِ فهم هے، ليكن جنت كے ساتھ وه پورى طرح قابلِ فهم بن جاتى هے۔
جنت كى نرسرى
خالق نے ايك عظيم دنيا بنائي۔ يه دنيا هر لحاظ سے آئڈيل اور پرفكٹ تھي۔ اِس دنيا كا نام جنت هے۔ قرآن سے معلوم هوتا هے كه يه جنت آدم كى تخليق سے پهلے بنائى گئي(2:35)۔ اس كے بعد خالق نے چاها كه وه اُن عورتوں اور مردوں كا انتخاب كرے جو اِس جنتى دنيا ميں بسائے جانے كے قابل هوں۔ اِس مقصد كے ليے خالق نے سياره ارض بنايا ۔ يه سياره ارض گويا جنتى دنيا كى نرسرى (nursery) هے۔ نرسرى اُس مقام كو كها جاتا هے جهاں پودے اگائے جائيں اور پھر منتخب پودوں كو وهاں سے نكال كر اُن كو باغ ميں نصب كيا جائے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Nursery: A place where plants are reared for transplantation.
موجوده زمين اِسى قسم كى ايك نرسرى هے۔ يهاں مسلسل طورپر انسان پيدا كيے جارهے هيں۔ زمين پر وه تمام حالات ركھے گئے هيں جو نرسرى كى حيثيت سے اس كے تقاضے پورے كرنے والے هيں۔ هر عورت اور مرد اپنے عمل سے اپنے اندر مثبت شخصيت يا منفى شخصيت كى تعمير كررهے هيں۔ موت وه وقت هے جب كه ايك ’’پودا‘‘ اپنى مدت پورى كرنے پر نرسرى سے اكھاڑ دياجائے، پھر اگر وه نا مطلوب شخصيت بنا هے تو اس كو رد كرديا جائے اور اگر اس نے اپنے اندر مطلوب شخصيت كى تعمير كى هے تو اس كو وهاں سے نكال كر جنت ميں بسا ديا جائے — موجوده دنيا اِس ليے هے، تاكه يهاں ايك فرد اپنے آپ كو اسپريچول شخصيت كى حيثيت سے تيار (develop) كرے اور پھر جنت ميں وه اسپريچول تهذيب كا ابدى حصه بن جائے۔
جنت كى دنيا انسان كى اصل منزل هے۔ موجوده عارضى دنيا نرسرى (nursery) كى مانند هے۔ يهاں پيدا هونے والے عورت اور مرد كى حيثيت گويا نرسرى كے پودے كى هے۔ اِس محدود مدت ميں جو ’’پودے‘‘ صحت مندى كا ثبوت نه ديں، ان كو اكھاڑ كر پھينك ديا جائے گا اور جو ’’پودے‘‘ اپنى نشوو نما كے دوران صحت مند ثابت هوں، اُن كو باعزت طورپر موجوده عارضى دنيا سے منتقل كركے آخرت كى ابدى دنيا ميں پهنچا ديا جائے گا، يعنى جنت كى دنيا ميں۔اِس حقيقت كو ايك اور آيت ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ (67:2)۔ يعنى، الله، جس نے موت اور حيات كو پيدا كيا، تاكه وه تم كو جانچے كه تم ميں سے كون اچھا عمل كرتا هے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس كا مطلب يه هے كه زمين پر بے شمار عورت اور مرد پيدا هوتے هيں۔ وه محدود مدت تك زندگى گزار كر مرجاتے هيں، يه سارى بھيڑ خالق كا مطلوب نهيں۔ خالق كا مطلوب صرف وه فرد هے جو اِس امتحانى دورِ حيات ميں يه ثابت كرے كه وه پورے معنوں ميں احسن العمل (best in deeds) هے۔ زمين كى حيثيت نرسرى كى هے، اِس ليے يهاں هر قسم كے پودے اگتےهيں۔ ليكن جنت كى حيثيت مطلوب منزل كى هے، اِس ليے وهاں صرف وهى استثنائى افراد بسائے جائيں گے جن كو اُن كے ريكارڈ كى بنياد پر منتخب كيا جائے۔
موجوده دنيا ميں جو انسان پيدا هوتا هے، وه گويا نرسرى كا ايك پودا هے۔ايك محدود مدت تك وه اِس ابتدائى دنيا ميں رهتا هے۔ اِس دوران اُس كے ساتھ مختلف قسم كے حالات گزرتے هيں۔ يه حالات گويا اُس كے ليے تربيتى كورس (training course) هيں۔ يه حالات اس كو موقع ديتے هيں كه وه اپنے اندر مطلوب شخصيت كى تعمير كرے۔ موت اِس تربيتى كورس كے خاتمے كا اعلان هے۔ جو انسان اِس ملى هوئى مدت كے دوران اپنے اندر مطلوب شخصيت كى تعمير كرلے، اس كو نرسرى سے نكال كر دوسرى دنيا ميں ابدى طورپر بسا ديا جاتا هے۔ اور جو لوگ مطلوب انداز ميں اپنى تعمير نه كرسكيں، اُن كو نرسرى سے نكال كر باهر پھينك ديا جائے گا۔
اِس دنيا كے ليے خالق كا نشانه اجتماعى نهيں هے، بلكه انفرادى هے۔ اِس اعتبار سے، يه كهنا درست هوگا كه موجوده دنيا تعمير نظام كے ليے نهيں هے، بلكه وه تعمير شخصيت كے ليے هے۔ يهاں صرف تعميرِ شخصيت ممكن هے، آئڈيل معنوں ميں تعميرِ نظام يهاں سرے سے ممكن هى نهيں۔انسانى زندگى كى يهى تعبير صحيح تعبير هے۔ اِس كے صحيح هونے كا ثبوت يه هے كه اس كو ماننے كى صورت ميں زندگى كے تمام سوالات كا قابلِ فهم جواب مل جاتا هے
With this description of human life, everything falls into place.
ايك حديث
تخليق كا يه منصوبه قرآن وحديث ميں مختلف انداز سے بتايا گيا هے۔ ايك روايت حديث كى مختلف كتابوں ميں الفاظ كے معمولى فرق كےساتھ آئى هے۔ اِس سلسلے كى دو روايتيں يه هيں
1۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قالَ قالَ رَسُولُ اللهِ صلّى اللهُ عليهِ وسلّم لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بي۔فَقالَيا مُحَمَّدُ، أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ، عَذْبَةُ المَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ، وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحانَ اللهِ، وَالحَمْدُ للهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ(سنن الترمذي،حدیث نمبر 105)۔ یعنی، حضرت عبد الله بن مسعود كهتے هيں كه رسول الله صلى عليه وسلم نے فرمايا كه معراج كى رات ميں ميرى ملاقات حضرت ابراهيم سے هوئي۔ انھوں نے كها كه اے محمد، اپنى امت كو ميرا سلام پهنچا دو۔ اور اُن كو بتاؤ كه جنت كى مٹى بهت پاكيزه مٹى هے، اس كا پانى بهت ميٹھا هے اور وه ايك هموار ميدان هے ۔ اس كا پودا سُبْحانَ اللهِ، وَالحَمْدُ للهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُهے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
2۔ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلّى اللهُ عليهِ وسلّم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، فَقالَ مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ؟ قالَهَذَا مُحَمَّدٌ۔ فَقالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُمُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ۔ قالَوَمَا غِرَاسُ الجَنَّةِ؟ قالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ (مسند احمد، حدیث نمبر7966)۔یعنی، حضرت ابو ايوب انصارى كهتے هيں كه رسول الله صلى الله عليه وسلم معراج كى رات ميں حضرت ابراهيم كے پاس سے گزرے۔ انھوں نے كها كه اے جبريل، يه تمھارے ساتھ كون هيں۔ جبريل نے كها كه يه محمد هيں۔ حضرت ابراهيم نے آپ سے كها كه اپنى امت كو بتاؤ كه وه جنت ميں كثرت سے پودے لگائيں، كيوں كه جنت كى مٹى بهت پاكيزه هے اور اس كى زمين بهت وسيع هے۔ آپ نے پوچھا كه جنت كا پودا كيا هے؟ حضرت ابراهيم نے كها كه لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مذكوره روايات ميںجنت كے ليے دو الفاظ استعمال هوئے هيں— قيعان اور ارضِ واسعه۔ دونوں كا مفهوم ايك هے، يعنى وسيع اور هموار زمين۔ يه تمثيل كى زبان ميں جنت كى اصل حقيقت كا بيان هے۔ اِس معاملے كى تفصيل يه هے كه الله نے يه چاها كه وه ايك اعلى مخلوق پيدا كرے اور پھر اِس مخلوق كو وه اپنى اعلى ترين نعمت سے نوازے۔ اِس منصوبے كے تحت، الله نے ايك معيارى دنيا بنائي۔ يه دنيا اپنى وسعت كے اعتبار سے، اپنے آپ ميں ايك مكمل كائنات تھي۔ اِس ميں هر قسم كے اعلى امكانات ركھے گئے تھے۔ اِس ميں نه صرف هر قسم كى نعمتيں تھيں، بلكه اس ميں اعلى ترقى كے ابدى مواقع موجود تھے۔
اس كے بعد الله نے انسان كو پيداكيا اور اس كو مكمل آزادى عطا كي۔ جنت اِسى انسان كے فطرى هيبى ٹيٹ (natural habitat) كے طورپر بنائى گئى هے۔ اِس جنت ميں انسان كا داخله انتخاب (selection) كى بنياد پر مقرر كيا گيا۔ موجوده سياره ارض اِس مقصد كے ليے سليكشن گراؤنڈ يا نرسرى كى حيثيت ركھتاهے۔ انسان كو پيدا كركے اس كو مكمل آزادى دے دى گئى هے۔ آزادى كے اِس ماحول ميں جو عورت يا مرد اپنے آپ كو جنت كى دنيا ميں بسائے جانے كا مستحق ثابت كريں، اُن كو منتخب كركے يه موقع ديا جائے گا كه وه جنت ميں آباد هو كر مزيد ترقى كى منزليں طے كريں۔ اِس كے برعكس، جو افراد زمينى زندگى كے امتحان ميں ناكام هوجائيں، اُن كو رد كركے كائناتى كوڑے خانے ميں پھينك ديا جائے۔
مذكوره حديثِ رسول ميں تمثيل كى زبان ميں بتايا گيا هے كه جنت كا معامله كيا هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه جنت الله كے سچے بندوں كے رهنے كى بهترين جگه هے۔ وه ايك عالى شان رهائش گاه هے، مگر اپنى ابتدائى صورت ميں وه ايك غير آباد جگه هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس ابدى جنت كى آبادكارى كے ليے الله تعالى نے يه انتظام كيا كه موجود سياره ارض كو ايك نرسرى يا سليكشن گراؤنڈ كے طورپر بنايا۔ موجوده زمين پر جو عورت اور مرد پيدا هوتے هيں، وه گويا نرسرى ميں لگائے جانے والے پودے هيں۔ ان پودوں ميں جو پودا يه ثابت كرے گا كه وه صحت مند پودا (healthy plant) هے، اس كو دنيا كى نرسرى سے نكال كر جنت كے زياده بهتر اور ابدى مقام پر نصب كرديا جائے گا، تاكه وه وهاں كے بهتر ماحول ميں پرورش پاكر مزيد ترقى كرے اور ابدى طورپر جنت كے شاداب باغ كا حصه بن جائے۔
اِس حديث ميں جن كلمات (سُبْحانَ اللهِ، وَالحَمْدُ للهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ) كا ذكر هے، وه به اعتبار لفظ مرادنهيں هيں، بلكه وه باعتبارِ معنى مراد هيں، يعنى اِن الفاظ ميں جس آئڈيالوجى كا ذكر هے، يه الفاظ جس معرفت كى نمائندگى كرتے هيں، وه جس طرزِ فكر (way of thinking) كو بتاتے هيں، اُس كے مطابق، اپنى سوچ كو بنانا، اس كے مطابق، اپنى شخصيت كى تعمير كرنا، اِن كلمات كى اسپرٹ كو پنے دل ودماغ ميں اتارنا، يهاں تك كه آدمى ربانى صفات والا انسان بن جائے۔ جو آدمى قبل از موت دورِ حيات ميں اِن كلمات كے تقاضے كے مطابق، اپنے آپ كو ڈھالے گا، وه بعد از موت دورِ حيات ميں خدا كے اُس باغ ميں بسنے كا مستحق قرار پائے گا جس كو جنت (paradise)كهاجاتا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن ميں جنت كا ذكر تفصيل كے ساتھ آيا هے۔ قرآن ايك اعتبار سے، جنت كا تعارف هے۔ يه تعارف اتنے موثر انداز ميں هے كه اس كو پڑھنے والا آدمى گويا جنت كو اپنى آنكھوں سے ديكھنے لگتا هے۔ اگر آپ اِس اعتبار سے، قرآن كا تتبع كريں اور جنت كى آيتوں كو يكجا كركےاس كا مطالعه كريں تو آپ كے اندر شديد طورپر يه جذبه ابھرے گا كه آپ جنت كو اپنى منزل بناليں، آپ كى تمام سرگرميوں كا رخ جنت كى طرف هوجائے گا۔ جيسا كه قرآن ميںارشاد هوا هے لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ(37:61)۔یعنی، ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابدى عمر، ابدى صحت، ابدى امن
قرآن اور حديث ميں جنت اور اهلِ جنت كا تذكره نهايت تفصيل كے ساتھ آيا هے۔ اِس كے مطالعے سے معلوم هوتا هے كه جنت ميں ابدى طورپر هر قسم كى نعمتيں كمال درجے ميں موجود هوں گي۔ وهاں انسان كى هر اشتها (desire) كى تكميل كا سامان هوگا۔ وهاں انسان كو كامل معنوں ميں فل فِل مينٹ (fulfulment) حاصل هوگا۔ جنت ميں انسان كے ليے يه موقع هوگا كه وه مسلسل طورپر وهاں كى نعمتوں كو انجوائے كرے اور كبھى بورڈم كا شكار نه هو۔ جنت هر اعتبار سے اهلِ جنت كے ليے آئڈيل اور پرفكٹ دنيا هوگي۔
مگر اِس معاملے كا دوسرا پهلو يه هے كه انسان اپنے موجوده وجود كے ساتھ جنت كى نعمتوں سے حقيقى معنوں ميں محظوظ نهيں هوسكتا۔ اِس ليے كه موجوده دنيا ميں انسان كو جو وجود ملا هے، وه هر اعتبار سے، ايك محدود وجود هے— اِس وجود پر بڑھاپا آتا هے،يه وجود بيمارى اور حادثات سے دوچار هوتا هے، يه وجود زوال (de-generation) كا شكار هوتا هے، اِس وجود پر موت طارى هوتى هے، اِس وجود كے آرگن (organs) كمز ور وناكاره هوتے رهتے هيں، اِس وجود پر نيند اور تھكاوٹ طارى هوتى هے، اِس وجود كے حواس (senses) معطل هوتے رهتے هيں، وغيره۔
ايسى حالت ميں انسان كو اگر جنت اِس طرح ملے كه جنت ميں هر قسم كا سامانِ عيش تو كامل طورپر موجود هو، ليكن انسان كا وجود يهى موجوده دنيا والا وجود هو، جو كه هر قسم كى كمزوريوں (weaknesses)كا شكار هوتا هے، اس كو هر قسم كى محدوديت (limitations) لاحق هوتى هے، اس كو بدستور جسمانى زوال (physical degeneration) پيش آتا رهے، جيساكه وه اِس دنيا ميں پيش آتاتھا۔ اگر ايسا هو تو انسان كے ليے جنت اينٹ پتھر كا ايك ڈھير بن جائے گي، وه اس كے ليے لذت اور خوشى كى جگه ثابت نه هوگي۔ جنت انسان كے ليے صرف اُس وقت جنت هے جب كه وه خود جنت سے انجوائے كرنے كى طاقت ركھتا هو۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اگر انسان كے اپنے اندر جنت سے انجوائے كرنے كى طاقت نه هو تو جنت اس كے ليے بلا شبه ايك مصيبت خانه هوگي، نه كه كوئى عيش خانه۔ جنت اسى طرح اس كے ليے ايك دار الكبد هوگى، جيسا كه موجوده دنيا اس كے ليے دار الكبدتھي۔ اِس كا تقاضا هے كه اهلِ جنت كو آخرت ميں جنت كے ساتھ ايك نيا وجود بھى عطا كيا جائے، ايسا وجود جو ابدى عمر ركھتا هو، اس كو ايسى صحت ملے جو بھر پور صحت (health in full swing) كى حامل هو۔
قرآن سے معلوم هوتا هے كه جو شخص موجوده دنيا كى زندگى ميں اپنے آپ كو ر وحانى اعتبار سے، مطهَّر شخصيت (spiritually purified personality) كى حيثيت سے ڈيولپ (develop) كرے، اس كو آخرت ميں الله كے خصوصى عطيه كے طو رپر جسمانى اعتبار سے، مطهَّر شخصيت (physically purified personality) حاصل هوگي۔ ايسى شخصيت اپنى اعلى صلاحيتوں كے اعتبار سے، كامل صفات كى حامل هوگي۔ وه اِس قابل هوگى كه جنت كى نعمتوں سے بھر پور طور پر خط (enjoyment) حاصل كرے، وه كسى بھى پهلو سے محدوديت (limitation) اور ڈس ايڈوانٹج(disadvantage) ميں مبتلا نه هو، وه ابدى طورپر كامل فل فل مينٹ (fulfilment) كے احساس ميں جيتا رهے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
چنانچہ حديث ميں بتايا گيا هے كه جنتى انسان هميشه جوانى كى عمر (youth age) ميں رهيں گے، جيسے كه وه صرف 30 سال كى عمر كے هوں۔ وه هر اُس جسمانى كمزورى (physical weakeness) سے مكمل طورپر پاك هوں گے جو دنيا كى زندگى ميں اُن كے جسم كا لازمى حصه تھي۔
hadithQuotes a hadith
