← Islami JihaadIslami Jihaad
جہاد کا تصور اسلام
Urdu · 20 min
میں: جہاد کا مادہ "جہد" ہے، جہد کے معنی ہیں کوشش کرنا، to strive, to struggle۔ اس لفظ میں مبالغے کا مفہوم ہے، یعنی کسی کام میں اپنی ساری کوشش صرف کر دینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ "بدلَ جهدَه" یا "بدلَ مجهودَه"، یعنی اس نے اپنی پوری طاقت صرف کر دی۔ لسان العرب میں ہے کہ "جَهَدَ الرَّجُلُ فِي كَذَا جَدَّ فِيهِ وَبَالَغَ"۔
جلد 3، صفحہ 133: آدمی نے فلاں معاملے میں جدوجہد کی، یعنی اس میں مبالغے کی حد تک کوشش کر ڈالی۔ جہاد مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی کسی کام میں اپنی ساری ممکن کوشش صرف کرنا۔ لسان العرب میں ہے: "الجهاد المبالغۃ واستفراغ الوسع فی الحرب أو اللسان أو ما أطاق من شيء" جلد 3، صفحہ 135۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "وجاهدوا في الله حق جهاده" سورہ الحج، آیت 78۔
یعنی اللہ کی راہ میں خوب کوشش کرو، جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ عربی زبان میں جہاد اصلًا صرف کوشش یا بھرپور کوشش کے معنی میں ہے۔ دشمن سے جنگ بھی چونکہ کوشش کی ایک صورت ہے، اس لیے توسیعی مفہوم کے اعتبار سے دشمن کے ساتھ جنگ کو بھی جہاد کہہ دیا جاتا ہے۔ تاہم اس دوسرے مفہوم کے لیے عربی میں اصل لفظ "قتال" ہے، نہ کہ "جہاد"۔
دشمن سے جنگ ایک اتفاقی واقعہ ہے جو کبھی پیش آتا ہے اور کبھی پیش نہیں آتا، لیکن جہاد ایک مسلسل عمل ہے جو مومن کی زندگی میں ہر دن اور ہر رات جاری رہتا ہے۔ وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ مستقل جہاد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کی مرضی پر قائم رہے۔ اس قیام میں جو چیز بھی رکاوٹ ہو، اس کو اپنی زندگی پر اثر انداز نہ ہونے دے۔
مثلاً نفس کی خواہش، مفاد کی طلب، رسم و رواج کا زور، مصلحتوں کے تقاضے، ذاتی انا کا مسئلہ، مال کی حرص وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں عمل صالح کے لیے رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس قسم کی تمام رکاوٹوں کو زیر کرتے ہوئے اللہ کے حکم پر قائم رہنا، یہی اصل جہاد ہے، اور یہی جہاد کا ابتدائی مفہوم ہے۔ اس جہاد کے بارے میں حدیث میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔
مثلاً مسند امام احمد کی چند روایتیں یہ ہیں: "المجاهد من جاهد نفسه لله" جلد 6، صفحہ 20۔ "المجاهد من جاهد نفسه فی سبیل الله" جلد 6، صفحہ 22۔ "المجاهد من جاهد نفسه فی طاعة الله" جلد 6، صفحہ 22۔ موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔
یہاں کا پورا ماحول اس طرح بنایا گیا ہے کہ آدمی مسلسل طور پر آزمائش کے حالات سے گزرتا رہے۔ ان آزمائشی مواقع پر آدمی کو طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا پیش آتا ہے۔ مثلاً ایک حق اس کے سامنے آئے، مگر اس کا اعتراف کرنے میں اپنا درجہ نیچا ہوتا ہوا دکھائی دے۔ کسی کا مال آدمی کے قبضے میں ہو اور اس کو حقدار کی طرف واپس کرنے میں اپنا نقصان نظر آتا ہو۔
تواضع کی مطلوب زندگی گزارنے میں اپنے نفس پر جبر کرنا پڑے۔ غصہ اور انتقام کے جذبات کو برداشت کرنا اپنی نفی کے ہم معنی بن گیا ہو۔ انصاف کی بات بولنے میں یہ اندیشہ ہو کہ لوگوں کے درمیان مقبولیت ختم ہو جائے گی۔ خود غرضانہ کردار کے بجائے بااصول کردار اختیار کرنے میں سہولیات سے محرومی نظر آتی ہو وغیرہ۔
اس طرح کے مختلف مواقع پر بار بار آدمی کو اپنی خواہش کو دبانا پڑتا ہے، اپنی نفسیات کی قربانی دینا ضروری ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے اپنی انا کو ذبح کرنا پڑے گا۔ اس طرح کے تمام مواقع پر ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اور ہر نقصان کو جھیلتے ہوئے حق پر قائم رہنا، یہی اصلی اور ابتدائی جہاد ہے۔ جو لوگ اس جہاد پر قائم رہیں، وہی آخرت میں جنت کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔ جہاد اصلًا پرامن جدوجہد کا عمل ہے۔
