← Islami JihaadIslami Jihaad
موجودہ زمانے کی جہادی تحریکیں
Urdu · 6 min
موجودہ زمانے میں اسلامی جہاد کے نام سے بہت سے ملکوں کے مسلمان مسلح جہاد کی تحریکیں چلا رہے ہیں، مگر کوئی تحریک محض اس بنا پر جہاد کی تحریک نہیں ہو سکتی کہ اس کے علمبرداروں نے اس کو جہاد کا نام دے دیا ہو۔ کوئی عمل صرف اس وقت اسلامی جہاد قرار پاتا ہے جبکہ وہ اسلام کی مقرر کی ہوئی شرطوں پر پورا اترے۔ جہاد کی شرطوں کی تکمیل کے بغیر جو جہاد کیا جائے، وہ عملاً جہاد نہیں ہوگا بلکہ فساد ہوگا۔ جو لوگ اس کام میں مشغول ہوں، وہ اپنے اس کام پر جہاد کا انعام نہیں پائیں گے، بلکہ اللہ کی طرف سے وہ صرف سزا کے مستحق ہوں گے۔
جہاد بمعنی قتال کی شرطیں کیا کیا ہیں، اس کو میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔ یہاں صرف ایک بات کا اظہار کرنا ضروری ہے، وہ یہ کہ جہاد بمعنی قتال کی حیثیت نماز، روزہ جیسے انفرادی عمل کی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق مکمل طور پر ریاست سے ہے۔ جہاد بمعنی قتال کی یہ اصولی حیثیت قرآن و حدیث کی مختلف نصوص سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ دشمن کی طرف سے خوف کی صورت پیدا ہو تو اس کو لے کر خود سے اس کے خلاف کارروائی شروع نہ کر دو، بلکہ اس کو اولی الامر یعنی ارباب حکومت کی طرف لوٹاؤ، تاکہ وہ معاملے کی صحیح نوعیت کو سمجھیں اور اس کے بارے میں صحیح اور ضروری اقدام کریں۔
سورہ النساء آیت 83: یہ آیت بتاتی ہے کہ خوف یعنی جنگ کی صورتحال پیش آنے کی صورت میں عوام کے لیے خوف یعنی جنگی صورتحال پیش آنے کی صورت میں خود سے اقدام کرنا جائز نہیں۔ وہ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ معاملے کو حاکم کے حوالے کر دیں، اور حاکم کی طرف سے جو اقدام کیا جائے اس میں اس کا ساتھ دیں۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ إنما الإمام جنةٌ يُقاتَلُ من ورائه ويتقى به. صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسير.
یعنی بلاشبہ امام ڈھال ہے، قتال اس کی ماتحتی میں کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے حفاظت حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنگی دفاع ہمیشہ حاکم کی قیادت میں کیا جائے گا۔ عام مسلمانوں کا فرض صرف یہ ہوگا کہ وہ اپنے حاکم کی اتباع کریں اور اس کا ساتھ دے کر حکومت کے منصوبے کو کامیاب بنائیں۔ فقہ میں یہ مسئلہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے، جس میں غالباً کسی قابل ذکر عالم کا اختلاف نہیں۔
چنانچہ فقہاء کے متفقہ مسلک کے مطابق جنگ کا اعلان صرف ایک قائم شدہ حکومت ہی کر سکتی ہے۔ غیر حکومتی عوام کو اس قسم کا اعلان کرنے کا حق نہیں۔ اسی لیے فقہ میں یہ مسئلہ ہے کہ الرحیل للامام یعنی جنگ کا اعلان کرنا صرف حاکم وقت کا کام ہے۔ اصل یہ ہے کہ جنگ ایک انتہائی منظم عمل کا نام ہے۔
اس قسم کا منظم عمل صرف بااختیار حکومت ہی کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی اقدام صرف حکومت کے لیے جائز ہے، عوام کے لیے جنگی اقدام کرنا سرے سے جائز ہی نہیں۔ موجودہ زمانے میں مختلف مقامات پر مسلمان جہاد کے نام پر حکومتوں سے پرتشدد ٹکراؤ چھیڑے ہوئے ہیں، مگر تقریباً بلا استثنا ان میں سے ہر ایک کی حیثیت فساد کی ہے، نہ کہ اسلامی جہاد کی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی جہاد کسی حکومت کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا ہے۔
آج کل کی زبان میں ان میں سے ہر ایک جہاد غیر ہے۔ آج کل کی زبان میں ان میں سے ہر ایک جہاد غیر حکومتی تنظیموں یعنی این جی اوز کی طرف سے شروع کیا گیا، اور انہی کی طرف سے ان کو چلایا جا رہا ہے۔ اگر ان میں سے کسی جہادی سرگرمی کو بالفرض کسی مسلم حکومت کا تعاون حاصل ہے، تو یہ تعاون بلا اعلان صرف خفیہ انداز میں کیا جا رہا ہے، اور شریعت کے مطابق کسی مسلم حکومت کو بھی جہاد کا حق صرف اس وقت ہے جبکہ وہ باقاعدہ طور پر اس کا اعلان کرے۔ سورہ الانفال آیت 58: اعلان کے بغیر کسی مسلم حکومت کے لیے بھی قتال کرنا جائز نہیں۔
موجودہ زمانے میں مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی طرف سے جہاد کے نام پر جو سرگرمیاں جاری ہیں، آج کل کی زبان میں وہ دو قسم کی ہیں: یا تو اس کی حیثیت گوریلا وار کی ہے یا پراکسی وار کی، اور یہ دونوں ہی قسم کی جنگیں یقینی طور پر اسلام میں ناجائز ہیں۔ گوریلا وار اس لیے ناجائز ہے کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے چلائی جاتی ہے، نہ کہ کسی قائم شدہ حکومت کی طرف سے۔ اور پراکسی وار اس لیے ناجائز ہے کہ کوئی حکومت اس کو بلا اعلان جاری کرواتی ہے، اور اعلان کے بغیر جنگ اسلام میں جائز نہیں۔