اِسى طرح جنت كےباشندے هر قسم كى جسمانى كمى سے پاك هوں گے۔ مثلاً وه كبھى بيمار نهيں هوں گے۔اُن كو بول وبر از كى حاجت نه هوگي۔ اهلِ جنت كو جو جسم ملے گا، وه ايسا جسم هوگا جو ابدى طورپر شباب كى حالت ميں رهے گا۔ اس پر نيند اور تھكاوٹ اور بڑھاپا طارى نهيں هوگا۔ جنت ميں اهلِ جنت كو خطاب كركے يه اعلان كيا جائے گا كه اب تم هميشه صحت مند رهوگے، كبھى بيمار نه هوگے۔ اب تم هميشه زنده رهو گے، كبھى تم پر موت نه آئے گي۔ اب تم هميشه جوان رهوگے، كبھى تم بوڑھے نه هوگے۔ اب تم هميشه خوش حال رهوگے، كبھى تنگى ميں مبتلا نه هوگے، وغيره۔ (تفصيل كے ليے ملاحظه هو مِشْكَاةُ المَصَابِيحِ ، جلد 3،كِتَابُ أَحْوَالِ القِيَامَةِ وَبِدْءِ الخَلْقِ، بَابُ صِفَةِ الجَنَّةِ وَأَهْلِهَا)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقيقت يه هے كه جنت اور انسان دونوں ايك دوسرے كے ليے پيدا كيے گئے هيں۔ جنت مكمل طورپر انسان كے مطابقِ حال هے اور انسان مكمل طورپر جنت كے مطابقِ حال۔ جنت انسان كا هيبى ٹيٹ (habitat) هے اور انسان جنت كا مطلوب باشنده (citizen)۔ انسان كے بغير جنت كا وجود ادھورا هے اور جنت كے بغير انسان كا وجود ادھورا۔ دونوں ايك دوسرے كے ليے طالب اور مطلوب كى حيثيت ركھتے هيں۔ جنت كے بغير انسان كى زندگى بے معنى هے اور انسان كے بغير جنت كے وجود كى كوئى معنويت نهيں۔ يه طالب اور مطلوب دونوں آخرت ميں اكھٹا كيے جائيں گے اور اس كے بعد ابدى طورپر ايك دورِ كمال شروع هوگا، جس كى خوشياں كبھى ختم نه هوں گي، اور نه اس كى رونق پر كبھى زوال آئے گا۔ يه جنت انسان كا انتظار كررهى هے، ليكن اِس جنت ميں داخله صرف اُس انسان كو ملے گا جو اپنے آپ كو اس كا مستحق ثابت كرے۔
كلماتِ ذكر كى حقيقت
مذكوره روايات ميں پانچ كلمات كا ذكر هے۔ وه كلمات يه هيں — سُبْحانَ اللهِ، وَالحَمْدُ للهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔ اِن كلمات كے جو الفاظ هيں، وه محض الفاظ نهيں هيں، بلكه وه گهرے معانى كو بتارهے هيں اور يه الفاظ اپنے اِنھيں گهرے معانى كے اعتبار سے مطلوب هيں، نه كه محض الفاظ كے اعتبار سے، يعنى اُن كا فائده محض اُن كى لفظى تكرار ميں نهيں هے، بلكه ان كى اسپرٹ يا ان كى معنويت كو اپنانے ميں هے۔
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَكيا هے۔ وه اِس حقيقت كا اظهار هے كه الله تمام طاقتوں كا مالك (all-powerful) هے۔ ’سُبْحانَ اللهِ‘ كيا هے سبحان الله اِس حقيقت كى دريافت هے كه خدا هر قسم كے عيب اور نقص سے كامل طورپر پاك هے۔ الحَمْدُ لِلهِ كيا هے۔ الحمد لله دراصل يه هے كه ايك صاحبِ معرفت آدمى الله كے كمالات كو دريافت كركے اس كا شعورى اعتراف كرے۔ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُكيا هے۔ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ دراصل تمام معبودوں كو رد كركے الله كو معبودِ حقيقى كے طورپر دريافت كرنے كا دوسرا نام هے۔ اللهُ أَكْبَرُ كيا هے۔ يه وه عارفانه كلمه هے جو ايك شخص كى زبان سے اُس وقت بے تابانه طور پر نكل پڑتا هے، جب كه وه تدبر كے نتيجے ميں الله كے مقامِ عظمت كو دريافت كرے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
يه كلمات دراصل ذكرِ الٰہی كے كلمات هيں۔ ذكر كى حقيقت معرفت هے اور معرفتِ الٰہی بلا شبه سب سے بڑى نيكى (virtue) هے۔ ليكن معرفت كوئى ساده چيز نهيں۔ معرفت سے پهلے دريافت هے۔ دريافت سے پهلے تدبر هے، تدبر سے پهلے يكسوئى (concentration) هے، يكسوئى سے پهلے سنجيدگى هے۔ آدمى سب سے پهلے سنجيدگى كا ثبوت ديتاهے، پھر وه اپنے ذهن كو غير متعلق چيزوں سے يكسو كرتاهے، اس كے بعد وه غور وفكر كرتاهے، جس كو تدبر كها جاتا هے۔ تدبر اس كو دريافت تك پهنچاتا هے اور دريافت معرفت تك۔سنجيده تفكر كے ان مراحل سے گزر نے كے بعد جب كسى انسان كو الله رب العالمين كى معرفت حاصل هوتى هے تو اس كے ذهن ميں ايك فكرى بھونچال آتا هے، اس كے اندر حقيقت شناسى كا ايك سيلاب امنڈپڑتا هے۔ يه ربانى كيفيت جب ايك انسان كى زبان سے بے تابانه طورپر ظاهر هوتى هے تو اسى كا نام ذكر الٰہی هے۔
يه كلمات دراصل اُس شعورى عمل (intellectual process) كو بتاتے هيں جو ايك صاحبِ ايمان كے اندر موجوده دنيا ميں جارى هوتاهے۔ موجوده دنيا ميں زندگى گزارتے هوئے ايك صاحبِ ايمان پر مختلف احوال اور تجربات گزرتے هيں۔ اگر اس كے اندر ايمانى شعور زنده هو تو يه تمام احوال وتجربات اس كے ليے رزقِ رب كا ذريعه بنتے رهيں گے۔ آخر كار وه اُس مطلوب انسان كا درجه حاصل كر لے گا جو آخرت كى جنت ميں داخلے كے ليے ايك مستحق اميدوار (deserving candidate) كى حيثيت ركھتا هے۔
قرآن كا موضوع
قرآن خالقِ كائنات كى كتاب هے۔ قرآن كا موضوع (subject) يه هے كه انسان كے بارے ميں الله كے تخليقى منصوبه سے اس كو آگاه كيا جائے۔ قرآن كے تمام بيانات براهِ راست يا بالواسطه طورپر اِسى معاملے كى وضاحت هيں۔ مثلاً قرآن كى سوره ابراهيم ميں بتايا گياهے كه انسان دو قسم كے هوتے هيں— ايك انسان وه هے جو اپنى زندگى كى تعمير ’كلمهٔ طيبه‘ (14:24) كى بنياد پر كرے اور دوسرا انسان وه هے جو ’كلمه خبيثه‘ (14:26) كى بنياد پر اپنے آپ كو كھڑا كرے۔ قرآن ميں بتايا گيا هے كه جو انسان اپنى زندگى كى تعمير ’كلمهٔ طيبه‘ كى بنياد پر كرے، وه موجوده دنيا ميں بھى اپنا رزق پائے گا اور موت كے بعد كى زندگى ميںاس كو اعلى مقامات حاصل هوں گے۔ اِس كے برعكس، جو آدمى ’كلمهٔ خبيثه‘ كو اپنى زندگى كى بنياد بنائے، اس كو استحكام حاصل نهيں هوگا، اس كو غير صحت مند پودے كى طرح اكھاڑ كر پھينك ديا جائے گا، وه جنت ميں داخلے كے ليے نا اهل قرار پائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاريخ كا يه عجيب الميه هے كه انسانوں كى بڑى اكثريت نے اِس تخليقى حكمت كو نظر انداز كيا ، انھوں نے اپنے آپ كو آخرت كے اعتبار سے نهيں بنايا، وه موجوده دنيا كى ظاهرى چيزوں ميں پھنس كر ره گئے۔ اِسى حقيقت كو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كيا گيا هے إِنَّ هٰؤُلَاءِ يُحِبُّونَ العَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَاءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا (76:27)۔ یعنی، یہ لوگ جلدی ملنے والی چیز کو چاہتے ہیں اور انھوں نے چھوڑ رکھا ہے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاريخ كا تجربه
تاريخ كے هر دور ميں تمام سوچنے والے انسان ايك هى آبسيشن (obsession) ميں مبتلا رهے هيں — موجوده دنيا كو كس طرح بهتر دنيا بنايا جائے۔ هر دور كے انسانوں كا يه ايك مشترك خواب رها هے۔ مذهبى لوگ اپنے اِس خواب كے ليے صالح نظام كى اصطلاح استعمال كرتے هيں اور سيكولر لوگ اس كو آئڈيل سسٹم كا نام ديتے هيں۔ تاريخ ميں جتنى كتابيں لكھى گئى هيں، خواه وه فكشن هو يا نان فكشن ، تقريباً ان سب كا خلاصه يهى هے۔ كوئى كتاب براهِ راست طورپر اِس موضوع پر لكھى گئى هے اور كوئى كتاب بالواسطه طورپر اِس موضوع سے متعلق هے۔
يه بھى ايك واقعه هے كه تاريخ كى تمام سرگرميوں كا نشانه (goal) عملاً يهى ايك تھا۔ مگر قابلِ غور بات يه هے كه اِس سلسلے كى تمام انسانى سرگرمياں نتيجے كے اعتبار سے، ناكام هوكر ره گئيں، كوئى بھى كوشش اپنے مطلوب نشانے تك نهيں پهنچي، نه سيكولر لوگ اپنا مفروضه آئڈيل سسٹم بنا سكے اور نه مذهبى لوگ اپنا مذكوره صالح نظام بنانے ميں كامياب هوئے۔ يه انسانى تاريخ كا سب سے بڑا سوال هے۔ اِس سوال كا جواب معلوم كرنا خود انسان كے وجود كى معنويت كو معلوم كرنا هے اور بلا شبه اِس سے بڑى كوئى دريافت (discovery) نهيں هوسكتى كه انسانى وجود كى معنويت كو حقيقى طورپر دريافت كيا جائے۔سيكولر مفكرين اور مذهبى مصلحين كى اِس عمومى ناكامى كا سبب يه هے كه ان كا منصوبه خالق كے منصوبه تخليق سے مطابقت نهيں ركھتا تھا، اور جو منصوبه خالق كے تخليقى نقشےكے مطابق نه هو، اس كے ليے اِس دنيا ميں ناكامى كے سوا كوئى اور انجام مقدر نهيں۔خالق كے منصوبے كے مطابق، يه دنيا ايك جوڑا دنيا (pair world) كى صورت ميں بنائى گئى هے۔ ايك دنيا دوسرى دنيا كا تكمله (complement)هے۔ اِس تخليقى منصوبے كے مطابق، كرهٔ ارض (planet earth) كى حيثيت ايك وقتى نرسرى (nursery) كى هے، اور دوسرى دنيا كى حيثيت ايك ابدى باغ (eternal garden) كى ، جس كو معروف طورپر جنت (paradise) كهاجاتا هے۔
خلاصهٔ كلام
قرآن ميں جنت كى تخليق كے ليے ماضى كا صيغه استعمال كيا گيا هے۔ مثلاً أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْن (3:133)۔ يعنى، جنت اهلِ تقوى كے ليے تيار كى گئى هے۔ اور فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِى لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ (32:17)۔ يعنى، كسى كو نهيں معلوم كه اُن كے ليے اُن كے اعمال كے صلے ميں آنكھوں كى كيا ٹھنڈك چھپا ركھى گئى هے، وغيره۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سے معلوم هوتا هے كه خالق نے اپنے منصوبے كے مطابق، پهلے جنت كى دنيا بنائي۔ اس كے بعد اهلِ جنت كا انتخاب كرنے كے ليے موجوده سيارهٔ ارض كو بنايا، جو كه دراصل جنت كى ابدى دنيا كے ليے ايك عارضى نرسرى كى حيثيت ركھتا تھا۔ اِس عارضى نرسرى ميں عورت اورمرد محدود مدت كے ليے پيدا كيے جاتے هيں۔ منصوبه تخليق كے مطابق، جب انسانوں كى تعداد پورى هوجائے گي، اُس وقت سياره ارض پر قيامت كا زلزله آئے گا اور اس كى موجوده حيثيت كا خاتمه هوجائے گا۔
انسان كو موجوده دنيا ميں بسنے كے ليے صرف محدود قت ملتا هے۔ موجوده دنيا ميں انسان كى عمر كا اوسط تقريباً 70 سال هے۔ اِس مدت ميں جو افراد اپنے اندر مطلوب شخصيت كى تعمير كرتے هيں، اُن كو موت كے بعد لے جاكر جنت كى دنيا ميں آباد كرديا جاتا هے اور جو عورت يا مرد اپنے اندر مطلوب شخصيت كى تعمير ميں ناكام رهتے هيں، اُن كو ’’خبيث پودے‘‘ كى مانند اكھاڑ كر پھينك دياجاتا هے۔ زمين كى صورت ميں جو نرسرى بنائى گئى هے، وه صرف عارضى مدت كے ليے هے، اور جنت كى صورت ميں جو معيارى دنيا بنائى گئى هے، وه ابدى هے، وه كبھى ختم هونے والى نهيں۔
تهذيب كے دو دھارے
تهذيب (civilization) كے لفظ سے عام طورپر صرف ايك چيز مراد لى جاتى هے اور وه مادى تهذيب هے۔ مگر حقيقت يه هے كه تهذيب كے دو دھارے هيں جو مسلسل طورپر تاريخ ميں جارى رهے هيں۔پهلے دھارے كو مادى تهذيب (material civilization) كهاجاتا هے۔دوسرے دھارے كو روحانى تهذيب (spiritual civilization) كهه سكتے هيں۔ روحانى تهذيب سے مراد كوئى مبهم چيز نهيں۔ اِس سے مراد عين وهى چيز هے جو پيغمبروں كى هدايت كے ذريعے تاريخ ميں قائم هوئي۔ روحانى تهذيب كا لفظ هم نے صرف اِس ليےاستعمال كيا هے كه وه لوگوں كے ليے قريب الفهم هے۔
مادى تهذيب كا دھارا ايك دكھائى دينے والا دھارا (visible stream) هے، اِس ليے هر آدمى اس سے واقف هے۔ اِس كے برعكس، روحانى تهذيب كا دھارا ايك نه دكھائى دينے والا دھارا (invisible stream) هے، اِس ليے اُس كو صرف گهرے غوروفكر كے ذريعے معلوم كيا جاسكتا هے۔ دونوں كے درميان يه فرق ايسا هى هے جيسے ايك انسان كے وجود ميں دو چيزوں كا فرق۔ انسانى وجود كا ايك پهلو اس كا مادى جسم هے جو پورى طرح دكھائى ديتا هے۔ اس كے وجود كا دوسرا حصه روح (soul) هے جو كه پورى طرح موجود هوتى هے، ليكن بظاهر وه دكھائى نهيں ديتي۔
مادى تهذيب، مادى امكانيات كو انفولڈ كركے وجود ميں آتى هے۔ سمجھا جاتاهے كه مادى تهذيب اب سے تقريباً 6 هزار سال پهلے ميسوپوٹاميا (Mesopotamia) كے علاقے ميں ابتدائى طورپر شروع هوئي، پھر وه ترقى كرتے كرتے موجوده تكميلى دور تك پهنچي۔
يهى معامله روحانى تهذيب يا اسپريچول تهذيب كا هے۔ روحانى تهذيب بھى كچھ امكانيات كو انفولڈ كركے وجود ميں آتى هے، ليكن دونوں كے درميان ايك فرق هے۔ مادى تهذيب كا واقعه اجتماع يا سوسائٹى كى سطح پر وجود ميں آتا۔ اِس كے برعكس، روحانى تهذيب كا واقعه ايك انفرادى واقعه هے اور وه فرد كى سطح پر وجود ميں آتا هے۔ فردكے اندر ذهنى بے داري، فرد كے اندر مقصدِ اعلى كا شعور، فرد كے اندر خدا كے ليے حب شديد اور خوفِ شديد، فرد كے اندر جنت كا اشتياق، وغيره۔
روحانى تهذيب فرد كے اندر مذكوره قسم كے غير مرئى (invisible) فكرى انقلاب سے شروع هوتى هے، پھر وه ترقى كركے ربانى شخصيت تك پهنچتى هے۔ اِس طرح كے افراد هر دور اور هر زمانے ميں برابر پيدا هوتے هيں۔ اِن افراد كى سطح پر روحانى تهذيب كا غير مرئى دھارا نسل درنسل چلتا رهتاهے۔ مادى تهذيب اگر اجتماعى اداروں (social organisations) كى سطح پر چلتى هے تو روحانى تهذيب افراد كى داخلى كيفيات اور افكار كى سطح پر جارى رهتى هے۔
قرآن كا حواله
قرآن تاريخ تهذيب كى كتاب نهيں، ليكن قرآن ميں دونوں قسم كى تهذيبوں كے بارے ميں اشاراتى حوالے موجود هيں۔ قرآن كى آيتوں ميں تدبر كركے ان كو سمجھا جاسكتا هے۔ جهاں تك مادى تهذيب كى بات هے، اس كا اشاراتى حواله قرآن كى سورۃ الروم ميں اِن الفاظ ميں آيا هے اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَعَمَرُوْهَآ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَجَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۭ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ (30:9)۔ يعنى، كيا وه زمين ميں چلے پھرے نهيں كه وه ديكھتے كه كيا انجام هوا اُن لوگوں كا جو اُن سے پهلے تھے۔ وه ان سے زياده طاقت ركھتے تھے۔ اور انھوں نے زمين كو جوتا اور اس كو اُس سے زياده آباد كيا جتنا انھوں نے آباد كيا هے۔ اور ان كے پاس ان كے رسول واضح نشانياں لے كر آئے۔ پس الله اُن پر ظلم كرنے والا نه تھا، مگر وه خود هى اپنى جانوں پر ظلم كررهے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں ايك خصوصى واقعے كے حوالے سے ايك عمومى قانون كو بتايا گيا هے۔ اِس قانون كا اشاراتى ذكر آيت كے اِن الفاظ ميں هے وَعَمَرُوها أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوها (30:9)۔ یعنی،اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا جتنا انھوں نے آباد کیا ہے۔ عمومى انطباق كے اعتبار سے، اِس آيت كا مطلب يه هے كه انسان هر دور ميں اپنى بڑھى هوئى سرگرميوں كے ذريعے اپنى زندگى كى مادى تعمير كرتا رها هے۔ اِن سرگرميوں كے ذريعے ارتقائى طورپر جو محسوس واقعه ظهور ميں آيا، اُسى كا نام مادى تهذيب هے۔اِس كے مقابلے ميں سرگرميوں كا دوسرا كلچر جو فرد كى سطح پر جارى رها، وهى وه واقعه هے جس كو هم نے روحانى تهذيب كا نام ديا هے۔ جس طرح مادى تهذيب كا تسلسل تاريخ ميں برابر جارى رها اور جس كا اشاره قرآن كى مذكوره آيت ميں موجود هے، اِسى طرح روحانى تهذيب كا غير مرئى تسلسل بھى تاريخ ميں برابر جارى رها هے۔ روحانى تهذيب كے تسلسل كا اشاراتى حواله قرآن كى سورۃ المومنون كے اِن الفاظ ميں ملتا هے ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا (23:44) يعنى پھر هم نے لگاتار اپنے رسول بھيجے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
We sent Our messengers in succession.
