← Izhar-e-DeenIzhar-e-Deen
باب اول
Urdu · 404 min read
خدا کی طرف
کہا جاتا ہے کہ حجری دور (stone age) میں ایک بار ایسا ہوا کہ دو آدمی کسی بات پر غصہ ہوگئے۔ وہ ایک دوسری کے طرف پتھر پھینکنے لگے۔ اتفاق سے ایک شخص کا پتھر دوسرے شخص کے پتھر سے ٹکرا گیا۔ اُس وقت دو پتھر کے ٹکرانے سے اسپارکنگ (sparking) ہوئی۔ پتھر سے ایک چنگاری نکلی۔ اِس چنگاری کو دیکھ کر دونوں آدمی اپنا غصہ بھول گئے۔ دونوں آدمی اپنے اپنے پتھر کو لے کر اس کو دیکھنے لگے، تاکہ وہ چنگاری کا راز دریافت کریں۔
کہا جاتا ہے کہ یہی وہ واقعہ ہے جہاں سے سچائی کی تلاش کا آغاز ہوا۔ لوگ اِس سوال پر غور کرنے لگے کہ کیا یہاں انسان اور مادہ (matter) کے سوا کوئی اور طاقت موجود ہے۔ یہ سوال دھیرے دھیرے خدا کے تصور تک پہنچا۔ یہ سیکولر مفکرین کا نظریہ ہے۔ مگر اسلام کا تصور یہ ہے کہ پہلے انسان (آدم) ہی سے خالق کے وجود کا تصور انسان کے علم میں آچکا تھا۔ پتھر کے ٹکرانے کا واقعہ اگر درست ہو تو یہ فطرت کے قانون کو تلاش کرنے کا آغاز تھا، نہ کہ خدا کو تلاش کرنے کا آغاز۔ ہر پیغمبر نے یہی بتایا کہ اِس عالمِ موجودات کا ایک خدا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ اُسی خدا کو اپنا معبود بنائے اور اُسی کی عبادت کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن اِس پیغمبرانہ الہام کا ایک محفوظ ومستندمجموعہ ہے۔ قرآن کی سورۃ الذاریات میں انسان کے مقصد تخلیق کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (51:56)۔ یعنی، میں نے جن کواور انسان کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ اِس آیت میں لِيَعْبُدُونَسے مراد لِيَعْرِفُونَ ہے (المجالسۃ للدینوری، اثر نمبر 225)۔ یعنی اِس آیت میں، اللہ کی عبادت سے مراد اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کی معرفت کیا ہے۔ خدا اِس کائنات کا خالق ہے۔ اُس کی معرفت یہ ہے کہ تخلیق میں خالق کو دریافت (discover) کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق اپنے آپ میں خالق کا مکمل تعارف ہے۔ ہمیشہ انسان تخلیق میں خالق کو دیکھتا رہا۔ موجودہ زمانے میں نیچر کے بارے میں سائنس کی دریافتوں نے تعارف کے اِس دائرے کو ہزاروں گنا زیادہ حد تک بڑھا دیا ہے۔
یہاں اس سلسلے میں ایک بنیادی پہلو کا ذکر کیا جاتا ہے۔اِس بنیادی پہلو کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے، ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کے بارے میں انسان کا مطالعہ اس کو یقین کے بجائے کنفیوژن تک پہنچا دے، وہ خدا کی طرف سفر کرتے ہوئے کسی غیر خدا کی منزل تک پہنچ جائے۔
موجودہ زمانے میں سائنس کے حوالے سے خدا کے وجود (existence of God) کو ثابت کرنے کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً
Nature and Science Speaks about God
The Evidence of God in an Expanding Universe
اللهُ يَتَجَلَّى فِي عَصْرِ العِلْمِ(انگریزی سے ترجمہ)
مگر سائنس کے بارے میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ سائنس کامل علم کا نام نہیں۔ سائنس اپنی دریافتوں کے باوجود جہاں تک پہنچی ہے یا پہنچ سکتی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر صرف جزئی علم دے سکے۔ اِس حقیقت کو جے این سلیون (JN Sullivan) نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Science gives us but a partial knowledge of reality.
حقیقت یہ ہے کہ خدا کی دریافت کا سفر بنیادی طورپر دو مرحلوں میں طے ہوتا ہے۔ پہلا مرحلہ وہ ہے جو عقلی غوروفکر اور سائنسی معلومات کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ یہ ذریعہ بلا نہایت اعلیٰ ذریعہ ہے۔ لیکن وہ اپنے آخری درجے میں بھی ایک مسافرِ حق کو جہاں پہنچاتا ہے، وہ صرف احتمال (probability) ہے، یعنی— امکانی طورپر یہاں ایک خدا کا وجود ہے
Probably there is a God.
یہاں احتمال (probability) سے مراد سادہ طور پر صرف احتمال نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد اعلیٰ عقلی احتمال ہے۔ اعلیٰ عقلی احتمال کو دوسرے لفظوں میں شِبہ یقین (semi-conviction) کہاجاسکتا ہے۔ احتمال کا یہ مقام وہ مقام ہے جہاں آدمی شک (doubt) کے لمبے راستے کو طے کرکے آخر کار پہنچتا ہے۔ یہ احتمال دراصل درمیان کا ایک مقام ہے۔ اس کے پیچھے کی طرف شک ہوتا ہے اور آگے کی طرف یقین۔ مگر یہ احتمال اتنا زیادہ قوی ہوتا ہے کہ اب شک کی طرف دوبارہ واپسی اس کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ وہ آگے یقین (conviction) کی طرف بڑھے۔
ایسا ایک آدمی جب پیچھے کی طرف راستہ بند پاکر آگے کی طرف جانا چاہتا ہے تو آگے کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہی اس کو ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے کہ میرے اندر وجدان (intuition) کی سطح پر معرفت کا ایک نیا دروازہ کھل گیا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ جس علم کا ادراک اب تک مجھے خارجی معلومات (external data) کے ذریعے ہو رہا تھا، اُس علمی معرفت تک اب میری براہِ راست رسائی ہوگئی ہے۔ جس علم کو اِس سے پہلے میں اپنی خارجی بصارت (objective observation) کے ذریعے جاننے کی کوشش کررہا تھا، وہ علم اب میرے لیے داخلی بصیرت (inner perception) کا حصہ بن گیا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ عقلی غور وفکر کی حد خلا (vacuum) پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے بعد فوراً دریافت کا ایک نیا دروازہ کھل جاتا ہے۔ یہ وجدان کا دروازہ ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
آدمی کے اندر بیک وقت دو صفتیں ہیں عقل (reason)، اور وجدان (intuition)۔ عقل کسی مجہول چیز کا نام نہیں۔ اِسی طرح وجدان بھی کسی مجہول چیز کا نام نہیں۔ باعتبار واقعہ دونوں ہی مسلّمہ حقائق پر مبنی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عقل خارجی حقائق کی بنیاد پر کام کرتی ہے، جب کہ وجدان براہِ راست طور پر داخلی حقیقت سے جڑا ہوا ہے۔ عقل جس چیز کو خارجی شواہد کے ذریعے معلوم کرتی ہے، وجدان اُسی چیز کو داخلی فطرت کے ذریعے جان لیتا ہے۔ عقل کا سفر زمان ومکان تک محدود ہے، لیکن وجدان کا سفر زمان ومکان سے باہر (beyond time & space) تک وسیع ہے۔
احتمال سے یقین تک پہنچنے کا یہ معاملہ کسی خوش فہمی (wishful thinking) پر مبنی نہیں، وہ تمام تر علم کے اوپر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شخص پوری سنجیدگی کے ساتھ احتمال کے درجے تک پہنچتا ہے تو وہ اُس کے لیے ایک ایسا فطری واقعہ ہوتا ہے جو اُس انسان کے ساتھ لازماً پیش آتا ہے جو حقیقی معنوں میں احتمال کے مقام تک پہنچ گیا ہو۔
یہاں یہ سوال ہے کہ وجدان کے ذریعے حاصل ہونے والے علم کو کیوں کر مستند علم سمجھا جائے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جس آدمی کے اوپر وجدان کا یہ دروازہ کھل جائے، وہ اپنی داخلی بصیرت کے تحت ایسی باتوں کو جاننے لگتا ہے جس کا علم اُس کو پہلے حاصل نہ تھا۔ بعد کو خارجی حقائق بالواسطہ طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُس کو اپنے وجدان کے ذریعے جو علم حاصل ہوا تھا، وہ ایک حقیقی علم تھا، وہ کوئی فرضی واہمہ نہ تھا۔ راقم الحروف کو ذاتی طورپر بار بار اِس کا تجربہ ہوا ہے۔
موجودہ زمانے میں سائنسی طریقہ (sientific method) کو مستند طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی چیز کودریافت (discover)کرنے کے لیے سائنس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ — پہلے مفروضہ، اس کے بعد مشاہدہ، اور پھر تصدیق
Hypothesis, Observation, Verification
اِس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ایک سوچنے والے دماغ میں ایک تصوراتی مفروضہ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ متعلق شواہد کی تحقیق کرتا ہے۔ اگر یہ شواہد اس کے مفروضہ کی تصدیق کریں تو اس کے بعد اس کا مفروضہ ایک مسلّمہ حقیقت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ وجدان کے ذریعہ دریافت ہونے والی حقیقت کا ہے۔ یہاں بھی یہی ہوتاہے کہ پہلے ایک سچے متلاشی (true seeker) کے دماغ میں ایک تصور آتا ہے۔ اِس کے بعد وہ متعلقہ حوالوں (relevant reference) کی روشنی میں اس کی مزید تحقیق کرتاہے، یہاں تک کہ ثابت ہوجاتاہے کہ اس کا مفروضہ درست تھا۔
راقم الحروف کو اپنی تلاش کے دوران بار بار ایسے تجربات پیش آئے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ صوفیا کے حلقے میں ایک قول کا حدیثِ قدسی کی حیثیت سے بہت چرچا ہے۔ وہ قول یہ ہے كُنْتُ كَنْزًا مَخْفِيًّا، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ، فَخَلَقْتُ خَلْقًا، فَبِي عَرَفُونِي(کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 132)۔ یعنی، میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق (انسان) کو پیدا کیا، پھر انسان نے مجھ کو پہچانا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میرا بے آمیز وجدان کہتا تھا کہ یہ قول بالکل درست ہے۔ یہ معرفت کے معاملے کی بالکل صحیح تعبیر ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اِس روایت کی کوئی قابلِ اعتماد سند موجود نہیں۔ اِس لیے علما عام طور پر اِس کو مستند نہیں مانتے۔ تاہم میں اس کی تحقیق کرتا رہا۔ چنانچہ میں اِس دریافت تک پہنچا کہ خود قرآن میں اِس تصور کی اصل موجود ہے۔ قرآن کی سورۃ الذاریات میں یہ آیت آئی ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (51:56)۔ یعنی، اور میں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا فرمایا کہ وہ میری عبادت کریں۔ مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن عباس نے اِس آیت میں ’’عبادت‘‘ سے مراد معرفت لیا ہے۔ انھوں نے اِس آیت کی تفسیر اِن الفاظ میں کی ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْرِفُونِ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس مثال میں، میرے وجدان نے مجھ کو ایک علم تک پہنچایا، وہ یہ کہ اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے۔ اِس کے بعد میںنے مزید غور کیا تو میں اِس دریافت تک پہنچا کہ مذکورہ قول دراصل ایک تفسیری قول ہے جس کو قائل نے آیتِ قرآنی کی رعایت سے، حدیثِ قدسی کی زبان میں بیان کردیا۔ اِس قول کے الفاظ اگر بدل دیے جائیں اور اس کو ایک تفسیری قول کی شکل دے دی جائے تو وہ اِس طرح ہوگا كَانَ اللهُ كَنْزًا مَخْفِيًّا، فَأَحَبَّ أَنْ يُعْرَفَ، فَخَلَقَ الْخَلْقَ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ ایک سچے متلاشی کا وجدان، عقلی بنیاد سے بھی زیادہ مضبوط بنیاد ہے۔ عقلی بنیاد آدمی کو صرف فنی سطح کے ظاہری علم تک پہنچاتی ہے، لیکن ایک سچے متلاشی کا وجدان مزید اضافے کے ساتھ حقیقت شناسی (realization of truth) کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ سطح ہے جب کہ ایک ترقی یافتہ ذہن ادراکِ حقیقت کی ایک ایسی سطح پر کھڑا ہوجاتا ہے جہاں سے وہ حقیقت کو براہِ راست دیکھ سکے، وہ اِس درجے تک پہنچ جائے کہ وہ حقیقت کو کسی دلیل کے بغیر پہچاننے لگے۔
اِس معاملے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ وجدان کی سطح پر جو یقین حاصل ہوتا ہے، وہ ہمیشہ بڑھتا رہتاہے۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ کوئی غیر حقیقی چیز کبھی اضافہ پذیر نہیں ہوتی۔ واہمہ اور حقیقی وجدان میں یہ فرق ہے کہ واہمہ ہمیشہ بے ثبات ہوتا ہے۔ وہ صرف وقتی طورپر آدمی کو متاثر کرتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے وہ ختم ہوجاتا ہے۔ اِس کے برعکس، اگر کسی شخص کی رسائی حقیقی وجدان تک ہوجائے تو اُس پر کبھی زوال نہیںآتا۔ حقیقی وجدان ہمیشہ ترقی کرتارہتا ہے، اس کے یقین کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔
واہمہ ایک مجہول چیز ہے، اس کی کوئی شعوری بنیاد نہیں۔ اِس کے برعکس، وجدان پوری طرح شعور پر مبنی ہوتا ہے۔ وجدان خود شعور کا ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ وہ شعور کی تکمیل ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو اس کا داخلی احساس خود بتا دے گا کہ کون سی بات صرف واہمہ ہے اور کون سی بات وجدانی علم سے تعلق رکھتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عقل اور وجدان دونوں تلاش کی منزلیں ہیں۔ آدمی کی عقل اُس کو وجدان تک پہنچاتی ہے اور وجدان اس کو حقیقت کے اعلیٰ مرتبے تک پہنچا دیتا ہے۔ جو آدمی اِس اعلیٰ مرتبے تک پہنچتا ہے، اس کے لیے عقل اور وجدان کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔ اس کی عقل مکمل طور پر وجدان ہوتی ہے، اور اس کا وجدان مکمل طورپر عقل۔ یہی وہ مقام ہے جس کو معرفتِ حق کا اعلیٰ درجہ کہاجاتا ہے۔
تاہم عقلی دریافت اور وجدانی دریافت میں یہ فرق ہے کہ عقلی دریافت ایک موضوعی دریافت (objective discovery) ہے۔ اِس کے مقابلے میں، وجدانی دریافت کی حیثیت ایک داخلی دریافت (subjective discovery) کی ہے۔ اِس بنا پر دونوں دریافتوں کے درمیان بظاہر یہ فرق باقی رہتا ہے کہ عقلی دریافت ایک قابلِ مظاہرہ (demonstrable) دریافت ہے۔ اِس کے مقابلے میں، وجدانی دریافت خارجی طورپر قابلِ مظاہرہ نہیں۔مگر یہ فرق کوئی حتمی فرق نہیں۔ جہاں تک صاحبِ وجدان کا معاملہ ہے، اس کے اپنے لیے دونوں قسم کی دریافتیں یکساں طورپر قابلِ یقین ہوتی ہیں، صرف اِس فرق کے ساتھ کہ ایک چیز کو وہ پیشانی کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور دوسری چیز کا مشاہدہ وہ دماغ کی آنکھ سے کرتا ہے۔
تاہم یہ فرق آخری فرق نہیں۔ ایک شخص جس کو حقیقی معنوں میں وجدانی دریافت ہو، وہ اِس کے نتیجے میں عام انسان سے واضح طورپر مختلف بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کا بولنا، اس کا سلوک، اس کے اخلاق، اس کے آداب واطوار، ہر چیز دوسرے انسانوں سے اتنا زیادہ مختلف ہوجاتے ہیںکہ وہ حقیقی معنوں میں ایک مختلف انسان (man with a difference) بن جاتاہے۔ اس کی شخصیت کا یہ فرق اہلِ نظر کے لیے وہی درجہ رکھتا ہے جس کو عقل اور منطق کی زبان میں دلیل کہاجاتاہے۔
سائنس اور الہٰیات
پروفیسر پال ڈیویز(Paul Davies) مشہور امریکی رائٹر ہیں۔ وہ ایری زونا اسٹیٹ (Arizona State) یونیورسٹی میں ایک ریسرچ سنٹر (Beyond) کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی ایک کتاب کا نام گولڈی لاکس انِگما (Goldilocks Enigma) ہے۔ حال میں ان کا ایک مقالہ مجلّہ گارجین (Guardian Newspapers Limited 2007) میں چھپا ہے۔ اِس مقالے کو انگریزی اخبار ہندو(The Hindu) نے اپنے شمارہ 27 جون 2007 میں اِس عنوان کے تحت شائع کیا ہے— تخلیق پسندوں کے استدلال میں دراڑ
Flaw in creationists' argument
مضمون نگار لکھتے ہیں کہ ’’سائنس داں دھیرے دھیرے ایک ناگوار سچائی (inconvenient truth) تک پہنچ رہے ہیں، وہ یہ کہ کائنات ایک نہایت محکم کائنات ہے۔ سائنس داں چالیس سال سے کائنات میں کام کرنے والے قوانینِ طبیعی کی تحقیق کررہے ہیں۔ یہ تحقیق، کائنات کے پیچھے ایک شعوری وجود (concious being) کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ کائنات کے قوانین میں سے کسی ایک کو بھی اگر بدلا جائے تواس کا نتیجہ نہایت مہلک ہوگا۔ کائنات اتنی زیادہ منظم ہے کہ اس کے موجودہ ڈھانچے میں معمولی تبدیلی بھی اس کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہے۔
مثال کے طورپر ساری کائنات ایٹم سے بنی ہے۔ اور ہر ایٹم نیوٹران اور پروٹان کامجموعہ ہے۔ نیوٹران کسی قدر وزنی ہوتا ہے اور پروٹان کسی قدر ہلکا۔ یہ تناسب بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ اگر اس کا الٹا ہو، یعنی پروٹان بھاری ہو اور نیوٹران ہلکا، تو معلوم قوانین کے مطابق، ایٹم کا وجود ہی نہ رہے گا۔ جب نیوکلیس نہ ہوگا تو ایٹم بھی نہ ہوگا، اور جب ایٹم نہ ہوگا تو کیمسٹری بھی نہیں ہوگی۔ اور جب کیمسٹری نہیں ہوگی تو زندگی بھی نہیں ہوگی۔
اِس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ سائنس ناقابلِ حل سوالات سے دوچار ہے۔ مثلاً طبیعیات کے موجودہ قوانین کہاں سے آئے، وہ اپنی موجودہ محکم حالت میں کیوں قائم ہیں، وغیرہ۔ روایتی طور پر سائنس داں یہ فرض کررہے تھے کہ یہ قوانین، کائنات کا لازمی حصہ ہیں۔ قوانینِ طبیعی کی حقیقت کی کھوج کرنا، سائنس کا موضوع نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب یہ سوالات سائنس دانوں کو پریشان کررہے ہیں۔
کیمبرج کے سائنس داں مارٹن ریس(Martin Rees) جو کہ ’رائل سوسائٹی‘ کے صدر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ طبیعیات کے قوانین، مطلق اور آفاقی نہیں ہیں، وہ ایک بڑے کائناتي نظام کے متفرق حصے ہیں۔ ہر حصے کے اپنے ضوابط ہیں۔ وہ اِس نظام کو متعدّد کائناتی نظام (the multiverse system) کہتے ہیں۔ اِن تحقیقات کے مطابق، ہماری کائنات ایک ایسی کائنات ہے جو موافقِ حیات قوانین (bio-friendly laws) کی حامل ہے۔
other sourceWords of another person or source
اس کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات کو ہم اِس طرح پاتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہاںانسان کا قیام ناممکن ہوجاتا۔ یہ محکم قوانین جو کائنات کو نہایت منظم طورپر کنٹرول کررہے ہیں، وہ کہاں سے آئے۔
تمام مشکلات کا سبب، جدید مفکرین کے نزدیک، یہ ہے کہ مذہب اور جدیدسائنس، دونوں کائنات کا جو تصور دے رہے ہیں، وہ کائنات کے علاوہ ایک ایسی ایجنسی کا تقاضا کرتے ہیں جو کائنات کے باہر سے کائنات کا نظم کررہی ہو۔ تاہم کائنات کی توجیہ کے لیے ایک ایسے ڈزائنر کو ماننا جو کائنات سے پہلے موجود ہو، وہ اِس مسئلے کی کوئی توجیہ نہیں۔ کیوںکہ یہ توجیہ فوراً یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ ڈزائنر نے اگر کائنات کو بنایا تو خود ڈزائنر کو کس نے بنایا
Who designed the designer
اگر زندگی کی کوئی آخری معنویت(ultimate meaning)ہے، جیسا کہ میں یقین رکھتا ہوں، تو یہ جواب خود نیچر کے اندر ملنا چاہیے، نہ کہ اُس سے باہر۔ کائنات ایک محکم کائنات ہوسکتی ہے، لیکن اگر ایسا ہے تو کائنات نے خود ہی اپنے آپ کو ایسا بنایا ہے‘‘۔
Flaw in creationists’ argument, by Paul Davies
We will never explain the cosmos by taking on faith either divinity or physical laws. True meaning is to be found within nature. Scientists are slowly waking up to an inconvenient truth - the universe looks suspiciously like a fix. The issue concerns the very laws of nature themselves. For 40 years, physicists and cosmologists have been quietly collecting examples of all to convenient "coincidences" and special features in the underlying laws of the universe that seem to be necessary in order for life, and hence conscious beings, to exist. Change any one of them and the result would be lethal. To see the problem, imagine playing God with the cosmos. Before you is a designer machine that lets you tinker with the basics of physics. Twiddle this knob and you make all electrons a bit lighter, twiddle that one and you make gravity a bit stronger, and so on. It happens that you need to set 30-something knobs to fully describe the world about us. The point is that some of those metaphorical knobs must be tuned precisely, or the universe would be sterile. Example: neutrons are just a tad heavier than protons. If it were the other way around, atoms could not exist, because all the protons in the universe would have decayed into neutrons shortly after the big bag. No protons, then no atomic nucleuses, and no atoms. No atoms, no chemistry, no life. Like Baby Bear's porridge in the story of Goldilocks, the universe seems to be just right for life. So what's going on? Fuelling the controversy is an unanswered question lurking at the very heart of science - the origin of the laws of physics. Where do they come from? Why do they have the form that they do? Traditionally, scientists have treated the laws of physic as simply "given," elegant mathematical relationships that were somehow imprinted on the universe at its birth, and fixed thereafter. Inquiry into the origin and nature of the laws was not regarded as a proper part of science.
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Illusory impression
But the embarrassment of the Goldilocks enigma has prompted a rethink. The Cambridge cosmologist Martin Rees, president of The Royal Society, suggests the laws of physics aren't absolute and universal but more akin to local bylaws, varying from place to place on a mega-cosmic scale. A God's eye view would show our universe as merely a single representative amid a vast assemblage of universes, each with this own bylaws. Mr. Rees calls this system "the multiverse," and it is an increasingly popular idea among cosmologists. Only rarely within the variegated cosmic quilt will a universe possess bio-friendly laws and spawn life. It would then be no surprise that we find ourselves in a universe apparently customized for habitation; we would hardly exist in one where life is impossible. The multiverse theory cuts the ground from beneath intelligent design, but it falls short of a complete explanation of existence. For a start there has to be a physical mechanism to make all those universes and allocate bylaws to them. This process demands its own laws, or meta-laws. Where do they come from? The root cause of all the difficulty can be traced to the fact that both religion and science appeal to some agency outside the universe to explain its law-like order. Dumping the problem in the lap of a pre-existing designer is no explanation at all, as it merely begs the question of who designed the designer. But appealing to a host of unseen universes and a set of unexplained meta-laws is scarcely any better. This shared failing is no surprise, because the very notion of physical law has its origins in theology. The idea of absolute, universal, perfect, immutable laws comes straight out of monotheism, which was the dominant influence in Europe at the time science as we know it was being formulated by Isaac Newton and his contemporaries. Just as classical Christianity presents God as upholding the natural order from beyond the universe, so physicists envisage their laws as inhabiting an abstract transcendent realm of perfect mathematical relationships. Furthermore, Christians believe the world depends utterly on God for its existence, while the converse is not the case. Correspondingly, physicists declare that the universe is governed by eternal laws, but the laws remain impervious to events in the universe.
Outdated theory
I think this entire line of reasoning is now outdated and simplistic. We will never fully explain the world by appealing to something outside it that must simply be accepted on faith, be it an unexplained God or an unexplained set of mathematical laws. Can we do better? I propose that the laws are more like computer software: programmes being run on the great cosmic computer. They emerge with the universe at the big bang and are inherent in it, not stamped on it from without like a maker's mark. Man-made computers are limited in their performance by finite processing speed and memory. So too, the cosmic computer is limited in power by its age and the finite speed of light. Seth Lloyd, an engineer at MIT, has calculated how many bits of information the observable universe has processed since the big bang. The answer is one followed by 122 zeros. Crucially, however, the limit was smaller in the past because the universe was younger. Just after the big bang, when the basic properties of the universe were being forged, its information capacity was so restricted that the consequences would have been profound. Here's why. If a law is a truly exact mathematical relationship, it requires infinite information to specify it. In my opinion, however, no law can apply to a level of precision finer than all the information in the universe can express. Infinitely precise laws are an extreme idealization with no shred of real world justification. In the first split second of cosmic existence, the laws must therefore have been seriously fuzzy. Then, as the information content of the universe climbed, the laws focused and homed in on the life-encouraging form we observe today. But the flaws in the laws left enough wiggle room for the universe to engineer its own bio-friendliness. If there is an ultimate meaning to existence, as I believe is the case, the answer is to be found within nature, not beyond it. The universe might indeed be a fix, but if so, it has fixed itself.
unverifiedAttribution could not be verified automatically
(Paul Davies is director of Beyond, a research center at Arizona State University, and author of The Goldilocks Enigma.)
other sourceWords of another person or source
وضاحت
الہٰیات کے معاملے میں جدید ذہن سخت کنفیوژن کا شکار ہے۔ اِس کا ایک اندازہ پروفیسر پال ڈیویز کے مذکورہ مضمون سے ہوتا ہے۔ملحد فلاسفہ اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ اگرمذہبی عقیدے کے مطابق، خدا نے کائنات کو بنایا تو خود خدا کو کس نے بنایا۔ مگر یہ سوال مکمل طورپر ایک غیر منطقی (illogical) سوال ہے۔ یہ منطق (logic) کی نفی ہے۔ مزید یہ کہ مذکورہ اعتراض ایک کھُلی تضاد فکری پر قائم ہے۔ یہ لوگ خود تو کائنات کو بغیر خالق کے مان رہے ہیں، مگر خالق کو ماننے کے لیے وہ ایک خالقِ خالق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ کائنات کا وجود اگر بغیر خالق کے ممکن ہے تو خالق کا وجود بھی بغیر خالق کے ممکن ہونا چاہیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عقلی موقف
خدا کے وجود کے معاملے میں اصل غور طلب بات یہ ہے کہ خالص عقلی نقطۂ نظر سے ہم کیا موقف اختیار کرسکتے ہیں اور کیا نہیں۔ اِس کے سوا کوئی اور طریقہ اِس معاملے میں سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔
یہ ایک مسلّم بات ہے کہ کائنات میں انتہائی معیاری حد تک نظم پایا جاتا ہے۔ نظم کا یہ معاملہ ہر آدمی کا ذاتی مشاہدہ ہے۔ مذکورہ مضمون نگار نے ایٹم کی ساخت کو لے کر اِسی معاملے کی ایک سائنسی مثال دی ہے۔ اِس لیے جہاں تک کائنات میں نظم کا سوال ہے، یہ ہر فریق کے نزدیک، ایک مسلّم حقیقت ہے۔
عقلی موقف کے اعتبار سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ نظم کا تصور ناظم کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ جہاں نظم ہے، وہاں یقینا اس کا ایک ناظم موجود ہے۔ ناظم کے بغیرنظم کا تصور عقلی اعتبار سے محال ہے۔ نظم کی موجودگی ایک مجبورانہ منطق (compulsive logic) پیدا کرتی ہے، یعنی کسی بھی عذر کے بغیر ناظم کی موجودگی کا اقرار کرنا۔ کسی کے ذہن میں ناظم کی موجودگی کی توجیہ نہ ہونا، اُس کو یہ منطقی جواز نہیں دیتا کہ وہ ناظم کی موجودگی کا انکار کردے۔
ایٹم کے ڈھانچے کی مثال لے کر مضمون نگار نے جو بات کہی ہے، وہی اِس دنیا کی ہر چیز کے بارے میں درست ہے۔ اِس دنیا کا ہر جُز، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، وہ اِس قدر محکم اور متناسب ہے کہ اس کے ڈھانچے میں کوئی بھی تغیر سارے نظام عالم کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہے۔
مثال کے طورپر ہمارے سیارۂ زمین میں جو کشش (gravity) ہے، وہ آخری حد تک ہماری ضرورتوں کے مطابق ہے۔ اگر زمین کی کشش نصف کے بقدر زیادہ ہوجائے، یا نصف کے بقدر کم ہوجائے تو دونوں حالتوں میں سیارۂ زمین پر انسانی تہذیب کا بقاناممکن ہوجائے گا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خلا میں ہمارے دو قریبی پڑوسی ہیں— سورج اور چاند۔ اگر ایسا ہو کہ سورج وہاں ہوجہاں آج چاند ہے، اور چاند وہاں ہو جہاں آج سورج ہے، تو زمین پر انسانی زندگی تو درکنار خود زمین جل کر ختم ہوجائے گی۔
ہماری زمین پر تمام چیزیں اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہیں۔ لیکن درخت کا معاملہ استثنائی طورپر یہ ہے کہ اس کی جڑیں تو زمین میں نیچے کی طرف جاتی ہیں اور اس کا تنا اوپر کی طرف جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ درخت میں یہ دو طرفہ خصوصیت نہ ہو تو اس کے بعد زمین کی سطح پر ہرے بھرے درختوں کا خاتمہ ہوجائے گا، وغیرہ۔
ذہین کائنات
کائنات میں اَن گنت چیزیں ہیں، اور ہر چیز مرکّب(compound) کی صورت میں ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایٹم، کائنات کا ایک ایسا واحدہ ہے جو مفرد(single) ہے اور غیر مرکب حالت میں ہے۔ مگر آئن سٹائن کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیاتو معلوم ہوا کہ اٹیم بھی مرکب ہے، وہ کوئی مفرد چیز نہیں۔
دورِ جدید میں ہر چیز کا سائنسی مطالعہ کیا گیاہے۔ اِس مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ چیزیں جن اشیا سے ترکیب پاکر بنتی ہیں، ان کی ترکیب کے لیے ہمیشہ بہت سے آپشن (options) موجود ہوتے ہیں، مگر سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ نیچر ہمیشہ یہ کرتی ہے کہ بہت سے آپشن میں سے اُسی ایک آپشن کو لیتی ہے جو کائنات کی مجموعی اسکیم کے عین مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اِس دنیا کی ہر چیز بالکل پرفیکٹ نظر آتی ہے، اِس دنیا کی ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔
یہ اصول جو کائنات میں رائج ہے، اُس کو ایک لفظ میں ذہین انتخاب (intelligent selection) کہہ سکتے ہیں۔ کائنات میں بلین، ٹری لین سے بھی زیادہ چیزیں موجود ہیں، لیکن ہر چیز بلا استثنا، اِسی ذہین انتخاب کی مثال ہے۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ ایک سائنس داں ڈاکٹر فریڈ ہائل (Fred Hoyle) نے اِسی موضوع پر ایک کتاب تیار کر کے شائع کی ہے، اُس کا نام ہے— ذہین کائنات(The Intelligent Universe) ۔ یہ کتاب ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ہے اور 1983میں لندن سے چھپی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کائنات کا یہ ظاہرہ (phenomenon) کوئی سادہ بات نہیں، وہ خدا کے وجود کا ایک حتمی ثبوت ہے۔ کائنات کی بناوٹ میں ذہانت (intelligence) کی موجودگی واضح طورپر ایک اور بات ثابت کرتی ہے۔ ذہین تخلیق (intelligent creation) واضح طورپر ذہین خالق (intelligent creator) کا ثبوت ہے۔ منطقی طورپر یہ ناقابلِ قیاس ہے کہ یہاں ذہین عمل موجود ہو، لیکن ذہین عامل یہاں موجود نہ ہو۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے بلاشبہ لازم اور ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ذہین عمل کو ماننے کے بعد ذہین عامل کو نہ ماننا، ایسا ہی ہے جیسے ایک پیچیدہ مشین کو ماننے کے بعد اُس کے انجینئر کو نہ ماننا۔ ڈاکٹر فریڈ ہائل نے اپنی کتاب میںدرست طورپر لکھا ہے کہ سائنس کے ابتدائی دور میں مسیحی چرچ نے سائنس دانوں کے خلاف جو متشددانہ کارروائی کی، وہ ابھی تک لوگوں کو یاد ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر وہ یہ اعلان کردیں کہ کائنات کے پیچھے ایک ذہین خالق کے وجود کا ثبوت مل رہا ہے تو قدیم مذہبی تشدد شاید دوبارہ واپس آجائے گا۔ مگر یہ ایک بے بنیاد خوف ہے۔ ذہین خالق کے سائنسی اعتراف کے بعد جوچیز تاریخ میںواپس آئے گی، وہ سچاخدائی مذہب ہے، نہ کہ مسیحی چرچ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دو انتخاب(options)
کائنات میں جو غیر معمولی نظم اور تناسب پایا جاتا ہے، اس کی توجیہ کے لیے ہمارے پاس دو انتخاب (options) ہیں۔ ایک، یہ کہ کائنات اپنی ناظم آپ ہے۔ مگر سائنس کی تمام تحقیقات اِس کی تردید کرتی ہیں۔ اِس لیے کہ سائنس نے کائنات میں جس نظم کو دریافت کیا ہے، وہ مکمل طور پر ایک ذہین نظم(intelligent design) ہے۔ دوسری طرف سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ خود کائنات کے اندر سب کچھ ہے، لیکن وہی چیز اس کے اندر موجود نہیں جس کو ذہانت(intelligence)کہاجاتا ہے۔ سائنس کی دریافت کردہ کائنات، بیک وقت کامل طورپر منظم(designed)ہے اور اسی کے ساتھ وہ کامل طورپر غیرذہین (non-intelligent)ہے۔ ایسی حالت میں کائنات کو اپنے نظم کا خود ناظم سمجھنا، ایسا ہی ہے جیسے پتھر کے اسٹیچو کے بارے میں یہ فرض کرلیا جائے کہ اس نے اپنی بامعنیٰ ڈزائن خود تیار کی ہے۔ وہ ایک خود تخلیقی وجود(self-created being)ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کے بعد ہمارے پاس کائنات کی توجیہ کے لیے صرف ایک آپشن باقی رہتا ہے، اور وہ یہ کہ ہم ایک خارجی ایجنسی(outside agency) کو کائنات کے نظم کا سبب قرار دیں۔ اِس ایک انتخاب کے سوا، کوئی دوسرا انتخاب ہمارے لیے عملی طورپر ممکن نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اِس معاملے میں ہمارے لیے بے خدا کائنات اور با خدا کائنات کے درمیان انتخاب نہیں ہے، بلکہ با خدا کائنات (universe with God) اور غیر موجود کائنات (no universe at all) کے درمیان انتخاب ہے۔ یعنی ہم اگر خدا کا انکار کریں تو ہمیں کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چوں کہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کرسکتے، اِس لیے ہم مجبور ہیں کہ ہم خدا کے وجود کو تسلیم کریں۔
واحد انتخاب
عقلی اصولوں میں سے یہ ایک اصول ہے کہ جب ایسی صورت حال ہو کہ عملی طور پر ہمارے لیے صرف ایک ہی انتخاب ممکن ہو تو اُس وقت ایک مجبور کن صورتِ حال (compulsive situation) پیدا ہوجاتی ہے، یعنی ہم مجبور ہوتے ہیں کہ اُس ایک انتخاب کو لے لیں۔ اِس کے خلاف کرنا، صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہاں ایک سے زیادہ انتخاب موجود ہوں۔ لیکن جب ایک کے سوا کوئی دوسرا انتخاب سرے سے موجود ہی نہ ہو تو اُس وقت لازم ہوجاتا ہے کہ ہم اِسی واحد انتخاب کو قبول کرلیں۔ زیر بحث مسئلے میں یہ واحدانتخاب خدا کے وجود کو بطور واقعہ تسلیم کرنا ہے، کیوں کہ یہاں اقرارِخدا کے سوا کوئی اور انتخاب ہمارے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔
منطقی استدلال
کسی بات کو عقلی طورپر سمجھنے کے لیے انسان کے پاس سب سے بڑی چیز منطق (logic) ہے۔ منطق کے ذریعے کسی بات کو عقلی طورپر قابل فہم بنایا جاتا ہے۔ منطق کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک ہے، انتخابی منطق(optional logic) اور دوسری ہے، مجبورانہ منطق (compulsive logic)۔ منطق کے یہ دونوں ہی طریقے یکساں طورپر قابلِ اعتماد ذریعے ہیں۔ دونوں میں سے جس ذریعے سے بھی بات ثابت ہوجائے، اس کو ثابت شدہ مانا جائے گا۔
انتخابی منطق
انتخابی منطق وہ ہے جس میں آدمی کے لیے کئی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا موقع ہو۔ اِس قسم کے معاملے میںہمارے پاس ایسے ذریعے ہوتے ہیں جن کو منطبق کرکے ہم ایسا کرسکتے ہیں کہ کئی میں سے صرف ایک کا انتخاب کریں اور بقیہ کو چھوڑ دیں۔
مثلاً سورج کی روشنی کو لیجیے۔ آنکھ سے دیکھنے میں سورج کی روشنی صرف ایک رنگ کی دکھائی دیتی ہے، لیکن پِرزم (prism) سے دیکھنے میں سورج کی روشنی سات رنگوں میں بٹ جاتی ہے۔ اِس طرح سورج کی روشنی کے رنگ کے بارے میں ہمارے پاس دو انتخاب (options) ہوگئے۔ اب ہمارے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ دونوں میں سے جس انتخاب میں منطقی وزن زیادہ ہو، ہم اس کو لیں۔ چنانچہ اِس معاملے میں سات رنگوں کے نظریے کو مان لیاگیا۔ کیوں کہ وہ زیادہ قوی ذریعے سے ثابت ہورہا تھا۔
مجبورانہ منطق
مجبورانہ منطق کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ مجبورانہ منطق میں آدمی کے پاس صرف ایک کا انتخاب (option) ہوتاہے۔ آدمی مجبور ہوتا ہے کہ اُس ایک انتخاب کو تسلیم کرے۔ کیوں کہ اس میںایک کے سوا کوئی اور انتخاب سرے سے ممکن ہی نہیں ہوتا۔ مجبورانہ منطق کے معاملے میں صورتِ حال یہ ہوتی ہے کہ آدمی کو لازمی طورپر ماننا بھی ہے، اور ماننے کے لیے اس کے پاس ایک انتخاب کے سوا کوئی دوسرا انتخاب موجود نہیں۔
مجبورانہ منطق کی ایک قریبی مثال ماں کی مثال ہے۔ ہر آدمی کسی خاتون کو اپنی ماں مانتا ہے۔ وہ مجبور ہے کہ ایک خاتون کو اپنی ماں تسلیم کرے۔ حالاں کہ اُس نے اپنے آپ کو اُس خاتون کے بطن سے پیدا ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ اِس کے باوجود وہ اپنی ماں کو یقین کے ساتھ ماں مانتا ہے۔ یہ ماننا، مجبورانہ منطق کے اصول کے تحت ہوتا ہے۔ ایسا وہ اِس لیے کرتا ہے کہ اِس معاملے میں اُس کی پوزیشن یہ ہے کہ اس کو ایک خاتون کو ہر حال میں اپنی ماں ماننا ہے۔ اِسی لیے وہ اپنی ماں کو یقین کے ساتھ اپنی ماں تسلیم کرلیتا ہے۔ کیوں کہ اِس کیس میں اُس کے لیے کوئی دوسرا انتخاب موجود نہیں۔
خدا کے وجود کو ماننے کا تعلق بھی اِسی قسم کی مجبورانہ منطق سے ہے۔ خدا کے وجود کے پہلو سے اصل قابلِ غور بات یہ ہے کہ اِس معاملے میں ہمارے لیے کوئی دوسرا انتخاب ہی نہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ خدا کے وجود کو مانیں۔ کیوں کہ اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو ہمیں کائنات کے وجود کی، اور خود اپنے وجود کی نفی کرنی پڑے گی۔ چوں کہ ہم اپنی اور کائنات کے وجود کی نفی نہیں کرسکتے، اِس لیے ہم خدا کے وجود کی بھی نفی نہیں کرسکتے۔
انسان کا وجود، خدا کے وجود کا ثبوت
وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جو خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ حالاں کہ انسان کا خود اپنا وجود، خدا کے وجود کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر انسان جیسی ایک ہستی یہاں موجود ہے تو خدا بھی یقینی طورپر موجود ہے۔ انسان کے اندر وہ تمام صفتیں ناقص طورپر موجود ہیں جو خدا کے اندر کامل طورپر موجود ہیں۔ اگر ناقص ہستی کا وجود ہے تو کامل ہستی کا بھی یقینی طورپر وجود ہے۔ ایک کو ماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننا، ایک ایسا منطقی تضاد ہے جس کا تحمل کوئی بھی صاحبِ عقل نہیں کرسکتا۔
ڈیکارٹ (Rene Descartes) مشہور فرنچ فلسفی ہے۔ وہ 1596 میں پیدا ہوا اور 1650 میںاس کی وفات ہوئی۔ اس کے سامنے یہ سوال تھا کہ انسان اگر موجود ہے تو اس کی موجودگی کا عقلی ثبوت کیا ہے۔ لمبے غور وفکر کے بعد اس نے اس سوال کا جواب اِن الفاظ میں دیا— میں سوچتا ہوں ، اِس لیے میں ہوں
I think, therefore I exist.
ڈیکارٹ کا یہ جواب منطقی اعتبار سے ایک محکم جواب ہے۔ مگر یہ منطق، جس سے انسان کا وجود ثابت ہوتا ہے، وہ اس سے بھی زیادہ بڑی بات کو ثابت کررہی ہے، اور وہ ہے خدا کے وجود کا عقلی ثبوت۔ اِس منطقی اصول کی روشنی میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ— سوچ کا وجود ہے، اِس لیے خدا کا بھی وجود ہے
Thinking exists, therefore God exists.
سوچ ایک مجرد (abstract) چیز ہے۔ جو لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں، وہ اِسی لیے خدا کا انکار کرتے ہیں کہ خدا انھیں ایک مجرد تصور معلوم ہوتا ہے، اور مجرد تصور کی موجودگی ان کے لیے ناقابل فہم ہے، یعنی ایک ایسی چیز کو ماننا جس کا کوئی مادّی وجود نہ ہو۔ لیکن ہر انسان سوچنے والی مخلوق ہے۔ خود اپنے تجربے کی بنیاد پر ہر آدمی سوچ کے وجود کو مانتا ہے۔ حالاں کہ سوچ مکمل طورپر ایک مجرد تصور ہے، یعنی ایک ایسی چیز جس کا کوئی مادّی وجود نہیں۔
اب اگر انسان ایک قسم کے مجرد تصور کے وجود کو مانتا ہے تو اُس پر لازم آجاتا ہے کہ وہ دوسری قسم کی مجرد تصور کے وجود کو بھی تسلیم کرے۔ یہ بلاشبہ خدا کے وجود کا ایک ایسا ثبوت ہے جس کا تجربہ ہر آدمی کرتا ہے اور جس کی صحت کو ہر آدمی بلا اختلاف مانتا ہے۔ اگر سوچ کے وجود کا انکار کردیا جائے تو اس کے بعد یقینی طورپر انسان کے وجود کا اور خود اپنے وجود کا انکار کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی آدمی اپنے وجود کا انکار نہیں کرسکتا، اس لیے کسی بھی آدمی کے لیے منطقی طورپر یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے وجود کا انکار کرے۔
خدا کا غیر مرئی (invisible)ہونا، اِس بات کے لیے کافی نہیں کہ خدا کے وجود کا انکار کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر مرئی ہونے کی بنا پر خدا کے وجود کا انکار کرنا، ماڈرن سائنس کے زمانے میں ایک خلافِ زمانہ استدلال (anachronistic argument) ہے۔ اس لیے کہ آئن سٹائن (وفات 1955) کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیا اور علم کا دریا عالمِ صغیر (microworld) تک پہنچ گیا تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں ہر چیز غیر مرئی ہے۔ پہلے جو چیزیں مرئی (visible) سمجھی جاتی تھیں، اب وہ سب کی سب غیر مرئی ہوگئیں۔ ایسی حالت میں عدم رُویت کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرنا، ایک غیر علمی موقف بن چکا ہے۔ اس موضوع کی تفصیل کے لیے حسب ذیل دو کتابوں کا مطالعہ کافی ہے
Unseen World, by Sir Arthur Eddington
Human Knowledge, by A. W. Bertrand Russel
خلائی مشاہدہ
موجودہ زمانے میں جو نئی چیزیں وجود میں آئی ہیں، اُن میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو خلائی سفر کہاجاتا ہے۔ بہت سے لوگ راکٹ کے ذریعے خَلا میں گئےاور وہاں سے مخصوص دور بینوں کے ذریعے انھوں نے زمین کا مطالعہ کیا۔ اِن لوگوں نے اپنے خلائی مشاہدے کی بنیاد پر بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں۔اُن میں سے ایک بات یہ ہے کہ ایک خلا باز نے کہا کہ خلائی سفر کے دوران انھوںنے یہ تجربہ کیا کہ وسیع خلا میں کہیں بھی زمین جیسا کوئی کُرہ موجود نہیں۔ زمین پر لائف ہے اور اُسی کے ساتھ اعلیٰ پیمانے پر لائف سپورٹ سسٹم بھی۔ یہ دونوں چیزیں زمین پر انتہائی موزوں اور متناسب اندازمیں پائی جاتی ہیں۔ ایک خلاباز نے زمین کے بارے میں اپنا تاثر بتائے ہوتے کہا— صحیح قسم کا سامان صحیح جگہ پر
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Right type of material at the right place.
زمین کی یہ انوکھی صفت ہے کہ یہاں زندگی پائی جاتی ہے، یہاں چلتا پھرتا انسان موجود ہے، مگر اِس قسم کی زندگی کی موجودگی کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس کے لیے دوسرے اَن گنت اسباب درکار ہیں۔ اِن اسباب کے بغیر زندگی کا وجود اور بقا ممکن نہیں۔ زمین، اِس اعتبار سے وسیع کائنات میں ایک انوکھا استثنا ہے۔ یہاں استثنا ئی طورپر انسان موجود ہے اور اسی کے ساتھ یہاں اس کے وجود اور بقا کے لیے انتہائی متناسب انداز میں تمام سامانِ حیات موجود ہے۔
وسیع کائنات میں یہ بامعنیٰ استثنا بلا شبہ ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت ہے، اور جہاں ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت موجود ہو، وہاں ایک صاحبِ ارادہ اور ایک صاحبِ تخلیق ہستی کا وجود اپنے آپ ثابت ہوجاتا ہے۔
زمین ایک استثنا
ایک شخص اگر کائنات کا سفر کرے، وہ پوری کائنات کا مشاہدہ کرے تو وہ پائے گا کہ وسیع کائنات پوری طرح ایک غیر ذی روح (lifeless) کائنات ہے۔ اُس میں اتھاہ خلا ہے، دہشت ناک تاریکی ہے، اُس کے اندر پتھر کی چٹانیں ہیں، آگ کے بہت بڑے بڑے گولے ہیں اور یہ سب چیزیں دیوانہ وار مسلسل حرکت میں ہیں۔
اِس پُر ہیبت منظر سے گزر کر جب وہ سیارۂ زمین پر پہنچتا ہے تو یہاں اس کو ایک حیران کُن استثنا نظر آتا ہے۔ یہاں استثنائی طورپر پانی ہے، سبزہ ہے، حیوانات ہیں، زندگی ہے، عقل و فہم کے پیکر انسان ہیں، پھر یہاں حیرت ناک طورپر وہ موافقِ حیات چیز موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہاجاتا ہے۔ یہاںایک مکمل تہذیب (civilization) موجود ہے، جو وسیع کائنات میں کہیں بھی سرے سے موجود نہیں، یعنی بظاہر ایک انتہائی بے معنی کائنات میںایک انتہائی بامعنیٰ دنیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وسیع کائنات میں سیارۂ زمین ایک انتہائی نادر استثنا ہے۔ یہ استثنا کوئی سادہ بات نہیں، وہ ایک عظیم حقیقت کا مشاہداتی ثبوت ہے، اور وہ ہے قادرِ مطلق خدا کا ثبوت— استثنا مداخلت کو ثابت کرتا ہے اور مداخلت بلا شبہ مداخلت کار کا ثبوت ہے، اور جب مداخلت کار کا وجود ثابت ہوجائے تو اس کے بعد خدا کا وجود اپنے آپ ثابت ہوجاتا ہے
Exception proves intervention and intervention proves intervenor and when the existence of intervenor is proved, the existence of God is also proved.
سفرنگ کا مسئلہ
خدا کے وجود پر شک کرنے کے لیے جو باتیں کہی جاتی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو پرابلم آف اِوِل (problem of evil) یا سفرنگ (suffering) کہا جاتا ہے۔ یہ اعتراض صرف ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے، وہ یہ کہ انسانی زندگی میں جو سفرنگ ہے، وہ تمام تر مین میڈ (man-made) ہے، مگر اس کو غلط طور پر گاڈ میڈ(God-made) سمجھ لیاگیا ہے۔ انسانی زندگی میں سفرنگ کے حوالے سے جو کچھ کہاجاتا ہے، وہ اِسی غلط انتساب کا نتیجہ ہے۔
اِس غلط فہمی کااصل سبب یہ ہے کہ لوگ جب کسی انسان کی زندگی میں سفرنگ کے واقعہ کو دیکھتے ہیں تو وہ اُسی مبتلاانسان کے حوالے سے اُس کی توجیہ کرنا چاہتے ہیں۔ چوں کہ اکثر مثالوں میں خود اُسی مبتلا انسان کے اندر اس کی توجیہ نہیں ملتی، اس لیے اس سفرنگ کو لے کر وہ یہ کہنے لگتے ہیں کہ یا تو اس دنیا کا کوئی خدا نہیں، یا اگر خدا ہے تو وہ ظالم اور غیر منصف خدا ہے، مگر یہ انتساب بجائے خود غلط ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
انسان کی زندگی میں جوسفرنگ پیش آتی ہے، اس کا سبب کبھی انسان خود ہوتا ہے اور کبھی اس کے والدین ہوتے ہیں اور کبھی اس کا سبب وہ سماج ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہا ہے اور کبھی وسیع تر معنوں میں اجتماعی نظام اُس کا ذمے دار ہوتا ہے۔ اِسی کے ساتھ کبھی کوئی سفرنگ فوری سبب سے پیش آتی ہے اور کبھی اس کے اسباب پیچھے کئی پشتوں تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔
غلط ریفرنس میں مطالعہ
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ شبہ کا سبب، اصل صورتِ حال کا غلط ریفرنس میں مطالعہ ہے، یعنی جس ظاہرے کو انسان کی نسبت سے دیکھنا چاہیے، اُس کو خدا کی نسبت سے دیکھنا۔ حالاں کہ یہ سائنسی حقائق کے سرتا سر خلاف ہے۔
مثال کے طورپر موجودہ زمانے میں ایڈز(AIDS) کا مسئلہ ایک خطرناک مسئلہ سمجھاجاتا ہے۔ مگر خود طبّی تحقیق کے مطابق، یہ انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ میڈیکل سائنس میں یہ مستقل نظریہ ہے کہ کئی بیماریاں اَجداد سے نسلی طورپر منتقل ہوتی ہیں۔ ایسی بیماریوں کو اجدادی بیماری(atavistic disease) کہاجاتا ہے۔ اِسی طرح مختلف قسم کی وبائیں پھیلتی ہیں جس میں ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں، یا خرابیِ صحت کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ بھی خود طبی تحقیق کے مطابق، انسان کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔
دہلی میں معروف ليڈرڈاکٹر اَرُن شوری کے صاحب زادے مفلوج ہو کر وھیل چیئر پر رہتے ہيں۔ اِس ’’سفرنگ‘‘ کا سبب بھی یہ ہے کہ چھوٹی عمر میں امریکا کے ایک اسپتال میں اُن کو غلط انجکشن لگ گیا، اِس بنا پر وہ جسمانی اعتبار سے مفلوج ہوگئے۔ اِسی طرح تشدد اور جنگوں کے نتیجے میں بے شمار لوگ مرجاتے ہیں یاناکارہ ہوجاتے ہیں، یہ سب بھی انسانی کارروائیوں کی بنا پر ہوتاہے، وغیرہ۔
واقعہ یہ ہے کہ انسانی سفرنگ کو نیچر سے منسوب کرنا، سرتاسر ایک غیر علمی بات ہے۔ سائنس کی تمام شاخوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نیچر مکمل طورپر خرابیوں سے پاک ہے۔ نیچر اِس حد تک محکم ہے کہ اس کی کارکردگی کے بارے میں پیشگی طورپر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر نیچر کے اندر قابل پیشین گوئی کردار نہ ہو تو سائنس کی تمام سرگرمیاں اچانک ختم ہوجائیں گی۔
تقابلی مطالعہ
پرابلم آف اِوِل کے اِس معاملے کا علمی مطالعہ کرنے کا پہلا اصول وہ ہے جس کو تقابلی طورپر سمجھنا (in comparision that we understand) کہاجاتا ہے۔ تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ محدودطورپر صرف انسانی دنیا کا مسئلہ ہے، جب کہ انسان پوری کائنات کے مقابلے میں ایک بہت ہی چھوٹے جُز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ کائنات اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات (zero-defect world) ہے۔ کائنات میں بے شمار سرگرمیاں ہر آن جاری رہتی ہیں، لیکن اُس میں کہیں بھی کوئی خرابی (evil) دکھائی نہیں دیتی۔
انسانی دنیا میں بیماریاں ہیں، انسانی دنیا میں حادثات ہیں، انسانی دنیا میں ظلم ہے، انسانی دنیا میں کرپشن ہے، انسانی دنیا میں بے انصافی ہے، انسانی دنیا میں استحصال ہے، انسانی دنیا میں لڑائیاں ہیں، انسانی دنیا میں نفرت اور دشمنی ہے، انسانی دنیامیں سرکشی ہے، انسانی دنیا میں فسادات ہیں، انسانی دنیا میں جرائم ہیں، اِس قسم کی بہت سی برائیاں انسانی دنیامیں پائی جاتی ہیں، لیکن انسان کے سوا، بقیہ کائنات اِس قسم کی برائیوں سے مکمل طورپر خالی ہے۔ یہی فرق یہ ثابت کرتا ہے کہ بُرائی کا مسئلہ (problem of evil) خود انسان کا پیدا کردہ ہے، نہ کہ فطرت کا پیدا کردہ۔اگر یہ مسئلہ فطرت کا پیدا کردہ مسئلہ ہوتا تو وہ بلا شبہ پوری کائنات میں پایا جاتا۔
سائنٹفک مطالعہ
اس معاملے کا سائنٹفک مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی دنیا اور بقیہ کائنات میں ایک واضح فرق ہے، وہ یہ کہ بقیہ کائنات حتمی قسم کے قوانینِ فطرت سے کنٹرول ہورہی ہے۔ اِس کے برعکس، انسان آزاد ہے اور وہ خود اپنی آزادی سے اپنی زندگی کا نقشہ بناتا ہے۔ یہی فرق دراصل اُس چیز کا اصل سبب ہے، جس کو بُرائی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتا ہے۔
اِس معاملے کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی دنیا کی تمام بُرائیاں، انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہیں۔ میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ بیماریوں کا سبب نیچر میں نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی اپنی غلطیوں میں ہے۔ یہ غلطیاں کبھی مبتلا شخص کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں، کبھی باپ دادا کی وراثت اس کا سبب ہوتی ہے، کبھی اجتماعی نظام کا کرپشن بیماریوں کے اسباب پیداکرتا ہے۔ یہ بات بے حد قابلِ غور ہے کہ بیماری کو نیچر سے جوڑنا ملحد مفکرین کا نظریہ ہے، وہ کسی سائنٹفک دریافت پر مبنی نہیں۔ اِسی طرح لڑائیاں، گلوبل وارمنگ، مختلف قسم کی کثافت، فضائی مسائل (ecological problems) وغیرہ، سب کے سب انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہیں۔
خدا کا تخلیقی پلان
خالق نے انسان کویہ آزادی (freedom)کیوں دی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خالق نے چاہا کہ وہ انسان کو ایک عظیم انعام دے۔ یہ عظیم انعام جنت ہے، جو ابدی خوشیوں کی جگہ ہے۔ جنت میں جگہ پانے کا حق دار صرف وہ شخص ہوگا جو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے۔ جو آزاد ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ڈسپلن اور کنٹرول میں رکھے۔جہاں آزادی ہوگی، وہاں آزادی کاغلط استعمال بھی ہوگا۔ لیکن آزادی اتنی زیادہ قیمتی چیز ہے کہ کسی بھی اندیشے کی بنا پر اس کو ساقط نہیں کیا جاسکتا۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے خدا کے تخلیقی پلان(creation plan) کو جاننا ضروری ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو اس دنیا میں مکمل آزادی دی گئی ہے۔ ایسا خدا نے مصلحتِ امتحان کے لیے کیا ہے۔ انسانی زندگی میں سفرنگ کے جو واقعات ہوتے ہیں، وہ تمام تر اسی آزادی کے غلط استعمال کے نتیجے میں ہوتے ہیں، کبھی براہِ راست طورپر اور کبھی بالواسطہ طور پر، کبھی سفرنگ میں مبتلا شخص کے ذاتی عمل کی وجہ سے اور کبھی دوسرے انسانوں کے عمل کی وجہ سے، کبھی کسی فوری غلطی کے نتیجے کے طورپر اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پچھلی نسلوں کی غلطی کی بنا پراُس کا نتیجہ بعد کی نسلوں کے سامنے آتا ہے۔
کائناتی معنویت کی توجیہ
خدا کے وجود کی بحث کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق، کائنات کی معنویت (meaning) سے ہے۔ خدا کو ماننا، نہ صرف کائنات کے وجود کی توجیہ ہے بلکہ خدا کا عقیدہ کائنات کو کامل طورپر بامعنیٰ بنا دیتا ہے۔ خدا کو نہ ماننے کا مطلب یہ ہے کہ بامعنیٰ کائنات ایک بے معنیٰ انجام پر ختم ہوجائے۔ جب کہ خدا کو ماننا، یہ بتاتا ہے کہ کائنات آخر کار ایک بامعنیٰ انجام پر پہنچنے والی ہے۔
انسان کے اندر پیدائشی طورپر انصاف اور بے انصافی کاتصور پایا جاتا ہے۔ انسان پیدائشی طورپر یہ چاہتا ہے کہ جو شخص انصاف کے اصولوں کے تحت زندگی گزارے، اُس کو انعام ملے۔ اور جو شخص ناانصافی کا طریقہ اختیار کرے، اس کو سزا دی جائے۔ اِس فطری تقاضے کی تکمیل صرف باخدا کائنات (universe with God) کے نظریے میں ملتی ہے، بے خدا کائنات (universe without God) کے نظریے میں اِس فطری تقاضے کا کوئی جواب نہیں۔
ہر انسان پیدائشی طورپر اپنے اندر خواہشوں کا سمندر لیے ہوئے ہے۔ موجودہ دنیا میں اِن خواہشوں کی تکمیل (fulfillment) ممکن نہیں۔ بے خدا کائنات کے نظریے میں انسان کے لیے یہ حسرت ناک انجام مقدر ہے کہ اس کی فطری خواہشیں کبھی پوری نہ ہوں۔ لیکن باخدا کائنات کے نظریے میں یہ امکان موجود ہے کہ آدمی اپنی خواہشوں کی کامل تسکین، بعد از موت کے مرحلۂ حیات میں پالے۔
وقت کا شعور
انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ٹائم کانشش مخلوق ہے۔ وہ اپنے وقت کو حال اور مستقبل میں بانٹ کردیکھتا ہے۔ مگر دوسری طرف یہ ایک واقعہ ہے کہ ہر آدمی کو اپنی زندگی میں صرف حال (present) ملتا ہے۔ ہر آدمی اپنے مستقبل سے محروم ہوکر مایوسی کی حالت میں مر جاتا ہے۔ وہ اپنے حال میں بہتر مستقبل کے لیے عمل کرتا ہے، لیکن اس کی محدود عمر میں اس کا وہ بہتر مستقبل اس کو نہیں ملتا اور وہ مایوسی کے ساتھ اِس دنیا سے چلا جاتا ہے۔
ایک بار ہم نے انٹرنیٹ پر یہ سوال ڈالا کہ بڑے بڑے لوگوں میں وہ کون ہیں جو اپنی آخری عمر میں مایوسی کا شکار ہوئے اور ڈپریشن (depression) کی حالت میں مَرے۔ اِس کے جواب میں انٹرنیٹ نے جو فہرست دی، اس میں چار سو دو بڑے بڑے اشخاص کے نام موجود تھے۔ (کوئی شخص سرچ انجن پر جاکر اِس فہرست کو دیکھ سکتا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے (Risk Factor: Depression)۔ کائنات کے باخدا نظریے میں انسان کے اِس فطری سوال کا جواب موجود ہے، لیکن کائنات کے بے خدا نظریے میں اِس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں۔
زَوجین کا اصول
کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز جوڑاجوڑا پیدا کی گئی ہے— منفی برقی ذرّے کا جوڑا مثبت برقی ذرہ، درخت کے پھولوں میں نر اور مادہ، حیوانات میں مذکّر اور مؤنث۔ انسان میں عورت اور مرد، وغیرہ۔ یہ ایک کائناتی قانون ہے کہ یہاں ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی تکمیل کرتی ہے۔
اِس لحاظ سے انسانی زندگی کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہیے، یعنی موت سے پہلے کی نامکمل زندگی کے ساتھ موت کے بعد کی کامل زندگی۔ باخدا کائنات کے نظریے میں اُس کا یہ تکمیلی جوڑا موجود ہے، لیکن بے خدا کائنات کے نظریے میں اُس کایہ تکمیلی جوڑا موجود نہیں۔
آئڈیل ازم کی ناکامی
تمام فلاسفہ اور مفکرین موجودہ دنیا کو ابدی (eternal) سمجھتے رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اِسی موجودہ عالم میں ہم کبھی نہ کبھی اپنی مطلوب دنیا بنا لیں گے۔ آئڈیل سوسائٹی، آئڈیل ریاست، آئڈیل نظام کے تصورات اِسی فکر کے تحت پیدا ہوئے۔ ایسے تمام مفکرین اِن تصورات سے اپنی آخری عمر تک مسحور رہے۔
لوگوں کے نزدیک تہذیب (civilization) اِسی انسانی خواب کی تعبیر تھی۔ موجودہ صنعتی ترقیوں کے بعد لوگوں نے یہ سمجھا کہ تہذیبی ارتقا آخر کار اُنھیں اِس منزل تک پہنچانے والا ہے، جب کہ اِسی موجودہ دنیا میں وہ اپنی جنت تعمیر کرلیں۔ لیکن یہ تصور مکمل طورپر باطل ثابت ہوا۔
دنیا کا خاتمہ
جدید سائنس کے بانی سرآئزاک نیوٹن (وفات1727) نے 1704 میں قوانینِ طبیعی کا مطالعہ کرکے بتایا تھا کہ موجودہ دنیا 2060 میں ختم ہوجائے گی۔ (ٹائمس آف انڈیا، 18 جون 2007)۔ اب دنیا بھر کے تمام سائنس داں خالص مشاہدات کی بنیاد پر یہ بتارہے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں دنیا کا خاتمہ یقینی بن چکا ہے۔ تہذیب کا مزید ارتقا اب سرے سے یہاں ممکن ہی نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
الون ٹافلر(Alvin Toffler) کی کتاب ’فیوچر شاک‘ پہلی بار 1970میں چھپی۔ الون ٹافلر نے بتایا تھا کہ دنیا انڈسٹریل ایج سے نکل کر اب سپرانڈسٹریل ایج میں داخل ہورہی ہے۔ تہذیب کا اگلا دَور مکمل آٹومیشن (complete automation) کا دور ہوگا۔ پُش بٹن کلچر (push button culture) اِس حد تک ترقی کرے گا کہ ہر کام آٹومیٹک طورپر ہونے لگے گا۔ لیکن گلوبل وارمنگ کا مسئلہ تکمیلِ تاریخ کے بجائے خاتمۂ تاریخ (end of history) کا پیغام لے کر سامنے آگیا۔
تاریخ انسانی کا یہ ظاہرہ بلا شبہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔ اِس سوال کی اطمینان بخش توجیہ صرف با خدا کائنات کے نظریے میں موجود ہے۔ بے خدا کائنات کے نظریے کے تحت، اِس ظاہرے کی کوئی اطمینان بخش توجیہ کرنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔
اِس طرح کی مثالیں واضح طورپر ثابت کرتی ہیں کہ بے خدا کائنات کے نظریے میں ایک بہت بڑا خلا موجود ہے، وہ یہ کہ اِس نظریے کو ماننے کی صورت میں ایک انتہائی بامعنیٰ کائنات ایک انتہائی بے معنیٰ انجام پر ختم ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔
دوسری طرف، با خدا کائنات کا نظریہ اِس نقص سے مکمل طور پر خالی ہے۔ باخدا کائنات کے نظریے کو ماننے کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ بامعنیٰ کائنات کا انجام ایک انتہائی بامعنیٰ مستقبل پر منتہی ہوتا ہے۔ یہ واقعہ، باخدا کائنات کے نظریے کے حق میں ایک ایسی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے جو عقل اور منطق کو پوری طرح مطمئن کرنے والا ہے۔
جدید الحاد — ایک تجزیہ
فکری اعتبار سے انسان کی تاریخ کو دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے— قبل سائنس دور، اور بعد سائنس دور۔قبل سائنس دور میں فکری اعتبارسے، مذہب انسان کے لیے رُجحان ساز بنا ہوا تھا۔ماڈرن سائنس کے ظہور کے بعد یہ صورت حال بد ل گئی۔ اب سائنس کو عمومی طورپر رجحان ساز (trendsetter) کا درجہ حاصل ہوگیا۔ سائنس بذاتِ خود نہ مذہب کے موافق ہے اور نہ مذہب کے خلاف، لیکن بعض وجوہ سے اس کا یہ عملی نتیجہ نکلا کہ موجودہ زمانے میں تقریباً تمام فکری معاملات میں الحادی نظریہ غالب آگیا۔ ایسا کیوں کر ہوا، یہاں اس کا ایک جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔
موجودہ سیارۂ ارض پر انسان ہزاروں سال سے رہ رہا ہے۔ وہ روزانہ بہت سی چیزوں کو ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مثلاً سورج کا نکلنا، بارش کا برسنا اور ہواؤں کا چلنا، وغیرہ۔ روایتی طورپر انسان یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ براہِ راست طورپر خدا کی طرف سے کیا جارہا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے لیے ایک مسلّمہ یا ایک بدیہی صداقت (axiom) بن چکا تھا۔ مؤحّد انسان اور مشرک انسان، دونوں کسی نہ کسی طورپر اس کو بطور ایک مسلّمہ حقیقت کے مانتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق (مُسبِّب) اور نتیجے کے درمیان کسی سبب (cause) کا تصور فکری یا عملی طور پر موجود نہ تھا۔
جدید سائنس کے ظہور کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ہر نتیجے سے پہلے بظاہر اس کا ایک مادّی سبب (material cause) موجود ہے۔ مثال کے طور پر جدید سائنس کا بانی سرآئزاک نیوٹن (وفات1727ء) اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے سیب کا ایک درخت تھا۔ درخت سے ایک سیب ٹوٹ کر نیچے گرا۔ نیوٹن سوچنے لگا کہ پھل درخت سے ٹوٹ کر نیچے کیوں آیا، وہ اوپر کی طرف کیوں نہیں چلا گیا۔ آخر کار اُس نے دریافت کیا کہ ہماری زمین میں قوتِ کشش (gravitational pull) ہے، اِس بنا پر ایسا ہوتاہے کہ چیزیں اورپر سے نیچے کی طرف آتی ہیں، وہ نیچے سے اوپر کی طرف نہیں جاتیں۔
یہ سائنسی مطالعہ بڑھا، یہاں تک کہ سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ اِس دنیا میں جو واقعات ہوتے ہیں، اُن سب کے پیچھے ہمیشہ ایک سبب (cause) موجود رہتا ہے، ہر نتیجہ کسی سبب کے تحت ظہورمیں آتا ہے۔ سائنس دانوں نے اپنی اِس دریافت کو قانونِ تعلیل (principle of causation) کا نام دیا۔ واقعات کو مبنی بَراسباب سمجھنے کا یہ ذہن پھیلتا رہا، یہاں تک کہ وہ انسان کی تمام علمی اور فکری سرگرمیوں پر چھا گیا۔ واقعات کی توجیہ کے لیے پہلے، خدا کا حوالہ دیا جاتا تھا، اب واقعات کی توجیہ کے لیے خدا کے بجائے، سبب (cause) کا حوالہ دیا جانے لگا۔
سائنس کی یہ دریافت ابتدائی طوپر اپنے اندر صرف ایک طبیعی مفہوم رکھتی تھی۔ خدا کے حوالے سے واقعات کی توجیہ نہ کرنے کے باوجود وہ خدا سے انکار کے ہم معنی نہ تھی۔ مگر ملحد مفکرین نے، نہ کہ سائنس دانوں نے، نظریاتی ہائی جیک (hijack) کے ذریعے اس کو خدا سے انکار کے ہم معنیٰ بنا دیا۔ یہیں سے وہ نظریہ شروع ہوا جس کو جدید الحاد (modern atheism) کہاجاتا ہے۔
سائنس کی اِس دریافت کو لے کر جدید ملحدین نے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اب ہمیں واقعات کی توجیہ کے لیے خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ واقعات اگر طبیعی اسباب کا نتیجہ ہیں، تو وہ مافوق الطبیعی اسباب کا نتیجہ نہیں ہوسکتے
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
جیسا کہ آئندہ ہم واضح کریں گے کہ اِس استدلال میں واضح طورپر ناقابلِ حل منطقی خلا (logical gap) موجود تھا، اس کے باوجود جدید اہلِ علم کے درمیان اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر اس کو خدا کا بدل سمجھا جانے لگا، یہاں تک کہ یہی طرزِ فکر تمام جدید علمی شعبوں میں چھا گیا۔ چند مثالوں سے اِس کی وضاحت ہوتی ہے۔
1 ۔ اِن میں سے ایک ماڈرن میٹریل ازم (modern materialism)ہے۔ مٹیریل ازم ایک فلسفہ بھی ہے، اور ایک کلچر بھی۔ عملی طورپر دیکھیے تو میٹریل ازم کا خلاصہ یہ ہے کہ — اپنی آرزوؤں کی جنت کے حصول کے لیے اب اِس کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ اگلی دنیا (آخرت) برپا ہو اور وہاں خدا اپنی خصوصی عنایت کے طورپر ہمیں جنت عطا کرے۔ اب ہم کو وہ سبب معلوم ہوگیا ہے جس کے ذریعے اِسی دنیا میں جنت کی تعمیر ممکن ہے، یہ سبب جدید ٹکنالوجی ہے۔
چنانچہ جدید ٹکنالوجی اور جدید انڈسٹری کے ذریعے اِس جنتِ ارضی کی تعمیر کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ مادّیت (materialism) کے نام سے ایک پوری تہذیب ظہور میں آگئی۔ آج کا انسان، خدا سے غافل ہو کر اس تہذیبی جنت کے حصول کے لیے ٹوٹ پڑا۔ جدید انداز کے مکانات اور جدید انداز کے شہر اور جدید انداز کا لائف اسٹائل ہر طرف وجود میں آنے لگا۔ تہذیبِ جدید کے تحت اِس مادّی جنت کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ بعد کی تحقیقات نے خود اُس کی تعمیر ہی کو سرے سے ناممکن ثابت کردیا۔ طبیعیاتی سائنس نے مزید مطالعے کے بعد بتایا کہ ہماری دنیا میں ضابطۂ ناکارگی (law of entropy) نافذ ہے۔ اِس کے تحت، دنیا مسلسل طورپر خاتمے کی طرف جارہی ہے، اور ایک دن آئے گا جب کہ وہ مکمل طورپر ختم ہوجائے۔
اکیسویں صدی میں پہنچ کر اِس میں مزید اضافہ ہوا۔ اب معلوم ہوا کہ خاتمے کی یہ مدت بہت قریب آگئی ہے۔ عین ممکن ہے کہ صرف پچاس سال کے اندر وہ تمام ذرائع اور وسائل بالکل تباہ ہوجائیں، جن کی مدد سے مفروضہ مادّی جنت تعمیر کی جارہی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ عنقریب وہ اسباب ہی ختم ہوجائیں گے، جن کی بنیاد پر مادّی جنت کی تعمیر کامنصوبہ بنایا گیا تھا۔
2 ۔ اِس معاملے کی ایک مثال ڈارون ازم (Darwinism)ہے۔ پچھلے ہزاروں سال سے انسان یہ مانتا چلا آرہا تھا کہ انواعِ حیات، بہ شمول انسان، کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ یہ خداوندِ عالم ہے جو براہِ راست اپنی تخلیق کے ذریعے تمام انواعِ حیات کو وجود میں لاتا ہے۔ مگر چارلس ڈارون نے مفروضہ طورپر یہاں بھی ایک ’’سبب‘‘ کو دریافت کرلیا، جو مختلف انواعِ حیات کووجود میں لانے کا ذمے دار تھا۔ یہ سبب، ڈارون کے الفاظ میں، نیچرل سلیکشن (natural selection) تھا، یعنی حیاتیاتی عمل کے دوران طبیعی اسباب کے تحت مختلف انواعِ حیات ظہور میں آتی چلی گئیں۔ گویا کہ انواعِ حیات، یا انسان کو وجود میں لانے والا عُنصر ایک مادّی سبب (material cause) ہے، نہ کہ غیر مادّی خدا۔
ڈارون کا دریافت کردہ یہ سبب (cause) کبھی بھی علمی اعتبار سے ثابت شدہ نہ تھا، وہ صرف ایک مفروضہ تھا۔ مزید یہ کہ خود علماءِ حیاتیات اِس کو ایک ثابت شدہ نظریے کے بجائے صرف ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) کا درجہ دیتے ہیں۔ حتی کہ خود چارلس ڈارون کو اپنے اِس دریافت کردہ مفروضہ پر آخری عمر میں شک پیدا ہوگیا تھا، چنانچہ وہ مایوسی کی حالت میں مرا۔
اِس واضح منطقی خامی کے باوجود، ڈارون کے نظریے کو جدید علمی حلقوں میں عمومی مقبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہوگیا۔ حتی کہ آج بھی یہ غیر ثابت شدہ نظریہ تمام دنیا کی یونی ورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔
3۔ اِسی کی ایک مثال مارکس ازم (Marxism)بھی ہے۔ کارل مارکس (وفات1883) نے سماجی معاشیات (social economy) کے معاملے میں بھی اِسی مفروضہ اصول کو منطبق کیا۔ بطورخود اس نے اُس سبب (cause) کو دریافت کیا جس کے تحت، انسانی سماج کے اندر انقلابی تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور سماج ایک خود کار مادّی عمل کے تحت، ایک حالت سے ترقی کرکے دوسری حالت تک پہنچ جاتا ہے۔
کارل مارکس نے اِس سبب کو تاریخی ناگزیریت (historical determinism) یا جَدلیاتی مادّیت (dialectical materialism) کا نام دیا۔ اُس نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ سماج کے اندر ناگزیر داخلی اسباب کے تحت، دو طبقے (classes) پیدا ہوتے ہیں۔ تاریخی اسباب کے تحت، اِن طبقوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آتا ہے، اِس کے بعد ایک طبقہ مٹ جاتا ہے اور دوسرا طبقہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ اِس طرح داخلی اسباب کے تحت، انسانی سماج ترقی کرتا رہتا ہے۔
کارل مارکس اور اس کے ساتھیوں کا دریافت کردہ یہ سبب (cause) بھی صرف مفروضہ ثابت ہوا۔ مارکس کی پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے، وہ کبھی واقعہ نہ بن سکا۔ جیسا کہ معلوم ہے، سوویت روس میں 1917میں مصنوعی طورپر یہ انقلاب لایا گیا، مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ یہ نظریہ سوویت روس میں پیدا ہوا، اور سوویت روس ہی کے قبرستان میں وہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوگیا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ’’مارکس ازم— تاریخ جس کو رد کر چکی ہے‘‘)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4۔ جدید کنزیومرازم (modern consumerism) بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔ انسان کے اندر بے پناہ حد تک یہ خواہش ہے کہ وہ اپنے لیے ہر قسم کی راحت اور آسائش کا سامان حاصل کرے۔ جدید صنعتی ترقیوں نے بظاہر اِس کو ممکن بنا دیا۔ گویا کہ جدید صنعت وہ سبب (cause) تھا جس کے نتیجے کے طورپر انسان کو ہر قسم کی استعمالی اشیا (consumer goods) حاصل ہوسکتی تھیں۔ چنانچہ لوگ ہر جگہ قائم ہونے والے شاپنگ سنٹروں پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن آخر میں معلوم ہوا کہ یہ ’’سبب‘‘بھی صرف ایک غلط مفروضہ تھا۔ سامانِ استعمال کی تیاری صرف اِس قیمت پر ہوئی کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے قابلِ استعمال ہی نہ رہی۔
مثال کے طورپر کاروں اور ہوائی جہازوں نے بظاہر سفر کو آسان کردیا، مگر اس کا ناقابلِ برداشت حد تک منفی نتیجہ کاربن ایمیشن (carbon emissions) اور گر ین ہاؤس گیس (green house gases) کی شکل میں نکلا، جس کا حل تلاش کرنے میں تمام سائنس داں عاجز ہورہے ہیں۔ ائر کنڈیشننگ کے سامانوں کی تیاری کا یہ بھیانک نتیجہ نکلا کہ زندگی بخش اوزون لیئر(Ozone layer) میں بہت بڑا سوراخ (hole) پیدا ہوگیا، جو خود انسانی زندگی کے لیے ایک ناقابلِ حل چیلنج بن گیا، وغیرہ۔ معلوم ہوا کہ غیر مضر انداز میں استعمالی اشیا بنانے کے لیے پلوشن فری انڈسٹری (pollution free industry) درکار ہے، اور پلوشن فری انڈسٹری کو قائم کرنا سرے سے انسان کے بس ہی میں نہیں۔
5 ۔ اِسی معاملے کی ایک مثال بدھ ازم میں پائی جاتی ہے۔ بدھ ازم کو موجودہ زمانے میں تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اِس مقبولیت کا راز بھی وہی چیز ہے، جس کو اوپر ہم نے قانونِ تعلیل (principle of causation) کے تحت بیان کیا ہے۔
جدید سائنس کے زیراثر موجودہ زمانے میں وہ ذہن بنا، جو ہر چیز کو سبب اور علّت (cause and effect) کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرتاہے۔ بدھ ازم نے زندگی اور موت کے ظاہرہ کے بارے میں اِس اصول کو منطبق کیا۔ اگر چہ یہ انطباق تمام تر قیاسی تھا، لیکن بظاہر اسباب پر مبنی ہونے کی بنا پر وہ جدید مغربی ذہن کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہوگیا۔
موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی غریب خاندا ن میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی امیر خاندان میں، کوئی مصیبت میں جیتا ہے اور کوئی آرام میں۔ بدھ ازم نے مفروضہ طورپر اس کا ایک سبب دریافت کرلیا، وہ یہ کہ ہر آدمی اپنے پچھلے کرم (عمل) کے لازمی نتیجے کے طورپر اپنے عمل کے انجام کو بھگت رہا ہے۔ یہ توجیہ چوں کہ بظاہر ’’سبب‘‘کے اصول پر مبنی تھی، اِس لیے وہ جدید ذہن کو پسند آگئی اور ان کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہوگئی۔ گویا کہ یہاں بھی مادّی سبب نے غیر مادّی خدا کی جگہ لے لی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لیکن بدھ ازم کی یہ توجیہ خود سائنسی تحقیق کے مطابق، سر تاسر غیر ثابت شدہ تھی۔ علمِ نفسیات کے شعبے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا حافظہ (memory) انسانی شخصیت کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق، ایک خاص صورت میں نیا جنم لیتاہے تو اس کو اپنے پچھلے جنم کی ساری باتیں یاد رہنا چاہئیں۔ کیوں کہ یہ اُس کی پچھلی شخصیت (personality) ہی ہے، جو نئی شخصیت کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی انسان کو اپنے پچھلے جنم کا معاملہ یاد نہیں۔ بدھ ازم کے نظریے کے مطابق، ہر عورت اور مرد جس کو آج ہم دیکھتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو، وہ خود اپنے پچھلے جنم کا نیا جنم ہے، مگر اِن میں سے کسی کوبھی اپنے پچھلے جنم کی بات یادنہیں۔
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی ہندو عورت یا کسی ہندو مرد کو پُر اسرار طورپر سامنے لایا جاتا ہے، جو اپنے پچھلے جنم کے احوال بتاتا ہے، مگر اِس قسم کا شعبدہ کوئی دلیل نہیں۔ کیوں کہ علمی اعتبار سے ایسا واقعہ صرف اُس وقت دلیل بن سکتا ہے، جب کہ تمام ہندوؤں اور غیر ہندوؤں کو اپنے پچھلے جنم کی بات یاد ہو، نہ کہ صرف چند پُراسرار افراد کو۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ نے جب سمادھی لگائی تھی تو انھو ں نے ماضی میں سفر کیا تھا، اور اپنے پچھلے تمام جنموں کو دیکھ لیا تھا، مگر یہ دعویٰ تمام تر صرف ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، اِس کا کوئی ثبوت نہیں کہ گوتم بدھ نے خود اپنی زبان سے ایسا کہا تھا۔ یہ صرف بعد کے شارحین ہیں، جنھوں نے اپنے قیاس اور استنباط کے ذریعے اِس قسم کی بات کہی ہے، اور بعد کے شارحین کا استنباط اِس معاملے میں ہر گز کوئی دلیل نہیں بن سکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ قانونِ تعلیل (principle of causation) اپنی ابتدا ہی میں صرف ایک مفروضے کی حیثیت رکھتا تھا، وہ کوئی علمی دلیل نہ تھا۔ اس کی شہرت یا مقبولیت اس کے علمی وزن کی بنیاد پر نہیں ہوئی، بلکہ صرف جذباتیت کی بنیاد پر ہوئی۔ لوگوں نے جلد بازی میں ایک ایسے مفروضے کو حقیقت سمجھ لیا، جو اپنے آغازکے پہلے دن ہی صرف ایک مفروضہ تھا، نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔
جدید ملحدین کے اس استدلال میں واضح طورپر ایک بہت بڑا منطقی خلا تھا، وہ یہ کہ کسی واقعے کا جو سبب (cause) سائنس بتارہی ہے، وہ اپنے آپ میں کوئی آخری بات نہیں، اس کے بعد بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ یہ سبب کیوں کر وقوع میں آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سبب (cause) اصل معاملے کی توجیہ نہیں کرتا، سبب خود اِس کا محتاج ہے کہ اُس کی کوئی توجیہ تلاش کی جائے
Cause does not explain, cause itself is in need of an explanation.