اسی پرامن جدوجہد کی ایک صورت وہ ہے جس کو دعوت و تبلیغ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا" سورہ الفرقان، آیت 52۔ یعنی منکرین کی اطاعت نہ کرو اور ان کے ساتھ قرآن کے ذریعے جہاد کبیر کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل باطل جو بات ان سے منوانا چاہتے ہیں، اس کو ہرگز نہ مانو، بلکہ قرآن کی تعلیمات کو لے کر ان کے خلاف دعوت و تبلیغ کا عمل کرو، اور اس عمل میں اپنی آخری کوشش صرف کر دو۔
اس آیت میں جہاد سے مراد کوئی عسکری عمل نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد تمام تر فکری اور نظریاتی عمل ہے۔ اس عمل کو ایک لفظ میں "ابطال باطل" اور "احقاق حق" کہا جا سکتا ہے۔ جہاد بمعنی قتال بھی اپنے ابتدائی مفہوم کے لحاظ سے پرامن جدوجہد ہی کا دوسرا نام ہے۔ دشمن کی طرف سے اگر فوجی اور عسکری چیلنج دیا جائے، تب بھی اولاً ساری کوشش اس بات کی کی جائے گی کہ اس کا جواب پرامن طریقے سے دیا جائے۔
پرامن طریقے کو صرف اس وقت تک کیا جائے گا جب کہ اس کو استعمال کرنا ممکن ہی نہ ہو۔ جبکہ قتال کے جواب میں قتال ہی واحد ممکن انتخاب کی صورت اختیار کر لے۔ اس معاملے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہمارے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا: "ما خُيِّر رسولُ الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما" صحیح البخاری، کتاب الادب۔
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کسی معاملے میں دو امکانی انتخاب ہوتا، ایک آسان انتخاب یعنی easier option اور دوسرا مشکل انتخاب یعنی harder option، تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب کو چھوڑ دیتے اور جو آسان ہوتا اس کو اختیار فرما لیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کا تعلق زندگی کے تمام۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کا تعلق زندگی کے صرف عام معاملات سے نہ تھا، بلکہ جنگ جیسے سنگین معاملے سے بھی تھا، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مشکل انتخاب کی حیثیت رکھتا ہے۔
آپ کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے کبھی خود اپنی طرف سے جنگ کا اقدام نہیں کیا، اور جب آپ کے مخالفین کی طرف سے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی گئی تو آپ نے ہمیشہ اعراض کی کوئی تدبیر اختیار کر کے جنگ کو ٹالنے کی کوشش کی۔ آپ صرف اس وقت جنگ میں شریک ہوئے جب کہ دوسرا کوئی راستہ سرے سے باقی ہی نہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے، اسلام میں صرف مدافعانہ جنگ ہے، اور وہ بھی صرف اس وقت جب کہ اس سے بچنا سرے سے ممکن ہی نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ دو میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ رہتا ہے: پرامن جدوجہد اور پرتشدد جدوجہد۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اور ہر معاملے میں یہی کیا کہ پرتشدد طریقہ کار کو چھوڑ کر پرامن طریقہ کار کو اختیار فرمایا۔ آپ کی پوری زندگی اسی اصول کا ایک کامیاب عملی نمونہ ہے۔ یہاں اس نوعیت کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ نمبر 1: پیغمبری ملنے کے بعد فوراً ہی آپ کے سامنے یہ سوال تھا کہ آپ مذکورہ دونوں طریقوں میں سے کس طریقے کو اختیار کریں۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر کی حیثیت سے آپ کا مشن یہ تھا کہ شرک کو ختم کریں اور توحید کو قائم فرمائیں۔ مکے میں کعبۃ اللہ اسی توحید کے مرکز کے طور پر بنایا گیا تھا، مگر آپ کی بعثت کے وقت کعبے میں 360 بت رکھ دیے گئے تھے۔ اس لحاظ سے بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ قرآن میں سب سے پہلے اس طرح کی کوئی آیت اترتی کہ "طهِّر الكعبة من الأصنام" یعنی کعبے کو بتوں سے پاک کرو اور اس کو دوبارہ مرکز توحید بنا کر اپنے مشن کو آگے بڑھاؤ۔ مگر کام کا یہ آغاز قریش سے جنگ کرنے کے ہم معنی تھا، جن کی قیادت عرب میں اسی لیے قائم تھی کہ وہ کعبے کے متولی بنے ہوئے تھے۔