خدا كے پيغمبرهر دور ميں مسلسل آتے رهے اور ان كى تعليم وتلقين كے ذريعے تاريخ ميں روحانى تهذيب كا غير مرئى تسلسل قائم رها۔ مادى تهذيب كا تسلسل اگر اجتماعى سطح پر دكھائى دينے والے مظاهر كى صورت ميں قائم رها تو روحانى تهذيب كا تسلسل افراد كے اندر غير مرئى احوال كى صورت ميں جارى رها۔
برطانى مورخ آرنلڈ ٹائن بى (وفات 1975) نے 21 بڑى تهذيبوں كا مطالعه كيا جن كى مدت تقريباً 5 هزار سال تك پھيلى هوئى هے۔ اِس مطالعے كے نتائج كو اس نے ايك ضخيم كتاب كى صورت ميں مرتب كيا هے جو 12 جلدوں ميں شائع هوچكى هے۔ اس كا نام يه هے
Arnold Toynbee, The Study of History
مادى تهذيب كے بارے ميں اِس طرح كى كتابيں اور اِس طرح كے مقالات بڑى تعداد ميں شائع هوئے هيں، مادى تهذيب كے تاريخى آثار (monuments) زمين كے مختلف حصوں ميں موجود هيں جو سياحوں كى دلچسپى كا اهم مركز هيں۔ مادى تهذيب كو پروجيكٹ كرنے كے ليے بڑے بڑے ميوزيم بنائے گئے هيں۔ بڑے بڑے ادارے، بڑى بڑى تنظيميں اور بڑے بڑے شهر گويا اُن كے تعارفى مراكز هيں۔ اِن مراكز كو ديكھ كر لوگ كهه پڑتے هيں— ونڈرفل، ونڈرفل (wonderful, wonderful)۔
اِسى طرح روحانى تهذيب كے واقعات بھى متوازى طورپر موجود هيں جو اپنى حقيقت كے اعتبار سے، مادى تهذيب سے بهت زياده بڑے هيں۔ يه واقعات پورى تار يخ ميں مسلسل طورپر پيش آتے رهے هيں، ليكن اِن واقعات كے محسوس مظاهر كهيں موجود نهيں، اِس ليے لوگ اُن سے واقف نهيں۔ روحانى تهذيب كے واقعات هميشه افراد كى سطح پر ان كى داخلى دنيا ميں غير مرئى طورپر پيش آتے هيں۔ يه افراد اگرچه انسانى تاريخ كے اعلى ترين افراد هوتے هيں، ليكن وه اپنى طبيعى عمر پورى كركے اِس دنيا سے چلے جاتے هيں۔ ان كى پيداكرده روحانى تهذيب كو نه ان كى زندگى ميں لوگ ديكھ پاتے اور نه ان كى وفات كے بعد۔
اسپريچول تهذيب كے اجزا
مصر كے بادشاهوں نے 2300-2700 قبل مسيح كے درميان مصر ميں بڑى بڑى سنگى عمارتيں بنائيں جو اهرام (pyramids) كے نام سے مشهور هيں۔ هندستان كے بادشاه شاه جهاں نے 1630-48عيسوى كے درميان آگره (يوپي) ميں تاج محل بنوايا۔ اِس طرح كى هزاروں عمارتيں هيں جو مادى تهذيب كے تاريخى مظاهر كے طور پر دنيا كے مختلف ملكوں ميں دكھائى ديتى هے۔اب سوال يه هے كه اسپريچول تهذيب كے تحت جو واقعات ظهور ميں آئے، اُن كا ريكارڈ كهاں هے۔ كيا وه اِسى ليے تھے كه وقتى ظهور كے بعد وه معدوم هوجائيں اور هميشه كے ليے ختم هوجائيں۔يه تاريخ انسانى كا سب سے بڑا سوال هے۔
مثال كے طورپر آدم كے دو بيٹوں هابيل اور قابيل كے درميان ايك معاملے پر نزاع هوئي۔ قابيل سخت غصه هوگيا۔ اس نے كها كه ميں تم كو مارڈالوں گا۔ اِس كے جواب ميں هابيل نے كها لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَى يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِى اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ (5:28)۔ يعنى، اگر تم مجھے قتل كرنے كےليے اپنا هاتھ اٹھاؤگے تو ميں تم كو قتل كرنے كے ليے تم پر اپنا هاتھ نهيں اٹھاؤں گا۔ ميں ڈرتا هوں الله سے جو سارے جهان كا رب هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چنانچہ هابيل قتل هوگيا، مگر اس نے اپنے بڑے بھائى قابيل پر هاتھ نهيں اٹھايا۔اُس وقت هابيل كے سينے ميں خوفِ خدا كا جو طوفان آيا هوگا،وه بلاشبه اهرامِ مصر اور تاج محل جيسى عمارتوں سے بے شمار گنا زياده بڑا واقعه تھا۔ فرشتوں نے يقيناً اس كو ريكارڈ كيا، ليكن انسان كى آنكھوں نے كبھى اِس واقعے كو نهيں ديكھا۔ كيا يه عظيم ربانى واقعه صرف اس ليے تھا كه وه ايك شخص كے دل ميں پيدا هو اور هميشه كے ليے معدوم هوجائے۔
اِسى طرح چار هزار سال پهلے جب پيغمبر ابراهيم نے ايك خدائى منصوبے كے تحت اپنى بيوى هاجره اور اپنے بيٹے اسماعيل كو عرب كے صحرا ميں بساديا۔ اُس وقت هاجره نے پيغمبر ابرهيم سے پوچھا كه كيا خدا نے آپ كو ايسا كرنے كا حكم ديا هے۔ انھوں نے جواب ديا كه هاں۔ اس كے بعد هاجره كى زبان سے نكلا إِذًا لَا يُضَيِّعُنا(پھر الله هم كو ضائع نهيں كرے گا)۔ صحرا كے اِس بے آب وگياه ماحول ميں جب هاجره نے يه الفاظ كهے هوں گے، اُس وقت ان كے دل ميں اعتماد على الله كا ايك عظيم كيفياتى طوفان برپا هوا هوگا۔ يه طوفان بلاشبه مصر كے اهرام اور آگره كے تاج محل سے بے شمار گنا زياده بڑا واقعه تھا۔ يه واقعه بلا شبه فرشتوں كے ريكارڈ ميں آيا، ليكن انسان كے ليے وه ايك ناقابلِ ذكر واقعه بنا رها۔ كيا يه عظيم ربانى واقعه اِسى ليےپيش آيا كه وه ايك فرد كے دل ميں برپا هو، اِس كے بعد وه هميشه كے ليے معدوم هوجائے۔
اِسى طرح ايك واقعه وه هے جو تقريباً تين هزار سال پهلے حضرت موسى كے زمانے ميں پيش آيا۔ قرآن ميں اِس واقعے كى تفصيل ديكھى جاسكتى هے۔ اُس وقت كے بادشاه فرعون نے مصر كے ماهر جادوگروں كو بلايا، تاكه وه حضرت موسى كے معجزے كا مقابله كريں۔ طے شده منصوبے كے مطابق، ايك ميدان ميں اهلِ مصر بڑى تعداد ميں اكھٹا هوئے۔ وهاں جادوگروں نے اپنى رسياں اور لاٹھياں ميدان ميں پھينكيں۔ لوگوں كو نظر آيا كه وه رسياں اور لاٹھياں سانپ بن كر ميدان ميں چل رهى هيں۔ اُس وقت حضرت موسى نے اپنا عصا ميدان ميں ڈالا۔ حضرت موسى كا عصا اژدها بن كر جادوگروں كے سحر كو نگل گيا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جادوگروں نے جب اِس واقعے كو ديكھا تو اُن پر ظاهر هوگيا كه اُن كا كيس جادو كا كيس تھا، ليكن موسى كا كيس اِس سے مختلف هے، موسى كا كيس رب العالمين كے پيغمبر كا كيس هے۔ اِس صداقت كے ظاهر هوتے هى جادوگروں نے اپنى غلطى كو مان ليا۔ وه پكار اٹھے آمَنَّا بِرَبِّ هَارُوْنَ وَمُوْسَى (20:70)۔ یعنی، انھوں نے کہا کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔ فرعون جادوگروں پر سخت غضبناك هوا۔ اس نے ان كے قتل كا حكم دے ديا، ليكن جادوگراپنے فيصلے پر قائم رهے۔ اِس كے بعد جو واقعه پيش آيا، اس كو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كياگيا هے قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَاۗءَنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالَّذِى فَطَرَنَا فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ ۭ اِنَّمَا تَقْضِى هٰذِهِ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا (20:72)۔ يعنى، جادوگروں نے كها كه هم تجھ كو هر گز اُن دلائل پر ترجيح نهيں ديں گے جو همارے پاس آئے هيں اور اُس ذات پر جس نے هم كو پيدا كيا هے۔ پس تم كو جو كچھ كرنا هے، اُسے كرڈالو۔ تم جو كچھ كرسكتے هو، اِسى دنيا كى زندگى كا كرسكتے هو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مصر كے جادوگروں نے يه جمله موت كى قيمت پر كها تھا۔ اُس وقت اُن كے دل ميں سچائى كا جو طوفان برپا هوا هوگا، وه بلاشبه اهرامِ مصر اور تاج محل جيسى سنگى عمارتوں سے بے شمار گنا زياده عظيم هے۔ كيا سچائى كا يه طوفان صرف اِس ليے تھا كه وه كچھ انسانوں كے سينے ميں وقتى طورپر برپا هو اور پھر هميشه كے ليے اس كا وجود مٹ جائے۔
اِسى طرح كا ايك واقعه وه هے جو صحيح البخارى كى ايك روايت ميں بتايا گيا هے۔ قديم زمانے ميں بنى اسرائيل كے تين صالح افراد ايك سفر پر روانه هوئے۔ درميان ميں بارش آگئي۔ چنانچه انھوں نے پهاڑ كے ايك غار ميں پناه لي۔ اُس وقت وهاں لينڈ سلائڈ (landslide) كا ايك واقعه هوا۔ اس كى وجه سے غار كا منه بند هوگيا۔ يه پتھر اتنا بڑا تھا كه تينوں آدمى مل كر بھى اس كو هٹا نهيں سكتے تھے۔ اُس وقت انھوں نے طے كيا كه هر ايك اپنے كسى خاص عمل كے واسطے سے دعا كرے۔ چنانچہ انھوں نے دعا كى اور پتھر هٹ گيا، پھر وه لوگ غار سے باهر نكل آئے۔
اِن تينوں ميں سے ايك شخص وه تھا جس نے دعا كرتے هوئے كها كه اے الله، ميں مزدوروں سے كام ليا كرتا تھا۔ ايك دن ايسا هوا كه ايك مزدور كسى بات پر غصه هوگيا۔ وه اپنى مزدورى ليے بغير چلا گيا۔ اِس كے بعد ميں نے اس كى مزدورى كى رقم سے ايك گائے خريدي۔ اِس گائے ميں اتنى بركت هوئى كه دھيرے دھيرے گائے اور بكرى اور اونٹ كا ايك بهت بڑا گلّه اكھٹا هوگيا۔ ايك عرصے كے بعدوه مزوردوباره آيا اور اپنى مزدورى كا تقاضا كيا۔ اُس وقت ميرے گھر كے سامنے كا ميدان جانوروں كے گلے سے بھرا هوا تھا۔ ميں نے كها كه يه سب تمھارا هے، اِس كو لے جاؤ۔ مزدور نے كها كه مجھ سے استهزا نه كرو۔ ميں نے كهاكه يه استهزا كى بات نهيں، يه سب تمھارى مزدورى كى رقم كا نتيجه هے۔ اس كے بعد وه مزدور اُن تمام جانوروں كو هنكا كرلے گيا اور ايك بھى نه چھوڑا۔ ميں نے مزدور كو نهيں روكا اور اُس پر راضى رها۔ (صحيح البخاري، حدیث نمبر 3465)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اُس آدمى نے جب يه فيصله كيا تو اُس وقت اس كے سينے ميں ديانت دارى (honesty) كا ايك عظيم طوفان برپا هوا هوگا۔ يه واقعه بلا شبه اهرامِ مصر اور تاج محل جيسى سنگى عمارتوں سے بے حساب گنا زياده بڑا تھا۔ كيا يه واقعه محض اِس ليے هوا كه وه صرف ايك شخص كے سينے ميں برپا هو اور پھر هميشه كے ليے معدوم هوجائے۔ اِس طرح كے واقعات جو افراد كى زندگى ميں داخلى طورپر پيش آئے، ايسے كسى واقعے كو اُس فرد نے تو يقيناً جانا جس كو اس كا تجربه پيش آيا تھا، ليكن اس كى اپنى هستى كے باهر اُس كا كوئى وجود دكھائى نهيں ديا، وه صرف غير مرئى قسم كا ايك ذاتى احساس بن كر ره گيا۔ هر عورت اور مرد شعورى يا غير شعورى طورپر چاهتے هيں كه اُن كے داخلى احساسات خارجى واقعه بن كر نماياں هوں۔ جو كچھ انھوں نے وقتى طورپر محسوس كيا تھا ، وه اُسى طرح تاريخ كا مستقل حصه بن جائے جس طر ح دوسرى بهت سی چيزيں تاريخ كا مستقل حصه بنى هوئى هيں۔
يه ايك سوال هے اور قرآن كے مطالعے سے اِس كا واضح جواب معلوم هوتا هے۔ اِس سے معلوم هوتا هےكه يه دراصل مادى تهذيب هے جو قيامت كے دن معدوم هو جائے گى اور جهاں تك روحانى تهذيب كا سوال هے، وه اپنى پورى صورت ميں ظاهر هو كر ابدى طورپر اپنا جلوه دكھاتى رهے گي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دو مختلف انجام
قرآن سے معلوم هوتا هے كه مادى تهذيب كى ترقياں صرف وقتى ترقياں هيں۔ قيامت كا بھونچال مادى تهذيب اور اس كے تمام آثار كو يكسر مٹا دے گا۔ قيامت كے بعد بننے والى دنيا ميں اس كا كوئى وجود باقى نهيں رهے گا۔ اس سلسلے ميں قرآن كى ايك آيت يه هے اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ اَمَلًا (18:46)۔ يعنى، مال اور اولاد دنيوى زندگى كى رونق هيں ۔ اور باقى رهنے والے اعمالِ صالحه تمھارے رب كے نزديك اجر اور اميد كے اعتبار سے بهتر هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں ’زِينَةَ الحَيَاةِ الدُّنْيَا‘ سے مراد وهى چيز هے جس كو مادى تهذيب كها جاتا هے۔ يه مادى تهذيب خواه بظاهر كتنا هى زياده پُررونق هو، بهر حال وه وقتى طورپر صرف امتحان كى مدت تك كے ليے هے۔ قيامت كا بھونچال اس كو پورى طرح مٹا دے گا۔ اِس كے بعد زمين كا وه حال هوگا جس كو قرآن ميں قاعًا صَفْصَفًا (20:106) كے الفاظ ميں بيان كيا گياهے، يعنى چٹيل ميدان۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’بَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتِ‘ كا لفظى ترجمه هے باقى رهنے والے اعمالِ صالحه۔ صالح عمل حقیقتاً وه هے جو صالح نيت سے كيا گيا هو۔ ’باقيات الصالحات‘ دوسرے لفظوں ميں كسى عمل كے كيفياتى حصه (qualitative content) كا نام هے۔ عمل كا يه كيفياتى حصه كهاں واقع هوتا هے، وه ايك مرد يا عورت كے داخلى وجود ميں واقع هوتاهے۔ يهى وه چيز هے جس كو هم نے قابلِ فهم بنانے كے ليے روحانى تهذيب كے الفاظ ميں بيان كيا هے۔ قيامت كا بھونچال يه كرے گا كه انسانى عمل كے كمياتى حصه (quantitative content) كو ڈھا دے گا۔ اِس كے بعد انسانى عمل كا صرف كيفياتى حصه (qualitative content) باقى رهے گا۔
قرآن ميں اهلِ جنت كے بارے ميں ارشاد هوا هے لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَة (10:26)۔ یعنی، جن لوگوں نے بھلائی کی، ان کے لیے بھلائی ہے اور اس پر مزید بھی۔ اِس آيت ميں ’’زياده‘‘ كا لفظ غالباً اِس معنى ميں هے كه آخرت ميں اهلِ جنت كے ساتھ جو معامله هو گا، وه صرف يه نهيں هوگا كه ان كے نيك عمل كو قبوليت كا درجه ملے گا، بلكه مزيد يه هوگاكه عمل كے دوران اُن كے اندر جو اعلى ربانى كيفيات پيدا هوئى تھيں، وه خارجى طورپر متشكل هوجائيں گي۔ يهى خارجى اظهار وه چيز هے جس كو هم نے اسپريچول تهذيب كا نام ديا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مادى تهذيب مادى واقعات كے متشكل هونے سے وجود ميں آتى هے۔ اِس كے برعكس، اسپريچول تهذيب وه تهذيب هے جهاں اعلى ربانى كيفيات متشكل هوں۔ موجوده دنيا جن قوانين كے تحت بنى هے، وهاں كمياتى عمل (quantitative deeds) تو بخوبى طورپر متشكل هوسكتے هيں، ليكن كيفياتى عمل (qualitative deeds) يهاں متشكل نهيں هوسكتے۔ آخرت كى دنيا كے قوانين بالكل مختلف هوں گے۔ اِس طرح وهاں يه ممكن هوجائے گا كه ايك كيفياتى واقعه بھى اُسى طرح عملى صورت ميں متشكل هوجائے جس طرح موجوده دنيا ميںكمياتى واقعه عملى صورت ميں متشكل هوتا هے۔
اِس سلسلے ميں قرآن كى دو آيتوں كا مزيد مطالعه کیجیے ۔ اِن آيتوں كے الفاظ اور ان كا ترجمه يه هے مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِى الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ڮ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (11:15-16)۔ يعنى، جو لوگ دنيا كى زندگى اور اس كى زينت چاهتے هيں، هم ان كے اعمال كا بدله دنيا هى ميں دے ديتے هيں۔ اور اس ميں ان كے ساتھ كوئى كمى نهيں كى جاتي۔ يهى لوگ هيں جن كے ليے آخرت ميں آگ كے سوا كچھ نهيں هے۔ انھوں نے دنيا ميں جو كچھ بنايا تھا، وه نابود هوگيا اور باطل هوگيا جو كچھ انھوں نے كمايا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں زينتِ دنيا سے مراد تاريخِ انسانى كا وهى ظاهره هے جس كو هم نے مادى تهذيب كے معروف نام سے بيان كيا هے۔ اِس مادى تهذيب كى عمر صرف قيامت تك كے ليے هے۔ اِس كے بعد وه مٹا دى جائے گي۔ اس كا انجام وهى هوگا جس كو قرآن كى مذكوره آيت ميں ’حَبِطَ ما صَنَعُوا‘ كے الفاظ ميں بيان كيا گيا هے، يعنى انھوں نے دنيا ميں جو كچھ بنايا تھا، وه نابود هوگيا (vain are all their deeds) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وه چيز جس كو مادى تهذيب كهاجاتاهے، وه گويا كه اِسى موجوده دنيا ميں اپنے ليے ايك دنيا بنانا هے۔ يه بلاشبه خداكے تخليقى منصوبے كے خلاف هے۔ خدا كے تخليقى منصوبے كے مطابق، موجوده دنيا عمل كے ليے بنائى گئى هے، نه كه تعميرِ جنت كے ليے۔
ايسا كرنے والے لوگ خدا كے منصوبےكے خلاف چل رهے هيں۔ اُن كى سارى سرگرمياں خداكے نزديك غير مقبول هيں، اِس ليے اُن كا وجود صرف اُس وقت تك هے جب تك اُن كى امتحان كى مدت ختم نهيں هوتي۔ امتحان كى مدت ختم هوتے هى اُن كى بنائى هوئى يه مادى دنيا اُسى طرح ختم كردى جائے گى جس طرح غير منظور شده تعمير (unauthorised construction) كو سركارى طورپر ڈھا ديا جاتا هے۔
اسپريچول تهذيب كا دور
قيامت دو دنياؤں كے درميان حد فاصل هے۔ قيامت كا مطلب يه هے كه مادى تهذيب كا دور ختم هوا اور روحانى تهذيب كا دور شروع هوگيا۔ اِسى دوسرے دور كو قرآن ميں آخرت كا دور كهاگيا هے۔ اِس دوسرے دور ميں يه هوگا كه پورى تاريخ ميں بكھرے هوئے روحانى اجزا (spiritual contents) كو جنت ميں يكجا كرديا جائے، يعنى اسپريچول اجزا كے حامل انسانوں كو بقيه انسانوں سے الگ كركے جنت كى معيارى دنيا ميں بسا دينا۔ اِسى حقيقت كو قرآن كى ايك آيت ميں اِن الفاظ ميں بيان كيا گيا هے اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِى الصّٰلِحُوْنَ (21:105)۔یعنی، زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس واقعے كا ذكر بائبل ميں بھى موجود هے۔ اس كے الفاظ يه هيں— پَر شريروں كى نسل كاٹ ڈالى جائے گي۔ صادق زمينوں كے وارث هوں گے اور وه اس ميں هميشه رهيں گے
other sourceWords of another person or source
But the descendants of the wicked shall be cut off. The righteous shall inherit the land and dwell in it forever. (Psalm 37:28-29)
other sourceWords of another person or source