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ (God Arises)۔
خدا كا وجوداور سائنس
آئن اسٹائن كے بارے ميں لوگوں كے درميان كنفيوژن (confusion)پايا جاتا هے۔ كچھ لوگ سمجھتے هيں كه آئن اسٹائن كا كيس منكرِخدا (atheist) كا كيس تھا۔ كچھ دوسرے لوگ اس كے برعكس رائے ركھتے هيں۔ مگر آئن اسٹائن كے مختلف بيانات كا مطالعه كرنے سے معلوم هوتا هے كه آئن اسٹائن منكرِ خدا نهيں تھا، بلكه وه خدا كے وجود كے بارے ميں شك كي كيفيت ميں مبتلا تھا۔
1945 ميں امريكي بحريه كے ايك جونير افسر گائے رينر(Guy Raner) نے خط كے ذريعه آئن اسٹائن سے سوال كيا تھا كه — كيا آپ ڈكشنري كے مفهوم كے اعتبار سے، منكرِخدا هيں، يعني وه آدمي جو خدا كے وجود ميں عقيده نهيں ركھتا۔ اِس كے جواب ميں آئن اسٹائن نے لكھا كه آپ مجھ كو لاادريه كهه سكتے هيں، مگر ميں پروفيشنل قسم كے منكر خدا سے اتفاق نهيں ركھتا۔
In 1997, Skeptic, a hard unbelief science magazine, published for the first time a series of letters Einstein exchanged in 1945 with a junior officer in the US navy named Guy Raner on the same topic. Raner wanted to know if it was true that Einstein converted from atheism to theism when he was confronted by a Jesuit priest with the argument that a design demands a designer and since the universe is a design there must be a designer. Einstein wrote back that he had never talked to a Jesuit priest in his life but that from the viewpoint of such a person, he was and would always be an atheist. He added it was misleading to use anthropomorphical concepts in dealing with things outside the human sphere and that we had to admire in humility the beautiful harmony of the structure of this world as far as we could grasp it. But Raner persisted. "Are you from the viewpoint of the dictionary," he wrote back, "an atheist, one who disbelieves in the existence of a God, or a Supreme Being." To this Einstein replied: "You may call me an agnostic, but I do not share the crusading spirit of the professional atheist whose fervour is mostly due to a painful act of liberation from the fetters of religious indoctrination received in youth. (The Times of India, New Delhi, May 18, 2012)
عقيدهٔ خدا كے بارے ميں آئن اسٹائن كا جو موقف هے، وهي موقف تقريباً تمام سائنس دانوں كا هے، خدا سائنسي مطالعه (scientific study) كا موضوع نهيں، پھر كيا وجه هے كه سائنس داں خدا كا انكار نهيں كرتے، وه اپنے آپ كو زياده سے زياده لا ادريه (agnostic) بتاتے هيں۔ يعني ايك ايسا موقف جب كه انسان نه انكار كرنے كي پوزيشن ميں هو اور نه اقرار كرنے كي پوزيشن ميں۔
يه صحيح هے كه سائنس كے مطالعے كا موضوع مادي دنيا (material world) هے، مگر مادي دنيا كيا هے، وه خالق كي تخليق (creation)هے، اِس ليے سائنس كا مطالعه بالواسطه طورپر خالق كي تخليق كا مطالعه بن جاتا هے۔ ايك سائنس داں خالق كے عقيدے كا انكار كرسكتاهے، ليكن تخليقات ميں خالق كي جو نشانياں (signs) موجود هيں، اُن كا انكار ممكن نهيں۔
اصل يه هے كه سائنس نے جس مادّي دنيا (physical world) كو دريافت كيا هے، اس ميں حيرت انگيز طورپر ايسي حقيقتيں پائي جاتي هيں جو اپني نوعيت ميں غير مادي هيں۔ مثلاً معنويت، ڈزائن، ذهانت اور بامقصد پلاننگ، وغيره۔ مادي دنيا كي نوعيت كے بارے ميں يه دريافت گويا خالق كے وجود كي بالواسطه شهادت هے۔
خدا كے وجود كے بارے ميں رائے قائم كرنے كے ليے ايك سائنسي طريقه يهاں قابلِ انطباق (applicable) هے، وه يه كه يه ديكھا جائے كه سائنس كي دريافت كرده دنيا كس نظريے كي تصديق كررهي هے، انكارِ خدا كے نظريے كي تصديق يا اقرار خدا كے نظريے كي تصديق۔اِس اصولِ استدلال كو سائنس ميں ويري فكيشن ازم (verificationism) كها جاتا هے۔
سائنس ميں استدلال كا ايك اصول هے، جس كو اصولِ مطابقت(principle of compatibility) كها جاتا هے۔ اِس كا مطلب يه هے كه ايك نظريه جو بذاتِ خود قابلِ مشاهده نه هو، ليكن وه مشاهده كے ذريعے دريافت كرده معلومات سے مطابقت ركھتا هو، تو اِس بالواسطه شهادت كي بنا پر اِس نظريے كو حقيقت كا درجه دے ديا جائے گا۔ جس نظريے كے حق ميں اِس قسم كي مطابقت موجود هو، اس كو بالواسطه تصديق كي بنا پر بطور حقيقت تسليم كرليا جائے گا۔ سائنس كے اِس اصول استدلال كو اگر عقيدهٔ خدا كے معاملے ميں منطبق كيا جائے تو اصولي طورپر خدا كا عقيده ايك ثابت شده عقيده بن جاتا هے۔
جو سائنس داں اپنے كيس كو لا ادريه (agnosticism)كا كيس بتاتے هيں، وه شعوري يا غيرشعوري طورپر فرار كا طريقه اختيار كئے هوئے هيں۔ وه خود اپنے علم كے مطابق، خدا كا انكار نهيں كرسكتے، وه كهه ديتے هيں كه ان كا كيس لا ادريه (agnostic) كا كيس هے۔
عقيده خدا اور سائنس
خالص سائنسي نقطه نظر كے مطابق، خدا كے وجود كا كوئي ثبوت نهيں۔ سائنس نے اپنے طريقِ مطالعه كے ذريعے جس چيز كو دريافت كيا هے، وه هے— اليكٹران (electron) اور نيوٹران (neutron) اور پروٹون(proton)۔ مگر اِسي كے ساتھ يه واقعه هےكه اب تك كسي سائنس داں نے اليكٹرانس اور نيوٹرانس اور پروٹانس كو نهيں ديكھا هے، نه آنكھ سے اور نه خورد بين سے، پھر سائنس داں اُن كے وجود پر يقين كيوں ركھتے هيں۔ سائنس داں كے پاس اِس كا جواب يه هے كه اگرچه هم اُن كو براهِ راست نهيں ديكھتے، ليكن هم اُن كے اثرات (effects) كو ديكھ رهے هيں
Though we cannot see them, we can see their effects.
مزيد مطالعه بتاتا هے كه يه مسئله صرف كاز اينڈ افيكٹ (cause and effect) كا مسئله نهيں هے۔ اِس سے زياده اهم بات يه هے كه خود سائنس كے مطالعے سے معلوم هوا هے كه كائنات ميں اعلي درجے كي ذهانت(intelligence)هے۔ كائنات ميں اعلي درجے كي هم آهنگي (harmony) هے۔ كائنات ميں اعلي درجے كي منصوبه بندي هے۔ اس بات كو ٹاپ كے سائنس دانوں نے تسليم كيا هے۔ مثلاً جيمس جينز، آرتھر ايڈنگٹن، البرٹ آئن اسٹائن، ڈيوڈ فوسچر (David Foster) اور فريڈ هائل(Fred Hoyle)، وغيره۔ اب يه بات ثابت هوگئي هے كه، ايك سائنس داں كے الفاظ ميں، كائنات كي جنس ،ذهن هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Molecular biology has conclusively proved that the "matter" of organic life, our very flesh, really is mind-stuff.
عقيده خدا اور سائنس كے معاملے ميں زياده صحيح بات يه هے كه يه كها جائے كه مذهب ميں جس خدا كو بطور عقيده پيش كياگيا تھا، وه اگر چه سائنس كا براهِ راست موضوع نهيں، ليكن سائنس كي دريافتيں بالواسطه طورپر عقيده خدا كي علمي تصديق (affirmation) كي حيثيت ركھتي هيں۔ سائنس نے خدا كے عقيدے كو ثابت نهيں كيا هے، البته يه كهنا درست هے كه سائنس نے عقيده خدا كے ثبوت كا ڈاٹا فراهم كرديا هے۔
سائنس كے اسٹينڈرڈ ماڈل ميں ايك چيز مسنگ لنك (missing link) كي حيثيت ركھتي تھي۔ يه ماڈل فعل (action) كو بتاتا تھا، مگر وه فاعل (actor) كو نهيں بتاتا تھا۔ اس كے مقابلے ميں، قرآن كائنات كا جوماڈل دے رهاهے، اس ميں فعل اور فاعل دونوں موجود هيں۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه قرآن ميں سبب (cause) كے ساتھ مسبّب (causative factor) كو بھي بتايا گياهے۔ سائنس جب فعل (ذهانت) كي تصديق كررهي هے تو منطقي طورپر اِس كا جواز نهيں كه وه فاعل (ذهن) كي تصديق نه كرے۔
خدا كا وجود
البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) اگرچه ايك يهودي خاندان ميں پيداهوا تھا، ليكن سائنسي مطالعے كے بعد وه خدا كے وجود كے بارے ميں تشكيك ميں مبتلا هوگيا۔ اپني وفات سے ايك سال پهلے 3 جنوري 1954 كو اس نے ايك اسرائيلي فلسفي ايرك (Eric B. Gutkind) كو جرمن زبان ميں ايك خط لكھا۔ اِس خط كا ايك جمله يه تھا كه — خدا كا لفظ اس كے سوا كچھ اور نهيں كه وه صرف انساني كمزوريوں كي ايك پيداوار هے
The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses.
آئن اسٹائن نے جس چيز كو ’’انساني كمزوري‘‘ بتايا هے، وه كمزوري نهيں هے، بلكه وه انسان كي ايك اعلي خصوصيت هے۔ اِس خصوصيت كو درست طورپر اِن الفاظ ميں بيان كيا گيا هے كه انسان ايك توجيه طلب حيوان (explanation-seeking animal) هے۔ انسان كي يهي خصوصيت تمام علمي ترقيوں كي بنياد هے۔ اِسي خصوصيت كي بنا پر انسان چيزوں كي توجيهه تلاش كرتاهے اور پھر وه بڑي بڑي ترقيوں تك پهنچتا هے۔ انسان كے اندر اگر يه خصوصيت نه هوتي تو انساني تهذيب (human civilization) پوري كي پوري غير دريافت شده حالت ميں پڑي رهتي۔
خود آئن ا سٹائن كے بارے ميں بتايا جاتا هے كه اپني عمر كے آخري 30 سال كے دوران وه ايك سوال كا سائنسي جواب پانے كي كوشش كرتا رها، مگر وه اِس ميں كامياب نه هوسكا۔ يه سوال آئن اسٹائن كے الفاظ ميں، يوني فائڈ فيلڈ تھيوري (unified field theory)كي دريافت هے۔ سائنسي اعتبار سے يه سوال اتنا زياده اهم هے كه آج وه تمام نظرياتي سائنس دانوں كي توجه كا مركز بنا هوا هے۔ اب اِس سوال كو عام طورپر تھيوري آف ايوري تھنگ (Theory of Everything)كهاجاتا هے۔
other sourceWords of another person or source
يه ’تھيوري آف ايوري تھنگ‘ كيا هے۔ يه دراصل ايك ايسا رياضياتي فارمولا دريافت كرنا هے جو تمام كائناتي مظاهر كي سائنسي توجيهه كرسكے۔ تھيوري آف ايوري تھنگ كا مطلب هے
Theory that explains everything.
ايك سائنسي اداره (European Organization for Nuclear Research) كے تحت سوئزر لينڈ ميں ايك پروجيكٹ قائم كياگيا۔ اسكا نام يه تھا— لارج هيڈرون كولائڈر (Large Hadron Collider)۔ يه پروجيكٹ 1998 ميں قائم كيا گيا۔ اِس پروجيكٹ پر ايك سو ملين ڈالر خرچ هوئے۔ اِس ميں دنيا كے ايك سو ملك اور دس هزار سائنس دانوں اور انجينئروں كا تعاون شامل تھا۔ اگر چه يه پروجيكٹ كامياب نه هوسكا، تاهم اس كا مقصد بھي يهي تھا كه ’تھيوري آف ايوري تھنگ‘ كو دريافت كياجائے۔
’تھيوري آف ايوري تھنگ، يا زياده درست طورپر، ايكسپلنيشن آف ايوري تھنگ كي تلاش پر تقريباً 90 سال گزر چكے هيں، مگر اِس معاملے ميں سائنس دانوں كو كاميابي حاصل نه هوسكي۔ اِس كا سبب يه هے كه مظاهرِ كائنات كي توجيهه خدا كے وجود كو مان كر حاصل هوتي هے۔ كوئي رياضياتي فارمولا كبھي اِس كا جواب نهيںبن سكتا۔ رياضياتي فارمولے ميں اِس سوال كا جواب تلاش كرنا ايسا هي هے جيسے پياس كو بجھانے كے ليے پاني كے سوا كسي اور چيز كو اس كا ذريعه بنانے كي كوشش كرنا۔
سائنس اور عقيدهٔ خدا
1927 ميں بلجيم كے ايك سائنس داں جارجز ليمٹري (Georges Lemaitre) نے بگ بينگ كا نظريه پيش كيا۔اِس نظريے پر مزيد تحقيق هوتي رهي، يهاں تك كه اِس كي حيثيت ايك مسلّمه واقعه كي هوگئي۔ آخر كار 1965 ميں بيگ گراؤنڈ ريڈي ايشن (background radiation) كي دريافت هوئي۔ اِس سے معلوم هوا كه كائنات كے بالائي خلا ميں لهر دار سطح پائي جاتي هيں۔ يه بگ بينگ كي شكل ميں هونے والے انفجار كي باقيات هيں۔ اِن لهروں كو ديكھ كر ايك امريكي سائنس داں جويل پرائميك (Joel Primack) نے كها تھا كه — يه لهريں خدا كے هاتھ كي تحرير هيں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The ripples are no less than the handwriting of God.
(تفصيل كے ليے ملاحظه هو، راقم الحروف كي كتاب ’عظمتِ اسلام‘، صفحه 33)
other sourceWords of another person or source
جارج اسموٹ 1945 ميں پيداهوا۔ وه ايك امريكي سائنس داں هے۔ اس نے 2006 ميں فزكس كا نوبل پرائز حاصل كيا۔ يه انعام اُن كو ’كاسمك بيك گراؤنڈ ايكسپلورر، كے ليے كام كرنے پر دياگيا۔ 1992 ميں جارج اسموٹ نے يه اعلان كيا كه بالائي خلا ميں لهردار سطحيںپائي جاتي هيں۔ يه بگ بينگ كي باقيات هيں۔ اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر اِن الفاظ ميں بيان كيا تھا — يه خدا كے چهرے كو ديكھنے كے مانند هے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
George Fitzgerald Smoot III (born February 20, 1945) is an American astrophysicist, cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was "like seeing the face of God". (God For The 21st Century, Templeton Press, May 2000, 204 pages)
other sourceWords of another person or source
دو عظیم فکری انقلابات
Two Great Intellectual Revolutions
مذہبی نقطۂ نظر سے انسانی تاریخ میں دو بڑے فکری انقلابات پیش آئے ہیں۔ ایک انقلاب وہ جو اپنی آخری صورت میں ساتویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ اِس انقلاب کے ہیرو وہ لوگ تھے جن کو اسلامی تاریخ میں ’اصحابِ رسول‘ کہاجاتا ہے۔ دوسرا فکری انقلاب لانے والوں کو حدیث میں ’اخوانِ رسول‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اصحاب رسول نے شرک (polythiesm) کے فکری غلبہ کو ختم کیا تھا اور توحید (monotheism) کے بند دروازوں کو کھولا تھا۔ اخوانِ رسول کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موجودہ زمانے میں الحاد کے فکری غلبہ کو ختم کرکے دوبارہ توحید کو اس کا غالب مقام عطا کریں۔
اسلام کے مطابق، امت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کو خصوصی تاریخی درجہ حاصل ہے— اصحابِ رسول، اور اخوانِ رسول۔ یہ دونوں پُراسر ار الفاظ نہیں ہیں اور نہ کسی پر اسرار فضیلت کی بنا پر اُن کویہ امتیازی درجہ عطا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں گروہ اسلام کی تاریخ میں دو بڑے کارنامے انجام دیں گے۔ اِسی کارنامے کی بنا پر وہ بڑا درجہ پائیں گے اصحابِ رسول کے کارنامے کا تعلق، اسلام کے دورِ اول سے ہے، اور اخوانِ رسول وہ لوگ ہیں جو اسلام کے دورِ آخر میں اپنا کارنامہ انجام دیں گے۔
اصل یہ ہے کہ تاریخ کے دو دور ہیں۔ پہلا، دورِ شرک اور دوسرا، دورِ الحاد۔ قدیم بادشاہت کے زمانے میں شرک کو ریاستی مذہب (state rligion) کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اِس بنا پر قدیم زمانے میں مذہبی جبر (religious persectution) کے حالات پیدا ہوئے۔ اصحابِ رسول نے یہ کیا کہ غیر معمولی جدوجہد اور قربانی کے ذریعے شرک کا رشتہ سیاسی اقتدار سے منقطع کردیا اور اِس طرح شرک کو مکمل طورپر ایک بے زور عقیدہ بنا دیا، اصحابِ رسول کا یہی وہ غیر معمولی عمل تھا جس کی بنا پر دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا دور آیا اور شرک محض ایک بے زور شخصی عقیدہ بن کر رہ گیا۔
بعد کے زمانے میں ایک نیا فتنہ پیداہوا جس کو سائنسی الحاد کہاجاسکتا ہے۔ الحاد (atheism) ہمیشہ سے دنیا میں پایا جاتا رہا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں ملحد مفکرین کو یہ موقع ملا کہ وہ بظاہر سائنسی دلائل کے ذریعے الحاد کو نئی طاقت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں۔ مثال کے طورپر ڈارون ازم (Darwinism) کو الحاد کی حمایت میں سائنسی دلیل کے طورپر پیش کرنا۔
موجودہ زمانے کا سائنسی الحاد اصلاً سائنسی الحاد نہیں ہے، بلکہ وہ مغالطہ آمیز قسم کے بظاہر سائنسی دلائل کی بنیاد پر الحادی فکر کی عمارت کھڑی کرنا ہے۔ اب اُن لوگوں کو اخوانِ رسول کا درجہ ملے گا جو اِس فریب کا پردہ چاک کریں اور الحاد کا رشتہ مفروضہ دلائل سے منقطع کردیں اور اِس طرح الحاد کو بے دلیل اور علمی اعتبار سے بے وزن بنا دیں۔
پچھلے دور میں اصحابِ رسول نے جو کارنامہ انجام دیا، اُس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سیکڑوں سال کے عمل کے دوران مخصوص تاریخی حالات پیدا کیے تھے۔ یہ تاریخی حالات وہ مواقع تھے جن کو اصحاب رسول نے سمجھا اور اُن کو دانش مندانہ طورپر استعمال کرکے مطلوب انقلاب برپا کیا۔ اِسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کے ذریعے جو فکری انقلاب واقع ہوگا، اس کے لیے ضروری مواقع بھی خدا کی طرف سے پیدا کیے جانے والے ہیں۔ اخوانِ رسول کا کام بھی یہی ہے کہ وہ اپنے دور میں پیدا ہونے والے مواقع کو سمجھیں اوراُن کو دانش مندانہ طورپر استعمال کرکے اُس تاریخی عمل کو انجام دیں جس کو ظہور میں لانا اُن کے لیے مقدر کیاگیا ہے۔ ذیل میں دوسرے دور کے حالات کا مختصر طورپر ذکر کیا جاتاہے۔
جدید الحاد
الحاد (atheism) کوئی نیا ظاہرہ نہیں۔ قدیم زمانے میں بھی کسی نہ کسی صورت میں الحادی فکر پایا جاتا رہا ہے۔ لیکن قدیم زمانے میں الحاد کے لیے کوئی فکری بنیاد (rational base) موجود نہ تھی۔اِس لیے قدیم زمانے میں الحاد کو زیادہ فروغ حاصل نہ ہوسکا۔
موجودہ زمانے میں جب سائنسی تحقیقات سامنے آئیں تو دورِ جدید کے ملحدین نے محسوس کیا کہ وہ سائنسی تحقیقات کو اپنے حق میں ایک علمی ثبوت کے طورپر استعمال کرسکتے ہیں۔ اِس طرح وہ فلسفہ وجود میں آیا جس کو سائنسی فلسفہ (scientific philosophy) کہاجاتا ہے۔ سائنسی فلسفہ کیا ہے۔ سائنسی فلسفہ دراصل مبنی بر سائنس الحاد (science-based atheism) کا دوسرانام ہے۔ اِس طرح بیسویں صدی عیسوی میں بہت سے فلسفی اٹھے جنھوں نے سائنسی تحقیقات کو ملحدانہ فلسفے کے حق میں استعمال کیا۔ اِس طرح وہ جدید الحاد وجود میں آیا جس کو سائنسی الحاد کہاجاسکتاہے۔ اِس موضوع پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں ہیں۔ بطور مثال یہاں صرف ایک کتاب کا نام درج کیا جاتا ہے
Julian Huxley, Religion Without Revelation
سائنسی الحاد، خالص منطقی اعتبار سے، ایک غیر علمی الحاد ہے۔ سائنسی الحاد کے داعیوں نے غیر علمی طورپر سائنسی حقیقتوں کو اپنے حق میں پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ چنانچہ اِسی زمانے میں ایک اور طبقہ پیدا ہوا جو نسبتاً زیادہ سنجیدہ تھا۔ وہ سائنسی حقائق کے غیر علمی استعمال کے خلاف تھا۔ اِس دوسرے طبقے نے کوشش کی کہ سائنسی حقائق کو اس کے صحیح تناظر (perspective) میں پیش کیا جائے۔ یہ دوسرا طبقہ اپنے اعلان کی حد تک مذہبی نہیں تھا، وہ بظاہر سیکولر تھا۔ لیکن اُس نے یہ اہم کام انجام دیا کہ اس نے جدید ملحدین کو خالص علمی اعتبار سے مکمل طورپر رد کردیا۔ اِس معاملے کے چند خاص پہلو ہیں۔
1 ۔ اُس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جدید سائنس (physical science) نے اپنا میدان تمام تر مادّی اشیاء کی تحقیق کو بنایا۔ اِس کے نتیجے میں بڑی بڑی مادی حقیقتیں دریافت ہوئیں اور مادی نظریات قائم ہوئے۔ اِس صورتِ حال کو استعمال کرتے ہوئے جدید ملحدین نے یہ کیا کہ انھوں نے سچائی کی مادّی تعبیر (material interprtation of truth) کا نظریہ وضع کیا۔ انھوں نے يه ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ حقیقت وہی ہے جو مادی اصطلاحوں میں بیان کی جاسکے، جو چیز مادی اصطلاحوں میں بیان نہ کی جاسکے، وہ حقیقت بھی نہیں۔ اِس نظریے کے رد میں کئی مفکرین نے قیمتی کتابیں لکھیں۔ بطور مثال ایک کتاب کا نام یہ ہے
Bertrand Russel, Human Knowledge
2 ۔ اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ فزیکل سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ دنیا میں جوواقعات ہوتے ہیں، ان کے پیچھے کوئی سبب کارفرما ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کو گرم کرنے سے اسٹیم کا وجود میں آنا۔ سائنس کے اس پہلو کو لے کر وہ الحاد موافق نظریہ وضع کیاگیا جس کو اصولی تعلیل (principle of causation) کہاجاتا ہے۔ اِس نظریے کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ ہماری دنیا میں جو واقعات وجود میں آتے ہیں، وہ کسی مادی سبب کا نتیجہ ہوتے ہیں، نہ کہ کسی خالق کی کارفرمائی کا نتیجہ۔ اِس نظریہ کی تردید میں متعدد قیمتی کتابیں لکھی گئیں۔ مثال کے طورپر اُن میں سے ایک کتاب کا نام یہاں درج کیا جاتا ہے
James Jeans, The Mysterious Universe
3 ۔ اِس معاملے میں غالباً سب سے زیادہ گم راہ کن رول چارلس ڈارون کا ہے۔ اس نے حیاتیاتی نمونوں کے مطالعے کے دوران یہ پایا کہ مختلف حیاتیاتی نمونوں کے درمیان مشابہت (similarity) پائی جاتی ہے۔ اِس کو لے کر اس نے یہ دعویٰ کیا کہ تمام ذی حیات اشیاء ایک ہی مشترک اصل سے نکلی ہیں۔ یہ تصور نظریۂ ارتقا(theory of evolution) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نظریہ جدید دور میں بہت زیادہ پھیلا۔ اس کے بارے میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں، یہاں تک کہ جدید علمی حلقے میں اس کو عمومی مقبولیت (general acceptance) حاصل ہوگئی۔
اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ نظریہ تمام تر علمی مغالطے پر قائم ہے۔ چنانچہ اس کے بارے میں سیکولر علما نے تحقیق کی اور اِس نظریے کی تردید میں متعدد قیمتی کتابیں شائع ہوئیں۔ مثال کے طورپر اُن میں سے ایک کتاب کا نام یہ ہے
Lunn, Revolt Against Reason
دورِ جدید کے یہ اہلِ علم جن کو ہم نے سیکولر اہلِ علم کہا ہے، انھوں نے بہت بڑا تائیدی رول انجام دیا ہے۔ قدیم زمانے میں بہت سے لوگوں نے عظیم تائیدی رول انجام دیا تھا۔ انھوں نے وہ مواقع پیدا کیے تھے جن کو استعمال کرکے اصحابِ رسول نے شرک کے رد اور توحید کے اثبات کا تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ اِسی طرح موجودہ زمانے کے مذکورہ سیکولر اہلِ علم نے ایک عظیم تائیدی رول ادا کیا ہے۔ انھوں نے وہ مواقع پیدا کیے ہیں جن کو استعمال کرکے دوبارہ الحاد کے رد اور توحید کے اثبات کا مطلوب عمل انجام دیا جاسکے۔ بعد میں آنے والے جس گر وہ کو حدیث میںاخوانِ رسول کہاگیا ہے، اُس کا کام غالباً یہی ہوگا کہ وہ جدید مواقع کو پہچانے اوران کو دانش مندانہ استعمال کے ذریعے دوبارہ الحاد کی تردید اور توحید کے اثبات کا مطلوب کارنامہ انجام دے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
سائنس الحاد کی تردید
جیسا کہ اوپر عرض کیاگیا، قدیم زمانے میں یہ مطلوب تھا کہ شرک کو رد کرکے توحید کا اثبات کیا جائے۔ یہ کارنامہ اصحابِ رسول نے اپنی کامل صورت میں ساتویں صدی عیسوی میں انجام دیا۔ انھوں نے اپنے زمانے میں پیدا شدہ مواقع کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس نے انسانی تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا مؤثر آغاز کیا۔ یہ عمل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک، نظریاتی بنیاد (ideological base) سے محروم ہوگیا۔ اب وہ صرف ایک بے روح رسم کے طورپر کچھ توہم پسند لوگوں میں باقی ہے، عملی اعتبار سے وہ ایک زندہ قوت کے طورپر کہیں موجود نہیں۔
یہی معاملہ الحاد کا ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں الحاد بظاہر سائنسی دلائل کے زور پر ابھرا تھا۔ لیکن جلد ہی خود سیکولر حلقے میں ایسے مفکرین پیدا ہوئے جنھوں نے عملی طورپر الحاد کی بظاہر اِس سائنسی بنیاد کو ڈھا دیا اور حقیقت کے اعتبار سے الحاد کو ایک بے دلیل نظریے کی حیثیت دے دی۔ اِس طرح موجود زمانے میں دوبارہ مکانی طورپر وہ موافق حالات پیدا ہوئے ہیں جن کو لے کر کچھ لوگ الحاد کو مکمل طورپر رد کردیں اور اس کے بجائے توحید کو ایک ثابت شدہ نظریہ بنادیں، اور اِس طرح وہ اُس رول کو انجام دیں جس کو اخوانِ رسول کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔
یہ حالات پیدا ہوچکے تھے اور میں اکثر ان کے بارے میں غور کرتا تھا۔ آخر کار 1963 میں ایک واقعہ پیش آیا جو میرے لیے گویا کہ ایک رہنما واقعے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِس واقعے کا ذکر میں نے اپنی کتاب ’’ظہورِ اسلام‘‘ کے آغاز میں اس طرح کیا ہے
’’ستمبر 1963 کی 21 تاریخ تھی۔ راقم الحروف ندوہ (لکھنؤ) کی مسجد میں تھا اور ظہر کی سنتیں پڑھ کر جماعت کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ذہن میں خیال گھوم رہا تھا کہ اسلام کے تعارف کے لیے آج ایک ایسی کتاب کی ضرورت ہے جو وقت کی زبان اور اسلوب میں لکھی گئی ہو اور جدید انسان کو مطالعہ کے لیے دی جاسکے۔ ’’کاش اللہ تعالیٰ مجھے اِس کتاب کے لکھنے کی توفیق دے‘‘ یہ تمنا بے ساختہ دعا کی شکل میں میری زبان سے نکلی اور اس کے بعد یکایک یہ انگریزی لفظ میری زبان پر تھا
God Arises
یہ گویا کتاب کا نام تھا جو اچانک میرے ذہن میں وارد ہوا۔ اس سے پہلے کبھی یہ فقرہ میرے ذہن میں نہیں آیا تھا، حتی کہ کتاب کے نام کی حیثیت سے اس کی معنویت بھی اُس وقت پوری طرح واضح نہ تھی۔ شام کو عصرکی نماز کے بعد میں حسب معمول لکھنؤ کی نریندر لائبریری گیا جو ندوہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر کی لغت میں لفظ Arises کے استعمال دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Let God arise, let His enemies be scattered.
Let them also that hate Him flee before Him.
As smoke is driven away, so drive them away;
As wax metlteth before the fire, so let
the wicked perish at the presence of God
خدا اٹھے، اس کے دشمن تتر بتر ہوں۔ وہ جو اس کا کینہ رکھتے ہیں، اس کے حضور سے بھاگیں، جس طرح دھوں پراگندہ ہوتا ہے، اسی طرح تو انھیں پراگندہ کر۔ جس طرح موم آگ پر پگھلتا ہے، شریر خدا کے حضور فنا ہوں‘‘۔
Qur'anQuotes the Qur'an
یہ میرے لیے ایک انسپریشن (inspiration)تھا۔ یہ گویا ایک قسم کا الہامی تجربہ تھا جو مسجد کے اندر اذان اور اقامت کے درمیان پیش آیا۔ اِس پر غور کرنے کے بعد میں نے سمجھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارہ ہے، تاکہ میں پیدا شدہ جدید علمی مواقع کا جائزہ لوں اوراُن کو الحاد کی تردید اور توحیدکے علمی اثبات کے لیے استعمال کروں۔ یہ گویا سیکولر اہلِ علم کے پیدا کردہ علمی امکانات کو اسلامائزکرنا تھا۔ اور جدید دور میں اظہارِ دین کے اُس علمی واقعے کو بروئے کار لانا تھا جس کے امکانات وقوع میں آچکے ہیں، لیکن ابھی ان کو استعمال نہ کیا جاسکا۔
اِس موضوع پر میں پہلے بھی کام کر رہا تھا۔ لیکن مذکورہ تجربے کے بعد میرے شعور میں ایک نئی بیداری آئی اور میں اِس قابل ہوگیا کہ زیادہ حوصلے کے ساتھ اِس علمی خدمت کو انجام دوں۔ آخر کار، طویل کوشش کے بعد وہ کتاب وجود میں آئی جو مذکورہ تجربے کی روشنی میں گاڈ ارائزز (God Arises) کے نام سے 1985 میں شائع ہوئی۔ اِس سے پہلے یہ کتاب اردو اور عربی زبان میں چھپ چکی تھی۔ لیکن مذکورہ انگریزی ایڈیشن مزید اضافے کے ساتھ اس کا زیادہ جامع ایڈیشن تھا۔
اِس کے بعد یہی موضوع (modern challenges to Islam) میرا مستقل موضوع بن گیا۔ اس کے بعدمضامین اور کتابوں کی شکل میں میری سیکڑوں کوششیں مختلف زبانوں میں شائع ہوئیں۔ میری اِن تمام تحریروں کا موضوع مشترک طورپر صرف ایک تھا، اور وہ هے — اسلام اور عصری تحدیات۔ اِس كے بعد براہِ راست یا بالواسطہ طورپر یہی میری زندگی کا مستقل موضوع بن گیا۔
خدا کا وجود
آج کی شام کے لیے جو موضوع ہے، وہ یہ ہے— خدا کی دریافت کس طرح کی جائے
How to discover God?
خدا کی دریافت کا معاملہ کوئی اکیڈمک معاملہ نہیں، یہ ہر انسان کا ایک ذاتی سوال ہے۔ ہر عورت اور مرد فطری طورپر اُس ہستی کو جاننا چاہتے ہیں جس نے اُن کو وجود دیا۔ میں بھی دوسروں کی طرح، اِس سوال سے دوچار ہوا ہوں۔ میری پیدائش ایک مذہبی ماحول میں ہوئی۔ اِس کے اثر سے میں روایتی طورپر خدا کو ماننے لگا۔ بعد کو جب میرے شعور میں پختگی (maturity) آئی تو میں نے چاہا کہ میں اپنے اِس عقیدے کو ریزن آؤٹ (reason out) کروں۔ اِس معاملے کی تحقیق کے لیے میں نے تمام متعلق علوم کو پڑھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خدا کا موضوع تین علمی شعبوں سے تعلق رکھتا ہے— فلسفہ، سائنس اور مذہب۔ یہاں میں فلسفہ اور سائنس کی نسبت سے اپنے کچھ تجربات بیان کروں گا۔
سب سے پہلے مجھے فلسفہ میں اِس سوال کا ایک جواب ملا۔ مطالعہ کے دوران میں نے فرانس کے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ (وفات1650 ) کو پڑھا۔ وہ انسان کے وجود کو ثابت کرنا چاہتا تھا۔ اُس نے کہا کہمیں سوچتا ہوں، اِس لیے میں ہوں(I think, therefore I am)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ڈیکارٹ کا یہ فارمولا جس طرح انسان کے وجود پر منطبق ہوتا ہے، اُسی طرح وہ خدا کے وجود کے لیے بھی قابل انطباق (applicable)ہے۔ میں نے اِس قول پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ — انسان کا وجود خدا کے وجود کو قابل فہم بناتاہے
Existence of man makes the existance of God understandable.
خدا کے وجود کے بارے میں یہ میرا پہلا فلسفیانہ استدلال تھا۔ میں نے کہا کہ— میرا وجود ہے، اِس لیے خدا کا بھی وجود ہے (I am, therefore God is) ۔
فلسفہ کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تقریباً تمام فلسفی کسی نہ کسی طورپر ایک برتر ہستی کا اقرار کرتے تھے۔ اگر چہ انھوںنے ’’خدا‘‘ کا لفظ استعمال کرنے سے احتراز کیا، لیکن کچھ دوسرے الفاظ بول کر وہ خدا جیسی ایک ہستی کی موجودگی کا اعتراف کرتے رہے۔ مثلاً جرمنی کے مشہور فلسفی فریڈرک ہیگل (وفات1831) نے اِس برتر ہستی کو ورلڈ اسپرٹ (world spirit) کا نام دیا، وغیرہ۔
اِس کے بعد میںنے چاہا کہ میں سائنسی طریقِ استدلال (scientific method) کے ذریعے اِس معاملے کی تحقیق کروں۔سائنسی مطالعہ میں جو مسلّمہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے، وہ مشاہدات پر مبنی ہوتاہے۔ مگر اس مشاہداتی استدلال کے دو دورہیں۔ سائنس کا مطالعہ جب تک عالمِ کبیر (macro world) تک محدود تھا، اُس وقت تک اِس استدلال کا صرف ایک طریقہ رائج تھا۔ لیکن جب سائنس کا مطالعاتی سفر عالمِ صغیر (micro world) تک پہنچ گیا تو اِس استدلال میں ایک تبدیلی واقعہ ہوئی۔ وہ یہ کہ پہلے اگر مشاہداتی استدلال (observational argument) کو درست مانا جاتا تھا، تو اب استنباطی استدلال (inferential argument)کو بھی یکساں طورپر درست (valid) مانا جانے لگا، یعنی پہلے اگر آرگومینٹ فرام سین ٹو سین (argument from seen to seen) کا اصول رائج تھا تو اب آرگومینٹ فرام سین ٹو اَن سین (argument from seen to unseen) کا اصول بھی درست استدلال کی حیثیت سے تسلیم کرلیاگیا۔ اِن دونوں طریقوں کو فنی زبان میں اِس طرح بیان کیا جاسکتاہے
1. Observation, hypothesis, verification
2. Hypothesis, observation, verification
ایک سادہ مثال سے اس معاملے کی عملی وضاحت ہوتی ہے۔ مثلاً آپ سیب کو شمار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کہتے ہیں — دو سیب جمع دو سیب، برابر چار سیب۔ یہ مشاہداتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ دوسرے استدلال کی مثال یہ ہے کہ نیوٹن (وفات1727) نے دیکھا کہ ایک سیب درخت سے گر کر نیچے آیا۔ یہ ایک مشاہدہ تھا۔ اُس نے سوچنا شروع کیا کہ سیب درخت سے ٹوٹ کر اوپر کیوں نہیں گیا، وہ نیچے کیوں آگیا۔ اِس سوچ کے بعد وہ ایک استنباط تک پہنچا، وہ یہ کہ زمین میں قوتِ کشش ہے۔ اِس کے بعد اس نے دوسرے متعلق شواہد (relevant data) کا جائزہ لیا تو اِس بات کی تصدیق ہوگئی کہ اس کا استنباط درست (valid) تھا۔سائنسی میتھڈالوجی کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ یہاں میں ایک کتاب کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ مشہور برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات1970 ) کی کتاب ہیومن نالج (Human Knowledge) ہے۔ اِس کتاب میں مصنف نے بتایا ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں— چیزوں کا علم، سچائیوں کا علم
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Knowledge of things, knowledge of truths
چیزوں کی دریافت میں مشاہداتی طریقِ استدلال کار آمد ہے، لیکن خدا کے وجود کا معاملہ سچائی کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس لیے اس معاملے میں وہی استدلال قابل انطباق ہے جس کو استنباطی استدلال (inferential argument) کہاجاتاہے۔
غالباً 1965 کی بات ہے، میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ہوئی۔ وہ فلسفہ کے پروفیسر تھے۔اُن سے خدا کے وجود کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھو ںنے ایک سوال کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کرائٹیرین کیا ہے
What criterion do you have to prove the existence of God.
میں نے جواب دیا کہ— وہی کرائٹیرین جو آپ کے پاس اِس نوعیت کی کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے ہو(Same criterion that you have to prove anything else)۔
اِس کے بعد میں نے اُن کے سامنے مذکورہ طریقِ استدلال کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ خدا کے وجود کا معاملہ سچائی (truth) کے موضوع سے تعلق رکھتاہے۔ آپ سچائی کی نوعیت کی کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے جس کرائٹیرین کو استعمال کرتے ہیں، اُسی کرائٹیرین کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیجیے، اور پھر آپ جان لیںگے کہ خدا کا وجود بھی اُسی علمی معیار سے ثابت ہوتاہے، جس علمی معیار سے اِس نوعیت کی دوسری چیزیں ثابت ہورہی ہیں۔
سنجیدہ اہلِ علم نے اِس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ مثلاً برٹرینڈ رسل نے اعتراف کیا ہے کہ تھیالوجین عام طورپر خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے وہ طریقہ استعمال کرتے ہیں جس کو ڈزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق، یہ طریقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے پورے معنوں میں سائنسی منطق (scientific logic) پر مبنی ہے۔ اِس لیے یہ استدلال اصولی طورپر اتنا ہی حقیقی ہے، جتنا کہ کوئی دوسرا سائنسی استدلال۔ اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Where there is design, there is designer and when designer is proved, the existence of God is also proved.
اشیا کا سائنسی مطالعہ 1609 میں شروع ہوا ، جب کہ اطالوی سائنس داں گلیلیو (وفات 1642) نے ابتدائی دور بین (telescope) کے ذریعے ستاروں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد دور بینی مشاہدے میں مزید ترقی ہوئی، یہاں تک کہ 1949 میں پیلومر آبزرویٹری (کیلی فورنیا) قائم ہوئی جس کے ذریعے زیادہ بڑے پیمانے پر آسمانی مشاہدہ ممکن ہوگیا۔ اِس کے بعد الیکٹرانک دور بین ایجاد ہوئی جس کو 1990 میں امریکا کی ہبل آبزرویٹری میں نصب کیا گیا۔
اِس قسم کے مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ تقریباً 15 بلین سال پہلے خلا میں بگ بینگ کا واقعہ ہوا جس کے بعد ستاروں اور سیاروں کی موجودہ دنیا وجود میں آئی۔ اِس کے بعد تقریباً ایک بلین سال پہلے لٹل بینگ (little bang) ہوا جس کے ذریعے موجودہ شمسی نظام (solar system) وجود میں آیا۔ اس کے بعد سیارۂ ارض پر واٹر بینگ (water bang) ہوا اور زمین پانی سے بھر گئی۔ اس کے بعد زندگی اور زندگی سے متعلق تمام چیزیں پیدا ہوئیں۔
بگ بینگ کے واقعہ کے مزید مطالعے کے لیے 1989 میں امریکا کے ادارہ ناسا (NASA) نے ایک خصوصی سٹلائٹ (Cosmic Background Explorer) خلا میں بھیجا۔ اِس سٹلائٹ نے بالائی خلاکی جو تصویریں بھیجی ہیں، اُن سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات کے بیرونی حصے میں لہر دار سطح (ripples) موجود ہیں۔ تصویر میں اِن لہروں کو دیکھ کر ایک مغربی سائنس داں بولٹزمن (Boltzmann) نے کہا— وہ کون خدا تھا جس نے یہ نشانیاں لکھ دیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Who was the God who wrote these signs?
یہ بات صرف بگ بینگ سے نکلی ہوئی لہروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ کائنات میںپھیلی ہوئی بے شمار چیزوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایک سنجیدہ انسان جب کائنات کا مطالعہ کرتاہے تو وہ کہہ اٹھتاہے— وہ کون خدا تھا جس نے اِن تمام نشانیوں کو لکھا
Who was the God who wrote all these signs?
کائنات کا جب سائنسی مطالعہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک بے نقص (zero-defect) کائنات ہے۔ وسیع خلا میں بے شمار ستارے اور سیارے مسلسل طورپر حرکت میں ہیں، مگر ہمارے شہروں کے برعکس، خلا میں کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہوتا۔ گویا کہ عظیم خلا میں نہایت وسیع پیمانے پر ایک ایکسڈنٹ فری ٹریفک (accident-free traffic) قائم ہے۔ ہماری زمین پر نیچر روزانہ بہت سے واقعات ظہور میں لارہی ہے۔ یہ گویا ایک عظیم صنعتی نظام ہے۔ مگر یہ نظام زیرو ڈیفیکٹ انڈسٹری (zero-defect industry) کی سطح پر چل رہا ہے۔ یہ بے مثال کائناتی کنٹرول اور یہ آفاقی توازن پکار رہا ہے کہ بلا شبہ اِس کے پیچھے ایک عظیم خدا ہے جو اِن واقعات کو ظہور میں لارہا ہے۔
کائنات میں واضح طورپر ایک ذہین منصوبہ بندی (intelligent planning) پائی جاتی ہے۔ ایک چھوٹے ذرے سے لے کر عظیم کہکشانی نظام تک یہ منصوبہ بندی نمایاں طورپر ہمارے مشاہدے میںآتی ہے۔ یہ منصوبہ بندی بلا شبہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ اِس کائنات کے پیچھے ایک بہت بڑا ذہن (mind) کار فرما ہے یہ عقیدہ اتنا ہی سائنسی ہے، جتنا کہ ایکس رے کی قابلِ مشاہدہ تصویر کو دیکھ کر ناقابلِ مشاہدہ ایکس ریز (X-Rays) کے وجود کو ماننا۔
موجودات کے مشاہدے سے ایک عظیم حقیقت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اُس میں جگہ جگہ یکسانیت کے ساتھ استثنا (exception amidst uniformity) کی مثالیں موجود ہیں۔ استثنا (exception) اُس کو کہاجاتاہے جو عام قانون کے خلاف ہو، جو عام قانون کی پابندی نہ کرے
Exception: That does not follow the rule
نیچر میں اِس معاملے کی ایک سادہ مثال یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کے ہاتھ میں پانچ انگلیاں ہوتی ہیں۔یہ انگلیاں ہر ایک میں یکساں طورپر ہوتی ہیں۔ لیکن ہر ایک کے ہاتھ میں اس کے انگوٹھے کا نشان (finger print) ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ہر ایک کا نشان دوسرے کے نشان سے الگ ہوتا ہے۔ اِس عموم میں یہ استثنا ایک برتر ہستی کی بالقصد مداخلت کے بغیر ممکن نہیں۔
نیچر میں اِس قسم کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، خلا میں تقریباً 125 بلین کہکشائیں موجود ہیں۔ ہر کہکشاں (galaxy)کے اندر تقریباً 200 بلین ستارے پائے جاتے ہیں۔ لیکن شمسی نظام (solar system) ایک استثنائی نظام ہے جو صرف ہماری اُس قریبی کہکشاں میں پایا جاتا ہے جس کو ملکی وے (milky way) کہا جاتا ہے۔ عظیم کائنات میںیہ استثنا ایک طاقت ور ہستی کی بالقصد مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا
Exception means intervention, and when intervention is proved, intervenor is also proved. And intervenor is only the other name of God.
ہماری کہکشاں جس میں شمسی نظام واقع ہے، وہ اِس نوعیت کی ایک انوکھی مثال ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ اِس کہکشاں کا درمیانی حصہ ناقابلِ برداشت حد تک گرم ہے۔ اگرہمارا شمسی نظام، کہکشاں کے درمیانی حصے میں ہو تو ہماری زمین پر کسی قسم کی زندگی اور نباتات کا وجود ہی ممکن نہ رہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ہمارا شمسی نظام، کہکشاں کے ایک کنارے واقع ہے۔ اِس بنا پر وہ کہکشاں کے پُر خطر درمیانی ماحول کے اثر سے بچا ہوا ہے۔ یہ استثنا واضح طورپر ایک منصوبہ بند مداخلت کا ثبوت ہے، اور منصوبہ بند مداخلت بلا شبہ خدائے برتر کی موجودگی کا ثبوت ہے۔
ہمارے شمسی نظام کے اندر بہت سے سیارے (planets) پائے جاتے ہیں۔ اُنھیں میں سے ایک سیارہ وہ ہے جس کو زمین کہا جاتا ہے۔ دوسرے تمام سیارے اپنے مدار (orbit) پر گھومتے ہیں۔ مگر ہماری زمین اپنے مدار پر گردش کرتے ہوئے اپنے محور (axis) پر بھی گھومتی ہے۔ زمین کی یہ دہری گردش (double rotation) ایک انتہائی استثنائی گردش ہے جو کسی بھی ستارے یا سیارے میں نہیں پائی جاتی۔ یہ استثنا اِس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے ایک ایسے برتر عامل کو تسلیم کیا جائے جس نے اپنی خصوصی مداخلت کے ذریعے یہ با معنیٰ استثنا خلا میں قائم کررکھا ہے۔
ہماری زمین پر استثنا کی ایک ایسی انوکھی مثال پائی جاتی ہے، جو ساری کائنات میںکہیں بھی موجود نہیں، یہ لائف سپورٹ سسٹم (life support system) ہے۔ اِس لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر زمین پر انسان کا یا کسی اور نوعِ حیات کا وجود ممکن نہ تھا۔ لائف سپورٹ سسٹم کا یہ استثنائی انتظام خدا کی موجودگی کا ایک ایسا ثبوت ہے جس کا انکار کوئی سنجیدہ انسان نہیں کرسکتا۔
البرٹ آئن سٹائن (وفات1955) کو بیسویں صدی عیسوی کا سب سے بڑا سائنسی دماغ مانا جاتا ہے۔ آئن سٹائن نے کائنات کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اُس نے کائنات کے ہر حصے میں حیرت ناک حد تک معنویت (meaning) پائی۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا کہ— عالم فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ وہ قابلِ فہم ہے
The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible.
آئن سٹائن اپنے اِس قول میں بالواسطہ طورپر خدا کے وجود کا اقرار کررہا ہے۔ اگر اس کے قول کو بدل کر کہاجائے تو وہ اِس طرح ہوگا کہ— خدا کے بغیر عالمِ فطرت مکمل طورپر ناقابلِ فہم رہتاہے، اور خدا کے ساتھ عالمِ فطرت مکمل طور پر قابلِ فہم بن جاتا ہے
Without God, nature is totally incomprehensible, and with God, nature becomes totally comprehensible.
کائنات بلاشبہ ایک بامعنی کائنات (meaningful world) ہے۔ سائنس داں وہ لوگ ہیں جو کائنات کا نہایت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ عام انسان کے مقابلے میں کائنات کی معنویت سے بہت زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ سائنس دانوں نے عام طورپر اس کا اعتراف کیا ہے۔ سائنس داں اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر ’’خدا‘‘ (God) کا لفظ بولنے سے احتراز کرتے ہیں۔ لیکن نام کے بغیر وہ اِس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔
مثلاً سر جیمز جینز (وفات1947)نے اپنی کتاب (The Mysterious Universe) میں کہا ہے کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) کی شہادت دیتی ہے۔ برٹش عالمِ فلکیات سرفریڈ ہائل (وفات2001) نے اس حقیقت کا اعتراف یہ کہہ کر کیا ہے کہ ہماری کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ امریکی سائنس داں پال ڈیویز (Paul Davis) نے اقرار کیا ہے کہ کائنات کے پیچھے ایک باشعور ہستی (conscious being) موجود ہے۔ برٹش سائنس داں سر آرتھر اڈنگٹن (وفات1944) نے اِس حقیقت کا اعتراف یہ کہہ کر کیا ہے کہ کائنات کا مادّہ ایک ذہین مادہ ہے
other sourceWords of another person or source
The stuff of the world is mind-stuff
خدا کاوجود بلا شبہ اُس طرح ایک ثابت شدہ واقعہ ہے جس طرح کوئی اور ثابت شدہ واقعہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا وجود صرف ایک پُر اسرار عقیدہ کی بات نہیں، خدا کا وجود اُس طرح ایک علمی مسلّمہ ہے جس طرح کوئی اور علمی مسلّمہ۔ اب یہ سوال ہے کہ خدا ایک ہے یا کئی خدا ہیں جوکائنات کی تخلیق اور اس کے انتظام کے ذمّے دار ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خدا کا عقیدہ شرک پر مبنی ہے یا توحید پر۔ اِس معاملے میں علم کا فیصلہ مکمل طورپر توحید کے حق میں ہے۔
برٹش سائنس داں نیوٹن کو جدید سائنس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ نیوٹن سے پہلے دنیا میں توہمات (superstitions)کا زور تھا۔اُس وقت یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ خداؤں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مثلاًسن گاڈ (sun god)، مون گاڈ(moon god)، رین گاڈ (rain god) ، وغیرہ۔ نیوٹن نے اِس معاملے کا سائنسی مطالعہ کیا۔ اُس نے کہا کہ چار طاقتیں (forces) ہیں جو کائنات کے نظام کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ چار طاقتیں یہ ہیں
1 ۔ قوتِ کشش (gravitational force)
2 ۔ برقی مقناطیسی قوت(electromagnetic force)
3 ۔ طاقت ور نیوکلیر قوت (strong nuclear force)
4 ۔ کم زورنیو کلیر قوت (weak nuclear force)
مگر سائنسی مطالعے کے ذریعے جو دنیا دریافت ہوئی، اُس میں اتنی زیادہ ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی تھی کہ یہ ناقابلِ تصور تھا کہ اتنی زیادہ ہم آہنگ کائنات کو کئی طاقتیں کنٹرول کررہی ہوں۔ اِس لیے سائنسی ذہن اِس تعدّد پر مطمئن نہ تھا۔ مختلف سائنس داں اِس تعداد کو گھٹانے کے لیے کام کررہے تھے، یہاں تک کہ 1979 میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی۔ اِس تحقیق کے مطابق، کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں چار نہیں تھیں، بلکہ وہ صرف تین تھیں۔ اِس دریافت تک پہنچنے والے تین نوبل انعام یافتہ سائنس داں تھے۔ اُن کے نام یہ ہیں
Sheldon Glashow (b. 1932), Steven Weingberg (b. 1933)
Dr. Abdussalam (d. 1996)
تاہم سائنسی ذہن تین کی تعداد پر بھی مطمئن نہ تھا۔ وہ اِس تعداد کو مزید گھٹا کر ایک تک پہنچانا چاہتا تھا۔ یہ کام برٹش سائنس داں اسٹفن ہاکنگ (پیدائش 1942) کے ذریعے انجام پایا۔ اسٹفن ہاکنگ کو نظریاتی سائنس میں سب سے بڑا زندہ سائنس داں مانا جاتا ہے۔ اس نے پیچیدہ ریاضیاتی حساب (mathemetical calculations) کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ صرف ایک طاقت (force) ہے جو پوری کائنات کو کنٹرول کررہی ہے۔ یہ نظریہ اب تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان ایک مسلّمہ کے طورپر مان لیا گیا ہے۔ عمومی زبان میں اس کو سنگل اسٹرنگ نظریہ (single string theory) کہا جاتاہے۔
سنگل اسٹرنگ نظریہ گویا کہ ایک خدا (توحید ِالٰہ) کے عقیدے کے حق میں ایک سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ وہ مذہبی عقیدے کو علمی مسلمّہ کی حیثیت دے رہا ہے۔ اب خالص سائنس کی بنیاد پر یہ کہاجاسکتا ہے کہ اِس کائنات کا ایک خدا ہے۔ یہ خدا ایک ہے اور صرف ایک
The concept of God is purely a scientific concept, and this God is one and one alone.
نوٹ یہ تقریر انگریزی زبان میں 9 مئی 2009 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) كے ايك پروگرام میں کی گئی۔
سائنس دانوں کا مذہب
سائنس کیا ہے۔ سائنس کے لفظی معنی علم (knowledge) کے ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں سائنس سے مراد وہ شعبۂ علم ہے جس میں منضبط انداز میں عالمِ فطرت کا مطالعہ کیا جاتا ہے
Science: The systematized knowledge of nature and the physical world.
سائنسی علوم میں مطالعے کی بنیاد علم الحساب (mathematics) ہوتا ہے ۔ اِس بنا پر اِن علوم میں قطعی نتائج تک پہنچنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اِس لیے سائنسی علوم کو علومِ قطعیہ (exact sciences) کہاجاتا ہے۔ سائنس داں اِس شعبۂ علم کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ اِس میں اپنے آپ کو مشغول کرتاہے۔ علومِ قطعیہ میں اِس مشغولیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں کے اندر قطعی طرزِ فکر (exact thinking)پیدا ہوجاتی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس دانوں کا ذہن ادیبوں اور شاعروں سے بالکل مختلف ہوتاہے۔ سائنس داں اپنی فکر کے اعتبار سے بے حد حقیقت پسند ہوتا ہے۔ اپنے میدانِ مطالعہ کی بنا پر سائنس داں کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ خیالی انداز میں سوچے، وہ ثابت شدہ حقیقت کا انکار کردے۔ سائنسی مطالعہ ایک سائنس داںکوکامل طورپر ایک سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔
بہت سے اہلِ علم نے اِس معاملے کا مطالعہ مذہب کے زاویۂ نظر سے کیا ہے۔ انھوں نے پایا ہے کہ تمام سائنس داں کسی نہ کسی طورپر اپنے اندر وہ احساس پاتے تھے جس کو مذہبی احساس (religious feeling)کہاجاتا ہے۔ اِس سلسلے میں یہاں دو کتابوں کے نام لکھے جاتے ہیں
Einstein and Religion, by Max Jammer
The God Delusion, by Richard Dawkins
اِس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ کوئی سائنس داں جب فطرت کا مطالعہ کرتا ہے، تو وہ نہایت گہرائی کے ساتھ اِس حقیقت کا ادراک کرتا ہے کہ فطرت کے نظام میں کامل درجے کی معنویت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔سائنس داں کو فطرت کے اِس نظام کے اندر ایک پُراسرارقسم کی طاقت کار فرما نظر آتی ہے۔وہ اپنے آپ کو اِس پوزیشن میں نہیں پاتا کہ وہ اس کی توجیہ کرسکے۔ اس کے باوجود وہ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اِس پُراسرار احساس کو مشہور جرمن سائنس داں آئن اسٹائن نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے— ایک شخص جو فطرت کا مطالعہ کرے، اُس کا سب سے زیادہ خوب صورت تجربہ یہ ہوتاہے کہ فطرت میں گہری پُراسراریت ہے۔ تم مشکل سے کوئی ایسا آدمی پاؤگے جو گہراسائنسی ذہن رکھتا ہو، پھر بھی وہ مذہبی احساسات سے خالی ہو
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The most beautiful experience one may enjoy is a ‘sense of mystery; you will hardly find one among the profounder sort of scientific minds without a ‘religious feeling’ (The Times of India, New Delhi, April 5, 2008, p. 20. Quoted by, Andrew Whitaker, Professor of Physics at Queen’s University, Belfast, Ireland.)
other sourceWords of another person or source
سائنس داں فطرت میں اپنے اِس تجربے کو کاسمک ریلیجن (cosmic religion) سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاہم سائنس داں عام طورپر خدا (God) کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ شخصی خدا (personal God) کے تصور کو ماننا نہیں چاہتے۔ کیوں کہ شخصی خدا کے ساتھ اتھارٹی (authority) کا تصور جڑا ہوا ہے، اور اتھارٹی کے ساتھ انعام اور سزا کا تصور، اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی سائنس داں، یا جدید ذہن ماننے کے لیے تیار نہیں۔
سائنس داں فطرت کے مطالعہ کے دوران ایک حیرت انگیز قسم کے پُراسرار احساس سے دوچار ہوتاہے۔ اِس کو ایک احساسِ استعجاب (sense of awe) کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہی احساس کسی سائنس داں کے لیے سب سے بڑی داخلی طاقت ہوتا ہے۔ آئن اسٹائن کے ایک سوانح نگار نے اس کے بارے میںیہ الفاظ لکھے ہیں— آئن اسٹائن اِس کو کاسمک ریلیجن کہتا ہے۔ فطرت کے نظام میں حیران کُن انضباط کی موجودگی، سائنس داں کے لیے ایک ایسا سوال بنی ہوئی ہے جو اُس کو مذہب جیسی ایک سوچ کی طرف لے جاتی ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He called it ‘cosmic religion’ and it was a sense of awe at the nobility and marvelous order which are reflected in nature and in the world of thought. He believed that throughout history, the greatest religious geniuses have followed cosmic religion, and that exploring this order in the laws of science was the motivation for the most celebrated scientists such as Newton and Kepler. Without this feeling of confidence in order and simplicity, science, he felt degenerated into uninspired empiricism.
