اسلامی جہاد ایک مثبت اور مسلسل عمل ہے، وہ مومن کی پوری زندگی میں برابر جاری رہتا ہے۔ اس مجاہدانہ عمل کے تین بڑے شعبے ہیں: 1) جہادِ نفس، یعنی اپنے منفی جذبات اور اپنے اندر کی نامطلوب خواہشات پر کنٹرول کرنا، اور 2) ہر حال میں اللہ کی پسندیدہ زندگی پر جمے رہنا۔ 2) جہادِ دعوت، یعنی اللہ کے پیغام کو تمام بندوں تک پہنچانا، اور اس کے لیے یکطرفہ ہمدردی اور خیرخواہی کے ساتھ بھرپور کوشش کرنا۔ یہ ایک عظیم کام ہے، اس لیے اس کو قرآن میں "جہادِ کبیر" کہا گیا ہے۔
3) جہادِ اعدا، یعنی دینِ حق کے مخالفوں کا سامنا کرنا اور دین کو ہر حال میں محفوظ اور قائم رکھنا۔ یہ جہاد پہلے بھی اصلاً ایک پرامن عمل تھا، اور اب بھی وہ اصلاً ایک پرامن عمل ہے۔ اس اعتبار سے جہاد ایک پرامن جدوجہد ہے، نہ کہ حقیقتاً کوئی مسلح کارروائی۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کے بارے میں فرمایا: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ البخاری، کتاب الجہاد۔
یعنی تم اپنے والدین میں جہاد کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا جہاد کا ایک عمل ہے۔ اس طرح کی مختلف آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا عمل اصلاً ایک پرامن عمل ہے، وہ کسی مطلوب خدائی کام میں پرامن دائرے کے اندر جدوجہد کرنا ہے۔ جہاد کے لفظ کا صحیح ترجمہ "پرامن جدوجہد" یعنی peaceful struggle ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.