اسپريچول تهذيب يا ربانى تهذيب قيامت سے پهلے كى دنيا ميں صالح افراد كى سطح پر ظهور ميں آئے گي۔ قيامت كے بعد يه تمام صالح افراد پورى تاريخِ بشرى سے منتخب كركے جنت ميں بسادیے جائيں گے۔ اِس دوسرے دور حيات ميں ان كى داخلى اسپريچولٹى يا داخلى رباينت خارجى واقعه بن كر چمك اٹھے گي۔ جو چيز دنيا كى زندگى ميں داخلى كيفيت (inner spirit) هونے كى وجه سے لوگوں كو دكھائى نهيں ديتى تھي، وه آخرت كے بدلے هوئے ماحول ميں خارجى طورپر دكھائى دينے والا واقعه بن جائے گا۔ اِسی حقيقت كو قرآن ميں نور كے لفظ ميں بيان كياگياهے۔ اِس كا مطلب يه هے كه صالح افراد كى ربانيت جو موجوده دنيا ميں ايك چھپى هوئى حقيقت بنى هوئى تھي، وه آخرت كى دنيا ميں ايك دكھائى دينے والى حقيقت بن جائے گي۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى دو آيتوں كا مطالعه كيجيے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پهلى آيت قرآن كى سوره الحديد ميں هے۔ اس كے الفاظ يه هيں يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ (57:12)۔ يعنى، جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں كو ديكھو گے كه ان كى روشنى اُن كے آگے اور ان كے دائيں چل رهى هوگى — آج كے دن تم كو خوش خبرى هے اُن باغوں كى جن كے نيچے نهريں جارى هوں گي، تم اُن ميں هميشه رهوگے، يه بڑى كاميابى هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسى طرح سورۃ الحديد كى ايك اور آيت ميںارشاد هوا هے وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖٓ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ ڰ وَالشُّهَدَاۗءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَنُوْرُهُمْ ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ (57:19)۔ يعنى، جو لوگ ايمان لائے الله پر اور اس كے رسولوں پر، وهى لوگ اپنے رب كے نزديك صديق اور شهيد هيں۔ ان كے ليے ان كا اجر اور ان كا نور هے۔ اور جن لوگوں نے انكار كيا اور همارى نشانيوں كو جھٹلايا، وهى دوزخ والے هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسى قسم كى ايك آيت قرآن كى سورۃ التحريم ميں آئى هے۔ اس كے الفاظ يه هيں يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا ۭ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ يَوْمَ لَا يُخْزِى اللّٰهُ النَّبِى وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ۚ نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (66:8)۔ يعنى، اے ايمان والو، الله كے آگے سچى توبه كرو۔ اميد هے كه تمھارا رب تمھارے گناه معاف كردے اور تم كو ايسے باغوں ميں داخل كرے جن كے نيچے نهريں بهتى هوں گي۔ جس دن الله، نبى كو اور اس كے ساتھ ايمان والوںكو رسوا نهيں كرے گا۔ اُن كى روشنى ان كےآگے اور ان كے دائيں طرف دوڑ رهى هوگي، وه كهه رهے هوں گے كه اے همارے رب، تو همارے ليے همارے نور كو كامل كردے اور همارى مغفرت فرما۔ بے شك تو هر چيز پر قادر هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِن آيتوں ميں نور (روشني) كے دوڑنے كا ذكر لفظى طورپر دوڑنے كے معنى ميں نهيں هے، بلكه وه پھيلنے كے معنى ميں هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه آخرت ميں اُن كا نور دور دور تك پھيلا هوا هوگا۔ مزيد يه كه نور كا لفظ ساده طورپر روشنى كے معنى ميں نهيں هے، بلكه وه اِس معنى ميں هے كه ان كے عمل كا روحانى حصه (spiritual content) جو دنيا ميں اعلى داخلى تجربے كى حيثيت ركھتا تھا، وه آخرت ميں متشكل (materialised) هو كر خارجى طور پر دكھائى دينے لگے۔ به الفاظ ديگر، جو چيز دنيا كى زندگى ميں صرف غيرمرئى نور كى حيثيت ركھتى تھي،وه آخرت ميں قابلِ مشاهده اسپريچول تهذيب كى صورت اختيار كرلے گي۔ مادى تهذيب جس طرح دنيا ميں قابلِ مشاهده هے، اسى طرح اسپريچول تهذيب آخرت ميں قابلِ مشاهده هوجائے گي۔
مذكوره آيت ميں ’أَجْرَهُمْ وَنُورَهُمْ‘ كا لفظ نهايت اهم حقيقت كو بتارها هے۔ اِس آيت ميں اجر سے مراد جنت كى مادى نعمتيں هيں اورنور سے مراد وه تهذيب هے جو جنت ميں ايك روشن واقعه بن جائے۔ اهلِ جنت ايك طرف ’لَكُمْ فِيهَا ما تَشْتَهِيهِ أَنْفُسُكُمْ‘ كے بمصداق، جنت كى اعلى نعمتوں سے محظوظ هوں گے اور دوسرى طرف يه هوگا كه ان كے اندر داخلى سطح پر پيدا هونے والى ربانى كيفيات جو دنيا ميں غير مرئى حقيقت بنى هوئى تھيں، آخرت ميں وه قابلِ مشاهده نور كى صورت ميں نماياں هوجائيں گے۔ آخرت ميں ظاهر هونے والے اِس واقعے كو نورانى تهذيب يا اسپريچول تهذيب كے الفاظ ميں بيان كيا جاسكتاهے۔
اِسى طرح مذكوره آيت ميں اهلِ جنت كى زبان سے يه لفظ ادا هوا هے ’أَتْمِمْ لَنا نُورَنا ‘—یعنی، ہماری روشنی کو کامل کردے ۔ اِس كا مطلب يه هے كه دنيا ميں تونے هميں جس اعلى ربانى تجربے كى توفيق دي، وه دنيا ميں غير مرئى بنا رها۔ اب آخرت ميں تو همارے ساتھ يه مزيد احسان فرماكه اِن داخلى ربانى تجربات كو خارجى واقعے كى صورت ميں ظاهر كردے۔ جس طرح ماده پرست انسان كى داخلى دريافت خارجى طورپر دنيا ميں مادى تهذيب كى صورت ميں متشكل هوئى تھي، اُسى طرح اب تو آخرت ميں همارى داخلى ربانى دريافتوں كو خارجى طورپر نورانى تهذيب يا اسپريچول تهذيب كى صورت ميں متشكل كردے۔ يهى مطلب هے مذكوره آيت ميں اتمامِ نور كا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آئڈيا كا متشكَّل هونا
خواه مادى تهذيب كا معامله هو يا اسپريچول تهذيب كا معامله، دونوں كى نوعيت اس اعتبار سے يكساں هے۔ دونوں كا وقوع ابتداء ً ايك غير مرئى آئڈيا (invisible idea) كى صورت ميں هوتا هے، بعد كو وه خارجى صورت ميں متشكل هوجاتا هے۔ يهى معامله مادى تهذيب كا بھى هے اور يهى معامله اسپريچول تهذيب كا بھي۔
اِس كى ايك مثال يه هے كه مائكل فريڈے (Michael Faraday, d. 1867) ايك برٹش سائنس داں تھا۔ كچھ تجربات كے دوران اُس كے دماغ ميں ايك آئڈيا آيا، جو اب اصطلاحى طورپر اليكٹروميگنٹزم (electromagnetism)كے طورپر معروف هے۔ يه آئڈيا فطرت كے اُس قانون كے بارے ميں تھا جس كو اليكٹرى سٹى (electricity) كها جاتا هے۔ اِس آئڈيا كے تحت يه فارمولا بنايا گيا كه بجلى كا مطلب هے— اليكٹران كا بهاؤ
Electricity means flow of electrons.
وه چيز جس كو مادى تهذيب كها جاتاهے، وه براهِ ارست يا بالواسطه طورپر فطرت كے دو قوانين كا نام هے— روشنى (light) اور حركت (motion) ۔ فطرت كے اِن دو غير مرئى قوانين نے جب عملى صورت اختيار كى تو اس كے نتيجے ميں وه مرئى ظاهره وجود ميں آيا جس كو مادّى تهذيب كهاجاتا هے۔
يهى معامله اسپريچول تهذيب كا بھى هے۔ اسپريچول تهذيب ابتداء ً ايك مخفى واقعے كى صورت ميں ايك بنده مومن كے سينے ميں غير مرئى طورپر وجود ميں آتى هے۔ اسپريچول تجربه كيا هے، اس كو قرآن كى اِن آيتوں كے مطالعے سے سمجھا جاسكتاهے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ(2:165)۔ یعنی، وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے، وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللهَ (9:18)۔ یعنی،اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے، مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الحَقِّ (5:83)۔ یعنی،اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا، وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ (23:60)۔ یعنی، اور ان کے دل کانپتے ہیں، فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ( 52:26)۔ یعنی، اپنے گھر والوں میں ڈرتے رہتے تھے، لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا(9:40)۔یعنی، غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے، وغيره۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذكوره حوالے ايك مومن كے سينے ميں پيدا هونے والے اسپريچول تموجات كو بتاتے هيں۔ يه اسپريچول تموجات(spiritual waves) اپنى حقيقت كے اعتبار سے بلا شبه هماليائى تموجات تھے، ليكن دنيا كى زندگى ميں وه غير مرئى واقعه بن كر ره گئے۔ يه خدا كى شانِ رحمت كے خلاف هے كه ايك سائنس داں كى مادى معرفت تو مادى تهذيب كى صورت ميں متشكل هو ، ليكن ايك مومن كى ربانى معرفت محسوس اسپريچول تهذيب كى صورت ميں متشكل نه هو۔
قرآن كے مذكوره بيانات اِسى سوال كا جواب هيں۔ اِن آيتوں سے معلوم هوتا هے كه جس طرح سائنس دانوں كى مادى معرفت خارجى طورپر متشكل هو كر دنيا ميں مادى تهذيب كى صورت ميں ظاهر هوئي، اِسى طرح آخرت ميں مزيد اضافے كے ساتھ يه هوگا كه مومن بندوں كى ربانى معرفت، جو دنيا ميں غير مرئى تھي، وه آخرت ميں خارجى طورپر متشكل هوگي۔ اِسى واقعے كو قرآن ميں نورانى ظهور سے تعبير كيا گيا هے اور اِسى واقعے كا دوسرا نام آخرت كى ابدى دنيا ميں بننے والى اسپريچول تهذيب هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دو قسم كے چهرے
قرآن ميں مختلف مقامات پر بتايا گيا هے كه قيامت ميں انسانوں كو چھانٹ كر الگ كيا جائے گا، اهلِ جنت الگ اور اهلِ جهنم الگ۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى ايك آيت يه هے يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ۚ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ ۣاَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ (3:106)۔ يعنى، جس دن كچھ چهرے روشن هوں گے اور كچھ چهرے سياه هوں گے، تو جن كے چهرے سياه هوں گے، اُن سے كها جائے گا كه كيا تم اپنے ايمان كے بعد منكر هوگئے، تو اب چكھو عذاب اپنے كفر كے سبب سے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’روشن چهره‘‘ سے مراد كيا هے۔ اِس سے مراد وهى روشن شخصيت هے جس كى وضاحت اِس سے پهلے هوچكى هے۔ ’’سياه چهره‘‘ سے مراد يه نهيں هے كه ان كے چهروں پر سياه رنگ لگا ديا جائے گا۔ اِس كا مطلب يه هےكه ان كى داخلى برائى ظلمت بن كر اُن كے چهرے پر نماياں هوجائے گي۔ جس غير ربانى شخصيت كو وه اپنى جھوٹى تدبيروں سے اپنے اندر چھپائے هوئے تھے، وه ظاهر هو كر لوگوں كو محسوس طور پردكھائى دينے لگے گي۔ يه كوئى پراسرار بات نهيں هے، يه وهى بات هے جو دنيا كى زندگى ميں بھى جزئى طورپر مشاهدات ميں آتى هے، چنانچہ كها جاتا هے كه
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Face is the reflection of one's inner personality.
دنيا كى زندگى ميں برے لوگوں كا حال يه تھا كه وه اندر سے بالكل غير سنجيده تھے، مگر اوپر سے وه اپنے آپ كو سنجيده ظاهر كرتے تھے۔ وه جھوٹ اور بدديانتى پر كھڑے هوئے تھے، ليكن خوب صورت الفاظ كے ذريعے وه اپنى حقيقت پر پرده ڈالے هوئے تھے۔ دل اور دماغ كے اعتبار سے، وه صرف ايك دنيا پرست انسان تھے، ليكن اپنے ظاهر فريب رويّے سے وه آخرت پسندى كے اسٹيج پر پُررونق جگه حاصل كيے هوئے تھے۔قيامت كے بعد جو آخرت كى دنيا آئے گي، وهاں تمام حقيقتيں اپنى اصل صورت ميں ظاهر هوجائيں گي۔ وهاں هر عورت اور مرد اپنى اصل داخلى صورت ميں نماياں هوجائے گا۔ يهى مطلب هے قيامت ميں چهروں كے سياه هونے كا۔
برے لوگ وهاں اِس طرح اٹھيں گے كه ان كے چهروں پر سخت قسم كى حسرت اور ندامت چھائى هوئى هوگي۔ وه بے بسى كى تصويربنے هوئے هوں گے۔ ان كا احساسِ محرومى ان كے پورے وجود كو بے قيمت بنائے هوئے هوگا۔ اپنے حال اور مستقبل كے بارے ميں ان كى كامل مايوسى كى بنا پر ان كا احساس يه هوگا كه وه حيوان سے بھى زياده بے قيمت هيں۔ ان كى بے بسى كا يه حال هوگا كه وه اپنے آپ كو لوگوں سے چھپانا چاهيں گے، ليكن وهاں انھيں كوئى جگه نهيں ملے گى جهاں وه اپنے آپ كو چھپا ليں۔
جنت كا معاشره
جنت كے معاشرے ميں وه خوش قسمت افراد جگه پائيں گے جنھوں نے موجوده دنيا ميں اپنے آپ كو جنتى شخصيت كى حيثيت سے تيار كيا هوگا۔ جنتى شخصيت كا لفظ كوئى پراسرار لفظ نهيں هے۔ اِس سے مراد وه افراد هيں جو انتهائى معنوں ميں بلند فكرى (high thinking) كے مالك هوں۔ يهى وه اعلى كردار هے جس كو قرآن ميں خُلقِ عظيم(68:4) يا مزكى شخصيت (20:76) كے الفاظ ميں بيان كيا گياهے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يه اعلى شخصيت والا انسان كون هے، يه وه انسان هے جس نے اپنے آپ كو هر قسم كے دنيوى محركات (worldly motivations) سے اوپر اٹھايا، جس نےاپنے آپ كو كامل طورپر متعصبانه فكر (biased thinking) سے پاك كيا، جس نے اپنے آپ كو نفس اور شيطان كى ترغيبات سے بچايا، جس نے اپنے اندر اُس انسان كى تعمير كى جس كو كامپلكس فرى سول (complex free soul) كهاجاتا هے، جس نے دنيا كى زندگى ميں يه ثابت كيا كه وه انٹيگريٹيڈ پرسنالٹى (integrated personality) كا حامل انسان هے— يهى وه صفات هيں جن سے متصف افراد كو ايك لفظ ميں، ربانى انسان كهاجاسكتاهے۔ انھيں صفات كے حامل افراد كو جنت ميں آبادكارى كے ليے منتخب كيا جائے گا۔
جنتى شخصيت كى تعمير
مذكوره اعلى ربانى صفات پيدا كرنے كے ليے سب سے زياده جس چيز كى ضرورت هے، وه صبر هے۔ صبر كے ذريعے آدمى اِس قابل بنتاهے كه وه مختلف قسم كے غير موافق احوال كے درميان رهتے هوئے بھى اپنے اندر جنتى شخصيت كى تعمير كرے۔ وه منفى اسباب كے اندر اپنى مثبت سوچ كو مستقل طورپر برقرار ركھے۔ وه مسائل كو عذر (excuse)نه بناتے هوئے اپنا ربانى سفرجارى ركھے۔ اِسى بنا پر قرآن ميں كها گياهے كه صبر كرنے والے جنت كے اعلى مقامات ميں جگه پائيں گے۔ (25:75)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صبر كى اِسى اهميت كى بنا پر صبر كو اعلى ترين انعام كا ذريعه بتايا گيا هے۔ حقيقت يه هے كه صبر هر عملِ خير كى لازمى بنياد هے۔ اِسى ليے قرآن ميں صبر كرنے والوں كے بارے ميں يه الفاظ آئے هيں اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10)۔ يعنى، بے شك صبر كرنے والوں كو اُن كا اجر بے حساب ديا جائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جسمانى سرگرمياں، ذهنى سرگرمياں
انسانى تاريخ كى تصوير اگر يه هو كه اس ميں انسان كے جسم (body) كى سرگرمياں (activities) تو خوب بيان هوئى هوں، مثلاً پهلوانى (wrestling) اور باكسنگ (boxing) جيسى سرگرمياں تفصيل كے ساتھ ريكارڈ كى گئى هوں، ليكن انسان كے وجود كا دوسرا اهم تر حصه جس كو ذهن (mind) كهاجاتا هے، اس كا سرے سے كوئى ذكر نه هو، پورى تاريخ ميں انسان كى ذهنى سرگرمياں (intellectual activities) غير مذكور (unrecorded) هو كر ره جائيں تو ايسى انسانى تاريخ كو نه صرف نامكمل، بلكه آخرى حد تك بے معنى (meaningless) كهاجائے گا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
يه فرضى بات نهيں، بلكه يه انوكھا واقعه عملاً مزيد اضافے كے ساتھ پورى دنيا ميں پيش آيا هے۔ وه اِس طرح كه انسان كى مادى سرگرمياں مادى تهذيب كى صورت ميں متشكل (materialized) هو كر اپنى پورى صورت ميں لوگوں كے سامنے موجود هيں۔ مادى تهذيب كو هر آدمى جانتا هےاور هر آدمى اس كو ديكھ رها هے۔ مادى تهذيب هر آدمى كے ليے ايك معلوم واقعه هے۔ ليكن انسانى سرگرميوں كى ايك ا ور قسم هے۔ اس كو اسپريچول سرگرمياں (spiritual activities) كهاجاسكتا هے۔ يه وه سرگرمياں هيں جو انفرادى سطح پر سچے انسانوں كى زندگى ميں پيدا هوئيں۔ وه پورى طرح غير مرئى (unobservable) تھيں۔ افراد كى داخلى زندگى ميں مكمل طورپر موجود هونے كے باوجود وه ظاهرى طورپر كبھى متشكل نهيں هوئيں۔ مثلاً تاريخ كے هر دور ميں ايسے افراد پيدا هوتے رهے جنھوں نے خداكو اپنا سول كنسرن (sole concern) بنايا، جن كى سوچ تمام تر سچائى اور ديانت دارى پر مبنى تھي، جنھوں نے دنيا كے بجائے آخرت كو اپنى توجهات كا مركز بنايا، جن كى آخرى آرزو يه تھى كه اُن كو جنت ميں داخله ملے، جنھوں نے خدا كى مقرر كى هوئى حدوں كو سمجھا اور ان سے تجاوز نهيں كيا، جن كا ربانى شعور اتنا بڑھا هوا تھاكه وه هر وقت داخلى طورپر توبه واستغفار ميں مشغول رهتے تھے۔
يه تمام اعمال انتهائى اعلى اعمال هيں، ليكن وه هميشه كيفيات كى سطح پر پيدا هوتے هيں۔ اُن كو كمياتى اصطلاح (quantitative term) ميں بيان نهيں كيا جاسكتا۔ يه ربانى اعمال يا اسپريچول سرگرمياں افراد كى داخلى دنيا ميں پيدا هوئيں اور پھر افراد كى موت كے ساتھ بظاهر ختم هوگئيں۔ اپنى حقيقت كے اعتبار سے وه اعلى اسپريچول تهذيب كى حيثيت ركھتى تھيں، مگر اپنى تمام تر اهميت كے باوجود وه كبھى ظاهرى طورپر متشكل نهيں هوئيں جس طرح مادى تهذيب اپنى ظاهرى صورت ميں متشكل هوئي۔
آخرت كى دنيا جو قيامت كے بعد آئے گي، وه اِسى كى تلافى اور تكميل كے ليے هے۔ قيامت ايك طرف مادى تهذيب كو پورى طرح نابود كردے گي، اگلے مرحله حيات ميں اس كا كوئى وجود باقى نهيں رهے گا، دوسرى طرف يه هوگا كه آخرت كے موافق ماحول ميں ماضى كے اسپريچول واقعات پورى طرح متشكل هو كر ايك اسپريچول تهذيب كى صورت اختيار كرليں گے۔