سائنس، نیچر کے مطالعے کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں سائنس خدا کی تخلیق کا مطالعہ کرتی ہے۔ اِس مطالعے میں فطری طورپر ایسا ہوتا ہے کہ تخلیقی قوانین میںخالق کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ سائنس داں کا موضوع اگرچہ فطرت کے قوانین کا مطالعہ ہے، لیکن فطرت کو اس کے فاطر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اِس لیے فطرت کے مطالعے کا بالواسطہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں، فطرت کی دریافت کے ساتھ فاطر کے بہت قریب آجاتا ہے۔
تقریباً تمام سائنس دانوں نے بالواسطہ انداز میں خدا کے وجود کا اعتراف کیا ہے۔ سرآیزاک نیوٹن (وفات1727) اور کپلر (وفات1630) نے اس ہستی کو آرڈر (order) کا نام دیا ہے۔ اس کے بعد اسپنوزا (وفات 1677) اور آئن اسٹائن (وفات 1955) نے اس کو کاسمک اسپرٹ(cosmic spirit) بتایا۔ اس کے بعد سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات1944) اور سرجیمز جینز (وفات 1946) نے اس کو ریاضیاتی مائنڈ (mathematical mind) کا نام دیا۔
تاہم غالباً کسی بھی سائنس داں نے اِس خالق کا اعتراف خدا یاپرسنل گاڈ(personal God) کے الفاظ میں نہیں کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سائنس دانوں نے خدا کے وجود کا اعتراف بالواسطہ انداز میں توضرور کیا، لیکن براہِ راست انداز میں خدا کے وجود کا کھلا اعتراف ابھی تک سائنٹفک کمیونٹی کی طرف سے نہیں آیا۔
سائنس کے دوبڑے شعبے ہیں — نظریاتی سائنس (theoretical science) اور عملی سائنس (practical science)۔ خدا کا موضوع نظریاتی سائنس سے تعلق رکھتا ہے۔اِس معاملے میں بد قسمتی سے ایسا ہوا کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں پہنچ کر نظریاتی سائنس میں تحقیق کا کام تقریباً ختم ہوگیا۔ اب صرف انطباقی سائنس (applied science) کے میدان میں تحقیق کا کام ہونے لگا۔ کیوں کہ انطباقی سائنس میں مادّی مفاد(material interest) بہت زیادہ شامل ہوگیا۔
نظریاتی سائنس کے میدان میں مزید بڑا کام کرنے کے لیے نہایت اعلیٰ دماغ درکار ہے۔ صرف ڈگری یافتہ لوگ ایسا نہیں کرسکتے۔ موجودہ زمانے میں اِس قسم کا بڑا سائنسی دماغ صرف ایک ہے، اور وہ برطانیہ کا اسٹفن ہاکنگ (Stephen Hawking) ہے۔ اسٹفن ہاکنگ نے نظریاتی سائنس کے میدان میں عملاً بھی کچھ بڑے کام کیے ہیں۔ مثلاً سنگل اسٹرنگ تھیوری (Single String Theory) جو توحید کے نظریے کو اصولی طور پر ثابت کرتی ہے۔ لیکن نظریاتی سائنس کے میدان میں کام کرنے کے لیے اعلیٰ سائنس دانوں کی ایک پوری جماعت درکار ہے۔ اور بدقسمتی سے آج ایسی جماعت موجود نہیں۔
جدید سائنس کی تاریخ بتاتی ہے کہ تدریجی طورپر سائنس اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سائنس داں کائنات میں دماغ (mind) جیسے کسی عنصر کی کار فرمائی تسلیم کرتے ہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ دماغ کو ماننا بالواسطہ طورپر خدا کو ماننے کے ہم معنیٰ ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اِس بالواسطہ سائنس کو براہِ راست سائنسی اقرار کے درجے تک پہنچایا جائے۔ یہ بلاشبہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا علمی اور فکری کام ہے۔ یہ کام کوئی اعلیٰ سائنسی دماغ ہی کرسکتا ہے۔ یہ کام صرف وہ شخص انجام دے گا جو اعلیٰ ریاضیات (higher mathematics) کی زبان میں اس کو انجام دے سکتا ہو۔ شاید یہ کام ڈاکٹر عبد السلام (وفات 1996) انجام دے سکتے تھے، جن کو 1979 میں سائنس کا نوبل پرائز ملا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے تعصبانہ مزاج کی بنا پر یہ امکان واقعہ نہ بن سکا۔
خدا کی عظمت
خدا کی معرفت ایمان اور اسلام کی اساس (basis) ہے۔ جتنی اعلیٰ معرفت، اتنا ہی اعلیٰ ایمان۔ اِس معرفت کی تکمیل اُس وقت ہوتی ہے، جب کہ آپ خدا کو اس کے کمالِ عظمت کے ساتھ دریافت کریں۔ ایک بندہ جب خدا کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کا وہی حال ہوتا ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے الذينَ إذا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قلوبُهم(8:2)۔ یعنی، خدا کی یاد سے اُن کے دل دہل اٹھتے ہیں۔ جدید فلکیاتی سائنس (modern astronomy) کا اِس معاملے میں ایک مثبت کنٹری بیوشن (contribution) یہ ہے کہ اس نے خالق کی ناقابلِ قیاس عظمت کا ادراک کرنے کے لیے ایک فریم ورک (frame work) دے دیا ہے۔ اِس فریم ورک کی مدد سے انسان خدا وند ذوالجلال کی ناقابلِ بیان عظمت کا ایک تصور اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جدید سائنس کئی سو سال سے فلکیات کامطالعہ کررہی ہے۔ 1508 میں دور بین (telescope) کی ایجاد ہوئی، اور 1609میں پہلی بار اٹلی کے سائنس داں گلیلیو (Galileo) نے خلا کا دوربینی مشاہدہ کیا۔ یہ فلکیاتی مشاہدہ برابر بڑھتا رہا۔ پچھلے زمانے میںدور بینی رصد گاہ کسی پہاڑ پر نصب کی جاتی تھی۔ اب خلائی سائنس کا زمانہ آگیا ہے۔ اب انسان نے خلائی رصد گاہ (space observatory) بنالی ہے۔ اِس کے ذیعے کائنات کا مشاہدہ اتنی زیادہ دور تک کرنا ممکن ہوگیاہے جس کی دوری کو صرف سالِ نور (light years) کی اصطلاح میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اِس طرح خدا کی عظمت کو تصور میں لانے کے لیے ایک نیا وسیع تر دائرہ انسان کے علم میں آگیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک تازہ ترین فلکیات دریافت (discovery) سامنے آئی ہے۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ خلا میں نصب الکٹرانک دور بینوں کے ذریعے ایک بہت بڑا بلیک ہول دریافت ہوا ہے۔ یہ بلیک ہول پورے نظامِ شمسی (solar system) کو نگل سکتا ہے۔ نظام شمسی کا دائرہ کتنا زیادہ بڑا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے اِس نظام کا بعید ترین سیارہ پلوٹو (Pluto) ہے جو سورج کے گرد بیضوی دائرے میں چکر لگا رہاہے۔ یہ دائرہ ساڑھے سات بلین میل پر مشتمل ہے۔
مذکورہ بلیک ہول اب تک کے دریافت کردہ تمام بلیک ہول سے زیادہ بڑا ہے۔ اس کا حجم 6 بلین سورج سے بھی زیادہ ہے۔ اِس بلیک ہول کا نام M 87 رکھا گیاہے۔ یہ بلیک ہول ہماری کہکشاں (Milky Way) سے 50 ملین سال نور کی دوری پر واقع ہے
This black hole can eat the solar system
Astronomers have discovered what they say is the biggest ever black hole which weighs the same as 6.8 billion suns and could swallow our entire solar system. According to the scientists, the black hole, identified as M87, is as large as the orbit of Neptune and is by far the largest and most distant galaxy in the nearby universe. As a point of comparison, the black hole at the centre of the Milky Way is 1,000 times smaller than this one which has been observed some 50 million light years away. (The Times of India, New Delhi, Tuesday, January 18, 2011 Page 19)
other sourceWords of another person or source
یہ واقعہ اور اِس طرح کے دوسرے واقعات معرفتِ الٰہی کے لیے عظیم خزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ واقعات خدا کی قدرت کو ناقابلِ قیاس حد تک عظیم بنادیتے ہیں۔ جو آدمی اِن واقعات پر سوچے گا، اس کا دل خدا کی عظمت کے تصور سے دہل اٹھے گا، اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔ یہ واقعات ایک انسان کو اپنے بارے میں انتہائی عجز اور خدا کے بارے میں انتہائی قدرت کی یاد دلاتے ہیں۔ اِن واقعات پر غور کرنا بلاشبہ اعلیٰ معرفت کے حصول کا کائناتی خزانہ ہے۔
معرفت یہ ہے کہ آدمی ایک طرف اپنی محدودیت (limitation) کو جانے اور دوسری طرف وہ خدا کی لامحدودیت کو دریافت کرے۔ اِس دریافت کے نتیجے میں جو کیفیت آدمی کے اندر پیداہوتی ہے، اُسی کا نام معرفت ہے۔ یہ معرفت جس کو حاصل ہو جائے، اس کے لیے گویا دنیا اور آخرت کی تمام سعادتوں کے دروازے کھل گئے۔ یہی وہ خوش قسمت انسان ہے جس کے بارے میں آخرت میں کہاجائے گا کہ — تم جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہو، جنت میں داخل ہوجاؤ۔ آج کے بعد تمھارے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تسخيرِكائنات
انسان كے ليے الله كي ايك نعمت وه هے جس كو تسخير كها گيا هے۔ اِس سلسلے ميں قرآن كي دو آيتيں يه هيں اَللّٰهُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْهِ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ (45:12-13)۔ يعني، الله هي هے جس نے تمھارے ليے سمندر كو مسخر كرديا، تاكه اس كے حكم سے اس ميں كشتياں چليں اور تاكه تم اس كا فضل تلاش كرو اور تاكه تم شكر كرو۔ اور الله نے آسمانوں اور زمين كي تمام چيزوں كو تمھارے ليے مسخر كرديا، سب كو اپني طرف سے۔ بے شك اِس ميں نشانياں هيں اُن لوگوں كے ليے جو غور كرتے هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تسخير كا مطلب هے كسي چيز كو بزور قابلِ استعمال يا قابلِ انتفاع بنانا۔ الله جو پوري كائنات كا خالق هے، اس نے كائنات كے هر جز كو قوانينِ فطرت (laws of nature) كا پابند بنا ركھا هے۔ اِس بنا پر يه ممكن هوگيا هے كه انسان مخلوقات كو اپنے مقصد كے ليے استعمال كرے۔ خدائي قوانين كے ذريعے كائنات اگر اِس طرح مسخر نه هوتي تو انسان كے ليے اس كو استعمال كرنا ناممكن هوجاتا۔
اِس كي ايك مثال سمندر كي هے۔ سمندروں كي شكل ميں پاني كے جو قدرتي ذخائر هيں، وه كرهٔ ارض كے تقريباً تهائي حصه (%71) پر پھيلے هوئے هيں۔ زمين ايك گول كره هے جو مسلسل طور پر گردش كررها هے۔ ايك زبردست قانون پاني كے ذخائر كو زمين پر قائم كئے هوئے هے۔
ايك طرف زمين كي غير معمولي كشش زمين كے ذخائر كو اپني طرف كھينچے هوئے هے، اور دوسري طرف سمندر كے اوپر هوا كا تقريباً پانچ ميل موٹا غلاف هے جو سمندر كے اوپر دباؤ بنائے هوئے هے۔ اِن دوطرفه اسباب كي بنا پر ايسا هےكه سمندروں كي گهرائي ميں پاني مسلسل طور پر موجود هے، ورنه پورا ذخيرهٔ آب اڑ كر فضا ميں تحليل هوجاتا۔يهي معامله سمندر ميں چلنے والي كشتيوں كا هے۔ يهاں بھي خدا كا مقرر كيا هوا ايك قانونِ فطرت كام كررها هے۔ يه ايك آبي قانون هے جس كو آج كل كي زبان ميں هائڈرواسٹيٹكس (hydrostatics)كهاجاتا هے جس كا ايك شعبه بائنسي (buoyancy) هے۔
بائنسي (buoyancy) سے مراد پاني كا يه انوكھا قانون هے كه جب كوئي چيز پاني ميں ڈالي جاتي هے تو وه پاني كے اندر جتني جگه گھيرتي هے، اُسي كے بقدر وهاں اَپ ورڈ پريشر پيدا هوتا هے، جس كے نتيجے ميں كشتي پاني كي سطح پر تيرنے لگتي هے
Buoyancy: The upward pressure by any fluid on a body partly or wholly immersed therein: it is equal to the weight of the fluid displaced.
تسخير كا دوسرا واقعه وه هے جس كا تعلق بالائي خلا سے هے۔ زمين كے اوپر جو وسيع خلا هے، وه بهت بڑے بڑے نهايت گرم ستاروں سے بھرا هوا هے، اِس ليے اس كو ستاروں كي دنيا (starry universe) كهاجاتا هے۔ يه تمام ستارے هماري زمين سے ايك مقرر دوري پر واقع هيں۔ يه مقرر دوري اگر قائم نه رهے تو هماري پوري زمين جل كر راكھ هوجائے۔
زمين كي سطح سے رات كے وقت جب كھلے آسمان كو ديكھا جائے تو اوپر كي فضا ميں بهت سے چھوٹے چھوٹے ستارے نظر آتے هيں۔ يه ستارے بهت بڑے بڑے ستارے هيں، ليكن دوري كي وجه سے وه چھوٹے نظر آتے هيں۔ آنكھ سے ديكھنے ميں تقريباً دس هزار ستارے دكھائي ديتے هيں۔ يه ستارے وه هيں جو هماري قريبي كهكشاں (Milky Way) سے تعلق ركھتے هيں۔ اِس كے علاوه، وسيع خلا ميں بے شمار بڑے بڑے ستارے هيں جو مسلسل حركت كررهے هيں۔ ايك سو بلين سے زياده كهكشائيں (galaxies) هيں اور هر كهكشاں ميں تقريباً ايك سو بلين ستارے پائے جاتے هيں۔
اِس وسيع عالمِ نجوم كو انسان اپني فطري آنكھ سے نهيں ديكھ سكتا تھا۔ الله تعالي نے هماري دنيا ميں ايسے مادي اسباب ركھ دیے جن كو انسان دريافت كرے اور ان كو ترقي دے كر طاقت ور دوربين (telescope) بنائے۔ چنانچه موجوده زمانے ميں خلائي دور بين كو استعمال كركے انسان بے شمار ستاروں اور كهكشاؤں كو ديكھتا هے۔
سمندروں (اور حيوانات) كے معاملے ميں تسخير كا مطلب يه تھا كه انسان قانونِ فطرت كو جانے اور اس كي مدد سے اِن چيزوں كو اپني ضرورت كے ليے استعمال كرے۔ عالمِ نجوم كے معاملے ميں تسخير كا مطلب اُن كو اپني ضرورت كے ليے استعمال كرنا نهيں هے، بلكه اِس كا مطلب يه هے كه وسيع عالمِ نجوم كو انسان آلات كي مدد سے ديكھے، وه ان پر غور وفكر كرے۔ وه غور وفكر كے ذريعے عالمِ نجوم كو اعلي معرفت كے حصول كا ذريعه بنائے۔
سمندروں اور حيوانات كي تسخير انسان كي خدمت كے ليے هے۔ اور عالمِ نجوم كي تسخير اِس ليے هے كه ان كے ذريعے سے آدمي خالق كي عظمت كو دريافت كرے۔وه اُن ميں غوروفكر كركے اپنے ليے معرفتِ اعلي كا رزق حاصل كرے۔
گرہن ایک خدائی معجزہ
گرہن (eclipse) ایک فلکیاتی ظاہرہ ہے۔ اکلپس (eclipse) کا لفظ قدیم یونانی زبان کے لفظ (ékleipsis) سے ماخوذ ہے۔ خلا میں گرہن کے مختلف واقعات ہوتے رہتے ہیں، لیکن معروف طورپر دو قسم کے گرہن کو گرہن کہا جاتا ہے۔ ایک سورج گرہن (Solar eclipse) اور دوسرا چاند گرہن (Lunar eclipse) ۔ عام طورپر سورج گرہن سال میں دوبار یا تین بار ہوتاہے اور چاندگرہن سال میں دو بار واقع ہوتا ہے۔ چاند گرہن چند گھنٹوں تک رہتا ہے، جب کہ کامل سورج گرہن کچھ منٹ تک رہتا ہے
A lunar elicpse lasts for a few hours, whereas a total solar eclipse lasts for only a few minutes at any given place.
گرہن کا یہ واقعہ محکم فلکیاتی قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ یہاں تک کہ بہت پہلے ان کی قطعی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طورپر 2010 میں 15جنوری کو سورج گرہن ہوا۔ علماءِ فلکیات کی پیشگی خبر کے مطابق، پہلے سے لوگوں کو اِس گرہن کا علم تھا۔
گرہن کیا ہے۔ گرہن دراصل سایہ پڑ جانے کا دوسرا نام ہے۔ گردش کے دوران جب چاند، زمین اور سورج کے درمیان آجائے تو سورج اس آڑ کی بنا پر جزئی یا کلّی طورپر دکھائی نہیں دے گا۔ اِسی کا نام سورج گرہن ہے۔ اور جب زمین، چاند اور سورج کے درمیان آجائے تو چاند پر جزئی یا کلی طورپر زمین کا سایہ پڑجائے گا۔ اِسی کا نام چاند گرہن ہے
Eclipse: In astronomy, partial or complete obscuring of one celestial body by another as viewed from a fixed point. Solar eclipses occur when shadow of Moon falls on Earth, which happens two or three times per year. Lunar eclipses occur when shadow of Earth falls on Moon; at most two seen per year.
قدیم زمانے میں گرہن کے بارے میں عجیب قسم کے توہماتی عقائد قائم تھے۔ مثلاً کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آسمان میں ایک بہت بڑا اژدہا ہے، وہ کبھی غصہ ہو کر چاند کو نگل لیتاہے، اس وقت چاندگرہن پڑتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین پر جب کسی بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سورج پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی کا نام سورج گرہن ہے، وغیرہ۔
اِس قسم کے توہماتی تصورات ہزاروں سال تک قوموں میں رائج تھے، یہاں تک کہ دور بین (telescope) ایجاد ہوئی۔ گلیلیو نے پہلی بار1609 میں دور بین کے ذریعہ سیاراتی نظام (planetary system) کا مشاہدہ کیا۔
اس کے بعد دور بین کو ترقی ہوئی اور مزید مشاہدات کیے گئے۔ یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا تعلق مذکورہ قسم کے توہماتی تصورات سے نہیں ہے، یہ تمام تر ایک فلکیاتی مظہر ہے۔وہ صرف اس لیے واقع ہوتا ہے کہ گردش کے دوران دو خلائی اجسام (celestial bodies) کے درمیان تیسرا جسم آجاتا ہے۔ اس کی بنا پر وہاں ایک آڑ قائم ہوجاتی ہے۔ اسی آڑ کی بنا پر پیش آنے والے واقعہ کا نام گرہن ہے۔
قدیم زمانے میں گرہن صرف ایک توہماتی (superstitious)واقعہ بنا ہوا تھا۔ انیسویں صدی عیسوی میں سائنسی مشاہدہ کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ سادہ نوعیت کا ایک خلائی واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں کوئی پُراسراریت شامل نہیں۔ گرہن کے موضوع پر موجودہ زمانے میں کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں
Eclipses of the Sun and Moon (1937) by Sir F.W. Dyson
Eclipse Phenomena in Astronomy (1969) by F. Link
Eclipses in the Second Millennium BC (1954) by G. Van Bergh
گرہن کی تاریخ کا پہلا دور وہ ہے جب کہ اس معاملے میں توہماتی عقائد کا رواج تھا۔ گرہن کا دوسرا دور موجودہ زمانے میں دور بین کی ایجاد (1608) کے بعد شروع ہوا۔ گرہن کی تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جو اسلام کے ذریعہ انسان کے علم میں آیا، وہ یہ کہ گرہن کا تعلق نہ توہمات سے ہے اور نہ وہ صرف ایک مادی نوعیت کا فلکیاتی واقعہ ہے، بلکہ وہ خالقِ کائنات کے باشعور تخلیقی نظام کا ایک حصہ ہے۔ وہ خدا کی قدرتِ کاملہ کا ایک مظہر ہے، وہ انسان کے لیے خداوند ِ عالم کا ایک تعارف ہے، گرہن خاموش زبان میں خدا کی حکیمانہ تخلیق کا اعلان کررہا ہے۔
ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادہ ابراہیم مدینہ میں پیدا ہوئے۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں شوال 10 ہجری ( 632ء) میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اتفاق سے اسی دن سور ج گرہن پڑا۔ قدیم توہماتی رواج کے مطابق، مدینہ کے کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سورج گرہن پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے تقریر کی۔ آپ نے فرمایا إِنَّ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1041)۔ یعنی، سورج اورچاند میں کسی انسان کی موت سے گرہن نہیں لگتا، وہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہے۔ جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’چاند گرہن اور سورج گرہن خدا کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں‘‘— یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ دراصل اس معاملے کے اصل معنوی پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند گرہن اور سورج گرہن جس طرح ہوتا ہے، اس پر غور کیا جائے تو وہ آدمی کے لیے خدا کی دریافت کا ذریعہ بن جائے گا۔ وہ سادہ طورپر فلکیاتی نشانی کے بجائے، زیادہ گہرے معنوں میں خدائی نشانی ثابت ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چاند گرہن یا سورج گرہن ایک انوکھا تخلیقی معجزہ ہے، اس کے پیچھے خالقِ کائنات کی معجزانہ صنّاعی نظر آتی ہے۔ جیسا کہ عرض کیاگیا، گرہن اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ تین خلائی اجسام، زمین، چاند، سورج،گردش کرتے ہوئے ایک سیدھ میں آجائیں۔ تینوں کے سائز میں بہت زیادہ فرق ہے۔ چاند کو اگر سرسوں کے دانے کے برابر سمجھا جائے تو اس کے مقابلے میں زمین فٹ بال کے برابر ہوگی اور سورج ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔
یہ تین مختلف سائز کے اجسام حرکت کرتے ہوئے ایسے تناسب سے ایک سیدھ میں آجاتے ہیں کہ زمین سے دیکھنے والا ان کو یکساں سائز میں دیکھنے لگے۔ جب تینوں کے درمیان چاند ہو تو سورج گرہن واقع ہوگا۔ اور جب ان کے درمیان زمین ہو تو چاند گرہن واقع ہوگا۔ یہ وسیع خلا میں ایک انتہائی انوکھی پوزیشننگ کا معاملہ ہے
It is a unique well- calculated positioning of three moving bodies, highly inequal in size, in the vast space.
گرہن (eclipse) اُس وقت واقع ہوتا ہے جب کہ وسیع خلا کے تین اَجرام، زمین، چاند، سورج، انتہائی متناسب دوری کے ساتھ بالکل ایک سیدھ میں آجائیں۔ یہ ایک انتہائی حیرت ناک ظاہرہ ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انسائیکلوپیڈیا بریٹانکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ— ایک انتہائی غیر معمولی توافق کی بنا پر سورج اور چاند کا سائز اور دوری ایسے ہو جاتے ہیں کہ زمین سے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے گویا کہ دونوں بالکل برابر ہوں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
By a remarkable coincidence, the sizes and distances of the Sun and Moon are such that they appear as very nearly the same angular size as the earth. (EPB 6/189)
other sourceWords of another person or source
گرہن کے اِس عجیب واقعے کو مقالہ نگار نے محض اتفاق (coincidence) قرار دیا ہے۔ مگر یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔ اِس قسم کا نادر اتفاق اولاً تو ممکن نہیں اور بالفرض اگر ایسا ہوجائے تو وہ بمشکل ایک بار ہوسکتا ہے، لیکن فلکیاتی تاریخ بتاتی ہے کہ گرہن کا یہ واقعہ لاکھوں برس سے اِسی طرح پابندی (regularity)کے ساتھ ہر سال پیش آرہا ہے۔ اِس قسم کی کامل باضابطگی ہر گز اتفاقاً نہیں ہوسکتی۔ یقینی طورپر وہ ایک قادرِ مطلق ہستی کی مسلسل کار فرمائی کے باعث ہی ممکن ہے۔ اتفاق کا لفظ اِس حیرت ناک فلکیاتی ظاہرے کی توجیہ کے لیے آخری حد تک ناکافی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
گرہن، خلا میں پیش آنے والے اُن بے شمار معجزاتی واقعات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں ذٰلِكَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِ(36:38) یعنی، یہ عزیز اور علیم خدا کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
That is the dispostion of the Almighty, the All Knowing.
وسیع خلا میں بے شمار اجزا ہیں۔ یہ تمام اجزا مکمل طورپر خداوند ِ عالم کے کنٹرول میں ہیں۔ سیاروں اور ستاروں کی گردش انتہائی حد تک خدا کے مقرر ضابطہ کی پابندی میں ہوتی ہے۔ شمسی نظام اِسی کا ایک نمونہ ہے جس کے اندر ہماری زمین واقع ہے۔ یہ نظام اپنی خاموش زبان میں اعلان کررہا ہے کہ اِس کائنات کا ایک قادرِ مطلق خدا ہے جو وسیع خلا میں اُن پر کامل کنٹرول کیے ہوئے ہے۔
اِنھیں معجزاتی واقعات میں سے ایک گرہن کا واقعہ ہے۔ سورج گرہن اور چاند گرہن ہمارے قریبی مشاہدے کی چیزیں ہیں۔ لوگ اُس کو عجوبہ کے طورپر یا زیادہ سے زیادہ ایک فلکیاتی کورس کے طورپر دیکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے الفاظ میں، وہ خدا کی ایک عظیم نشانی ہے۔ اِسی لیے اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب گرہن واقع ہو تو لوگ خدا کی عبادت کریں۔ اِس عبادت کو صلاۃِ کُسوف اور صلاۃِ خُسوف کہاجاتا ہے۔ گرہن کے وقت خدا کی عبادت کرنا اِس بات کا اعتراف ہے کہ گرہن ایک خدائی ظاہرہ ہے، نہ کہ محض ایک فلکیاتی ظاہرہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کا وجود
انسان جب رحمِ مادر (womb) کے خول میں ہوتا ہے، تو اس کو اُس وقت خول کے باہر کی دنیا کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا۔ اِس خول کے باہر ایک پوری دنیا موجود ہوتی ہے، لیکن بچے کو اِس کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ خود انسان کا بھی ہے۔
انسان کی تمام معلومات زمان و مکان (time and space) کے اندر تک محدود ہوتی ہیں۔ وہ زمان ومکان کے باہر کی حقیقتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا۔
برٹش فلسفی جان اسٹوارٹ مِل (وفات 1873) جب نوجوانی کی عمر میں تھا، اُس وقت اس کے باپ جیمس مل (وفات 1836) نے اُس سے کہا کہ خدا کا عقیدہ ایک غیر عقلی عقیدہ ہے۔ کیوں کہ اگر یہ کہا جائے کہ خدا نے انسان کو پیدا کیا، تو سوال یہ ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا
unverifiedAttribution could not be verified automatically
If God created man, who created God.
یہ بات جان اسٹوارٹ مل نے اپنی آٹو بائگریفی میں لکھی ۔ اِس کے بعد اِس بات کو برٹرنڈرسل (وفات 1970) اور جولین ہکسلے (وفات 1975) جیسے فلاسفہ دہرانے لگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ جیمس مل کے تقریباً سو سال بعد 1916 میں البرٹ آئن اسٹائن (وفات 1955) نے نظریۂ اضافیت (theory of relativity) پیش کیا۔ اِس نظریے کے تحت آئن اسٹائن نے دکھایا کہ اِس دنیا میں انسان کا ہر علم اضافی (relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real)۔ آئن اسٹائن نے ثابت کیا کہ انسان کے پاس کوئی مطلق فریم آف ریفرنس موجود نہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
No absolute frame of reference exists.
جیمس مل کے زمانے میں انسان کا علم ایک سائنٹفک خول (scientific womb) کے اندر محدود تھا۔ آئن اسٹائن نے سوسال بعد انسان کو اِس خول کی موجودگی کی خبر دی۔ ایسی حالت میں اب انسان کے لیے عقلی رویہ صرف یہ ہے کہ وہ بالاتر حقائق کے بارے میں اپنی علمی محدودیت (limitations) کا اعتراف کرے، نہ کہ وہ اُن کے بارے میں یقین کے ساتھ علمی بیانات دینے لگے۔
خدا کا فلسفیانہ تصور
آرین مذاہب میں وحدتِ وجود (monism) کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کے مطابق، خدا کا اپنا کوئی فارم نہیں ہے۔ وہ ایک نراکار خدا (formless God) ہے۔ اِس تصور کے مطابق، خدا کی اپنی کوئی الگ ہستی نہیں ہے۔ دنیا میں جو چیزیں دکھائی دیتی ہیں، وہ سب کی سب اِسی بے وجود خدا کا وجودی اظہار ہیں۔ یہ تصور دراصل ایک فلسفیانہ تصور ہے۔ فلاسفہ عام طورپر اِسی معنیٰ میں خدا کو مانتے رہے ہیں۔ وہ خدا کو اسپرٹ (spirit) یا آئیڈیا (idea) جیسے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ یہی فلسفیانہ تصور آرین مذاہب میںایک عقیدے کے طورپر شامل ہوگیا۔
خدا کا یہ غیر وجودی تصور محض ایک بے بنیاد قیاس (speculation) ہے۔ حقیقی معنوںمیں اس کی کوئی استدلالی بنیاد موجود نہیں۔ پہلی بات یہ کہ تخلیق کی صورت میں ہم جس کائنات کا تجربہ کرتے ہیں، وہ پورے معنوں میںایک فارم (form) ہے۔
یہ کہنا ایک غیر منطقی بات ہے کہ ایک خدا جو محض ایک اسپرٹ یا آئڈیا تھا، جس کی اپنی کوئی ہستی نہ تھی، اس نے اتنے بے شمار قسم کے فارم پیدا کردیے۔ خدا وہی ہے جس کے اندر تخلیق کی صفت پائی جاتی ہو، اور اسپرٹ یا آئڈیامیں تخلیق کی صفت سرے سے موجود نہیں۔ اِس لیے یہ نظریہ بداہۃً ہی قابلِ رد ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Prima facie it stands rejected.
سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، اس کی تمام چیزیں ایٹم سے مرکب ہیں۔ اس کو لے کر کہا جاتا ہے کہ سائنس کے مطالعے سے کائنات میںوحدت (oneness) کا ثبوت ملتا ہے، یعنی تمام مادی چیزوں میں استثنا کے باوجود یکسانیت (unifortmity amids exception) ہے مگر یہ استدلال درست نہیں۔ کائنات میں مادّی اجزا کے اعتبار سے ضرور وحدت ہے، لیکن اِن مادی اجزا کی ترکیب سے جو چیز بنی، اس کے اندر غیر معمولی ڈزائن (design) موجود ہے، اور ڈزائن صرف ایک ذہن کی تخلیق ہوتی ہے، نہ کہ کسی بے فارم اسپرٹ کی تخلیق۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معنی خیز استثنا
کائنات میں بے شمار الگ الگ چیزیں پائی جاتی ہیں، لیکن کائنات کا ایک عجیب ظاہرہ یہ ہے کہ اس میں عمومی طور پر یکسانیت (uniformity) نہیںہے، بلکہ اُس کے ہر حصے میں استثناءات (exceptions) پائے جاتے ہیں۔ کائنات کی یہ استثنائی مثالیں اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اِس کائنات کا ایک عظیم خالق ہے۔ استثنا (exception) ذہین مداخلت (intelligent intervention) کا ثبوت ہے اور ذہنی مداخلت ایک ذہین خالق (intelligent Creator) کا ثبوت ہے۔
مثلاً وسیع کائنات میں شمسی نظام (solar system) ایک استثنا ہے۔ شمی نظام میں سیارۂ ارض (planet earth) ایک استثنا ہے۔ زمین کا انتہائی متناسب سائز ایک استثنا ہے۔ زمین کی اپنے محور (axis) پر گردش ایک استثنا ہے۔ زمین پر لائف سپورٹ سسٹم(life support system) ایک استثنا ہے۔ زمین پر زندگی ایک استثنا ہے۔ زمین پر انسان ایک استثنا ہے، وغیرہ۔
اِس قسم کے مختلف استثنا جو ہماری دنیا میں پائے جاتے ہیں، وہ سادہ طورپر صرف استثنا نہیںہیں، بلکہ وہ انتہائی حد تک بامعنی استثنا (meaningful exception) ہیں۔ وسیع کائنات میں اِس قسم کے با معنٰی استثناءات یقینی طور پر اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اِس کائنات کا ایک خالق ہے۔ اُس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اِس کائنات کو بنایا ہے۔ اُس نے جہاں چاہا، چیزوں میںیکسانیت (uniformity) کا طریقہ اختیار کیا، اور جہاں چاہا، کسی چیز کو دوسری چیزوں سے ممیّز اور مستثنیٰ بنادیا۔
مثلاً زندہ اجسام کے ڈھانچے میں باہم یکسانیت (uniformity) پائی جاتی ہے، لیکن اِسی کے ساتھ ہر ایک کا جنیٹک کوڈ (genetic code) ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہر ایک کے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے سے مشابہہ ہیں، لیکن ہر ایک کے انگوٹھے کا نشان (thumb impression) ایک دوسرے سے الگ ہے۔ یکسانیت کے درمیان یہ استثنا یقینی طور پر ایک ذہین تخلیق (intelligent creation) کا ثبوت ہے، نہ کہ اندھے اتفاقات کا نتیجہ۔
بگ بینگ، لٹل بینگ
انسان ہمیشہ یہ سوچتا رہا ہے کہ موجودہ کائنات کیسے بنی۔ وہ عقلی سطح پر اِس کا جواب پانا چاہتا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں پہلی بار انسان کواِس کا عقلی جواب ملا۔ فلکیاتی سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ تقریباً 13 بلین سال پہلے، خلا میں ایک انفجار (explosion) ہوا۔ اِس انفجار کو عام طورپر بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ فلکیاتی سائنس کے اعتبار سے، اِسی بگ بینگ کے بعد بتدریج موجودہ کائنات وجود میں آئی۔
تاہم ایک سوال کا عقلی جواب ابھی باقی تھا، وہ یہ کہ ہمارا شمسی نظام (solar system) کیسے بنا۔ شمسی نظام، ساری کائنات میںایک استثنائی نظام ہے۔ اِس نظام کے اندر سیارۂ زمین ایک انتہائی استثنائی قسم کا سیارہ ہے۔ علماءِ فلکیات اِس بات کی عقلی توجیہ نہیں کرسکے تھے کہ کائنات میں استثنائی قسم کا موجودہ شمسی نظام کیسے بن گیا۔
بگ بینگ کی دریافت کے تقریباً سو سال بعد، اکیسویں صدی کے ربع اول میں، سائنس دانوں نے سوئزر لینڈ میں کچھ خصوصی تجربات کیے۔ اِن تجربات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ بگ بینگ کے واقعے کے بہت بعد خلا میں ایک چھوٹا انفجار ہوا۔ اِس کو سائنس دانوں نے لٹل بینگ (Little Bang) کا نام دیا ہے۔ اِس لٹل بینگ کے بعد شمسی نظام وجود میں آیا اور بتدریج وہ استثنائی سیارہ بنا جس کو زمین (planet earth)کہا جاتا ہے۔
بگ بینگ اور لٹل بینگ کی یہ دونوں سائنسی دریافتیں بتاتی ہیں کہ کائنات کی تخلیق ایک اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی کے ذریعے ہوئی۔ یہ کائنات کسی اتفاق (accident) کے ذریعے وجود میں نہیں آئی، بلکہ وہ ایک بالقصد منصوبے کے ذریعے وجود میں آئی۔ یہ واقعہ اپنے آپ اِس بات کا ثبوت ہے کہ اِس کائنات کی ایک منزل ہے۔ یہ کائنات پورے معنوں میں ایک با معنیٰ کائنات ہے، اور ایک بامعنیٰ کائنات کسی بے معنی انجام پر ختم نہیں ہوسکتی۔
تاریخِ عالم پر ایک تبصرہ
سیکولر نظریے کے مطابق، دنیا کی تاریخ چار بڑے اَدوار پر مشتمل ہے— بگ بینگ کا واقعہ، مادّی ترقیات، تہذیب کی ترقی، خاتمۂ تاریخ
Big Bang, material development, civilizational development, abrupt end.
سیکولر نظریے کے مطابق، تقریباً پندرہ بلین سال پہلے بگ بینگ کے ذریعے موجودہ کائنات کا آغاز ہوا۔ اِس کے بعد لمبے ارتقائی عمل کے ذریعے موجودہ مادّی دنیا بنی۔ انسان کے ظہور کے بعد تہذیبی ترقی شروع ہوئی۔ اکیسویں صدی عیسوی میں گلوبل وارمنگ (global warming) کا ناقابلِ حل مسئلہ سامنے آگیا۔ اور اب تمام سائنس داں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری دنیا میں جو طبیعی تغیرات ہورہے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ 2050 سے پہلے ہی اِس دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔
other sourceWords of another person or source
موجودہ دنیا کی یہ سیکولر تصویر ناقابلِ فہم حد تک عجیب ہے۔ سیکولر نظریہ بتاتا ہے کہ پچھلے پندرہ بلین سال سے ہماری دنیا میں مسلسل طور پر بامعنٰی ارتقا جاری رہا ہے، یہاں تک کہ موجودہ کائنات بنی، جو انتہائی حدتک بامعنی کائنات تھی۔ اب گلوبل وارمنگ کے ذریعے اگر دنیا کسی مزید مستقبل کے بغیر آخری طورپر فنا ہوجائے تو یہ ایک بامعنی آغاز کا ایک بے معنٰی انجام ہوگا، جو بلاشبہ عقلی طورپر ناقابلِ فہم ہے۔مثال کے طورپر نظریۂ ارتقا یہ کہتا ہے کہ انواعِ حیات کے درمیان بقائے اصلح(survival of the fittest) کا عمل جاری رہا ہے۔ اِس نظریے کے مطابق، اِسی ارتقائی عمل کا یہ نتیجہ تھا کہ انسان جیسی ایک اعلیٰ نوع وجود میں آئی۔ اب یہ سرتاسر ایک غیر عقلی (irrational)بات ہے کہ بقاءِاصلح کا عمل اپنے آخر میںصرف ایک معکوس انجام پر ختم ہوجائے
It is unthinkable that the survival of the fittest may lead to the extinction of the fittest.
خود فطرت کا قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ کائناتی پراسس اپنے آخر میں ایک بہتر دنیا کو وجود میں لانے کا ذریعہ ہے۔
سائنس کی گواہی
انٹرنیٹ موجودہ زمانے میں معلومات کا عالمی خزانہ ہے۔ انٹرنیٹ کو الکٹرانک انسائکلوپیڈیا کہاجاسکتا ہے۔ اگرآپ انٹرنیٹ پر جائیں اور حسب ذیل الفاظ ٹائپ کریں— تھاٹ کنٹرولڈ وھیل چیئر (Thought-Controlled Wheel Chair) تو اسکرین پر معلومات کا ایک صفحہ کھل جائے گا۔ وہ بتائے گا کہ کسی خارجی آلہ کے بغیر دماغ کے ذریعے وھیل چیئر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
وھیل چیئر پر بیٹھا ہوا ایک شخص اپنے ہاتھ کو استعمال کیے بغیر محض اپنے دماغ کے ذریعے وھیل چیئر کو اپنی مرضی کے مطابق، جس طرح چاہے چلا سکتا ہے۔ جاپان کی موٹر کمپنی (Toyota Motors) نے یکم جولائی 2009 کو لوگوں کے سامنے اِس ٹکنالوجی کا مظاہرہ کیا۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح خدا اپنی مرضی کے تحت پوری کائنات کو کنٹرول کررہا ہے۔ تھاٹ کنٹرولڈ وھیل چیئر کا کامیاب مظاہرہ تھاٹ کنٹرولڈ یونی ورس (thought-controlled universe) کا ایک عملی ثبوت ہے۔
مذکورہ سائنسی دریافت اِس حقیقت کو قابلِ فہم بنادیتی ہے کہ ایک برتر خدائی ذہن (divine mind) ساری کائنات کو مکمل طورپر اپنے قبضے میں لیے ہوئے ہے۔
Thought-Controlled Wheel Chair
Japan’s Toyota Motor said yesterday it had invented a way to allow a person to steer an electric wheelchair through simple thought, using a helmet-like device that measures their brain waves. They said that they have developed a way of steering a wheelchair by just detecting brain waves, without the person having to move a muscle or shout a command. Toyota’s system, developed in collaboration with researchers in Japan, is among the fastest in the world in analyzing brain waves, it said in a release on Monday. (The Times of India, New Delhi, July 1, 2009)
other sourceWords of another person or source
سائنس سے معرفت تک
سائنس کیا ہے۔ سائنس دراصل منظم علم کا نام ہے۔ سائنس سے مراد وہ علم ہے جس میں کائنات کا مطالعہ موضوعی طورپر ثابت شدہ اصولوں کی روشنی میں کیا جائے
Science: The systematized knowledge of nature and the physical world.
کائنات کی حقیقت کے بارے میں انسان ہمیشہ غور وفکر کرتا رہا ہے۔ سب سے پہلے روایتی عقائد کی روشنی میں، اس کے بعد فلسفیانہ طرزِ فکر کی روشنی میں، اور آخر میں سائنس کے مسلّمہ اصولوں کی روشنی میں۔ طبیعیاتی سائنس کے میدان میں پچھلی چار صدیوں میں تین انقلابی تبدیلیاں پیش آئی ہیں۔ اوّل، برٹش سائنس داں نیوٹن کا مفروضہ کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ مادّہ ہے۔ اِس کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں جرمن سائنس داں آئن سٹائن کا نظریہ سامنے آیا کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ توانائی ہے۔ اور اب آخر میں ہم امریکن سائنس داں ڈیوڈ بام کے نظریاتی دور میں ہیں، جب کہ سائنس دانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد یہ مان رہی ہے کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ شعور ہے۔ یہ تبدیلیاں لازمی طورپر ایک نئے فلسفے کو جنم دیتی ہیں، جب کہ فلسفہ مادّیت سے گزر کر روحانیت تک پہنچ گیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
In the realm of the physical science, we have had three major paradigm shifts in the last four centuries. First, we had the Newtonian hypothesis that matter was the basic building block of the universe. In the early twentieth century, this gave way to the Einsteinian paradigm of energy being the basic building block. And the latest is the David Bohm era when more and more scientists are accepting consciousness to be the basic building block. These shifts have had inevitable consequences for the New Age philosophy, which has moved away from the philosophy of crass materialism to that of spirituality.
unverifiedAttribution could not be verified automatically
وہ دور جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے ، اُس کا آغاز تقریباً پانچ سوسال پہلے مغربی یورپ میں ہوا۔ دھیرے دھیرے عمومی طورپر یہ تاثر بن گیاکہ سائنس حقیقت کو جاننے کا سبب سے اعلیٰ ذریعہ ہے۔ جو بات سائنس سے ثابت ہوجائے، وہی حقیقت ہے، جو بات سائنسی اصولوں کے ذریعے ثابت نہ ہو، وہ حقیقت بھی نہیں۔
ابتدائی صدیوں میں سائنس خالص مادّی علم کے ہم معنی بن گئی ۔ چوں کہ مذہبی حقیقتیں مادی معیارِ استدلال پر بظاہر ثابت نہیںہوتی تھیں، اِس لیے مذہبی حقیقتوں کو غیر علمی قرار دے دیا گیا۔ لیکن علم کا دریا مسلسل آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب کہ خود سائنس مادی علم کے بجائے عملاً غیرمادّی علم کے ہم معنی بن گئی۔پچھلی صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایک ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی جو عالمی طورپر مسلّمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی، پھر اِس میں مزید ارتقا ہوا، اور آخر کار سائنس ایک ایسا علم بن گیا جو مسلّمہ عقلی بنیاد پر یہ ثابت کررہا تھا کہ کائنات ایک بالاترشعور کی کارفرمائی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا کہ— کائنات کا مادّہ ایک ذہن ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The stuff of the world is mind-stuff. (Eddington)
جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم ذہن (mind) کی کار فرمائی ہے۔ کائنات کے اندر جو معنویت ہے، جو منصوبہ بندی ہے، جو بے نقص ڈزائن ہے، وہ حیرت انگیز طورپر ایک اعلیٰ ذہن کے وجود کو بتاتاہے۔ کائنات میںاَن گنت چیزیں ہیں۔ لیکن ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ کائنات میں حسابی درستگی اتنے زیادہ اعلیٰ معیار پر پائی جاتی ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جب علم کا دریا یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد صرف یہ کام باقی رہ جاتا ہے کہ اِس دریافت کردہ شعور یا اس ذہن کو مذہبی اصطلاح کے مطابق، خدا (God) کا نام دے دیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ اخلاقی بحران کیوں
مسٹر رجَت ملہوترا ایک انٹرنیشنل بینک میں مینیجر ہیں۔ بینک نے اپنے اعلیٰ عہدے داروں کو مختلف ملکوںمیں سیاحت کے لیے بھیجا۔ اِس ٹیم میں مسٹر رجت ملہوترا بھی شامل تھے۔ 15 دسمبر 2007 کو تھائی لینڈ سے اُن کا ٹیلی فون آیا۔ انھوںنے کہاکہ میں ایک خدا پر عقیدہ رکھتا ہوں۔ میں دوسری زندگی کو اور جنت، دوزخ کو مانتا ہوں۔ سفر میں اکثر میں اپنے ساتھیوں سے خدائی موضوعات پر بات کرتا ہوں، مگر میںنے دیکھا کہ اِن لوگوں کو اِس طرح کے موضوعات سے کوئی دل چسپی نہیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
لیکن جب ہم لوگ کسی بڑے شہر میں پہنچتے ہیں تو میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ شاپنگ کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں۔ میرے سوا، ٹیم کا ہر آدمی نہایت دل چسپی کے ساتھ خریداریاں کرتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ فرق کیوں ہے۔ کیوں ایسا ہے کہ وہ خدا کے موضوع پر بات کرنے میںکوئی دل چسپی نہیں لیتے ، لیکن جب شاپنگ کا موقع آتا ہے تو یہ لوگ نہایت دھوم کے ساتھ شاپنگ کرتے ہیں۔ میں جب اُن سے اِس کا سبب پوچھتا ہوں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم واپس ہو کر گھر پہنچیں گے تو ہمارے گھر والے ہم سے پوچھیں گے کہ تم فلاں فلاں ملک میں گئے، وہاں سے تم ہمارے لیے کیا لائے۔ انھوںنے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ ٹیلی فون پر برابر اپنے گھر والوں سے بات کرتے رہتے ہیں اور خوشی کے لہجے میں یہ کہتے ہیں کہ ہم تمھارے لیے یہ چیز لارہے ہیں اور وہ چیز لا رہے ہیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس موضوع پر میں نے غور کیا تو مجھے ایک عرب عالم کی بات یاد آئی۔ یہ محمد العارف ہیں۔ وہ اِس وقت مانچسٹر (برطانیہ) میں رہتے ہیں۔ ایک سفر کے دوران اُن سے ملاقات ہوئی تو انھوںنے کہا کہ برطانیہ آکر مجھے یہ دریافت ہوئی کہ موجودہ زمانے کی اخلاقی بُرائیوں کی جڑ کیا ہے۔ وہ ہے— انعام کو مُنعم سے الگ کردینا۔ آج کا انسان، خدا کے انعامات کو تو خوب خوب استعمال کررہا ہے، لیکن وہ خدا کا اعتراف نہیںکرتا جو کہ منعم ہے، جو اِن تمام انعامات کو دینے والا ہے۔ یہ تجزیہ بلا شبہ درست ہے اور یہی موجودہ زمانے کی تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے کی سب سے بڑی فکری بُرائی یہ ہے کہ اِس زمانے میں خالق کو مخلوق سے الگ کردیا گیا۔ انسان کا اپنا وجود اور اس کے باہر کی تمام چیزیں خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ انسان اِن چیزوں کو آخری ممکن درجے تک استعمال کررہا ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو اِس سے بے نیاز سمجھتا ہے کہ وہ خدا کا اعتراف کرے، جو تمام موجودات کا خالقِ حقیقی ہے۔ خالق اور مخلوق کے درمیان اِسی تفریق کے نتیجے میں موجودہ زمانے کی تمام برائیاں پیدا ہوئی ہیں۔
دونوں قسم کے ذہن سے دو الگ الگ کلچر پیدا ہوتے ہیں۔ خالق کااعتراف آدمی کے اندرذمّے داری کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ اِس سے مسئولیت (accountability) کا احساس جاگتا ہے۔ یہ احساس آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ دنیا میںاخلاقی ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارے، کیوں کہ اس کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس نے اپنی اخلاقی ذمے داری کو پورا نہیں کیا تو لازمی طورپر وہ خدا کی پکڑ میں آجائے گا۔ خدائی قانون کے مطابق، وہ سخت سزا کا مستحق بن جائے گا جس سے بچنا اُس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ اِس کے برعکس معاملہ اُس انسان کا ہے جو اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے آزاد سمجھتا ہو۔ایسے آدمی کا حال یہ ہوگا کہ وہ انسانوں کی بستی میں خوش پوش حیوان کی مانند رہنے لگے گا، اُس کا پورا کردار غیرذمے دارانہ کردار بن کر رہ جائے گا۔
موجودہ زمانے میں یہ غیر ذمّے دارانہ کلچر اپنی آخری حد تک پہنچ چکا ہے۔ آج کا انسان اپنے آپ ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے۔ وہ اِس نفسیات میںجیتا ہے کہ میں جو چاہوں کروں، مجھے کسی اور سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اِس غیر ذمے دارانہ کلچر کے نمونے ہر روز سماج میں اور میڈیا میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ بطور نمونہ یہاں میں صرف دو حوالے نقل کروں گا۔
اگر آپ آج کل کے کسی بڑے انگریزی اخبار کو پڑھیں تو آپ اُس کے ہر شمارے میں جدید سماج کے نمونے اس کے تقریباً ہر صفحے پر پائیں گے۔ ہر شمارے میں برہنگی (nudity) اتنی زیادہ نمایاں ہوگی کہ آپ کا جی چاہے گا کہ آپ اخبار پڑھنا ہی بند کردیں۔ مثال کے طور پر 17 دسمبر 2007 کے ٹائمس آف انڈیا (Delhi Times) کے صفحۂ اوّل کو دیکھیے۔ اُس میںایک فلم ایکٹریس کی رنگین تصویر چھپی ہے۔ اِس کے ساتھ جو خبر شائع ہوئی ہے، اس کے اوپر جلی حرفوں میں یہ عنوان درج ہے— مجھے اپنے کسی فیصلے پر ندامت نہیں ہوتی
I don’t regret any decision.
فلم ایکٹریس کا یہ جملہ نمائندہ طورپر یہ بتارہا ہے کہ آج کے انسان کا اصل اخلاقی مسئلہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جدید افکار و نظریات کے تحت، ایسا ہوا ہے کہ انسان کے اندر ضمیر (conscience) کا عمل تقریباً ختم ہوگیا۔ ضمیر ایک فطری آواز ہے جوانسان کو صحیح اور غلط کا احساس دلاتی ہے، لیکن موجودہ زمانے میں جدید افکار و نظریات کے تحت، انسان کی ایسی کنڈیشننگ ہوئی ہے کہ اس کے اندر ضمیر کا عمل تقریباً ختم ہوگیا۔ اور جب ضمیر کا عمل ختم ہوجائے تو اس کے بعد عملی طورپر یہی ہوگا کہ انسان اور حیوان کے درمیان اخلاقی اعتبار سے کوئی فرق باقی نہ رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنگل کے حیوان اپنی جِبلّت (instinct) پر قائم رہتے ہیں۔ ان کی جبلت میں صحیح اور غلط، یا حق اور باطل کا فرق موجود نہیں، اِس لیے وہ اِس قسم کے احساسات سے خالی ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن انسان پیدائشی طورپر صحیح اور غلط، یا حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے کا احساس لے کر پیدا ہوتا ہے۔ جدید افکار و نظریات کے تحت، اِباحیت (permissiveness) کا جو کلچر پیدا ہوا، اس میں اور اس انسانی احساس میں ایک تضاد پایا جاتاتھا۔ اِس تضاد کو دور کرنے کے لیے نہایت خوب صورت نظریات گھڑے گئے اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اس کو تمام لوگوں میں پھیلا دیا گیا۔ بطور نمونہ یہاں اِس کی ایک مثال درج کی جاتی ہے۔
نئی دہلی کے مشہور انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا(16 دسمبر2007) میں مسٹر جیمس (Mames P Krehbiel) کے نام سے اخبار کے صفحہ 27 پر ایک مضمون چھپا ہے۔ اُس کے مندرجات کے مطابق، اس کا عنوان یہ ہے— اپنے آپ کو خطا کار نہ سمجھو
Don’t feel guilty
اِس مضمون میں جدید ذہن کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کہاگیا ہے کہ خطا کا احساس آدمی کے اندر سیلف بلیم (self-blame) کی نفسیات پیدا کرتاہے، ایسا آدمی شکست خوردہ ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے، اس کا کانفڈینس لیول (confidence level) بہت گر جاتا ہے، ایسے آدمی کے اندر غیرضروری طورپر منفی مزاج پیدا ہوجاتا ہے، وہ حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ کھو بیٹھتا ہے، ماں باپ کی روک ٹوک اور اخلاقی پابندیوں کی بات کو اِس مضمون میں نگیٹیو پیرنٹنگ (negative parenting) بتایا گیا ہے، کیوں کہ اِس سے بچے کے اندر اپنے بارے میں کم تری کا احساس پیداہوتا ہے، وغیرہ۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
یہ بلا شبہ صورتِ حال کا غلط تجزیہ ہے۔ آدمی کے اندر جب غلطی کا احساس پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے اندر اپنی اصلاح (self-correction) کا جذبہ ابھارتا ہے، نہ کہ سیلف ڈفیٹ (self-defeat) کا جذبہ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے اندر اس کا ضمیر کم زور ہونے کے باوجود ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے، وہ ہمیشہ بے یقینی کے احساس میں مبتلا رہے گا۔ اِسی کا دوسرا نام بے حوصلگی ہے۔ اِس کے برعکس، جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کا اعتراف کرلے، وہ اپنی اصلاح کرکے اپنے اندر مزید یقین پیدا کرلے گا، وہ زیادہ حوصلے کے ساتھ عمل کرنے کے قابل ہوجائے گا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ یقین اور اعتماد کا سر چشمہ آدمی کا یہ احساس ہے کہ میں سچائی کے راستے پر ہوں۔ میں اپنے ضمیر کے مطابق چل رہا ہوں۔ میں نے فطرت کے نظام سے بغاوت نہیں کی ہے۔ میں اُن اصولوں کا پابند ہوں جن کے اوپر پوری کائنات قائم ہے۔ برسرِ حق ہونے کا احساس آدمی کے حوصلے کو بڑھاتا ہے۔ اِس کے برعکس، جو آدمی غلطی کرنے کے باوجود اپنے کو غلط نہ مانے، وہ داخلی بے یقینی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ یہ واقعہ کبھی شعوری طور پر ہوتا ہے اور کبھی غیر شعوری طور پر، مگر جہاں تک نتیجے کا تعلق ہے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
فکری اعتبار سے اِس غلطی کا آغاز بہت پہلے سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اِس دور میں عالمی افکار پر سب سے زیادہ جو لوگ اثر انداز ہوئے ہیں، وہ مغربی علما اور سائنس داں ہیں۔ چنانچہ اِس معاملے میں بھی جو صورتِ حال عالمی سطح پر پیدا ہوئی، اِس کی ذمے داری زیادہ تر مغربی علما پر جاتی ہے۔ یہ در اصل مغربی علما ہی تھے جنھوں نے انسانی فکر کی دنیا میں وہ حالات پیدا کیے جس کے نتیجے میں ارادی یا غیرارادی طورپر، وہ صورتِ حال پیدا ہوئی جس کواخلاقی بحران (moral crisis) کہا جاتا ہے۔
اِس معاملے میں سب سے زیادہ نمایاں نام اٹلی کے مشہور سائنس داں گلیلیو (Galileo) کا ہے۔ گلیلیو 1564 میں پیدا ہوا، اور 1642 میں اِس کی وفات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو وہ شخص ہے جس نے ماڈرن سائنس کی بنیاد رکھی۔ گلیلیو پہلا شخص ہے جس نے دور بین کے ذریعے ستاروں اور سیاروں کا اور شمسی نظام کا مشاہدہ کیا۔ اگر چہ آخری عمر میں وہ اندھا ہوگیا تھا، لیکن سائنس کے مختلف شعبوں میں اس کی خدمات بہت زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
گلیلیو نے ایک طرف یہ تاریخی کام کیا کہ اس نے میتھ میٹکس اور فزکس کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کیا، جب کہ اس سے پہلے دونوں الگ الگ شعبے بنے ہوئے تھے
Galileo was the first man who perceived that mathematics and physics, previously kept in separate compartments, were going to join forces. (EB,7/853)
other sourceWords of another person or source
گلیلیو کے اِس عمل سے فزکس کو بہت ترقی ہوئی۔لیکن اِس مثبت کام کے ساتھ گلیلیو نے ایک ایسا کام بھی کیا، جس کے دور رس منفی نتائج برآمد ہوئے۔ وہ یہ کہ گلیلیو نے چیزوں کے کمّیاتی پہلو (quantitative aspect)کو چیزوں کے کیفیاتی پہلو (qualititative aspect) سے جدا کردیا۔ اِس طرح اس نے سائنس کی تحقیقات کو صرف اُن چیزوں تک محدود کردیا جو ناپی اور تولی جاسکتی تھیں، دوسری چیزیں اپنی تمام اہمیت کے باوجود سائنسی تحقیق کا موضوع نہ رہیں۔ اِس کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ انسان کے لیے غیر اہم قرار پاگئیں، کیوں کہ موجودہ زمانے میں فکری اعتبار سے سائنس کا غلبہ ہے۔ آج کا انسان اُنھیں چیزوں کو اہمیت دیتا ہے، جو سائنس کے اعتبار سے اہم قرار پائیں۔ اِس مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر الیکسس کیرل (وفات1944)نے اپنی کتاب انسانِ نامعلوم (Man the Unknown, 1935) میں لکھا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’یہ غلطی جو ہماری تمام مصیبتوں کی ذمے دار ہے، گلیلیو کے تولیدی نظریہ (genial idea) کی ایک غلط تعبیر کا نتیجہ ہے۔ گلیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو اَبعاد اور وزن پر مشتمل ہیں اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے، اُن ثانوی صفات سے الگ کردیا، جو شکل، بُو اور رنگ وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیںاور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ کمّیت کو کیفیت سے جدا کردیاگیاہے۔ اِس غلطی سے غیر معمولی نتائج پیدا ہوئے۔ انسان کے اندر وہ چیزیں، جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی، اُن چیزوں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں جن کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔ مثلاً فکر اور خیال کاوجود اتنا ہی اہم ہے، جتنا خوں ناب (blood serum) کے طبیعی کیمیاوی توازن کا وجود اہم ہے۔ کمّی اور کیفی اشیا کے درمیان یہ فرق اور وسیع ہوگیا، جب ڈیکارٹ نے جسم اور روح کے درمیان فرق کرنا شروع کیا۔ اِس کے بعد سے دماغ کے مظاہر ناقابلِ تشریح بن گئے۔ مادّی اشیا کو روحانی اشیا سے بالکل الگ کردیاگیا‘‘ (Religion and Science, p. 73)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
انسانی فکر میں اِس تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق ختم ہوگیا، یا صرف رسمی طورپر باقی رہا۔انسان دنیا میں اِس طرح رہنے لگا، جیسے کہ وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں، وہ اپنی قسم کا مالک آپ ہے، اُس کو یہ حق ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اِسی سے ہیومن ازم (Humanism) کا فلسفہ پیدا ہوا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ — خدا کی سیٹ پر اب خود انسان کو قبضہ حاصل ہوگیا ۔ چنانچہ ہیومن ازم کے نظریے کو اِن الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے
Transfer of seat from God to man.
انسان جب اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کے اندر اللہ اکبر کی نفسیات پیدا ہوتی ہے، یعنی ہر قسم کی بڑائی صرف خدا کے لیے ہے۔ میں اُس کے مقابلے میں صرف ایک عاجز مخلوق کی حیثیت رکھتا ہوں۔ ایسا انسان خدا کو کبیر مان کر، اپنے آپ کو اس کے مقابلے میں صغیر بنا لیتا ہے۔ اِس سے انسان کے اندر تواضع (modesty) کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عجز اور تواضع کا احساس ہی تمام اعلیٰ اخلاقی اقدار کا سر چشمہ ہے۔
اِس کے برعکس، معاملہ اُس انسان کا ہے جو خدا کو حذف کرکے سوچے۔ ایسے انسان کے پاس تقابل کے لیے صرف دوسرے انسان ہوتے ہیں۔ فطری طور پر اس کے اندر یہ احساس ابھرتا ہے کہ کوئی مجھ سے بڑا نہیں، دوسرے جو لوگ ہیں، وہ یا تو میرے برابر ہیں، یا مجھ سے چھوٹے ہیں۔ ہر آدمی کے اندر کوئی نہ کوئی خاص صفت ہوتی ہے، اِس لیے ہر آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھے۔ وہ اِس کی ضرورت نہ سمجھے کہ اُس کو کسی کے آگے جھکنا چاہیے۔ اِس قسم کا احساس بلا شبہ تمام اخلاقی اقدار کی نفی کے ہم معنیٰ ہے۔
مثال کے طورپر برطانیہ کا مدبّر لارڈ کَرزن (وفات1925) غیر معمولی ذہین آدمی تھا۔ اس کا مطالعہ بھی کافی وسیع تھا۔ چنانچہ جب وہ لوگوں سے ملتا تو اس کو محسوس ہوتا کہ دوسرے لوگ اُس سے کم ہیں۔ اس کے اندر اپنے بارے میں برتری کا احساس پیدا ہوگیا۔ لارڈکرزن کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے کہ — اُس کے معاصرین میں کوئی اس کے برابر کا نہ تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He had no equal
اِس احساسِ برتری کی بنا پر لارڈ کرزن کا پورا رویّہ غیر متوازن بن گیا۔ وہ دوسرے تمام لوگوں کے لیے منفی احساس میں جینے لگا، یہاں تک کہ سخت مایوسی کے عالم میں وہ مرگیا۔ یہی کم وبیش اُن تمام انسانوں کا حال ہوتا ہے جوخدا کو حذف کرکے اپنا فکر بنائیں۔ جن کی اخلاقیات کا سرچشمہ خدا نہ ہو، وہ اپنے آپ میں جئیں گے اور اپنے آپ ہی میں مرجائیں گے۔
دورِ شرك، دورِ الحاد
مذهبي نقطه نظر سے تاريخ كے دو دور هيں— دورِ شرك، دورِ الحاد۔ پيغمبر اسلام صلي الله عليه وسلم كے ظهور سے پهلے هزاروں سال تك دنيا ميں شرك (polythiesm) كا غلبه تھا۔ موجوده زمانه عمومي تقسيم كے اعتبار سے، الحاد (atheism) كا زمانه هے۔ تاهم الحاد انكارِ مذهب كا نظريه هے، جب كه سيكولرزم مذهب كے بارے ميں عملاً ناطرف داري كا نظريه۔
دورِ شرك اوردورِ الحاد كے درميان ايك چيز مشترك هے اور وهي چيز هے جس كو قرآن كي درج ذيل آيت ميں ’خَرص‘ كهاگيا هے وَقَالُوْا لَوْ شَاۗءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ ۭ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۤ اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ (43:20)۔ يعني، وه كهتے هيں كه اگر رحمان چاهتا تو هم اُن كي عبادت نه كرتے۔ اُن كو اِس كا كوئي علم نهيں، وه محض اٹكل سے بات كررهے هيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’خرص‘ كا لفظي مطلب هے اٹكل سے بات كرنا۔ اِس سے مراد دراصل چيزوں كي قياسي تعبير (speculative interpretation) هے۔ قديم زمانے ميں مشركين نے يهي غلطي كي تھي۔ انھوں نے يه كيا كه فطرت كا جو ظاهره اُن كو بڑا (great) نظر آيا، اس كو انھوں نے الٰه (god) كادرجه دے ديا۔ يهي چيز هے جس كي طرف قرآن ميں اِن الفاظ ميں اشاره كياگيا هے هٰذَا رَبِّيْ هٰذَآ اَكْبَرُ (6:78)۔ یعنی، یہ میرا رب ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجوده زمانے ميں سائنس كا سب سے بڑا كارنامه يه هے كه اُس نے اِس قديم متھ(myth) كو توڑ ديا۔ سائنس نے اپنے تجربات كے ذريعے ثابت كيا كه جن چيزوں كو انسان نے خدا سمجھ ليا تھا، اُن كے اندر كوئي خدائيت (divinity)نهيں هے۔ تمام چيزيں صرف فطرت (nature)كے اجزا هيں۔ به الفاظ ديگر، كائنات كي تمام چيزيں صرف مخلوق هيں، وه كسي بھي درجے ميں خالق نهيں۔ مشركانه كلچر كے نظرياتي خاتمے كا آخري دن 20 جولائي 1969 تھا، جب كه امريكي ايسٹروناٹ نيل آرم اسٹرانگ (Neil Armstrong)چار روزه خلائي سفر طے كركے چاند تك پهنچا اور چاند كي سطح پر اس نے اپنا قدم ركھ ديا۔
الحادكا دور
شرك كا مطلب هے — كسي غير خدا كو خدا كا شريك (partner) قرار دے كر اس كي تعظيم يا عبادت كرنا۔ موجوده زمانے ميں جب شرك كا دور ختم هوا تو اس كے بعد يه هونا چاهيے تھا كه دنيا ميں توحيد كا دور آجائے، ليكن اُس وقت اهلِ مغرب دنيا كے فكري قائد بنے هوئے تھے اور جيسا كه معلوم هے، قرونِ وسطي (middle ages) كے زمانے ميں مغرب كے اهلِ علم اور چرچ كے درميان شديد ٹكراؤ هوا۔ اِس ٹكراؤ كي تفصيل جان وليم ڈريپر (J. W. Draper)كي درج ذيل كتاب ميں ديكھي جاسكتي هے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Conflict Between Science and Religion (1874)
قرون وسطي كے بعد يورپ ميں انيسويں صدي ميں جديد الحادي فكر كادور آيا۔ يه دور كسي علمي تحقيق كا نتيجه نه تھا، بلكه وه تمام تر رد عمل (reaction)كے نتيجے ميں پيش آيا۔ اِس زمانے ميں علمي تحقيق كا معيار يه قرار پايا كه وه تمام تر سيكولرانداز ميں هو، يعني خدا كو حذف كركے واقعات كي توجيهه كرنا۔ اِس طرزِ فكر كے نتيجے ميں وه غير مذهبي فلسفه پيدا هوا جس كو الحاد (atheism) كهاجاتا هے۔
انسان اپني فطرت كے اعتبار سے، ايك توجيهه طلب حيوان (explanation-seeking animal) هے۔ قديم مشركانه دور ميں يه توجيهه قياسي بنياد پر كي جاتي تھي۔ موجوده ملحدانه دور ميں يه توجيهه علمي تحقيق كے نام پر كي جانے لگي۔ اِس نئے دور ميں مغربي دنيا ميں بهت سے مفكر پيدا هوئے جو خدا كو حذف كركے حيات اور كائنات كي توجيهه كرتے تھے۔
اِس طريقِ تحقيق كے نتيجے ميں ايك نيا دور پيدا هوا۔ مزيد يه كه اِسي دور ميں پرنٹنگ پريس بھي وجود ميں آيا۔ پهلے كتابيں محدود طورپر هاتھ سے لكھي جاتي تھيں، اب وه چھپ كر عمومي طورپر پھيلنے لگيں۔ اِس طرح يه هوا كه جديد الحاد مطبوعه كتابوں ميں منتقل هو كر تمام دنيا كے فكر پر چھا گيا۔جديد ملحدانه دور ميں جو مفكرين پيدا هوئے اور ان كے ذريعے جو غير مذهبي طرز فكر وجود ميں آيا، اس كے پيچھے بهت سے ذهن كارفرما تھے۔ تاهم علامتي طورپر چار افراد كو اِس معاملے ميں بنيادي اهميت حاصل هے۔ اِن چار افراد نے انساني تاريخ كو ايك نيا رخ يا الحادي رخ ديا۔ اُن كے نام يه هيں — آئزاك نيوٹن، چارلس ڈارون، سگمنڈ فرائڈ،كارل ماركس