يه اسپريچول تهذيب ايك ابدى تهذيب هوگي۔ قيامت سے پهلے كے دورِ تاريخ ميں دونوں قسم كے افراد باهم ملے هوئے تھے، ليكن قيامت كے بعد كے دورِ تاريخ ميں دونوں كو چھانٹ كر ايك دوسرے سےالگ كرديا جائے گا (27:83)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا كے تخليقى نقشه (creation plan) كے مطابق، قيامت سے پهلے كا دورِ حيات انفرادى اعتبار سے تعميرِ شخصيت كا دور تھا، وه اجتماعى اعتبار سے تعميرِ تهذيب كا دور نه تھا۔ آخرت كى دنيا ميں يه هوگا كه جن افراد نے اپنى شخصيت كى تعمير نه كي، وه رد کردیے جائيں گے اور جن افراد نے اپنى شخصيت كى تعمير كي، وه خدا كے مطلوب بندے ٹھهريں گے۔ ايك گروه كا كيس كاميابى كا كيس هوگا اور دوسرے گروه كا كيس ناكامى كا كيس(42:7)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن ميں دونوں قسم كے افراد كو مختلف لفظوں ميں بيان كيا گياهے، اُن ميں سے ايك يه هے كه كامياب افراد روشن چهروں (bright faces) والے هوں گے اور ناكام افراد سياه چهروں (dark faces) والے۔ كامياب افراد ابدى طورپر خوشيوں كى زندگى پائيں گے اور ناكام افراد ابدى طورپر حسرت كى آگ ميں جلتے رهيں گے۔
خاتمهٔ كلام
الله كو مطلوب تھا كه اسپريچول تهذيب كا تسلسل دنيا كے آغاز سے لے كر اس كے خاتمے تك جارى رهے۔ الله نے ديكھا كه انسان كو دى گئى آزادى كى بنا پر يه تسلسل مجموعے كى سطح پر جارى نهيں هوسكتا، اس لیے الله نے اس كو افراد كى سطح پر جارى كرديا۔ چناںچه انسانى مجموعے كى سطح پر اگرچه اسپريچول تهذيب كا تسلسل جارى نهيں هے، ليكن افراد كى سطح پر يه تسلسل مكمل طورپر جارى هے۔ اِس سلسلے كا پهلا فرد غالباً ابتدائى دور كا هابيل ابن آدم تھا، جس كا ذكر قرآن ميں موجود هے (5:27)اور اِس سلسلے كا آخرى فرد غالباً دورِ آخر كا وه رجلِ مومن هوگا جس كا ذكر صحيح مسلم كى ايك روايت ميں آيا هے۔ (ملاحظه هو صحيح مسلم،حدیث نمبر 2938)
انسان كى آزادى كى بنا پر اس دنيا ميں اسپريچول تهذيب كا اجتماعى تسلسل عملاً ناممكن هے، ليكن اسپريچول تهذيب كا انفرادى تسلسل پورى طرح ممكن هے اور بلاشبه وه هر دور ميں اور هر زمانے ميں جارى رهاهے۔اسپريچول تهذيب كے عملى ظهوركے معاملے كو ايك مثال سے سمجھا جاسكتا هے۔ آپ ايك وسيع كمرے ميں بيٹھے هوئے هيں۔ وهاں آپ كے سامنے كى ميز پر ايك ٹى وى سيٹ ركھا هوا هے۔ بظاهر كمرے ميں صرف كچھ مادى چيزيں هيں۔ مثلاً ديوار، كرسي، ميز، وغيره۔ اِن چيزوں كو آپ ديكھ رهے هيں، ليكن اِسى كے ساتھ وهاں ايك اور چيز هے جو بظاهر دكھائى نهيں ديتي، مگر وه مكمل طورپر موجود هے۔ يه دوسرى چيز غير مرئى لهروں (invisible waves) كى صورت ميں هے۔اِس غير مرئى دنيا ميں زنده انسان هيں، آوازيں هيں اور مختلف قسم كى عملى سرگرمياں هيں، ليكن بظاهر وه مكمل طورپر غير مرئى هيں۔ اس كے بعد آپ اپنے ٹى وى سيٹ كو آن كرتے هيں تو اچانك اسكرين پر ايك پورى دنيا نظر آنے لگتى هے، جو اُسى طرح كامل اور بامعنى هے جس طرح ٹى وى سيٹ كے باهر كى دنيا۔
اِس مثال سے سمجھا جاسكتاهے كه اسپريچول تهذيب كيا هے۔ وه كس طرح آج بظاهر غير موجود هے اور آخرت كى دنيا ميں وه مكمل طورپر موجود هوجائے گي۔ آخرت ميں پيش آنے والا يهى وه واقعه هے جس كے ايك پهلو كو قرآن ميں اِن الفاظ ميں بيان كيا گيا هے وَقَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا ۭ قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْٓ اَنْــطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّهُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (41:21)۔ یعنی، اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے، تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی۔ وہ کہیں گی کہ ہم کو اسی اللہ نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کردیا ہے۔ اور اسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور اسی کے پاس تم لائے گئے ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آخرت ميں اسپريچول تهذيب كے عملى ظهور كا واقعه قديم زمانے ميں صرف ايك عقيدے كى حيثيت ركھتا تھا، مگر موجوده زمانے ميں ٹيلى ويژن كى ايجاد گويا كه اِس معاملے كا ايك پيشگى مظاهره هے۔ ٹيلى ويژن كى ايجاد نے اسپريچول تهذيب كے عملى ظهور كو مشاهداتى سطح پر قابلِ فهم (understandable) بنا دياهے۔
جنتى تهذيب
قرآن كى سوره ياسين ميں اهلِ جنت كے ذكر كے تحت يه الفاظ آئے هيں اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِى شُغُلٍ فٰكِــهُوْنَ (36:55)۔ يعنى، بے شك، اهلِ جنت آج ايك عظيم مشغلے ميں هوں گے، خوش— هر آئينه اهلِ بهشت امروز دركارے باشند، شاداں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Surely the dwellers of Paradise shall on that day be in an occupation quite happy.
Qur'anQuotes the Qur'an
آخرت ميں سچے اهلِ ايمان كو جنت ميں داخله ملے گا۔ وهاں وه ابدى طورپر خوشيوں كى زندگى گزاريں گے۔ جنت هر اعتبار سے، پرفكٹ (perfect) هوگي۔وهاں هر اعتبار سے، اهلِ جنت كے ليے فل فل مينٹ (fulfilment) كا سامان هوگا۔ وهاں اهلِ جنت نه كبھى حزن كا شكار هوں گے اور نه وه كبھى اكتاهٹ (boredom) ميں مبتلا هوں گے۔
تاهم جنت صرف آرام وعيش كى جگه نه هوگي، بلكه اِسى كے ساتھ وه اهلِ جنت كے ليے ايك اعلى ترين سرگرمى كا مقام هوگا۔ مذكوره آيت ميں اِس حقيقت كو بتانے كے ليے ’شغل‘ كا لفظ آيا هے۔ شغل كے لفظى معنى مشغله (activity) كے هيں۔ شغل كا لفظ اِس آيت ميں نكره استعمال هوا هے۔ نحوى قاعدے كے مطابق، تنكير برائے تفخيم هوتى هے۔ اِس ليے يهاں شغل سے مراد هے ايك عظيم مشغله۔
اِس عظيم مشغله سے كس قسم كا مشغله مراد هے۔ غور كرنے سے معلوم هوتاهے كه اِس سے مراد وهى مشغله هے جو دنيا كى زندگى ميں انسان كے ليے عظيم مشغله تھا۔ يهى مشغله بهت زياده اضافه كے ساتھ آخرت ميں بھى ابدى طورپر جارى رهے گا۔ اِس مشغله كو دنيا ميں قوانينِ فطرت كى دريافت (discovery of natural laws) كهاجاتاهے، اِسى كو قرآن ميں كلمات الله (31:27) كهاگيا هے۔ دنيا ميں كلمات الله كى دريافت ابتدائى طورپر هوئى تھي۔ آخرت ميں دوباره ’كلمات الله‘ كى دريافت ابدى طورپر اور غير مختتم طورپر جارى رهے گي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن ميں بتايا گياهے كه الله كے كلمات ناقابلِ قياس حد تك زياده هيں، اتنے زياده كه اگر اُن كو لكھا جائے تو وه ضبطِ تحرير ميں نه آسكيں۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى ايك آيت يه هے وَلَوْ اَنَّ مَا فِى الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ(31:27)۔ يعنى، اگر زمين ميں جو درخت هيں، وه قلم بن جائيں اور سمندر، سات مزيدسمندروں كے ساتھ روشنائى بن جائيں، تب بھى الله كے كلمات ختم نه هوں گے۔ بے شك الله زبردست هے، حكمت والا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’كَلِمَاتُ اللهِ‘ كا لفظى مطلب هے الله كى باتيں (words of God)۔ الله كا كلمه ساده طورپر صرف كلمه نهيں هوتا، وه ايك محكم فيصله يا اٹل قانون هوتا هے۔ كلمات الله سے مراد وهى چيز هے جس كو قرآن ميں مختلف مقامات پر ’امرِ رب‘ يا ’امر الله‘ كهاگيا هے۔ دوسرے الفاظ ميں، اس كو قوانينِ الهيه (divine laws) كهاجاسكتا هے۔ موجوده زمانے ميں اهلِ سائنس اِس واقعے كو قوانينِ فطرت (laws of nature) كهتے هيں۔
يهى قوانينِ الهيه يا قوانينِ فطرت هيں جن كى بنياد پر كائنات كى تخليق هوئى اور يهى قوانين هيں جن كے تحت نهايت محكم انداز ميں كائنات كا پورا نظام مسلسل طورپر چل رهاهے۔ يهى قوانين انسان كے ليے اس كى تمام فكرى اور عملى ترقيوں كا ماخذ هيں۔ اِنھيں قوانين ميں تدبر كركے انسان معرفت حاصل كرتا هے۔ اِنھيں قوانين ميں تدبر كركے انسان تخليق كى معنويت كو دريافت كرتاهے۔ انھيں قوانين ميں تدبر كركے انسان الله كى عظمت (glory) سے آشنا هوتا هے۔ انھيں قوانين ميں تدبر كركے انسان كےاندر وه صفات پيدا هوتى هيں جن كو الله كے ليے حبّ شديد اور خوفِ شديد كهاجاتا هے۔ انھيں قوانين پر تدبركركے آدمى اپنے اندر وه ربانى شخصيت پيدا كرتا هے جو الله كو مطلوب هے۔ يه قوانين الهيه اتنى زياده تعداد ميں هيں كه انسان ابد تك اُن ميں تدبر كرتا رهے اور وه كبھى ختم نه هوں۔
يهى قوانين يا قوانينِ فطرت هى تمام علوم كا خزانه هيں۔ موجوده زمانے ميں جس ظاهرے كو تهذيب (civilization)كها جاتا هے، وه اِنھيں قوانين الهيه يا قوانين فطرت كى جزئى دريافت كے نتيجے ميں وجود ميں آئى هے۔ سائنس كے علوم تمام تر اِنھيں قوانين ميں غور وفكر كے ذريعے حاصل هوئے هيں۔ يهى قوانين، حكمت (wisdom) كا خزانه هيں۔ حقيقت هے كه اِن قوانين كے ساتھ انسان انسان هے۔ اگر اِن قوانين كو انسان سے جدا كرديا جائے تو انسان صرف ايك حيوان بن كر ره جائے گا۔ جو چيز انسان كو انسان بناتى هے، وه اس كى صرف يه خصوصيت هے كه وه فطرت كے قوانين كو دريافت كركے اُن كو اپنے ليے استعمال كرتاهے۔
امريكى مصنف الون ٹافلر (Alvin Toffler) كى ايك كتاب ’فيوچر شاك‘ (Future Shock) هے، جوپهلى بار 1970ميں امريكا سے شائع هوئي۔ اس نے اِس كتاب ميں كها تھا كه همارا انڈسٹريل ايج (industrial age) مزيد ترقى كركے اب سپر انڈسٹريل ايج (super industrial age) ميں داخل هونے والا هے۔ مغربى مصنف نے اپنى يه پيشين گوئى بيسويں صدى ميں كى تھي، ليكن صدى كے آخر ميں اس كا يه خواب منتشر هوگيا۔ماحولياتى مسائل (ecological problems) نے بتايا كه زمين پر انسانى تهذيب كى آخر حد آچكى هے۔ اِس زمين پر انسانى تهذيب كا سفر مزيد آگے جارى رهنے والا نهيں۔
تهذيب كيا هے۔ تهذيب تمام تر قوانين فطرت پر مبنى ايك ظاهره هے۔ قوانينِ فطرت سے الگ تهذيب كا كوئى وجود نهيں۔ جب يه واقعه هے كه قوانينِ الهيه يا قوانين فطرت كى كوئى حد نهيں تو لازمى طورپر يه بھى هونا چاہیے كه تهذيب كى ترقى كى كوئى حد نه هو، تهذيب كى ترقى كا سفر ابدى طورپر جارى رهے۔يهى وه مقام هے جهاں قرآن هم كو رهنمائى ديتا هے۔ قرآن سے معلوم هوتا هے كه تهذيبِ انسانى كا سفر موجوده دنيا كے دورِ حيات ميں ختم نه هوگا، بلكه وه مزيد ترقى كے ساتھ زياده اعلى صورت ميں آخرت كے ابدى دورِ حيات ميں جارى رهے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن ميں يه بات، نعوذ بالله، بطور بوسٹنگ (boasting) نهيں هے، بلكه وه بطور پيشين گوئى هے، يعنى اِس قرآنى بيان ميں دراصل يه اعلان كياگيا هے كه وه وقت آنے والا هے جب كه تهذيب كا نامكمل سفر اپنى تكميل كو پهنچے۔ موجوده دنيا ميں ’كلمات الله‘ كا جو اظهار جزئى صورت ميں هواهے، آخرت كى دنيا ميں اس كا اظهار كامل صورت ميں هوگا۔
قرآن يه خوش خبرى ديتاهے كه انسانى تهذيب كا سفر ادھورا نهيں رهے گا، بلكه وه مزيد ترقى كے ساتھ آئنده بھى جارى رهے گا۔ ارتقا كا جو موقع انسان كو حياتِ دنيا ميں نهيں ملا تھا، وه آخرت كى زندگى ميں مزيد اضافے كے ساتھ اس كو حاصل هوجائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تهذيب كے دو دور
تهذيب كے دو دور جن كا ذكر اوپر كياگيا، اُن كا حواله قرآن ميں صراحتاً موجود هے۔ تهذيب كا پهلا دور جو قوانينِ فطرت كى جزئى دريافت كے ذريعے موجوده دنيا ميں ظهور ميں آئے گا، اس كا ذكر قرآن كى سوره حم السجده ميں اِن الفاظ ميں آيا هے سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ(41:53)۔ يعنى، عنقريب هم اُن كو اپنى نشانياں (signs) دكھائيں گے، آفاق ميں بھى اور انفس ميں بھي، يهاں تك كه اُن پر پورى طرح آشكارا هوجائے گا كه يه (قرآن) حق هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِس آيت ميں قوانينِ الهيه پر مبنى تهذيب كے اُس دور كا ذكر هے جو موجوده دنيا ميں پيش آنے والا تھا۔ قرآن كى يه پيشين گوئى انيسويں صدى اور بيسويں صدى ميں سائنس كے ظهور كى صورت ميں واقعه بن چكى هے۔ سائنس كى دريافتوں نے يه كيا هے كه آفاق وانفس ميں جو خدائى نشانياں (signs of God) موجود تھيں، اُن كو جزئى طورپر دريافت كيا اور اِس طرح انسان كے ليے تبيينِ حق كے نئے مواقع كھول دیے ۔ اِن دريافتوں كے ذريعے انسان كو ايك نيا فريم ورك (framework) ملا۔ اِس كے ذريعے يه ممكن هوگيا كه انسان خالص علمى اور عقلى سطح پر الله كى معرفت حاصل كرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قوانينِ الهيه پر مبنى تهذيب كا دوسرا عظيم تر ظهور آخرت كے دورِ حيات ميں پيش آئے گا۔ تهذيب كے اِس دوسرے دور كو ربانى تهذيب كهاجاسكتا هے۔ يه دور اپنے تمام كمالات كے ساتھ ابدى طورپر جارى رهے گا۔ اِس دوسرے دورِ تهذيب كا ذكر قرآن كى سورۃ الكهف ميں اِن الفاظ ميں آيا هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا خَالِدِيْنَ فِيْهَا لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّى لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّى وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا (18:107-109)۔ يعنى، بے شك جو لوگ ايمان لائے اور انھوں نے عملِ صالح كيا، اُن كے ليے فردوس كے باغوں كى ضيافت هے۔ اِس ميں وه هميشه رهيں گے، وه وهاں سے نكلنا نه چاهيں گے۔ كهوكه اگر سمندر ميرے رب كى نشانيوں كو لكھنے كے ليے روشنائى هوجائے تو سمندر ختم هوجائے گا، اِس سے پهلے كه ميرے رب كے كلمات ختم هوں ، اگر چه هم اس كے ساتھ اسى كى مانند اور سمندر ملا ديں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كى اِن آيات پر غور کیجیے ۔ سب سے پهلے فرمايا كه ’’جو لوگ ايمان لائے اور انھوں نے عمل صالح كيا‘‘، يعنى جن لوگوں نے دريافت كى سطح پر الله كى معرفت حاصل كى اور پھر اس معرفت كے مطابق، اپنى عملى زندگى كو ربانى زندگى بنا ديا۔ اس كے بعد فرمايا كه ’’اُن كے ليے فردوس كے باغوں كى ضيافت هے‘‘، يعنى آخرت ميں اُن كو الله كے آفاقى گيسٹ هاؤس (universal guesthouse) ميں ابدى طورپر رهنے كا موقع ديا جائے گا۔ اِس كے بعد فرمايا كه ’’اس ميں وه هميشه رهيں گے، وه وهاں سے نكلنا نه چاهيں گے‘‘۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان كا مزاج يه هے كه اگر اس كو يكساں قسم كى مادى نعمتيں دى جائيں تو يه نعمتيں خواه كتنى هى زياده هوں، كچھ دنوں كے بعد وه ان كى يكسانيت كى بناپر بورڈم (boredom) كا شكار هوجائے گا، وه اُن سے محظوظ نه هوسكے گا۔ اِس كے بعد فرمايا كه ’’وه جنت سے نكلنا نه چاهيں گے‘‘۔ اِس طرح كى كيفت پيدا هونے كے ليے ضرورى هے كه اهلِ جنت كو مادى نعمتوں كے سوا ايك اور چيز حاصل هو اور وه هے — بار بار نئى چيزوں كا ملنا، بار بار نئى دريافتوں كا تجربه پيش آنا ، مسلسل طورپر فكر ى ارتقاكا جارى رهنا جن كى بنا پر اهلِ جنت كى تخليقيت (creativity)كبھى ختم نه هوگي۔ اهلِ جنت كى شخصيت ميں يه ارتقا معرفتِ خداوندى ميں ارتقا كے ذريعے پيش آئے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنت ميں تخليقى سرگرميوں (creative activities) كے جو اتھاه مواقع هوں گے،اُن كو آيت كے اگلے الفاظ ميں بيان كيا گيا هے، اور وه هے اهلِ جنت كے ذريعے ’كلمات الله‘ كى ابدى انفولڈنگ (eternal unfolding)۔ قرآن كے مطابق، ’كلمات الله‘ كى تعداد لا محدود هے۔ سائنس كے ذريعے اِن ’كلمات الله‘ كا جزئى ظهور (partial unfolding) هوا، جس كے نتيجے ميں دنيا كى تهذيب وجود ميں آئي۔ آخرت ميں اهلِ جنت كے ذريعے ’كلمات الله‘ كا كامل ظهور هوگا۔ اِس كے نتيجے ميں وه دورِ كمال وجود ميں آئے گا جس كو جنتى تهذيب كها جاتا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دنيا ميں هم ديكھتے هيں كه هر انسان جو يهاں پيدا هوتا هے، وه اپنے آپ كو تيارى ميں لگا ديتا هے۔ هر آدمى اپنے اندر كسى نه كسى شعبے كى اعلى تعليم حاصل كرنے كى كوشش كرتاهے۔ هر آدمى آخرى حد تك يه كوشش كرتاهے كه اس كے اندر كوئى خاص هنر مندى (skill)، كوئى خاص لياقت (qualification) ، كوئى خاص مهارت (expertise) پائى جائے، تاكه وه موجوده دنيا ميں قائم شده تهذيب كے نقشے ميں كوئى اعلى مقام حاصل كرسكے۔ هر عورت اور مرد زندگى كى اِس حقيقت كو جانتے هيں اور اس كے ليے پورى طرح سرگرم رهتے هيں۔
يهى معامله آخرت ميں بننے والى بلند تر تهذيب كا هے۔ وهاں بھى سرگرمياں هوں گي، وهاں بھى مناصب هوں گے ، وهاں بھى هر قسم كے اعلى شعبے هوں گے۔ جنتى دنيا كے ان اعلى مواقع كو حاصل كرنے كے ليے بھى تيار ذهن اور تربيت يافته افراد دركار هيں۔موجوده دنيا ايك اعتبار سے، اِسى اعلى تيارى كى تربيت گاه هے۔
موجوده دنيا كے حالات ميں لوگوں كو يه موقع ديا گيا هے كه وه اپنے اندر وه ربانى صلاحيت پيدا كريں جو اُن كو اِس قابل بنائے كه وه آخرت ميں بننے والى برتر تهذيب كے مناصب كے ليے منتخب كيے جاسكيں اور پھر ابدى طورپر نه صرف آرام وعيش كى زندگى گزاريں، بلكه ايك ايسے تهذيبى سفر كا حصه بن جائيں جس كى ترقياں كبھى ختم نه هوں۔ يه لا محدودخوشى (endless pleasure) كى زندگى هوگي، جو الله كى خصوصى رحمت سے اهلِ جنت كو حاصل هوگي۔