1. Isaac Newton: from divine interpretation to mechanical interpretation
other sourceWords of another person or source
2. Charles Darwin: from Special Creation to Natural Selection.
3. Sigmund Freud: from harnessing desires to following desires.
4. Karl Marx: from duty-conscious society to right-conscious society.
1۔ بر ٹش سائنس داں آئزاك نيوٹن (وفات 1727) اصلاً صرف ايك سائنس داں تھا۔ اس كا موضوع تھا مادي دنيا ميں حركت (motion) كي توجيهه كرنا۔ اس نے دريافت كيا كه مادي دنيا ميں حركت كا نظام ميكانكل قوانين (mechanical laws) كے تحت هوتا هے۔ مثلاً شمسي نظام ميں سياروں كي گردش كا قانون۔نيوٹن كي دريافت كا كوئي تعلق مذهبي عقائد سے نه تھا، ليكن ملحد مفكرين نے اِس دريافت كو الحاد كے حق ميں استعمال كيا۔ انھوں نے كها كه اگر واقعات فطري اسباب كے تحت پيش آتے هيں تو وه فوق الفطري سبب كے تحت نهيں هوسكتے
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
يه استدلال بلا شبه ايك غير منطقي استدلال تھا، كيوں كه نيوٹن كي تشريح جس چيز كو بتارهي تھي، وه صرف ظاهري سبب تھا۔ اِس كے بعد بھي يه سوال تھاكه اسباب كے پيچھے مسبِّب (cause of the causes) كون هے۔ اِس معاملے ميں ملحدين كا استدلال تمام تر ايك مغالطے پر مبني تھا، وه كوئي سائنسي استدلال نه تھا۔ ليكن ملحد مفكرين كي يه توجيهه وقت كے ذوق كے مطابق تھي، اِس ليے وه عمومي طورپر پھيل گئي۔
2۔ چارلس ڈارون (وفات 1882) كا ارتقائي نظريه بنيادي طورپر انتخابِ طبيعي (natural selection) كے اصول پر مبني هے۔ ڈارون نے اور اس كے ساتھيوں نے اپني كتابوں كے ذريعے يه تاثر ديا كه ارتقا (evolution) كا يه نظريه ايك سائنسي نظريه هے۔ مگر علمي تعريف (definition) كے مطابق، ارتقا كا نظريه هرگز سائنسي نظريه (scientific theory) نه تھا، وه صرف ايك قياسي نظريه (speculative theory)كي حيثيت ركھتا تھا۔ مگر وقت كے عمومي ذوق كي بنا پر حياتياتي ارتقا كے اِس نظريے كو عام مقبوليت حاصل هوگئي۔ يه سمجھ ليا گيا كه حياتياتي مظاهر كي توجيه كے ليے اب خالق كو ماننے كي كوئي ضرورت نهيں، خالق كے وجود كو مانے بغير تمام حياتياتي مظاهر كي توجيه ممكن ہے۔
مگر يه صرف ايك مغالطه تھا۔ سائنس كي مزيد دريافتوں نے يه ثابت كرديا كه ارتقا كا يه نظريه علمي اعتبار سے بالكل بے بنياد هے۔ سائنس كي جديد دريافت بتاتي هے كه فطرت ميں كامل درجے كي ذهين ڈزائن (intelligent design)پائي جاتي هے۔ اِس دريافت نے علمي طورپر نظريه ارتقا كا خاتمه كرديا هے۔ كيوںكه ذهين ڈزائن ايك ذهين ڈزائنر (intelligent designer) كي موجودگي كو ثابت كرتي هے، وه بے شعور قسم كے انتخابِ طبيعي كا نتيجه نهيں هوسكتي۔
3۔ سگمنڈ فرائڈ (وفات 1939) كا نظريه يه تھا كه انسان كي ذهني ترقي اِس طرح ممكن هے كه اس كو آزاد چھوڑ ديا جائے كه وه اپني خواهشوں كو بے روك ٹوك پورا كرسكے۔ فرائڈ كے اِس نظريے كا نتيجه يه هوا كه مذهبي تصور كے مطابق، حرام وحلال كي پابندياں ختم هوگئيں۔ انسان آزاد هوگيا كه وه خود اپني خواهش كے تحت جو چاهے كرے اور جو چاهے نه كرے۔
ليكن بعد كي تحقيقات سے يه ثابت هوا كه فرائڈ كا يه نظريه ايك غير فطري نظريه هے۔ چنانچہ وه انسان كي ذهني ترقي ميں مانع هے، نه كه مدد گار۔نفسيات كا جديد مطالعه بتاتا هے كه انسان كي ذهني ترقي چيلنج كے ذريعے هوتي هے، نه كه بے قيد آزادي كے ذريعے۔ مذهب كي عائد كرده اخلاقي پابندياں ايك چيلنج كي حيثيت ركھتي هيں۔ اِس چيلنج كے ذريعے انسان كے اندر تخليقي فكر (creative thinking) پيدا هوتي هے۔ اِس طرح انسان اپني توانائي كے ضياع سے بچتے هوئے ذهني ترقي كے راستے پر سفر كرتا رهتا هے۔
4۔ كارل ماركس (وفات 1883) نے زندگي كا جو فلسفه ديا، وه اپني عملي تدبير كے اعتبار سے يه تھا كه اقتصادي ذرائع كو انفرادي كنٹرول سے نكال كر سماجي كنٹرول ميں دے ديا جائے۔ ماركس كے نزديك انساني حقوق كے تحفظ كا يهي واحد راسته تھا۔ مگر عملي تجربے كے لحاظ سے اِس فلسفے كا مطلب يه تھا كه تمام اقتصادي ذرائع كو اسٹيٹ كے كنٹرول ميں دے ديا جائے۔ اِس نظريے كا مقصد بظاهر ايك غيرطبقاتي سماج (classless society) پيدا كرنا تھا، مگر عملاً اس كا نتيجه يه هوا كه دو شديد قسم كے متحارب طبقے پيدا هوگئے۔
اِس نظريے سے دو بڑي برائياں پيدا هوئيں — ايك، يه كه مسابقت (competition) كا ختم هوجانا، جو كه تمام ترقيوں كے ليے فطري محرك كي حيثيت ركھتا هے۔ دوسري برائي جو اشتراكي نظريے كےتحت پيدا هوئي، وه يه كه لوگ عمومي طورپر رائٹ كانشس (right-conscious) بن گئے، جب كه كسي سوسائٹي كي كاميابي كا راز يه هے كه اس كے افراد ڈيوٹي كانشس (duty-conscious) هوں۔ يهاں پهنچ كر طبقاتي كشمكش نے ايك ايسي صورت اختيار كرلي جو كبھي ختم هونے والي نهيں۔ كيوں كه زندگي ميں ڈيوٹي كا تعين هوسكتا هے، ليكن رائٹ كا كوئي تعين نهيں۔
خلاصهٔ كلام
قديم دورِ شرك كا بگاڑ يه تھا كه وه خدا اور بندے كے درميان تعلق كو صحيح بنياد پر قائم كرنے ميں مانع بن گيا۔ انسان كو يه كرنا تھا كه وه اپني سوچ كو اور محبت اور خوف كے جذبات كو مكمل طورپر خدا سے وابسته كرے۔ اِسي كا نام توحيد هے اور اِسي توحيد سے انسان كے اندر تمام اعلي صفات پيدا هوتي هيں۔ ليكن مشركانه كلچر نے خدا كے شركا (partners) قرار دے كر انسان كو اس كے مركزِ اصلي سے هٹا ديا۔ نتيجه يه هوا كه انسان اپنے مطلوب ارتقا سے محروم هو كر ره گيا۔
انسان اپني فطرت كے اعتبار سے، ايك مركزِ وابستگي چاهتا هے۔ انسان كي اِس فطري طلب كا مرجع صرف ايك هے، اور وه اس كا خالق هے۔ بندے كا خالق سے تعلق قائم هونا ايسا هي هے جيسے بجلي كے بلب كا پاور هاؤس سے تعلق قائم هونا۔ شرك كي برائي يه تھي كه اس نے انسان كي اِس طلب كے ليے اس كو ايك غير واقعي بدل (false substitute) دے ديا۔ اِس بنا پر ايسا هوا كه انسان كو اس كي فطري طلب كا مركز نهيں ملا اور نتيجةً انسان اپني شخصيت كے اُس ارتقا سے محروم هوگياجو اس كے ليے پيدائشي طور پر مقدر تھا۔
جديد الحاد كے دور ميں دوباره انسان ايك اور اعتبار سے اِسي محرومي كا شكار هوگيا۔ قرآن ميں بتايا گيا هے كه انسان كو علمِ قليل دياگيا هے۔ انسان كے ليے آزادي بهت اچھي چيز هے، ليكن انسان اپني فطري ساخت كے اعتبار سے كامل آزادي كا تحمل نهيں كرسكتا۔ انسان كے ليے حقيقت پسندي يه هے كه وه اپني اِس محدوديت (limitation) كو جانے اور مقيّد آزادي (guided freedom) پر راضي هوجائے۔ جديد الحاد نے آزادي كو خير مطلق (summon bonum)قرار دے كر انسان كو اس كي فطرت كے راستے سے هٹا ديا۔ يهي وجه هے كه بظاهر هر قسم كي ترقيوں كے باوجود انسان اُس اهم ترين چيز سے محروم هوگيا جس كو ذهني سكون (peace of mind) كهاجاتا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذہب اور عقلیات
قدیم ترین زمانے سے مذہب کے دائرے میں یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ مذہب کے عقائد کو عقلی اصولوں کے مطابق، صحیح ثابت کیا جائے۔ مذہب میں چوں کہ خدا کے عقیدے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اِس لیے فطری طورپر بڑے بڑے دماغ اِس میں مصروف رہے ہیں کہ وہ عقلی دلائل کی بنیاد پر خدا کے وجود کو ثابت شدہ بنائیں۔ خدا ہماری دنیا کا خالق اور مالک ہے۔ اِس اعتبار سے بلا شبہ یہ تمام کاموں میںسب سے زیادہ بڑا کام ہے کہ خدا کے وجود کو انسانی عقل کے معیار پر ثابت شدہ بنایا جائے۔ انسان ہمیشہ عقل کی روشنی میں سوچتا ہے، اِس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انسان اپنی عقل کے معیار پر خدا کی معرفت حاصل کرے، تاکہ خدا کے بارے میں وہ اُس اعلیٰ یقین کا درجہ پاسکے جو خداوندِ عالم کی نسبت سے مطلوب ہے۔
مگر عجیب بات ہے کہ پوری انسانی تاریخ اِس معاملے میں ایک مایوس کُن تصویر پیش کرتی ہے۔ بڑے بڑے دماغوں کی کوششوں کے باوجود یہ مقصد اپنے مطلوب معیار پر حاصل نہ ہوسکا۔ اِس کا دوسرا عظیم تر نقصان یہ ہے کہ پوری تاریخ میں، کچھ استثنائی افراد کو چھوڑ کر، عام طورپر انسان خدا کی اعلیٰ معرفت سے محروم رہا ہے۔ خدا کا نام لینے والے تو بے شمار تعداد میں موجود رہے ہیں، اور آج بھی موجودہیں، لیکن وہ انسان جو خدا کی اعلیٰ معرفت سے بہرہ ور ہو، جس کو خدا کی معرفت اُس اعلیٰ درجے میں حاصل ہو، جو سینے کے اندر ایک طوفان برپا کردیتی ہے، جو دل ودماغ کے اندر ایک زلزلہ کے ہم معنیٰ بن جاتی ہے، جب کہ انسان کی زبان سے حمدِ خداوندی کا وہ کلمہ نکلے جو کائناتی میزان کو بھر دینے والا ہو، انسانی تاریخ، تھوڑے سے افراد کو چھوڑ کر، ایسے خدا پرست افراد سے خالی ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان کو اس کے اعلیٰ معیارِ عقل پر خدا کے عقیدہ کو اس کے لیے قابلِ ادراک نہ بنایا جاسکا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مذہب اور عقلیات کی یہ کہانی فلاسفہ (philosophers) سے شروع ہوتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے دماغ فلسفیانہ غوروفکر میں مشغول رہے ہیں۔ اِن لوگوں نے چاہا کہ وہ خدا کے عقیدے کو اعلیٰ تعقّل کی سطح پر قابلِ فہم بنائیں۔ لیکن وہ سب کے سب اِس مقصد میں ناکام رہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اِن فلسفیوں کے پاس غور وفکر کے لیے جو فریم ورک (framework) تھا، وہ ایک محدود فریم ورک تھا۔ اِس محدود فریم ورک کے تحت، اُنھیں خداکے عقیدے کو ایک ثابت شدہ حقیقت بنانا تھا، لیکن اُن کا محدود فریم ورک، خدا کو اپنے تصور میں لانے کے لیے بالکل ناکافی تھا۔ اِس لیے غیر معمولی فکری کوشش کے باوجود، وہ خدا کے بارے میں اعلیٰ معرفت کا شعور دینے میں ناکام رہے۔
مثال کے طورپر تمام فلاسفہ کا مشترک ذہن اپنے فلسفیانہ فریم ورک کی بنا پر یہ تھا کہ وہ اعلیٰ حقیقت کو ایک غیر شخصی وجود (impersonal being) تصور کرتے تھے۔ اِس بنا پر انھوں نے خدا کو عالمی روح(world spirit) یا عالمی تصور (world idea) جیسا نام دیا۔ مثلاً برکلے اورکانٹ اور ہیگل، وغیرہ۔ اِس تصور کے تحت، وہ فلسفیانہ فکر پیدا ہوا، جس کو آئڈیل ازم (idealism) کہاجاتا ہے۔ فلسفیانہ الٰہیات (philosophical theology) کا دوسرا نام آئڈیل ازم ہے۔
اِس کے بعد ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کا دور آیا۔ عباسی خلافت کے زمانے میں ایک نیا علم پیداہوا، جوعلمِ کلام(theology) کہاجاتاہے۔ جو لوگ اِس علم میں مشغول ہوئے، وہ متکلمین (theologists) کے نام سے مشہورہیں۔ متکلمین اسلام کے اِس گروہ نے ازسرِ نو یہ کوشش کی کہ وہ مذہبی عقیدہ، یا خدائی عقیدہ کو عقل کی اصطلاحوں میں بیان کریں۔ لیکن ان کی کمزوری یہ تھی کہ اُن کے پاس فریم ورک کے نام سے جو چیز موجود تھی، وہ دوبارہ یونانی منطق (Greek logic) تھی۔
یونانی منطق، دراصل قیاسی منطق (syllogism) کا دوسرا نام ہے۔ یہ منطق کا وہ طریقہ ہے، جو سائنسی منطق (scientific logic) کے ظہور میںآنے سے پہلے استعمال ہوتا تھا۔ مسلم متکلمین کے پاس دلیل قائم کرنے کے لیے یہی قدیم منطق قابلِ حصول تھی۔ یہ منطق، تعقل پسند انسان کو مطمئن کرنے کے لیے ناکافی تھی۔ اِس بنا پر مسلم متکلمین بھی عقلیاتِ اسلام کے سفر کو زیادہ آگے نہ بڑھا سکے۔ وہ بھی اِس معاملے میں اُسی طرح ناکام ثابت ہوئے، جس طرح اُن سے پہلے فلاسفہ (philosophers) اِس معاملے میں ناکام ثابت ہوچکے تھے۔
اِس کے بعد انیسویں صدی اوربیسوی صدی میں جدید سائنس (modern science)کا زمانہ آیا۔ اِس زمانے میں فطرت میں چھپے ہوئے نئے حقائق دریافت ہوئے۔ اِن حقائق نے تاریخ میں پہلی بار وہ علمی بنیاد فراہم کی، جس کی مدد سے الٰہیات (theology) کو ازسرِ نو سائنسی الٰہیات (scientific theology) کے طورپر مرتب کیا جاسکے۔ سائنسی الٰہیات کے ظہور نے اِس بات کو آخری حد تک ممکن بنا دیا کہ خدا پرستانہ عقائد کو خود اُس علمی معیار پر مدلل کیا جاسکے، جس کو انسان کے نزدیک مسلّمہ عقلی معیار کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔
مگر عجیب بات ہے کہ یہ جدید سائنسی امکان اپنی اعلیٰ ترین صورت میں سامنے آیا، لیکن اُس کو الٰہیات کے شعبے میں استعمال نہ کیا جاسکا۔ جدید سائنس کے ظہور کے بعد علم کے سیکڑوں شعبوں میںایک انقلاب آگیا۔ ہر شعبے میں یہ کوشش کی گئی کہ علوم کو جدید سائنسی معیار پر ڈیولپ کیا جاسکے۔ علمِ خلیّات (cytology) سے لے کر علمِ فلکیات (astronomy) تک بے شمار علمی شعبوں کو سائنسی ترقی کا درجہ ملا، لیکن الٰہیات کا علم اِس اعتبار سے ایک مستثنیٰ علم بنا رہا۔
بیسویں صدی ، سائنس کی زبردست سرگرمیوں کی صدی ہے، مگر الٰہیات کے اعتبار سے یہ صدی کسی حقیقی سرگرمی سے خالی نظر آتی ہے۔ میرے علم کے مطابق، بیسویں صدی میں دو ایسے آدمی اٹھے، جو ایک طرف تو پورے معنوں میں سائنٹسٹ تھے، اور دوسری طرف، بظاہر وہ اِس بات کا شعور رکھتے تھے کہ اب وقت آگیا ہے کہ الٰہیات کو جدید سائنس کی بنیاد پر مرتب کیا جائے۔ اور اِس طرح، الٰہیات کو وہی درجہ دے دیا جائے جو درجہ دوسرے علومِ انسانی کو حاصل ہے۔ یہ دو آدمی حسب ذیل تھے
سرجیمز جینزSir James Jeans (1877-1946)
ڈاکٹر عبد السلام Dr. Abdus-Salam (1926-1996)
سر جیمز جینز اور ڈاکٹر عبد السلام، دونوں نے جدید الٰہیات کے موضوع پر کچھ جُزئی، لیکن اہم کام انجام دیا۔ مثلاً سر جیمزجینز نے اپنی کتاب (The Mysterious Universe, 1930) میں خالص سائنسی تجزیہ (Scientific analysis)کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کائنات اتنی زیادہ با معنیٰ ہے کہ وہ الل ٹپ (at random) طورپر وجود میں نہیں آسکتی، یقینا وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وجود میں آئی ہے۔ سر جیمز جینز نے لکھا ہے کہ کائنات کا خالق ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) معلوم ہوتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ڈاکٹر عبد السلام ایک پروفیشنل سائنٹسٹ تھے۔ نظریاتی فزکس (theoretical physics) میںانھوں نے کیمبرج یونی ورسٹی (لندن) سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ جدید الٰہیات کے اعتبار سے اُن کا کام بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جس ریسرچ پر اُن کو فزکس کا نوبل پرائز(1979) ملا، وہ الٰہیات کے اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ زیر نظر موضوع پر ڈاکٹر عبد السلام کی ایک کتاب (Ideal and Realities) ہے، جو پہلی بار 1984 میں چھپی ۔
سرآئزک نیوٹن (وفات 1727) کے زمانے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ چار بنیادی طاقتیں (forces) ہیں، جو پوری کائنات کو کنٹرول کرتی ہیں۔ آئن سٹائن (وفات 1955) نے اِس تعداد کو گھٹانا چاہا، لیکن وہ اِس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے خالص ریاضیاتی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں چار نہیں ہیں، بلکہ تین ہیں۔ اِس تحقیق پر اُن کو فزکس کا نوبل پرائز دیاگیا۔ بعد کو نظریاتی فزکس کے مشہوربرٹش پروفیسر اسٹفین ہاکنگ (پیدائش 1942)نے اِس تعداد کو مزید گھٹایا، اور یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقت صرف ایک ہے۔ اِس طاقت کو انھوں نے واحد ڈور (single string) کا نام دیا۔
اِس طرح خالص سائنٹفک ریسرچ کے ذریعے یہ ثابت ہوا کہ کائنات میں تعدّد (plurality) نہیں ہے، بلکہ توحید (oneness) ہے۔ گویا کہ کائنات کا نیچر مؤحّدانہ (monotheistic) ہے، اسکا نیچر مشرکانہ (polytheistic) نہیں ہے۔ اِس سائنٹفک تحقیق میں ڈاکٹر عبد السلام کا بہت بڑا حصہ ہے۔ انھوں نے پہلی بار ’’چار طاقتوں‘‘ کے نظریے کو توڑا، اور سائنسی طورپر ’’ایک طاقت‘‘ کو ماننے کا راستہ ہموار کیا۔
سرجیمز جینز اور ڈاکٹر عبدالسلام، دونوں یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ وہ سائنسی الٰہیات (scientific theology) کو مرتب کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دیں۔ لیکن دونوں اِس موضوع پر صرف جُزئی کام کرسکے، وہ اِس موضوع کا تکمیلی باب نہ لکھ سکے۔بظاہر دونوں کا عذر ایک تھا۔ دونوں ہی اپنی اکیڈمک سرگرمیوں اور پروفیشنل مشغولیت سے اتنا زیادہ وابستہ رہے کہ اُن کو سائنسی الٰہیات کے موضوع پر مزید کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ موضوع، دوسرے تمام اہم موضوعات کی طرح، مکمل ڈیڈی کیشن (dedication) کا تقاضا کرتا ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی اِس کام کی یہ ضروری قیمت نہ دے سکا۔ اِس لیے دونوں میں سے ہرایک اِس کام کو انجام دینے سے قاصر رہا۔
اسلام کو عقلی بنیاد (rational basis) دینے کے لیے کچھ اور لوگوں نے کتابیں تصنیف کیں۔ لیکن اصل ضرورت کے اعتبار سے یہ کتابیں کسی حقیقی اہمیت کی حامل نہ تھیں۔ اصل مقصد جدید سائنٹفک مائنڈ کو ایڈریس کرنا تھا، مگر اِن کتابوں سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوا۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں
1 ۔ حجۃ اللہ البالغۃ،شاہ ولی اللہ دہلوی
2 ۔ تشکیل جدید الٰہیاتِ اسلامیہ، ڈاکٹر محمد اقبال
(The Reconstruction of Religious Thought in Islam)
3 ۔ قصَّۃُ الإیمانِ، بَینَ العِلمِ وَالفَلسَفَۃِ وَالقُرآنِ، شیخ ندیم الجسر
4 ۔ قرآن اور علمِ جدید، ڈاکٹر محمد رفیع الدین
میں نے اِن کتابوں کا، اور اِس طرح کے دوسرے بہت سے مضامین اور مقالات کا مطالعہ کیا۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ یہ تمام کتابیں اصل مسئلے کی نسبت سے بہت ناقص ہیں۔ وہ ایک طاقت ور چیلنج کا صرف کمزور جواب ہیں۔ یہاں پہنچ کر میرے اندر ایک نیا احساس جنم لینے لگا۔ میںنے کئی ایسے خواب دیکھے، جو اِس بات کا اشارہ تھے کہ غالباً قضاءِ الٰہی کا یہ فیصلہ ہے کہ اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود، میں اِس خدمت کو انجام دوں۔
موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنما کسی نہ کسی ردّ عمل کے تحت اٹھے۔ ان کی زندگی کا کورس رد عمل کی نفسیات کے تحت بنا۔ مگر میرا معاملہ ایک استثنائی معاملہ تھا۔ کسی قسم کے رد عمل نے میری زندگی کا کورس متعین نہیں کیا، بلکہ فطرت کا ایک واقعہ تھا، جس نے میری زندگی کا رخ متعین کیا۔
یہ واقعہ 27 جولائی 1955 کو پیش آیا۔ اُس وقت میںاعظم گڑھ (یوپی) میںتھا۔ اِس سال اُس علاقے میں نہایت شدید بارش ہوئی تھی۔ قریبی ندی ٹونس (Tons River)کا پانی پھیل کر شہر کی آبادی تک پہنچ گیا۔ برٹش دور میں یہاں 1871 میں شہر کے کنارے ایک بہت بڑا بند بنایا گیا تھا۔ یہی بند سیلاب سے حفاظت کا واحدذریعہ تھا۔ مگر اِس سال سیلاب کا پانی اتنا زیادہ بڑھا کہ لال ڈِگی کا یہ بند اُس کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ یہ میرے لیے ایک بھیانک تجربہ تھا۔ اِس تجربے کو میں نے اُسی زمانے میں قلم بند کیا تھا جو اخبار ’’دعوت‘‘ (نئی دہلی) کے شمارہ 5 ستمبر 1955 میں چھپا تھا۔ اُس میں، میںنے اپنے اِس مشاہدے کو اِن الفاظ میں لکھا تھا
’’26اور 27 جولائی 1955 کی درمیانی رات کو ضلع کلکٹر (اعظم گڑھ) کی طرف سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے یہ اعلان ہوا— ’’لال ڈگی کا بند ابھی ٹوٹنا چاہتا ہے۔ آپ لوگ اپنی جانوں کو بچانے کے لیے اونچی جگہوں پر چلے جائیں‘‘۔ اُس وقت رات کے ایک بجے تھے۔ سارا شہر جاگ اٹھا اور عجیب سنسنی پھیل گئی۔ لوگ اپنے کچے اور پکے گھروں سے نکل کر بند کی طرف دوڑے۔ سیکڑوں آدمیوں نے پھاوڑا اور بوریا لے کر اُس جگہ مٹی ڈالنی شروع کردی، جہاں سے بند پھٹ گیاتھا۔ ایسے ایسے لوگ جنھوں نے شاید زمین پر کبھی ننگے پاؤں قدم بھی نہ رکھا ہوگا، وہ اپنے سروں پر مٹی کا ٹوکرا لے کر ڈھو رہے تھے۔ درجنوں پیٹرومیکس کی روشنی میں ساری رات کام ہوا اور دوسرے دن دوپہر تک ہوتا رہا۔ بالآخر انجینئر نے کہہ دیا کہ اب بند قابو سے باہر ہے۔ آخر کار بارہ بجے دن کے بعد بند ٹوٹ گیا اور پانی سڑکوں پر بہنے لگا۔ سارے شہر میں کہرام مچ گیا۔ دکانیں بند ہوگئیں۔ لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف بھاگ رہے تھے اور پانی ان کے پیچھے اِس طرح دوڑ رہا تھا کہ گویا وہ اُن کا پیچھا کررہا ہے۔ زندگی کے مسائل سمٹ کر بس سیلاب کے گرد جمع ہوگئے ، اور چند دنوں کے لیے شہر میں قیامت کا منظر دکھائی دینے لگا‘‘۔ (قرآن کا مطلوب انسان، صفحہ 61)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
فطرت کا یہ واقعہ میرے لیے قیامت کی یاد دہانی کے ہم معنیٰ تھا۔ یہ گویا، بڑی قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت تھی جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اِس واقعے کو دیکھ کر جو تاثر میرے اوپر ہوا، وہ میری پوری زندگی پر چھا گیا۔ اِس کے بعد میری تقریروں اور تحریروں میں اِنذارِ آخرت کا پہلو نمایاں وصف کے طورپر شامل ہوگیا۔ میرے استاد مولانا امین احسن اصلاحی (وفات 1998) سے ایک شخص نے پوچھا کہ قرآن کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوںنے جواب دیا کہ— سرگذشتِ انذار۔ میںسمجھتا ہوں کہ یہ بات بلا شبہ د رست ہے، اور جو لوگ میری تقریر اور تحریر سے واقف ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میری تقریر اور تحریر میں یہی انداز غالب نظر آتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح میری زندگی میں ایک اور واقعہ پیش آیا۔ اِس واقعے نے میری تحریر میں سائنسی اسلوب کو گہرائی کے ساتھ شامل کردیا۔ فروری 1955 کا واقعہ ہے۔ لکھنؤ کے امین الدولہ پارک میں جماعتِ اسلامی ہند کے زیر اہتمام ایک اجتماع ہوا۔ اِس موقع پر اسلام کے عقلی اثبات پر راقم الحروف کی ایک تقریر ہوئی۔ تقریر کے بعد جب اعلان کیا گیا کہ وہ چھپی ہوئی صورت میں یہاں بک اسٹال پر موجود ہے، تو انسانوں کا ایک ہجوم اُس کو لینے کے لیے اسٹال پر ٹوٹ پڑا۔ تقریر کے مطبوعہ نسخے ہاٹ کیک (hot cake)کی طرح فروخت ہوگئے۔ بعدکو یہ تقریر پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوئی۔ اردو میںاُس کا نام تھا ’’نئے عہد کے دروازے پر‘‘، ہندی میں ’’نو یُک کے پرویش دُوار پر‘‘ اور انگریزی میں
On the Threshold of a New Era
اِس مقالے کی ترتیب کے دوران میںنے جومطالعہ کیا، اُس سے دعوت کا ایک پہلو زیادہ واضح ہو کر سامنے آیا، وہ یہ کہ جدید سائنسی دریافتوں نے جو نیا مواد (data) فراہم کیا ہے، وہ ہم کو موقع دیتا ہے کہ ہم زیادہ مدلل اور موثر انداز میں دعوتِ حق کا کام کرسکیں۔ اِس اعتبار سے دیکھیے تو سائنس گویا کہ اسلام کا علمِ کلام (theology) ہے۔ سائنسی دریافتوں نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ حق کی دعوت کو ایسے اسلوب میں پیش کیا جائے، جو جدید انسان کے لیے قولِ بلیغ (4:63)کے ہم معنیٰ بن جائے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِسی زمانے میں مجھ پر قرآن کی ایک آیت کا مفہوم زیادہ واضح انداز میں کھُلا۔ یہ آیت قرآن کی سورۃ حم السجدہ میں ہے، مگر عجیب بات ہے کہ پچھلے زمانے میں قرآن کی تفسیریں کثیر تعداد میں لکھی گئیں، لیکن اِس آیت کی گہری معنویت مفسرین سے اوجھل رہی۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے ’’عنقریب لوگوں کو ہم دکھائیں گے اپنی نشانیاں، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر یہ کھل جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے‘‘ (41:53)۔ قرآن کی اِس آیت میں دراصل اُس دور کی پیشین گوئی ہے جس کو جدید سائنسی دور کہاجاتا ہے۔ جدید سائنس میں فطرت کو مطالعے کا موضوع بنایا گیا۔ یہ فطرت پوری کی پوری، خدا کی تخلیق ہے۔ اِس تخلیق کے اندر خالق کی نشانیاں (signs of God) بے شمار تعداد میں موجود تھیں، مگر وہ مخفی انداز میں تھیں۔ جدید سائنس (modern science) نے اِن نشانیوں کو کھولا، یہاں تک کہ یہ نشانیاں انسانی معلومات کے دائرے میںآگئیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فطرت کی اِن نشانیوں کے دوپہلو تھے۔ ایک، اُن کا ظہور۔ اور دوسرے، تبیینِ حق کے لیے اُن کا استعمال۔ اِس معاملے میں پہلا کام سائنس دانوں کو کرنا تھا۔انھوں نے غیر معمولی کوشش کے ذریعے اِس کام کو بھر پور طور پرانجام دے دیا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی، اِنھیں سائنسی دریافتوں کی صدی ہے۔ یہ دریافتیں کتابوں کی صورت میںچھپ کر ہر جگہ پھیل گئیں۔اِس کے بعد اِس سلسلے میں دوسرا کام یہ تھا کہ مسلم علما اور اہلِ علم اِن معلومات سے واقفیت حاصل کریں اورمطلوب علمی انداز میں یہ بتائیں کہ یہ معلومات کس طرح اسلامی عقائد کے لیے استدلال کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کی پیشگی خبر کے باوجود دورِ جدید میں اٹھنے والے مسلم علما اور اہلِ علم اِس جدید امکان سے بے خبر رہے، اور نتیجتاً وہ اُس کو تبیین حق کے لیے استعمال بھی نہ کرسکے۔
حدیث میں خواب کو نبوت کا چھیالیسواں درجہ بتایاگیا ہے، یعنی ختمِ نبوت کے بعد بھی الہامِ خداوندی کا ایک درجہ باقی ہے جس کے ذریعے خدا اپنے بندوں کو خصوصی رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ یہ خواب کا ذریعہ ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ مجھ پر بہت سی باتیں خواب کے ذریعے کھلیں۔ یہ بات بھی مجھ پر خواب کے ذریعہ واضح ہوئی کہ تبیینِ حق کے اِس اہم کام کے لیے مجھ کو اٹھنا ہے، اپنے تمام تر عجز کے باوجود اللہ کے بھروسے پر مجھ کو یہ کام انجام دینا ہے۔ اِسی ذیل کا ایک تجربہ وہ ہے جو گویا کہ مجھے بین النوم والیقظہ پیش آیا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ستمبر 1963کی 21 تاریخ تھی۔ راقم الحروف ندوہ (لکھنؤ) کی مسجد میں تھا اور ظہر کی سنتیں پڑھ کر جماعت کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ذہن میں یہ خیال گھوم رہا تھا کہ اسلام کے تعارف کے لیے آج ایک ایسی کتاب کی ضرورت ہے جو وقت کی زبان اور اسلوب میں لکھی گئی ہو اور جدید انسان کو مطالعہ کے لیے دی جاسکے۔ ’’کاش اللہ تعالیٰ مجھے اِس کتاب کے لکھنے کی توفیق دے‘‘۔ یہ تمنا بے ساختہ دعا کی شکل میں میری زبان سے نکلی اور اس کے بعد یکایک یہ انگریزی لفظ میری زبان پر تھاGod Arises۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ گویا کتاب کا نام تھا جو اچانک میرے ذہن میں وارد ہوا۔ اِس سے پہلے کبھی یہ فقرہ میرے ذہن میںنہیں آیا تھا، حتی کہ کتاب کے نام کی حیثیت سے اس کی معنویت بھی اس وقت پوری طرح مجھ پر واضح نہ تھی۔ شام کو عصر کی نماز کے بعد میںحسب معمول نریندر دیو لائبریری گیا جو ندوہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر (Webster) کی لغت میں لفظ arises کے استعمالات دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Let God arise, let His enemies be scattered,
Let them also that hate Him flee before Him,
As smoke is driven away, so drive them away;
As wax melteth before the fire, so let the
Wicked perish at the presence of God.
(Psalms 68:1-2)
خدا اٹھے۔ اس کے دشمن تتر بتر ہوں۔ وہ جو اس کا کینہ رکھتے ہیں، اس کے حضور سے بھاگیں۔ جس طرح دھواں پراگندہ ہوتا ہے، اسی طرح تو انھیں پراگندہ کر۔ جس طرح موم آگ پر پگھلتا ہے، شریر خدا کے حضور فناہوں۔
Qur'anQuotes the Qur'an
زبور کی یہ دعا حقیقتاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی پیشین گوئی ہے۔ یہ اسی منصوبۂ الٰہی کا ذکر ہے جو قرآن میں سورۃ صف (61:8-9) اور سورۃ فتح (48:28) میں وارد ہوا ہے۔ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ جس عظیم الشان سطح پر اپنے دین کا اظہار کرنے والا تھا، اسرائیلی پیغمبر (داؤد) کی زبان سے بشکل دعا اس کو کہلایا گیا۔ حضرت داؤد نبی آخر الزماں سے ڈیڑھ ہزار برس قبل پیداہوئے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس طرح گویا اذان اور اقامت کے درمیان مسجد کے اس تجربے میں مجھ کو کتاب کا نام اور اس کا موضوع دونوں بتادیا گیا۔ عمر کی چھٹی دہائی میں پہنچنے کے بعد میری بہترین تمنا یہ تھی کہ میںاسلام پر ایک کتاب تیار کرسکوں جو اردو اور عربی کے علاوہ انگریزی میں God Arises کے نام سے شائع ہو۔
مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو پکار رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ— اے میری امت، خداکے دین کو، وقت کے افکار کی طرف سے بہت بڑا چیلنج در پیش ہے۔ اٹھو، اور اِس چیلنج کا موثر جواب دے کر، خدا کے دین کو دوبارہ سرفرازی عطا کرو۔
عالمِ تصور میں مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ پیغمبر نے بار بار اپنی امت کو پکارا، لیکن امت کا کوئی شخص نہیں اٹھا، جو اس پکار پر لبیک کہے۔ آخر کار، میں اپنے عاجز قدموں کے ساتھ اٹھتا ہوں، اور کہتا ہوں کہ اے اللہ کے رسول، اگر چہ میںآپ کا ایک کم زور امتی ہوں، لیکن میںخدا کے بھروسے پر اِس کام کو انجام دوں گا، اور پھر خدا کے رسول، دوبارہ وہی بات کہتے ہیں جو آپ نے مکہ میں اُس وقت کہی تھی، جب کہ آپ کی پکار کے بعد بڑوں میں سے کوئی نہیں اٹھا، اور بنو ہاشم کے ایک نوجوان نے کہا تھا کہ میںآپ کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوں۔ اُس وقت آپ نے فرمایا أنتَ یا علي، أنتَ یا علي۔عالمِ تصور میں، خدا کے رسول کا یہ جواب پاکر میرا حوصلہ بڑھا، اور میں نے طے کرلیا کہ مجھے یہ کام انجام دینا ہے۔ میرا سہارا صرف ایک احساس تھا، جو حضرت مسیح کے الفاظ میں یہ تھا— انسان سے تو یہ کام نہیں ہوسکتا، مگر خدا سے ہوسکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے جب یہ فیصلہ کیا کہ مجھے سائنسی دریافتوں کی مدد سے جدید اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہے، تو یہ میرے لیے کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ یہ میرے جیسے انسان کے لیے ہمالیہ پہاڑ کو اپنے سر پر اٹھانے سے زیادہ مشکل تھا۔ اِس مقصد کے لیے مجھے انگریزی زبان میں بھر پور قدرت حاصل کرنا تھا۔ جدید افکار (modern thought)کو سمجھنے کے لیے مختلف علوم کو گہرائی کے ساتھ پڑھنا تھا۔ جدید الحاد کا موقف کیا ہے، اس کو براہِ راست مطالعے کے ذریعے جاننا تھا۔
اُس زمانے میں، میںنے مختلف شہروں کے سفر کیے۔ مختلف شخصیتوں سے ملاقاتیں کیں۔ مختلف لائبریریوں سے کتابیں حاصل کیں۔ اُس زمانے میں میری دیوانگی کا عالم یہ تھا کہ میں ہر وقت پڑھتا رہتا تھایہاں تک کہ راستہ چلتے ہوئے کتاب میرے ہاتھ میں ہوتی تھی اور میں اس کو کھول کر پڑھتا رہتا تھا۔ میری ماں زیب النسا (وفات 1985) اکثر یہ کہتی تھیں کہ یہ شخص کسی نہ کسی دن سڑک پر چلتے ہوئے کسی گاڑی سے ٹکرا جائے گا اور سڑک ہی پر اس کی موت واقع ہوجائے گی۔ میرے اِس دیوانہ وار مطالعے کی کسی نے بھی حوصلہ افزائی نہیں کی، لیکن میں ہر چیز سے بے پروا ہو کر اپنے کام میں لگا رہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آزادیِ ہند (1947)کے بارے میں ایک کتاب ہے جو دو مصنفین نے مشترک طورپر لکھی تھی۔اِن میں سے ایک شخص برطانیہ کا تھا، اور دوسرا فرانس کا۔ اِس کتاب کا نام ہے۔ آدھی رات کی آزادی(Freedom at Midnight) ۔
اپنی اِس کتاب کی تیاری میں مذکورہ دونوں مصنفین نے بے شمار چیزوں کا مطالعہ کیا۔ کتاب کے چھپنے کے بعد ایک انٹرویو میںانھوںنے کہا تھا
We lived like hermits, and we produced ‘Freedom at Midnight’
اسلام پر عصری اسلوب (modern idiom) میں کتاب تیار کرنے کے لیے میرا بھی یہی حال ہوا۔ مذکورہ مثال کو لیتے ہوئے میںیہ کہوں گا کہ— میںنے رہبان کی مانند زندگی گزاری، اور میں نے خدا کے موضوع پر اپنی کتاب تیار کی
I lived like hermit, and I produced my book on God.
جیسا کہ عرض کیاگیا، موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے فطرت کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، وہ گویا کہ خدائی نشانیاں ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ آفاق اور انفس میں آیاتِ الہی کے ظہور کے ہم معنیٰ ہیں (41:53)۔ اِس سلسلے میں اپنے مطالعے کے نتائج کو میںنے اپنی مختلف کتابوں میںتفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہاں مختصر طورپر چند مثالیں درج کی جاتی ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1۔ قدیم فلاسفہ اپنے فلسفیانہ فریم ورک کی بنا پر شخصی خدا (personal God) کے طورپر خدا کا ادراک نہیں کرپاتے تھے۔ چنانچہ انھوںنے خدا کو غیر شخصی خدا (impersonal God) بتایا۔ مگر غیر شخصی خدا صرف ایک خیالی خدا تھا، وہ (cosmic rays) یا قوتِ کشش (gravity) کے مانند تھا۔ خدا کے عقیدے کی حیثیت سے اس کی کوئی معنویت نہ تھی۔
لیکن سائنس کی تحقیقات کے بعد ایک نئی دنیا انسان کے سامنے آئی، ایک ایسی دنیا جو لازمی طورپر یہ تقاضا کررہی تھی کہ کائنات کے وجود و بقا کے پیچھے ایک زندہ شعور ہے، نہ کہ صرف مادّی عمل۔ اِس طرح سائنس دانوں نے خدا کا نام لیے بغیر، خدا جیسی ایک ہستی کا اعتراف کرلیا۔ اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے درج ذیل کتاب کا مطالعہ کیجیے
Sir Fred Hoyle, The Intelligent Universe (1983)
اِس طرح، غیر شخصی خدا (Impersonal God) کے فلسفیانہ قیاس کے لیے کوئی علمی بنیاد (Scientific base) باقی نہ رہی۔ سائنس کی نئی دریافتوں نے بتایا کہ خالص علمی اور عقلی اعتبار سے شخصی خدا (personal God) کا تصور زیادہ قابل فہم ہے۔
2۔ یہی معاملہ علّۃ العِلل (cause of the causes) کا ہے۔ قدیم متکلمین نے درست طورپر خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے علّۃ العلل کا نظریہ پیش کیا تھا، لیکن ہزار برس پہلے کے زمانے میں جو معلومات انسان کو حاصل تھیں، اُن کے مطابق، علّۃ العلل کی حیثیت صرف ایک قیاس کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن بیسویں صدی عیسوی میں فلکیاتی تحقیقات کے دوران ایک نئی دریافت ہوئی، جس کو بگ بینگ کہاجاتا ہے۔ بگ بینگ کا نظریہ اب ایک ثابت شدہ نظریہ بن گیا ہے۔
بگ بینگ کے نظریے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تقریباً پندرہ بلین سال پہلے ایک کائناتی گولا (cosmic ball) تھا۔ یہ کائناتی گولا موجودہ کائنات کے تمام ذرات (particles) پر مشتمل تھا۔ اِس کاسمک بال کے باہر، ہر طرف صرف خلا پایا جاتا تھا۔ پھر اچانک ایک وقتِ خاص پر اِس کاسمک بال کے اندر ایک انفجار (explosion) ہوا اور پھر دفعتاً اس کے اَن گنت ذرات وسیع خلا میں پھیل گئے۔ پھر دھیرے دھیرے لمبے عمل کے دوران موجودہ کائنات بنی۔
بگ بینگ کی اِس دریافت کے بعد قدیم متکلمین کا علۃ العلل کا نظریہ محض قیاسی نظریہ نہیں رہا، بلکہ وہ ایک ایسا نظریہ بن گیا ہے، جس کی پشت پر ایک خالص سائنسی بنیاد موجود ہے۔ کاسمک بال میں انفجار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی خارجی عامل (factor) موجود تھا جس کی مداخلت سے یہ انفجار وجود میں آیا۔ کیوں کہ طبیعیاتی قوانین کے مطابق، خود بخود یا کسی داخلی سبب سے ایسا انفجار ہر گز ممکن نہ تھا۔ اِس طرح، علّۃ العلل کا نظریہ اب ایک ثابت شدہ نظریہ بن چکا ہے، نہ کہ صرف ایک قیاسی نظریہ۔
3۔ کائنات میں بظاہر بہت زیادہ تنوع پایا جاتا ہے۔ اِس تنوع کی بنا پر شرک کا عقیدہ پیدا ہوا۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ جب تخلیق میں تنوع ہے، تو اس کا خالق بھی کئی ہونا چاہیے۔ نیوٹن کے زمانے میں یہ نظریہ قائم کیاگیا کہ چار طاقتیں ہیں جو پورے عالم کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ چار طاقتیں ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1 ۔ قوتِ کشش (gravitational force)
2 ۔ برقی مقناطیسی قوت(electromagnetic force)
3 ۔ طاقت ور نیوکلیر قوت(strong nuclear force)
4 ۔ کم زور نیو کلیر قوت(weak nuclear force)
یہ قدیم سائنسی نظریہ بظاہر شرک کے عقیدے کی موافقت کررہا تھا۔ لیکن سائنس داں اِس قسم کے چار نظریے پر مطمئن نہ تھے۔ ان کو نظر آتا تھا کہ کائنات میںبہت زیادہ ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ ایسی ہم آہنگ کائنات میںچار طاقتوں کا نظریہ انھیں بے جوڑ نظر آتا تھا۔ چنانچہ سائنس دانوں کی تحقیق جاری رہی، یہاں تک کہ یہ ثابت ہوگیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقت صرف ایک ہے۔ اِس دریافت کو سنگل اسٹرنگ تھیوری (single string theory) کہاجاتا ہے۔
اِس جدید سائنسی دریافت نے شرک (polytheism) کے نظریے کا علمی طورپر خاتمہ کردیا۔ اب علم اور عقل کی بنیاد صرف توحید (monotheism) کے نظریے کو حاصل ہے۔ اب توحید کا نظریہ ایک ثابت شدہ سائنسی نظریے کی حیثیت رکھتا ہے، نہ کہ سادہ طور پر صرف ایک مذہبی عقیدہ۔
4 ۔ قدیم زمانے میں علماءِ الٰہیات، خدا کے وجود کو اِس طرح ثابت کرتے تھے کہ — کائنات کا مطالعہ بتاتاہے کہ یہاں ہر چیز میںکامل ڈزائن پایا جاتا ہے۔ اور جہاں ڈزائن (design) ہو، وہاں ڈزائنر (designer) کا وجود بھی اپنے آپ ثابت ہوجاتا ہے
When there is a design, there is a designer. and when the designer is proved, God is also proved.
یہ استدلال خالص منطقی اعتبار سے ایک درست استدلال تھا، لیکن قدیم زمانے میں سمجھا جاتا تھا کہ یہ ثانوی (secondary) درجے کا استدلال ہے۔ وہ اوّل درجے کا استدلال نہیں۔ کیوں کہ یہ استدلال ایک استنباط (inference) پر مبنی تھا، نہ کہ براہِ راست مشاہدے کی بنیاد پر۔
سائنسی تحقیق جب تک عالمِ کبیر (macro world) تک محدود تھی، اُس وقت تک یہ استدلال بظاہر درست نظر آتا تھا۔ کیوںکہ اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام حقیقی چیزیں اپنا مادّی جسم رکھتی ہیں، اِس بنا پر وہ قابلِ مشاہدہ (visible) ہیں۔ گویا کہ جو چیز دور بین یا خورد بین کے ذریعے نہ دیکھی جاسکتی ہو، وہ کوئی حقیقی چیز بھی نہیں۔لیکن بیسویں صدی میں سائنس کی تحقیقات، عالمِ کبیر سے گزرکر عالمِ صغیر (microworld) تک پہنچ گئیں۔ یہ سائنس کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب تھا۔ اِس کے بعد یہ ثابت ہوا کہ یہاں ایسی چیز بھی موجود ہوسکتی ہے، جونہ خورد بین سے دیکھی جاسکے اور نہ دوربین سے۔ اِس طرح کی چیزوں کو مشاہداتی ذرائع سے معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی چیز کے وجود کو صرف استنباط (inference) کے ذرائع سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
سائنس کی اِس ترقی کے بعد یہ ہوا کہ معقول استدلال (valid argument) کا قدیم تصور ختم ہوگیا ۔ اب علمی طورپر یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال (inferential argument) بھی اتنا ہی معقول (valid) ہے، جتنا کہ براہِ راست مشاہدے کی بنیاد پر قائم کیا ہوا استدلال۔
اسلام اور عقل
اسلام اور عقل ايك قديم موضوع هے۔ اِس موضوع پر بهت سي چھوٹي اور بڑي كتابيں لكھي گئي هيں۔ مسلمانوں كے علمي ذخيرے ميں اِس سلسلے ميں جو كتابيں موجود هيں، اُن ميں حسب ذيل چار كتابيں خصوصي اهميت ركھتي هيں
1۔ قَواعِدُ الْأَحْكامِ في إِصْلاحِ الأَنامِ (دو جلديں)عز الدين بن عبد السلام (وفات 1262ء)
2۔ إِعْلامُ الْمُوَقِّعينَ(چار جلديں) ابن القیم الجوزيه (وفات 1350ء)
other sourceWords of another person or source
3۔ الْمُوافَقاتُ في أُصولِ الشَّريعَةِ(چار جلديں) ابو اسحاق الشاطبي (وفات 1388ء)
4۔ حُجَّةُ اللهِ البالِغَةُ (دو جلديں) شاه ولي الله الدهلوي (وفات 1763ء)
يه چاروں كتابيں اپنے موضوع پر بلا شبه نهايت اهميت كي حامل هيں۔ تاهم ان ميں ايك مشترك كمي يه هے كه وه سب جديد دورِ عقل (modern age of reason)سے پهلے لكھي گئي هيں۔ قديم زمانے ميں عقلي غور وفكر مبني بر قياس هوتا تھا، موجوده زمانے ميں عقلي غور وفكر مبني برسائنس هوتا هے۔ اِس طرح اب تعقل كا فريم ورك بدل گيا هے۔ اب اسلامي عقليات وهي هے جو سائنسي فريم ورك كي بنياد پر تيار كي جائے۔
عقل (reason) كيا هے۔ علمي تعريف كے مطابق، عقل اُس ذهني صلاحيت كا نام هے جس كے مقدمات سے نتائج اخذ كيے جائيں۔ پچھلے زمانے ميں يه مقدمات قياسي هوا كرتے تھے۔ اب هم سائنسي مقدمات (scientific premises) كے دور ميں هيں۔ آج كي اسلامي عقليات وه هوگي جس ميں سائنسي مقدمات كے ذريعے نتائج اخذ كيے گئے هوں۔اِس كي ايك مثال يه هے كه قرآن كي سورۃ البقره ميں قانونِ شهادت كو بتاتے هوئے دو عورتوں كو ايك مرد كے برابر قرار دياگيا هے (2:282)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قديم زمانے ميں اِس فرق كا سبب يه سمجھا جاتا تھا كه مرد كا تعلق صنفِ قوي سے هے اور عورت كا تعلق صنفِ ضعيف سے۔ مگر موجوده زمانے ميں جديد تحقيقات نے هم كويه موقع دے ديا هے كه هم اِس فرق كي توجيهه خالص سائنسي بنياد پر بيان كر سكيں۔
عقل كا مسئله
عقل (reason) كيا هے۔ عقل خالق كا ايك قيمتي عطيه هے۔ حديث ميں آيا هے كه— الله تعالي نے سب سے افضل چيز جو پيدا كي، وه عقل هےما خَلَقَ اللهُ خَلْقًا أَكْرَمَ عَلَيْهِ مِنَ الْعَقْلِ (المفردات فی غریب القرآنللاصفہانی، صفحہ 578)۔ حقيقت يه هے كه انسان كے تمام كمالات كا انحصار عقل پر اور عقل كے استعمال پر هے، عقل كے بغير كوئي بھي انساني ترقي ممكن نهيں۔عقل نه هو تو انسان پتھر كے ايك اسٹيچو كي مانند هوجائے گا۔ وه نه حق كو حق سمجھ سكے گا اور نه باطل كو باطل۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عقل بذاتِ خود معيار (criterion) نهيں هے۔ عقل، فهم وادراك كي صلاحيت (ability) هے۔ عقل كي حيثيت آله يا فيكلٹي (faculty) كي هے، عقل كي حيثيت مستقل بالذات جج كي نهيں۔ عقل، حقائق سے نتيجه اخذ كرنے كي استعداد كا نام هے
Reason: The intellectual faculty by which conclusions are drawn from premises.
عقل (reason) اور وحي (revelation) كو ايك دوسرے كا حريف بتانا بلاشبه ايك غلطي هے۔ حقيقت يه هے كه وحي ايك مستقل ذريعه علم هے، جب كه عقل بذاتِ خود كوئي ذريعه علم نهيں۔ خود وحي كي صحت پر جب كوئي شخص يقين كرتاهے تو وه بھي يهي كرتاهے كه وه اپني خداداد عقل كو استعمال كركے اُس پر غور كرتاهے اور پھر يقين كے درجے ميں پهنچ كر وه وحي كي صداقت كو دريافت كرتا هے۔ اِس اعتبار سے يه كهنا درست هوگا كه عقل، وحي كي مددگار هے، نه كه وحي كي مدّ ِمقابل۔
عقل، خالق كي دي هوئي ايك فطري صلاحيت هے، عقل كسي كي ذاتي ايجاد نهيں۔ اِس معاملے ميں غلطي كا آغاز يهاں سے هوا كه دوسري تمام چيزوں كي طرح عقل كے معاملے ميں بھي كچھ لوگوں نے عقل كا غلو آميز تصور (extreme version) پيش كيا۔ انھوں نے انتها پسندي كا طريقه اختيار كرتےهوئے خود ساخته طورپر يه دعوي كيا كه عقل بذاتِ خود حصولِ علم كا معياري ذريعه هے۔ مذهبي طبقے نے اِس تصورِ عقل كو درست سمجھ ليا اور وه غير ضروري طورپر عقل يا عقلي غوروفكر كو مذهب كا مخالف سمجھنے لگے اور وه اِس طرح كي غيرعلمي باتيں كرنے لگے كه— عقل كا دائره الگ هے اور وحي كا دائره الگ۔ عقل كا دائره وهاں پر ختم هوجاتاهے، جهاں سے وحي كا آغاز هوتاهے، وغيره۔ اصل يه هے كه عقل الگ هے اور عقل پرستي الگ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن ميں ’عقل‘كا مادّه (root)تقريباً 50 بار استعمال هوا هے۔ قرآن ميں بار بار عقل كا حواله ديتے هوئے يه كهاگيا هے كه اپني عقل كے ذريعے وحي كي صداقت كو دريافت كرو۔ مثال كے طور پر قرآن كي سورۃ يوسف ميں يه آيت آئي هے اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (12:2)۔ يعني، هم نے اِس كتاب كو عربي قرآن بنا كر اتارا هے، تاكه تم سمجھو
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason).
Qur'anQuotes the Qur'an
اِسي طرح قرآن ميں بتاياگيا هے كه تم اپني عقل كو استعمال كرتے هوئے نبوت كي صداقت كو دريافت كرو(10:16)، وغيره۔انسان كو فطري طور پر مختلف صلاحيتيں دي گئي هيں۔ اُنھيں ميں سے ايك صلاحيت، عقل هے۔ مثلاً پاؤں كے اندر چلنے كي صلاحيت، هاتھ كے اندر پكڑنے كي صلاحيت، آنكھ كے اندر ديكھنے كي صلاحيت، كان كے اندر سننے كي صلاحيت، وغيره۔ اِسي طرح انسان كو عقل دي گئي هے جو سوچنے اور تجزيه كرنے كي صلاحيت ركھتي هے۔ اِسي كے ساتھ انسان كو كامل آزادي دي گئي هے۔ انسان كو يه اختيار حاصل هے كه وه اپني آزادي كا صحيح استعمال كرے يا وه اُس كا غلط استعمال كرے، اور يه ايك معلوم حقيقت هے كه كان اور آنكھ كا صحيح استعمال بھي هے اور اس كا غلط استعمال بھي۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عقل انسان كو اِس ليے دي گئي هے كه وه ڈاٹا (data) جمع كرے اور پھر حاصل شده ڈاٹا كا تجزيه كركے صحيح علم تك پهنچنے كي كوشش كرے۔ تاهم عقل بذاتِ خود علم كا ذريعه نهيں، اِس ليے عقل صحيح فيصله تك بھي پهنچ سكتي هے اور غلط فيصلے تك بھي۔ جو لوگ عقل كو بذاتِ خود علم كا ذريعه سمجھتے هيں، وه دراصل عقلي مدرسه فكر (school of thought) كے انتها پسند (extremists) لوگ هيں۔ ايسے انتها پسند لوگ هر جگه پائے جاتے هيں، حتي كه خود مذهب اور عقيدے كے دائرے ميں بھي۔
دورِ سائنس اور مذہب
انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جہاں تخلیق(creation) ہے، لیکن اِس تخلیق کا خالق (Creator) بظاهر يهاں دکھائی نہیں دیتا۔ اِس دنیا میں ڈزائن ہے، لیکن بظاہر اِس دنیا میں ڈزائنر (designer) نظر نہیں آتا۔اِس دنیا میں واقعات ہورہے ہیں، لیکن واقعات کو وجود میں لانے والا آنکھوں سے اوجھل هے۔ پوری کائنات ایک عظیم انڈسٹري کی طرح کام کررہی ہے، لیکن اِس انڈسٹری کا انجینئر کسی خورد بین یا دور بین كے ذريعے دكھائي نهيں ديتا۔
انسان کو اِسي سوال کا جواب دینے کے لیے دنیامیں پیغمبر ظاہر ہوئے۔ پیغمبروں نے ہر زمانے میں انسان کو بتایا کہ یہاں محسوسات کے پیچھے ایک غیر محسوس ہستی موجود ہے۔ یہ خدا ہے، اُس کو مانو اور اس کی عبادت کرو۔ گویا کہ پیغمبروں کا رول ایک اعتبار سے، ایک قسم کا استنباطی رول (inferential role) تھا، یعنی انھوں نے انسان کو بتایا کہ تم کو چاہیے کہ تم اپنی عقل كو استعمال کرو اور دکھائی دینے والی چیزوں سے استنباط کرکے، نہ دکھائی دینے والے خدا پر اپنے یقین کی بنیاد قائم کرو۔
پیغمبروں نے اپنے اِس استنباطي رول کو مستند بنانے کے لیے یہ کیا کہ انھوں نے معجزے دکھائے۔ قرآن میں یہ بات اِن الفاظ میںآئی ہے لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ (57:25)۔ یعنی، پیغمبروں نے خرقِ عادت معجزے دکھائے، تاکہ انسان یہ یقین کرسکے کہ پیغمبر جو خبر دے رہے ہیں، وہ ایک درست خبر ہے۔مثال كے طور پر پیغمبر موسیٰ پندرھویں اور سولھویں صدی قبل مسیح کے درمیانی زمانے میں مصر میں آئے۔ اُس وقت وہاں فرعون (Ramesses II) حکومت کررہا تھا۔ فرعون نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ (7:106)۔ فرعون كے اِس مطالبے پر پیغمبر موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا، جو زندہ اژدهابن کر زمین پر چلنے لگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 610 ء میں پیغمبر کی حیثیت سے مکہ میں ظاہر ہوئے۔ آپ سے پہلے جو پیغمبر آئے، اُن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے پیغام کی صداقت کے طورپر مذکورہ قسم کے معجزے دکھاتے رہے۔ لیکن پیغمبر اسلام، جو سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی تھے، ان کے بعد خارقِ عادت معجزات کا طریقہ ختم کردیاگیا (17:59)۔پیغمبر ِ اسلام کے بعد کسی پیغمبر کا آنا موقوف ہوگیا، اور اِسی کے ساتھ خارقِ عادات معجزات پیش کرنے کا سلسلہ بھی۔ اب پیغمبرانہ دعوت غیر پیغمبر داعیوں کے ذریعے دنیا میں جاری ہے، لیکن اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔اِس کا سبب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک طرف یہ ہوا کہ دینِ حق اپنی اصل حالت میں پوری طرح محفوظ ہوگیا، یہاں تک کہ اب اُس میں کسی تحریف یا تبدیلی کا امکان نہیں۔ اب پیغمبرانہ مذہب کا متن بھی محفوظ ہے اور وہ زبان بھی محفوظ ہے جس میں یہ متن اوّلاً نازل ہوا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اب سوال یہ ہے کہ معجزے کا بدل کیا ہے۔ پہلے دعوت کی صداقت معجزے کے ذریعے متحقّق کی جاتی تھی، اب دعوت کی صداقت کو متحقق کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ یہ ذریعہ جدید سائنس ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس، قدیم معجزے کا بدل ہے ۔ آج سائنس ٹھیک وہی استدلالي رول انجام دے رہی ہے، جو قدیم زمانے میں معجزات کے ذریعے انجام پاتاتھا۔
مذہب کے حق میں استدلال کے یہ دونوں دَور قرآن میں واضح طورپر بتادیے گئے ہیں۔ پہلے دورِ استدلال کے بارے میں قرآن میں یہ آیت ہے لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ (57:25)۔ یعنی، ہم نے پیغمبروں کو اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے معجزے دئے۔ دوسرے دورِاستدلال کو قرآن میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ(41:53)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ساتویں صدي عیسوی کے رُبع اوّل میںہوا۔ آپ کے ظہور کے تقریباً ایک هزار سال بعد جدید سائنس ظاہر ہوئی۔ جدید سائنس کا یہ ظہور محض اتفاقی نہ تھا، وہ پیغمبراسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا ایک براہِ راست نتیجہ تھا۔ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اُس نے پہلی بار شرک کے غلبے کو ختم کردیا۔ شرک کے غلبے کے خاتمے کے بعد تاریخ میںایک نیا پراسس شروع ہوا۔ اِس پراسس کے نقطۂ انتہا کا دوسرا نام سائنس ہے۔
شرک کیا ہے۔ شرک دراصل نیچر ورشپ (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ انسان نے قدیم زمانے میں فطرت کے مظاہر کو پرستش کا موضوع بنا دیا تھا۔ اِس طرح شرک، نیچر کی تحقیق اور تسخیر کے عمل کے سلسلے میں ایک قسم کا ذہنی مانع (mental block) بن گیا تھا۔ کیوں کہ جس چیز کو آپ پرستش کا موضوع بنا لیں، اُس کو عین اُسی وقت آپ تحقیق کاموضوع نہیں بناسکتے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے انقلاب کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ انسان نیچر کی تحقیق میںمصروف ہوگیا۔ یہ تحقیق مسلسل جاری رہی، یہاں تک کہ وہ دریافتیں شروع ہوئیں، جن کو سائنسی دریافتیں کہا جاتا ہے۔ فطرت کے اندر چھپے ہوئے راز معلوم واقعات بن کر سامنے آنے لگے۔ یہ عین وہی چیز تھی جس کو قرآن میں آفاق اور انفُس میں آیات کے ظہور سے تعبیر کیا گیا تھا۔ جدید سائنس دراصل نیچرل سائنس کا دوسرا نام ہے، اور یہ بلاشبہ قرآن کی پیشین گوئی کا جواب بن کر ظاہر ہوئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو جدید سائنس قدیم طرز کے معجزات کا بدل ہے۔ جدید سائنس، دینِ حق کا علمِ کلام (Theology) ہے۔ جدید سائنس اُس دین کو علمِ انسانی كے معیار پر ثابت شدہ بنا رہی ہے، جس کو قدیم زمانے میں خارقِ عادت معجزات کے ذریعے ثابت شده بنايا جاتا تھا۔
واضح ہو کہ جدید سائنس کے دو پہلو ہیں۔ ایک نظریاتی سائنس (theoretical science) اور دوسرے، ٹکنکل سائنس (technical science)۔ نظریاتی سائنس، جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے حقائقِ کون یا حقائقِ کائنات کو دریافت کررہی ہے۔ اِس کے مقابلے میں ،ٹکنکل سائنس اس کے عملي پہلو کا نام ہے۔ ٹکنکل سائنس کے ذریعے جدید مشینی تہذیب وجود میںآئی ہے۔ اِس مقالے میں ہماری بحث ٹکنکل سائنس سے نہیں ہے، بلکہ نظریاتی سائنس سے ہے۔ موجودہ زمانے میں نظریاتی سائنس کا ایک مشہور سائنس داں اسٹفن ہاکنگ (Stephen Hawking) ہے۔ اِس موضوع پر اسٹفن هاكنگ کی کئی کتابیں چھپ کر شائع ہو چکی ہیں۔
یہ بات ايك حدیثِ رسول میںاِن الفاظ میں ملتی ہے ما مِنَ الْأَنْبِياءِ نَبِيٍّ إِلّا أُعْطِيَ مِنَ الْآياتِ ما مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ.وَإِنَّما كانَ الَّذي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحاهُ اللهُ إِلَيَّ.فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تابِعًا يَوْمَ الْقِيامَةِ(صحیح البخاري، حدیث نمبر 4981)۔ یعنی، نبیوں میں سے ہر نبی کو ایسی نشانیاں دی گئیں، جن كو اُس زمانے کے لوگ مانتے تھے۔ اور مجھ کو وحی (قرآن) کا معجزہ دیاگیا۔ اِس لیے میںامید کرتاہوں کہ قیامت میں مجھ پر ایمان لانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میںعلم انسانی کا ارتقا بہت کم ہوا تھا، اِس لیے یہ ممکن نہ تھا کہ خود علمِ انسانی کے مسلّمات کے حوالے سے دینِ حق کی صداقت کو مدلل کیا جائے۔ اِس لیے قدیم زمانے میں پیغمبروں كے ذريعے خارقِ عادت معجزات دکھائے گئے۔ یہ معجزات معاصر انسان کے مانوس دائرے کے اعتبار سے ہوتے تھے۔ مگر قرآن کے بعد دنیا میں جوانقلاب آیا، اس کے بعد بتدریج ایسا ہوا کہ علمِ انسانی میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ خود علمِ انسانی کے مسلّمات کی سطح پر دین ِ حق کو مدلل کرکے پیش کیا جاسکے۔
دونوں دور میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ معجزہ معاصر انسان کو اپنے عجز کا تجربہ کراتا تھا، لیکن اُس میں یہ پہلو شامل نہ تھا کہ مدعو کو خود اپنے مسلّمات کی سطح پر دینِ حق کی دلیل نظر آنے لگے۔ بعد كے زمانے میں جب علمی مسلمات کی سطح پر استدلال ممکن ہوگیا تو فطری طورپر یہ ہوگا کہ اِس قسم کا استدلال مقابلۃً ایک عمومی اور عالمی استدلال بن جائے گا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوجائے گا کہ بعد کے زمانے میں ہر انسانی گروہ پیغامِ نبوت کی اہمیت کو سمجھے اور خود اپنے مسلّمات کی روشنی میں اُس پر یقین کرسکے۔ اِس کا ایک فائدہ فطری طور پر یہ ہوگا کہ بعد کے زمانے میں اِس پیغام کو ماننے والوں کی تعداد میں اضافے کا امکان بھی زیادہ بڑھ جائے گا۔
قدیم معجزاتی دلیل اور جدید سائنسی دلیل دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں ہی استنباط (inference) کی سطح پر دینی عقائد کی دلیل فراہم کرتے ہیں۔ قدیم زمانے میں جب ایک پیغمبر حسّی معجزہ دکھاتا تھا تو ایسانہیں ہوتا تھا کہ معجزہ ایک آئینہ ہو، جس میں پیغمبر کا اصل دعویٰ مشاہداتی طورپر نظر آنے لگے۔ جو کچھ ہوتا تھا، وہ یہ کہ معجزہ دیکھ کر مدعو یہ استنباط کرسکتا تھا کہ جب یہ شخص ایک ایسا واقعہ کررہا ہے جس پر دوسرے انسان قادر نہیں، تو ضرور اِس شخص کو خدا کی نصرت حاصل ہے۔
یہی معاملہ سائنسی دلیل کا بھی ہے۔ سائنسي دلیل میں ایسا نہیں ہوتا کہ پیش کردہ دلیل براہِ راست معنوں میںاصل دعوے کا مظاہراتی ثبوت بن جائے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ پیش کردہ دلیل بالواسطہ معنوں میں یہ موقع دیتی هے کہ استنباطی طورپر وہ اصل دعوے کو قابلِ فہم اور قابلِ یقین بنا دے۔ تاہم جدید سائنسی دلیل میں ایک مزید پہلو موجود ہے، جس کی بنا پر يه ہوتا ہے کہ پیش كرده دلیل بالواسطہ معنوں میں یہ موقع دیتی ہے کہ استنباطی طور پر وہ اصل دعوے کو قابلِ فہم اور قابلِ یقین بنادے۔تاہم جدید سائنسی دلیل میں ایک مزید پهلوموجود ہے، جس کی بنا پر اس کو آرگومینٹ پلس (argument plus) کہا جاسکتا ہے، وہ یہ کہ جدید سائنسی دلیل خود مدعو کے عقلی مسلّمہ (rational axiom) کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
یہ فرق اُس جدید علم کی بنا پر پیدا ہوا ہے، جس کو نیوکليرسائنس کہاجاتا ہے۔ قدیم فزیکل سائنس، عالمِ کبیر (macro world) کی سطح پر مبنی تھی۔ مگر بیسویں صدی میں اس کے اندر ترقی ہوئی، اور ایک نئی سائنس وجود میں آئی جس کو نیوکلیر سائنس کہاجاتا ہے۔ نیوکلیر سائنس کے تحت، انسان اِس قابل ہوگیا کہ وہ عالمِ صغير (micro world) تك رسائي حاصل كرسكے، جب كه اِس سے پهلے وه صرف عالمِ کبیر تک محدود تھا۔ اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہر حقیقی چیز اپنا ایک مادّی جسم رکھتی ہے جس کو ناپا اور تولا جاسکے، لیکن عالمِ صغیر کی دریافت نے یہ صورتِ حال بدل دی۔ اب یہ معلوم ہوا کہ چیزیں اپنے آخری تجزیے میںاتنا زیادہ ’’صغیر‘‘ ہوجاتی ہیں کہ اُن کو صرف امکانی لہروں (waves of probability) کا نام دیا جاسکتا ہے۔
عالمِ صغیر کے بارے میں اِس نئی دریافت نے علم میں جو انقلاب پیدا کیا، اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ علمی استدلال کا معیار بدل گیا۔ اب یہ معلوم ہوا کہ استنباطی استدلال بھی اتنا ہی معقول استدلال ہے، جتنا کہ غیر استنباطی استدلال یا براہِ راست استدلال ۔ کیوں کہ علم کا دریا اب جس مقام پر پہنچا تھا، وہاں براہِ راست استدلال کا طریقہ قابلِ عمل ہی نہ رہا۔ اب لازم ہوگیا کہ استنباطی استدلال کو بھی معقول استدلال کا درجہ دیا جائے، تاکہ نئے دریافت کردہ عالمِ صغیر کے قوانین کو مرتب کیا جاسکے۔
علمِ انسانی میں اِس ارتقا کے بعد یہ ممکن ہوگیا ہے کہ مذہبی عقائد کو عین اُسی سطح پر ثابت شدہ بنایا جاسکے، جس سطح پر مادّی دنیا کی چیزوں کو ثابت شدہ بنایا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ— دنیا میں ڈزائن کا وجود یہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں ایک ڈزائنر موجود ہے، اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویسا ہی ایک معقول استدلال ہے، جیسا کہ مادّی دنیا کے بارے میں سائنسی استدلالات ۔
چند مثاليں
یہاں ہم اِس نوعیت کی چند مثالیں درج کریں گے۔ اِن مثالوں سے اندازہ ہوگا کہ کس طرح جدید سائنس، قدیم طرز کے معجزات کا بدل فراہم کررہی ہے۔ کس طرح اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ دینی حقائق، جو پچھلے زمانے میں خارقِ عادت معجزات کی سطح پر پیغمبر کے معاصرین کے سامنے پیش کیے جاتے تھے، اُن کو اب خود علمِ انسانی کے معروف مسلّمات کی بنیاد پر پیش کیاجاسکے۔ گویا کہ اب جدید علمِ کلام نے قدیم معجزے کی جگہ لے لی ہے۔ آج کے ایک داعی کو اپنی دعوت کے حق میں معجزہ دکھانا نہیں ہے، بلکہ اُس کے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ وقت کے علمی مسلّمات کی روشنی میں اپنی دعوت کو مدلل کرے۔ وہ جدید ذہن کو خود اُس معیار پر ایڈریس کرسکے جس کا اعتراف وہ پہلے سے کیے ہوئے ہے۔
1۔ مذہب کے اعتبار سے سب سے پہلا مسئلہ وجودِ خداوندی کے اِثبات کا ہے۔ اِس معاملے میں علمِ انسانی میں ایک نیا ارتقائی واقعہ وجود میں آیا ہے۔ پہلے، خدا کو صرف عقیدے کا ایک مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔ اب وہ انسانی سائنس کے دائرے کی چیز بن چکا ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ جدید سائنس نے خدا کے وجودکو ایک سائنسی دلیل کی حیثیت دے دی ہے۔جیسا کہ معلوم ہے، سائنس کے مطالعے کا موضوع خدایا خالق کا وجود نہیں ہے۔ سائنس کاموضوع نیچر یا تخلیق (creation) کا مطالعہ ہے۔ سائنسی مطالعے کے ابتدائی دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام چیزیں معلوم اسباب کے تحت وجود میں آتی ہیں، اِس لیے کسی مسبّب کو مطالعے کا موضوع بنانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن بعد کے سائنسی مطالعے نے اِس نظریے کو بے بنیاد ثابت کردیا۔سائنس کے تفصیلی مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ نیچر یا کائنات میں ہر وقت ان گنت واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ہر واقعے میں نیچر کے سامنے بے شمار انتخابات (options) ہوتے ہیں، لیکن نیچر ہر موقع پر اُسی انتخابات کو لیتی ہے جو سب سے زیادہ بامعنٰی ہو۔
اِس مطالعے نے سائنس دانوں کو یہ ماننے پر مجبور کیا ہے کہ اِس کائنات کے پیچھے ایک ذہین دماغ (intelligent mind) یا ریاضیاتی دماغ(mathematical mind) ہے۔ نیچر کے پیچھے ایک برتر ذہانت کی موجودگی کو مانے بغیر اس کی توجیہ ممکن نہیں۔ اِس معاملے کو ایک سائنس داں نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے— کائنات کا مادّہ ایک ذہین مادّہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The stuff of the world is mind-stuff.
2 ۔ قدیم زمانے میں یہ کہا جاتا تھا کہ خدا کو ماننے کی صورت میں اُس کو ابدی ماننا پڑتا ہے، جب کہ هميں اس کا براہِ راست کوئی علم نہیں۔ مگر کائنات ہمارے لیے ایک معلوم اور مشہود چیز کی حیثیت رکھتی ہے، پھرخدا کو ابدی ماننے کے بجائے کیوں نہ خود کائنات کو ابدی مان لیاجائے۔ لیکن بگ بینگ (Big Bang) کی دریافت کے بعد اِس قسم کے عقیدے کو ماننا ناممکن ہوگیا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے،2006 کا فزکس نوبل پرائز دو امریکی پروفیسروں کو مشترک طورپر دیاگیا۔ یہ دونوں پروفیسر بگ بینگ کے سائنسی نظریے پر کام کررہے تھے اور اُس پر انھوں نے ایک کتاب چھاپی تھی۔ دونوں پروفیسروں کے نام یہ ہیں
John C. Mather (60), George F. Smoot (61)
امریکا کے ادارہ ناسا نے 1989 میں ایک راکٹ بیرونی خلامیں بھیجا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ بگ بینگ دھماکے سے نکلنے والے ریڈی ایشن (Cosmic Background Radiation) کا مطالعہ کرے اور اس کا فوٹو لے کر زمين پر بھیجے۔ اس راکٹ کا نام یہ تھا
Cosmic Background Explorer
اِس تحقيق كے ذريعے حاصل کردہ معلومات کا تجزیہ کرنے سے بگ بینگ کے نظریے پر مزید روشنی پڑی ہے۔ اُس نے اِس نظریے کو اسٹرانگ سپورٹ(strong support) دی ہے، اور کائنات کی عمر کا حتمی تعیّن کردیا ہے۔ اِس تحقيق سے معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا واقعہ 13 بلین سال پہلے ہوا۔ رپورٹ كے الفاظ يه هيں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
It helped pinpoint the age of the universe, and supported the Big Bang theory of its birth (The Times of India, October 4, 2006, p. 17).
بگ بینگ کا نظریہ ابتدائی طورپر بیسویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں دریافت ہوا۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کا آغاز ایک عظیم انفجار (explosion) سے ہوا۔ اس کے بعد اِس نظریے پر کام ہوتا رہا، یہاں تک کہ اب یہ نظریہ ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکا ہے۔
بگ بینگ کا نظریہ، علم العقائد یا تھیالوجی کے اعتبار سے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اِس سے خالص انسانی علم کی سطح پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ کائنات ابدی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک وقتِ خاص پر پیدا ہوئی۔ اس کی یہ پیدائش ایک بہت بڑے دھماکے کے ذریعے ہوئی۔ يه بات بالكل واضح ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقی طورپر نہیںہوسکتا۔ اس کو وقوع میں لانے کے لیے ایک خارجی عامل (external factor) درکار ہے۔ اس طرح بگ بینگ كا واقعه اِس نظریے کے حق میں ایک مضبوط منطقی سپورٹ بن گیا ہے کہ اِس کائنات کو ایک پیدا کرنے والے نے پیدا کیا۔ بِگ بینگ کا واقعہ معلوم ہونے کے بعد اس کی کوئی دوسری نظریاتی توجیہ ممکن نہیں۔
3 ۔ کائنات کی ترکیب اِس طرح ہوئی ہے کہ یہاں ہر صداقت (truth) کا مادّی مظاہرہ (physical demonstration) پایا جاتا ہے۔ اِس طرح ایک غور کرنے والے انسان کے لیے تمام غیر مرئی صداقتیں (invisible truths) مرئی سطح (visible level) پر قابلِ فہم بن جاتی ہیں۔ اِس قسم کی مثالوں میں سے ایک مثال وہ ہے جس کو موجودہ زمانے کی فلکیاتی اصطلاح میں بلیک ہول (Black Hole) کہاجاتا ہے۔ بلیک ہول کا نظریہ تقدیر اور تدبیر، یا انسانی آزادی اور خدائی جبر کے درمیان نازک تعلق کو قابلِ فہم بنا رہا ہے۔
فلکیات (astronomy) کے جرمن عالم کارل(Karl Schwarzschild) نے 1907 میں اپنے قیاس کے تحت یہ پیشین گوئی کی کہ خلامیںایسے بڑے بڑے ستارے ہوسکتے ہیں جن کی قوتِ کشش اتنی زیادہ ہو کہ وہ اپنی روشنی کو بھی روکے ہوئے ہوں اور ان کی روشنی باہر نہ آسکتی ہو۔ چوں کہ انسان کسی چیز کو صرف روشنی کی مدد سے دیکھ سکتا ہے، اِس لیے یہ عظیم ستارے خلا میں موجود ہونے کے باوجود انسان کے لیے ناقابلِ مشاہدہ ہیں۔ اِس نظریے پر تحقیق جاری رہی، یہاں تک کہ فلکیات دانوں نے ایسے ستاروں کی امکانی موجودگی پر اتفاق کرلیا، اور ایسے ستاروں کا نام ’بلیک ہول‘ رکھا گیا۔
الٰہیات کے میدان میں قدیم زمانے سے یہ بحث جاری ہے کہ اِس دنیا میں انسان آزاد ہے، یا مجبور۔ بظاہر انسان اِس دنیامیں اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے، لیکن جب خدا قادرِ مطلق ہے تو یہ بات ناقابلِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ خدا کی قدرتِ کاملہ کے درمیان انسان کو خود مختاری حاصل ہو۔ اِس تصور پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔ اردو شاعر میر تقی میر (وفات 1810) نے اِسی بات کو اِس طرح نظم کیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ناحق ہم مجبوروں پر، یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہے ہیں سو آپ کرے ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا
مگر یہ اعتراض ایک غیر منطقی اعتراض ہے۔ کیوں کہ خدا کو اگر ہر قسم کا اختیار حاصل ہے تو اُس کو یقیناً یہ بھی اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مقام پراپنی قدرت کو محدود کرلے۔ وہ کامل اختیار رکھتے ہوئے عارضي مصلحت کی بنا پر اپنے اختیار کو وقتی طورپر روک لے۔ یہ قیاس بظاہر ایک نظری قیاس ہے، لیکن بلیک ہول کی دریافت نے اِس قیاس کے لیے مظاہراتی سطح پر ایک عملی تصدیق فراہم کردی۔ بلیک ہول کا نظریہ اِس قیاس کو قابل فہم بنا رہا ہے۔
ایمسٹرڈم (نيدر لينڈس) میں ماہرین ِ طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اِس موقع پر فزکس کا نوبل پرائز پانے والے ایک سائنس داں مسٹر جیمس واٹسن (James Watson Cronin) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ سیاہ مادّہ (dark matter) پر مشتمل ہے۔ اُس کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتا، اِس لیے ہم اُس کو براہِ راست طورپر دیکھ نہیں پاتے
Dark matter can not be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation.
جیمس واٹسن نے مزید کہا کہ— ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کے صرف 4 فی صد حصے کو جان سکتے ہیں
other sourceWords of another person or source
We think we understand the universe, but we only understand four percent of everything. (The Times of India, September 23, 2007, p. 20)
4۔ قرآن خدا کی طرف سے آئی ہوئی ایک محفوظ کتاب ہے۔ قرآن کے آغاز ہی میں یہ آیت شامل ہے ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیْہِ (2:2)۔ یعنی، یہ خدا کی کتاب ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں۔ اِس کے ساتھ قرآن کا یہ اعلان تھا کہ وہ ابدی طورپر سارے انسانوں کے لیے کتابِ ہدایت ہے۔ وہ کسي زمانے یا کسی مقام کے لیے نہیں ہے، بلکہ ہر دور اور ہر انسانی گروہ کے لیے ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کے اِس دعوے کی صداقت کے لیے ضروری تھا کہ بعد کے زمانے کے حالات اس کی تصدیق کرتے رہیں۔ بعد کے زمانے میں ایساکوئی واقعہ پیش نہ آئے جو اِس بیان کی تردید کرنے والا ہو۔ قرآن کا یہ بیان حیرت انگیز طورپر اِس معیار پر پورا اترا ہے۔ راقم الحروف نے اِس موضوع سے متعلق اس كے مختلف پہلوؤں پر کئی مضامین اور کتابیں تيار کی ہیں۔ مثلاً تاریخی پہلو، نفسیاتی پہلو، حیاتیاتی پہلو اور سائنسی پہلو، وغیرہ۔ یہاں اِس سلسلے میںصرف ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔
قرآن کی سورۃ يونس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پندرھویں صدی قبل مسیح میں خدا نے مصر کے فرعون (Ramesses II) کو سمندر میں غرق کیا۔ کیوں کہ اُس نے خدا کے پیغمبر موسیٰ کا انکار کیا تھا۔ اُس وقت خدا نے کہا تھا کہ— آج ہم تمھارے جسم کو محفوظ کردیں گے، تاکہ وہ تمھارے بعد آنے والوں کے لیے ایک نشانی بنے فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَۃً (10:92)۔یعنی، پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ساتویں صدی کے رُبع اوّل میں جب قرآن میں یہ آیت اُتری تو اِس واقعے پر دو ہزار سال سے زیادہ مدت گزر چکی تھی۔ اُس زمانے میں نہ پرنٹنگ پریس تھا اور نہ کمیونکیشن، اور نہ معلوم تاریخ میں اِس کا کوئی ریکارڈ موجود تھا۔ چنانچہ تمام لوگ اِس واقعے کو بھول چکے تھے۔ اُس زمانے میں کوئی بھی شخص نہ اِس واقعے کو جانتا تھا اور نہ اُس کو یہ خبر تھی کہ کبھی فرعون کا جسم ظاہر ہو کر قرآن کی اِس آیت کی تصدیق کرنے والا ہے۔اِس آیت کے نزول کے ہزار سال بعد انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں سائنس نے ایسے طریقے دریافت کیے، جن کے ذریعے قدیم اَجسام کی تاریخ ٹھیک ٹھیک طور پر معلوم کی جاسکے۔ مزید یہ کہ سائنس کی ترقی نے لوگوں کے اندر بہت بڑے پیمانے پر تجسس کا ذہن پیداکیا۔ لوگ ہر میدان میںنئی نئی چیزیں دریافت کرنے کے لیے عالمی سطح پر سرگرم ہوگئے۔
اِسی دوران مغربی یورپ کے کچھ اسکالر مصر پہنچے۔ انھوںنے قاہرہ کے قریب واقع اَہرام کی تحقیق شروع کی۔ طویل کوشش کے بعد انھوںنے دریافت کیا کہ اہرام کے اندر مصر کے قدیم بادشاہوں کے مردہ اجسام مومیائی حالت میں موجود ہیں۔ چنانچہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اِن اجسام کو نکالا گیا۔ اِس کے بعد ان اجسام کی جانچ شروع ہوئی۔ سائنس کے جدید طریقوں کے مطابق، ان کی عمر کا تعیّن کیاگیا۔ اِس تحقیق کے دوران حیرت انگیز طورپر معلوم ہوا کہ مصر کے قدیم بادشاہ فرعون کی لاش ایک اہرام میںموجود تھی۔ سائنسی ٹکنیک کے ذریعے جب اس کی عمر کا پتہ کیاگیا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت موسیٰ کا ہم زمانہ شاہِ مصر فرعون کا جسم ہے، جس کی بابت قرآن میں 14 سو سال پہلے اعلان کیاگیا تھا کہ وہ محفوظ حالت میں موجود ہے، اور مستقبل میں وہ انسان کے علم میںآجائےگا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس حقیقت کاعلم اِس سے پہلے کسی بھی انسان کو حاصل نہ تھا۔ قرآن میںاِس کا صراحتاً ذکر ہونا، اِس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن اُس خدا کی کتاب ہے جو ساری باتوںکو جانتا ہے(عالم الغيب والشهادة)۔ اس نے اپنے علم کے تحت قرآن میںیہ آیت اُتاری۔ اِس واقعے میں واضح طورپر جدید سائنس، قرآن کے کتابِ الٰہی ہونے کی تصدیق بن گئی۔
فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (وفات1998) نے 1975 میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مصر کا سفر کیا، اور قاہرہ کے میوزیم میںجاکر وہاں براہِ راست طورپر اِس محفوظ جسم کا مشاہدہ کیا۔ اِس واقعے پر پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد انھوںنے اپنی کتاب میںنہایت حیرت کے ساتھ یہ الفاظ درج کیے ہیں— وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں، وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میںشاہی ممیوں (Mummies)کے کمرے کو دیکھیں۔ وہاں وہ قرآن کی اُن آیتوں کی شان دار تصدیق پالیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہیں
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures, will find a magnificent illustration of verses of the Quran dealing with the Pharaoh’s body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo!
5۔ دین کے عقائد میںسے ایک بنیادی عقیدہ رسالت کا عقيده ہے، یعنی یہ عقیدہ کہ انسان کی رہنمائی کے لیے خدا کی طرف سے ہر زمانے میں پیغمبر آئے۔ اِس سلسلے کے آخری پیغمبر محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ رسالت کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے رہنما اصول خود اپنی عقل سے دریافت نہیں کرسکتا۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِس معاملے میں خدا کے پیغمبروں پر یقین کرے اور اُن سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خدا کے آخری پیغمبر ہیں، بلکہ آپ پر جوخدا کی ہدایت آئی، وہ اپنی كامل شکل میں اور اپنی اصل حالت میں پوری طرح محفوظ ہے۔ پیغمبر اسلام پر جو پہلی وحی اتری تھی، وہ سورۃ العلق کی صورت میں قرآن میں موجود ہے۔ اِس ابتدائی وحی میں اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ، الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ(96:3-5)۔ یعنی، پڑھ، اور تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو اُس چیز کا علم دیا جس کا علم اُس کو نہ تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس آیت میں گویا کہ اِس بات کا اعلان ہے کہ انسان خود سے اپنی رہنمائی وضع نہیں کرسکتا۔ دنیوی زندگی کے شعبے مثلاً زراعت، باغ بانی اور انجینئرنگ، وغیرہ کے معاملے میںوہ اپنے تجربات کے ذریعے کچھ علم حاصل كرسکتا ہے، جوانسان کی موجودہ زندگی کی ضرورتوں سے متعلق ہیں۔ لیکن انسان کی ابدی رہنمائی کے لیے جو برتر علم درکار ہے، اُس کو انسان خود سے حاصل نہیں کرسکتا۔ زندگی کے اِس برتر شعبے میں اُس کے لیے پیغمبرانہ رہنمائی سے مدد لینا ضروری ہے۔
قدیم زمانے میں جو بڑے بڑے فلسفی پیدا ہوئے، اُن سب کا موضوع یہی تھا کہ انسانی زندگی کے لیے رہنمایانہ اصول دریافت کیے جائیں، لیکن کئی ہزار سال تک بڑے بڑے دماغوں کی کوششوں کے باوجود فلسفہ اِس قسم کی کسی رہنمائی کو دریافت نہ کرسکا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فلسفیانہ کاوشوں نے انسان کو جو چیز دی، وہ صرف کنفیوژن (confusion) تھا، نہ کہ کوئی یقینی رہنمائی۔
کارل مارکس (وفات 1883) نے فلسفے کی ناکامی پر ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ تھا— فلسفے کا افلاس (Poverty of Philosophy)۔ یہ کتاب کارل مارکس نے اپنے مخصوص نقطۂ نظر کے اعتبار سے لکھی تھی، لیکن عمومی اعتبار سے بھی یہ درست ہے کہ فلسفیانہ غور وفکر، جو تمام تر عقل کی بنیاد پر ہوتا ہے، وہ انسان کو رہنمائی کے ابدی اصول دینے کے معاملے میں پوری طرح ناکام ہے۔ فلسفیانہ شعبے کی یہی ناکامی تھی جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ موجودہ سائنس کے ظہور کے بعد فلسفے کا دَور ختم ہوگیا۔ اب فلسفے کی حیثیت زیادہ تر ایک تاریخی شعبے کی ہے، نہ کہ زندہ شعبۂ علم کی۔
یہی معاملہ باطنیّت (mysticism) کے ساتھ پیش آیا۔ باطني نقطه نظر كے حاملين کا خیال تھا کہ وہ باطنیّت کے تجربے کے ذریعے سچائی کو دریافت کرسکتے ہیں، مگر ايسا نه هوسكا۔
باطنیت کیا ہے، اس کی تعریف اِس طرح کی جاتی ہے
Mysticism: The doctrine that it is possible to attain the higher truth through contemplation and love without the medium of human reason, or without any other external source.
مسٹی سزم کی تاریخ کئی ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ بے شمار لوگوں نے مسٹی سزم کے ذریعے سچائی کو پانا چاہا، لیکن لمبے تجربے کے بعد معلوم ہواکہ مسٹی سزم کے ذریعے آخری چیز جو انسان کو ملتی ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ وَجد(ecstasy)ہے۔ مگر سچائی کے معاملے میں وَجد کی کوئی حقیقت نہیں۔ انسان کے وجود میں سب سے بڑی چیز شعور یا ذہن ہے۔ اِس لیے سچائی کو پانے والا وہی شخص ہے جو ذہن یا شعور کی سطح پر سچائی کو پائے، نہ کہ وجد کی سطح پر۔ وجد دراصل بے شعور ی کی ایک حالت ہے جس کوبے خودی کے خوب صورت لفظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ سچائی دراصل شعور کی سطح پر حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کا نام ہے۔
شعور کی سطح پر حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کی ایک مادّی مثال بجلي کے بلب اور پا ور ہاؤس میں ملتی ہے۔ بلب ابتدائی حالت میں ایک بے نور شے ہے۔ اس کے اندر نہ خود روشنی ہے اور نہ وہ دوسروں کو روشنی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن جب پاور ہاؤس سے اس کا کنکشن قائم ہو جاتا ہے تو اچانک وہ ایک روشن وجود بن جاتا ہے۔ اب وہ خود بھی روشن ہوتا ہے اور دوسروں کو روشنی دینے کی صلاحیت کا مالک بن جاتا ہے۔سچائی کو پانے کا معیار کیا ہے، وہ اِس مادّی واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔ سچّائی کو پانا شعوری معنوں میں ایک روشنی کو پانا ہے۔ مسٹی سزم اِس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ مسٹی سزم سے آدمی کو جو چیز ملتی ہے، وہ صرف بے شعوری ہے، نہ کہ شعور۔ اور انسان جیسی باشعور هستي کے لیے بے شعوری کبھی حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کے ہم معنٰی نہیں بن سکتی۔اِس معاملے میں آخری چیز جس کا نام لیا جاسکتا ہے، وہ سائنس ہے۔ جدید سائنس نے بلا شبہ انسان کو بہت سی چیزیں دی ہیں۔ مثلاً ٹیلی کمیونکیشن اور کنزیومرگڈس (consumer goods)، وغیرہ۔ مگر جہاں تک سچائی کا معاملہ ہے، سائنس نے خود ہی یہ اعلان کردیا ہے کہ سچائی کی دریافت اس کا میدانِ عمل نہیں۔
ایک مغربی اسکالر نے درست طورپر لکھا ہے کہ علم کا میدان بہت وسیع ہے۔ علم کی دوقسمیں ہیں۔ چیزوں کا علم (knowledge of things)، اور سچائی کا علم (knowledge of truth)۔ اہلِ علم کے درمیان بلا اختلاف یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ سائنس کا دائرہ صرف چیزوں کے علم تک محدود ہے۔ سچائی کا علم سائنس کے دا ئرے سے مکمل طورپر باہر ہے۔ ایسی حالت میںیہ کہنا صحیح ہوگا کہ سائنس اِس مقابلے میں بطور امیدوار بھی شامل نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا راستہ متعین کرنے کے لیے گہرے علم کی ضرورت ہے۔ اِس ضرورت کو ڈاکٹر الیکسس کیرل نے اپنی کتاب انسانِ نامعلوم (Man the Unknown) میں بخوبی طورپر واضح کیا ہے۔ مگر اِسی کے ساتھ یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان خود اپنی کوششوں سے اِس ناگزير علم کو دریافت نہیں کرسکتا۔ ایک طرف، علم کا ناگُزیر ہونا اور د وسری طرف، انسان کا اس ناگزيرعلم کو دریافت کرنے کے لیے نا اہل ہونا، بتاتا ہے کہ اِس معاملے میںانسان کوایک خارجی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اِس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے پیغمبر کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلاشبہ پیغمبرہی وہ انسان ہے جو خدا کے نمائندے کی حیثیت سے ہمارا حقیقی رہنما ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ
حیاتیاتی ارتقا (evolution)کا نظریہ برٹش عالمِ طبیعیات (naturalist) چارلس ڈارون (Charles Darwin) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ ڈارون 1809 میں پیدا ہوا، اور 1882 میں اس کی وفات ہوئی۔ 2009 میں اس کی پیدائش پر دو سو سال پورے ہوگئے۔ اِس نسبت سے 2009 میں ڈارون کا اور اس کے نظریے کا کافی چرچا کیا گیا۔ ڈارون سے پہلے فرانسیسی عالمِ طبیعیات لا مارک (Jean Baptiste Lamarck) وغیرہ نے بھی ابتدائی صورت میں ارتقا کا نظریہ پیش کیا تھا۔ لیکن ڈارون نے اِس نظریے کو زیادہ منظم انداز میں پیش کیا۔
نظریۂ ارتقا کیا ہے۔ اِس سے مراد یہ نظریہ ہے کہ— نباتات اور حیوانات کی تمام انواع ایک ابتدائی صورت سے ترقی کرکے اپنی موجودہ حالت تک پہنچی ہیں۔ یہ ارتقا نسل درنسل تبدیلیوں کے وراثتی انتقال کے ذریعے ہوا
Evolution: Theory that all species of animals and plants developed from earlier forms by hereditary transmission of slight variations in genetic composition to successive generations.
چارلس ڈارون نے اپنی کتاب اصل الانواع(The Origin of Species) میں لکھا تھا کہ خدا (God) نے پہلی بار زندگی کی ابتدائی صورت ایک خلیہ والے (single-cellular) امیبا کی شکل میں پیدا کی۔ اس کے بعد اپنے آپ تبدیلیوں (mutations) اور فطری انتخاب (natural selection) اور بقاءِ اصلح (survival of the fittest) کے ذریعے مختلف انواعِ حیات بنتی چلی گئیں، یہاںتک کہ آخر میں انسان جیسی ترقی یافتہ مخلوق وجود میں آئی۔ یہ سب کچھ ارتقائی عمل (evolutionary process) کے ذریعے خود بخود پیش آیا۔ ڈارون نے اپنی کتاب میں خالقِ اوّل کے طور پر خدا کا نام لیا تھا، لیکن بعد کو نظریہ ارتقا کے حامیوں کے درمیان، خدا کا نام مکمل طورپر حذف ہوگیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ارتقائی سفر کا یہ پورا عمل موجودہ زمین پر پیش آیا تھا۔ لیکن بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ موجودہ قسم کے ارتقائی عمل کا ہماری زمین پر پیش آنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔مثال کے طورپر زمین کی عمر اُس سے بہت زیادہ کم ہے جو مذکورہ قسم کے ارتقائی عمل کے لیے درکار ہے۔
نظریہ ارتقا یہ فرض کرتا ہے کہ ایک نوعِ حیات سے دوسری نوعِ حیات کا وجود میں آنا، حیاتیاتی تبدیلیوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ مثلاً بکری کے اندر نسل درنسل بے شمار تبدیلیاں وجود میں آئیں، یہاں تک کہ اِن تبدیلیوں کے جمع ہونے سے بکری کی آخری نسل میں زرافہ جیسا حیوان پیدا ہوگیا۔ یہ لمبا سفر ان گنت تبدیلیوں کے ذریعے ہوا۔ایک ریاضی داں پروفیسر پاچو(Patau) نے حساب لگا کر بتایا ہے کہ کسی نوعِ حیات میں ایک بہت معمولی قسم کی مفروضہ تبدیلی کو وجود میں لانے کے لیے ایک ملین نسلیں درکار ہوں گی
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Even a minor change in any species would take one million generations to be completed.
لیکن حیاتیاتی تبدیلیوں (mutations) کا یہ عمل اگر بالفرض وقوع میں آسکے، تب بھی اِس طویل حیاتیاتی عمل کا موجودہ زمین (planet earth)پر وقوع میں آنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ زمین کی عمر اِس طرح کے طویل عمل کے لیے سراسر ناکافی ہے۔ چارلس ڈارون کے زمانے میں زمین کی عمرمعلوم نہ تھی۔مگر اب ٹکنالوجی کی ترقی کے بعد زمین کی عمر قطعی طورپر معلوم ہوچکی ہے۔
ارضیاتی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زمین ابتدائی طورپر دو بلین سال پہلے وجود میں آئی۔ اُس وقت وہ نہایت گرم تھی۔ اِس کے بعد زمین ٹھنڈی ہوئی اور پانی وجود میں آیا۔ ارضیاتی تحقیق (geological studies) کے مطابق، ایک بلین 23 کرور سال پہلے زمین ٹھنڈی ہوکر اِس قابل ہوئی کہ زندگی جیسی چیز اُس کے اوپر وجود میں آسکے۔ اب اگر ڈارون ازم کے مفروضہ کے مطابق، انسان اور دوسری انواع حیات ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آئی ہیں تو زمین کی مذکورہ عمر ایسے عمل کے لیے انتہائی حد تک ناکافی ہے۔ ایک بلین 23 کرور سال کے اندر اِس قسم کے ارتقائی عمل کی تکمیل سرے سے ممکن ہی نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں جب زمین کی عمر دریافت کی گئی تو ارتقا پسند علما کو محسوس ہوا کہ اُن کا نظریہ موجودہ زمین کی نسبت سے قابلِ عمل ہی نہیں ہے۔ اب انھوںنے قدیم نظریۂ ارتقا میں ایک اور تصور کا اضافہ کیا۔ انھوںنے یہ نظریہ قائم کیا کہ زندگی کی ابتدائی صورت زمین کے سوا کسی اور سیارہ (planet) پر ظہور میں آئی، پھر وہاں سے سفر کرکے وہ زمین پر پہنچی اور زندگی کا اگلا ترقیاتی عمل موجودہ زمین پر پیش آیا۔ اس نظریے کو اصطلاحی طورپر پَینس پرمیا (panspermia) کہاجاتا ہے۔
اِس کے بعد ایک نئی دوڑ شروع ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد خلائی سائنس (space science) کا زمانہ آگیا۔ اِسی کے ساتھ الیکٹرانک دور بینیں ایجاد ہوگئیں۔ چنانچہ ایسے خلائی راکٹ بنائے گئے جن پر طاقت ور الیکٹرانک دور بینیں نصب تھیں۔ یہ راکٹ زمین سے اوپر خلا میں بھیجے گئے۔ زمین سے کافی بلندی پر گردش کرتے ہوئے انھوںنے کائنات کے بعید ترین حصوںکے فوٹو لیے اور اُن کو زمین پر بھیجا۔ اِن تصویروں کو کمپیوٹر پر محفوظ کرلیا گیا۔ مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ہماری زمین کے سوا کہیں بھی کوئی دوسرا سیارہ ایسا موجود نہیں ہے جہاں زندگی جیسی چیز نشو ونما پاسکے۔ اِس طرح پینس پرمیا کا نظریہ عملی طورپر ختم ہوگیا۔
اب یہ سوال تھا کہ زمین کی محدودیت کے اندر مفروضہ ارتقائی عمل کس طرح وقوع میں آیا۔ اِس سوال کو حل کرنے کے لیے دوبارہ ایک نئی تحقیق شروع ہوئی۔ اِس تحقیق میں کئی اعلیٰ سائنس داں شامل تھے۔ اب اِس تحقیق کے نتائج امریکا کے مشہور جنرل نیچر (Nature) میںشائع کیے گئے ہیں۔ اِس تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (13 فروری 2009) میںدیکھا جاسکتا ہے۔ نظریۂ ارتقا کے بارے میں اِس قسم کی تحقیق جرمنی اور کینیڈا، وغیرہ میں بھی ہوئی۔ اِس تحقیق کے نتائج مجلہ سائنس (Science) کے شمارہ 13 فروری 2009 میں شائع ہوئے ہیں۔
ارتقا کے بارے میں نئی رسرچ ارتقا کے اصل سوالات کو حل نہیں کرتی۔ وہ صرف یہ کرتی ہے کہ نظریہ ارتقا کی توجیہ کے لیے ایک نیا ٹکنکل لفظ (technical term) دیتی ہے۔ ارتقا کا روایتی تصور تبدیلیوں (mutations) کے اصول پر قائم تھا، یعنی نسل درنسل چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے جمع ہونے سے ایک نوع کا دوسری نوع کی صورت اختیار کرلینا۔ کلاسکل تبدیلی (classical mutation) کا نظریہ اِس سوال کا جواب نہیں دیتا تھا کہ خود یہ تبدیلی کیسے واقع ہوتی ہے۔ کیوں کہ کسی بھی رسرچ سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ بے شمار تبدیلیاں تدریجی (gradual) طورپر اپنے آپ ہوسکتی ہیں۔
نئی ریسرچ نے صرف یہ کیا ہے کہ اُس نے آتش فشانی انشقاق (volcanic eruption) پر قیاس کرتے ہوئے وہ نظریہ وضع کیا جس کو انھوںنے جنینیاتی تبدیلی (genetic change) کا نام دیا ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلی تدریجی انداز میں نہیں ہوئی، بلکہ انفجاری انداز میں ہوئی
These are like volcanoes in the genome, blowing out pieces of DNA.
تاہم اِس نئی رسرچ کے بعد بھی اصل مسئلہ بدستور باقی ہے۔ یہ رسرچ مفروضہ طورپر جو کچھ بتاتی ہے، وہ صرف تبدیلیوں کے وقوع کی مفروضہ توجیہ ہے، نہ کہ اِس بات کی توجیہ کہ زمین کی محدود مدت میںبے شمار تبدیلیاں کیسے وقوع میںآئیں۔ ہماری زمین کی محدود مدت کی نسبت سے یہ نئی ’’تحقیق‘‘ بھی اتنا ہی ناکافی ہے، جتنا کہ قدیم کلاسکل توجیہ۔
نظریہ ارتقا کا یہ دعویٰ ہے کہ واحد الخلیہ (single cellular) امیبا میں تبدیلیاں ہوئیں، اِس کے بعد وہ کثیر الخلیہ(multi-cellular) حیوان بن گیا۔ مچھلی کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ چڑیا بن گئی۔ بکری کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ زرافہ بن گئی۔ بلی کے اندرتبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ شیر بن گئی۔ بندر کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ انسان بن گیا۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
مذکورہ نئی تحقیق صرف یہ کرتی ہے کہ وہ اِن تبدیلیوں کو تدریجی نوعیت کی تبدیلی قراردینے کے بجائے اُن کو انفجاری نوعیت کی تبدیلی بتاتی ہے۔ مگر اِس نئی ’’تحقیق‘‘ کے بعد بھی یہ سوال باقی رہتاہے کہ ان گنت تبدیلیوں (countless changes) کے اِس عمل کے لیے جو بے حد لمبی مدت درکار ہے، موجودہ سیارۂ ارض پر ان کا وقوع میں آنا ممکن نہیں۔ کیوںکہ سیارۂ ارض کی عمر معلوم طورپر اُس سے بہت زیادہ کم ہے جو کہ اِن مفروضہ تبدیلیوں کے لیے درکار ہے۔
اِس ’’تحقیق‘‘میں ارتقائی عمل کے لیے درکار مطلوب مدت کے مسئلے کو اِس طرح حل کیا گیا ہے کہ یہ فرض کرلیاگیا کہ حیاتیاتی ارتقا بذریعہ انفجار(explosion) پیش آیا ہے۔ محققین نے اِس معاملے کو آتش فشانی انشقاق(volcanic eruption) پر قیاس کیا ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ جس طرح ایک آتش فشانی پہاڑ اچانک پھٹتا ہے اور اس کے اندر سے لاوا (lava) کی صورت میں ایک نئی چیز نکل آتی ہے، اُسی طرح انفجار کے ذریعے زندگی کی مختلف صورتیں ایک کے بعد ایک نکلتی چلی گئیں۔
اِس ارتقائی انشقاق (evolutionary eruption) کا مطلب یہ ہے کہ— واحد الخلیہ نوع میں انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک کثیر الخلیہ نوع وجود میں آگئی۔ مچھلی کے اندر انشقاق ہوا، اِس کے بعد اچانک چڑیا وجود میں آگئی۔بکری کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک زرافہ وجود میں آگیا۔ بلّی کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک شیر وجود میں آگیا۔ بندر کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک انسان وجود میں آگیا، وغیرہ۔
انشقاق (eruption)کا یہ نظریہ کسی حقیقی سائنسی دریافت پر مبنی نہیں ہے۔ وہ دوبارہ اُسی طرح غیر متعلق قیاسات (irrelevant suppositions) پر مبنی ہے، جیسا کہ ڈارون نے اِسی طرح کے غیر متعلق قیاسات پر بنا رکھتے ہوئے ابتدائی طورپر اپنا نظریۂ ارتقا وضع کیا تھا۔
نظریہ ارتقا میں بے شمار قسم کی گم شدہ کڑیاں (missing links) موجود تھیں، تاہم اِن گم شدہ کڑیوں کو قیاسی طورپر فرض کرتے ہوئے ارتقا کا نظریہ تسلیم کرلیا گیا۔ یہی معاملہ جدید تحقیق کا بھی ہے۔ اِس تحقیق میں بھی بے شمار قسم کی نامعلوم کڑیاں ہیں، لیکن اِن نا معلوم کڑیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے محض قیاس کی بنیاد پر یہ جدید نظریہ وضع کرلیا گیا۔
ارتقا کا نظریہ یہ فرض کرتا ہے کہ انواعِ حیات میں مسلسل تغیرات ہوئے ہیں۔ یہ تغیرات ماحول کے تعامل سے وجود میں آتے ہیں، یا آئے ہیں۔ اِس ارتقائی اصول کو موافقت (adaptation) کہاجاتا ہے۔یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ اِس موافقت کے نتیجے میں جو تغیرات پیش آتے ہیں، وہ نسل درنسل جمع ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
موافقت (adaptation) کے اِس مفروضہ نظریے کے حق میں کوئی دلیل یا مثال موجود نہیں۔ البتہ کچھ غیر متعلق مثالیں پیش کی جاتی ہیں، مگر یہ مثالیں مغالطے سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ایک مشہور مثال پتنگا (moth) کی ہے۔ مشاہدے سے معلوم ہوا کہ جو پتنگے سبز درختوں اور پودوں کے درمیان رہتے ہیں، وہ ہرے(green)ہوجاتے ہیں، اور جو پتنگے پتھریلے علاقوں میں رہتے ہیں، اُن کا رنگ پتھریلا رنگ بن جاتا ہے۔اِس مثال سے ارتقا کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔زیادہ سے زیادہ جو چیز اِس سے ثابت ہوتی ہے، وہ یہ کہ خارجی ماحول ظاہری رنگ پر اثر انداز ہوتا ہے، جیسا کہ سرد ممالک میں رہنے والے لوگ اکثر سفید فام ہوتے ہیں اور گرم ممالک میں رہنے والے لوگ اکثر سیاہ فام۔ مگرنظریہ ارتقا کے ضمن میں جو اصل بحث ہے، وہ جسم کے خارجی رنگ (colour) میں تبدیلی کی نہیں ہے، بلکہ نوع (species) میں تبدیلی کی ہے، اور پتنگے کی مثال سے نوع میں تبدیلی کا اصول ثابت نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ 1859 میں بھی ایک غیر سائنسی نظریہ تھا، جب کہ چارلس ڈارون کی کتاب اصل الانواع (The Origin of Species) پہلی بار چھپی اور 2009 میں بھی وہ اتنا ہی غیر سائنسی ہے، جب کہ امریکی جنرل نیچر(Nature)میں کچھ امریکی پروفیسروں کے ’’نتائجِ تحقیق‘‘ شائع ہوئے ہیں۔
کہاجاتا ہے کہ حیاتیاتی ارتقا کے نظریے کو موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ طبقے میں عمومی قبولیت (general acceptance)حاصل ہوچکا ہے، مگر واقعات بتاتے ہیں کہ اِس نظریے کی یہ مقبولیت اِس لیے نہیں ہوئی ہے کہ سائنسی طورپر وہ ثابت ہوگیا ہے۔ اس کا سبب یقینی طورپر صرف یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ زندگی کی تشریح خدا کے بغیر کرنا چاہتا ہے۔ جدید طبقے کو یہ نظر آتا ہے کہ نظریۂ ارتقا کی صورت میں اس کو ایک ورک ایبل نظریہ (workable theory) حاصل ہوگیا ہے۔ اِس کے سوا کوئی بھی حقیقی علمی بنیاد نظریہ ارتقا کے حق میں موجود نہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نظریۂ ارتقا اور مذہب
نظریہ ارتقا کے ابتدائی زمانے میں مسیحی چرچ اُس کا سخت مخالف بن گیا تھا۔ مگر اب غالباً حالات کے دباؤ کے تحت، مسیحی چرچ نے نظریۂ ارتقا کی واقعیت کو تسلیم کرلیا ہے۔ اِس سلسلے میں میڈیا میں جو رپورٹیں آئی ہیں، اُن کا ایک حصہ یہاں درج کیا جاتا ہے
The Vatican has admitted that Charles Darwin’s theory of evolution should not have been dismissed and claimed it is compatible with the Christian view of creation. According to the Telegraph, Archbishop Gianfranco Ravasi, the head of the pontifical Council for Culture, said while the church had been hostile to Darwin’s theory in the past, the idea of evolution could be traced to St Augustine and St Thomas Aquinas. Father Giuseppe Tanzella-Nitti of the Pontifical Santa Croce University in Rome, added that 4th century theologian St Augustine had "never heard the term evolution, but knew that big fish eat smaller fish" and forms of life had been transformed "slowly over time". (The Times of India, New Delhi, February 12, 2009, p. 19)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
نظریۂ ارتقا کے بارے میں اِس قسم کی رائے کااظہارکچھ مسلم اہلِ علم نے بھی کیا ہے۔ مثلاً الجزائر کے شیخ ندیم الجِسر (صِلَةُ العِلْمِ بَيْنَ الفَلْسَفَةِ وَالعِلْمِ وَالقُرْآنِ)، اور پاکستان کے ڈاکٹر محمد رفیع الدین (قرآن اور علمِ جدید) وغیرہ۔ اِن لوگوں کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ خدا کے انکار کے ہم معنیٰ نہیں ہے، کیوں کہ وہ زندگی کو ابتداء ً وجود میں لانے کے لیے خدا کو سببِ اول(first cause) کے طورپر مانتا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر زندگی کی مختلف انواع مفروضہ ارتقائی طریقے کے مطابق، وجود میں آئیں، تب بھی ان کو ابتدائی طورپر وجود میں لانے والا ایک خدا (God) تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لیکن یہ توجیہ درست نہیں۔ مذہبی نقطۂ نظر کے مطابق، خدا کی حیثیت صرف ’’سببِ اول‘‘ کی نہیں ہے، بلکہ خدا مسلسل طورپر ہماری زندگی میں شامل ہے۔ مذہبی عقیدے کے مطابق، خدا مسلسل طورپر کائنات کو کنٹرول کررہا ہے۔ خدا اور انسان کے درمیان تعلق ایک مسلسل تعلق ہے جو بلاانقطاع ہر لمحہ جاری رہتا ہے، پھر یہ کہ خدا محاسب اور مُجازی ہے۔
قیامت کے دن خدا مالک ِ یوم الدین کی حیثیت سے تمام انسانوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ خدا کی یہ تمام حیثیتیں، نظریہ ارتقا میں حذف ہوجاتی ہیں۔ ایسی حالت میں حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ مذہبی اعتبار سے کبھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
خدا اور بندے کے درمیان جو تعلق مطلوب ہے، وہ ایک زندہ تعلق ہے۔ وہ ذکر اور دعاء اور عبادت اور تفکر اور تدبر اور توسّم کے ذریعے ہر وقت اور ہر لمحہ قائم رہتا ہے۔ انسان ہر لمحہ خدا سے مانگتا ہے، اور ہر لمحہ وہ خدا کی طرف سے پاتا ہے۔ انسان جس طرح وجود میں آنے کے لیے خدا کا محتاج ہے، اُسی طرح وہ اپنی بقاکے لیے بھی مکمل طورپر خدا کا محتاج ہے۔ خدا اگر ایک لمحے کے لیے انسان کو نظر انداز کردے تو انسان تباہ ہو کر رہ جائے۔ مذہبی عقیدے کے مطابق، خدا نہ صرف خالق (creator) ہے، بلکہ وہ رازق اور قیوم (sustainer) بھی ہے۔ ایسی حالت میں نظریہ ارتقا عملاً خدا کی نفی ہے، نہ کہ خدا کی تصدیق۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ڈارون اور ڈارون ازم
چارلس رابرٹ ڈاروِن (وفات 1882) نظریۂ ارتقا کی نسبت سے بہت مشہور ہے۔ اِس سلسلے میں اُس نے دو کتابیں لکھیں۔ اِن دونوں انگریزی کتابوں کے نام یہ ہیں
On the Origin of Species
The Descent of Man
’اوریجن آف اسپیشیز‘ کے نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آغازِ انواع کے موضوع پر ہے۔ مگر اصلاً اُس کا موضوع انواعِ حیات کی تعبیر ہے۔ اِس لحاظ سے غالباً اس کا زیادہ صحیح نام تعبیرِ انواع (Interpretation of Species) ہونا چاہیے۔
ڈارون کی کتاب کے چھپنے کے بعد مسیحی چرچ کی طرف سے اس کی سخت مخالفت کی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ڈارون ازم خدا کے وجود کی نفی ہے، مگر یہ درست نہیں۔ ڈارون کی کتاب ’اوریجن آف اسپیشیز‘ میں ایک سے زیادہ بار خدا(God) کا نام آیا ہے۔ اُس نے اپنی یہ کتاب اِن الفاظ کے ساتھ ختم کی ہے کہ— خالق نے ابتدا میں زندگی کی ایک یا کئی شکلیں پیدا کیں اور پھر اُس سے بہت سی انواعِ حیات وجود میں آگئیں۔ تخلیق کا یہ تصور کتنا عظیم ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
There is grandeur in this view of life, with its several powers, having been originally breathed by the Creator into a few forms or into one: and that, whilst this planet has gone cycling on according to the fixed law of gravity, from so simple a beginning endless forms most beautiful and most wonderful have been, and are being evolved. (B-5/496)
other sourceWords of another person or source
ڈارون اپنی آخری عمر میں ناقابلِ تشخیص اَمراض کا شکار ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی کتاب میںدی ہوئی متضاد تعبیرات(contradictory explanations) سے سخت غیر مطمئن تھا۔ اُس پر دوبار دِل کا دورہ پڑا اور اِسی میں اُس کا انتقال ہوگیا ۔
ارتقا یا مغالطہ
ریڑھ کی ہڈی انسان کے جسم کا ایک کم زور حصہ ہے۔ ریڑھ کے نیچے کا حصہ بہت جلد متاثر ہوجاتا ہے اور وہ تکلیف شروع ہوجاتی ہے جس کو پیٹھ کا درد (backache) کہاجاتاہے۔ نظریۂ ارتقا کے حامی اِس کو ارتقائی عمل سے جوڑتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انسان ابتداء ً چوپائے کی شکل میں تھا، جیسا کہ گھوڑا ہوتاہے۔پھر اُس نے پیچھے کے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کی، یہاںتک کہ وہ انسان کی صورت میں ایک سیدھا حیوان بن گیا۔ اب اس کے پچھلے پاؤں بدستور پاؤں رہے، اور اگلے دونوں پاؤں ہاتھ کی مانند ہوگئے۔ سیدھا حیوان بننے کے بعد اس کا سارا بوجھ ریڑھ کی ہڈی پر آگیا۔ یہی سبب ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کا نچلا حصہ نہایت آسانی سے تکلیف کا شکا رہوجاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ سر تا سر ایک مغالطہ ہے۔ چار پیروں والے حیوان کا دو پیروں والا حیوان بن جانا صرف ایک غیرثابت شدہ قیاس ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف قدیم زمانے کے انسان کو نہیں ہوتی تھی، یہ صرف موجودہ زمانے کے انسان کا مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانے کا انسان کمفرٹ کلچر (comfort culture) میں جیتا ہے۔ اِس قسم کی بیماریاں اِسی کمفرٹ کلچر کا نتیجہ ہیں، اس کا نظریہ ارتقا سے کوئی تعلق نہیں۔
Backache is a common health problem
With reference to the Backache is a common health problem ‘Talking back’ (TOI, June 13) by Jug Suraiya, backache is indeed one of the most common complaint that people suffer from at some stage in their lives. The most common causes behind the problem are poor posture, improper lifting or bending. A sedentary lifestyle with little or no exercise and overexertion of the body can be harmful too. One explanation for the vulnerability of the lower back is that it is one of the weakest parts in the human body, having evolved from walking on fours to walking upright. This unique evolutionary adaptation is a relatively recent change. As a result, the stresses acting upon the vertebral column are unique in many respects and result in a variety of problems that are peculiar to the human species. A proper posture can go a long way towards providing relief from backaches. (Subhash Kaura, The Times of India, New Delhi, June 15, 2009)
ذہین وجود
اسٹفن ہاکنگ (Stephen Hawking) موجودہ زمانے کا ایک ممتاز برٹش سائنس داں ہے۔ کائنات کے طویل مطالعے کے بعد اس نے کہا کہ میرا ریاضیاتی ذہن یہ بتاتا ہے کہ زمین کے ماورا بھی انسان کے مانند کوئی ذہین وجود ہونا چاہیے۔ اِس وجود کو اس نے اجنبی زندگی (Alien life) کا نام دیا ہے۔ اِس معاملے میں اسٹفن ہاکنگ کی سادہ منطق یہ ہے کہ ہماری کائنات میں تقریباً ایک سو بلین کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں کئی سو ملین ستارے ہیں۔ اتنی بڑی کائنات میں یہ بات ناقابلِ قیاس ہے کہ صرف زمین وہ واحد سیارہ ہو جہاں زندگی کا ارتقا ہوا ہے ۔ میرے ریاضیاتی ذہن کے مطابق، ستاروں کی یہ عظیم تعداد ہی اِس نظریے کو پوری طرح معقول ماننے کے لیے کافی ہے
other sourceWords of another person or source
Hawking has suggested that extraterrestrials are almost certain to exist. Hawking’s logic on aliens is, for him, unusually simple. The universe has 100 billion galaxies, each containing hundreds of millions of stars. In such a big place, Earth is unlikely to be the only planet where life has evolved. "To my mathematical brain, the numbers alone make thinking about aliens perfectly rational", (The Times of India, New Delhi, April 26, 2010, p. 17)
other sourceWords of another person or source
سیارۂ زمین پر ذہین وجود کا ہونا، اولاً جس چیز کو ثابت کرتا ہے، وہ استثنا (exception) ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اِس استثنا کی توجیہ کیا ہے۔ اسٹفن ہاکنگ نے ارتقا (evolution) کے مفروضہ نظریے کو توجیہ کی بنیاد قرار دیا ہے۔ مگر زیادہ معقول بات یہ ہے کہ اِس استثنا کی توجیہ، مداخلت (intervention) کی بنیاد پر کی جائے۔ کیوں کہ مداخلت اپنے آپ میں ثابت ہے، اور جب مداخلت کو مان لیا جائے تو خالق کا وجود اپنے آپ ثابت ہوجاتا ہے۔موجودہ زمانے میں بہت سی نئی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں۔ یہ نئی حقیقتیں خالق کے وجود کو ثابت کررہی تھی، لیکن ارتقائی مفروضے کے تحت ان کو ارتقائی عمل کا نتیجہ قرار دے دیاگیا۔ مگر یہ محض ایک قیاس ہے، اور ایک قیاس سے دوسرے قیاس کو ثابت کرنا، بلا شبہ ایک غیر منطقی استدلال کی حیثیت رکھتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ايك رپورٹ
مقابل كے صفحے پر دو رپورٹيں درج كي گئي هيں۔ يه نظريه ارتقا كي كچھ حاليه رسرچ پر مبني هيں، مگر يه رسرچ كے نام پر صرف مغالطه (fallacy)كے واقعات هيں۔ اس قسم كي مغالطه آميز تحقيقات سے كچھ ثابت نهيں هوتا۔ حياتياتي ارتقا كے سلسلے ميں پهلا سوال يه تھاكه زندگي (life) كا آغاز كس طرح هوا۔ ڈارون نے اپني كتاب اصل الانواع (The Origin of Species)ميں مفروضه طورپر يه مان ليا كه زندگي كا آغاز خدا (God) نے كيا۔مگر دوباره يه سوال تھا كه حياتياتي ارتقا كے نظريے كے مطابق، عضوياتي ارتقا (organic evolution) كيسے هوا اور ايك نوع دوسري نوع ميں كيسے تبديل هوئي۔ مثلاً يه فرض كيا گيا تھاكه بكري نے ارتقا كرتے كرتے زرافه كي صورت اختيار كرلي، مگر بكري اور زرافه كے بيچ ميں بهت سي درمياني كڑياں تھيں جو كه واقعے كي دنيا ميں موجود نه تھيں۔ يهاں يه مان لياگيا كه يه سب گم شده كڑياں (missing links) هيں، مگر آج تك گم شده كڑي كا نظريه غير ثابت شده بنا هوا هے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Gene That Gives us Edge Over Apes Decoded
London: Researchers have discovered a new gene which they say helps explain how humans evolved from chimpanzees. The gene, called miR-941, is carried only by humans and it appeared after humans evolved from apes and played a crucial role in human brain development and could shed light on how we learned to use tools and language. Researchers from the University of Edinburgh compared it to 11 other species of mammals, including chimpanzees, gorillas, mice and rats. This finding, published in Nature Communications, brings us closer to answering one of science's leading questions: What makes the human body different from other mammals? ? A previous study that also analysed the differences between apes and humans found that the evolutionary genetic advantages that help humans live longer than apes also make them more vulnerable to diseases of ageing, including heart disease , cancer, and dementia. Scientists led by Dr. Martin Taylor at the Institute of Genetics and Molecular Medicine showed that miR-941 had an important part in the development of the human brain and can even help explain how we acquire language and learn to use tools. This new gene is the first known gene to be found in humans and not in apes. According to the team, it appears to have a certain purpose in the human body. (The Times of India, New Delhi, Nov. 16, 2012 p. 19)
Did genetic accident lead to human intelligence?
London: Scientists have discovered the origin of intelligence after identifying a 'genetic accident' 500 million years ago when the genes that enabled humans to think and reason evolved. Researchers led by the University of Edinburgh have discovered how humans and other mammals evolved to have intelligence. They found that intelligence in humans developed as the result of an increase in the number of brain genes in our evolutionary ancestors. Scientists also believe that the same genes that improved our mental capacity are also responsible for a number of brain disorders. The researchers suggest that a simple invertebrate animal living in the sea 500 million years ago experienced a 'genetic accident' , which resulted in extra copies of these genes being made. This animal's descendants benefited from these extra genes, leading to behaviourally sophisticated vertebrates - including humans. " One of the greatest scientific problems is to explain how intelligence arose during evolution," professor Seth Grant, of the University of Edinburgh, who led the research, said. (The Times of India, New Delhi, Dec. 4, 2012, p. 19)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
نظريه ارتقا كے مطابق، انسان كوئي اسپيشل مخلوق نهيں، وه حيوانات كي اگلي ترقي يافته قسم هے۔ مگر يهاں يه سوال تھا كه انسان تمام حيوانات بشمول چمپينزي سے بهت زياده مختلف هے۔ يه اختلاف يا فرق كهاں سے آيا۔ اب ارتقا پسند حضرات يه دعوي كررهے هيں كه انھوں نے انسان كے اندر ايك نيا جين (gene) دريافت كرليا هے۔ اِس مختلف جين كي بنا پر ايسا هے كه انسان كے اندر ايسا دماغ هے جو كسي حيوان كے اندر نهيں۔ انسان كے اندر نطق (speech)كي صلاحيت هے، اور انسان كے اندر يه صلاحيت هے كه وه اوزار (tools) بنائے اور ان كو استعمال كرے۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
مگر انسان كے اندر پائي جانے والي امتيازي صلاحيت (distinctive qualities) كي توجيهه صرف يه كهه كر نهيں هوسكتي كه انسان كے اندر حيوان سے مختلف ايك امتيازي جين پايا جاتا هے، كيوں كه دوباره يه سوال هےكه يه امتيازي جين كهاں سے آيا۔ محض ارتقائي پراسس يا اتفاق (accident)كا لفظ اِس انتهائي پيچيده واقعے كي توجيهه نهيں كرسكتا۔
گاڈ پارٹكل كيا هے
گاڈ پارٹكل (God Particle) كيا هے۔ گاڈ پارٹكل كا مطلب خدائي ذره نهيں، گاڈ پارٹكل دراصل ايك سائنسي مسئلے كي سائنسي تشريح (scientific description) هے۔ گاڈ پارٹكل كا تصور دراصل خدا كا مشيني بدل (mechanical substitute of God) هے۔ گاڈ پارٹكل كي دريافت كا براهِ راست طورپر مذهبي عقيدے سے كوئي تعلق نهيں۔
God Particle: The Standard Model of physics is used by scientists to explain the building blocks of the universe. According to this model the universe began with a big bang. The Big Bang theory is widely accepted within the scientific community. This theory states that 13.7 billion years ago the universe was in the shape of a very dense and compact cosmic ball. Then an explosion occurred in this compact ball, and all its constituents started flying apart with the speed of light. All the particles released from this cosmic ball were drifting apart from each other at the speed of light, which is the maximum speed of any object in the universe. Everything in the universe is made up of atoms. These atoms are in turn made up of electrons and protons. But, after the explosion of the Big Bang, electrons and protons were speeding away from each other. These particles could bind together to form atoms only if they their speed was decreased. And their speed could be decreased only by being given mass. This is why the Higgs boson is so important. Higgs boson is a subatomic particle. Physicists say its job is to give mass to the particles that make up atoms. Atoms then combined to form molecules, then molecules combined to form compounds, and these compounds gave rise to all the constituents of the universe as it exists today. If the Higgs boson were taken away, the particles which make up atoms, would have zipped through the cosmos at the speed of light, unable to join together to form the atoms that make up everything in the universe, from planets to people. Then all creation would be unthinkable.
unverifiedAttribution could not be verified automatically
4 جولائي 2012 كو سائنس دانوں نے ايك دريافت كا اعلان كيا۔ اس كو نيرڈسكوري (near discovery)كهاجاتاهے۔يه دراصل ايك سب ايٹمك پارٹكل (sub-atomic particle) كي دريافت هے جس كے بارے ميں پچھلے تقريباً 50 سال سے رسرچ هورهي تھي۔ اِسي درميان 1993 ميں ايك امريكي سائنس داں ليان ليڈرمين (Leon Lederman) نے ايك كتاب تيار كي۔ اس كا ٹائٹل اس نے گاڈ ڈيم پارٹكل (Goddamn Particle)تجويز كيا۔اُس وقت تك يه پارٹكل ايك پراسرار پارٹكل بنا هوا تھا۔ليان ليڈر مين اپني كتاب ميں اِس پارٹكل كا كوئي واضح تصور نهيں دے سكا تھا۔ اس نے جھنجھلاهٹ ميں اپني اِس كتاب كا نام ’گاڈڈيم پارٹكل‘ ركھ ديا۔’گاڈڈيم‘ ايك بگڑا هوا نام هے۔ اردو ميں كهتے هيں خدا كي لعنت۔ خراب موسم هو تو كها جائے گا،گاڈ ڈيم ويدر (Goddamn weather)۔ پبلشر كو كتاب كا يه نام پسند نهيں آيا۔ اس نے بطور خود ’ڈيم‘ كا لفظ نكال ديا اور كتاب كو ’گاڈ پارٹكل‘ كے نام سے چھاپ ديا۔ اُس وقت سے عوامي طورپر اِس ذرے كو گاڈ پارٹكل كهاجانے لگا۔ تاهم سائنس دانوں كے نزديك اِس ذرّے كا نام هگس بوزان (Higgs Boson) هے۔
بوزان كا لفظ دراصل ’بوس‘ كے نام سے ليا گيا هے۔ ستيندرناتھ بوس (SN Bose) ايك انڈين سائنس داں تھے۔ ان كي وفات 1974ميں هوئي۔ انھوں نے 1924 ميں ’سب ايٹمك پارٹكل‘ (behaviour of subatomic particles) كے بارے ميں ايك پيپر تيار كيا تھا۔ اس پيپركو البرٹ آئن سٹائن (وفات 1955) اور دوسرے سائنس دانوں نے بهت پسند كيا تھا۔ اُس وقت سے اِس پارٹكل كا نام بوزان (boson)پڑ گيا هے۔ اِس مخصوص پارٹكل كو ’بوزان‘ كا نام سب سے پهلے برٹش سائنس داں پال ڈيراك (Paul Dirac) نے ديا تھا۔
اسكاٹ لينڈ كے ايك سائنس داں پيٹر هگس (Peter Higgs) نے 1964 ميں اِس موضوع پر زياده واضح انداز ميں ايك مفصل پيپر تيار كيا ، جس كا ٹائٹل يه تھا
Broken Symmetries and the Masses of Gauge Bosons
اس وقت سے زيرِ تلاش پارٹكل كو هگس بوزان كها جانے لگا۔
سائنسي نقطه نظر سے هگس بوزان كي اهميت بهت زياده تھي، اِس ليے وه ساري دنيا كے سائنس دانوں كے ليے تلاش كا موضوع بن گيا۔ آخر كار 1998 ميں اِس موضوع كي تحقيق كے لیے ايك خصوصي سرنگ بنائي گئي۔ اِس سرنگ كو ايك يورپين اداره نے تيار كيا تھا۔ اس كا نام يه هے
European Oganization for Nuclear Research
اِس سرنگ كا نام يه تھا— لارج هيڈرون كولائڈر(Large Hadron Collider)۔ اِس پروجيكٹ ميں دنيا كے ايك سو ملك شريك هوئے اور 10 هزار سائنس دانوں اور انجينئروں نے اِس ميں كام كيا۔ 4 جولائي 2012 كو اس پروجيكٹ كے نتيجه (result) كا اعلان كيا گيا۔ سائنس دانوں نے اعلان كيا كه اِس تحقيق ميں وه ’نير ڈسكوري‘ تك پهنچ گئے هيں۔
’هگس بوزان‘ دراصل فزكس كے اسٹينڈرڈ ماڈل كا ايك گم شده پارٹكل هے جو اِس بات كي توجيهه كرتا هے كه ابتدائي انفجار كے بعد كائنات كيسے وجود ميں آئي۔ فزكس كے اسٹينڈر ماڈل كو سائنس داں كائنات كے بلڈنگ بلاك (building block) كي توجيهه كرنے كے ليے استعمال كرتے هيں۔ اِس ماڈل كے مطابق، كائنات كا آغاز بگ بينگ سے هوا۔ بگ بينگ كا نظريه سائنس دانوں كے نزديك عمومي طورپر تسليم كرليا گيا هے۔ يه نظريه بتاتا هے كه 13 بلين سال پهلے كائنات ايك بهت بڑے كاسمك بال كي صورت ميں تھي۔ كائنات كے تمام پارٹكل اس كے اندر شدت سے باهم پيوست تھے۔ پھر اِس كاسمك بال ميں ايك انفجار هوا اور اس كے تمام اجزا چاروں طرف روشني كي رفتار سے سفر كرنے لگے۔ روشني كي رفتار معلوم طورپر سب سے زياده هے جو ايك لاكھ 86 هزار ميل في سكنڈ هوتي هے۔ كاسمك بال سے جو پارٹكل خارج هوئے، وه نهايت تيزي كے ساتھ ايك دوسرے سے دور بھاگ رهے تھے۔هر چيز جو اِس كائنات ميں هے، وه ايٹم سے بني هے۔ يه تمام ايٹم اليكٹران اور پروٹان كے ملنے سے بنتے هيں۔ ضرورت تھي كه يه تمام پارٹكل باهم مليں، ليكن بگ بينگ كے انفجار كے بعد اليكٹران اور پروٹان بھاگ رهے تھے، كيوں كه اُن ميں كميت (mass) نهيں تھي۔ يه ذرات باهم مل كر ايٹم كو صرف اُس وقت بنا سكتے تھے جب كه ان كي رفتار كم هو، اور ان كي رفتار صرف اُس وقت كم هوسكتي تھي جب كه ان كے اندر كميت پيدا هوجائے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
هگس بوزان كي اهميت يه هےكه وه اِس سائنسي مسئلے كا جواب فراهم كرتاهے۔ هگس بوزان ايك سب ايٹمك پارٹكل كا نام هے۔ سائنس دانوں كے مطابق، هگس بوزان كا كام يه هے كه وه ايٹم كے پارٹكل كو كميت عطا كرے۔ اس كے بعد هي يه ممكن هوتا هے كه ايٹم مل كر مالي كيول (molecule) بنائيں اور پھر مالي كيول كے بننے سے كمپاؤنڈ بنے۔ پھر كمپاؤنڈ كے ملنے سے وه تمام چيزيں بنتي هيں جوكه اِس وقت كائنات ميں موجود هيں۔اگر هگس بوزان نه هوتے تو پارٹكل ميں كميت پيدا نه هوتي جو كه باهم مل كر ايٹم بناتے هيں۔ اِس كا نتيجه يه هوتا كه تمام پارٹكل روشني كي رفتار سے خلا ميں سفر كرنے لگتے، پھر يه ناممكن هوجاتا كه وه باهم مل كر ايٹم بنائيں اور اس كے بعد كائنات كي تمام چيزيں وجود ميں آئيں، ستاروں سے لے كر سياروں تك اور غير ذي روح اشيا سے لے كر ذي روح اشيا تك۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كي تصديق
قرآن كي سورۃ النساء ميں ارشاد هواهے اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا(4:82)۔ يعني، كيا يه لوگ قرآن پر غور نهيں كرتے، اگر يه (قرآن) الله كے سوا كسي اور كي طرف سے هوتا تو وه اُس ميں بهت زياده اختلاف پاتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن ساتويں صدي عيسوي كے ربع اول ميں اترا۔ يه سائنس كي دريافتوں سے بهت پهلے كا زمانه تھا۔ اِس قبل دريافت زمانے ميں قرآن كي اِس آيت كا اترنا گويا يه دعوي كرنا تھا كه بعد كي دريافت شده حقيقتيں قرآن كے عين مطابق هوں گي، قرآني بيانات اور دريافتوں كے درميان كبھي عدم مطابقت (inconsistency) نه هوگي۔ اِس طرح يه واقعه اِس بات كي تصديق هوگا كه قرآن عالم الغيب كي كتاب هے، كيوں كه عالم الغيب كے سوا كوئي بھي پيشگي طورپر اِن حقيقتوں كو نهيں سمجھ سكتا تھا۔
اِس اعتبار سے غور كيا جائے تو معلوم هوتا هے كه بگ بينگ كا تصور اور هگس بوزان كا تصور پيشگي طورپر قرآن ميں موجود تھا۔ اِس سلسلے ميں قرآن كي سورۃ الانبياء كي درج ذيل آيت كا مطالعه کیجیے اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ (21:30)۔ یعنی، کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن كي اِس آيت ميں تخليق كے تين مرحلوں كا ذكر هے— پهلے مرحلے كو ’رتق‘ كهاگيا هے۔ رتق كا مطلب هےمنضم الأجزاء يعني كائنات كے تمام پارٹكل كا باهم جڑاهوا هونا۔ اِس ميں كاسمك بال كي طرف اشاره ملتا هے۔ دوسرے مرحلے كو قرآن ميں ’فتق‘ سے تعبير كيا گياهے۔ فتق كا مطلب هے الفَصْلُ بَيْنَ المُتَّصِلَيْنِ، يعني باهم ملي هوئي چيزوں كا ايك دوسرے سے الگ هوجانا۔ اس ميں بگ بينگ كے واقعے كي طرف اشاره هے۔ اِس كے بعد تيسرے مرحلے ميں پاني (الماء) كے بننے كا ذكر هے۔ يهاں پاني كا ذكر علامتي طورپر هے، يعني پاني اور دوسري تمام چيزيں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پاني ايك جوهري ماده (substance)هے۔ اِس طرح كے بهت سے جوهري مادّے كائنات ميں پائے جاتے هيں۔ پاني هائڈروجن كے دو ايٹم اور آكسيجن كے ايك ايٹم كے ملنے سے بنتا هے۔ يهي معامله دوسري تمام مادّي چيزوں كا هے۔ هر چيز ايٹم كے ملنے سے بني هے اور ايٹم اُس وقت بنا جب كه اس كے پارٹكل ميں كميت (mass) پيدا هوئي۔ اِس طرح، اِس آيت ميں پاني كا ذكر كركے اِس نوعيت كي دوسري تمام مادي چيزوں كي طرف اشاره كردياگيا هے، يعني ’فتق‘ كے واقعے كے بعد تمام پارٹكل ميں كميت كا پيداهونا اور پھر پارٹكل كا مجتمع هو كر تمام چيزوں كا وجود ميں آنا۔
قرآن، سائنس كي كتاب نهيں هے، البته قرآن ميں مظاهر فطرت كے بهت سے حوالے دیے گئے هيں جو كه سائنس كا موضوع تحقيق هيں۔ قرآن كا مقصد صرف يه هے كه فطرت ميں موجود آيات (signs) كا حواله دے كر قرآن كي آئڈيالوجي كو علمي طورپر ثابت كرنا۔ اِس طرح قرآن ميں فطرت كے بهت سے مظاهر كے متفرق حوالے (fragmentary references) دیے گئے هيں۔ اِن حوالوں كے بارے ميں قديم زمانے ميں كچھ معلوم نه تھا۔ گويا كه قرآن ميں يه حوالے مستقبل كي انساني نسلوں كو شامل كرتے هوئے دیے گئے تھے۔ اِس طرح انسان كے ليے يه ممكن هوگيا كه وه قرآن كے اِن حوالوں كا تقابل بعد كے حالات سے كركے قرآن كي صداقت كي تصديق حاصل كرے۔
ایک تاریخی جائزہ
قرآن میں ایک تاریخی واقعے کو اِس طرح بیان کیا گیا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ(22:8)۔ یعنی، اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے جھگڑتے ہیں۔ اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وسیع تر انطباق کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ زندگی کے بارے میں بغیر ہدایت، خدائی اسکیم سے لڑتے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Some people defy the divine scheme without having a guidance.
اِس آیت کی روشنی میںغور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ پوری انسانی تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ ساری تاریخ میں مسلسل یہ ہوتا رہا ہے کہ بڑے بڑے دماغ کسی رہنمائی کے بغیر محض اپنی ذاتی اُپج سے زندگی اور کائنات کی تشریح کرتے رہے۔ اِس طرح انھوں نے انسانیت کے بڑے حصے کو گمراہی کے راستے پر ڈال دیا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
فلسفے کی مثال
تمام علوم میں فلسفہ شاید سب سے قدیم علم ہے۔ بڑی تعداد میں اعلیٰ دماغ، فلسفیانہ غور میں مشغول رہے ہیں لیکن فلسفہ انسانی علم میں کوئی مثبت اضافہ نہ کرسکا۔ مثال کے طور پر تقریباً تمام فلسفیوں نے یہ کیا کہ انھوںنے کائنات کے مختلف مظاہر کو وحدت کی اصطلاح میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ اِس طرح انھوںنے یہ کیا کہ انھوںنے خالق اور تخلیق دونوں کو ایک قرار دے دیا۔ ان کے نزدیک ایک ہی حقیقت تھی جو مختلف اشیا کی صورت میں اپنا ظہور کررہی تھی۔ اسی فلسفیانہ تفکیر کے نتیجے میں تخلیق کے بارے میں وہ نظریہ پیدا ہوا جس کو وحدتِ وجود(monism) کہاجاتا ہے، سنسکرت میںاسی کو اَدُوئت واد کہتے ہیں۔
یہ نظریہ انسانی فطرت کے خلاف تھا۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی فطرت میںایک بڑے کا تصور نہایت گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔ انسان اپنے داخلی تقاضے کے تحت، ایک ایسی ہستی کو پانا چاہتا ہے جو اُس سے برتر ہو، جو اس کے لیے اعتماد کا سرچشمہ بن سکے۔ مگر وحدتِ وجود کے نظریے میں اِنسان کی اس تلاش کا جواب نہیں۔ کیوں کہ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ انسان خود ہی خدا ہے۔ انسان کے باہر کوئی اور ہستی موجود نہیں جس کو وہ اپنا مرکز ومحور بناسکے۔ اِس طرح وحدتِ وجود کے نظریے نے انسان کی سب سے بڑی طلب کو اس کا مطلوب فراہم کیے بغیر حیرانی اورسرگشتی کی حالت میں چھوڑ دیا۔
دوسری طرف یہ ہوا کہ پوری تاریخ میںپیغمبر اٹھتے رہے۔ انھوںنے بتایا کہ زندگی کی تشریح کا زیادہ صحیح تصور ’وحدتِ وجود‘ نہیں ہے بلکہ توحید (monotheism) ہے۔ اِس پیغمبرانہ تصورکے مطابق، یہاں ایک قسم کی ثنویت (dualism) پائی جاتی ہے۔ یعنی خالق اور تخلیق دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک خدا ہے جس نے انسان کو اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق الگ ہے، اور تخلیق اُس سے الگ۔
اِس پیغمبرانہ تصورکے مطابق، یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف انسان اور کائنات کی قابلِ فہم تشریح مل جاتی ہے، بلکہ انسان کو وہ مطلوب بھی حاصل ہوجاتا ہے جس کا تقاضا اس کا پورا وجود کررہا تھا۔
فلسفیانہ توجیہ کے نادرست ہونے کے بہت سے پہلو ہیں، مگر اس کی نادرستگی کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ فطرتِ انسانی کے لیے ایک متبائن(incompatable) تصور کی حیثیت رکھتا ہے، اور جو چیز فطرتِ انسانی کے لیے متبائن تصور کی حیثیت رکھتی ہو، وہ اپنے آپ میں قابلِ رد ہے۔ اس کے بعد اس کو رد کرنے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔
پیغمبرانہ ہدایت آدمی کو فکری عمل کے لیے رہنما اصول (guideline)دیتی ہے۔ اِن اصولوں سے رہنمائی لینے والا آدمی فکری بھٹکاؤ سے بچ جاتا ہے۔ وہ اِس قابل ہوجاتا ہے کہ صحیح سمت کا اتباع کرتے ہوئے درست شاہ راہ پر اپنا سفر جاری رکھے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔
سائنس کی مثال
فلسفہ کے بعد دوسرا سب سے بڑا علم وہ ہے جس کو سائنس یا علومِ قطعیّہ (exact sciences) کہاجاتا ہے۔ سائنس اُس علم کا نام ہے جس میں مظاہرِ فطرت کی تحقیق کرکے فطرت کے اصول اخذ کیے جائیں اور ان کی روشنی میں مادّی دنیا کی تعمیر کی جائے۔ یہ علم ابتدائی صورت میں بہت پہلے سے موجود تھا، لیکن وہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میںاپنے عروج پر پہنچا ہے۔
سائنس نے انسان کو بہت سی چیزیں دی ہیں۔ یہاں تک کہ تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوگیا کہ مادّی قوانین کا اتباع کرکے اپنے لیے ایک پُرکشش دنیا بنائی جاسکے۔ انسان ہمیشہ سے راحت اور آسائش کی زندگی کا طالب رہا ہے۔ سائنس نے پہلی بار ایسا کیا کہ بظاہر اس نے اِس بات کو ممکن بنادیا کہ انسان اپنی خواہشوں کو واقعے کی صورت دے سکے۔
لیکن جہاں تک فکری پہلو کا تعلق ہے، سائنس نے انسان کو ایک بہت بڑی بے راہ روی میں ڈال دیا، ایک ایسی بے راہ روی جو اپنے نتیجے کے اعتبار سے کامل تباہی کے ہم معنٰی ہے۔
وہ فکری گمراہی یہ ہے کہ دنیا میں مختلف قسم کے جو سامانِ حیات موجود ہیں، ان کو سائنس نے صرف یہ حیثیت دی کہ وہ لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کے طورپر ہیں۔ حالانکہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، ان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ ٹسٹ سپورٹ سسٹم (test support system) کے طورپر ہیں۔سامان حیات کے سائنسی تصور کی روشنی میں انسان اور اس سامانِ حیات کے درمیان جو تعلق بنتا ہے، وہ وہی ہے جو حیوانات کا اِن چیزوں کے ساتھ بنا ہوا ہے۔ حیوان اِن چیزوں کو صرف ذریعۂ انتفاع کے طورپر دیکھتا ہے، جس سے کوئی ذمّے داری وابستہ نہ ہو۔ سائنسی خاکے میں یہی حال انسان کا بھی ہوجاتا ہے۔
سائنسی تصور کے مطابق، انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیوی سازوسامان سے انتفاع اس کے لیے صرف رائٹ(right) کا ایک مسئلہ ہے، وہ ڈیوٹی (duty) کا مسئلہ نہیں۔ یہ تصور انسان کو اُس سطح پر لے جاتا ہے، جس کو حیوانی سطح کہاجاتا ہے۔
اس کے برعکس، سامانِ حیات کے بارے میں پیغمبرانہ تصور یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں امتحانی پرچہ (test papers) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے ساتھ براہِ راست طورپر ذمے داری کا تصور جُڑا ہوا ہے۔ اِس طرح پیغمبرانہ تصور آدمی کو مکمل طورپر ڈیوٹی کانشش (duty concious) بنا دیتا ہے۔ سائنسی تصور کے مطابق، یہ حال ہوتا ہے کہ ہر آدمی زندگی کو اِس نظر سے دیکھنے لگتا ہے کہ وہ اِس لیے دنیا میں ہے کہ وہ بقدر امکان آرام اور آسائش کی چیزیں حاصل کرے اور پھر مرجائے۔ جب کہ پیغمبرانہ تصور کا مطلب یہ ہے کہ اِس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے، وہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اس کے اندر اپنا امتحان دے، اور پھر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس کے مطابق، انعام یا سزا کی صورت میں اس کا نتیجہ پائے۔
پیغمبرانہ تصور کے مطابق، خالق نے ہماری زندگی کو دو دَوروں میں تقسیم کیا ہے— موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عمل کرنے کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ اپنے عمل کا انجام پانے کا مرحلہ۔ سائنسی تصور کے مطابق، زندگی کی معنویت کو سمجھنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی اس عارضی مرحلۂ حیات کو کتنا زیادہ پُر آسائش بنا سکا، جب کہ پیغمبرانہ تصور کے مطابق، سارا معاملہ جنت سے تعلق رکھتا ہے۔
پیغمبرانہ تصور کے مطابق، انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ دنیا میں ملی ہوئی ہر چیز کو امتحان کا ایک پرچہ سمجھے۔ وہ چیزوں کے درمیان اِس احساس کے ساتھ رہے کہ اُسے دنیا میں اُس روش کو اختیار کرنا ہے جو موت کے بعد کے طویل تر مرحلۂ حیات میں اس کو کامیاب بنا سکے۔
انسان کی دریافت
ایک فلسفی نے کہا ہے کہ— انسان کی تاریخ اندھیرے میں بھٹکنے کی تاریخ ہے۔ یہ تبصرہ بالکل درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پوری تاریخ میں بے خبری کے اندھیروں میں بھٹکتا رہا ہے۔ انسان کی اِس بے خبری کو تین عنوان کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1۔ آئڈیل ازم(Idealism)
2۔ بہیویر ازم(Behaviourism)
3۔ یوٹلیٹرین ازم (Utilitarianism)
یہاں میںنے آئڈیل ازم کا لفظ اس کے کلاسکل معنی میں استعمال نہیں کیا ہے، بلکہ اس کے لغوی معنی میں اس کو استعمال کیا ہے۔ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان پیدائشی طورپر اپنے اندر آئڈیل کا ایک تصور لیے ہوئے ہے، ہر انسان اس آئڈیل کو پانا چاہتا ہے۔ اِس معاملے میں عوام اور خواص کا کوئی فرق نہیں۔ عوام کی اکثریت اپنی غفلت کی بناپر آئڈیل کی تلاش کے بارے میں شعوری طورپر باخبرنہیں ہوگی، تاہم غیر شعوری طورپر اس کا کیس پوری طرح یہی ہے۔ البتہ خواص، یعنی فلسفی اور مفکر اور رفارمر سب کے سب اِس میں مبتلا رہے ہیں۔
مگر دوسری طرف تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تمام لوگ، بلا استثنا آئڈیل کے بارے میں اپنی تلاش میںناکام رہے ۔ آئڈیل سماج، آئڈیل اسٹیٹ، آئڈیل ادارہ، آئڈیل نظام، یہی ہر ایک کا محبوب نشانہ رہا ہے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ ہر ایک اپنے نشانے کو پورا کرنے میں ناکام رہا، اور آخر کار وہ مایوسی کے عالم میں مرگیا۔
1 ۔ قدیم یونان کا مشہور فلسفی افلاطون (Plato 427) قبل مسیح میں پیدا ہوا، اور 347قبل مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے سُقراط (Socrates) سے تعلیم و تربیت حاصل کی تھی۔ مشہور فلسفی ارسطو(Aristotle) اس کا شاگرد تھا۔ افلاطون کو اپنے زمانے میں اتنا بڑا درجہ ملا کہ وہ اُس زمانے کے شاہی خاندان کامعلم بن گیا۔ لیکن اس کی سوانح عمری میںہمیں یہ الفاظ لکھے ہوئے ملتے ہیں کہ— وہ ایک مایوس انسان کی طرح مرا
He died as a disappointed person.
ایسا کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ افلاطون نے یونان میں آئڈیل اسٹیٹ قائم کرنے کو اپنا مقصد بنایا۔ اس نے اِس موضوع پر کتاب لکھی۔ اس نے وقت کے شاہی خاندان کی اپنے آئڈیل نظریے کے مطابق، تعلیم و تربیت کی۔ اُس کے نزدیک اس کا آئڈیل اسٹیٹ اتنا کامل تھا کہ اس نے اِس موضوع پر اپنی کتاب میں سزا (punishment) کا قانون شامل نہیںکیا۔
مگر عملاً یہ ہوا کہ اس کا آئڈیل اسٹیٹ سرے سے قائم ہی نہ ہوسکا، نہ کسی شہر میں اور نہ پورے ملک میں۔ آخر کار وہ سخت مایوسی میں مبتلا ہوا، اور اِسی مایوسی کے عالم میں حسرت کے ساتھ مر گیا۔
یہی انجام، بلا استثنا ہر فلسفی اور ہر مفکر اور ہر رفارمر کا ہوا ہے۔ ہر ایک نے اپنے ذہن میںایک آئڈیل دنیا بنانے کا خواب دیکھا۔ مگر کوئی بھی شخص اپنی آئڈیل دنیا نہ بنا سکا۔ آپ کسی بھی مشہور آدمی کی سوانح عمری پڑھیے تو آخر میں ہر ایک کے بارے میں یہ لکھا ہوا ملے گا کہ وہ اپنے نشانے کو پانے میں ناکام رہا اور آخر کار مایوسی کے عالم میں مرگیا— روسو، مارکس، ڈارون، جان آسٹن، لارڈ کرزن، وغیرہ ہر ایک کا خاتمہ محرومی کے احساس کے ساتھ ہوا۔
انسان کی اِس عمومی ناکامی کا سبب یہ تھا کہ ہر ایک نے یہ غلطی کی کہ اس نے خدا کی تخلیقی اسکیم (creation plan) کو سمجھے بغیر خود اپنے ذہن سے اپنا ایک آئڈیل نقشہ بنایااور وہ اس کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ پڑا۔ حالاں کہ خالق کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر اِس قسم کی کوشش سراسر عبث تھی۔ ایسی کوشش کبھی اِس دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسی ناکام تجربے کی بنا پر لوگوں میںعمومی طورپر وہ تصور رائج ہوگیا جس کو ایک جملے میں اِس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ— آئڈیل کبھی حاصل نہیں ہوسکتا
Ideal can't be achieved.