موجوده دنيا ميں كسى آدمى كو جو عزت كا مقام ملتا هے، وه اِس بنياد پر ملتا هے كه اس نے تهذيب كے تقاضوں كے مطابق، اپنے آپ كو كتنا تيار كيا هے۔ يهى معامله آخرت كى جنتى تهذيب ميں بھى هوگا۔ موجوده دنيا كى تهذيب ميں هر آدمى كو ڈاكٹر، انجينئر، اسكالر اور ٹكنكل اكسپرٹ، وغيره كى نسبت سے مقام ملتاهے۔ آخرت ميں عارف ، متقى اور خاشع، وغيره كى نسبت سے اس كو مقام حاصل هوگا۔ دنيا ميں آدمى كو دنيوى تقاضے كے مطابق تيارى كى نسبت سے اپنا مقامِ استعمال ملتا هے۔ آخرت ميں هر آدمى كو ربانى تقاضے كے مطابق تيارى كى نسبت سے اپنا مقامِ استعمال ملے گا۔
خلاصهٔ كلام
تهذيب (civilization) كيا هے۔تهذيب، اپنى حقيقت كے اعتبار سے، كلماتِ الهيه كے ظهور كا نام هے۔ قيامت سے پهلے كے دورِ حيات ميں يه ظهور جزئى طور پر هوگا اور قيامت كے بعد كے دورِ حيات ميں كامل طور پر۔ موجوده دنيا ميں انسان كو آزادى حاصل تھي، اِس ليے موجوده دنيا ميں كلماتِ الهيه كے جزئى ظهور سے جو تهذيب بني، اس ميں انسانى فساد كى بنا پر منفى اجزا شامل هوگئے۔ ليكن آخرت ميں كلماتِ الهيه كے كامل ظهور سے جو تهذيب وجود ميں آئے گي، وه انسانى فساد سے پورى طرح پاك هوگي۔ اِس ليے آخرت ميں ظهور ميں آنے والى تهذيب تمام تر مثبت اجزا پر مبنى هوگي۔ اِسى ليے اس كو جنتى تهذيب كهاگيا هے۔
قرآن ميں جنت كے حوالے سے ارشاد هوا هے كه لِمِثْلِ هَذَا فَلِيَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ (37:61)۔ يعنى، ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ انسان كو چاهيے كه وه موجوده دنيا كو ايك موقع (opportunity) كے طورپر لے۔ وه اپنے آپ كو اِس اعتبار سے تيار كرے كه وه آخرت ميں بننے والى جنتى تهذيب ميں اپنے ليے باعزت جگه پاسكے۔ اِسى ليے كها گيا هے كه موجوده دنيا دار العمل هے اور آخرت كى دنيا دار الجزا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قیامت کے دروازے پر
25 جون 2008 کی صبح کو میں آل انڈیا ریڈیو سے خبریں سن رہا تھا۔ خبروں کے آخر میں حسب معمول کھیل کی کمنٹری آنے لگی۔ ومبلڈن (Wimbledon)سے رپورٹ دیتے ہوئے، رپورٹر نے کہا کہ— ندال (Rafael Nadal) زبردست جیت کے دروازے پر
Nadal on the threshold of a landslide victory.
اِن الفاظ کو سُن کر میں نے سوچا کہ لوگ کتنی زیادہ بڑی بھول میں مبتلا ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عظیم کامیابی کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہیں، حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ندال سمیت پوری انسانیت آج قیامت کے دروازے پر کھڑی ہوئی ہے
Nadal as well as whole humanity is on the threshold of Doomsday.
قرآن کی سورۃ المومنون میں تمام انسانیت کو خطاب کرتے ہوئے خداوندِ عالم نے فرمایا تو کیا تم نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے، اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے(23:115)
Qur'anQuotes the Qur'an
Do you think that we created you without any purpose, and that you shall not be returned to Us.
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن میں اِس طرح کی مختلف آیتیں ہیں جن میںخدا کا کری ایشن پلان (creation plan) بتایا گیا ہے۔ اِس کے مطابق، خدا نے ایک آئڈیل دنیا بنائی جس کو جنت (paradise) کہاگیا ہے۔ یہ آئڈیل دنیا ابدی ہے(2:25)۔ وہ خوف اور حُزن سے خالی ہے (35:34)۔ وہاں انسان کے لیے کامل فُل فِل مینٹ (fulfilment) کا سامان موجود ہے (41:31)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کے بعد خدا نے سیارۂ زمین کو بنایا اور پھر یہاں انسانی نسل کو آباد کیا۔خدا نے انسان کو آزادی (freedom) عطا کی اور زمین پر بقاءِ حیات کے تمام اسباب فراہم کیے، جن کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتا ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، سیارۂ زمین کی حیثیت ایک سلیکشن گراؤنڈ (selection ground)کی ہے۔ خدا کے فرشتے یہاں رات دن انسان کا ریکارڈ تیار کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے اعلیٰ ریکارڈ کے مطابق، جنت کے مستحق ٹھیریں گے، اُن کو منتخب کرکے موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت میں بسایا جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے خوشیوں اور راحتوں کی زندگی گزاریں گے۔
یہی وہ بات ہے جو قرآن کی اِس آیت میں کہی گئی ہے ’’بڑا با برکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتاہے، اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے‘‘(67:1-2):
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Glory is to God in whose hand is the kingdom, and He has power over all things; who created death and life, so He may test you, which of you is best in action. He is the mighty, the Most Forgiving.
Qur'anQuotes the Qur'an
انسانِ اوّل (آدم) کے بعد بے شمار لوگ پیدا ہوکر زمین پر آباد ہوئے اور بدستور پیدا ہو کر آباد ہو رہے ہیں، مگر خدا کو صرف وہ عورت اور مرد مطلوب ہیں جو اُس کے تخلیقی پلان کے مطابق، احسنُ العمل (best in deed) ثابت ہوں۔
خدا کے اِس تخلیقی پلان کے مطابق، انسان اگرچہ ابدی مخلوق(eternal being) کی حیثیت سے پیدا کیاگیا ہے، لیکن سیارۂ زمین پر اس کو ابدی طورپر نہیں رہنا ہے، موجودہ سیارۂ زمین اس کی عارضی قیام گاہ ہے۔ اِسی عارضی مدت کے خاتمے کے دن کا نام قیامت (Doomsday) ہے۔
سیارۂ زمین پر خدا نے وہ تمام اسباب اکھٹا کیے جو مذکورہ تخلیقی پلان کے مقصد کی نسبت سے ضروری تھے۔ اِن اسباب کی حیثیت وہی ہے جو امتحان ہال(examination hall) میں موجود سامان کی ہوتی ہے۔ یہ سامان، امتحان کی ضرورت کے تحت، امتحان ہال میں اکھٹا کیے جاتے ہیں۔ امتحان کے ختم ہوتے ہی ان کی مطلوبیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ طالب علم کو یہ اسباب صرف امتحان کے سامان کے طورپر دیے جاتے ہیں، نہ کہ ذاتی انعام کے طورپر۔ اس لیے امتحان کے ختم ہوتے ہی طالبِ علم سے یہ تمام اسباب چھن جاتے ہیں۔
اِس معاملے میں خدا کے تخلیقی پلان کا ایک اور پہلو وہ ہے جو قرآن کی سورۃ نمبر 8 میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰى مَنْ حَى عَنْ بَيِّنَة (8:42)۔ یعنی، جس کو ہلاک ہونا ہے، وہ حجت کے ساتھ ہلاک ہو اور جس کو زندہ رہنا ہے، وہ حجت کے ساتھ زندہ رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قانونِ الٰہی کا ایک پہلو وہ ہے جو قیامت سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ قیامت جب آئے گی تو وہ براہِ راست خدائی فیصلے کے تحت آئے گی، لیکن انسانی معاملات میں خدا اپنا فیصلہ پُر اسرار بنیاد پر نہیں کرتا، بلکہ اِس طرح کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو پوری طرح معقول اور جائز (justified) معلوم ہو۔ حالات بتاتے ہیں کہ، قرآن کے الفاظ میں، آنے والی گھڑی بالکل قریب آچکی ہے، اور کوئی اس کو ٹالنے والا نہیں (53:57-58) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے کی پہلی علامت وہ تھی جس کو پری فائنل وارننگ (pre-final warning) کہاجاسکتا ہے۔یہ واقعہ 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کے ٹوٹنے کی صورت میں پیش آیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، 1917 میں سوویت روس قائم ہوا۔ اِس کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ اس کو غیر معمولی توسیع و ترقی ہوئی۔ یہاں تک کہ1957میں سوویت روس نے پہلا راکیٹ(Sputnik) خلا میں بھیجا، تو اس کو عالمی سپر پاور کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
لیکن سوویت یونین، یا کمیونسٹ ایمپائر کی آئڈیالوجی میں آغاز ہی سے ایک ایسی چیز شامل تھی جو خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھی۔ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو لازمی طورپر آزادیِ انتخاب (freedom of choice) عطا کیا ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بغیر ٹیسٹ (امتحان) ممکن نہیں۔ لیکن کمیونسٹ ایمپائر نے خود ساختہ نظریے کے تحت، اپنے علاقے میں مذہبی آزادی کا مکمل خاتمہ کردیا۔ کسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمی اس کے اندر خلافِ قانون قرار پاگئی۔ حکومتی سطح پر اینٹی ریلجس ڈپارٹمینٹ قائم ہوا۔ اس کا کام یہ تھا کہ کمیونسٹ ایمپائر کے اندر وہ ہر قسم کی مذہبی سرگرمی کو کچل کر ختم کردے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بات واضح طورپر خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھی، اور اِس قسم کی کوئی چیز خدا کے نزدیک قابلِ قبول نہیں ہوسکتی جو خدا کے تخلیقی پلان کی منسوخی کے ہم معنیٰ ہو۔ چنانچہ سوویت یونین میںایسے حالات پیدا ہوئے کہ 1991 میں سوویت یونین کا سیاسی محل تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر ختم ہوگیا۔ یہ گویا کہ مادّی تہذیب کے فائنل خاتمہ سے پہلے دیا جانے والا ایک خدائی انتباہ (divine warning) تھا۔ لیکن اِس کے بعد بھی انسان نے اِس واقعے سے سبق نہیں لیا۔ اِس کے بعد بھی اُس نے ایسی سرگرمیاں جاری رکھیں جو خدا کے تخلیقی پلان سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔
خدا نے اپنے تخلیق پلان کے مطابق، انسان کے لیے دو نہایت اہم چیزوں کا انتظام کیا ہے— اِن میں سے ایک کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتا ہے۔ اِسی طرح دوسرے کو مارل سپورٹ سسٹم (moral support system) کہاجاسکتا ہے۔ پچھلے برسوں میں انسان نے اِن دونوں فطری نظاموں کو ناقابلِ تلافی حدتک تباہ کردیا ہے اور اِس طرح اُس نے اِس کا جواز (justification) کھودیا ہے کہ اس کو سیارۂ زمین پر مزید باقی رکھا جائے۔ کیوں کہ انسان کو زمین کے فطری نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کام کرنا تھا، اس کو یہ رائٹ نہیں تھا کہ وہ زمین کے فطری نظام کو تباہ کرڈالے۔
لائف سپورٹ سسٹم
خدا نے جب سیارۂ زمین پر اِنسان کو بسایا، تو یہاں اُس نے وہ تمام مادّی سامان مہیا کیے جو انسان جیسی مخلوق کی زندگی اوربقا کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً ہوا، پانی، روشنی اورغذا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں اِن انتظامات کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتاہے۔
موجودہ زمین پر انسان کو اس کے خالق نے ایک محدود مدت کے لیے بسایا ہے، اِس لیے یہ انتظامات محدود پیمانے پر کیے گئے ہیں۔ اِن انتظامات کو لامحدود طورپر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام، انسان کی فطری ضرورت (natural need) کو سامنے رکھتے ہوئے کیاگیا ہے۔ اب اگر انسان ایسا کرے کہ وہ ہوس پرستانہ تعیش (luxury) کے لیے لامحدود طورپر اُن کو استعمال کرنے لگے، تو اِس سے فطرت کا نظام غیر متوازن ہوجائے گا اور وہ چیز پیدا ہوجائے گی جس کو قرآن میں فساد (7:85)کہاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں عملاً ایسا ہی پیش آیا ہے۔ انسان نے اپنی لامحدود خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے اور تعیشات کا انبار اپنے گرد اکھٹا کرنے کے لیے بڑی بڑی صنعتیں قائم کیں۔ بڑی بڑی موٹر کاریں بنائیں، بے شمار قسم کے کنزیومر گڈس (consumer goods) تیار کیے، ہر چیز کو ائر کنڈیشنڈ کرنے کی کوشش کی، ہتھیار کی صنعت (armament industry) کو چلانے کے لیے بڑے بڑے اسلحہ ساز کارخانے قائم کیے، وغیرہ۔
اِس قسم کی چیزیں انسان کی ضرورت (need) نہ تھیں، وہ صرف اس کی ہوس (greed) کا تقاضا تھیں۔ اِس انتخابی دنیا میں خدا کا نظام ضرورت کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، نہ کہ ہوس کی بنیاد پر۔ مگر اتباعِ ہویٰ (18:28) کی وجہ سے یہ توازن ٹوٹ گیا۔ اِس طرح انسان، فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ گیا۔ اِس کا بھیانک نتیجہ ائرپلوشن، واٹر پلوشن، نوائز پلوشن اور پلاسٹک پلوشن، وغیرہ کی صورت میں نکلا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں فَسَاد فِی الأَرْضِ (7:85) کہاگیا ہے، یعنی فطرت میں قائم کردہ توازن (balance) کا ٹوٹ جانا۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے۔ قدیم روایتی زمانے میںانسان، فطرت (nature) کو صرف بقدر ضرورت استعمال کرتا تھا۔اِس لیے دنیا میں فطری توازن کا نظام بگڑنے نہیں پایا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ صنعتی تہذیب کے زمانے میں انسان کو جدید طاقتوں پر دست رس حاصل ہوگئی۔ اب اُس نے لامحدود طورپر فطرت (nature) کا استعمال شروع کردیا۔ اِس کے نتیجے میں فطرت کاتوازن مختل ہو کر رہ گیا۔
انسان نے جو کارخانے بنائے، اُن میں ایسا ایندھن استعمال ہوتا تھا جس سے وہ سنگین مسئلہ پیدا ہوا جس کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہاجاتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری فضا، مضر گیسوں سے بھر گئی۔ سمندر، خالص پانی کی فراہمی کا ذریعہ تھے، لیکن صنعتی کثافتیں جو ندیوں وغیرہ کے ذریعے بہہ کر سمندر میں پہنچیں۔
ان صنعتى كثافتوں کے نتیجے میں یہ ناقابلِ حل مسئلہ پیدا ہوا کہ سمندروں میں پانی کا عظیم ذخیرہ پنچانوے فی صد تک خطرناک طورپر آلودگی کا شکار ہو کر رہ گیا۔ حالات کی شدت کے نتیجے میں صحت بخش کیڑے مکوڑے (insects) روزانہ بہت بڑی تعداد میں مر کر ختم ہورہے ہیں، جن کا کوئی بھی بدل فراہم کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں۔
جدید صنعتوں ہی کے نتیجے میں وہ سپر پرابلم پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ کہاجاتا ہے۔ تمام دنیا کے سائنس داں متفقہ طورپر یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین کے اوپر لائف سپورٹ سسٹم میں جو خطرناک بگاڑ آیا ہے، وہ ناقابلِ اصلاح (irreversible) ہے۔ تمام سائنس داں جدید سائنسی مشاہدات کی بنیاد پر یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ بیس سال کے اندر حالات اتنے زیادہ خراب ہو جائیں گے کہ سیارۂ زمین، انسان جیسی کسی مخلوق کے لیے ناقابلِ رہائش (inhabitable) ہوجائے گا۔
موجودہ سیارۂ زمین، انسان کو بقدر ضرورت استعمال کے لیے دیاگیا تھا، لیکن انسان نے تجاوز کرکے زمین کوبقدرِ تعیّش استعمال کرنا چاہا۔ اِس کے نتیجے میں انسان نے زمین پر اتنا زیادہ بگاڑ پیدا کردیا کہ اُس نے زمین پر مزید رہنے کا جوازکھودیا۔ بظاہر اب آخری طورپر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ انسان کو زمین سے بے دخل کردیا جائے۔ اِسی بے دخلی کے دن کا دوسرا نام قیامت ہے۔
مارل سپورٹ سسٹم
خدا نے انسان کو فطرتِ صحیحہ ( 30:30) پر پیدا کیا۔ اُس نے انسان کے اندر پیدائشی طورپر بُرائی اور بھلائی کی تمیز رکھ دی (91:8) پھر خدا نے انسان کے اندر ضمیر (conscience) رکھ دیا، جس کو قرآن میں نفسِ لوّامہ (75:2) کہاگیا ہے۔ یہ نفسِ لوامہ، ہر انسان کے لیے ایک داخلی گائڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ہر موقع پر انسان کو صحیح اور غلط کا علم دیتا رہتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ پورا نظام جو نفسیات کی سطح پر قائم کیا گیا ہے، وہ گویا کہ انسان کے لیے ایک قسم کا مارل سپورٹ سسٹم(moral support system) ہے۔ وہ اِس لیے ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو درست رویّے پر قائم رکھے، وہ انسان کو اخلاقی بگاڑ کی طرف جانے سے روکتا رہے۔
موجودہ زمانے میں انسان نے یہ سنگین جرم کیا کہ اُس نے خدا کے قائم کردہ اِس مارل سپورٹ سسٹم کو تباہ کردیا۔ مغربی تہذیب کے فروغ کے بعد ایسے نظریے وضع کیے گئے جنھوں نے انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ نیچر کوئی چیز نہیں، سب کچھ صرف نرچر (nurture) پر منحصر ہے، یعنی یہ دراصل سماجی اثرات ہیں جو کسی انسان کی شخصیت کو بناتے ہیں۔
اِس فلسفیانہ اسکول کو عام طورپر بہیویر ازم (Behaviourism) کہاجاتا ہے۔ اس نظریے نے لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ ربانی فطرت (divine nature) کوئی حقیقی چیز نہیں، وہ صرف ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon) ہے
Behaviourism: The doctrine that valid data consists only of the observable and measurable in individual’s responses, not valuing subjective or introspective accounts.