مگر حقیقتِ واقعہ کے اعتبارسے یہ قول درست نہیں۔ انسان کے دماغ میں جو آئڈیل بسا ہوا ہے، وہ یقینی طورپر قابلِ حصول ہے، مگر موت سے پہلے کی دنیا میں نہیںبلکہ موت کے بعد کی دنیا میں۔ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، یہ آئڈیل دنیا جنت ہے، اور وہ مستحق افراد کو صرف موت کے بعد کی زندگی میں حاصل ہوگی۔ انسان کی غلطی یہ ہے کہ وہ آئڈیل دنیا کو موت سے پہلے کی زندگی میں پانا چاہتا ہے۔ حالانکہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، یہ آئڈیل دنیا صرف موت کے بعد کی زندگی میں حاصل ہونے والی ہے۔
خدا کے تخلیقی پلان سے اِس بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر انسان کا یہ کیس بن گیا کہ وہ امید کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرے اور محرومی کا احساس لے کر مرجائے۔ حالانکہ اگر وہ خدا کے تخلیقی پلان کو جانے اور اس کے مطابق عمل کرے تو اس کے لیے موت سے قبل کی زندگی میں بھی امید ہے اور موت کے بعد کی زندگی میں بھی امید۔ ایسا آدمی فطری طورپر کبھی ذہنی تناؤ(tension) میں مبتلا نہیںہوگا اور وہ اِس المیے سے بھی بچ جائے گا کہ محرومی کے احساس پر اس کا خاتمہ ہو۔
تاریخ میں بہت سے مفکر اور رفارمر گزرے ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ موجودہ دنیا میں آئڈیل اسٹیٹ، آئڈیل نظام، آئڈیل سماج، آئڈیل ادارہ بنے، مگر بلا استثنا ہر ایک اپنے مقصد میںناکام رہا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت سے پہلے کی یہ موجودہ دنیا اِس مقصد کے لیے بنائی ہی نہیں گئی۔
اصل یہ ہے کہ خالق نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، ہر انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ اِس دنیا میں ایسا کوئی میکانزم نہیں جو لوگوں کو مجبور کرے کہ وہ اپنی آزادی کاغلط استعمال نہ کریں۔ چنانچہ پوری تاریخ میں ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ افراد نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے پورے نظام کو غلط رُخ پر ڈال دیا اور ابتدائی مُصلح کے پورے نقشے کو تباہ کرڈالا۔
فلسفی افلاطون نے اپنے زمانے کے بادشاہ سکندر اعظم (Alexander the Great) کو شہزادگی کے زمانے میں تربیت دے کر تیار کیا کہ وہ افلاطون کے آئڈیل اسٹیٹ کو قائم کرے۔ لیکن سکندر اعظم جب بڑا ہوا تو اس نے افلاطون کی تعلیم کو چھوڑ کر اپنی پسند کا راستہ اختیار کر لیا۔
جرمن فلسفی کارل مارکس (وفات1883) کے اقتصادی نظریات کی بنیاد پر کمیونسٹ پارٹی بنی۔ لینن اور اسٹالن کی قیادت کے تحت، کمیونسٹ پارٹی کی حکومت بھی زمین کے بڑے رقبے پر قائم ہوگئی۔ لیکن یہ حکومت مکمل طورپر ناکام رہی۔ کمیونسٹ لیڈر ٹراٹسکی (Trotsky leon)نے کمیونسٹ نظام کی اِس ناکامی کو خود کمیونسٹ لیڈروں کی غدّاری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اِس موضوع پر ٹراٹسکی نے ایک کتاب شائع کی جس کا ٹائٹل یہ تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Revolution—Betrayed
جرمن سائنس داں آئن سٹائن(Albert Einstein)نے جوہری توانائی (atomic energy)کو دریافت کیا۔اِس دریافت میں عظیم مثبت فائدہ چھپا ہوا تھا، لیکن پولٹکل لیڈروں نے جوہری توانائی کی دریافت کو لے کر ایٹم بم بنا ڈالا اور ساری دنیا میں جنگی تیاری کا جنون پیدا کردیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انڈیا کے لیڈر مہاتما گاندھی نے زبردست جدوجہد کے ذریعے انڈیا کوانگریزوں سے آزاد کرایا۔ان کا نظریہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں ایسا سماج بنایا جائے گا جوانسانی خدمت اور سیوا پر مبنی ہوگا۔ اِس مقصد کے لیے انھوںنے ایک ماڈل بستی کے طور پر مہاراشٹر میں’’سیوا گرام‘‘ بنایا۔ مگر آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کے تمام ساتھی، سیوا کے نظریے کو چھوڑ کر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی طرف دوڑ پڑے۔ انھوں نے گاندھی کی نصیحتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔ چنانچہ اِس منظر کو دیکھ کر مہاتما گاندھی نے کہا— اب میری کون سنے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قسم کے واقعات تمام مصلحین کے ساتھ پیش آئے۔ اِن تمام واقعات کا مشترک سبب یہ تھا کہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے ہر اصلاحی اسکیم کو تہہ وبالا کردیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی بھی کوئی اصلاحی اسکیم اپنے مطلوب معیاری معنوں ميں کامیاب نہ ہوسکی۔
2۔ انسان کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے تحت، ہر انسان کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ اِس بنا پر ہر انسان درست سوچ (right thinking) سے محروم رہتاہے۔ وہ کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ جیتا ہے اور کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ ہی مرجاتا ہے۔ اپنی عدم واقفیت کی بنا پر اس کو کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیںہوتی کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ ہر آدمی اپنی سوچ اور اپنے جذبات کے اعتبارسے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے، مگر اپنی بے خبر کی بنا پر وہ اِسی مصنوعی شخصیت کو اصل شخصیت سمجھ لیتا ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز میں پہلی بار انسان نے کنڈیشننگ کے اِس معاملے کو جانا۔ امریکا کے پروفیسر جے بی واٹسَن (John Broadus Watson) نے لمبی تحقیق کے بعد 1925میں اپنی کتاب بہیویر ازم(Behaviourism) شائع کی۔ اِسی کتاب کے نام پر نفسیات میں بہیویر سٹ اسکول(Behaviourist School) قائم ہوا، جو اتنا عام ہوا کہ عرصے تک دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں وہ علم النفس کے نصاب کے طورپر پڑھایا جاتا رہا۔
لیکن پروفیسر واٹسن کی یہ دریافت صرف ایک ادھوری دریافت تھی۔ اِس دریافت کے مطابق، کنڈیشنڈ انسان ہی اصل انسان تھا۔ اِس نفسیاتی اسکول میں یہ مان لیاگیا کہ جو چیز انسان کی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے وہ اس کا پیدائشی نیچر نہیں ہے، بلکہ وہ بعد از پیدائش اس کے ماحول کا نرچر (nurture) ہے،مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ کنڈیشننگ کا یہ معاملہ انسان کے لیے ایک امتحان ہے۔ ہر انسان کو اپنی تعمیرشخصیت کے لیے یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ قدرت نے پیاز کی صورت میں اِس معاملے کا ایک نمونہ انسان کے لیے رکھ دیا ہے ۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیاز میں ایک کے بعد ایک پرتیں(layers) ہوتی ہیں۔ اِن پرتوں کو ہٹایا جائے تو آخر کار اس کا اصل مغز سامنے آجائے گا۔
ایسا ہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کی اصل شخصیت وہ ہے جو فطرت کی طرف سے اس کو پیدائشی طورپر ملتی ہے، پھر خارجی ماحول سے اس کے اوپر کنڈیشننگ کی پرت چڑھتی رہتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ باشعور ہونے کے بعد اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے وہ ان خارجی پرتوں کو ہٹائے، یہاں تک کہ فطری انسان سامنے آجائے۔
ہر انسان پیدائشی طور پر مسٹر نیچر ہے، لیکن ماحول کے اثر سے وہ مسٹر کنڈیشنڈ بن جاتا ہے۔ ایسا خدا کے تخلیقی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ انسان کو خدا نے شعور اور آزادی کی صلاحیت بخشی ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے شعوری فیصلے کے تحت، اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے آپ کو دوبارہ انسانِ فطری (Mr. Nature) بنائے۔ یہی انسان کا امتحان ہے، اور اِس امتحان میں کامیاب ہونے والوں ہی کے لیے خدا نے اپنے ابدی انعامات کا اعلان کیا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کی کنڈیشننگ ہوتی ہے، مگر پوری معلوم تاریخ میں ڈی کنڈیشننگ کا نظریہ کبھی موجود نہیں رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے تحت، ہر زمانے میں لوگوں کی کنڈیشننگ ہوتی رہی، لیکن عدم واقفیت کی بنا پر وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ نہ کرسکے۔ ایسی حالت میں محفوظ طورپر کہا جاسکتا ہے کہ پوری تاریخ ایسے افراد سے خالی ہے جو اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے اپنے آپ کو مسٹر نیچر بنا سکے ہوں۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ تاریخ کے تمام مفکرین اور فلاسفہ اپنے اصلاحی یا فکری کردار کو ادا کرنے کے لیے نااہل تھے۔ وہ اِس مقصد کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
تمام فکری نظاموں میں اسلام اِس معاملے میں ایک استثناکی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں سے ایک بنیادی تعلیم وہ ہے جس کو تزکیہ(purification) کہاجاتا ہے۔ تزکیہ کسی پُراسرار چیز کا نام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ اُسی عمل کا نام ہے جس کے لیے ہم نے ڈی کنڈیشننگ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنا محاسبہ(introspection) کرے۔ وہ اپنی فکری اور نظریاتی غلطیوں کو ڈھونڈ کر نکالے اور ان کی اصلاح کرے۔ یہ عمل تمام تر ایک ذہنی عمل ہے۔ آدمی بے لاگ طورپر اپنے اوپر نظر ثانی کرتا ہے۔ یہ عمل مسلسل طورپر ساری عمر جاری رہتا ہے۔ اِس طرح آدمی تزکیہ کے عمل کے ذریعے اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مزکّٰی اور مطہّر شخصیت (purified personality)بن جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning)کے لفظ کو ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کے ہم معنیٰ لفظ کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس استعمال کے اعتبار سے ڈی کنڈیشننگ کا مطلب ہوتا ہے — ذہنی تناؤ کو ختم کرنا۔
مگر میرے نزدیک یہ ڈی کنڈیشننگ کے لفظ کا نادرست استعمال ہے۔ میرے نزدیک ڈی کنڈیشننگ سے مراد یہ ہے کہ پروفیسر واٹسن کے تصور کے مطابق، کنڈیشننگ کے ساتھ برعکس عمل کیا جائے۔ جس کنڈیشننگ کو پروفیسر واٹسن نے حتمی سمجھ لیا تھا، اس کو حتمی نہ سمجھتے ہوئے فکری عمل کے ذریعے اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے ،اسی کانام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ میرے علم کے مطابق، مفکرین نے اگر چہ ڈی کنڈیشننگ کو اِس مخصوص معنی میں استعمال نہیں کیا ہے، لیکن میرے نزدیک ڈی کنڈیشننگ کا صحیح ترین مفہوم یہی ہے۔
اِس موضوع پر ایک بار میری گفتگو ایک کمیونسٹ پروفیسر سے ہورہی تھی۔ انھوںنے کہا کہ ڈی کنڈیشننگ کو ہم بھی مانتے ہیں، مگر ہم اس کو ڈی کلاسنگ (de-classing) کہتے ہیں۔ میںنے کہا کہ ڈی کنڈیشننگ، اور ڈی کلاسنگ دونوں بالکل الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔ ڈی کلاسنگ ایک سماجی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے— بے طبقاتی سماج (classless society) بنانا۔ مگر ڈی کنڈیشننگ مکمل طورپر ایک نفسیاتی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے— ذہن کی فکری آلودگی کو دور کرکے ذہن کو دوبارہ خالص فطری حالت پر لے جانا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
3۔ اِس معاملے میںتیسری چیز وہ ہے جس کو اِفادی نظریہ (Utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ انسان ہمیشہ سے مادّی مفادات کا طالب رہا ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں اِس تصور نے باقاعدہ فلسفے کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ اِسی فلسفے کو یوٹلٹیرین ازم کہاجاتا ہے۔ اِس افادی فلسفے کو پہلے برطانوی فلسفی بنتھم (Jeremy Bentham) نے پیش کیا تھا۔ بنتھم 1748میں انگلینڈ میں پیدا ہوا، اور 1832 میںاس کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد اِس افادی فلسفے کو انیسویں صدی کے مشہور فلسفی جان اسٹوارٹ مِل (John Stuart Mill) نے، اور دوسرے فلسفیوں نے آگے بڑھایا، یہاں تک کہ عملاً یہ فلسفہ جدید دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ بن گیا۔ آج شعوری یا غیر شعوری طورپر تمام انسان اِسی فلسفے کے تحت سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔
یوٹلٹیرین اسکول میں بہت سے نام شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کے درمیان بعض ظاہری اختلافات بھی ہیں، مگر عملاً یہی فلسفہ آج کی دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر آج تمام دنیا کے لوگ اس فلسفے کو قبول کیے ہوئے ہیں۔ وہ چیز جس کو مادّیت (materialism) کہاجاتا ہے، وہ دراصل یوٹلیٹرین ازم ہی کا دوسرا نام ہے۔
یوٹلیٹرین اسکول، یامٹیریلسٹ اسکول کے مطابق، موجودہ دنیا ہی وہ جگہ ہے جہاں آدمی اپنی تمناؤں اور خواہشوں کو پورا کرسکتا ہے۔ ویبسٹر کے مطابق، اس نظریے کی سادہ تعریف یہ ہے
other sourceWords of another person or source
The doctrine that the worth or value of anything is determined solely by its utility.
یوٹلیٹرین ازم کا نظریہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیز ہے جس کو عوامی زبان میںاِس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ — کھاؤ، پیو اور خوش رہو
Eat, drink and be merry.
یہ تصور دنیا کی ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ اِسی تصور کو ہندستان کے شہنشاہ بابر (وفات 1530) نے اپنے ایک شعر میں اِس طرح بیان کیا تھا— بابر بہ عیش کوش کہ عالَم دوبارہ نیست!
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر پوری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ نشانہ قابلِ حصول نہیں ۔جیسا کہ معلوم ہے، ہر آدمی سوسال سے کم مدّت کے لیے موجودہ دنیا میں جینے کا موقع پاتا ہے۔ اِس محدود مدّت میںاس کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنی آرزوؤں کے مطابق، یہاں اپنی مطلوب دنیا بنا سکے ، ایسی آرزوئیں جو کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے لامحدود حیثیت رکھتی ہیں۔ طرح طرح کی رکاوٹیں اس کا راستہ روک دیتی ہیں۔ حادثات اور بیماری اور دوسرے ناموافق اسباب اس کے لیے اپنے منصوبے کی تکمیل میں فیصلہ کُن رکاوٹ بن جاتے ہیںاور اگر بالفرض کوئی شخص اپنی خواہشوں کا ایک محل بنا لے، تب بھی بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر موت آتی ہے اور یک طرفہ فیصلے کے تحت، اس کی خواہشوں کے محل کو ڈھا دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ فطرت کے مقرر نقشے کے مطابق، انسان کی زندگی دو دَورں میں تقسیم ہے— موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا زمانہ عمل کرنے کا زمانہ ہے اور موت کے بعد کا زمانہ اپنے عمل کے مطابق، اس کا انجام پانے کا زمانہ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ امتحان ہال، کسی اسٹوڈنٹ کے لیے ٹسٹ دینے کی جگہ ہے، اور امتحان ہال کے باہر کی دنیا جاب(job) حاصل کرنے کی دنیا۔ جو لوگ موت سے قبل کی دنیا میں اپنی تمناؤں کا محل بنانا چاہتے ہیں وہ اُس طالبِ علم کی مانند ہیں جو امتحان ہال کے اندر اپنے لیے جاب تلاش کرنے لگے، حالانکہ ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
پہلی عالمی جنگ جب ہوئی تو اُس وقت انگریز، انڈیا کے اوپر حکومت کررہے تھے۔پہلی عالمی جنگ کے بعد انھوں نے نئی دہلی کے علاقے میں ایک شان دار دنیا تعمیر کی۔ اس میں وہ وسیع محل بھی شامل تھا جس کا نام اُس وقت ’’وائس رِگل لاج‘‘ رکھا گیا تھا، اور اب اس کو ’’راشٹرپتی بھون‘‘ کہا جاتا ہے۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ وہ اِس شان دار دنیا میں ابدی طورپر پُر عیش زندگی گزار سکیں گے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ دوسری عالمی جنگ نے ان کے سنہرے خواب کو درہم برہم کردیا۔
پہلی عالمی جنگ کے بعد ایک فرانسیسی مدبّر نئی دہلی آیا تھا۔ اس نے انگریزوں کی بنائی ہوئی اِس خوش نما دنیا کو دیکھا تو اس نے کہا کہ— انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی، صرف اس لیے کہ ایک دن وہ اس کو چھوڑ دیں
What a magnificent world they built to leave.
انگریزوں سے پہلے دہلی میں مغل خاندان کا راج تھا۔ 1857ء میں ان کی حکومت ختم ہوگئی۔ دہلی میں ان کی چھوڑی ہوئی شان دار عمارت ’’لال قلعہ‘‘ کی شکل میں موجود ہے۔ لال قلعہ کے ایک حصے میں میوزیم ہے۔ اِس میوزیم میں جو چیزیں موجود ہیں، اُن میں سے ایک وہ ٹوٹا ہوا پتھر ہے جس کے اوپر یہ فارسی شعر کَندہ ہے— آسمان کے نیچے ان کی سلطنت ہمیشہ باقی رہے
ہمیشہ باد بہ زیرِ سپہر بُو قلموں!
اس ٹوٹے ہوئے پتھر کے ساتھ جو تشریحی عبارت لکھی ہوئی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پتھر ایک قدیم محل میں نصب تھا۔ وہ محل اب بالکل مٹ چکا ہے۔ اس کا یہ پتھر یادگار کے طورپر لال قلعہ کے میوزیم میںرکھ دیا گیا ہے۔
یہی معاملہ پوری تاریخ میں تمام انسانوں کا ہوا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے انسان نے اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے اپنا محل بنانے کی کوشش کی، مگر کسی کے لیے بھی اس کا محل آرزوؤں کی تکمیل کا محل نہ بن سکا۔ یہ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ یوٹلیٹرین ازم کا نظریہ ایک غیر فطری اور غیر واقعی نظریہ ہے۔ یہ ایک ناممکن کو حاصل کرنے کی کوشش ہے، جو موجودہ دنیا میں کبھی کسی کے لیے واقعہ نہیں بنی اور نہ آئندہ وہ کسی کے لیے واقعہ بن سکتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ یوٹلیٹرین ازم کا نظریہ خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف ہے۔ خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کی مدتِ حیات(life span) کو اس نے دو مختلف حصوں میں بانٹ دیا۔ اس کا مختصر حصہ، قبل از موت دنیا میں رکھا گیااور اس کا بقیہ تمام حصہ، بعد از موت کی زندگی میں رکھ دیا گیا ہے۔ قبل از موت کا عرصۂ حیات ٹسٹ کے لیے ہے اور بعداز موت کا عرصۂ حیات اپنی کارکردگی کے مطابق، انعام پانے کے لیے۔
یہ ٹسٹ کیا ہے۔ یہ ٹسٹ بنیادی طورپر یہ ہے کہ آدمی اختیار کے باوجود اپنے کو بے اختیار بنا لے، وہ آزادی کے باوجود اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کرے۔ وہ سب کچھ کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود خدا کی مرضی کے خلاف کچھ نہ کرے۔
دنیا میں انسان کو اگرچہ کامل آزادی دی گئی ہے، لیکن اِسی کے ساتھ وہ ایک کمزور مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً وہ حادثے کا شکار ہوتا ہے، وہ بیمار ہوتا ہے، وہ بوڑھا ہوتا ہے، وہ لامحدود طور پر اپنی خواہشوں کو پورا نہیں کرپاتا۔ طرح طرح کے ناموافق حالات اس کے لیے رُکاوٹ بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ آخر کار وہ بے بسی کے ساتھ مرجاتا ہے۔ یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر انسان، خواہ وہ کوئی بھی ہو، بیک وقت کمزوری اور آزادی دونوں کا مجموعہ بنا رہتا ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں کرپاتا کہ وہ اپنی آزادی سے اپنی کمزوری کو جدا کرسکے۔
جنت نہ صرف ابدی ہوگی بلکہ وہ ایک ایسی کامل جگہ ہوگی جہاں ہر قسم کی محدودیت (limitations) کو ختم کردیا گیا ہوگا، جہاں آدمی نہ صرف آزاد ہو بلکہ وہ اپنی ہر قسم کی آرزوؤں کو پورا کرنے کے مواقع بھی رکھتا ہو۔قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت کو جنت میں عظیم اقتدار (great kingdom) حاصل ہوگا (76:20) اسلامی تصور کے مطابق، جنت مکمل طورپر فساد سے پاک ہوگی۔ ایسی حالت میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جنت میں کوئی ایسا شخص جگہ نہیں پاسکتا جو اپنے اقتدار کو فساد کے لیے استعمال کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ جنت کے اِس ماحول میں صرف اُن لوگوں کو داخل کیا جائے گا جو موت سے پہلے کے عرصۂ حیات میں یہ ثابت کرچکے ہوں کہ وہ اتنے زیادہ با شعور ہیں کہ کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی انھیں اِس پر آمادہ نہیں کرسکتی کہ وہ اپنے اقتدار کو کسی معمولی درجے میں بھی فساد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہر لمحہ موجودرہتے ہیں جو اس کی زندگی کے ہر واقعے کو رکارڈ کرتے رہتے ہیں، خواہ وہ نیت ہو، یا قول، یا عمل۔ اس معاملے کو اِس طرح کہا جاسکتا ہے کہ فرشتے ہر لمحہ انسان کی نگرانی کررہے ہیں۔ اگر وہ صحیح کام کرتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر پر اس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھ دیتے ہیں کہ یہ شخص جنت کا مستحق ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He is a deserving candidate for Paradise.
اس کے برعکس، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ آدمی غلط کام کررہا ہے تو وہ اپنے رجسٹر میں یہ اندراج کرلیتے ہیں کہ— یہ شخص جنت میں داخلے کا استحقاق نہیں رکھتا
He is not a deserving candidate for Paradise.
یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر عورت اور مرد کا معاملہ اسی قانونِ الٰہی کے تحت ہے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اِس حقیقت کو ہر وقت اپنے سامنے رکھے اور دنیا میں انتہائی محتاط زندگی گزارے۔ اِس کے برعکس، وہ لوگ ناکام ہیں جو اِس حقیقت کو بھلا کر زندگی گزاریں اور نتیجتاً ابدی تباہی میں مبتلا ہو کر رہ جائیں۔
بغیرہدایت
نظریۂ ارتقا کو ماننے والے لوگ زمین پر انسان کی تاریخ کو لاکھوں سال قدیم بتاتے ہیں، لیکن تاریخ کے رکارڈ کے مطابق، زمین پر انسان کی عمر بہ مشکل پچیس ہزار سال پیچھے تک جاتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو انسانی زندگی کے دو پہلوؤں میں بہت زیادہ فرق ملے گا— انسان نے مادّی چیزوں میںتو بہت زیادہ ترقی کی، لیکن انسانی علوم میں لمبی مدت گزر نے کے باوجود کوئی ترقی نہ ہوسکی۔ مٹیریل ترقی کا خواب انسان نے بڑی حد تک پورا کرلیا، لیکن ذہنی اور روحانی ترقی کی سمت میںابھی تک کوئی قابلِ ذکر پیش قدمی نہ ہوسکی۔ اسی کا ایک اظہار درج ذیل کتاب ہے جو پہلی بار 1935 میںچھپی۔ اس کا نام یہ ہے
Dr. Alexis Carrel, Man the Unknown
اصل یہ ہے کہ ترقی کے لیے ہمیشہ گائڈ لائن کی ضرورت ہوتی ہے۔مٹیریل ورلڈ یا فزکل ورلڈ کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی گائڈ لائن خود اِن اشیا کے اندر موجود ہے۔ تجربے کے ذریعے اس قانون کو دریافت کرکے ترقی کا سفر جاری رکھا جاسکتا ہے۔
مثلاً سواری کے میدان میں یہ ہوا کہ پہلے انسان گھوڑے پر سواری کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے پہیے دار گاڑی بنائی۔ اس کے بعد سمندری جہاز بنائے گئے ۔ پھر اس نے بائسکل تیار کی۔ اس کے بعد موٹر کار بنی اور پھر ہوائی جہاز اور راکٹ تیار کیے گئے۔ اِن تمام سواریوں کو بنانے کے لیے گائڈ لائن لا آف نیچر کی صورت میں خود اُن چیزوں کے اندر موجود تھی جس کو استعمال کرکے مختلف قسم کی سواریاں بنائی گئیں۔مگر انسان کے بارے میں سب کچھ لامعلوم تھا۔ مثال کے طورپر انسان جب پیدا ہوتا ہے اور سماج کے اندر رہنا شروع کرتا ہے تو اس کے ذہن کی کنڈیشننگ ہونے لگتی ہے، یہاںتک کہ ہر آدمی مسٹر کنڈیشنڈ بن جاتا ہے، یہ کنڈیشننگ ، آدمی کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی دنیا کے بارے میں بے آمیز رائے قائم کرسکے۔ مگر یہ حقیقت صرف بیسویں صدی کے رُبع اوّل میںمعلوم ہوسکی اور وہ بھی صرف پچاس فیصد۔ یہ واقعہ پھر بھی لامعلوم رہا کہ کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرکے اس کو دوبارہ فطری سوچ پر لایا جاسکتا ہے۔
قرآن خدا کی کتاب ہے۔ قرآن کی اصل حیثیت یہی ہے کہ وہ انسان کے لیے ایک قابل اعتماد گائڈ لائن ہے۔ مذکورہ سوال کا جواب قرآن کی اِس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجادِلُ فِي اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلا هُدىً وَلا كِتابٍ مُنِيرٍ (22:8)۔ یعنی، اور لوگوں میں کوئی شخص ہے جو اللہ کی بات میں جھگڑتا ہے، علم اور ہدایت اور روشن کتاب کے بغیر۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سائنس میں ناکامی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے گائڈنس کے بغیر انسانی زندگی کو سمجھنا چاہا اور اس کی تشکیل کرنے کی کوشش کی۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر انسانی سائنس ترقی سے محروم رہی۔ کیوں کہ جب گائڈنس موجود نہ ہو تو آدمی کو اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہیں ملے گا، اور جب حقیقی نقطہ آغاز کو جانے بغیر سفر شروع کیاجائے تو ایسا سفر کبھی اپنی منزل تک پہنچنے والا نہیں۔
خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے بغیر
کسی پیچیدہ مشین کو بنانے والا انجینئر ہی اس کی گائڈ بک دے سکتا ہے، یہی معاملہ موجودہ دنیا کا ہے۔ موجودہ دنیا کو خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق بنایا ہے۔ یہ تخلیقی نقشہ زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے بغیر زندگی کا جو تصور قائم کیا جائے گا، وہ حقیقتِ واقعہ کے مطابق نہ ہوگا۔ اور جو منصوبہ حقیقتِ واقعہ کے مطابق نہ ہو اس کے لیے ناکامیابی یقینی ہے۔
خدا کی کتاب قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اِس دنیا کو ٹسٹ کے لیے بنایا ہے۔ اس دنیا سے انسان کے تعلق کی نوعیت وہی ہے جو امتحان ہال سے ایک طالب علم کی ہوتی ہے۔ امتحان ہال میں کوئی طالب علم اس لیے جاتا ہے کہ وہاں وہ مطلوب ٹسٹ دے کر اپنے آپ کو اس بات کا اہل ثابت کرے کہ امتحان ہال کے باہر کی دنیا میں وہ جگہ پانے کا مستحق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح موجودہ دنیا انسان کے لیے خدائی ٹسٹ دینے کی جگہ ہے۔ موت سے پہلے کی اِس دنیا میں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ٹسٹ میں اپنے آپ کو کامیاب ثابت کرے، تاکہ موت کے بعد کی دنیا میں وہ خدا کے ابدی انعامات کا مستحق قرار پائے۔
انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ خدا کی گائڈبک کے ذریعے دنیا کے بارے میں خدا کے تخلیقی نقشے کو جانے، اور اس سے مطابقت کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ جو لوگ ایسا کریں وہی کامیاب انسان ٹھہریں گے اور جو لوگ ایسا نہ کریں وہ ناکام ہو کر رہ جائیں گے۔
آئڈیل زندگی کی تعمیر
مشہور یونانی فلسفی افلاطون (Plato) تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے یونان میں پیدا ہوا۔ اس کا نشانہ یہ تھا کہ یونان میں ایک اسٹیٹ بنائی جائے جو ہر اعتبار سے آئڈیل ہو۔ اس نے اپنے کتاب آئڈیل اسٹیٹ (Ideal State) میںاس کا نقشہ پیش کیا۔ اس کے نزدیک آئڈیل اسٹیٹ بنانا پوری طرح ممکن تھا۔ افلاطون یونان کے شاہی خاندان کا معلم تھا۔ اِس طرح اس کو موقع مل گیا کہ وہ شہزادوں کی تعلیم و تربیت کرکے ایسا مطلوب سیاسی کردار تیار کرے جو اس کی اسٹیٹ میں وہ رول ادا کرسکے جس کو اس نے فلاسفر کنگ (Philosopher King) کا نام دیا تھا۔ مگر افلاطون کی مفروضہ آیڈیل اسٹیٹ کبھی قائم نہ ہوسکی۔
اِس کا سبب یہ نہ تھا کہ اس کے شاگرد سکندر اعظم نے بعد کے مرحلے میںاس کی پیروی نہ کی، بلکہ اس کا سبب فطرت کے تخلیقی نقشے سے بے خبری تھی۔ خدا نے یہ دنیا اِس لیے نہیں بنائی کہ یہاں آئڈیل اسٹیٹ بنائی جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، آئڈیل اسٹیٹ اِس دنیا میں بنانا ممکن ہی نہیں۔ افلاطون نے ایک ناقابلِ عمل منصوبے کو عمل میں لانا چاہا، اس لیے وہ ناکام ہو کر رہ گیا۔ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، اگر وہ کسی عملی منصوبے کو زیر عمل لانے کی کوشش کرتا تو ضرور وہ کامیاب ہوسکتا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ڈی کنڈیشننگ کے بغیر تفکیری عمل
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی، ہر پیدا ہونے والا اپنی اصل فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا مسیحی یامجوسی بنادیتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حدیثِ رسول میں جو بات کہی گئی ہے وہ اب خود سائنسی ریسرچ کے تحت ثابت ہوچکی ہے۔ اب خالص علمی طورپر یہ مان لیاگیا ہے کہ کوئی عورت یا مرد جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں، اُس ماحول کے مطابق، ان کے ذہن کی کنڈیشننگ ہوجاتی ہے۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ کوئی بھی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کنڈیشننگ کا یہ عمل غیر شعوری طور پر ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ پراسس ہر آدمی کے ذہن میں جاری رہتا ہے اور کوئی آدمی بطورِ خود یہ جان نہیں پاتا کہ اس کے ذہن میں مسلسل طور پر کنڈیشننگ کا عمل جاری ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کنڈیشننگ کا یہ معاملہ پہلی بار بیسویں صدی کے آغاز میں سامنے آیا۔ امریکا میں نفسیات کے پروفیسر واٹسن (J.B. Watson) نے اِس موضوع پر لمبی تحقیق کے بعد 1925 میں اپنی مشہور کتاب بہیویرازم(Behaviourism) چھاپی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہر آدمی لازمی طورپر کنڈیشننگ کا معمول بنتا ہے، کوئی بھی انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔ واٹسن کا یہ نظریہ اتنا مقبول ہوا کہ عرصے تک وہ یونیورسٹیوں میں نفسیات کے نصاب میں پڑھایا جاتا رہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لیکن واٹسن کے نظریے میں ایک بھیانک کمی تھی۔ اس نے یہ فرض کرلیا کہ یہ کنڈیشننگ جو ہوتی ہے، وہی اصل صورت حال ہے۔ اس نظریے کے مطابق، انسانی شخصیت کی تشکیل وتعمیر نیچر (nature) سے نہیں ہوتی بلکہ نرچر (nurture) سے ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو آدمی جیسا بن گیا، وہی اس کی ابدی شخصیت ہے۔ اس کو دوبارہ اس کی ابتدائی فطرت کی طرف نہیں لوٹایا جاسکتا۔
یہ نظریہ اگر چہ بیسویں صدی کے آغاز میں پیش کیاگیا، لیکن عملاً وہ پوری تاریخ پر چھایا رہا۔ پچھلے ہزاروں سال کے درمیان جو عورت اور مرد پیدا ہوئے، وہ سب اِس حقیقت سے بے خبر رہے کہ ان کے لیے تفکیری عمل کا آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کریں، وہ اپنے ذہن کے اوپر سے مصنوعی پردوں کو ہٹا کر اپنے آپ کو اپنی اصل فطرت کی طرف واپس لے جائیں۔ خالق نے خارجی دنیا میں پیاز کی صورت میں اس معاملے کی ایک مادّی مثال رکھ دی تھی۔ پیاز اشارے کی زبان میں لوگوں کو بتارہی تھی کہ پہلے اپنے ذہن کے خارجی پردوں کو ہٹاؤ، اس کے بعد ہی تم چیزوں کو اُن کی بے آمیز صورت میں سمجھ سکتے ہو۔ مگر انسان نے نہ پیاز کی اس مثال سے سبق سیکھا، اور نہ پروفیسر واٹسن اور ان کے ہم نوا اِس حقیقت کو دریافت کرسکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ بے خبری کے راستے پر چلتی رہی۔
مثال کے طورپر تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو تمام سیاسی، یا غیر سیاسی تحریکیں ردّ عمل کی تحریکیں نظر آتی ہیں۔ روسو کی تحریک، بادشاہت کے خلاف ردّ عمل کی تحریک تھی۔ مارکس کی تحریک سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف رد عمل کی تحریک تھی۔ جمال الدین افغانی کی تحریک مغربی استعمار کے خلاف رد عمل کی تحریک تھی۔ گاندھی کی تحریک برٹش اقتدار کے خلاف رد عمل کی تحریک تھی۔ آیت اللہ خمینی کی تحریک شاہ ایران کے خلاف رد عمل کی تحریک تھی۔ سید قطب کی تحریک یہودیوں کی زائن ازم (Zionism)کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی، وغیرہ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ رد عمل کی تحریک ہمیشہ منفی ذہن کا نتیجہ ہوتی ہے۔ آدمی کسی کے بارے میں نفرت میں مبتلا ہوتا ہے اور پھر وہ اس کے خلاف رد عمل کی تحریک چلانے لگتا ہے۔ یہی پوری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔ تمام عورت اور مرد کسی نہ کسی اعتبار سے نفرت میں جیتے رہے، وہ مثبت نفسیات میں جینے والے نہیں بنے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ کنڈیشننگ کے معاملے سے بے خبر تھے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے کہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کے بغیر وہ حقائق کو بے آمیز صورت میں دیکھ نہیں سکتے، جب کہ حقائق کو بے آمیز صورت میں دیکھنا ہی مثبت طرز فکر کی پہلی شرط ہے۔
ذہنی انقلاب کے بغیر روحانیت
روحانیت(spirituality) ہمیشہ سے انسان کی دل چسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے نام ہرحلقے میںالگ الگ لیے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً مسٹسزم (Mysticism) اور مراقبہ (Meditation) اور تصوّف (Sufism)، وغیرہ۔ روحانیت کے محاذ پر ہزاروں سال سے زبردست سرگرمیاں جاری ہیں، مگر ابھی تک ان سرگرمیوں کا کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ تمام کوششوں اور ریاضتوں کے بعد جو چیز حاصل ہوئی، وہ صرف بے شعور وجد (ecstasy) ہے، نہ کہ روحانی ارتقا جو کہ ان سرگرمیوں کا اصل مطلوب تھا۔
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے سے لوگ یہ ماننے لگے کہ انسان کا ذہن سوچ کا مرکز ہے، اور انسان کا دل جذبات و عواطف کا مرکز۔ کیوں کہ روحانیت کو عواطف کی نوعیت کی چیز سمجھ لیا گیا، اس لیے انسان ہمیشہ مبنی بَر قلب روحانیت(heart-based spirituality) پر عقیدہ رکھتا رہا۔ اس مفروضے کی بنیاد پر باقاعدہ فلسفہ وضع کیا گیا۔ یہ مان لیا گیا کہ انسان کا دل ہر قسم کے روحانی خزانوں کا سرچشمہ ہے۔ اور دل میں چھپے ہوئے احساسات کو جگا کر روحانی فیض حاصل کیا جاسکتا ہے۔
لیکن موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات نے اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کردیا۔ اب یہ قطعیت کے ساتھ معلوم ہوچکا ہے کہ فکر اور جذبات دونوں کا واحد مرکز صرف انسان کا ذہن (mind) ہے۔ جہاں تک دل کا تعلق ہے، وہ صرف گردش خون(circualtion of blood) کا ذریعہ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الرسالہ، نومبر 2004، صفحہ 23 ؛ جون 2005، صفحہ 6؛ فروری 2006، صفحہ 28؛ اگست 2006 ، صفحہ 33)
یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال کی روحانی ریاضت کے نتیجے میں انسان کو جو چیز ملی، وہ صرف وجد (ecstasy) تھا، نہ کہ روحانی بنیاد پر ذہنی ارتقا۔ اس قسم کی روحانیت دراصل، روحانیت کی ایک کم تر صورت (reduced form) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں روحانی ارتقا۔
جیسا کہ معلوم ہے، وجد ایک مبہم کیفیت کا نام ہے، جب کہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایسا ذہن رکھتا ہے جس کے اندرسوچنے کی صلاحیت ہے۔ انسانی تاریخ کی تمام ترقیاں سوچ کی صلاحیت کو عمل میں لانے سے حاصل ہوئی ہیں۔ ایسی حالت میں ، روحانیت اگر کوئی چیز ہے تو اس کو بھی ذہن کی سطح پر حاصل ہونا چاہیے۔ تمام انسانی ترقیوں کا سرچشمہ انسان کے ذہن میں تفکیری عمل ہے، اِسی طرح روحانی ترقی کا ذریعہ بھی تفکیری عمل کو ہونا چاہیے۔ روحانیت دراصل معرفتِ حقیقت کا اعلیٰ درجہ ہے، وہ مبہم بے خودی جیسے کوئی چیز نہیں۔ اس لیے حقیقی روحانیت وہی ہے جو کسی آدمی کو ذہن کی سطح پر حاصل ہو، نہ کہ قلب کی سطح پر۔
اس حقیقت سے بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ پوری تاریخ میںانسان حقیقی روحانیت کے حصول سے محروم رہا۔ اس نے جس چیز کو روحانیت سمجھا، وہ روحانیت نہیں تھی۔ اور جو اصل روحانیت تھی اس سے بے خبری کی بنا پر وہ اس کو حاصل کرنے کی طرف اپنا سفر ہی شروع نہ کرسکا۔ تاریخِ انسانی کا یہ شاید سب سے بڑا المیہ ہے، اس سے بڑا المیہ اور کوئی نہیں۔
انسانی تاریخ کے چار دور
Four Phases of Human History
خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، انسانی تاریخ کے چار دور ہیں۔ یہ چار ادوار گویا کہ انسانی معرفت کے چار ادوار ہیں۔ یہ ایک طویل ربانی سفر ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ انسان خدا کی معرفت (realization of God) حاصل کرے، تاکہ اُس کو خدا کی ابدی جنت میں قیام کی سعادت حاصل ہوسکے۔
معرفت کیا ہے۔ معرفت خدا کی دریافت کا نام ہے جو بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔ خدا سب سے زیادہ ظاہر بھی ہے، اور سب سے زیادہ مستور(the most obvious, the most unknown) بھی۔ معرفت کے حصول کے لیے انسان کو ایک پورا سمندر پار کرنا ہوتا ہے۔ جو لوگ اِس سمندر کو پار کرنے کا ثبوت دیں، وہی صاحب معرفت ہیں، اور انھیں کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ ابدی جنتوں میںداخل ہوں۔
جنت کی قیمت— معرفت
قرآن کی سورۃ الذاریات میںاللہ تعالیٰ نے فرمایا وَما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَاّ لِيَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی، میں نے جن اور انسان کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ میری عبادت کریں۔ مجاہد تابعی (وفات 722 ء)نے حضرت عبد اللہ بن عباس (وفات 687ء) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اِس آیت میں عبادت سے مراد معرفت ہے قالَ مُجاهِدٌ إِلّا لِيَعْبُدونِ، أَي إِلّا لِيَعْرِفوني(القرطبی، جلد 17، صفحہ 55)۔ یعنی، اِس آیت میں خدا کی عبادت سے مراد خدا کی معرفت ہے۔ یہی قول ابن جُریج تابعی (وفات 767ء) سے بھی منقول ہے قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍإِلَّا لِيَعْبُدُونَ، أَيْ إِلَّا لِيَعْرِفُونَ(تفسیر القرآن العظیم لإبن کثیر، جلد 4 ، صفحہ 338)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے میں ایک متعلق روایت بعض کتابوں میں آئی ہے۔ بعض محدثین نے اِس روایت پر اس کی سند کے اعتبار سے کلام کیا ہے۔ لیکن سترھویں صدی عیسوی کے مشہور فقیہ علی بن محمد نور الدین ملاّ علی قاری (وفات 1606 ء) نے کہا کہ لٰكِنَّ مَعْنَاهُ صَحِيحٌ، مُسْتَفَادٌ مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَىٰ وَما خَلَقْتُ الجِنَّ وَالإِنسَ إِلّا لِيَعْبُدونِ، أَي لِيَعْرِفوني (کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 1011)۔ یعنی، اس کا مفہوم صحیح ہے، اور وہ اِس آیت ِقرانی سے ماخوذ ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإنْسَ إلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (51:56)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس روایت کے الفاظ یہ ہیں كُنتُ كَنْزًا مَخْفِيًّا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ، فَخَلَقْتُ خَلْقًا فَبِي عَرَفُونِي(کشف الخفاء، حدیث نمبر 2016)۔ یعنی، میں ایک مخفی خزانہ تھا، پھر میںنے چاہا کہ مجھ کو جانا جائے، پھر میںنے انسان کو پیدا کیا، پھر انھوںنے مجھے جانا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سے اور متعدد دوسرے حوالوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے اصل مقصود یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت (realization) حاصل کرے۔ یہی معرفت تمام انسانی کمالات کا سرچشمہ ہے۔ انسان کو جب حقیقی معنوں میں خدا کی معرفت حاصل ہوجائے تو اِس سے اُس کے اندر تمام خوبیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور یہی اس کے لیے ہر قسم کے شر سے دور رہنے کا محرک بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معرفت ہی دینِ خداوندی کی اصل روح ہے۔
خدا نے اپنے تخلیقی پلان (creation plan) کے مطابق، اِس دنیا میں معرفت کے حصول کا اعلیٰ ترین انتظام کیا ہے۔ جو شخص اِس معاملے میں سنجیدہ ہو، وہ کبھی معرفت کے حصول سے محروم نہیں رہ سکتا۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، اِس انتظام کے چار درجے ہیں۔ اِس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسانی تاریخ کے چار دور ہیں (phases) ہیں۔ ابتدائی تین دور سے گزرتے ہوئے اب انسانی تاریخ اپنے چوتھے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ اِس کے بعد کوئی پانچواں دور نہیں۔ اِس کے بعد قیامت ہے اور ہر انسان کا اپنے ابدی انجام کے دور میں پہنچ جانا۔ تاریخ کے یہ چار دور حسب ذیل ہیں
1. Realization at the level of unconsciousness
2. Realization at the level of consciousness
3. Realization through partial uncovering of the truth
4. Realization through total uncovering of the truth.
لاشعور کی سطح پر معرفت
قرآن میںابتدائی انسان کے بارے میں جو باتیں بتائی گئیں ہیں، اُن میں سے ایک وہ ہے جس کو ’عہدِ الست‘ کہا جاتاہے، یعنی پہلا خدائی عہد (first divine covenant)۔ اِس واقعہ کا ذکر قرآن کی سورۃ نمبر سات میں آیا ہے۔ قرآن کی اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے ’’اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھیرایا خوداُن کے اوپر— کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں۔ انھوںنے کہا ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔ یہ اِس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اِس کی خبر نہ تھی‘‘ (7:172)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس آیت کے تحت، عبد اللہ بن عباس کی ایک روایت نقل ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں رَدَّهُم في أَصْلابِ آبائِهِم حَتّى أَخْرَجَهُم قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ(الرد علی الجھمیۃ لابن مندہ، صفحہ نمبر31) یعنی خدا نے ذریت بنی آدم کو دوبارہ اُن کے آباء کے صُلب میں لوٹا دیااور پھر مختلف ادوار میںوہ ان کو پیدا کرتا رہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا نے آغازِ حیات میں تمام انسانوں کو بیک وقت پیدا کیا، پھر اُن سے مذکورہ عہد لیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ عہدکیا تھا۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے، یہ عہد معرفت کا عہد تھا۔ ابن جریر طَبری نے اِس سلسلے میں اپنی تفسیر میں یہ روایت نقل کی ہے قالَ ابنُ عبّاسٍ… ثُمَّ أَخَذَ عُهُودَهُمْ عَلَى الإِيمَانِ وَالمَعْرِفَةِ لَهُ (تفسیر الطبری، جلد 10، صفحہ نمبر 556)۔ یعنی، ذریتِ آدم کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے اُن سے ایمان اور معرفت کا عہد لیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی معرفت کو ہر انسان کے لاشعور میں داخل کردیا۔ اب ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے، وہ لاشعور کی سطح پر معرفتِ خداوندی کو لے کر پیدا ہوا ہے۔ اِس معاملے میں کسی عورت، یا کسی مرد کا کوئی استثنا(exception) نہیں۔
مگر تاریخ بتاتی ہے کہ آغاز ِ حیات سے اب تک بہت کم لوگ ایسے نکلے جو اپنے اِس لاشعور کو پڑھیں، جو اپنی فطرت کی اِس داخلی آواز کو سن سکیں۔ اِس فطری معاملے کی بنا پر ایسا تو ہوا کہ ہر شخص کسی نہ کسی درجے میں حق کا متلاشی (seeker) بنا، لیکن بہت تھوڑے افراد کو چھوڑکر، کوئی بھی اپنی تلاش کو اس کی آخری منزل تک نہ پہنچا سکا۔
اِس عمومی ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اِس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورۃ القیامہ میں ارشاد ہوا ہے بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ ۔ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ (75:14-15)۔ یعنی، حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر آپ گواہ ہے، خواہ وہ کتنےهي عذر پیش کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قرآنی بیان سے معلوم ہوا کہ انسان کی اِس ناکامی کااصل سبب اعذار (excuses) ہیں۔ انسان کی داخلی فطرت ہر موقع پر اس کی خاموش رہنمائی کرتی ہے۔ اِسی فطرت کو قرآن میں داخلی برہان(12:24)کہا گیا ہے۔ لیکن انسان یہ کرتا ہے کہ وہ ایک عُذر (excuse) لے کر، فطرت کی اِس آواز کو نظر انداز کردیتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثال کے طور پر ایک شخص کسی زندہ یا مردہ ہستی کو بڑا مان کر اُس کی پرستش شروع کردے گا۔ پھر اُس کا ربانی لاشعور اندر سے اس کو آواز دے گا کہ پرستش تو صرف خالق کا حق ہے، تم مخلوق کی پرستش کیوں کررہے ہو۔ مگر یہاں اس کا ذہن ایک خود ساختہ عذر تلاش کر لے گا۔ وہ کہے گا کہ میںاس زندہ یا مردہ ہستی کو خدا نہیں مانتا، بلکہ ان کو خدا کا مقرب مانتا ہوں۔یہ لوگ خدا کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ میرے لیے خدا کے یہاں وسیلہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے میں ان کے آگے جھک کر ان کو راضی کررہا ہوں، تاکہ وہ خدا کے یہاں میرے سفارشی بن سکیں۔
اِس قسم کا عذر بلا شبہ ایک بے بنیاد عذر ہے۔ وہ ہرگز خدا کے یہاں قبول کیا جانے والا نہیں۔ لیکن بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اِس قسم کے خود ساختہ خیال میں جیتے رہے اور اسی میں مر گئے۔
اسی طرح ایک شخص کسی معاملے میں ایک آدمی کے اوپر غصہ ہوجائے گا۔ وہ اس سے انتقام لینا چاہے گا۔ اب اس کے اندر کی خدائی آواز اس کو پکارے گی اور کہے گی کہ انتقام لیناایک گناہ کا کام ہے۔ تم اُس شخص سے درگزر کا معاملہ کرو اور اس کو معاف کردو۔ مگر اس کا ذہن فوراً ایک عذر تلاش کرلے گا۔ وہ کہے گا کہ ایسے آدمی کو سبق سکھانا ضروری ہے۔ اگر تم اِس وقت خاموش ہوگئے تو وہ اور دلیر ہو جائے گا اور تمھارے خلاف مزید کارروائی کرے گا۔
یہ عذر بھی ایک بے بنیاد عذر ہے۔ ایسا عذر کبھی خدا کے یہاں قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ لیکن بے شمار لوگ اِس خودساختہ عذر میں جیتے ہیں اور اِسی میں مرجاتے ہیں۔
شعور کی سطح پر معرفت
لاشعور کی سطح پر معرفت کا انتظام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے شعور کی سطح پر انسان کی ہدایت کے لیے دوسرا انتظام فرمایا۔ اب خدا نے معرفت کو منطوق آواز (spoken language) کی صورت میں ظاہر کیا۔ یہ کام خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ اِس مقصد کے لیے خدا نے مسلسل طورپر پیغمبر بھیجے۔ اِن پیغمبروں کو خدا نے بذریعہ وحی، معرفت کا علم دیا۔ پھر انھوں نے لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں اُن کو زندگی کی اِس حقیقت سے باخبر کیا، تاکہ لوگ شعور کے درجے میں اُس معرفت کو حاصل کرسکیں، جو لاشعور کے درجے میں ان کی فطرت میں پیوست کردی گئی تھی۔
مگر عجیب بات ہے کہ حصولِ معرفت کا یہ دوسرا انتظام بھی انسان کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔ دوبارہ یہی ہوا کہ انسان، پیغمبروں اور داعیوں کی ساری کوشش کے باوجود وہ ان کو نظر انداز کرتا رہا۔ وہ پیغمبروں کی تمام تر دعوتی جدوجہد کے باوجود شعور کی سطح پر حقیقت کو دریافت نہ کرسکا۔
ایسا کیوں ہوا۔ اِس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورۃ یٰس میں ارشاد ہوا ہے يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ (36:30)۔ یعنی، افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو پیغمبر بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا استہزا کرتے رہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Alas for human beings! They ridicule
every prophet that comes to them.
کوئی آدمی جب کسی کا استہزا کرتا ہے، یا اس کا مذاق اڑاتا ہے تو اس کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے اس کو حقیر سمجھنا۔ چنانچہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قدیم عرب میں پیغمبر کی حیثیت سے آئے، تو وہاں کے سرداروں نے کہا وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ(43:31)۔ یعنی، یہ قرآن دونوں بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کے ایک اور بیان سے ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی سورۃ الانعام کی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے ’’اوروہ کہتے ہیں کہ پیغمبر پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو معاملے کا فیصلہ ہوجاتا، پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے، تو اُس کو بھی ہم آدمی بناتے اور اُن کواُسی شبہ میںڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، تو اُن میں سے جن لوگوں نے مذاق اُڑایا، اُن کو اُس چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے‘‘ (6:8-10)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قر آن کایہ بیان پیغمبروں کی تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر پیغمبر بظاہر عام انسانوں کی طرح انسان ہوتا تھا۔ اِس لیے جب خدا اُس پر وحی بھیجتا اور وہ لوگوں سے کہتا کہ مجھے خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے تمھارے پاس بھیجا ہے، تو وہ یہ دیکھ کر اس کو نظر انداز کردیتے کہ تم تو ہم کو ایک معمولی انسان دکھائی دیتے ہو، پھر کیوں ہم تم کو خدا کا پیغمبر مانیں۔
اِس کا جواب مذکورہ آیت میں یہ دیا گیا کہ خدا کے قانون کے مطابق، یہ التباس کا ایک معاملہ ہے۔ امتحان کی مصلحت کی بنا پر اِس دنیا میں ہمیشہ سچائی کے ساتھ ایک شبہ کا عنصر (element of doubt) موجود رہتا ہے۔ اِس مصلحت کی بنا پر یہی ہوگا کہ خدا کا پیغام کسی غیرمعمولی فرشتے کے ذریعے نہیںدیا جائے گا، بلکہ ایک انسان کے ذریعے دیاجائے گا۔ تم سچائی کو صرف اُسی وقت پاسکتے ہو جب کہ تم شبہ کے پردے کو پھاڑو اور خالص جوہرِ ذاتی (merit) کی بنیاد پر حق کے داعی کو پہچانو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معرفت بذریعہ آیاتِ کائنات
اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے معرفتِ حق کے لیے ایک اور انتظام کیا۔ یہ انتظام تھا— خدا کی تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیوں کو ظاہر کرنا۔ اِس خدائی منصوبہ کا ذکر قرآن کی سورۃ حم السجده میں پیشگی طورپر کیاگیا تھا۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے’’مستقبل میں ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میںبھی۔ یہاںتک کہ اُن پر پوری طرح یہ کھل جائے کہ یہ قرآن حق ہے‘‘ (41:53)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا نے اپنے اِس خصوصی منصوبہ کو موجودہ زمانے میں سائنس دانوں کے ذریعے پورا کیا۔ موجودہ زمانے میں سائنس دانوں نے عالمِ طبیعیات (physical world) میں جو دریافتیں کی ہیں، وہ دریافتیں گویا کہ آلاء اللہ کا مشاہداتی اظہار ہیں۔ خدا نے اپنے پیغمبر ابراہیم کو مَلَکُوْتُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ(6:75)۔ یعنی، دکھا دی آسمانوں اور زمین کی حکومت۔ کاخصوصی مشاہدہ کرایا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی اِن نشانیوں (sign) کوخود علمِ انسانی کے ذریعے عمومی سطح پر لوگوں کے لیے قابلِ مشاہدہ بنا دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں اِس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ راقم الحروف نے بھی اِس موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ امریکا کے ایک سائنس داں ڈاکٹر کریسی ماریسن (وفات1951) نے اِس موضوع پر ایک کتاب شائع کی ہے۔ اِس کتاب کا انگریزی ٹائٹل (Man Doesn't Stand Alone) ہے۔ اِس کتاب کا عربی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ اِس عربی ایڈیشن کا نام با معنیٰ طورپر یہ ہے اللهُ يَتَجَلّىٰ في عَصْرِ العِلْمِ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر دوبارہ ایسا ہوا کہ بہت کم ایسے انسان نکلے جو اِس سائنسی انقلاب سے معرفت کی غذا لے سکیں۔ انسانوں کی بہت بڑی اکثریت نے دوبارہ یہ غلطی کی کہ اُس نے انحراف کا ایک طریقہ اختیار کیا اور انسان دوبارہ معرفت کے حصول سے محروم رہا۔
اصل یہ ہے کہ جدید سائنس کے دو شعبے ہیں۔ ایک ہے، نظریاتی سائنس (theoretical science)، اس کا دوسرا شعبہ وہ ہے جس کو انطباقی سائنس (applied science) کہاجاتا ہے۔ نظریاتی سائنس کامل طورپر معرفت کی سائنس تھی۔ اُس کے مطالعے سے انسان، خدا کو اور خدائی حقیقتوں کا علم حاصل کرسکتا تھا۔ لیکن انسان نے نظریاتی سائنس سے یہ خدائی رزق نہیں لیا، وہ بدستور معرفت سے محروم بنا رہا۔
انطباقی سائنس وہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں ٹکنکل سائنس (technical science) کہاجاتا ہے۔ سائنس کی دریافتوں نے ایک نئی ٹکنالوجی دی۔ اِس جدید ٹکنالوجی کے ذریعے نئی مشینیں بنیں، نئی قسم کی بلڈنگیںتیار کی گئیں، نئی قسم کی سواریاں بنیں، نئی قسم کی اشیاءِ صرف (consumer goods) وجود میں آئیں۔ سماجی ترقی کا وہ اعلیٰ نظام قائم ہوا جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہاجاتا ہے، وغیرہ۔
مذکورہ قسم کی صنعتی ترقیوں سے جدید انداز کے پُرکشش شہر وجود میں آئے۔ اِن ترقیوں کے نتیجے میں انسان کو عیش اور راحت کا جو سامان ملا، وہ مادی اعتبار سے اتنا پرکشش تھا کہ انسان اس میں کھوگیا۔ انسان نے شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھا کہ جدید ترقیوں کے بعد اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ اِسی دنیا میں اپنی جنت بنا سکے۔ وہ بعد از موت دورِ حیات (post death period) میں ملنے والی جنت کا انتظار نہ کرے، بلکہ قبل از موت دورِ حیات(pre-death period) میںاپنی جنت بناکر اُس میں عیش کی زندگی گزارے۔
جدید سائنس، انسان کے لیے معرفت کی روشنی تھی، لیکن انسان اُس سے معرفت کی روشنی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اِس طرح یہ ہوا کہ خدا نے معرفت کا جو تیسرا دروازہ کھولا تھا، وہ بھی انسان کی نادانی سے اس کے اوپر بند پڑا رہا۔
معرفت بذریعہ فائنل اظہار
خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، انسان سے جو معرفت مطلوب ہے، وہ براہِ راست مشاہدہ کے بغیر مطلوب ہے۔ اِسی بلامشاہدہ معرفت کو قرآن میں ایمان بالغیب (2:3) کہاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اوپر معرفت کے جن تین درجوں کا ذکر کیاگیا، اُن کا تعلق اِسی قسم کی بلا مشاہدہ معرفت سے ہے۔ انسان کی پچھلی تاریخ، معرفت کے اِنھیں تینوں درجات کی تاریخ کا دوسرا نام ہے۔ مگر جب انسان اِس نوعیت کی معرفت کے حصول میںناکام رہے، تو وہ وقت آجاتا ہے جب کہ حقیقت سے پردہ اٹھا دیا جائے، تاکہ انسان اُن حقیقتوں کو براہِ راست طورپر دیکھ لے جن کو وہ بالواسطہ طورپر دیکھنے میں ناکام ہوگیا تھا۔ یہ بات قرآن میں بار بار مختلف انداز سے بتائی گئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس نوعیت کی چند قرآنی آیتوں کا ترجمہ يهاں نقل كيا جاتاہے
’’اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔ اور صور پھونکا جائے گا، یہ ڈرانے کا دن ہوگا۔ ہر شخص اِس طرح آگیا کہ اُس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔ تم اِس دن سے غفلت میں رہے، پس ہم نے تمھارے اوپر سے پردہ ہٹا دیا، تو آج تمھاری نگاہ تیز ہے‘‘ (50: 19-22)۔
Qur'anQuotes the Qur'an
مذکورہ قرآنی آیت میں انسانی تاریخ کے آخری دور (final phase of human history) کا ذکر ہے۔ انسانی تاریخ کے اِسی آخری دور کا دوسرا نام قیامت (Doomsday) ہے۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب اِس آخری دورکے ظاہر ہونے کا وقت بالکل قریب آپہنچا ہے۔تمام دنیا کے سائنس داں متفقہ طورپر جس گلوبل وارمنگ (global warming) کی خبر دے رہے ہیں، وہ دراصل گلوبل وارننگ (global warning) ہے۔
سائنس دانوں کے مشاہدے کے مطابق، انسانی تاریخ کے خاتمہ کا عمل تیزی سے شروع ہوچکا ہے۔ بہت جلد ایسا ہوگا کہ زمین کے اوپر قائم کردہ لائف سپورٹ سسٹم بالکل تباہ ہوجائے گا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بہت جلد دنیا انسان کے لیے ناقابلِ رہائش (inhabitable) بن جائے گی۔ جدید سائنسی مشاہدہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تباہی کا یہ عمل اتنا زیادہ مہلک ہے کہ وہ اب ناقابلِ اعادہ (irreversible) بن چکا ہے۔اب اس کو دوبارہ پیچھے کی طرف لوٹایا نہیں جاسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کے مطابق، دنیا کا آخری خاتمہ اُس وقت ہوگا جب کہ فرشتہ اسرافیل اپنا صور پھونک دے۔ تاہم اِس آخری انجام سے پہلے خدا کچھ نشانیاں ظہور میں لا رہا ہے۔ یہ انسان کے لیے گویا آخری موقع ہے، تاکہ اب سے وہ ہوش میں آئے اور اپنی اصلاح کرکے اپنے آپ کو ابدی جنت کا مستحق بنالے— موجودہ گلوبل وارمنگ اور اُس سے پیدا ہونے والے حالات اِسی قسم کی ایک پری فائنل وارننگ (pre-final warning) کی حیثیت رکھتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
گلوبل وارمنگ دراصل قربِ قیامت کی علامت (sign)ہے۔ قرآن اور حدیث میں اِس علامت کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصے پر محیط ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا، جب کہ سخت گرمی کے نتیجے میں سمندروں کا پانی کھولنے لگے گا۔ چنانچہ فرمایا وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ (81:6)۔ یعنی،جب سمندروں کو (آگ سے) بھڑکا دیا جائے گا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
And when the seas are set on fire (81:6)
قیامت سے پہلے پیش آنے والی اِس حقیقت کو حدیث میں مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَدْنَيْتُ الشَّمْسَ مِنَ الْعِبَادِ (سنن الترمذي، حدیث نمبر2421)۔ یعنی، جب قیامت کا دن قریب آجائے گا تو سورج انسان کے قریب ہوجائے گا۔ سورج کے قریب آنے کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی گرمی قریب آجائے گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں جس سائنسی انقلاب کا ظہور ہوا، وہ خدا کے منصوبے کے عین مطابق تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے نیچر (Nature) میں چھپی ہوئی خدا کی نشانیاں ظاہر ہوں تاکہ انسان اُن سے سبق لے اور خالق کی معرفت حاصل کرکے خالق کی ابدی رحمتوں کا مستحق بنے۔ مگر انسان نے ان چیزوں کو صرف اپنے مادی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اور بظاہر شان دار صنعتی تمدن کی ایک دنیا بنا کر اس میں رہنے لگا۔
صنعتی دریافتوں کا مقصد خالق کی معرفت کا حصول تھا، نہ کہ خود اپنے لیے مادی عیش کی ایک دنیا بنانا۔ یہ سائنسی دریافتوں کا ایک غلط استعمال (misuse) تھا۔ خدا نے اس کو پسند نہیں کیا۔ اِس بنا پر مختلف قسم کی صنعتی خرابیاں (industrial evils) پیدا ہوگئیں۔ مثلاً وہ خرابی جس کو گرین ہاؤس گیس، یا کاربن ایمشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔
کاربن ایمیشن کوئی نیا مسئلہ نہیں، وہ ہمیشہ سے موجود تھا۔ مگر اس سے پہلے یہ تھا کہ خدا کا بنایا ہوا فطری نظام اس کاربن کو اپنے اندر جذب (absorb) کرلیتا تھا۔ اب یہ ہوا کہ خدا کے فطری نظام نے صنعتی کاربن کو جذب کرناچھوڑ دیا۔ انسان کے پاس اِس نظام کا کوئی بدل موجود نہ تھا، اِس لیے انسانی سرگرمیاں دھیرے دھیرے صنعتی کثافت (industrial pollution) کی صورت اختیار کرگئیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا ایک قسم کا گیس چیمبر (gas chamber) بن گئی۔
یہ گویا اِس بات کا اعلان تھا کہ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دنیا میں بطور خود اپنی ایک جنت بناسکے۔ جس طرح موجودہ عارضی دنیا کی تخلیق خدانے کی ہے، اُسی طرح ابدی جنت کی تخلیق خدا ہی کرسکتا ہے۔ کسی اور کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔
اِس معاملے کا ایک علامتی واقعہ وہ ہے جو حال میں پیش آیا۔ امریکا کی ریاست کیلی فورنیا کے بڑے رقبے میں ہرے بھرے جنگل ہیں۔ اِس جنگل کے کنارے ایک دریا بہتا ہے۔ یہ علاقہ نہایت خوب صورت علاقہ ہے۔ جنگل کے دوسری طرف جدید طرز کا ایک ٹاؤن بنایا گیا۔ اس کی خوب صورتی کی بناپر اس کا نام پیراڈائز (Paradise) رکھ دیاگیا، یعنی جنت۔ یہاں کے لوگ خوشی اور راحتوں کی زندگی گزار رہے تھے۔
اِس کے بعد یہ ہوا کہ جون 2008 میں سخت گرمی کی وجہ سے کیلی فورنیا کے اِن وسیع جنگلوں میں آگ لگ گئی۔ حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود آگ پھیلتی گئی، یہاں تک کہ یہ آگ دریا کوپار (jump) کرکے پیراڈائز ٹاؤن میں داخل ہوگئی۔ 10 جولائی 2008 تک اِس ٹاؤن کے 75 مکانات جل کر تباہ ہوچکے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھبراہٹ میں ٹاؤن کو چھوڑ کر بھاگنے لگے۔
اِس واقعے کی خبر میڈیا میں آچکی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (11جولائی 2008) میں اِس واقعے کی رپورٹ حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوئی ہے
California fires spark evacuation (p. 23).
آگ لگنے کی یہ خبر اِسی پیراڈائز نامی ٹاؤن کے بارے میںہے۔ اِس خبر کا عنوان زیادہ درست طورپر یہ ہونا چاہیے— انسانی ساخت کی مادّی جنت میں آگ
Fire in man-made paradise
امریکا کے پیراڈائز نامی ٹاؤن میں جو آگ لگی ہے، وہی آگ اِس وقت ساری دنیا میں لگی ہوئی ہے اور وہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اِس عالمی آگ کا نام گلوبل وارمنگ (global warming) ہے۔ یہ صورتِ حال، دنیا کی آخری تباہی سے پہلے پیش آنے والی ابتدائی تباہی ہے۔ یہ دنیا کے خاتمہ سے پہلے اُس کے خاتمہ کا آتشیں اعلان ہے۔ یہ جہنم سے پہلے جہنم کا پیشگی رمائنڈر ہے۔ یہ صورتِ حال بتا رہی ہے کہ کاؤنٹ ڈاؤن (count down) آخرسے پہلے کی گنتی (last but one) تک پہنچ چکا ہے۔
خدا نے دنیا کو دو دوروں میں تقسیم کیا تھا— قیامت سے پہلے کا دور، اور قیامت کے بعد کا دور۔ انسانیت کا قافلہ لمبے سفر کے بعد قیامت سے پہلے کے دور کی آخری شام تک پہنچ چکا۔ اِس کے بعد جو چیز پیش آنے والی ہے، وہ قیامت کے بعد کی صبح ہے۔ آنے والے اِس اگلے دن میں لوگ اپنے عمل کا انجام پائیں گے۔ اِس کے بعد کچھ لوگوں کے لیے ابدی جنت ہوگی اور کچھ لوگوں کے لیے ابدی جہنم۔ کامیاب وہ ہے جو ابدی جنت (eternal paradise) میں جگہ پائے، اور ناکام وہ ہے جو جہنم کے ابدی گڑھے (eternal hell) میں ڈال دیا جائے۔
مذہب اور سائنس
مذہب کیا ہے۔ مذہب زندگی کی سائنس ہے۔ اس کے مقابلے میں معروف سائنس، طبیعیات کی سائنس ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، طبیعیات کی سائنس یا فزیکل سائنس میں پچھلے پانچ سو سال کے اندر بہت ترقی ہوئی ہے، جب کہ اِس مدت میں مذہب میں کوئی ترقی نہ ہوسکی۔
مثلاً پانچ سوسال پہلے انسان سادہ قسم کی اونٹ گاڑی یا گھوڑا گاڑی پر سفر کرتا تھا، مگر پچھلے کئی سو سال کی مسلسل ترقی کے نتیجے میںاب انسان، سواری کے میدان میں بہت زیادہ ترقی کرچکا ہے— بائسکل، اسٹیم شِپ، موٹر کار، ہوائی جہاز، وغیرہ، اِس ترقی کے نمونے ہیں۔
اس کے مقابلے میں مذہب کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ مذہب پر جُمود کا عالم طاری ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذہب، پانچ سو سال پہلے جہاں تھا وہیں وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ مذہب میں کوئی حقیقی ترقی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ حالت ہر مذہب کی ہے۔ اس معاملے میں کسی مذہب کا کوئی استثنا نہیں۔ طبیعیاتی ترقیوں کے سیلاب میں مذہب ایک غیر ترقی یافتہ ڈسپلن بنا ہوا ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ طبیعیات کی دنیا میںپچھلے پانچ سو سال سے انکوائری (inquiry) کا عمل جاری ہے۔ ہر چیز کی تحقیق ہورہی ہے۔ ہر چیز کھلے ڈائلاگ کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں طبیعیات کے شعبوں میں ردّوقبول کا عمل جاری ہے۔ مثلاً پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ زمین مرکز میں ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے، مگر مشاہدہ اور تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایسا نہیں، بلکہ سورج درمیان میں ہے اور زمین اور دوسرے سیّارے وسیع خلا میں اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ جب یہ نئی دریافت ہوئی تو اس کے فوراً بعد علما ئے فلکیات نے قدیم روایتی نظریے کو ترک کرکے جدید سائنسی نظریے کو اختیار کرلیا۔
یہی انکوائری کا عمل ترقی کا اصل سبب ہے۔ لیکن مذہب کے میدان میں انکوائری کا یہ عمل جاری نہ ہوسکا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ مذہب کی دنیا میں جُمود آگیا۔ مذہب کا عمل ایک مقام پررُک کر رہ گیا۔
موجودہ زمانے میں مذہب کو ٹریڈیشن (tradition) کہاجاتا ہے۔ مثلاً مذہب یہودیت کو یہودی ٹریڈیشن، مذہب عیسائیت کو عیسائی ٹریڈیشن اور مذہب اسلام کو اسلامی ٹریڈیشن، وغیرہ۔ ایسا اس لیے ہوا کہ مذہب کو ایک جامد روایت مان لیا گیا، ایک ایسی روایت جو نسل در نسل ایک ہی حالت پر چلی جارہی ہے، حالانکہ سائنس میں ایسا نہیں ہوا۔ سائنس کی دنیا میں ایسا نہیں ہوا کہ برٹش سائنس کو برٹش ٹریڈیشن، جرمن سائنس کو جرمن ٹریڈیشن اور امریکن سائنس کو امریکن ٹریڈیشن کہا جانے لگے۔
حقیقت یہ ہے کہ جس طرح معروف سائنس ایک سائنس ہے، اسی طرح مذہب بھی ایک سائنس ہے۔ مذہب کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مذہب میںبھی آزادانہ انکوائری اور کھُلا ڈائلاگ اُسی طرح جاری کیا جائے جس طرح وہ سائنس میںعملاً جاری ہے۔ اِس طرح کی انکوائری یا ڈائلاگ جاری نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا کہ مذہب میں قدیم زمانے میں کمتر واقفیت کی بنا پر جو باتیں مان لی گئیں، وہی بدستور آج تک جاری ہیں۔ ضرورت تھی کہ بعد کی تحقیقات کو لیتے ہوئے قدیم بے اصل نظریات کو ترک کردیا جائے اور ان کی جگہ اُن باتوں کو مان لیا جائے جو بعد کی تحقیقات سے انسان کے علم میں آچکی ہیں۔
مذاہب کے حلقے میں باشعور لوگوں کے اندر خود بھی اس کا احساس پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ان کے درمیان بار بار اِس قسم کی تحریکیں اٹھتی رہی ہیں، اگر چہ موافق فضا نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحریکیں زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ مثلاً ہندو ازم میں آریہ سماج کی تحریک، جو مورتی پوجا کے خلاف اٹھی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مورتی پوجا ویدوں میں نہیں ہے، یہ بعد کا اضافہ ہے۔ اِسی طرح بھکتی موومنٹ، جو ہندوازم میں بڑھی ہوئی ریچول ازم (Ritualism) کے خلاف اٹھی۔ اُس نے رسمی اعمال کے بجائے ڈووشن (devotion) پَر زور دیا۔ اِسی طرح بُدھ ازم میں، نیو بدھ ازم (neobuddhism) کی تحریک ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بعد کو پیدا ہونے والے رسم ورواج سے پاک کرکے بدھ ازم کو ابتدائی دور کے بدھ ازم کی طرف واپس لے جانا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی معاملہ مسیحیت کا ہے۔ 325ء میں ہونے والی نیقیا کاؤنسل (Nicaea Council) کے بعد مسیحیت میں کافی تبدیلی آئی۔ اب مسیحی تعلیمات کے بجائے چرچ کی روایات، مسیحیت کا ماخذ بن گئیں۔ اس کے بعد مسیحی حلقے میں سولھویں صدی میں رفارمیشن (reformation) کی تحریک اٹھی جو گویا چرچ سے بائبل کی طرف واپسی کی تحریک تھی، مگر وہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس طرح، ڈی ہیلی نائزیشن (dehellenization) کی تحریک، جو انیسویں صدی کے آخر میں اٹھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یونانی اور رومی اثرات سے مسیحیت کو پاک کیا جائے، اگرچہ یہ تحریک زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔
اس معاملے میں اسلام کا معاملہ مختلف ہے۔ دوسرے مذاہب کے برعکس، اسلام میں اصل متن کامل طورپر محفوظ ہے۔ یہاں جو بگاڑ آتا ہے وہ مسلم قوم میں آتا ہے نہ کہ خود اسلام میں۔ اس لیے اسلام میں رفارمیشن جیسی تحریک کی ضرورت نہیں۔ البتہ اسلام میں احیا (revivalism) کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ اس کے متبعین(مسلمانوں)کے اضافوں سے پاک کرکے اسلام کو اس کی اصل صورت میں سامنے لایا جائے۔
مثلاً مانزم(monism) کے عقیدے کو لیجیے، جس کو اَدوئت واد ،یا وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ یعنی حقیقت کو ایک سنگل وحدت کے روپ میں دیکھنا۔ پانچ ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں نے آئڈنٹٹی کرائسس کے سوال پر غور کرنا شروع کیا۔انھوں نے یہ فرض کیا کہ انسان ایک کُلی حقیقت کا حصہ ہے۔ وہ صرف اِس لیے اُس سے الگ ہوا ہے کہ ایک دن دوبارہ وہ اس سے مل جائے۔ انسان ایک الگ وجود کی حیثیت سے اپنی شناخت نہیں پارہا تھا، لیکن جب اس نے یہ مان لیا کہ وہ ایک عظیم تر حقیقتِ کُلّی کا ذاتی جُز ہے، تو اس نے گویا اپنی شناخت پالی۔ کائنات کے اندر اس کو اپنی پہچان معلوم ہوگئی۔ یہ نظریہ بہت بڑے پیمانے پر پھیلا۔
مگر اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مانزم کا نظریہ صرف ایک فلسفیانہ تخیل تھا، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ بیسویں صدی میں فلکیاتی سائنس میں جو تحقیق ہوئی ہے، اس نے اِس مفروضے کو بے بنیادثابت کردیا ہے۔ بِگ بینگ(Big Bang) کا نظریہ جو سائنسی حلقے میں اب ایک مسلّمہ بن چکا ہے، وہ ثابت کرتا ہے کہ خالق اور مخلوق دونوں ایک نہیں ہوسکتے۔ خالق بلا شبہ تخلیق سے الگ ہے، اسی لیے وہ تخلیق کا واقعہ ظہور میںلا سکتا ہے۔ اگر خالق خود تخلیق کا حصہ ہو تو تخلیق کا واقعہ کبھی وجود ہی میں نہ آئے اور تخلیق ہمیشہ کے لیے غیر موجود بنی رہے۔
بگ بینگ کا نظریہ یہ بتاتا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے پوری کائنات ایک واحد سپر ایٹم کی صورت میں تھی۔ پھر خارجی مداخلت کے ذریعے اس کے اندر انفجار (explosion) ہوا۔ اِس انفجارکے بعد سپر ایٹم کے ذرّات خلامیں پھیل گئے اور موجودہ دنیاوجود میں آئی۔ سپر ایٹم کے اندر یہ انفجار، داخلی سبب کے ذریعے نہیںہوا، بلکہ وہ واضح طورپر ایک خارجی مداخلت کار (intervener) کے ذریعے ہوا۔ اور جب یہ مان لیا جائے کہ زیر ِ مداخلت (entervened) سپر ایٹم الگ تھا اور مداخلت کار (intervener) الگ، تو اپنے آپ ادوئت واد یا مانزم کا نظریہ ختم ہوجاتا ہے۔
قدیم زمانے میں انسان نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو اس نے فرض کرلیا کہ چاند ایک دیوتا ہے۔ اِس طرح چاند کو ایک آسمانی دیوتا مان لیا گیا اور اس کی پرستش کی جانے لگی۔ بعد کو جب مزید تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ چاند کوئی روشن وجود نہیں۔ وہ سورج کی روشنی پڑنے سے چمکتا ہے۔ بعد کو جب خلائی سفر میںترقی ہوئی تو انسان چاند کی طرف پرواز کرنے کا منصوبہ بنانے لگا۔ یہاں تک کہ امریکی خلا باز نیل آرم اسٹرانگ (Neil Armstrong) 21جولائی 1969 کو چاند کی سطح پر اتر گیا۔ یہ پہلا انسان تھا جو چاند کی سطح پر اُترا۔
اِس براہِ راست مشاہدے کے بعد معلوم ہوا کہ چاند صرف ایک خشک چٹان ہے، وہ نہ تو روشن ہے اور نہ گول، اور نہ اس کے اندر کوئی امتیازی صفت ہے۔ اِس دریافت نے چاند کے تقدّس کا نظریہ علمی طورپر ختم کردیا۔ ضرورت تھی کہ اس کے بعد چاند کو دیوتا سمجھنے کے عقیدے کو مکمل طورپر ترک کر دیا جائے، لیکن ابھی تک ایسا نہ ہوسکا۔
یہی معاملہ آوا گَون (cycle of life) کے نظریے کا ہے۔ یہ نظریہ اِس تصور پر قائم ہے کہ آدمی اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق، دوبارہ زمین پر پیدا ہوتا ہے اور پھر اپنے کَرم کی سزا بھُگت کر مر جاتا ہے، تاکہ اسی طرح دوبارہ پیدا ہو اور اپنے کرم کا نتیجہ بھُگتے۔ یہ سلسلہ 80 لاکھ سال سے بھی زیادہ مدت تک بار بار جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ نِروان (نجات) کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ عقیدہ ہزاروں سال پہلے ایک فلسفیانہ نکتے کے طورپر لوگوں کے سامنے آیا۔ فلسفی نے دیکھا کہ لوگ پیدا ہوتے ہیں تو اُن میںسے کوئی امیر ہوتا ہے اور کوئی غریب، کوئی محروم ہوتا ہے اور کوئی پائے ہوئے ہوتا ہے۔ اس معاملے کو اس نے انسان کے’’ کرم‘‘ سے جوڑ کر آواگون کا فلسفہ بنا لیا۔ دھیرے دھیرے یہ فلسفیانہ نکتہ ایک باقاعدہ مذہبی عقیدہ بن گیا اور کروڑوں لوگ اِس کو درست سمجھنے لگے۔
مگر موجودہ زمانے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے بتایا ہے کہ محروم اور غیر محروم (haves and have nots) کا فرق انسانی عمل (کرم) کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک قانونِ فطرت ہے۔ فطرت کے نظام میں عدم مساوات (inequality) کا طریقہ رکھا گیا ہے۔ اِس کی وجہ سے انسانی سماج میں چیلنج اور کامپٹیشن کا ماحول قائم ہوتا ہے۔ تمام ترقیاں اِس چیلنج اور کامپٹیشن کی وجہ سے وجود میںآئی ہیں۔ (ملاحظہ ہو— آرنلڈ ٹائن بی کی کتاب دی اسٹڈی آف ہسٹری)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان امیر اور غریب، پس ماندہ اور ترقی یافتہ کا فرق کوئی برائی کی بات نہیں، بلکہ وہ ایک مطلوب فطری نظام ہے، وہ تمام انسانی ترقی کا ضامن ہے۔ اِس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد ضرورت ہے کہ آواگون کے مفروضے کو مکمل طورپر ترک کردیا جائے۔ اور یہ مان لیا جائے کہ آواگون کا نظریہ محض ایک فلسفیانہ لطیفہ (joke) تھا، نہ کہ کوئی حقیقی نظریہ۔
اِسی طرح روحانیت کے میدان میں ہزاروں سال سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ انسان کا دل(heart) رُوحانی معرفت کا خزانہ ہے۔ دل کا مراقبہ (meditation) کرکے اِس روحانی خزانے کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ نظریہ اتنا پھیلا کہ تمام روحانی اسکول نے اس کو اختیار کرلیا۔ مگر موجودہ زمانے میں انسانی جسم پر جو تحقیقات ہوئی ہیں، اُن سے یقینی طورپر ثابت ہوجاتا ہے کہ دل کسی بھی قسم کے معارف کا خزانہ نہیں، وہ صرف گردشِ خون (cirulation of blood) کا ذریعہ ہے۔ فکر اور جذبات دونوں کا مرکز یکساں طورپر انسان کا ذہن (mind) ہے۔ اب اہلِ علم کے درمیان اِس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں۔
اِس تحقیق کے بعد اب ضروری ہوگیا ہے کہ اِس پورے معاملے پر نظر ثانی کی جائے، اور پھر مبنی بَر قلب روحانیت(heart-based spirituality) کے نظریے کو مکمل طورپر ترک کردیا جائے اور اس کے بجائے مبنی بَر ذہن روحانیت(mind-based spirituality) کے نظریے کو اختیار کرلیا جائے۔
قدیم زمانے میں مذہب کو ایک مقدس چیز سمجھا جاتا تھا۔ اِس بنا پر مذہب کا تنقیدی جائزہ ایک امرِ ممنوع بنا ہوا تھا، مگر موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے اثر سے یہ ہوا کہ جس طرح دوسرے تمام شعبوں کا تنقیدی جائزہ لیاجارہا تھا، اسی طرح مذہب کا بھی تنقیدی جائزہ لیا جانے لگا۔ اِس شعبۂ تحقیق کو اب تاریخی انتقاد (historical criticism) کہاجاتا ہے۔
اِس تحقیق و تنقید کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب بعد کی تبدیلیوں کے نتیجے میں اب غیرتاریخی بن چکے ہیں، ہر مذہب گویا کہ ایک میتھا لوجی ہے۔ جس کے پیچھے کوئی تاریخی سند (historical credibility) موجود نہیں۔
مذاہب کے اِس عموم میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ مذہبِ اسلام کا ہے۔ خالص علمی جائزے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کو پورے معنوں میں تاریخی مذہب کہاجاسکتا ہے۔ ایسی حالت میں علم کا تقاضا ہے کہ دوسرے مذاہب کو قابلِ احترام اثاثہ سمجھتے ہوئے یہ مان لیا جائے کہ عملی طورپر صرف اسلام قابلِ اعتبار مذہب ہے، الہامی سچائی کو جاننے کے لیے اسلام ہی واحد مستند ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔
مسيحي پوپ كا بيان
مسیحی پوپ(Pope Benedict XVI) نے 12ستمبر 2006کو ویسٹ جرمنی کی یونیورسٹی ریجنس برگ(Regensburg) میںایک لکچر دیا۔ یہ لکچر سات صفحات پر مشتمل تھا۔سات صفحے کے اِس لکچر کا عنوان یہ تھا
Faith and Reason
مسیحی پوپ نے اپنے اِس لکچر میں چودھویں صدی عیسوی کے بازنتینی کنگ، مینویل دوم (Manual II) کے ایک قول کو نقل کیا تھا۔ وہ قول یہ تھا — مجھے محمد کی لائی ہوئی کوئی ایسی بات بتاؤ جو نئی ہو
other sourceWords of another person or source
Show me just what Muhammad brought that was new.
بازنتینی کنگ کی یہ بات پوپ نے کسی تنقید کے بغیر نقل کی ہے۔ مگر بلا شبہ یہ ایک ایسی بات ہے جو خلافِ واقعہ بھی ہے اور غیر سنجیدہ بھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ نہ تھا کہ وہ کوئی نئی چیز لائے ہیں، یا انھوں نے کوئی نیا مذہب پیش کیا ہے۔انھوں نے جو کیا وہ صرف یہ تھا کہ پچھلے مذاہب، جو ملاوٹ کا شکار ہوگئےتھے اور اِس بنا پر اصل خدائی مذہب ان کے یہاں گم ہوکر رہ گیا تھا، پیغمبر اسلام نے اس کی تصحیح کی۔ انھوںنے خدا کی مددسے خدا کے دین کا اصل ورژن (version) دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہی پیغمبرِ اسلام کا اصل کنٹری بیوشن ہے۔ یہ کنٹری بیوشن اتنا بڑا ہے کہ اس سے بڑا ور کوئی کنٹری بیوشن نہیںہوسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا نے پچھلے زمانوں میں بہت سے پیغمبر بھیجے۔ یہ تمام پیغمبر ایک ہی خدائی دین کو لے کر آئے، لیکن قدیم زمانے میں کسی متن (text) کو اس کی اصل صورت میں محفوظ رکھنے کاکوئی باقاعدہ نظم نہ تھا۔ اس لیے پچھلے پیغمبروں کا لایا ہوا دین، تبدیلی اور ملاوٹ کا شکار ہوگیا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی وحی کے مطابق، خدا کے اصل دین کو جانا اور اس کو اس کی اصل صورت میں محفوظ کردیا۔
خدائی مذہب کا محفوظ متن نہ ہونے کی وجہ سے انسان گمراہی کی حالت میں پڑا ہوا تھا۔ تلاش کے باوجود اس کو سچائی نہیں ملتی تھی۔ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ہدایت الٰہی نے تاریخ بشری کے اِس خلا کو پُر کردیا۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ کوئی مُتلاشی روح جب حق کی دریافت کرنا چاہے تو وہ اس کو یقین کے ساتھ دریافت کرسکے۔ یہ ایک عظیم خدائی تحفہ ہے جو پیغمبرِ اسلام کے ذریعے انسانیت کو ملا۔
معرفت— مقصدِ انسانیت
علما نے معرفت کو واجبِ اوّل بتایا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ معرفت مقصدِ انسانیت ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی آغازِ معرفت کی زندگی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی تکمیلِ معرفت کی زندگی۔ موجودہ دنیا میں ایک انسان ابتدائی دریافت کے درجے میں خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ آخرت کی دنیا میں وہ کامل دریافت کے درجے میں خدا کی معرفت حاصل کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفتِ خداوندی ایک فکری عمل (intellectual process) ہے۔ یہ فکری عمل موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور پھر وہ ابدی طورپر آخرت کی دنیا میں جاری رہے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی سورۃ الذاریات میں بتایا گیا ہے کہ جن اور انس کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے (51:56)۔ اِس آیت میں عبادت سے مراد معرفتِ الٰہی ہے۔ آیت کی یہ تفسیر عبداللہ بن عباس اور علی بن ابی طالب کے قول پر مبنی ہے۔یہی جن وانس کا مقصد تخلیق ہے۔ اِس مقصد کا تقاضا تھا کہ جن وانس کو وہ صلاحیت کمال درجے میں عطا کی جائے جس کے ذریعے وہ اعلیٰ درجے میں معرفتِ خداوندی کو حاصل کرسکیں۔ چنانچہ جن وانس کو ایک طرف وہ اعلیٰ دماغی صلاحیت دی گئی جو اِس عظیم مقصد کے لیے مطلوب تھی۔ اور اِسی کے ساتھ خارجی اعتبار سے، اُن کو وہ وسائل دیے گئے جو اِس مقصد کی تکمیل میں مدد گار بن سکیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معرفت کے لفظی معنی ہیں— اِدراک (realisation)، یعنی کسی چیز کو کامل درجے میں پہچاننا۔معرفت کو دوسرے لفظوں میں شعوری دریافت (intellectual discovery) کہہ سکتے ہیں۔ یہ دریافت کسی وقتی واقفیت کا نام نہیں ہے، یہ ایک لمبے سفر کا نام ہے۔ انسان کو جس خدا کی معرفت حاصل کرنا ہے، اس کی صفت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ اگر تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور تمام موجود سمندروں اور مزید سات سمندروں کو روشنائی (ink) بنا دیا جائے اور پھر خدا کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے تو تمام سمندر ختم ہوجائیں گے، لیکن خدا کے کلمات ختم نہ ہوں گے (31:27)۔ جس خدا کے کمالات اتنے زیادہ ہوں، اس کی دریافت ایک وقتی واقفیت نہیں ہوسکتی، یہ بلا شبہ دریافت کا ایک لامتناہی سفر ہے جس کا آغاز تو متعین ہوسکتا ہے، لیکن اس کا اختتام متعین نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کی معرفت کا یہ مطلب نہیں کہ مراقبہ (meditation) کرکے تصور کی دنیا میں ذاتِ الٰہی کی جھلکیاں دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ اِسی طرح وجد (ecstasy) بھی معرفت کے ہم معنیٰ نہیں۔ معرفت ایک اعلیٰ شعوری حالت ہے جو تخلیقاتِ الٰہیہ میں غور وفکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کے مطابق، معرفت کی تعریف (definition) یہ ہے کہ ایک بندہ، رب العالمین کو اُن عظمتوں کے ساتھ دریافت کرے کہ وہی اُس کے لیے اس کی ساری محبتوں کا مرکز بن جائے (2:165)، اور اس کی خشیت کے جذبات تمام تر اُسی کے ساتھ وابستہ ہو جائیں (9:18)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
محبت اور خشیت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک بندہ جب تدبر اور تفکر کے ذریعے خالقِ کائنات کو اس کی صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ حدتک اپنے رب کا اعتراف پیدا ہوجاتا ہے۔ اِسی کے ساتھ جب وہ اِس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ دینے والا خدا ہے، اُس کے سوا کوئی اور دینے والا نہیں تو اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر میں خدا کی رحمتوں سے محروم ہوجاؤں تو زمین وآسمان میں میرا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسنِ تقویم (95:4) کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کو وہ تمام دماغی صلاحیت عطا کردی جس کے ذریعے وہ رب العالمین کی معرفت حاصل کرسکے۔ دوسری طرف، خارجی دنیا (nature) کے اندر معرفت کے تمام اَجزا مخفی صورت میں رکھ دئے۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ معرفت کے اِن چھپے ہوئے اجزا کو دریافت کرے اور اعلیٰ معرفت کا تجربہ کرکے اپنے اندر ربانی شخصیت (divine personality)بنائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معرفت کا یہ عمل ایک مسلسل دریافت کا عمل تھا۔ اِس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک پوری تہذیب (civilization) وجود میں آئے، جو معرفت کے چھپے ہوئے حقائق کو انسان کے لیے کھول دے۔ آج تہذیب کے نام سے ہم جس تاریخی واقعے کو جانتے ہیں، وہ اگرچہ مادّی تہذیب (material civilization)ہے، لیکن اپنی حقیقی نوعیت کے لحاظ سے یہ دراصل ربانی تہذیب (divine civilization)ہے۔ موجودہ تہذیب دراصل اُس واقعے کا ظہور ہے جس کو قرآن کی سورۃ حم السجده میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معرفت کا یہ سفر بہت پہلے جنات کی تخلیق سے شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی اور اس کے انتظام (management) کے لیے فرشتوں کو پیدا کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُس مخلوق کو پیدا کیا جس کو جن کہاجاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، جن کی تخلیق آگ سے ہوئی (15:27) جن کوآگ سے پیدا کرنے کا مطلب غالباً یہ ہے کہ جن کی سرگرمیوں کا دائرہ سیاروںکی دنیا سے لے کر ستاروں کی دنیا تک پھیلا ہواہے۔ اِس کے مقابلے میں، بعد کو انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی (7:12)۔ اِس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ انسان کی سرگرمیوں کا مرکزبنیادی طور پر سیارۂ زمین (planet earth)ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معرفتِ خداوندی کا حصول دراصل تخلیق میں چھپے ہوئے ربانی اسرار کی دریافت پر مبنی تھا۔ یہی دریافت وہ چیز ہے جو انسان کو خالق کائنات کا تعارف کراتی ہے۔ اِس سے بندہ اور خدا کے درمیان وہ اعلیٰ شعوری تعلق قائم ہوتا ہے جس کو معرفت کہاگیا ہے۔ دریافت کا یہی تاریخی عمل ہے جس کو ہم نے تہذیب (civilization) کا نام دیاہے۔
اِس تہذیبِ معرفت کو وجود میں لانے کا کام سب سے پہلے جن کے سپرد کیا گیا۔ مگر جیسا کی روایات میں آیا ہے، جن کے گروہوں نے آپس میں لڑائیاں کیں اور بہت زیادہ فساد برپا کیا۔ وہ تہذیبِ معرفت کا عمل شروع کرنے میں ناکام رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معزول کردیا۔ اور ان کی جگہ انسان کو زمین پر بسایا گیا، تاکہ وہ تہذیبِ معرفت کو وجود میں لانے کا مطلوب عمل شروع کرسکیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تہذیبِ معرفت کو عمل میں لانا مکمل طورپر علم و آگہی کا عمل ہے۔ وہ شعور کی سطح (intellectual level) پر انجام پاتا ہے۔ تمام سمندروں کو سیاہی بنانا اور تمام درختوں کو قلم بنانا، جس کا ذکر قرآن میں کیاگیا ہے، اس میں غالباً اِسی کی طرف اشارہ ہے۔ انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ ’’مطالعہ اور کتابت‘‘ کے ذریعہ اِس عمل کو شروع کرے۔ پیغمبروں نے انسان کو اِس عمل کی طرف متوجہ کیا۔ اِس کا ذکر غالباً قرآن کی اُس آیت میں موجود ہے جس میں تعلیم بالقلم کو رب کی معرفت کا ذریعہ بتایا گیا ہے (96:4)۔ مگر انسانیت کا قافلہ پیغمبروں کی ہدایت پر چلنے میں ناکام رہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی امت برپا کی۔ اِس امت کا اولین کام یہ تھا کہ وہ تہذیبِ معرفت کے اِس مطلوب عمل کو جاری کرے۔ امت کی طویل تاریخ بتاتی ہے کہ امتِ محمدی بہت جلد سیاسی اقتدار کے راستے پر چل پڑی۔ امت کے افراد نے مسلم ایمپائر قائم کیا، لیکن وہ ربانی تہذیب کا مطلوب ایمپائر قائم نہ کرسکے۔
عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلم صوفیا نے معرفت کے حصول کا یہ کام انجام دیا، لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔ صوفیا نے جو کام کیا، وہ تصوف کا کام تھا، اورتصوف اور معرفت دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ تصوف ایک مبنی بر قلب (heart-based) عمل ہے، جب کہ معرفت ایک مبنی بر ذہن (mind-based) عمل ہے۔ صوفیا کی یہ اجتہادی غلطی تھی کہ انھوںنے قلب کو معرفت کا خزانہ سمجھ لیا اور وہ قلب پر مفروضہ محنت کرتے رہے، جب کہ قلب صرف گردشِ خون کا مرکز ہے، نہ کہ معرفت کا مرکز۔
اِس اجتہادی غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ صوفیا کا گروہ خدا کی شعوری معرفت کی دریافت سے محروم رہا۔ انھوں نے بطور خود جس وجد یا دیدارِ الٰہی کو دریافت کیا، وہ صرف ایک واہمہ تھا، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی دریافت۔ بدقسمتی سے بعد کے زمانے کے اکثر مسلم علما بھی اِسی صوفیانہ نظریے سے متاثر ہوگئے۔وہ بھی متصوفانہ اشغال کو معرفت کا ذریعہ سمجھتے رہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صوفیا اور علما دونوں حقیقی معرفت سے بے خبر رہے۔ اِ س کا ثبوت یہ ہے کہ پوری مسلم تاریخ میں غالباً کوئی عالم یا صوفی معرفت کے موضوع پر کوئی قابلِ ذکر کتاب تیار نہ کرسکا۔ جن کتابوں کو لوگ معرفت کی کتاب سمجھتے ہیں، وہ حقیقتاً تصوف کی کتابیں ہیں، نہ کہ معرفت کی کتابیں۔
معرفت کے بنیادی اصول خدا کی کتاب میں دیے گئے تھے اور اس کے تائیدی شواہد (supporting evidences) فطرت(nature) میں رکھ دیے گئے تھے۔ اب یہ انسان کا کام تھا کہ وہ فطرت کے شواہد کو دریافت کرے اور اُس کو لوگوں کے لیے ایک معلوم واقعہ بنائے۔
مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اہلِ ایمان (believers) اِس کام کو انجام نہ دے سکے۔ پیغمبروں کے معاملے میں یہ ہوا کہ اُن کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی جو اِس کام کو انجام دیتی۔ پیغمبر ِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن پھیلا اور ایک پوری امت آپ کے مشن سے وابستہ ہوگئی، لیکن یہاں بھی ایسا ہوا کہ امتِ محمدی بہت جلد سیاسی اقتدار میں مشغول ہوگئی۔ پہلے انھوں نے اپنا سیاسی ایمپائر بنایا اور جب یہ ایمپائر ٹوٹا تو وہ جہاد کے نام پر اُس کو دوبارہ حاصل کرنے میں لگ گئے۔ اِس طرح لمبی تاریخ گزر گئی اور اہلِ ایمان اِس ضروری کام کو انجام نہ دے سکے۔
آیاتِ معرفت کو کھولنے کے کام کے لیے اہلِ ایمان فرسٹ آپشن(first option) کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے یہ کام مطلوب طورپر انجام نہیں دیا تو اس کے بعد غیر اہلِ ایمان (non-believers) کو سکنڈ آپشن (second option) کے طورپر منتخب کیا گیا۔ یہ سکنڈ آپشن مغربی قوموں کا تھا۔غالباً اِنھیں قوموں کو قرآن میں یاجوج اور ماجوج (21:96) کہاگہا ہے۔ اِس معاملے میں غیر اہلِ ایمان کو بطور سکنڈ آپشن منتخب کرنے کا اشارہ غالباً صحیح البخاری کی ایک روایت میں ملتا ہے۔ اِس روایت کے الفاظ یہ ہیں إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی، بے شک، اللہ اِس دین کی تائید فاجر انسان سے کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ربانی معرفت ایک مطالعہ
ایک حدیثِ قدسی اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے كُنْتُ كَنْزًا، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ، فَخَلَقْتُ خَلْقًا، فَعَرَّفْتُهُمْ بِي، فَعَرَفُونِي (المقاصد الحسنہ للسخاوی، جلد 4،صفحہ 139) ۔( میں ایک خزانہ تھا بغیر پہچانا ہوا، پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق کو پیدا کیا، پھر اُن کو میں نے اپنی پہچان کرائی، تو انھوں نے مجھے پہچان لیا)۔
hadithQuotes a hadith
اِس روایت کو تقی الدین احمد بن تیمیہ (وفات 728 ھ) اور اُن کے ہم فکر علما نے ضعیف یا بے اصل بتایا ہے۔ لیکن کچھ دوسرے علما کا کہناہے کہ اس کو معنی کے اعتبار سے بے اصل نہیں کہا جاسکتا۔ علی بن محمد نور الدین الملا القاری (وفات 1014 ھ) نے لکھا ہے مَعْناهُ صَحِيحٌ مُسْتَفادٌ مِنْ قَوْلِهِ تَعالَى(وَما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلّا لِيَعْبُدونِ)، أَي لِيَعْرِفوني، كَما فَسَّرَهُ ابْنُ عَبّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ( کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 232)۔یعنی، اِس روایت کا مفہوم درست ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اِس قول سے مستفاد ہے کہ ’’میں نے پیدا کیا جن اور انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے‘‘۔ یعنی وہ میری معرفت حاصل کریں، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس نے اِس آیت کی تفسیر میں کہا ہے۔
quoted sourceQuoted from another author or source
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی معرفت کسی انسان کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ بلا شبہ معرفت کا حصول ہی کسی انسان کا سب سے بڑا گول (goal) ہے۔ اِس کے سوا، کوئی بھی دوسری چیز اتنی بڑی نہیں کہ وہ انسان کا گول بن سکے۔ دوسری مطلوب چیزیں اِس معرفت کے تقاضے کے طورپر پیدا ہوتی ہیں۔ معرفت اصل ہے، اور بقیہ تمام چیزیں اِسی اصل کا نتیجہ۔
معرفت کا یہ سفرانسانِ اول کی پیدائش کے ساتھ شروع ہوا، اور وہ ابدتک مسلسل جاری رہے گا۔ اِس سفر کا آغاز ہے، لیکن اِس کی کوئی انتہا نہیں۔ آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ آدم کو پیغمبر کا درجہ دے کر، اللہ تعالیٰ نے آدم کو معرفت کا علم بھی دے دیا۔ اِس کے بعد یہ علم نسل درنسل انسانیت کے درمیان جاری رہا۔
خدا کے تمام پیغمبر اِسی کام میں انسان کی رہنمائی کے لیے آئے۔ پیغمبر گویا کہ معرفت ِ الٰہی کے مستند گائڈ(authentic guide) کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک پیغمبر آتے رہے، مگر بہت کم افراد ایسے تھے جو پیغمبر سے ہدایت لیں یا پیغمبر کا ساتھ دیں۔ لوگ نہ دکھائی دینے والے خدا (unseen god) کی معرفت حاصل نہیں کرپاتے تھے، اِس لیے وہ دکھائی دینے والے خدا (seen god) کو پوجتے رہے۔ انسان کی یہی کمزوری ہے جس نے قدیم زمانے میں فطرت پرستی (nature worship) کا کلچر پیدا کیا۔ یہ معرفت کا پہلا دور تھا جو حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم تک جاری رہا۔ اِس قدیم دور کی طرف اشارہ قرآن کی اِس آیت میں موجود ہے رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا(14:36)۔ یعنی، اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسرا مرحلہ
معرفت کا دوسرا مرحلہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام (وفات1985 ق م) سے شروع ہوتا ہے۔ وہ قدیم عراق کے شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ اللہ کی ہدایت کے مطابق، ان کے ذریعے ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا۔ وہ منصوبہ تھا، ایسی نسل تیار کرنا جو ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک ہو۔ اِس مقصد کے لیے انھوں نے عرب کے صحرا میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسایا۔ یہاں صحرائی ماحول میں تقریباً ڈھائی ہزار سال تک توالد وتناسل کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتا ہے۔ اِسی نسل میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب 570 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ اِس واقعے کا اشارہ قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (3:110)۔ یعنی، اب تم بہترین گروہ ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک مستشرق پروفیسر ڈی ایس مارگولیتھ (وفات 1940) نے اِس اسماعیلی نسل کو ہیروؤں کی نسل (a nation of heroes) کہاہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسماعیل کے درمیان کام کرکے ان کو تیار کیا اور ان کے ذریعے ایک بڑی ٹیم بنائی۔ یہی وہ ٹیم ہے جس کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ اِس ٹیم نے ساتویں صدی عیسوی میں اگلے دورِ معرفت کا آغاز کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تیسرا مرحلہ
اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ اِس انقلاب کو ایک لفظ میں، دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا آغاز کہاجاسکتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف عرب میں، بلکہ عرب کے باہر دنیا کے دو بڑے ایمپائر، ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر کا خاتمہ کیا جو انسانی فکر کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ انھوںنے فطرت (nature) کو معبودیت کے مقام سے ہٹایا اور اکتشافِ فطرت کا دروازہ کھولا، جس کے نتیجے میں آخر کار جدید سائنسی دور ظہور میں آیا۔
اصحابِ رسول کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے وحیِ الٰہی (قرآن) کو ایک محفوظ کلام کی حیثیت دے دی جو کہ اِس سے پہلے کبھی کسی آسمانی کتاب کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔ امتِ محمدی کا یہ ایک اہم کارنامہ ہے کہ اس نے ایک ہزار سال تک قرآن کو مستند ترین اندازمیں محفوظ رکھا اور اس کو انیسویں صدی عیسوی تک پہنچا دیا۔ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوگیا اور یہ ممکن ہوگیا کہ قرآن کے نسخے کامل صحت کے ساتھ بڑی تعداد میں چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلا دیے جائیں۔ اب اشاعتِ قرآن کا یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر ہوچکا ہے کہ اُس میں اب نہ ضیاع کا اندیشہ ہے اور نہ کسی قسم کی تبدیلی کا اندیشہ۔
چوتھا مرحلہ
تہذیبِ معرفت کا چوتھا مرحلہ دراصل تیسرے مرحلے میں پیش آنے والے انقلابی پراسس کی تکمیل (culmination) ہے۔ یہ تکمیل مغربی قوموں کے ذریعے انجام پائی، جن کو قرآن میں یاجوج اور ماجوج (21:96) کہاگیا ہے۔ سفرِ معرفت کے تیسرے مرحلے کے ہیرو اہلِ ایمان (believers) تھے۔ معرفت کے چوتھے مرحلے کو انجام دینے کا کام غیر اہلِ ایمان (non-believers) سے لیاگیا۔ اِس واقعے کی طرف اشارہ ایک حدیثِ رسول میں موجود ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ اِس حدیثِ رسول میں ’’فاجر‘‘سے مراد غیر اہلِ ایمان (non-believers) ہیں۔ غالباً یہی غیر اہلِ ایمان تھے جن کو قرآن اور حدیث میں یاجوج اور ماجوج کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ غیر اہلِ ایمان وہ مغربی قومیں ہیں جو یورپ کی نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد ابھریں۔ مغرب کی نشاۃِ ثانیہ کروسیڈس (Crusades) کی طویل جنگ میں مغربی قوموں کی ہار کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ کروسیڈس کی طویل جنگ چودھویں صدی عیسوی میں ختم ہوئی۔ اور اِسی چودھویں صدی میں مغرب کی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کروسیڈس کی طویل جنگ میں ایک طرف مسلم حکومتیں تھیں اور دوسری طرف تقریباً پورا مسیحی یورپ، اِس طویل جنگ میں مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی۔ یہ شکست اُن کے لیے ایک عظیم شاک (super shock) کے ہم معنی تھی۔ اِس کے بعد مغربی قوموں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ اُنھیں اپنے عمل کا میدان مسلّح کروسیڈس (armed crusades) کے بجائے، اسپریچول کروسیڈس (spiritual crusades) کی طرف موڑ دینا چاہیے۔ یہ اسپریچول کروسیڈس دھیرے دھیرے فطرت (nature) کی تسخیر تک پہنچ گئی۔ اِس کے نتیجے میں مسیحی قوموں کو سائنس اور صنعت کے میدان میں غیر معمولی طاقت حاصل ہوئی۔ وہ دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ نہ صرف مسلم، بلکہ پوری دنیا پر چھاگئے— اکتشافِ معرفت کے پراسس کا آغاز اہلِ ایمان نے کیا تھا، اِس آغاز میں غیر اہلِ ایمان نے تائیدی رول ادا کیا اور اس کو تکمیل کے مرحلے تک پہنچا دیا۔
پچھلے چند سوسالوں میں مغربی محققین اور مغربی سائنس دانوں نے جو کام انجام دیا ہے، وہ سائنس برائے سائنس کے جذبے کے تحت انجام دیاگیا ہے۔ وہ اپنے آپ میں اور براہِ راست طورپر حق کی معرفت نہیں ہے۔ اِس کام کی اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے طالبینِ معرفت کے لیے بنیادی معلومات (data) فراہم کردیا ہے۔ اِن معلومات کو لے کر معرفت کی ایک پوری انسائکلو پیڈیا تیار کی جاسکتی ہے، جس کے ذریعے دینی حقائق انسان کے اپنے علمی مسلّمہ کی سطح پر مدلل ہوسکیں۔
موجودہ زمانے میں جو سائنسی دریافتیں ہوئی ہیں، وہ حقیقتاً تخلیقِ خداوندی میں چھپے ہوئے قوانین کی دریافتیں ہیں۔ اِن دریافتوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اسلامی عقائد کا نظام جو پہلے وحی والہام پر مبنی سمجھا جاتا تھا، اب وہ انسان کے خود اپنے علمی مسلّمہ کی بنیاد پر قائم ہوگیا ہے۔
چوتھے دور میں معرفت کا جو سفر طے ہوا، اس کے کئی پہلو تھے— اِکتشافِ فطرت کے ذریعے آفاق وانفس کی نشانیوں کی دریافت، کمیونکیشن کے ذرائع کا ظہور میں آنا، لوگوں میں تجسس کی اسپرٹ(spirit of enquiry)کا پیدا ہونا، عالمی انٹریکشن کا وہ عمل جس کو گلوبلائزیشن کہا جاتا ہے، مذہبی جبر(religious persecution) کا ختم ہونا اور ساری دنیا میں مذہبی آزادی(religious freedom)کا دور شروع ہونا، تاریخی تحقیقات کے ذریعے یہ ثابت ہوجانا کہ دوسری تمام الہامی کتابیں غیر محفوظ اور غیرمستند ہوچکی ہیں، محفوظ اور مستند کتاب کی حیثیت صرف قرآن کو حاصل ہے، ساری دنیا میں مذہبی مفاہمت (religious understanding)کی فضا کا قائم ہونا،قرآن اور اسلام کا بڑے پیمانے پر نیوز (news)میں آنا، پولٹکل ایمپائر نہ ہوتے ہوئے، زیادہ بڑے پیمانے پر فکری ایمپائر (ideological empire) کا قیام ممکن ہوجانا، وغیرہ۔
پانچواں دور
معرفت کا پانچواں دور وہ ہے جب کہ پیدا شدہ انقلابی مواقع کو استعمال کرکے ایک طرف اعلیٰ درجۂ معرفت حاصل کیا جائے اور دوسری طرف اللہ کا پیغام ساری دنیا میں پہنچا دیا جائے۔ یہ کام قیامت سے پہلے آخری دورِ انسانیت میں انجام پائے گا۔ اِس دور کی پیشین گوئی ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں آئی ہے لايَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلّا أَدْخَلَهُ اللهُ كَلِمَةَ الإِسْلامِ(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی، زمین کے اوپر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اُس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آخری دور کا یہ واقعہ غالباً دو طریقے سے انجام پائے گا۔ ایک، یہ کہ کلمۂ اسلام یا کلامِ الٰہی (word of God) کے اندر اقتصادی مفاد(commercial interest) پیدا کیا جائے گا۔ لوگ عمومی طورپر خدا کی بات کو پھیلانے لگیں گے، حتی کہ اشاعتِ اسلام کے اِس عمل میںغیر مسلم بھی شریک ہوجائیںگے۔موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بالفعل پیش آرہا ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ظہور میں آنے کے بعد ساری دنیا میں مختلف صورتوں سے اسلام کے پیغام کی اشاعت ہورہی ہے۔ بڑے بڑے پبلشر اسلام کا لٹریچر چھاپ کر پھیلا رہے ہیں، اور ٹی وی کے بڑے بڑے ادارے اسلام کے پروگرام نشر کررہے ہیں۔ سیمناروں اور کانفرنسوں کی صورت میں پوری دنیا میں ہر جگہ بہت بڑے پیمانے پر اسلام کا چرچا ہورہا ہے، وغیرہ۔
کلمۂ اسلام کی اشاعت کا دوسرا ذریعہ امتِ محمدی ہے۔ امتِ محمدی کے افراد جدید معیار پر اشاعتِ اسلام کا کام انجام دیں گے۔ اِس دور میں امت کا ایک منتخب گروہ خصوصی طورپر اشاعتِ اسلام کے اِس عمل کی توفیق پائے گا۔ غالباً یہی وہ گروہ ہے جس کو حدیث میں ’اخوانِ رسول‘ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249) کا لفظ دیاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پانچویں دور میں اعلیٰ معرفت کے حصول کی طرف قرآن میں اشارہ موجود ہے۔ یہ اشارہ قرآن کی اِس آیت میں پایا جاتا ہے سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقّ (41:53) یعنی آئندہ ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر بخوبی یہ امر واضح ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں جدید سائنس کی اُن دریافتوں کی طرف اشارہ ہے جو خاص طور پر انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں سامنے آئی ہیں۔ یہ دریافتیں فطرت میں چھپے ہوئے قوانینِ الٰہی کی دریافت ہیں۔ اِن دریافتوں نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ انسان کے خود اپنے علمی مسلمہ (scientific criterion) پر خدائی سچائی کو مدلل کیا جاسکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چھٹا دور
معرفت الٰہی کا چھٹا دور آخرت کا دور ہے۔خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دور ہیں— قیامت سے پہلے کا دور، اور قیامت کے بعدکا دور۔ قیامت سے پہلے کا دور عارضی دورِ حیات ہے۔ اور قیامت کے بعد کا دورِ حیات ابدی دورِ حیات۔ قیامت سے پہلے کے دور میں انسانوں کا انتخاب کیاجارہا ہے۔ قیامت کے بعد کے دور میں تمام انسانوں کو اُن کے پچھلے ریکارڈ کے مطابق، آخرت کی دنیا میں آباد کیا جائے گا۔
قیامت سے پہلے کے دور میں معرفت کے حصول کا جو پراسس شروع ہوا، اس کی تکمیل آخرت کے دور میں انجام پائے گی۔ موجودہ دنیا میں معرفت کا حصول صرف زمان ومکان (space and time) کے اندر محدود طورپر انجام پاسکتا تھا۔ لیکن آخرت کی دنیا میں معرفت کا سفر زمان ومکان سے ماورا (beyond space and time) لامحدود طورپر انجام پائے گا۔ موجودہ دنیا میں یہ عمل صرف غیرمعیاری (imperfect) درجے میں انجام پاسکتا تھا، آخرت کی دنیا میں یہ عمل معیاری (perfect) طورپر تکمیل کے درجے میں انجام پائے گا۔
معرفت کا حصول انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ اِس سفرِ معرفت کا آغاز موجودہ دنیا میں ہوا، اِس سفرِ معرفت کی تکمیل آخرت میں جنت کی دنیا میں انجام پائے گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کو ہر چیز بقدر ضرورت دی گئی تھی (14:34)، آخرت کی جنت میں انسان کو تمام چیزیں بقدر اشتہادی جائیں گی (41:31)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس جنت کی وسعت کو بتاتے ہوئے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ (3:133)۔ یعنی، دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اُس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ختمِ نبوت
اسلامی عقیدے کے مطابق، پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ اُسی وقت سے شروع ہوگیا جب کہ انسان کو پیدا کرکے اس کو موجودہ زمین پر آباد کیا گیا ہے۔ آدم، پہلے انسان تھے اور پہلے پیغمبر بھی (مسند احمد، حدیث نمبر 17446؛ صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 807)۔ اِس کے بعد ہر دور اور ہر نسل میں مسلسل طورپر پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو خدا کا پیغام دیتے رہے (23:44)۔ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ آپ پر خدا نے اپنی کتاب قرآن اتاری۔ اِس کتاب میں یہ اعلان کردیاگیا کہ محمد، اللہ کے رسول ہیں، اور اِسی کے ساتھ وہ نبیوں کے خاتَم (33:40) کی حیثیت رکھتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خاتم، یاسیل (seal) کے معنیٰ کسی چیز کو آخری طورپر مہر بند کرنے کے ہیں، یعنی اس کا ایسا خاتمہ جس کے بعد اس میں کسی اور چیز کا اضافہ ممکن نہ ہو
Seal: To close completely
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ختمِ نبوت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایاکہ لَا نَبِيَّ بَعْدِي(صحیح البخاري، حدیث نمبر 3455)۔ یعنی، میرے بعد کوئی اور نبی نہیں۔
hadithQuotes a hadith
ختم نبوت کا مطلب ختم ضرورتِ نبوت ہے۔ محمد ِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ اِس لیے ختم کردیا گیا کہ اس کے بعد نئے نبی کی آمد کی ضرورت باقی نہ رہی۔ جیسا کہ معلوم ہے، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے ساتھ استثنائی طورپر ایسا ہوا کہ وہ کامل طورپر محفوظ ہوگیا۔ اور جب دینِ خداوندی محفوظ ہوجائے، تو اس کے بعد یہی محفوظ دین، ہدایت حاصل کرنے کا مستند ذریعہ بن جاتا ہے۔ خدا کی ہدایت کو جاننے کے لیے اصل ضرورت محفوظ دین کی ہے، نہ کہ پیغمبر کی۔قرآن کی ایک آیت میں اِس حقیقت کو واضح طور پر بیان کردیاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی سورۃ المائدہ میںایک آیت ہے، جس کے بارے میں بعض اہل علم کا قول ہے کہ وہ نزول کے اعتبار سے قرآن کی آخری آیت ہے۔ اِس آیت کے الفاظ یہ ہیں اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (5:3)۔ یعنی، آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔ قرآن کی اِس آیت کے تین جُز ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1 ۔ آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کردیا، یعنی یہ آیت قرآن کی آخری آیت ہے ۔ اِس آیت کے ساتھ قرآن کا نزول مکمل ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 ۔ میں نے تمھارے اوپر اپنی نعمت کو پورا کردیا، یعنی قرآن کے گرد، اصحابِ رسول کی ایک مضبوط ٹیم جمع ہوگئی، جو قرآن کی حفاظت کی ضامن ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
3 ۔ اور میں نے اسلام کو بحیثیت دین تمھارے لیے پسند کرلیا، یعنی اب اسلام کو ہمیشہ کے لیے مستند دینِ خداوندی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذکر ہے۔ حدیث کے مطابق، قدیم زمانے میں جو پیغمبر دنیا میں آئے، ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔مگر ان پیغمبروں پر بہت کم لوگ ایمان لائے۔ اِس بنا پر اِن پیغمبروں کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی، جو اُن کے بعداُن کی لائی ہوئی کتاب کی ضامن بنے۔ چنانچہ پچھلے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتابیں اور ان کے صحیفے محفوظ نہ رہ سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ تھا۔ آپ 570 عیسوی میںعرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ اُس وقت یہاں جو لوگ (بنواسماعیل) آباد تھے، ان کی پرورش تمدن سے دور صحرائی ماحول میں ہوئی۔ اِس بنا پر وہ اپنی اصل فطرت پر قائم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام کو استثنائی طورپر ساتھ دینے والوں کی بڑی تعداد حاصل ہوگئی۔ بائبل میںاِس استثنائی واقعے کو بطور پیشین گوئی اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے— وہ دس ہزار قُدسیوں کے ساتھ آیا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He came with ten thousand of saints (Deoteronomy 33:2)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی صدی ہجری میں مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا۔ ہجرت (622 ء) کے آٹھویں سال آپ فاتحانہ طور پر دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے تو اُس وقت آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ موجود تھے۔ اِس کے بعد اپنی وفات سے تقریباً ڈھائی مہینے پہلے جب آپ نے آخری حج ادا کیا اور عرفات کے میدان میں اپنے اصحاب کو خطاب فرمایا، اُس وقت آپ کے اصحاب کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ اِس کے بعد 632 عیسوی میں جب مدینہ میںآپ کی وفات ہوئی، اُس وقت عرب کے تقریباً تمام لوگ اسلام میں داخل ہوچکے تھے اور آپ کے اصحاب کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہو گئی تھی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طورپر یہ معاملہ ہوا کہ آپ کواتنی بڑی تعداد میں قابلِ اعتماد رفقا حاصل ہوگئے۔ یہ ایک انتہائی طاقت ور ٹیم تھی۔ مورخین کی شہادت کے مطابق، اِس ٹیم کا ہر فرد ایک ہیرو (hero) کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس وقت عرب کے باہر دو بڑے ایمپائر موجود تھے— بازنتینی ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر (Byzantine Empire & Sassanid Empire)۔ یہ دونوں ایمپائر اسلامی مملکت کے خلاف ہوگئے۔ اِس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔ اِس ٹکراؤ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہلِ اسلام کو جیت ہوئی اور دونوں ایمپائر ٹوٹ کر ختم ہوگئے۔ یہی وہ عظیم واقعہ ہے جس کو بائبل میں بطور پیشین گوئی اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے— ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگئے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
And the everlasting mountains were scattered (Habakkuk 3:6)
اِس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بہت جلد بعد ایک عظیم مسلم سلطنت بن گئی جو اسلام کی پشت پر ایک مضبوط سیاسی طاقت کی حیثیت رکھتی تھی۔ اصحابِ رسول اور اہلِ اسلام کا یہ سیاسی غلبہ تاریخ کا ایک استثنائی واقعہ تھا۔ مؤرخین نے عام طورپر اِس کا اعتراف کیا ہے۔ انڈیا کے ایک مورخ ایم این رائے (وفات 1954) کی ایک کتاب (The Historical Role of Islam) پہلی بار1939 میں دہلی سے شائع ہوئی۔ اِس کتاب میںانھوںنے اسلامی انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے اُس کو تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ قرار دیاہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles (p. 4)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب، قرآن کی حفاظت کے کام میں مسلسل طورپر مشغول ہوگئے۔ قرآن کو یاد کرنا، قرآن کو لکھنا، قرآن کا چرچا کرنا، یہی اُن کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ اِس طرح، اصحابِ رسول کی جماعت گویا کہ ایک زندہ کتب خانہ بن گئی۔ پھر جب مسلم سلطنت قائم ہوئی تو حفاظتِ قرآن کی مہم کو ایک سیاسی طاقت کی تائید بھی حاصل ہوگئی۔ حفاظتِ قرآن کا یہ سلسلہ تقریباً ایک ہزار سال تک غیر منقطع طورپر چلتا رہا۔ یہ کسی کتاب کی حفاظت کا ایک استثنائی معاملہ تھا جو قدیم زمانے میں کسی بھی کتاب کے ساتھ پیش نہیں آیا، نہ کوئی دنیوی کتاب اور نہ کوئی دینی کتاب۔
حفاظتِ قرآن
پچھلے زمانے میں انسانوں کی رہنمائی کے لیے جو پیغمبر آئے، وہ سب اپنے ساتھ خدا کی کتاب اور صحیفے لائے۔ مگر یہ کتابیں اور صحیفے بعد کو محفوظ نہ رہ سکے۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی بھی پیغمبر کے گرد اُس کے ساتھیوں کی کوئی مضبوط ٹیم اکھٹا نہ ہوسکی۔ پیغمبر اسلام کے ساتھ استثنائی طورپر ایسا ہوا کہ آپ کو اپنے پیروؤں (followers) کی ایک مضبوط ٹیم حاصل ہوگئی۔یہ ٹیم قرآن کی حفاظت کی ضامن بن گئی۔
ایک مستشرق (orientalist) نے اِس معاملے کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام کی وفات کے فوراً بعد آپ کے اصحاب، حفاظتِ قرآن کے لیے سرگرم ہوگئے۔ انھوںنے اِس مقصد کے لیے تاریخ میں پہلی بار ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ ایک ایسا طریقہ تھا جس کے بعد قرآن کی حفاظت میں کسی قسم کا احتمال سرے سے باقی نہیں رہتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
632 عیسوی میںمدینہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اُس وقت ہزاروں کی تعداد میںایسے اصحابِ رسول موجود تھے جن کو پورا قرآن بخوبی طورپر یاد تھا۔ نیز یہ کہ پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ اترتا توآپ اُسی وقت اُس کو قدیم طرز کے کاغذ (قرطاس) پر لکھوا دیتے۔ اصحابِ رسول نے یہ کیا کہ زید بن ثابت الانصاری (وفات 665 ء) کی قیادت میں ایک ٹیم بنائی۔ اِس ٹیم نے قرآن کی تمام تحریروں کو اکھٹا کیا۔ اِس کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ قرآن کے تحریری ذخیرے کا تقابل حافظے سے کیا، اور حافظے کا تقابل تحریری ذخیروں سے کیا۔ اِس ڈبل چیکنگ کے بعد انھوں نے قرآن کا ایک مستند نسخہ (authentic copy)لکھ کر تیار کیا۔ یہ نسخہ چوکور صورت میں تھا، اِس لیے اُس کو رَبعہ (square) کہاجاتاتھا۔ یہ ربعہ، قرآن کا مستند نسخہ قرار پایا۔لوگوں نے اِس نسخے کی مزید نقلیں تیار کیں۔ اِس طرح وہ مسلم دنیا میں ہر طرف پھیل گیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام مسلسل طورپر ایک زندہ موضوع بن گیا۔ اہلِ اسلام، ایشیا اور افریقہ کے درمیان ایک بڑے رقبے میں ہر جگہ پھیل گئے ۔
اِن لوگوں کی تقریر اور تحریر کا موضوع اسلام تھا۔ قرآن کی کتابت، قرآن کی تفسیر، حدیث کی تدوین، حدیث کی شرح، پیغمبر اسلام کی سیرت، اصحابِ رسول کے حالات، اسلام کی تاریخ، فقہ کی ترتیب وتدوین، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد سیکڑوں سال تک یہ موضوعات لاکھوں اہلِ اسلام کے درمیان تقریر اور تحریر کاموضوع بنے رہے۔ دعوت و تبلیغ کا کام قرآن ہی کے ذریعے کیا جاتا تھا، اِس لیے دعوت و تبلیغ کے دوران بھی مسلسل طورپر قرآن کو پڑھنے اور سنانے کا عمل جاری رہا۔ یہ ایک ڈبل حفاظت کا معاملہ تھا۔ اِس عمل کے دوران ایک طرف، قرآن اور حدیث کی حفاظت ہوئی اور اسی کے ساتھ عربی زبان ایک زندہ اور محفوظ زبان بنتی چلی گئی۔
یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میںپرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ فرانس کا حکمراں نپولین (وفات 1821) 1798 میں مصر میں داخل ہوا۔ وہ اپنے ساتھ پرنٹنگ پریس بھی لے آیا۔ اِس سے پہلے کاغذ سازی کی صنعت 751 عیسوی میں سمرقند میں آچکی تھی۔ اِس طرح، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تقریباً ایک ہزار سال بعد قرآن اور علوم قرآن کی حفاظت پرنٹنگ پریس کے دور میں داخل ہوگئی۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے دستیاب ہونے لگے۔ دورِ طباعت میں داخل ہونے کے بعد قرآن آخری طورپر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اِس کے بعد قرآن میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔
ختم نبوت کے حق میں یہی سب سے بڑا ثبوت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد استثنائی طورپر ایسے اسباب پیدا ہوئے جو خدا کی کتاب کو محفوظ کرنے کے لیے یقینی تدبیر کی حیثیت رکھتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تدبیر اپنے آخری انجام تک پہنچ گئی، یعنی قرآن کامل طورپر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اور جب خدا کی ہدایت کتاب کی صورت میں محفوظ ہوجائے تو ایسی کتاب پیغمبر کا بدل بن جاتی ہے۔ اِس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی آمد کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
رسول کی بعثت کا مقصد
ایک روایت کے مطابق، دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ اِن تمام پیغمبروں کا مقصد صرف ایک تھا— انسان کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے آگاہ کرنا۔ تمام پیغمبروں نے مشترک طورپر یہی ایک کام کیا۔ انھوں نے بتایا کہ خدا نے کیوں انسان کو پیدا کیا ہے۔ اِس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دورِ حیات (pre-death period) میں انسان سے کیا مطلوب ہے، اور موت کے بعد کے دورِ حیات(post-death period) میں اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ اِسی کو قرآن میںاِنذار اور تبشیر کہاگیا ہے۔ یہی انذار اور تبشیر تمام پیغمبروں کا مشترک مشن تھا۔ اِس کے سوا کوئی چیز اگر کسی پیغمبر کی زندگی میں نظر آتی ہے، تو وہ اس کی زندگی کا ایک اضافی پہلو (relative part) ہے، نہ کہ حقیقی پہلو(real part)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ دنیا میں انسان کی دو ضرورتیں ہیں۔ ایک ہے اس کی مادّی ضرورت، جس کی تکمیل فزیکل سائنس (physical science) کے ذریعے ہوتی ہے۔ انسان کی دوسری ضرورت یہ ہے کہ اُس کے پاس وہ خدائی ہدایت(divine guidance) موجود ہو جس کا اتباع کرکے وہ آخرت میںکامیاب زندگی حاصل کرے۔ اِس دوسری ضرورت کی تکمیل پیغمبرانہ الہام سے ہوتی ہے۔ تقریبِ فہم کے لیے اس کو ہم ریلجس سائنس (religious science) کہہ سکتے ہیں۔
فزیکل سائنس میںآخری سائنٹسٹ (final scientist) کا لفظ ایک غیر متعلق (irrelevant) لفظ ہے۔ فزیکل سائنس میں مسلسل طورپر ترقی کا عمل جاری رہتا ہے۔ اِس لیے اِس میدان میں کوئی سائنٹسٹ آخری سائنٹسٹ نہیںہوسکتا۔ اِس کے برعکس، ریلجس سائنس ایک ہی خدائی ہدایت (divine guidance) پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ خدائی ہدایت غیر متغیر طورپر ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔ اِس لیے ریلجس سائنس میںیہ ضروری ہوجاتا ہے کہ کوئی آخری پیغمبر (final prophet) ہوجو انسان کو خداکا آخری کلام(final word) دے دے، اور انسانیت کا قافلہ اس کی رہنمائی میں بھٹکے بغیر مسلسل طورپر اپنے سفرِ حیات کو جاری رکھے۔
خدا کی طرف سے آنے والا ہر پیغمبر ایک ہی ابدی ہدایت لے کر لوگوں کے پاس آیا۔ لیکن بشری تقاضے کے تحت جب پیغمبر کی وفات ہوئی تو اس کے بعد اس کی لائی ہوئی خدائی ہدایت محفوظ نہ رہ سکی۔ اِس لیے بار بار یہ ضرورت پیش آئی کہ نیا پیغمبر آئے او روہ انسان کو دوبارہ مستند ہدایت عطا کرے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی لائی ہوئی خدائی ہدایت، قرآن اور سنت کی شکل میں کامل طورپر محفوظ ہوگئی، اِس لیے آپ کے بعد کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔
پیغمبر کا آنا ایک بے حد سنگین معاملہ ہوتا ہے۔ جب ایک زندہ پیغمبر موجود ہو تو اُس وقت انسان کے لیے ایک ہی انتخاب (option) باقی رہتاہے، یہ کہ وہ پیغمبر کا اقرار کرے۔ اقرار نہ کرنے کی صورت میں پیغمبر کے معاصرین کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ اِس لیے خدا کی یہ اسکیم نہیں کہ دنیا میں ہمیشہ ایک زندہ پیغمبر موجود رہے۔ خدا کی اسکیم کے مطابق، اصل مطلوب یہ ہے کہ خدا کی ہدایت ہمیشہ محفوظ اور غیر محرَّف حالت میںموجود رہے۔ جب خدائی ہدایت کا متن (text) محفوظ ہوجائے اور اُس میں تحریف کا امکان باقی نہ رہے، تو زندہ پیغمبر کا موجود ہونا، غیر ضروری ہوجاتا ہے۔ یہی واقعہ پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد پیش آیا۔ خدا کی کتاب انسان کے لیے ایک بک آف ریفرنس (book of reference) کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب ایک محفوظ بک آف ریفرنس دستیاب ہوجائے، تو اس کے بعد نئے پیغمبر کی بعثت اپنے آپ غیر ضروری ہوجاتی ہے۔
پیغمبرانہ ہدایت کی ابدیت
پیغمبر کے ذریعے خدا کی جو ہدایت آتی ہے، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہوتی ہے۔ قرآن میں پیغمبرانہ ہدایت کو روشن آفتاب سے تشبیہہ دی گئی ہے (33:46)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی ہدایت اُسی طرح ابدی ہوتی ہے جس طرح آفتاب کی روشنی انسان کے لیے ابدی ہوتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سے معلوم ہوا کہ تبدیلی ٔ زمانہ کے حوالے سے نئے پیغمبر کی ضرورت کو بتانا، ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ زمانے کی تبدیلی، یا مادّی تہذیب کی نئی ترقی کا کوئی تعلق نئی نبوت سے نہیں ہے۔ زمانے کی تبدیلی سے اگر کوئی عملی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ صرف نئے اجتہاد کی ضرورت کو ثابت کرتاہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔مثلاً مسح علی الخفّین کے مسئلے کو لیجیے۔ قدیم زمانے میں چمڑے کے موزے ہوا کرتے تھے۔ اُس وقت چمڑے کے موزے کے حوالے سے مسح علی الخفین کا مسئلہ بتایا گیا۔ اب صنعتی ریشوں سے تیار کیے ہوئے موزوں کا زمانہ ہے۔ یہ تبدیلی اجتہاد کی ضرورت کو بتاتی ہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔ اِس طرح کے بدلے ہوئے حالات میں صرف یہ کافی ہے کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں صورتِ موجودہ پر شرعی حکم کا از سرِ نو انطباق (re-application) کیا جائے۔ اِسی کا نام اجتہاد ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے، تو اس وقت وہاں آب پاشی (irrigation) کا مسئلہ تھا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ آپ خدا کی مدد سے ہمارے اِس مسئلے کو حل کیجیے۔ آپ نے فرمایا ما بِهٰذا بُعِثْتُ إِلَيْكُمْ (سیرت ابن ہشام، جلد 1 ، صفحہ 263)۔ یعنی، میں تمھارے پاس اِس کام کے لیے نہیں بھیجا گیا ہوں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
I have not been sent to you for this purpose.
اِسی طرح جب آپ مدینہ میں تھے تو وہاں کے حالات کے اعتبار سے بعض مسائل پیدا ہوئے، جو باغ بانی (horticulture) سے تعلق رکھتے تھے۔ وہاں کے لوگوں نے اِس معاملے میں آپ سے مشورہ حاصل کرنا چاہا۔ آپ نے دوبارہ ان کو وہی جواب دیا جو آپ مکہ کے لوگوں کو دے چکے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْياكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 3263) یعنی تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
You know better about your worldly matters.
آب پاشی، باغ بانی، فنِ تعمیراور صنعت جیسی چیزوں کا تعلق انسانی تہذیب سے ہے۔ تہذیب کا عمل ہمیشہ انسانی تحقیق وجستجو پر مبنی ہوتا ہے۔ اِس معاملے کو خدا نے انسان کے اپنے اوپر چھوڑ دیا ہے۔ تاہم جہاں تک ہدایت کا معاملہ ہے، اُس کا تعلق خدائی وحی سے ہے۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے لیے خدا نے وحی ونبوت کا سلسلہ جاری کیا۔
مشہور فرانسیسی مصنف ڈاکٹر الکسس کیرل (وفات 1944) نے 1935 میںایک کتاب شائع کی۔ اِس کتاب کا نام— انسانِ نامعلوم (Man the Unknown) تھا۔ مگر زیادہ صحیح طور پر اِس کتاب کانام— ہدایت نامعلوم (Guidance the Unknown) ہونا چاہیے۔ انسان کی صحیح ہدایت کا تعلق امورِ غیب سے ہے۔ یہ صرف خدا ہے جو امورِ غیب کا علم رکھتا ہے۔ اِس لیے صرف خدا ہی انسان کو صحیح رہنمائی دے سکتا ہے۔ ماضی میں پیغمبروں کے ذریعے یہی رہنمائی انسان کو دی جاتی رہی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اب اِس خدائی رہنمائی کا مستند متن قرآن کی صورت میں محفوظ ہے۔ اب قیامت تک کے لیے قرآن، نبوت کا بدل ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ انسان اِس مستند کلامِ الٰہی (word of God) کو پڑھے، وہ اُس پر تدبر کرے اور قیامت تک اُس سے اپنے لیے رہنمائی لیتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جِئْتُ فَخَتَمْتُ الأَنْبِياءَ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2287)۔ یعنی، میں آیا اور میں نے نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم کردیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دلیلِ نبوت
پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ میں 570ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی عمر چالیس سال ہوئی تو 610 ء میں خدا نے آپ کو اپنا پیغمبر بنایا اور آپ پر قرآن اتارا۔ آپ کا مشن توحید کا مشن تھا۔ اِس مشن کے لیے آپ نے تقریباً 23 سال تک کام کیا ۔ اِس کے بعد 632 ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ نے استثنائی طورپر اپنے ساتھیوں کی ایک بڑی جماعت بنائی، جس کواصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ اصحابِ رسول کی اِس جماعت نے آپ کے مشن کوتکمیل کے درجے تک پہنچایا۔
رسول اور خاتم الانبیاء
قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے، بلکہ وہ خاتم الانبیاء بھی تھے، یعنی آپ کے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ آپ کے بارے میں خاتم الانبیاء ہونے کا یہ اعلان صرف ایک اعلان نہیں، وہ آپ کے پیغمبر ِ خدا ہونے پر ایک تاریخی دلیل بھی ہے۔ آپ نے ساتویں صدی کے رُبعِ اول میں یہ اعلان کیا کہ میں خاتم الانبیاء ہوں۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک کوئی شخص نبی کا دعوے دار بن کر نہیں اٹھا۔ گویا کہ آپ کے الفاظ تاریخ کا ایک فیصلہ بن گئے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنے بعد آنے والی تاریخ کے بارے میں ایک بیان دے اور اس کا یہ بیان اس کے بعد تاریخ کا ایک واقعہ بن جائے۔ مثلاً کارل مارکس (وفات 1883)نے اپنے تجزیے کی بنیاد پر یہ اعلان کیا تھا کہ کمیونسٹ انقلاب سب سے پہلے فرانس میںآئے گا، مگر اُس کا یہ اعلان واقعہ نہ بن سکا۔ اِسی طرح تاریخ میں کئی لوگ ایسے گزرے ہیں، جنھوںنے مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کرنے کی جرأت کی، مگر اِس قسم کی ہر پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی، وہ تاریخی واقعہ نہ بن سکی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس عموم میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ آپ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں مدینہ میںیہ اعلان کیا کہ میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ یہ بات حیرت انگیز طورپر تاریخ کا ایک واقعہ بن گئی۔ یہ استثنا بلا شبہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول تھے اور اِسی کے ساتھ نبیوں کے خاتِم بھی۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعلان قرآن میںبار بار کیاگیا ہے۔ مثلاً فرمایا مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ (33:40)۔ یعنی، محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ اِس آیت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر بھی تھے اور خدا کے آخری پیغمبر بھی۔ اِسی طرح خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا کہ أَنا النَّبِيُّ لَا أَكْذِبُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2864؛ صحیح مسلم حدیث نمبر 1776)۔ یعنی، میںنبی ہوں، اِس میںکوئی شک نہیں۔ اِسی طرح آپ نے فرمایا أَنا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3535؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2286؛ سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4252؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2366؛ مسند احمد، حدیث نمبر 9167)۔ یعنی ، میںآخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوائے نبوت نہیں
یہ بات نہایت اہم ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پورے تاریخی دور میں ساری دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنی زبان سے اِن الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کرے کہ— میں خدا کا پیغمبرہوں، بالکل اُسی طرح جس طرح حضرت موسیٰ، حضرت مسیح اور حضرت محمد، خدا کے پیغمبر تھے
I am the prophet of God in the same sense in which Moses and Jesus and Muhammad claimed they were prophets of God.
اور جب کوئی شخص اِن الفاظ میں، نبوت کا دعویٰ کرنے والا نہیں اٹھا تو پیغمبر اسلام کا یہ دعویٰ اپنے آپ ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ آپ کے اِس اعلان کے بعد تقریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی بھی شخص ایسا نہیں اٹھا جو اپنی زبان سے یہ اعلان کرے کہ— میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اِس طرح آپ کا دعویٰ گویا کہ بلا مقابلہ اپنے آپ ثابت ہوگیا۔
اِس سلسلے میں کچھ نام بتائے جاتے ہیں، جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انھوںنے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر یہ خیال درست نہیں۔ مثلاً کہاجاتا ہے کہ آپ کے زمانے میں یمن کے مُسیلمہ (وفات 633 ء) نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے کسی مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اُس نے صرف یہ کہا تھا کہ میں محمد کے ساتھ نبوت میں شریک کیاگیا ہوں۔ اِس طرح اُس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل حیثیت دے دی۔ اور جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شرکتِ نبوت سے انکار کیا تو اُس کا دعویٰ اپنے آپ ختم ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح آپ کے زمانے میں یمن میںایک اور شخص پیدا ہوا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ شخص اسود العَنسی (وفات 632 ء) تھا۔ تاہم تاریخ کی کتابوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُس نے خود اپنی زبان سے یہ کہا تھا کہ— میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ میرے مطالعے کے مطابق، اُس کا کیس ارتداد اور بغاوت کا کیس تھا، نہ کہ دعوائے نبوت کا کیس۔
اِسی طرح آپ کے بعد ابو المتنبّی (وفات 965 ء) کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، مگر یہ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ المتنبّی ایک شاعر تھا اور نہایت ذہین آدمی تھا۔ اُس نے مزاحیہ طورپر ایک بار اپنے کو نبی جیسا بتایا، بعد کو اس نے اپنے اِس قول کو خود ہی واپس لے لیا۔
اِسی طرح کہاجاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسے دو افراد پیدا ہوئے، جنھوں نے مذکورہ الفاظ میں،اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا— بَہاء اللہ خاں (وفات 1892) اور مرزاغلام احمد قادیانی (وفات 1908)، مگر تاریخی ریکارڈ کے مطابق، یہ بات درست نہیں۔
بہاء اللہ خاں نے صرف یہ کہا تھا کہ— میںمظہرِ حق ہوں۔ انھوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میںخدا کا پیغمبر ہوں۔ اِسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی اپنی زبان سے یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں، جس طرح حضرت موسیٰ، حضرت مسیح اور حضرت محمد، خدا کے پیغمبر تھے۔ انھوںنے صرف یہ کہا تھا کہ میںظلِّ نبی ہوں، یعنی میںنبی کا سایہ ہوں۔ اِس طرح کے قول کو ایک قسم کی دیوانگی تو کہا جاسکتا ہے، لیکن اس کو حقیقی معنوں میں دعوائے نبوت نہیںکہا جاسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہندوگروؤں کی مثال
موجودہ زمانے میں ہندوؤں میںکچھ ایسے افراد پیدا ہوئے جن کے متعلق کہا گیا کہ وہ وقت کے پیغمبر ہیں، مگر یہ بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ مثلاً دہلی کے نرنکاری بابا گُربچن سنگھ (وفات 1980) کے بارے میں ایک پمفلٹ مجھے ملا، جس میں نرنکاری بابا کو وقت کا پیغمبر (prophet of the time) لکھاگیا تھا۔ میںاُن سے ان کے دہلی کے آشرم میں ملا، میں نے ان کی تقریر سنی اور ان سے گفتگو کی۔ لیکن معلوم ہوا کہ نرنکاری بابا کے کچھ معتقدین ان کے بارے میں ایسا کہتے ہیں۔ لیکن خود نرنکاری بابا نے اپنی زبان سے یہ دعویٰ نہیںکیا کہ— میں خدا کا پیغمبر ہوں۔
اِسی طرح کیرلا (تری وندرم) میںایک مشہور ہندو گرو تھے۔ اُن کا نام برہما شری کروناکرا (وفات 1999) تھا۔ تری وندرم میںان کا ایک بڑا آشرم تھا، جس کا نام ’شانتی گری آشرم‘ ہے۔ اُن کے مشن کے کچھ لوگ مجھ سے دہلی میں ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بابا جی وقت کے پیغمبر ہیں۔ اِس کے بعد میںنے خود کیرلا کا سفر کیااور تری وندرم میںان کے آشرم میں ان سے ملا۔ میںنے ان کے معتقدین سے پیشگی طور پر بتادیا تھا کہ میں کس مقصد سے وہاں جارہا ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے یہ سفر فروری 1999 میںکیا تھا۔ شانتی گری آشرم میں پہنچ کر میںاُن سے ملا۔ مجھے ایک خصوصی کمرے میں لے جایا گیا، جہاں بابا جی کے ساتھ اُن کے تقریباً پچاس معتقدین موجود تھے۔ گفتگو کے دوران میںنے بابا جی برہما شری کرونا کرا سے ایک سوال کیا۔ اس کا جواب انھوںنے واضح لفظوں میں دیا۔ وہ سوال وجواب یہ تھا
Q: Do you calim that you are a prophet of God in the same sense in which Moses, and Jesus, and Muhammad claimed they were prophets of God.
A: No, I don’t make any such claim.