اِسی طرح وہ فلسفہ وضع کیاگیا جس کو اِفادی نظریہ (Utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ اِس نظریے نے اِفادیت پسندی کو وہ جگہ دے دی جو فطرت کے نظام کے تحت، اخلاقی اقدار (moral values) کوحاصل تھی۔ ذاتی مفاد نے زندگی میں وہ حیثیت اختیار کرلی جو اِس سے پہلے اعلیٰ اصولی معیارات کو حاصل تھی۔ اِس نظریے کا خلاصہ اِن الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے
Utilitarianism: The doctrine that the greatest happiness of the greatest number should be the aim of all action. The doctrine that the worth, or value of anything is determined solely by its utility.
اِس نظریے نے ذاتی خوشی، یا ذاتی مفاد کو کسی شخص کی زندگی میں واحد قابلِ لحاظ چیز قرار دے دیا۔ اِس نظریے کے مطابق، جس چیز سے آدمی کو خوشی ملے اور جس میں اس کو اپنا مادّی فائدہ نظر آئے، وہ اس کو بلا تأمل اختیار کرسکتا ہے۔ اِس معاملے میں ضمیر، یا فطرت کی آواز کا لحاظ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اِس نظریے نے فطرت کے قائم کردہ مارل سپورٹ سسٹم کو زندگی کے معاملات میں اضافی (relative) قرار دے دیا۔ اِس طرح، فطرت کا قائم کیا ہوا اخلاقی نظام عملاً غیر موثر ہوکر رہ گیا۔
اِسی طرح، مارل سپورٹ سسٹم کو غیر موثر بنانے میں سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کا بہت بڑا دخل ہے۔ اس نے اپنے نظریات کے ذریعے انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ مطلق اخلاقی اقدار کا کوئی وجود نہیں۔اُس نے بتایا کہ—نفسیاتی پیچیدگیاں ابتدائی دور کے جذباتی صدمات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ وہ دبی ہوئی صنفی توانائی کا اظہار ہیں۔
سگمنڈ فرائڈ نے اپنے اِس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے مختلف قسم کی تکنیک اور خواب کی صنفی تعبیر کا سہارا لیا، اس طرح اس نے بتایا کہ نفسیاتی مسائل، دبے ہوئے جذبات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اُس نے اِس بات پر زور دیا کہ بعد کی زندگی میں شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ کم عمری سے صنفی تعلقات قائم کیے جائیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
...Symptoms were caused by early trauma, and were expressions of repressed sexual energy. Devised 'free association' technique and dream interpretation discover repressed experiences. Emphasized importance of infantile sexuality in personality's develpment in later life.
other sourceWords of another person or source
مذکورہ قسم کے نظریات، انسان کے ہوس پرستانہ جذبات کے عین مطابق تھے۔ چنانچہ ان کو آج کی دنیا میں خوب پھیلاؤ حاصل ہوا۔ اِسی کے نتیجے میںاِباحیت پسند سوسائٹی (permissive society) بنی۔ اِسی کے نتیجے میں ’’آج‘ ‘ میں جینے کا نظریہ بنا، جس کو عام طور پر رائٹ ہیئر، رائٹ ناؤ (right here, right now) کہا جاتا ہے۔
اِسی نظريے کے نتیجے میں برہنگی (nudity) ماڈرن کلچر کا حصہ بن گئی۔ ڈوز اینڈ ڈونٹس (do's and don'ts)کا قدیم نظریہ، لوگوں کو بے معنی نظر آنے لگا۔ شراب اور سیکس جیسی چیزوں پر عائد رکاوٹیں ختم ہوگئیں۔ انسان کے مطالعے کے لیے حیوان کو معیار سمجھ لیا گیا۔ زندگی کا مقصد صرف یہ بن گیا کہ — کماؤ اور عیش کرو۔
پریس میں ایک واقعہ آیا ہے کہ مغربی دنیا کے ایک شخص نے سرجری کے ذریعے اپنی صنف تبدیل کی۔ وہ مرد کے بجائے عورت بن گیا۔ پھر اس نے مرد جوڑے سے تعلقات قائم کیے۔ اُس کو حمل قرار پایا۔ اِس معاملے کو فخر کے ساتھ بتاتے ہوئے، اُس نے کہا کہ— عورت ہونا، یا مرد ہونا، یہ ہمارے اپنے انتخاب کی بات ہے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Sex is a matter of choice.
یہ قول موجودہ زمانے کے انسان کی ترجمانی کرتاہے۔ موجودہ زمانے کے انسان کی یہ سوچ بن گئی ہے کہ تمام اخلاقی قدریں اضافی (relative) ہیں، نہ کہ حقیقی (real)۔ کسی نے اعلان کے ساتھ اور کسی نے اعلان کے بغیر یہ مان لیا ہے کہ نیکی اور بدی کا اصول کوئی ابدی اصول نہیں، نیکی اور بدی ہمارے اپنے انتخاب کی چیز یں ہیں
Virtue and sin both are matter of personal choice, rather than a matter pertaining to good and bad.
جیسا کہ اوپر عرض کیاگیا، خالق کے قائم کردہ مارل سپورٹ سسٹم کا رول، انسانی زندگی میں بہت زیادہ اہم تھا۔ وہ انسان کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنے کی ایک داخلی ضمانت تھا۔ مارل سپورٹ سسٹم ،خدا کے تخلیقی پلان کا ایک لازمی حصہ تھا، مگر انسان نے آزادی کے غلط استعمال کو اُس کی آخری حد تک پہنچا دیا۔
خدا نے انسان کی زندگی میں مارل سپورٹ سسٹم کی صورت میں چیک اینڈ بیلنس (check and balance)کا نظام قائم کیا تھا، تاکہ انسان، خدا کے مطلوب معیار کے منمم (minimum) پر قائم رہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں انسان اِس منمم حد پر قائم نہ رہ سکا۔ اِس طرح، اس نے یہ جواز (justification) کھودیا کہ اس کو موجودہ زمین پر مزید مدت کے لیے باقی رکھا جائے۔
اخلاقی برائی کی آخری صورت
قومِ لوط کا زمانہ چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ یہ قوم بحر مُردار (Dead Sea) کے علاقہ میں رہتی تھی۔پیغمبر کے انذار کے باوجود وہ لوگ خدا کی پکڑ سے بے خوف ہوگئے۔ وہ بڑے پیمانے پر اُسی اخلاقی برائی میں مبتلا ہوگئے جس کو ہم جنسی (Homosexuality) کہاجاتا ہے۔
قديم زمانے میں یہ برائی صرف ایک اخلاقی برائی کی حیثیت رکھتی تھی، مگر آج یہ اخلاقی برائی ایک خوب صورت فلسفہ کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ دنیا بھر میںتیزی سے اس کا رواج بڑھ رہا ہے، حتی کہ بعض ملکوںمیں ہم جنسی کے نکاح کو ایک قانونی نکاح کی حیثیت دے دی گئی ہے۔
نئی دہلی میں ہم جنس گروہ (gay community) بڑی تعداد میں موجود ہے۔ اِس قسم کے تقریباً ایک ہزار افراد نے 29 جون 2008 کو دہلی کی سڑکوں پر اپنا ایک پُر فخرپریڈ (pride parade) نکالا۔ ان کا نعرہ تھا کہ ہم جنسی کو برا سمجھنا، یا اس کے خلاف قانون بنانا، یہ سوشل ڈس کری منیشن (social discrimination)ہے، اس کو بند ہونا چاہیے۔ یہ رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (30 جون، 2008) میں حسب ذیل عنوان کے ساتھ چھپی ہے
Gay pride out on capital's streets, p. 3.
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اِس مظاہرہ کے وقت لوگوں کی طرف سے کسی ناراضگی کا اظہار نہیں کیاگیا۔ اِس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ افراد نے شرم وحیا کو کھودیا ہے، اور سماج میں اخلاقی ضمیر کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
یورپ اور امریکا اور کینڈا میں یہ موضوع کھلے ڈسکشن کا موضوع بن چکا ہے۔ مختلف یونی ورسٹیوں میں اِس موضوع پر باقاعدہ رسرچ ہورہی ہے۔ رسرچ کرنے والے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہم جنسی کا رجحان خود نیچر کے اندر موجود ہے۔ اِس معاملے میں وہ بعض چڑیوں اور بعض کیڑوں (insects)کی مثال دیتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِن نام نہاد تحقیقات کے بارے میں کئی کتابیں چھپی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب كا نام يهاں درج كيا جاتا ہے
Biological exuberance: Animal Homosexuality and Natural Diversity, by Bruce Bagemihl (Published in 1999)
other sourceWords of another person or source
نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (29 جون، 2008) میںاِس کی رپورٹ تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے
Homosexuality: Nature or Nurture
یہ صرف ایک مغالطہ ہے، نہ کہ کوئی حقیقی رسرچ۔ انسان کے بارے میں سائنٹفک رسرچ وہ ہے جو خود انسان پر کی گئی ہو اور انسان کے حیاتیاتی نظام کے مطالعے سے نتیجہ اخذ کیاگیا ہو۔ مذکورہ رسرچ میں یہ کیا گیا ہے کہ بعض کیڑوں کا مطالعہ کیاگیا اور اِن کیڑوں کی بعض عادات معلوم کرکے ان کو انسان کے اوپر چسپاں کردیاگیا۔ یہ ایک قیاس مع الفارق ہے، اور اِس قسم کا قیاس سائنسی طورپر معتبر نہیں۔
چار ہزار سال پہلے قومِ لوط ٹھیک اِسی عمل میں مبتلا ہوئی تھی۔ جب پیغمبرانہ اِنذار کے باوجود انھوں نے اپنی اس روش کو ترک نہیں کیا، تو اُن پر خدا کی طرف سے ہلاکت خیزعذاب بھیجا گیا۔ اِس کے بعد ہمیشہ کے لیے اُس قوم کا خاتمہ ہوگیا۔ اب یہی عمل مزید اضافے کے ساتھ، ساری دنیا میں پھیل گیاہے۔ قومِ لوط کا بگاڑ صرف اخلاقی بگاڑ کے ہم معنی تھا، موجودہ زمانے میں یہ اخلاقی بُرائی فلسفیانہ جواز کے تحت کی جارہی ہے۔ اِس طرح، موجودہ زمانے کی برائی، قدیم زمانے کی برائی کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ شنیع حیثیت رکھتی ہے۔ مزید یہ کہ قدیم زمانے میں یہ برائی زمین کے صرف ایک محدود رقبے میں پائی جاتی تھی، آج یہ برائی پورے کرۂ ارض میں پھیل گئی ہے۔
یہی وہ صورتِ حال ہے جس کو حدیث میں، قربِ قیامت کے آخری دور کی علامت کے طور پر، اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الحُمُرِ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2937)۔ یعنی، اُس وقت صرف برے لوگ دنیا میں باقی رہیں گے جو گدھوں کی طرح بے حیائی کا فعل کریں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ صورتِ حال اپنے آپ میں اِس بات کا ایک اعلان ہے کہ خدا کی پکڑ کا وقت بالکل قریب آچکا ہے۔ قومِ لوط کے زمانے میں، خدا کا عذاب ایک محدود قیامت کے طورپر آیا تھا، جس کو قرآن میں عذابِ ادنیٰ (32:21) کہاگیا ہے۔ اب یہ عذاب عالمی قیامت کے طورپر آنے والا ہے، جس کو قرآن میں عذابِ اکبر (32:21) کہاگیا تھا۔ قومِ لوط نے محدود طورپر اپنے وجود کا جواز (justification)کھویا تھا، اب انسانیت نے عالمی سطح پر اپنے وجود کا جواز کھودیاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حالات پکار رہے ہیں کہ کاؤنٹ ڈاؤن اب اپنی آخری گنتی تک پہنچ چکا۔ قیامت کا فرشتہ اب ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جاگنے والو، جاگو۔ دیکھنے والو، دیکھو۔ کان والو، سنو۔ دماغ والو، سوچو۔ آج کا دن تمھارے لیے آخری دن ہے۔ اگر آج تم اپنے اختیار سے ہوش میں نہ آئے تو کل تم کو مجبورانہ طورپر ہوش میں آنا پڑے گا۔ مگر کل ہوش میں آنا، کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔
موجودہ دنیا، انسان کو نہ انعام کے طورپر ملی ہے اور نہ کسی استحقاق کے طورپر۔ یہ دنیا خدا نے بنائی ہے، اور خدا نے یہ دنیا انسان کو صرف ایک مقصد کے تحت عطا کی ہے، اور وہ یہ کہ یہاں کے حالات میں رکھ کر یہ دیکھا جائے کہ انسانوں میں سے کون ہے جو مطلوب خدائی معیار پر پورا اترا، تاکہ اس کا انتخاب (selection) کرکے اُس کو ابدی طور پر جنت کی معیاری دنیا میں بسایا جائے اور باقی لوگوں کو رد کرکے ان کو عالمی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے۔
آدم کی پیدائش کے بعد سے اب تک پورے سیارۂ زمین پر یہی عمل جاری رہا ہے۔ اِس دنیا میں انسان کی آبادکاری کا یہی واحد مقصدتھا، اِس کے سوا دوسرا کوئی مقصد نہیں جس کے لیے انسان کو اِس دنیا میں رہنے اور بسنے کا موقع دیا جائے۔
اب انسان کی تاریخ اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ چکی ہے، اور بظاہر حالات بتاتے ہیں کہ اب یہ مقصد آخری حد تک پوراہوگیا ہے۔ اب انتخاب کا عمل اپنے نقطۂ انتہا (culmination) کو پہنچ چکا ہے۔ اب انتخاب کی اِس فہرست میں مزید کسی اضافے کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔
موجودہ زمانے میں جب فطرت کے خزانوں کا انکشاف ہوا، تو اس کے بعد یہ ہونا چاہیے تھا کہ انسان اور بھی زیادہ اضافے کے ساتھ خدا کا اعتراف کرے، انسان اور زیادہ خدا پرست بن کر خدا کی انتخابی فہرست میں نمایاں جگہ پائے، مگر نتیجہ برعکس صورت میں نکلا۔ انسان سرکشی کے راستے پر چل پڑا۔ اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنے کے بجائے، وہ اپنے لیے خود اِسی دنیا میں راحت اور عیش کا محل تعمیر کرنے میں مصروف ہوگیا۔
آج کی دنیا میں لوگوں کی سوچ کیا ہے، اُس کا اگر خلاصہ کیا جائے، تو وہ صرف ایک ہے— آج اور صرف آج (right here, right now) یعنی کل کو نظر انداز کرکے صرف آج میںجینا، اورآج کی دنیامیں خوشی اور راحت کی زندگی حاصل کرنا، کیوں کہ اس کے آگے کچھ اور نہیں۔ یہی آج کی دنیامیں ہر عورت اور مرد کاکلمہ ہے، خواہ اس نے لفظوں میں اس کا اعلان کیا ہو، یا اس نے لفظوں میں اس کا اعلان نہ کیا ہو۔ اِس طرح، موجودہ زمانے میں پہلی بار مٹیریل ازم نے نظریاتی طورپر ایک مبرَّر میٹریل ازم (ideologically justified materialism) کی صورت اختیار کرلی ہے۔ یہ بلاشبہ بُرائی کا آخری درجہ ہے، اِس کے آگے برائی کا کوئی اور درجہ نہیں ہوسکتا۔
یہ صورتِ حال سر تا سر خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف ہے۔ اِس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ انسان نے اب اِس کا حق کھودیا ہے کہ اُس کو موجودہ زمین پر مزید بسنے اور آباد رہنے کا موقع دیا جائے۔ مسیح کے الفاظ میں— کسان درانتی اٹھاتا ہے، کیوں کہ کاٹنے کا وقت آپہنچا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بیسویں صدی عیسوی کے رُبع آخر میں خداکے اِس فیصلے کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہوئیں، اور اکیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی ایسے آثار ظاہر ہونے لگے جو یہ بتاتے تھے کہ اب انسان کے لیے بالکل آخری وقت آپہنچا ہے، اب اُس کو مزید مہلت ملنے والی نہیں۔
جون2008 میں، جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں، انسانی تاریخ کے خاتمہ کی یہ علامت ایک مسلّمہ سائنسی واقعہ کی حیثیت اختیار کرکے روزانہ کی ایک خبر بن چکی ہے۔ آپ ہر دن میڈیا میںاِس سے متعلق کوئی نہ کوئی خبر پاسکتے ہیں۔
یہاں اِس نوعیت کی ایک تازہ سائنسی خبر درج کی جاتی ہے۔ امریکا کے مشہور سائنسی ادارہ ناسا(NASA) کے ممتاز سائنس داں جیمس ہانسین (James Hansen) نے بیس سال پہلے سائنسی مطالعے کے بعد گلوبل وارمنگ کے سنگین خطرے کا اعلان کیا تھا۔ اب انھوں نے مزید تحقیق کے بعد دوبارہ سائنسی مطالعے کے بعد گلوبل وارمنگ کے سنگین خطرے کا اعلان کیا ہے۔
اب انھوں نے مزید تحقیق کے بعد دوبارہ بتایا ہے کہ— حالات اتنے زیادہ خراب ہوچکے ہیں کہ دنیا کے لیے واحد امید یہ ہے کہ ذمے داروں کی طرف سے نہایت سخت قسم کے انقلابی اقدامات کیے جائیں۔ دنیابہت پہلے، خطرے کی حد کو پار کر چکی ہے۔ ضرورت ہے کہ مضر گیسوں کو 1988 کی حد پر دوبارہ واپس لے جایا جائے۔ زمین کی فضا میں انسانی ساخت کے کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ اگر مزید بیس سال تک یہ جاری رہے، تو سب کچھ تباہ ہوجائے گا۔ انسان کا وجود ہی سرے سے مٹ جائے گا۔ یہ ہمارے لیے بالکل آخری موقع ہے
NASA warming expert says this is the last chance
Washington: Exactly 20 years after warning America about global warming, a top NASA scientist said the situation has gotten so bad that the world's only hope is drastic action. James Hansen told Congress that the world has long passed the "dangerous level" for greenhouse gases in the atmosphere and needs to get back to 1988 levels. He said Earth’s atmosphere can only stay this loaded with man۔made carbon dioxide for a couple more decades without changes such as mass extinction, ecosystem collapse and dramatic sea level rises. "We’re toast if we do’t go on a very different path," Hansen, director of the Goddard Institute of Space Sciences who is sometimes called the godfather of global warming science said. "This is the last chance". Hansen brought global warming home to the public in June 1988 during a US heat wave. Hansen said that in five to 10 years, the Arctic will be free of sea ice in the summer. (The Times of India, New Delhi, June 25, p. 38)
موجودہ زمانے میں جس چیز کو گلوبل وارمنگ (global warming)کہا جاتا ہے، وہ دراصل گلوبل وارننگ (global warning) ہے۔ یہ خالقِ کائنات کی طرف سے، اِس بات کا اعلان ہے کہ انسانی تاریخ کے خاتمے کا وقت بالکل قریب آپہنچا۔ جلد سے جلد جنت کی خدائی فہرست میںاپنا نام درج کرادو، کیوں کہ بہت جلد وہ لمحہ آنے والا ہے، جب کہ اِس کا موقع آخری طور پر ختم ہوجائے گا۔
حالات بتاتے ہیں کہ انسان موجودہ زمین پر اب اپنی مزید آباد کاری کا جواز (justification) کھوچکا ہے۔ اب خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، بہت جلد انسانی تاریخ کا اگلا دور شروع ہونے والا ہے، جب کہ منتخب لوگوں کو ابدی جنت میں بسادیا جائے، اور بقیہ لوگوں کو رد (reject) کرکے اُنھیں حسرت کے صحرا میں ابدی طورپر ذلت اور محرومی کی زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
رائٹ ہیئر، رائٹ ناؤکا فارمولا عام طورپر، قبل از موت زندگی (pre-death period of life) کی تعمیر کے لیے بولا جاتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ’’رائٹ ہیئر، رائٹ ناؤ‘‘ کا فارمولا بعد از موت زندگی (post-death period of life) کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے، یعنی ’’رائٹ ہیر، رائٹ ناؤ‘‘ کا مطلب مستقبل کی تیاری ہونا چاہیے، نہ کہ حال کا وقتی انجوائے مینٹ۔
واقعات بتاتے ہیں کہ اب انسانی تاریخ کے خاتمے کا وقت باکل قریب آچکا ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ انسان جاگے اور اپنے باقی ماندہ وقت کو اگلے مرحلۂ حیات (post-death period) کی تیاری میں لگادے۔ بہت جلد وہ لمحہ آنے والا ہے، جب کہ انسان کے پاس نہ کچھ کرنے کا وقت ہوگا اور نہ تلافی ما فات کے لیے پیچھے لوٹنے کا وقت۔
تاريخِ انسانى كا خاتمه
12 اگست 2012 كو امريكا كى ايك خبر تمام اخباروں ميں نماياں طورپر شائع هوئي۔ وه خبر يه تھى كه ايك امريكى صحافى كو نظرياتى سرقه (plagiarism) كا مرتكب پايا گيا اور اِس بنا پر اس كو اس كے صحافتى جاب سے فورى طورپر معطل كردياگيا۔ اس خبر كى سرخى يه تھي
American journalist suspended for plagiarism.
نظرياتى سرقه (plagiarism) كياهے، وه دراصل كسى شخص كى فكرى پراپرٹى (intellectual property) كا سرقه كرنے كا نام هے۔ نظرياتى سرقه يه هے كه كسى شخص كے آئڈيا كو اصل مصنف كے حوالے كے بغير اپنا بنا كر نقل كيا جائے
Plagiarism: Copying someone's idea without crediting the original author. (Merriam-Webster Dictionary)
other sourceWords of another person or source
يه معامله امريكا كے مشهور صحافى مسٹر فريد زكريا كا هے۔وه امريكى ميگزين ٹائم (Time) كے ايڈيٹر تھے۔ انھوں نے ٹائم كے شماره 20 اگست 2012 ميں اپنا ايك مضمون گن كلچر كے موضوع پر شائع كيا۔ اِس كا عنوان يه تھا The Case for Gun Control۔
اِس مضمون ميں انھوں نے ايك پيراگراف شامل كيا تھا جو پورا كا پورا، ايك اور شائع شده مضمون سے ليا گيا تھا۔ يه دوسرا مضمون امريكا كى ايل (Yale) يونى ورسٹى كى ايك خاتون پروفيسر جل ليپور (Jill Lepore) كا تھا، جس كو مسٹر فريد زكريا نے بلا حواله اپنے مضمون ميں شامل كرليا تھا۔ يه مضمون امريكا كے ايك اخبار نيوياركر (The New Yorker) كے شماره 22اپريل 2012 ميں اس عنوان كے تحت چھپا تھا— Battleground America
نظرياتى سرقه كا يه واقعه جو عالمى ميڈيا ميں آيا هے، وه كوئى ساده واقعه نهيں۔ وه دراصل اِس قسم كے ايك زياده بڑے سرقه (super plagiarism) كے ليے ايك ياددهانى (reminder) كى حيثيت ركھتا هے۔ وه ايك انسان كى برخاستگى كے حوالے سے يه ياد دلا رها هے كه شايد وه وقت آگيا هے جب كه كائنات كا مالك پورى تهذيب كو برخاست كردے۔
سترھويں صدى عيسوى سے پهلے دنيا ميں روايتى دور قائم تھا۔ اس كے بعد دنيا ميں سائنٹفك دور كا آغاز هوا۔ سائنٹفك دور سے مراد وه دور هے جب كه انسان نے نيچر (nature) پر آزادانه غور وفكر شروع كيا۔ اِس غور وفكر كے بعد يه هوا كه نيچر ميں چھپے قوانين ايك كے بعد ايك دريافت هونے لگے۔ مثلاً پانى ميں اسٹيم پاور كى دريافت، اور مادّه (matter) ميں بجلى (electricity) كى دريافت، وغيره۔جديد دنيا، خاص طور پر مغربى دنيا ميں كئى سو سال تك اِس موضوع پر رسرچ جارى رهي، يهاں تك كه فطرت ميں چھپے هوئے هزاروں قوانين دريافت هوگئے۔ اِن كے ذريعے ايك نئى ٹكنالوجى بنى اور بهت سے نئے فنى علوم وجود ميں آئے۔ وه ظاهره جس كو جديد مغربى تهذيب كها جاتا هے، اس كى تشكيل تمام تر انھيں دريافت كرده قوانين فطرت پر مبنى هے۔
يه قوانين جو موجوده زمانے ميں معمارانِ تهذيب نے دريافت كيے، اُن كو سائنسى قوانين (scientific laws) كهاجاتا هے۔ مگر اپنى حقيقت كے اعتبار سے، يه سائنسى قوانين نهيں هيں، بلكه وه خدائى قوانين(divine laws) هيں۔ خدائى قوانين كو نظامِ فطرت سے لينا اور اُن كو سائنس قوانين كے نام پر اپنا بناكر پيش كرنا، يه بلاشبه ايك سپر سرقه(super plagiarism) كا كيس هے۔ تهذيب جديد كے معمار وں كا يه واقعه بھى بلا شبه اِسى قسم كا ايك سرقه هے۔ امريكى صحافى كا سرقه اگر جرنلسٹك سرقه (journalistic plagiarism) تھا تو معمارانِ تهذيب كا سرقه سائنٹفك سرقه (scientific plagiarism) هے۔ امريكى صحافى نے تو صرف اپنے ايك آرٹكل ميں نظرياتى سرقه كا ارتكاب كيا تھا، جب كه مغربى تهذيب كا پورا كا پورا ڈيولپمنٹ اِسى قسم كے عظيم تر نظرياتى سرقه كى بنا پر هوا هے۔ امريكى جرنلسٹ كا سرقه اگر صرف ايك انفرادى سرقه تھا تو مغربى تهذيب كا سرقه اس كے مقابلے ميں ايك عالمى سرقه (global plagiarism) كى حيثيت ركھتا هے۔
دنيا سے انسان کی بے دخلى
تهذيب كى ترقى كے نام پر مذكوره سائنسى سرقه كئى سو سال سے بڑے پيمانے پر سارى دنيا ميں جارى هے، مگر اِس مدت ميں اهلِ تهذيب كے درميان كوئى شخص نهيں اٹھا جو يه اعلان كرے كه يه تمام تهذيبى ترقياں خدائى قوانين (divine laws) كى بنا پر ممكن هوئى هيں۔ هم كو چاهيے كه هم كھلے طورپر اِس حقيقت كا اعتراف كرليں۔ بے اعترافى كا يه معامله اب اپنى آخرى حد پر پهنچ چكا هے۔ اب آخرى طورپر وه وقت آگيا هے، جب كه كائنات كا خالق انسان كو زمين كے چارج سے بے د خل كردے اور زمين كا اور پورى دنيا كا نظام حقيقتِ واقعه كى بنياد پر قائم كرے۔
دنيا كا يه انجام پيشگى طورپر مقدر تھا۔ خدا نے پيشگى طورپر يه اعلان كرديا تھا كه ايك وقت آئے گا جب كه انسان كو زمين كے چارج سے بے دخل كرديا جائے اور دنيا كا نيا نظام بنايا جائے۔ اِس سلسلے ميں قرآن كا ايك بيان يه هے وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (39:67)۔ یعنی، اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اور زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں۔ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس آيت ميں ’قدر‘ كا لفظ استعمال هوا هے۔ قدر كا مطلب هے اندازه كرنا، يعنى انسان جو كچھ دنيا ميں كررها هے، وه اِس ليے كررها هے كه اس نے خالق كا كم تر اندازه (under-estimation) كرركھا هے۔ يه كم تر اندازه كيا هے، اِس كم تر اندازه كو قرآن كى ايك آيت ميں اِس طرح بيان كياگياهے اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْن (23:115)۔ يعنى، كيا تم يه خيال كرتے هو كه هم نے تم كو بے مقصد پيدا كيا هے اور تم همارے پاس نهيں لائے جاؤگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سلسلے ميں حديث كى كتابوں ميں ايك روايت آئى هے۔ يه روايت قرآن كى مذكوره آيت (وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ) كى مزيد تشريح كرتى هے۔ روايت كے الفاظ يه هيں
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلّى اللهُ عليهِ وسلَّم قَرَأَ هٰذِهِ الآيَةَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى المِنْبَرِ وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ، وَرَسُولُ اللهِ صلّى اللهُ عليهِ وسلَّم يَقُولُ هَكَذَا بِيَدِهِ، وَيُحَرِّكُهَا يُقْبِلُ بِهَا أَوْ يُدْبِرُ، يُمَجِّدُ الرَّبَّ نَعْتَهُ أَنَا الجَبَّارُ، أَنَا المُتَكَبِّرُ، أَنَا المَلِكُ، أَنَا العَزِيزُ، أَنَا الكَرِيمُ، فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللهِ صلّى اللهُ عليهِ وسلَّم المِنْبَرُ حَتّى قُلْنَا لَيَخِرَّنَّ بِهِ(السلسلة الصحيحة، 7/596)۔ يعنى، عبد الله بن عمر بيان كرتے هيں كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ايك دن ممبر كے اوپر قرآن كى مذكوره آيت پڑھي۔ اُس وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم نے اپنے هاتھوں كو حركت ديتے هوئے كها كه الله اپنى تمجيد كرے گا اور كهے گا كه ميں هوں جبار، ميں هوں متكبر، ميں هوں بادشاه، ميں هوں زبردست، ميں هوں كريم۔ كهاں هيں زمين كے بادشاه، كهاں هيں جبار، كهاں هيں متكبر۔ يه كهتے هوئے رسول الله صلى الله عليه وسلم پر لرزه طارى هوا، يهاں تك كه هم نے كها كه شايد آپ گر پڑيں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
بظاهر ايسا معلوم هوتا هے كه وه وقت آگيا هے جب كه خالقِ كائنات ظاهر هو اور براهِ راست طورپر دنيا كا چارج لے لے۔ اسباب كے اعتبار سے، يه كهنا درست هوگاكه قرآن ميں جس آنے والے وقت كى پيشين گوئى كى گئى تھي، وه وقت بالفعل آچكا هے، اُس وقت كے آنے ميں اب كوئى دير نهيں۔
لائف سپورٹ سسٹم كى تباهي
دنيا ميں زندگى گزارنے كے ليے انسان كو بهت سى چيزوں كى ضرورت هے۔ مثلاً پاني، روشني، آكسيجن، نباتات، وغيره۔ اِن چيزوں كے مجموعے كو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) كهاجاتا هے، يعنى معاونِ حيات نظام۔ سائنس كى تحقيقات بتاتى هيں كه زمين پر يه معاونِ حيات نظام خطرناك حد تك بگڑ گياهے، سائنس داں برابر يه انتباه دے رهے هيں كه زمين پر انسان كى آبادكارى بهت جلد ناممكن هوجائے گي، يهاں تك كه مشهور برٹش سائنس داں اسٹفن هاكنگ نے اِس صورت حال كى نشان دهى كرتےهوئے كها هے كه هم كو اب خلائى بستياں (space colonies) بنانا چاهيے، حالانکہ اسٹفن هاكنگ اور دوسرے تمام لوگ جانتے هيں كه يه تجويز عملاً ممكن نهيں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
زمين كا وه حصه جس كو آركٹك (Arctic) كهاجاتا هے، يه برف كے بهت بڑے پهاڑ كى مانند هے جو كئى هزار مربع ميٹر كے رقبے ميں پھيلا هوا هے۔ يه برفانى پهاڑ زمين پر موسم كے توازن كو قائم ركھنے كے ليے بهت زياده اهميت كا حامل هے۔ آركٹك (قطب شمالي) كا يه منطقه مختلف پهلوؤں سے زمين پر انسان كى آبادى كے ليے بے حد اهميت ركھتا هے۔ مگر بيسويں صدى كے ربع آخر ميں، جب سے گلوبل وارمنگ كے ظاهرے نے شدت اختيار كى هے، قطب شمالى كى يه برف بهت تيزى سے پگھل رهى هے۔ سائنس دانوں كے اندازے كے مطابق، شايدانديشه هے كه اگلے 10 برسوں ميں يه پورا برفانى پهاڑ پگھل كر سمندروں ميں چلا جائے۔ اِس كى بنا پر مختلف قسم كے خطرناك نتائج پيدا هوں گے جو زمين كو انسان كے ليے ناقابلِ رهائش بنا ديں گے۔اس سائنسى تحقيق كا خلاصه نئى دهلى كے انگريزى اخبار ٹائمس آف انڈيا ( 14اگست 2012) ميں حسب ذيل عنوان كے تحت شائع هوا هے
Arctic Sea Ice May Vanish in 10 Years (p. 19)
خلاصه كلام
اوپر جو كچھ لكھا گيا، اس كا خلاصه يه هے كه انسان نے اُس نوعيت كا ايك بهت بڑا واقعه كيا هے جس كو نظرياتى سرقه كهاجاتا هے۔ وه چيز جس كو جديد تهذيب كها جاتا هے، وه پورى كى پورى اِسى جرم كے نتيجے ميں پيدا هوئى هے۔ اِس جرم ميں موجوده زمانے كى پورى آبادى شريك هے۔ جن لوگوں نے اِس تهذيب كو وجود ديا، وه اِس جرم ميں براهِ راست طورپر شريك هيں، اور بقيه لوگ جو تهذيب كے اِس جرم پر نكير (denial) كيے بغير اُس سے فائده اٹھا رهے هيں، وه بالواسطه طورپر اِس جرم ميں شريك هيں۔
اِس نظرياتى سرقه (plagiarism)كے خلاف خالق كى كارروائى اب مستقبل بعيد كى چيز نهيں رهي۔ يه كارروائى اب عملاً شروع هوچكى هے۔ اِس كارروائى كو ايك لفظ ميں اِس طرح كها جاسكتا هے كه خالق نے يه فيصله كرديا هے كه انسان كو مذكوره جرم كى بنا پر زمين سے بے دخل كرديا جائے۔ خالق كا يه فيصله لائف سپورٹ سسٹم كے خاتمے كى صورت ميں بتدريج ظاهر هورها هے۔ بظاهر وه وقت بهت قريب آچكا هے جس كى پيشين گوئى قرآن كى مختلف آيتوں ميں كى جاچكى تھي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بیک کور ٹیکسٹ
دور حاضر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، دور اسلام ہے۔ دور حاضر کی علمی ترقیوں نے اسلام کی عالمی اہمیت کو از سر نو واضح کیا ہے۔ سائنس اسلام کا علمِ کلام ہے۔دورِ جدید کو ایک آنڈیا لوجی کی ضرورت ہے۔ اسلام اسی آئڈیا لوجی کا دوسرا نام ہے۔ روحِ عصر سب سے زیادہ جس چیز کی طالب ہے، وہ بلاشبہ دین اسلام ہے۔ اسلام اپنے نظریے کے اعتبار سے ،مبنی بر تو حید دین ہے اور اپنے طریقِ کار کے اعتبار سے، مبنی بر امن دین — عصری اسلوب میں اسلام کے ان تمام پہلوؤں کو جاننے کے لیے اظہارِ دین کا مطالعہ کیجیے۔