اِس گفتگو میںمیںنے ڈائریکٹ طورپر ان سے پوچھا کہ کیا آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ انھوںنے صاف طورپر کہا کہ نہیں، میںایسا دعویٰ نہیںکرتا۔ جب انھوں نے اِس طرح کہہ دیا تو اُس کے بعد میرا سوال و جواب ختم ہوگیا۔ اُس کے بعد میں خاموشی کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی باتیں سنتا رہا اور پھر چلا آیا۔ اِس سفر میں شانتی گری آشرم میں میں نے دو دن قیام کیا۔
کیا وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پوری تاریخ میں کوئی ایسا شخص نہیں اٹھا جو اپنی زبان سے یہ دعویٰ کرے کہ میںخدا کا پیغمبر ہوں۔ اِس پرغور کرتے ہوئے میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ ایسا کلام اتنا زیادہ غیر معمولی ہے کہ کوئی غیر پیغمبر اس کو اپنی زبان سے ادا نہیںکرسکتا۔
جس طرح خدا کے سوا کوئی اور شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میںخدائے ربّ العالمین ہوں، اِسی طرح کوئی شخص یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میںخدا کا بھیجا ہوا پیغمبر (Prophet of God)ہوں۔ پیغمبری کا دعویٰ صرف کوئی سچا پیغمبر ہی کرسکتا ہے۔ کوئی غیر پیغمبر شخص دوسرے دوسرے الفاظ بول سکتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ — میںخدا وند ِ عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔
پیغمبر ایک تاریخی استثنا
پیغمبر کے پیغمبر ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ پوری انسانیت کے مقابلے میں ایک استثنا (exception) ہوتاہے۔ خدا کی طرف سے جتنے بھی پیغمبر آئے ، سب کے سب درجے کے اعتبار سے یکساں تھے (2:285)، لیکن رول کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا۔ پچھلے پیغمبروں کا رول زمانی رول تھا، اور پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا رول ابدی رول تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن اور حدیث کی تصریح کے مطابق، کسی پیغمبر کو دوسرے پیغمبر کے اوپر شخصی فضیلت حاصل نہ تھی۔ پیغمبر ہونے کے اعتبار سے ایک کا جو درجہ تھا، وہی دوسرے کا درجہ بھی تھا۔ لیکن کارِ مفوّضہ کی نسبت سے ہر ایک کی ضرورتیں الگ الگ تھیں۔ اِس بنا پر ہر ایک کو مختلف نوعیت کے ذرائع دیے گئے۔ مثلاً حضرت موسیٰ کی نصرت قوتِ عصا کے ذریعے کی گئی، تو حضرت مسیح کی نصرت قوتِ شفا کے ذریعے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے نبیوں کے درمیان ایک واضح فرق یہ ہے کہ دوسرے تمام پیغمبر روایتی دورِ تاریخ میںآئے اور روایتی دورِ تاریخ ہی میں ان کا پیغمبرانہ رول ختم ہوگیا۔ اِس کے مقابلے میں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ یہ ہے کہ آپ تاریخ کے روایتی دور میں آئے ، لیکن توسیعی معنوں میں آپ کی نبوت تاریخ کے سائنسی دور تک جاری رہی۔ اِس بنا پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عطیات برائے نصرت دیے گئے، وہ پچھلے اَدوار کی نسبت سے مختلف تھے۔
رول کے اِسی فرق کی بنا پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیا ءکے درمیان دلائل کی نسبت سے فرق پایا جاتا ہے، یعنی پچھلے انبیاء کے یہاں اگر روایتی نوعیت کے دلائل ہیں تو پیغمبراسلام کے یہاں سائنسی نوعیت کے دلائل۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے پیغمبر آئے، وہ سب تاریخ کے روایتی دور میں آئے۔ اِس کے مقابلے میں پیغمبر اسلام، تاریخ کے اُس دور میں آئے جب کہ سائنسی دور شروع ہونے والا تھا۔ اِس بنا پر یہ ہوا کہ دوسرے پیغمبروں کو حِسّی معجزے دیے گئے۔ یہ معجزے صرف پیغمبر کے معاصر (contemporary)لوگوں کے لیے دلیل تھے۔ اِن معجزوں کی استدلالی حیثیت مشاہدے پر مبنی تھی۔ پیغمبر کے بعد وہ معجزہ ختم ہوگیا، اِس لیے وہ بعد کی نسلوں کے لیے دلیل بھی نہ رہا۔معجزے کا دلیل ہونا اُن معاصر لوگوں کے لیے ہے جو اس کو دیکھیں، وہ اُن غیر معاصر لوگوں کے لیے دلیل نہیں ہے جو اس کو صرف سنیں یا پڑھیں، مگر انھوں نے اِس کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے پیغمبروں کے درمیان اگر چہ درجے کے اعتبار سے فرق نہ تھا، لیکن پیغمبر اسلام ایک ایسے دورِ تاریخ میں آئے، جب کہ آپ کی دعوت اور آپ کی زندگی سے متعلق ہر چیز محفوظ (preserve)رہ سکتی تھی — اِس بنا پر ایسا ہوا کہ آپ کی نبوت ایک مسلسل نبوت بن گئی۔ ہر پیغمبر کو خدا کی طرف سے پیغمبری کے ساتھ دلیل بھی دی جاتی تھی جس کو قرآن میں ’’بُرہان‘‘ کہاگیا ہے۔ یہ دلیل پچھلے پیغمبروں کے لیے حسی معجزہ (physical miracle) کی صورت میں ہوتی تھی، لیکن پیغمبر اسلام کے لیے یہ دلیل تاریخ کی صورت میں ہے، ایک ایسی استثنائی تاریخ جو کسی اور انسان کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہوئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نبوتِ محمدی کا ثبوت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت، دوسرے پیغمبروں کی طرح، یہ ہے کہ آپ کی زندگی ایک تاریخی استثنا (historical exception) کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی یہی استثنائی حیثیت ہے جس کو قرآن کی سورۃ نمبر 17 میں ’مقامِ محمود‘ (praised state) بتایا گیا ہے (18: 79)۔ مقامِ محمود سے مراد مقامِ اعتراف ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو انسانوں کے درمیان اعترافِ کامل کا درجہ حاصل ہوگا۔ آپ کے گرد ایسی استثنائی تاریخ اکھٹا ہوگی کہ خود انسان کے اپنے مانے ہوئے معیار کے مطابق، آپ کی نبوت ایک مسلّمہ نبوت بن جائے گی۔
قرآن میں ’مقامِ محمود‘ کی آیت سے مراد، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کے بارے میں مشہور امریکی مصنف ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He was the only man in history who was supremly successful on both the religious and secular levels.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوویسٹ پوائنٹ (lowest point) 610 ء کے بعد آیا، جب کہ مکہ کی ایک غیر مسلم خاتون اُمِّ جمیل نے آپ کے پاس آکر آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا مُذمَّماً أبینا، یعنی تم ایک قابلِ مذمت شخص (condemned person) ہو، ہم تم کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اِس کے تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال بعد 1978 میں آپ کی زندگی کا ہائیسٹ پوائنٹ (highest point)آیا، جب کہ امریکا کے ایک غیر مسلم اسکالر ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے 570 صفحے کی ایک کتاب (The 100) میں اعلان کیا کہ — محمد پوری انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔ ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے زیادہ کامیاب انسان (supremely successful)کا لفظ استعمال کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پوری انسانی تاریخ میںایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہر لحاظ سے آپ تمام انسانوں کے درمیان کامل طورپر ایک منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مستقبل کی تصدیق
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں اترا۔ اُس وقت قرآن کی سورۃ حم السجدہ میں یہ اعلان کیاگیا کہ— عنقریب، ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر کھُل جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (41:53)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے خدا نے جس صداقت کا اعلان کیا ہے، وہ ایک ابدی صداقت ہے۔ بعد کو آنے والی تاریخی تبدیلیاں اُس کو رد نہیں کریں گی، بلکہ وہ اس کی تصدیق کرتی چلی جائیں گی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ اعلان پوری طرح سچا ثابت ہوا۔ ظہورِ اسلام کے بعد کے زمانے میں مختلف قسم کی تبدیلیاں ہوئیں اور پھر علومِ سائنس کا دور آیا، جوگویا کہ تاریخ کا سب سے بڑا فکری انقلاب تھا۔ مگر بعد کو پیش آنے والے اِن انقلابات نے دینِ محمدی کی جُزئی یا کُلّی طورپر تردید نہیں کی، بعد کے زمانے میں پیش آنے والے تمام واقعات دینِ محمدی کی صداقت کا ثبوت بنتے چلے گئے— اِس قسم کا استثنا (exception) لمبی تاریخ میں صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ یہاں ہم اِس تاریخی واقعے کے بعض پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔
توحید کی صداقت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کے طور پر یہ اعلان کیا کہ خدا صرف ایک ہے۔ خدا کے سوا نہ کوئی خدا ہے اور نہ کوئی اس کا شریک۔ اُس وقت ساری دنیا میں انسان کے ذہن پر شرک کا تصور غالب تھا۔ لوگ مخلوقات میں تعدّد دیکھتے تھے، اِس لیے انھوں نے مان لیا کہ خدائی میں بھی تعدّد ہے، یعنی مختلف چیزوں کو مختلف خداؤوں نے بنایا ہے۔ مثلاً پانی کو کسی اور خدا نے بنایا، اور پہاڑ کو کسی اور خدا نے بنایا، اور سورج کو کسی اور خدا نے بنایا،اور چاند کو کسی اور خدا نے بنایا، وغیرہ۔
انسانی علم مظاہرِ فطرت کا مطالعہ کرتا رہا۔ اِس مطالعے میں سیکڑوں سال بیت گئے۔ یہاں تک کہ سر آئزاک نیوٹن (وفات 1727) کے زمانے میں یہ تعدّد گھٹ کر چار تک پہنچ گیا۔ نیوٹن کے زمانے میں سائنس دانوں نے یہ مان لیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں بہت سی نہیں ہیں، بلکہ صرف چار طاقتیں ہیں جو پوری کائنات کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ چار طاقتیں یہ ہیں
1 ۔ قوتِ کشش (gravitational force)
2 ۔ برقی مقناطیسی قوت (electormagnetic force)
3 ۔ طاقت ور نیوکلیر قوت(strong nuclear force)
4 ۔ کم زور نیوکلیر قوت(weak nuclear force)
مگر مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ نیوٹن کے زمانے سے کائنات کا جو سائنسی مطالعہ شروع ہوا تھا، اُس سے دن بدن یہ واضح ہوتا چلا گیا کہ وسیع کائنات میںاگرچہ ان گنت چیزیں ہیں اور سب کی سب متحرک ہیں، لیکن اِن تمام متحرک اور متنوع چیزوں کے درمیان حیرت ناک حد تک ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ تمام چیزیں کامل توافُق کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ یہ ہم آہنگی اور توافق اُس وقت ممکن نہیں ہوسکتی جب کہ کائنات کو متعدد طاقتیں کنٹرول کررہی ہوں۔ چنانچہ سائنس داں مسلسل اِس کوشش میں تھے کہ وہ اِس معاملے میںتعدّد کو توحّد تک پہنچائیں۔ آخر کار برٹش سائنس داں اسٹفن ہاکنگ (Stephen Hawking) نے یہ کام اطمینان بخش طورپر انجام دیا۔
اسٹفن ہاکنگ، نظریاتی فزکس کا سب سے بڑا سائنس داں مانا جاتا ہے۔ اس نے خالص سائنسی متھڈ کو استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی صرف ایک طاقت ہے۔ اِس نظریہ کو سنگل اسٹرنگ تھیوری (single string theory) کہاجاتا ہے۔ اِس طرح اِس معاملے میں سائنسی نقطۂ نظراور توحید کا اسلامی نقطۂ نظر دونوں ایک ہوگئے۔ توحید کا نقطۂ نظر جس کائنات کا تقاضا کررہا تھا، کائنات کی وہی نوعیت سائنسی مطالعے سے ثابت ہوگئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
علمِ قلیل
قرآن کی سورۃ الاسراء میںاعلان کیاگیا تھا کہ انسان کو صرف علمِ قلیل حاصل ہے (17:85)۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ انسان تخلیقی طورپر محدودیت کا حامل ہے۔ اپنی اِس فطری محدودیت کی وجہ سے وہ صرف علمِ قلیل تک پہنچ سکتا ہے، علمِ کثیر کا حصول اس کے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میںانسان کو خدا کے پیغمبر کے اوپر ایمان لانا چاہیے۔ پیغمبر وحیِ الٰہی کے ذریعے اُس بات کو جان لیتا ہے جس کو انسان اپنی محدودیت کی بناپر نہیں جان سکتا۔ اِس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی ہدایت پیغمبر کے ذریعے حاصل کرے۔ اِس معاملے میں انسان کے لیے اِس کے سواکوئی اور انتخاب موجود نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میںیہ بات ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میں کہی گئی تھی۔ اُس وقت انسان اِس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ قرآن کی اِس تنبیہ کے باوجود بڑے بڑے فلسفیانہ دماغ علمِ کُلّی کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ آخر کار کئی ہزار سال کی ناکام کوشش کے بعد جدید سائنس ظہور میںآئی۔ جدید سائنس نے دور بین اورخورد بین جیسے بہت سے طریقے دریافت کیے۔ اب یہ یقین کیا جانے لگاکہ سائنسی مطالعے کے ذریعے انسان اُس مطلوب علم تک پہنچ جائے گا، جہاں تک پچھلے زمانے کا انسان نہیں پہنچ سکا تھا۔
یہ تلاش نیوٹن کے بعد سے عالمِ کبیر (macro world) کی سطح پر چلتی رہی۔ آخر کار آئن اسٹائن (وفات 1955) کا زمانہ آیا، جب کہ انسانی علم عالمِ صغیر (micro world) تک پہنچ گیا۔ اب یہ معلوم ہوا کہ جس مادّے کو پہلے قابلِ مشاہدہ (visible)سمجھا جاتا تھا، وہ بھی اپنے آخری تجزیے میں قابلِ مشاہدہ نہیں۔ یہاں پہنچ کر یہ مان لیا گیا کہ سائنسی طریقہ انسان کو علمِ کُلی تک پہنچانے میں حتمی طورپر ناکام ہے۔
سائنس کی یہ علمی ناکامی پہلے صرف عالمِ صغیر کی حد تک دریافت ہوئی تھی، مگر بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ خود عالمِ کبیر بھی انسان کے لیے حتمی طورپر ناقابلِ مشاہدہ ہے۔ سائنس کے آلات مادی دنیا کے بارے میں انسان کو کلی علم تک پہنچانے سے عاجز ہیں۔ انسان جس طرح عالمِ صغیر کے بارے میں علمِ قلیل رکھتاہے، اُسی طرح وہ عالمِ کبیر کے بارے میں بھی صرف علم قلیل کا حامل ہے، اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ یہ نظریہ بلیک ہول (Black Hole) کی دریافت کے بعد سامنے آیا۔
ایمسٹرڈم(ہالینڈ)میںماہرینِ طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس 2007 میں ہوئی۔ اِس موقع پر فزکس کا نوبل پرائز پانے والے ایک امریکی سائنس داں جیمس واٹسن (James Watson Cronin) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ— ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ ڈارک میٹر پر مشتمل ہے۔ اُس کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتی، اِس لیے ہم اُس کو ڈائرکٹ طورپر نہیں دیکھ سکتے۔ موجودہ آلات کے ذریعے ہم اُن کا حاطہ نہیں کرسکتے
Dark matter cannot be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation — or not enough to be picked up by available tools. (The Times of India, New Delhi, September 23, 2007, p. 20)
other sourceWords of another person or source
جیمس واٹسن نے اپنے مذکورہ بیان میں مزید کہا کہ — ہم سمجھتے تھے کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر معلوم ہواکہ ہم کائنات کے صرف چار فی صد حصے ہی کو براہِ راست طورپر جان سکتے ہیں
other sourceWords of another person or source
We think we understand the universe, but we only understand four percent of everything.
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ علم کے بارے میں مستقبل نے اُسی بات کی تصدیق کی جو بہت پہلے اُس کتاب میں کہہ دی گئی تھی جو پیغمبر اسلام، خدا کی طرف سے لائے تھے۔ دنیا کے بڑے بڑے دماغ اِس یقین کے ساتھ اپنی تلاش میںلگے ہوئے تھے کہ وہ علمِ کُلی تک پہنچ سکتے ہیں، مگر قرآن میں پیشگی طورپر یہ اعلان کیاگیا کہ اپنی محدودیت کی بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خود اپنی کوشش سے علمِ کلی تک پہنچ سکے۔ آخر کار خود انسانی علم نے قرآن کے بیان کی تصدیق کردی۔ مستقبل نے انسانی مفروضے کو رد کردیا اور قرآن کے بیان کی کامل تصدیق کردی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دنیائے فانی کا نظریہ
قرآن میں واضح الفاظ میں موجودہ دنیا کے بارے میں یہ تصور دیاگیا تھا کہ یہ زمینی سیّارہ جس پر انسان آباد ہے، اس کی ایک محدود عمر ہے۔ یہاں انسان اپنے لیے جنت (paradise) کی تعمیر نہیں کرسکتا۔ یہ دنیا عارضی طورپر امتحان کے لیے بنی ہے اور اس کے بعد یہاں سے اُن تمام چیزوں کا خاتمہ کردیا جائے گاجس کی مدد سے انسان یہاں زندہ رہتا ہے اور اپنے لیے اپنی مطلوب دنیا بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ یہاں اِس سلسلے میں دو آیتیں نقل کی جارہی ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1۔ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (14:48)۔ یعنی، جس دن یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ اور سب ایک زبردست اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2۔ اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَيُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا صَعِيْدًا جُرُزًا(18:7-8)۔ یعنی، جو کچھ زمین پر ہے، اس کو ہم نے زمین کی رونق بنایا ہے، تاکہ ہم لوگوں کو جانچیں کہ اُن میں کون اچھا عمل کرنے والا ہے۔ اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان بنادیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کے مطابق، موجودہ سیّارۂ زمین پر جو زندگی بخش حالات ہیں، وہ حتمی طورپر ختم ہونے والے ہیں اور مسلسل ان کا کاؤنٹ ڈاؤن ہو رہا ہے۔ لیکن بڑے بڑے انسانی دماغوں نے اِس کے برعکس نظریہ قائم کیا۔ سُقراط اور افلاطون اور ارسطو سے لے کر موجودہ زمانے کے رہنماؤں تک ہر ایک نے یہ نظریہ قائم کیا کہ وہ انسانیت کے مستقبل کو آئڈیل دَور کی طرف لے جارہے ہیں— آئڈیل اسٹیٹ، آئڈیل سماج اور آئڈیل نظام، وغیرہ۔ اِس معاملے میں لوگوں کا واہمہ (obsession) اتنا بڑھا ہوا تھا کہ بار بار برعکس نتیجہ نکلنے کے باوجود انھوں نے اپنی کوشش جاری رکھی۔
چارلس ڈار ون (وفات 1882) کا عضویاتی ارتقا (organic evolution)کا نظریہ سامنے آیا تو اس کے وسیع تر انطباق کے تحت یہ یقین کرلیا گیا کہ انسان کی تمدنی تاریخ مسلسل بہتر سے زیادہ بہتر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صنعتی سائنس کے ظہور کے بعد اِس نظریے کو مزید تقویت ملی اور یہ یقین کرلیاگیا کہ موجودہ دنیا کو جنّتی دنیا میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
اَلوِن ٹافلر کی کتاب فیوچر شاک(Future Shock) پہلی بار 1970 میں چھپی ۔ اِس کتاب میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ دنیا ترقی کرکے انڈسٹریل ایج (industrial age) میں پہنچی تھی۔ وہ مزید ترقی کرکے سپرانڈسٹریل ایج (super industrial age) کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ امریکا کو اسپیس ٹکنالوجی میں کچھ ترقی ہوئی تو اُس نے اعلان کردیا کہ اب ہم زمینی تہذیب سے آگے بڑھ کرخلائی تہذیب (space civilization) کے دور تک پہنچ رہے ہیں۔ اب ہم زمین سے چاند تک سفر کریں اور وہاں سے مرّیخ (Mars) تک پہنچ جائیں گے
We want to build a space civilization for tomorrow from where humans can travel to the Moon and from there to Mars (The Times of India, September 26, 2007, p. 21).
یہ باتیں ہورہی تھیں کہ ہماری زمین پر وہ اختتامی دور شروع ہوگیا جس کو گلوبل وارمنگ کہاجاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ (UNO) موجودہ دنیا کا سب سے بڑا عالمی ادارہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تحت، ایک انٹرنیشنل پینل بنایا گیا ۔ اِس پینل میںڈھائی ہزار سائنس داں شامل کیے گئے۔ اِن سائنس دانوں کا تعلق دنیا کے ایک سو تیس (130) ملکوں سے تھا۔ یہ پینل موسمیاتی تبدیلی پررسرچ کے لیے تھا۔ اِس پینل نے اپنی رسرچ مکمل کرکے اس کی تفصیلی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے حوالے کردی ہے۔
یہ کسی ایک کانفرنس کی بات نہیں۔ آج کل تقریباً ہر روز میڈیا میںاِس قسم کی خبریں آرہی ہیں۔ تمام دنیا کے سائنس داں مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین پر زندگی کے اسباب کا مسلسل خاتمہ ہورہا ہے۔ کئی انواعِ حیات (species)اب تک ناموافق موسم کی وجہ سے ختم ہوچکی ہیں۔ اِس سلسلے کی ایک رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (3جنوری 2007) میں شائع ہوئی۔ اُس کا عنوان یہ تھا— انتباہی نشانیاں (Warning Signs) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے کا ایک اور حوالہ یہ ہے۔ مشہور سائنس داں جیمس لولاک (James Lovelock) نے جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں کہا ہے کہ 2050 ء تک سطحِ ارض کا بڑا حصہ خشک ہوچکا ہوگا۔ بیش تر زندگیاں ختم ہوجائیں گی۔ ہم ایک ایسے انجام کے کنارے پہنچ چکے ہیں، جب کہ ایک ایک کرکے لوگ مرنے لگیں گے، یہاں تک کہ سارے لوگ ختم ہوجائیں گے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہوگا جس کو اِس سے پہلے انسان نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ جو کچھ ہونے والا ہے، اُس میں اگر بیس فی صد آدمی بھی زندہ بچ جائیں تو وہ بہت خوش قسمت انسان ہوں گے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
We are on the edge of the greatest die-off humanity has ever seen. We will be lucky if 20% of us survive what is coming. (The Times of India, May 18, 2007, p. 22)
گلوبل وارمنگ كا موضوع موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ برننگ ٹاپک (burning topic)بن چکاہے۔ اِس موضوع پر کثرت سے رپورٹیں اور مضامین اور کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ کسی کو مزید تفصیل جاننا ہو تو وہ انٹرنیٹ کے ذریعے بہ آسانی یہ تفصیلات جان سکتا ہے۔
غیر معمولی کامیابی
ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے اپنی کتاب (The 100) میں لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام نے نہ صرف مذہبی سطح پر، بلکہ سیکولر سطح پر بھی استثنائی کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اعلیٰ کامیابی کے معاملے میں پوری انسانی تاریخ میں محمد کا کوئی ہم سر نہیں۔ اِس سلسلے میں اُن کے چند جملے یہ ہیں
other sourceWords of another person or source
The most astonishing series of conquests in human history (p. 35). The largest empire that the world had yet seen (p. 35). The most influential political leader of all time (p. 39). It is this unparalleled combination of secular and religious influence which I feel entitles Muhammad to be considered the most influential single figure in human history (p. 40).
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یعنی محمد کی کامیابی پوری تاریخ میںعجیب ترین سلسلۂ فتوحات کی حیثیت رکھتی ہے۔انھوںنے اور اُن کے ساتھیوں نے تاریخ کا سب سے بڑا ایمپائر قائم کیا۔ وہ پوری تاریخ کے سب سے زیادہ بااثر سیاسی رہنما تھے۔ مذہبی اور سیکولر دونوں اعتبار سے ان کی اِس بے نظیر کامیابی کا تقاضا ہے کہ ان کو پوری تاریخ کا واحد سب سے زیادہ کامیاب انسان قر ار دیا جائے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ حقیقت اتنی زیادہ بدیہی ہے کہ عام طورپر مورخین نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ تاریخ میں بڑے بڑے ایمپائر قائم ہوئے۔ مثلاً یونانی ایمپائر، رومن ایمپائر، ساسانی ایمپائر، برٹش ایمپائر، مگر کوئی بھی ایمپائر اسلامی فتوحات کے برابر نہیں۔ پیغمبر اسلام کا یہ تاریخی استثنا ابھی تک قائم ہے۔ یہ اُن دلائل میںسے ایک دلیل ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ خدا کے پیغمبر تھے۔ اور آپ کو خدا کی خصوصی مدد حاصل تھی۔ خدا کی مدد کے بغیر کوئی بھی شخص اِس قسم کی استثنائی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔
نظریۂ امن
امن کے بارے میں انسان ہمیشہ سوچتا رہا ہے۔ قدیم زمانے میں امن ایک قسم کا انتظامی معاملہ سمجھا جاتا تھا، یعنی امن ایک ایسی چیز تھی جس کو حاکمانہ اختیار کے تحت قائم کیا جاتا ہے۔ اِس نظریے کے تحت ارباب اختیار نے امن قائم کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً پیکس رومانا (Pax Romana)، پیکس برٹانکا (Pax Britanica)، پیکس امریکانا (Pax Americana)، وغیرہ۔ مگر اِس قسم کا سیاسی امن صرف جُزئی طورپر کسی سماج کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔ اِس لیے وہ اہلِ علم کے درمیان مطلوب امن کا درجہ حاصل نہ کر سکا۔
بیسویں صدی کے آغاز سے امن پر مبنی ایک باقاعدہ نظریہ(ideology) وجود میں آیا۔ اِس کو عام طورپر پیسی فزم (pacifism) کہا جاتا ہے۔ پیسی فزم کے نظریے کے تحت موجودہ زمانے میں متعدّد مفکرین پیدا ہوئے۔ مثلاً سموئل کانٹ (Samuel Cant)، مارکس اریلیس (Marcus Aurelius) اور مہاتما گاندھی وغیرہ۔ اِس نظریے کی حمایت میں بہت سے مقالات اور کتابیں شائع ہوئیں۔ انسائکلو پیڈیا برٹانکا میں اِس موضوع پر تقریباً دس صفحے کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اِس موضوع پر شائع ہونے والی کتابوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ یہاں ہم صرف تین کتابوں کا نام درج کرتے ہیں
1. Raymon Raymond Aron, Peace and War, 1966
2. E.L. Alen, Francis E. Pollard, The Case for Pacifism and Conscientious Objection, 1946
other sourceWords of another person or source
3. Aldous Huxley, An encyclopaedia of Pacifism, 1937
لیکن امن کے رہنما اور مفکرین کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام افراد جس امن تک پہنچے، وہ صرف ایک منفی امن (negative peace) تھا۔ جہاں تک مثبت امن (positive peace) کا تعلق ہے، وہاں تک کوئی بھی شخص نہ پہنچ سکا۔ امن کے تمام مفکرین جس امن کی بات کرتے ہیں، وہ جنگ اور تشدد کے مقابلے میں ہوتی ہے۔ چنانچہ امن کی تعریف جنگ اور تشدد کی غیرموجود گی (absence of war and violence) سے کی جاتی ہے۔ اِسی تصور کی بنا پر یہ تمام افراد مفروضہ دشمنانِ امن کے خلاف اقدام کرتے رہے۔ کیوں کہ اُن کے نزدیک اِن دشمن طاقتوں کے خاتمے سے دنیا میں امن قائم ہوتا تھا۔
اِس نظریۂ امن میں امن کو مثبت قدر (positive value)کا مقام حاصل نہ ہو سکا۔ اِس نظریۂ امن میں امن کو صرف ایک طریقۂ کار (method) کا درجہ حاصل ہوا، نہ کہ وسیع تر معنوں میں ایک نظریۂ حیات (ideology) کا درجہ۔
پیسی فزم (pacifism) کے معاملے میں مہاتما گاندھی کا نام نمایاں طورپر شامل ہے۔ لیکن ان کا نظریۂ امن بھی ایک منفی نظریۂ امن کی حیثیت رکھتا ہے۔ نئی دہلی میں ایک خصوصی سیمنار ہوا۔ اِس سیمنار کی مکمل روداد نئی دہلی کے انگریزی اخبار ’دی پائنیر‘ (26 جنوری1997) میں شائع ہوئی۔ اِس سیمنار میں راقم الحروف کے علاوہ حسب ذیل افراد شریک ہوئے— رام چندر گاندھی، رویندر کمار، سبراتا مُکھرجی، کے آر ملکانی۔ اِس سیمنار کا موضوع یہ تھا — کیا گاندھی آج کامیاب ہوتے
Could Gandhi have succeeded today?
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ گاندھی ماضی میں بھی کامیاب نہیں ہوئے، پھر وہ آج کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ گاندھی کا مقصد ایک پُرامن انقلاب لانا تھا، مگر اپنے پیشِ نظر مقصد کے مطابق، وہ کوئی پُرامن انقلاب نہ لاسکے۔ انھوں نے جو کچھ کیا، وہ انقلاب نہ تھا، بلکہ محدود معنوں میں صرف حکمرانوں کی تبدیلی (coup) تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک ناگہانی انقلاب (coup) تھا، نہ کہ کوئی حقیقی انقلاب۔ میری یہ تقریر لفظ بہ لفظ مذکورہ اخبار میں چھپی۔ میری تقریر کے ایک جملے کو لے کر اخبار نے اُس کا عنوان اِن الفاظ میں قائم کیا تھا
Gandhi presided over a non-violent coup, he didn’t usher in a revolution.
یہی معاملہ ہر اُس رہنما اور مفکر کا ہوا جو امن (peace) کے نام پر کام کرنے کے لیے اٹھا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انسانی زندگی میں پر امن واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے ایک پُرامن آئڈیا لوجی (peaceful ideology) درکار ہے۔ چوں کہ کوئی شخص پُرامن آئڈیالوجی کو دریافت نہ کرسکا، اِس لیے وہ پُرامن زندگی کی تشکیل بھی نہ کرسکا۔
رہنماؤں کی اِس ناکامی کا مشترک سبب یہ ہے کہ ہر ایک امن کو سیاسی اقتدار کے ساتھ جوڑے ہوئے تھا، ہر ایک نے وقت کے سیاسی اقتدار کو امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھا، ہر ایک اِس طرح سوچتا رہا کہ اگر امن کو حاصل کرنا ہے تو سب سے پہلے سیاسی اقتدار کی رکاوٹ کو ختم کرنا ہوگا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امن کی ہر تحریک وقت کے سیاسی اقتدار سے ٹکرا گئی۔ فطری طور پر اربابِ اقتدار نے بھی اپنی طاقت کو ان تحریکوں کے خلاف استعمال کیا۔ اِس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ امن کے نام پر آخر میں جو چیز قائم ہوئی، وہ صرف بد امنی اور انارکی (anarchy) تھی۔ اِس کی ایک مثال 1947 کے بعد بننے والے ’’گاندھیائی انڈیا‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
تاریخ کی ان تمام مثالوں کے برعکس، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیا فارمولا دریافت کیا۔ اِس فارمولے کا علم آپ کو خدا کی طرف سے دیاگیا تھا۔ اِسی لیے قرآن میںاُس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں عَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا (48:27) ۔یعنی، خدا نے وہ بات جانی، جس سے انسان بے خبر تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امن کا فارمولا
امن کا یہ فارمولا جو خدا نے اپنے علم کے تحت بتایا، وہ کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ ہرمسئلہ کے ساتھ مواقع موجود رہتے ہیں۔ اِس لیے تم مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو
Ignore the problem, and avail the opportunities.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی رہنمائی سے اِس فارمولے کو سمجھا اور اس کو حدیبیہ ایگری مینٹ (628 ء) کی شکل میں استعمال کیا۔ حدیبیہ ایگری مینٹ گویا کہ امن فارمولے کا ایک کامیاب مظاہرہ (demonstration) تھا۔ (حدیبیہ ایگری مینٹ کی تفصیلات میری تحریروں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مثلاً ’’دعوہ ایکٹوزم‘‘، الرسالہ، فروری 2007)۔
امن کا یہ فارمولا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کبھی کوئی شخص دریافت نہ کرسکا۔آپ نے اگرچہ اپنی زندگی میں اِس فارمولے کو نہایت کامیاب طور پر استعمال کیا تھا، لیکن میرے علم کے مطابق، کوئی بھی شخص اِس کو حقیقی طورپر سمجھ نہ سکا، حتی کہ خود مسلمان بھی اِس فارمولے کو سمجھنے سے مکمل طورپر عاجز رہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان ہر جگہ مسائل (problems) سے لڑ رہے ہیں۔ وہ اِس حقیقت کو جان نہ سکے کہ مسائل کے باوجود اُن کے لیے نہایت اعلیٰ مواقع موجود ہیں۔ اُن کو چاہیے تھا کہ وہ مسائل کو نظر انداز کرتے اور مواقع (opportunities) کو استعمال کرتے، لیکن اپنی بے شعوری کی بنا پر وہ اِس حکمت کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔
پیغمبر اسلام کے اِس امن فارمولے نے تاریخ میںایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اِس نئے دور کو ایک لفظ میں ڈی سنٹرلائزیشن آف پولٹکل پاور (decentralization of political power) کہاجاسکتا ہے۔ اِس بات کو قرآن میں وأخریٰ تحبّونہا (61:13) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس قرآنی آیت کے مطابق، سیاسی اقتدار صرف ایک ثانوی چیز ہے۔ اولین چیزیں وہ ہیں جو سیاسی اقتدار کے باہر پائی جاتی ہیں۔ موجودہ زمانے میں انسٹی ٹیوشن (institution)کا تصور اِسی تاریخی پراسس (historical process)کا اگلا مرحلہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں ایسا ہوا ہے کہ سیاسی اقتدار کے باہر مختلف مقاصد کے لیے انسٹی ٹیوشن بنائے جاتے ہیں۔ مثلاً تعلیم کے لیے، صنعت وتجارت کے لیے، سماجی فلاح کے لیے اور مشنری ورک کے لیے، وغیرہ۔ اِن اداروں کے ذریعے اتنے بڑے بڑے کام لیے جارہے ہیں کہ لوگوں نے حکومتی اقتدار (political power)کے بغیر مختلف عنوانات سے اپنے ایمپائر بنا رکھے ہیں۔ اِس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ماضی کے برعکس، حکومت کا دائرہ سمٹ کر اب صرف انتظامیہ (administration) تک محدود ہوگیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک عظیم تبدیلی ہے، مگر اِس تبدیلی کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے کیا تھا۔
اِس تبدیلی نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر خالص پُرامن طریقِ کار کے ذریعے بہت بڑے بڑے کام کیے جاسکیں۔ باشعور قوموں نے اِس امکان سے فائدہ اٹھا کر عملاً ایسا کررکھا ہے۔ چنانچہ اِن لوگوں نے حکومت سے باہر رہتے ہوئے اور حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر انتہائی اعلیٰ پیمانے پر اپنا میڈیا ایمپائر اور ایجوکیشنل ایمپائر اور انڈسٹریل ایمپائر اور مشنری ایمپائر بنالیا ہے ۔ مگر جہاں تک اِس امکان کی دریافت کا تعلق ہے، وہ پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی رہنمائی کے تحت حاصل ہوئی۔ اِس استثنائی معرفت کی اِس کے سوا کوئی اور توجیہ نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔
ایک غلط فہمی
کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آج کی دنیا میں بہت سے دوسرے لوگ خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے مانے جانتے ہیں۔ مثلاً ہندو لوگ رام اور کرشن کو پیغمبر کا درجہ دیتے ہیں۔ اِسی طرح مسیحی لوگ حضرت مسیح کو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا خصوصی رہنما سمجھتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک غلط فہمی ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔
جہاں تک رام اور کرشن کا تعلق ہے، اِس بحث کے ذیل میں اُن کو زیر غور لانا ممکن نہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ رام اور کرشن ایک افسانوی شخصیت (mythological figure) کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کو تاریخی شخصیت (historical figure) کا درجہ حاصل نہیں۔ انڈیا کے کسی بھی مستند تاریخی ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رام اور کرشن کوئی حقیقی شخصیت تھے۔ رام اور کرشن کا کوئی ریفرنس نہ انڈیا کی تاریخ میں پایا جاتا ہے اور نہ عالمی تاریخ میں۔
مثال کے طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہم خالص تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر یہ جانتے ہیں کہ وہ 570 ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ انھوںنے 610 ء میں مکہ میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیا اور اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 622 ء میں آپ مکہ کوچھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور وہاں انھوںنے اسلام کی پہلی اسٹیٹ (city state)قائم کی۔ 632ء میںآپ کی وفات مدینہ میں ہوئی اور وہیں پر آپ دفن کیے گئے۔ آپ کی قبر اب بھی مدینہ میں موجود ہے۔ اِس قسم کی تاریخی معلومات (historical data)نہ رام کے بارے میں دست یاب ہیں اور نہ کرشن کے بارے میں۔
یہ حقیقت اتنی زیادہ واضح ہے کہ خود ہندو اسکالر اس کو مانتے ہیں۔ ہندو مصنفین نے اِس موضوع پر مقالات اور کتابوں کی صورت میں بہت زیادہ لکھا ہے۔ ایک مثال ملاحظہ ہو
The JNU historians reject the Ramayana as a source of historiography: "The events of the stroy of Rama, originally told in the Rama-Katha which is no longer available to us, were rewritten in the form of a long epic poem, the Ramayana, by Valmiki. Since this is a poem and much of it could have been fictional, including characters and places, historians cannot accept the personalities, the events or the locations as historically authentic unless there is other supporting evidence from sources regarded as more reliable by historians. Very often historical evidence contradicts popular beliefs." (Koenraad Elst: Ram Janmabhoomi Vs Babri Masjid, Voice of India, New Delhi, 1990 p. 14)
opposing viewA view stated in order to be argued against
تحریکوں کی تاریخ
لارڈ ایکٹن (John Emerich Edward Dalberg Acton) مشہور مغربی مفکر ہے۔ وہ 1834ء میں پیدا ہوا اور 1902 ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے سیاست اور حکومت کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اپنے مطالعے کی بنیاد پر اس نے سیاسی اقتدار (political power)کے بارے میں کہا کہ— اقتدار بگاڑتا ہے، اور کامل اقتدار بالکل بگاڑ دیتا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Power corrupts, and absolute power corrupts absolutely.
یہ تبصرہ بالکل درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو جب بھی اقتدار ملتا ہے تو وہ بگڑ جاتا ہے۔ دوسروں کی سیاسی بُرائی بتانے والے، اقتدار پاتے ہی خود بھی اُسی قسم کی برائی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اندر اپنی بڑائی کا احساس نہایت گہرے طورپر موجود ہے۔ اقتدار اِس احساس کو غذا دیتا ہے، وہ اس کو ختم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اقتدار تک پہنچتے ہی تمام لوگ بگڑ جاتے ہیں۔ اِس سلسلے میں تاریخ کی چند مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں
1 ۔ تحریکوں کی تاریخ میں بہت سے مشہور لوگوں کے نام آتے ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ اِن لوگوں کو سیاسی ہنگامہ کرنے والے تو بہت سے لوگ ملے، لیکن اِن میں سے کسی کو بھی قابلِ اعتماد ساتھی نہ مل سکے۔ مشہور فلسفی ارسطو (Aristotle) اِس معاملے کی ایک تاریخی مثال ہے۔ وہ یونان میں 384قبل مسیح میں پیداہوا اور 322 قبل مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شاہِ یونان الیگزنڈر دی گریٹ (Alexander the Great) کا استاد تھا۔ وہ آئڈیل اسٹیٹ اور فلاسفر کنگ میںیقین رکھتا تھا۔
اس نے اِس مقصد کے لیے الیگزنڈر کی تعلیم و تربیت اُس وقت کی، جب کہ وہ ابھی شہزادہ تھا۔ ارسطو کو یقین تھا کہ الیگزنڈر ایک فلاسفر کنگ بنے گا اور اس کے خوابوں کی آئڈیل اسٹیٹ قائم کرے گا۔ لیکن بڑا ہونے کے بعد جب الیگزنڈر 336 قبل مسیح میں باقاعدہ بادشاہ بنا تو اس نے ارسطو کے راستے کو چھوڑ دیا اور عالمی فتوحات کے لیے نکل پڑا۔ اس کا سیاسی خواب ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ وہ صرف 33 سال کی عمر میں بیمار ہو کر بابل (عراق) میں مرگیا۔
2 ۔ یہی معاملہ کارل مارکس(Karl Marx) کا ہے۔ وہ 1818 ء میں جرمنی میں پیدا ہوا اور 1883 ء میں لندن میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کے افکار کی بنیاد پر بہت بڑی کمیونسٹ تحریک اٹھی۔ 1917 ء میں کمیونسٹ پارٹی روس میںحکومت کرنے میں کامیاب ہوگئی، لیکن مارکس کے تمام ساتھی اصل مارکسی راستے سے ہٹ گئے۔ ایک کمیونسٹ مسٹر میلوون جیلاس (Milovan Djilas) کے الفاظ میں، طبقاتی فرق کو ختم کرنے کے نام پر کمیونسٹ گروہ خود ایک نیا طبقہ (new class) بن گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ٹراٹسکی (Leon Trotesky) روس میں 1879 ء میں پیدا ہوا اور 1940ء میں میکسکوسٹی میں اس کو قتل کردیا گیا۔ ٹراٹسکی کمیونسٹ پارٹی میں لینن کے بعد نمبر دو کا لیڈر تھا، مگر 1917 ء کے بعد اُس نے دیکھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے لوگ سیاسی بگاڑ کا شکار ہوگئے۔ اس نے انقلاب سے غدّاری (Revolution Betrayed) کے نام سے ایک کتاب لکھی جو 1937ء میں چھپی۔ اِس کے بعد خود روس کے کمیونسٹ لیڈروںنے اس کو ہلاک کردیا۔
3 ۔ یہی منظر خود انڈیا میںنظر آتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے زبردست سیاسی تحریک چلائی۔ ان کے ساتھ ایک بھیڑ اکھٹا ہوگئی، لیکن 1947 ء میںآزادی کے بعد ان کی پارٹی کے تمام لوگ مہاتما گاندھی کے راستے سے ہٹ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر خود مہاتما گاندھی نے 1947 ء کے بعد اپنی پارٹی کے لوگوں کے بارے میں کہا تھا— اب میری کون سنے گا۔ مہاتما گاندھی کے اِس جملے کو لے کر ایک کتاب ہندی میں لکھی گئی۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہی ہے کہ — ’’اب میری کون سنے گا‘‘۔ 15 اگست 1947 کو انڈیا میں سیاسی آزادی آئی۔ اس کے بعد 30 جنوری 1948 ء کو دہلی میں مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہیرؤوں کی جماعت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو استثنائی واقعات جمع ہوئے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کی ایک ایسی ٹیم بنانے میں کامیاب ہوئے، جیسی ٹیم پوری تاریخ میںکوئی نہ بنا سکا۔ اِس واقعے کا اعتراف مورخین نے واضح الفاظ میں کیا ہے۔ مثلاً مشہور برطانی مستشرق ڈیوڈ سموئل مارگو لیتھ (David Samuel Margoliouth) 1885 میں لندن میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں عربک ڈپارٹمنٹ کا پروفیسر تھا۔ اُس نے عرب تاریخ اور اسلامی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ انسائکلو پیڈیا برٹانکا نے اُس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں— اُس کے بارے میںیہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کو اسلامی موضوعات پر بہت سے عرب علما سے بھی زیادہ واقفیت حاصل تھی
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He came to be regarded as more knowledgeable on Islamic matters than most Arab scholars.
اسلام اور عرب تاریخ کے موضوع پر اس کی کئی کتابیں ہیں۔ اس کی ایک کتاب وہ ہے جو 1905 میں چھپی۔ یہ کتاب اسلام کے ظہور کے موضوع پر ہے اور اس کا نام یہ ہے
Muhammad and the Rise of Islam
اِس کتاب میںپروفیسر مارگولیتھ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اصحابِ رسول کا گروہ ایک ایسا گروہ تھا، جیسا گروہ تاریخ میں کسی اور شخص کے گرد اکھٹا نہیں ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح فلِپ ہِٹّی (Philip K. Hitti) مشہور اسکالر ہیں۔ وہ 1886 میں لبنان میں پیدا ہوئے اور امریکا میں 1978 میںان کی وفات ہوئی۔ وہ عربی زبان اور اسلامی علوم کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ وہ امریکا کی کئی یونیورسٹیوں میں عربی زبان اور مشرقی علوم کے پروفیسر رہے ہیں۔ ان کی ایک مشہور کتاب عرب تاریخ پر ہے۔ اُس کا نام یہ ہے
History of the Arabs
ان کی یہ کتاب پہلی بار 1937 میں چھپی۔ اِس کتاب میںانھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (companions)کے تذکرے کے تحت لکھا ہے کہ— پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد ایسا معلوم ہوا جیسے عرب کی بنجر زمین جادو کے ذریعے ’’ہیروؤں کی نرسری‘‘ میںتبدیل کردی گئی ہو، ایسے ہیرو جن کے مِثل، تعداد یا نوعیت میں، کہیں اور پانا سخت مشکل ہے
After the death of the prophet sterile Arabia seems to have been converted as if by magic into a nursery of heroes the like of whom, both in numbur and quality, is hard to find anywhere. (p. 142)
other sourceWords of another person or source
مستقبل کی دنیا
موجودہ زمانے میں دو مختلف آئڈیالوجی اُبھری— سیکولر آئڈیالوجی اور مذہبی آئڈیا لوجی۔ سیکولر آئڈیا لوجی سے مراد وہ آئڈیا لوجی ہے جو خالص انسانی عقل (reason) کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ اِس کے مقابلے میں، مذہبی آئڈیالوجی وہ ہے جو پیغمبر کی رہنمائی کے تحت بنی۔ موجودہ زمانے کا یہ ایک عجیب ظاہرہ ہے کہ سیکولر آئڈیالوجی اب اپنی ناکامی کے آخری دور میں پہنچ چکی ہے۔ اِس کے برعکس، تمام قرائن (clues) بتارہے ہیں کہ مذہبی آئڈیالوجی نئی صبح کی مانند انسان کے اوپر طلوع ہونے والی ہے، بلکہ وہ طلوع ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
جدید مادّی ترقیوں کے بعد سیکولر مفکرین نے یہ یقین کرلیا کہ بہت جلد ہمارے سیّارۂ زمین (planet earth) پر وہ بہتر دنیا بننے والی ہے، جس کا خواب ہزاروں سال سے انسان دیکھتا رہا ہے۔ اِس آئڈیالوجی کی ایک نمائندہ کتاب فیوچر شاک (Future Shock) ہے، جس کو اُس کے مصنف الون ٹافلر (Alvin Toffler) نے پہلی بار 1970 میں شائع کیا۔یہ کتاب شائع ہوتے ہی بیسٹ سیلر بن گئی۔ اِس کتاب میں مصنف نے تیقن کے ساتھ یہ پیشین گوئی کی تھی کہ دنیا تیزی کے ساتھ انڈسٹریل ایج سے ترقی کرکے سُپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ سویلائزیشن کا اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کی تمام مادّی خواہشیں اپنا مکمل فلفل مینٹ (fulfilment)پالیں۔
مگر اکیسویں صدی کاآغاز اِس قسم کے تمام اندازوں کے خاتمے کے ہم معنی بن گیا۔ اب شدت کے ساتھ وہ ظاہرہ پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ کہاجاتا ہے۔ انڈسٹریل سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی کثافت نے سیارۂ زمین پر ایسے حالات پیدا کیے ، جب کہ یہ دنیا سرے سے انسان کے لیے قابلِ رہائش (habitable) ہی نہیں رہے گی۔آج کل میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آرہی ہیں کہ تمام دنیا کے سائنس دانوں نے گہری رسرچ کے بعد یہ پایا ہے کہ ہماری زمین میں موسمیاتی تبدیلی (climatic change) اِس خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب وہ غیر منقلب (irreversible) ہوچکی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ سائنس کی زبان میں قیامت کی پیشین گئی ہے، یعنی زمین پر موجودہ حالات کا خاتمہ اور ایک نئی تاریخ کا آغاز۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (18 نومبر 2007) نے گلوبل وارمنگ کے موضوع پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اِس رپورٹ کے عنوان کے لیے اُس نے بامعنی طور پر اِن الفاظ کا انتخاب کیا تھا— قیامت اب زیادہ دور نہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Doomsday not Far
یہ صورتِ حال ایک طرف سیکولر آئڈیالوجی کی تنسیخ کررہی ہے، اور دوسری طرف وہ ہم کو یہ قرینہ (clue) دے رہی ہے کہ اِس معاملے میں مذہبی آئڈیالوجی زیادہ درست اور مبنی بَرحقیقت ہے۔ مذہبی آئڈیالوجی جو پیغمبروں کے ذریعے معلوم ہوئی، وہ یہ ہے کہ موجودہ سیارۂ زمین اِس لیے بنایا ہی نہیں گیا کہ یہاںانسان اپنے لیے مادی جنت کی تعمیر کرسکے۔ یہاں کے ناقص اسباب قطعیّت کے ساتھ کسی مفروضہ مادی جنت کی تعمیر میں مانع ہیں۔
اِس معاملے میں درست اورمطابقِ واقعہ بات یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے تمام اسباب، امتحانی پرچے (test papers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملی ہیں، وہ بطور انعام نہیں ہیں۔ اگریہ چیزیں بطور انعام ہوتیں، تو وہ اپنی ذات میںکامل ہوتیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، یہاں کی ہر چیز ناقص ہے اور اِن چیزوں کا ناقص ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہی نظریہ درست ہے کہ یہ چیزیں امتحانی پرچے کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ انسان کو انعام کے طورپر نہیں دی گئیں۔
یہ قرینہ (clue) یہ ثابت کرتا ہے کہ اِس معاملے میں پیغمبرانہ نظریہ ہی صحیح نظریہ ہے، یعنی یہ کہ موجودہ دنیا غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے۔ اِس کے بعد ایک اور دنیا بنے گی جو اِس دنیا کا معیاری ورژن (perfect version) ہوگا۔ موت کے بعد بننے والی اِس معیاری دنیا میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جو موجودہ امتحانی دنیا میں اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرچکے ہوں۔
اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام سیکولر فلسفی اور مفکر اور رہنما ہزاروں سال سے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ موجودہ دنیا میں منصفانہ سماج (just society) بنائیں، مگر ساری کوشش کے باوجود اُنھیں کامیابی نہ ہوسکی۔ اِس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ کہ ساری دنیا میںانارکی اور کرپشن اور استحصال اور بددیانتی پھیل گئی۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں اِس معاملے میںمزید اضافہ ہوا۔ حتی کہ اب تمام قرائن کے مطابق، یہ ناممکن ہوچکا ہے کہ منصفانہ سوسائٹی کی تعمیر کے مقصد کو حاصل کیا جاسکے۔ جدید ترقیوں نے لوگوں کے بگاڑ میں صرف اضافہ کیا، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ انسان کا ضمیر ایک منصفانہ سماج چاہتا ہے۔یہ ضمیر جس طرح پہلے، لوگوں کے اندر موجود تھا، اُسی طرح وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ اب موجودہ حالات میں منصفانہ سماج کا قیام عملاً ناممکن ہوچکا ہے۔ مثلاً موجودہ عدالتی نظام اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ اُس سے اب انصاف کی امید ہی نہیں کی جاسکتی۔ قوانین کی بھر مار کے باوجود صرف عدالت کی بے انصافیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ معاملہ دوبارہ ایک قرینہ (clue)ہے جو پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتا ہے، یعنی یہ کہ مجرموں کو سزا دینا اور سچے انسانوں کو اُن کے عمل کا انعام دینا، موجودہ محدود دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ انسانی ضمیر کے اِس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ایک اور دنیا درکار ہے، ایک ایسی دنیا جہاں خود خدا ظاہر ہو کر سب کا حساب لے اورانصاف کو قائم کرے۔یہ صورتِ حال اِس پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتی ہے کہ موت کے بعد ایک یومُ الحساب (day of judgment) آنے والا ہے۔ اُس وقت خدائی طاقت کے ذریعے منصفانہ سماج کا وہ قیام ممکن ہوجائے گا، جو انسانی طاقت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ممکن نہیں ہوا تھا۔
پیغمبرانہ آئڈیالوجی کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دَور ہیں— قبل از موت دورِ حیات، اور بعد از موت دورِ حیات۔ اب یہ آخری طورپر ثابت ہوچکا ہے کہ قبل از موت دورِ حیات اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اُس کامل دنیا کی تعمیر کے لیے ناکافی ہے جو انسان کا ضمیر چاہتا ہے۔ یہ مطلوب دنیا بلا شبہ بنے گی، لیکن وہ موت کے بعد کے وسیع تر دورِ حیات ہی میں بن سکتی ہے— یہ مطلوب دنیا ایک زیر تعمیر دنیا ہے۔ اب وہ دن زیادہ دور نہیں، جب کہ یہ بننے والی مطلوب دنیا مکمل ہو کر ہمارے سامنے آجائے۔
پیغمبرِ انقلاب
قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذِکر ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طورپر توحید کا پیغام لے کر آئے ، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کو اپنے اصحاب کی صورت میں ایک مضبوط ٹیم مل گئی۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر عملی انقلاب کے درجے تک پہنچا دیا جائے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں یہ انقلاب عملی طورپر پیش آیا اور پھر وہ تاریخِ بشری کا ایک معلوم اور مسلّم حصہ بن گیا۔
پیغمبرآخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ صرف آپ کے پیروؤں کے ایک ’’روایتی عقیدہ‘‘ کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ ایک مسلَّمہ تاریخی واقعہ ہے۔ پیغمبر آخرالزماں سے پہلے جو انبیاء آئے، اُن کی زندگی مدوّن تاریخ کا جُز نہ بن سکی، مگر پیغمبر اسلام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ آپ کی حیثیت ایک مسلّم تاریخی پیغمبر کی ہے، آپ کی نبوت پورے معنوں میں ایک ثابت شدہ نبوت ہے۔انسانی زندگی کے جس پہلو کو بھی دیکھا جائے، اُس میں پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ابدی تعلیم کے اثرات نمایاں طورپر دکھائی دیں گے۔ وہ تمام بہترین روایات اور وہ تمام اعلیٰ قدریں جن کو آج اہمیت دی جاتی ہے، وہ سب پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے عظیم انقلاب کے براہِ راست نتائج ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ تاریخ کے سب سے بڑے انسان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انسانِ کامل بنا کر انسانی نسل پر اپنا سب سے بڑا احسان فرمایا ہے۔ خدا نے پیغمبرآخرالزماں کی شکل میں تاریخ میں ایک ایسا بلند ترین مینارکھڑا کردیا ہے کہ آدمی جس طرف بھی نظر اُٹھائے، وہ آپ کو دیکھ لے۔ جب وہ اپنے رہنما کی تلاش میں نکلے تو اُس کی نظر سب سے پہلے آپ پر پڑے۔ جب وہ حق کا راستہ جاننا چاہے تو آپ کا روشن اور بلند و بالا وجود اُس کو سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کرلے۔ آپ ساری انسانیت کے لیے ہادیِ اعظم اور رہبرِ کامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِسی لیے خدا نے آپ کو نبیوں کے خاتم (33:40) کی حیثیت سے مبعوث فرمایا۔ دوسرے انبیاء صرف اللہ کے رسول تھے، اور آپ اللہ کے رسول ہونے کے ساتھ خاتم النبیین بھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
راقم الحروف کی کتاب ’پیغمبر انقلاب‘ پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس وقت میں نے اِس کتاب میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مذکورہ الفاظ لکھے تھے، جونہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیرمسلموں کے لیے بھی نشانِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو محمودیت کے مقام پر کھڑا کیا ہے (17:79)۔ چنانچہ نہ صرف اہلِ اسلام بلکہ عام مصنفین اور مورخین نے پیغمبر اسلام کی عظمت کو کھلے طورپر تسلیم کیا ہے۔بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم قوموں اور مسیحی قوموں کے درمیان لڑائیاں پیش آئیں، جن کو صلیبی جنگ (crusades) کہاجاتا ہے۔ اِن جنگوں میں مسیحی قوموں کو شکست ہوئی۔ اُس کے بعد مسیحی مصنفین نے اسلام کے خلاف ایک قلمی جنگ چھیڑ دی۔ کثرت سے ایسی کتابیں لکھی گئیں جن میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ لمبی مدت تک جاری رہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے کو توڑنے والا پہلا قابلِ ذکر شخص اسکاٹ لینڈ کا ایک مصنف ٹامس کارلائل (وفات 1881) ہے۔ اُس نے جرأت مندانہ طورپر اِس رجحان کو بدلا۔ اُس کی مشہور کتاب ہیروورشپ (On Heroes, Hero Worship) پہلی بار1841 میں چھپی۔ اِس انگریزی کتاب میں اُس نے پیغمبر اسلام کی مثبت تصویر پیش کی۔ اُس نے پیغمبر اسلام کو دوسرے تمام پیغمبروں کے مقابلے میں ’’ہیرو‘‘ کا درجہ دیا۔
اِس کے بعد کثرت سے مختلف زبانوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کتابیں شائع ہوئیں۔ اِن کتابوں میں تاریخ میں آپ کے انقلابی رول کا کھلے طورپر اعتراف کیا گیا۔ مثلاً انڈیا کے ایک اسکالر ایم این رائے(وفات1954) کی کتاب 1939(Historical Role of Islam)میں پہلی بار دہلی سے چھپی۔ اِس میں انھوں نے لکھا کہ پیغمبر اسلام، تمام پیغمبروں میں سب سے بڑے پیغمبر تھے۔ انھوں نے سب سے بڑا تاریخی معجزہ دکھایا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Every prophet establishes his pretentions by the performance of miracles. On that token, Muhammad must be recognised as by far the greatest of all prophets, before or after him. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)
پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن میں یہ پیشین گوئی آئی ہے کہ آپ کو مقامِ محمود کا درجہ عطا کیا جائے گا(17:79)۔ مقامِ محمودیت کا ایک پہلو وہ ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔ دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق، موجودہ دنیا سے ہے۔ موجودہ دنیا کی نسبت سے مقامِ محمود یہ ہے کہ آپ کو تاریخی اعتبار سے ایک مسلّم نبوت (established prophethood) کا درجہ حاصل ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آپ سے پہلے جو انبیاء آئے، وہ مدوّن تاریخ میں ریکارڈ نہ ہوسکے۔آپ کے سوا ہر ایک کی حیثیت، اعتقادی نبوت کی ہے نہ کہ تاریخی نبوت کی۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ آپ کو خدا نے آخری پیغمبر بنایا تھا۔ آپ کے بعد کوئی دوسرا پیغمبر آنے والا نہ تھا۔ اِس لیے ضروری تھا کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب اور آپ کی پیغمبرانہ زندگی کامل طورپر محفوظ ہوجائے، وہ تسلیم شدہ تاریخی ریکارڈ کی حیثیت حاصل کرلے۔ کیوں کہ قانونِ الٰہی کے مطابق، جب پیغمبر مستند تاریخی ریکارڈ کادرجہ حاصل کرلے تو اس کے بعد اُس کی لائی ہوئی کتاب اور اُس کی تعلیمات کا یہی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتا ہے، اِس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
خاتم النبیین
قرآن کی سورۃ الاحزاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اعلان کیاگیا ہے کہ مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا (33:40)۔ یعنی، محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں— رسول اللہ، اور خاتم النبیین۔ رسول اللہ ہونے کے اعتبار سے آپ دوسرے تمام رسولوں کی مانند تھے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُسُلِهِ(2:285)۔ یعنی، رسول ہونے کے اعتبار سے، ایک رسول اور دوسرے رسول کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ لیکن مذکورہ آیت کے مطابق، اِس کے سوا آپ کی ایک اور حیثیت ہے، اور وہ یہ کہ آپ رسول ہونے کے علاوہ خاتم النبیین ہیں، یعنی سلسلۂ نبوت کے آخری پیغمبر۔ آپ کا خاتم النبیین ہونا دراصل آپ کی ایک مزید (additional) صفت کو بتاتا ہے، یعنی آپ کی آمد کے بعد نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قرآنی آیت میں ’خاتم‘ کا لفظ آیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے ’خاتَم‘ اور ’خاتِم‘ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کا مطلب ایک ہے، یعنی آپ سلسلہ نبوت کے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد اب کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اِس فیصلے کو غیر مشتبہ بنانے کے لیے، اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام یہ کیا کہ آپ کی کوئی اولادِ نرینہ (male offspring) نہیں۔ ورنہ یہ امکان تھا کہ لوگ آپ کے بیٹے کو پیغمبر کا درجہ دے دیں۔
نبیوں کا خاتم ہونا صرف فہرست کی تکمیل کا معاملہ نہ تھا، بلکہ وہ اُس ضرورت کے ختم ہوجانے کا معاملہ تھا جس کی بناپر پچھلی تاریخ میں بار بار پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ نئے پیغمبر کو بھیجنے کی ضرورت اُس وقت ہوتی ہے جب کہ خدا کا دین محفوظ حالت میں باقی نہ رہے ۔ جیسا کہ قرآن میںارشاد ہوا ہے لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِـيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ (2:213)۔یعنی، تاکہ وہ فیصلہ کردے ان باتوں کا جن میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین مکمل طورپر محفوظ ہوگیا، اِس لیے بطور حقیقت اِس کی ضرورت باقی نہ رہی کہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی آئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئی چیزیں ایسی ملتی ہیں جو دوسرے پیغمبروںکے یہاں موجود نہیں۔ مثلاً سیاسی غلبہ۔ اِس قسم کی چیزیں تکمیلِ نبوت کے لیے نہیں ہیں، بلکہ وہ ختمِ نبوت کے لازمی تقاضے کے طورپر ہیں۔ اگر یہ مزید چیزیں آپ کی زندگی میں شامل نہ ہوتیں تو ایسا نہ ہوتا کہ نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم ہوجائے۔ حالانکہ منصوبۂ الٰہی کے مطابق، ایسا ہونا ضروری تھا۔
اصل یہ ہے کہ پیغمبر کے آنے کا مقصد صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ شخصی طورپر اپنے زمانے کے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچا دے، بلکہ اِسی کے ساتھ پیغمبر کے آنے کا یہ مقصد بھی ہوتا ہے کہ وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کرے، وہ ہدایتِ ربّانی کے معاملے کو خود تاریخی عمل (historical process) میںشامل کردے۔ پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد یہ سب کچھ بہ تمام وکمال پیش آگیا، اِس لیے اب نبیوں کی آمد کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے یہ تمام اضافی پہلو قرآن میں بتا دیے گئے ہیں۔
مثلاً قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وَقَاتِلُوْہُمْ حَتَّی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃ (8:39)۔ یعنی، تم اُن سے قتال (جنگ) کرو، یہاںتک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ قدیم بادشاہی زمانے میں لمبی مدت سے دنیا میں مذہبی جبر کا نظام قائم تھا۔ اِس قسم کا نظام نہ اچانک قائم ہوتااور نہ وہ اچانک ختم ہوتا۔ اِس قرآنی حکم کا مدّعا یہ تھا کہ تاریخِ بشری میں ایک ایسا عمل (process) جاری ہوجائے، جس کے نتیجے میںایساہو کہ مذہبی جبر مکمل طورپر ختم ہوجائے اور اس کے بجائے مذہبی آزادی کی حالت مکمل طورپر قائم ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذہبی آزادی (religious freedom)کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ وہ براہِ راست خدا کے تخلیقی پلان(creation plan) سے جُڑا ہوا معاملہ ہے۔ خدا نے انسان کو امتحان (test) کے مقصد کے تحت اِس دنیا میں رکھا ہے۔ اِس مقصد کے تحت، دنیا میں آزادی کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ اِسی حکمت کی بنا پر پیغمبر اسلام کو استیصالِ فتنہ کا حکم دیاگیا اوراس کے مطابق، آپ کے لیے اسباب فراہم کیے گئے۔ چنانچہ آپ نے اِس کام کو انجام دیا، یہاں تک کہ انسانی تاریخ میںمذہبی آزادی (religious freedom)کا دور کامل طورپر آگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت اور حجت
خدا کی ہدایت کے دو پہلو ہیں— دعوت اور حجت۔ دعوت سے مراد یہ ہے کہ ہدایت الٰہی کو کسی کمی یا بیشی کے بغیر بتانا۔ خدا کا صحیح تعارف، خدا کے تخلیقی نقشے کا اعلان، جنت اور جہنم کے معاملے سے انسان کو با خبر کرنا، وغیرہ۔ انھیں حقیقتوں کی وضاحت کا نام دعوت ہے۔
دعوت کا یہ عمل تمام پیغمبروں نے اپنے اپنے زمانے میںکیا۔ نُکاتِ دعوت کے اعتبار سے، ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔ البتہ ایسا ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کا دعوتی کلام اپنی صحیح صورت میں محفوظ نہ رہ سکا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا دعوتی ذخیرہ (قرآن اور حدیث) مکمل طورپر اپنی اصل زبان میں محفوظ ہوگیا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیاکہ بعد کی نسلیں بھی آپ کے دعوتی پیغام سے اُسی طرح باخبر ہوسکیں،جس طرح آپ کے ہم زمانہ لوگ باخبر ہوئے تھے۔
جہاں تک حجت کا سوال ہے، اُس کے دو درجے ہیں ۔ روایتی استدلال اور علمی استدلال۔ استدلال ہمیشہ معلوم اشیا کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں انسانی معلومات کا دائرہ روایتی اشیا تک محدود تھا، اِس لیے قدیم زمانے میں ہمیشہ روایتی استدلال پر اکتفا کیاگیا۔ مثلاً حضرت یوسف خدا کے ایک پیغمبر تھے۔ اُن کا زمانہ 1910 تا1800 قبل مسیح تبایاگیا ہے۔ انھوںنے قدیم مصر میں توحید کی دعوت دی۔ اُس وقت انھوںنے فرمایا اے میرے جیل کے ساتھیو، کیا جُدا جُدا کئی معبود بہتر ہیں، یا اللہ اکیلا زبردست (12:39)۔یہ روایتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ مگر یہاں ایک اور استدلال موجود تھا، اور وہ تھا علمی استدلال (scientific reasoning)۔ یہ استدلال وہ تھا جو خدا کی پیدا کردہ نیچر (فطرت) میں موجود تھا، مگر یہ استدلال قدیم زمانے میں صرف امکان کے درجے میںتھا، وہ ابھی تک واقعہ نہیں بنا تھا۔ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ذریعے جو انقلاب پیش آیا، اس نے تاریخ میںایک نیا پراسس جاری کیا۔ اِس کے نتیجے میں ایساہوا کہ یہ امکانی استدلال واقعہ بن کر سامنے آگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فطرت کی تسخیر
نیچر کا لفظ جب بولا جاتا ہے تو اُس سے مراد پوری دنیا ئے مخلوقات ہوتی ہے
Nature: The Sum total of all things in time and sapce; the entire physical universe.
یہ نیچر ہمیشہ سے موجود تھا، لیکن قدیم زمانے میں انسان شرک میںمبتلا ہوگیا۔ شرک دراصل مظاہرِ فطرت کی پرستش (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ چوںکہ انسان نیچر کو معبود کی نظر سے دیکھتا تھا، اِس لیے وہ اس کو تحقیق وتفتیش (exploration) کی نظر سے نہ دیکھ سکا۔ اِس طرح، شرک ایک مستقل ذہنی رکاوٹ (mental block) بن گیا۔ علمی دلائل جن کو قرآن میںآیات (نشانیاں) کہاگیا ہے، وہ عالم فطرت میں موجود تھیں، مگر وہ ظاہر ہو کر سامنے نہ آسکیں۔
قرآن میںپیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو ایک حکم اِن الفاظ میں دیاگیا تھا وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلهِ (8:39)۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ مفسرین کے مطابق، اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد شرکِ جارح ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو حکم دیاگیا کہ شرک کو ختم کرو، خواہ اربابِ شرک کی جارحیت کی بنا پر اُن کے مقابلے میںجنگ کرنا پڑے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کی کوششوں کے نتیجے میں شرک کا سیاسی اور اجتماعی غلبہ دنیا سے ختم ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کے بعد دنیا میںیک نیا عمل شروع ہوا۔ ایک لفظ میں اس کو فطرت کی پرستش کے بجائے، فطرت کی تسخیر کا عمل کہاجاسکتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ فطرت (نیچر) میں چھپے ہوئے دلائل سامنے آگئے۔ یہ تاریخی عمل اسلام کے ابتدائی زمانے میں شروع ہوا اور یورپ کی نشا ءِۃ ِ ثانیہ کے بعد وہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ خدائی حقیقتوں کو روایتی دلائل کے بجائے سائنسی دلائل کے ذریعے ثابت شدہ بنایا جاسکے۔ چند مثالوں سے اِس کی وضاحت ہوتی ہے
1 ۔ خدا کے وجود پر قرآن میںایک دلیل یہ دی گئی تھی کہ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض (14:10)۔ یعنی، کیا خدا کے بارے میں شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کو پھاڑنے والا ہے۔ قرآن کی اِس آیت میںلفظ فاطر (پھاڑنے والا) خدا کے وجود کا ایک ثبوت ہے۔ کیوں کہ پھاڑنا ایک بالقصد مداخلت (intervention) کا عمل ہے۔ اور بالقصد مداخلت کاعمل ایک مداخلت کار (intervener) کا ثبوت ہے۔ اور جب مداخلت کار کا وجود ثابت ہوجائے تو اپنے آپ خدا کا وجود (existence of God) ثابت ہوجاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میںخدا کے وجود (existence of God)کا ایک علمی ثبوت موجود ہے، لیکن اِس علمی ثبوت کی وضاحت صرف دورِ سائنس کے بعد ہوئی۔بیسویں صدی کے رُبع اوّل میں سائنس دانوں نے اُس کائناتی واقعے کو دریافت کیا، جس کو بگ بینگ (Big Bang) کہاجاتاہے۔ بگ بینگ کی دریافت کے بعد یہ ممکن ہوگیاکہ مذکورہ قرآنی آیت میں چھپے ہوئے سائنسی دلائل کو سمجھا جائے اور اس کو استعمال کیاجائے۔
2 ۔ قرآن کی سورۃ الجاثیہ میں خدا کی ایک نعمت کا ذکر اِن الفاظ میں کیاگیا ہے اَللّٰهُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْهِ بِاَمْرِهٖ (45:12)۔ یعنی، اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے سمندر کو مسخر کردیا، تاکہ اُس کے حکم سے سمندر میں کشتیاں چلیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں ایک عظیم حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ قدیم روایتی زمانے کا انسان اس معاملے کو صرف ایک پُراسرار عقیدے کے طورپر لیتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں اس کی توجیہ، ایک معلوم فطری قانون کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک جدید سائنس ظہور میں آئی ہے، جس کو علمِ سکونِ سیّالات (science of hydrostatics) کہاجاتا ہے۔ اِس کے مطابق، پانی یا سیّال چیزیں ایک خاص قانون کے تابع ہیں۔ اور وہ تخفیفِ وزن (buoyancy) یا ٹھوس اَجسام کو پانی میں ڈالنے سے اس کو بہ حال رکھنے یا ابھارنے کی صلاحیت ہے
(Buoyancy) The upward pressure by any fluid on a body, partly or wholly, immersed therein, it is equal to the weight of the fluid displaced.
اِس جدید سائنس کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ قرآن کی مذکورہ آیت کو خالص علمِ انسانی کی بنیاد پر سمجھا جاسکے۔ اور خدا کے اِس عظیم احسان پر یقین کیا جائے کہ اُس نے سمندر کو ایک محکم قانون کا پابند بنادیا۔ اِس بنا پر یہ ممکن ہوگیا کہ وسیع سمندروں کی سطح پر انسان کشتی اور جہاز کے ذریعے سفر کرسکے اور وہ دور دراز منزل تک بہ آسانی پہنچ جائے۔
3 ۔ خدا کی ایک نعمت کا ذکر قرآن کی سورۃ ق میںاِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا(50:9)۔ یعنی، ہم نے آسمان سے مبارک پانی اتارا۔ قرآن کی اِس آیت میں خدا کی ایک عظیم نعمت کا ذکر ہے۔ قدیم زمانے میں یہ بات صرف ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتی تھی، مگر سائنسی دریافتوں کے بعد وہ ایک عظیم علمی دلیل کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں بارش کا حوالہ دیاگیا ہے۔ بارش کیا ہے۔ بارش دراصل سمندر کا پانی ہے، جو بھاپ بن کر اوپر جاتا ہے اور پھر مخصوص قانون کے تحت دوبارہ وہ نیچے کی طرف لوٹتا ہے، جس کو بارش کہتے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کا پانی کھاری ہوتاہے۔ ایسا اِس لیے ہے کیوںکہ سمندر کے پانی میں 1/10 حصہ نمک شامل رہتا ہے۔ یہ نمک سمندر کے پانی میں تحفظی مادّہ (preservative) کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ چوں کہ پانی کے مقابلے میں نمک کا وزن کسی قدر زیادہ ہوتا ہے، اِس لیے جب سمندر کا پانی سورج کی گرمی سے بھاپ بن کر اوپر کی طرف اٹھتا ہے تو اس کا نمک کا حصہ نیچے رہ جاتا ہے۔ یہ اِزالۂ نمک (desalination) کا ایک عمل ہے، جو خدا کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ اِسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ سمندر کا کھاری پانی ہم کوشیریں پانی کی صورت میں دست یاب ہوتا ہے۔ اِس عمل کے بغیر سمندر کا پانی ہمارے لیے قابلِ استعمال ہی نہ ہوتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کولریج (Coleridge) ایک برٹش شاعرہے۔ اس کی وفات 1834میں ہوئی۔ اس نے ایک نظم لکھی ہے۔ اِس نظم میںاس نے بتایا ہے کہ لکڑی کا بنا ہوا ایک جہاز سمندر میں سفر کے لیے روانہ ہوا۔ درمیان میں سخت طوفان آیا۔ اُس کے نتیجے میں جہاز ٹوٹ گیا۔ بہت سے لوگ پانی میں ڈوب گئے۔ ایک مسافر کو جہاز کا ایک تختہ مل گیا۔ وہ اِس تختے کے اوپر لیٹ گیا اور پانی میں تیرنے لگا۔ وہ پیاسا تھا، لیکن وہ اپنی پیاس بجھا نہیں سکتا تھا، کیوں کہ اُس کے آس جو پانی تھا، وہ سب کا سب کھاری پانی تھا۔ شاعر اِس کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ— ہر طرف پانی ہے، لیکن ایک قطرہ بھی پینے کے لیے نہیں
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Water water everywhere, nor a drop to drink.
قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے پانی کو مبارک (purified) بنا کر آسمان سے اُتارا۔ یہ بلاشبہ خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ قدیم زمانے میں یہ معاملہ ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس کی دریافتوں نے اس کو ایک عظیم قابلِ شکر حقیقت بنا دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4 ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بار سورج گرہن پڑا۔ اتفاق سے اُسی دن پیغمبر اسلام کے بیٹے ابراہیم کا کم عمری میں انتقال ہوگیا تھا۔ مدینہ کے لوگوں نے اُس کو دیکھا تو انھوں نے کہا کہ— پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہوا تھا، اِس لیے آج یہ سورج گرہن واقع ہوا ہے كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1043)۔ لوگوں کا ایسا کہنا قدیم زمانے کے رواج کی بنا پر تھا۔ کیوں کہ اُس زمانے میں لوگ اِسی قسم کے واقعات کو گرہن کا سبب سمجھتے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کو وہاں کی مسجدمیں اکھٹا کیا اور انھیں خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا إِنَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَإِذَا كَانَ ذَاكَ فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1063)۔ یعنی، کسی کے مرنے اور کسی کے جینے سے چاند اور سورج میں گرہن واقع نہیں ہوتا، بلکہ وہ خدائی نشانیوں میں سے دو نشانی ہیں۔ پس جب تم اُن کو دیکھو تو تم نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو، یہاں تک کہ گرہن کھل جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیثِ رسول میں سورج گرہن اور چاند گرہن کو نشانی (signs) کہاگیا ہے۔ قدیم زمانے کے مخاطبین اپنے روایتی فریم ورک کے اعتبار سے اتنا ہی سمجھ سکتے تھے۔ لیکن موجودہ زمانے میں لوگوں کا فریم ورک سائنٹفک فریم ورک بن چکا ہے۔ اب آج کا انسان اِس قابل ہوگیا ہے کہ وہ خالص علمی معنوں میں اِس حقیقت کو سمجھ سکے۔ اور اِس طرح زیادہ گہرائی کے ساتھ وہ معرفت کا رزق حاصل کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں جدید فلکیات کے تحت مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین اور سورج اور چاند تین انتہائی مختلف سائز کے متحرک اَجرام ہیں۔ مگر وسیع خلا میں اُن کو ایک ناقابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک خاص پوزیشن کے تحت ایک سیدھ میںلایا جاتا ہے، اِسی خاص پوزیشننگ کے نتیجے میں سورج گرہن اور چاند گرہن واقع ہوتا ہے
Eclipse is a result of unimaginably well-calculated aligning of three different moving bodies in the vast sapce.
دعوت کا نیا دور
سیرت کے موضوع پر راقم الحروف کی کتاب ’پیغمبر انقلاب‘ پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اُس میں میں نے ایک حدیث نقل کرتے ہوئے لکھا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر اپنے اصحاب کو ’العصابۃ‘ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1763) سے تعبیر کیا تھا۔ میںنے لکھا تھا کہ یہ العصابۃ کوئی سادہ گروہ نہ تھا، بلکہ یہ وہ گروہ تھا، جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اِس طرح اُس کے افراد اِس قابل ہوئے کہ تاریخ میںوہ ایک عظیم انقلابی دورکا آغاز کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصحابِ رسول نے نبوت محمدی کے اظہارِ اوّل کے لیے کام کیا تھا۔ اب نبوتِ محمدی کے اظہارِ ثانی کا زمانہ ہے۔ اِس دوسرے رول کے لیے آج پھر ایک العصابہ درکار ہے۔ اِسی دوسرے العصابہ کو حدیث میں ’اخوان رسول‘ کہاگیا ہے۔ یہ دوسرا العصابہ وہ ہوگا، جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ میں نے اپنے دوسرے مضامین میں واضح کیا ہے، پہلے دورِ تاریخ کا آغاز ہاجرہ اُمِّ اسماعیل نے چار ہزار سال پہلے کیا تھا۔ اِس تاریخی عمل کی تکمیل میں ڈھائی ہزار سال لگے۔ اِس کے بعد اِس تاریخی نسل میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب پیدا ہوئے۔اِسی تاریخی نسل سے اصحابِ رسول نکلے، جنھوں نے پیغمبر کا ساتھ دے کر پہلے دور کا کارنامہ انجام دیا۔
اصحابِ رسول نے جس دورِ تاریخ کا آغاز کیا تھا، تقریباً ڈیڑھ ہزار سال میں وہ اپنے نقطۂ کمال پر پہنچ چکا ہے۔ اب دوبارہ اِس نئی نسل سے ایک فرد اٹھے گا، جس کو حدیث میں ’المہدی‘ کا نام دیاگیا ہے۔ اِس فرد کا ساتھ دینے کے لیے بہت سے اللہ کے بندے اٹھیں گے، غالباً اِنھیں افراد کو حدیث میں ’اخوانِ رسول‘ کہاگیا ہے۔ یہ گروہ نئے حالات میں اپنی غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے نبوت محمدی کا دوبارہ اظہار کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نبوتِ محمدی کا یہ اظہارِ ثانی، تاریخ انسانی کے خاتمے کا اعلان ہوگا۔ اِس کے بعد موجودہ عارضی دنیا کو بدل کر نئی ابدی دنیا بنائی جائے گی، تاکہ اہلِ حق کو خدا کا ابدی انعام دیا جائے، اور اہلِ باطل کو ابدی طور پر رُسوائی کے عذاب میں ڈال دیا جائے۔