واقعات بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے کی عملی تطہیر کے معاملے سے مکمل طور پر اعتراض فرمایا اور اپنے آپ کو صرف توحید کی نظری دعوت تک محدود رکھا۔ یہ گویا پرتشدد طریقہ کار کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار کی پہلی پیغمبرانہ مثال تھی۔ نمبر 2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پرامن اصول پر قائم رہتے ہوئے 13 سال تک مکے میں اپنا کام کرتے رہے، مگر اس کے باوجود قریش آپ کے دشمن بن گئے۔ یہاں تک کہ ان کے سرداروں نے باہمی مشورے سے یہ طے کیا کہ سب مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں۔
چنانچہ انہوں نے تلواروں سے مسلح ہو کر آپ کے گھر کو گھیر لیا۔ یہ گویا رسول اور اصحاب رسول کے لیے جنگ کا کھلا چیلنج تھا، مگر آپ نے اللہ کی رہنمائی کے تحت یہ فیصلہ فرمایا کہ جنگی مقابلے سے اعراض کریں۔ چنانچہ آپ رات کے سناٹے میں مکے سے نکلے اور خاموشی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مدینہ پہنچ گئے۔ اس واقعے کو اسلام کی تاریخ میں "ہجرت" کہا جاتا ہے۔
ہجرت واضح طور پر پرتشدد طریقہ کار کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ایک مثال ہے۔ نمبر 3: غزوہ خندق یا غزوہ احزاب بھی اسی سنت کی ایک مثال ہے۔ اس موقع پر مختلف قبائل کے لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہو کر مدینے کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ مدینے پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔
یہ واضح طور پر آپ کے مخالفین کی طرف سے ایک جنگی چیلنج تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ رات دن کی محنت سے اپنے اور مخالفین کے درمیان ایک لمبی خندق کھود دی۔ اس وقت کے حالات میں یہ خندق گویا ایک حاجز یعنی بفر یا ٹکر روک طریقہ تھا۔ چنانچہ قریش کا لشکر خندق کے دوسری طرف کچھ دن ٹھہرا رہا اور اس کے بعد واپس چلا گیا۔ یہ خندق بھی گویا پرتشدد عمل کے مقابلے میں پرامن عمل کا انتخاب لینے کی ایک مثال ہے۔
نمبر 4: اسی طرح صلح حدیبیہ بھی اسی قسم کی ایک سنت کی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر یہ صورت تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکے میں داخل ہو کر عمرہ کرنا چاہتے تھے، مگر مکے کے سرداروں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا اور کہا کہ آپ لوگ مدینہ واپس جائیں، ہم کسی قیمت پر آپ کو مکے میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ گویا قریش کی طرف سے آپ کے لیے ایک جنگی چیلنج تھا۔ اگر آپ اپنے ارادے کے مطابق عمرہ کرنے کے لیے مکے کی طرف بڑھیں تو یقینی تھا کہ قریش سے جنگی ٹکراؤ پیش آئے گا، مگر آپ نے حدیبیہ پر اپنا سفر ختم کر دیا اور قریش کی یکطرفہ شرطوں پر امن کا معاہدہ کر کے مدینہ واپس آ گئے۔
یہ بھی واضح طور پر تشدد کے مقابلے میں امن کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک پیغمبرانہ مثال تھی۔ یہ بھی واضح طور پر تشدد کے مقابلے میں امن کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے۔ نمبر 5: فتح مکہ کے واقعے سے بھی آپ کی یہی سنت ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت آپ کے پاس جان نثار صحابہ دس ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔
وہ یقینی طور پر قریش سے کامیاب لڑائی لڑ سکتے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال طاقت کے بجائے مظاہرہ طاقت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ دس ہزار افراد کی اس فوج کو لے کر اعلان کے ساتھ نکلیں اور قریش سے جنگی تصادم کر کے مکے پر قبضہ حاصل کریں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ کامل رازداری کے ساتھ سفر کی تیاری کی اور اپنے اصحاب کے ساتھ سفر کرتے ہوئے نہایت خاموشی کے ساتھ مکے میں داخل ہو گئے۔ آپ کا یہ داخلہ اتنا اچانک تھا کہ قریش آپ کے خلاف کوئی تیاری نہ کر سکے اور مکہ کسی خونی تصادم کے بغیر فتح ہو گیا۔
یہ بھی پرتشدد طریقہ کار کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ ان چند مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف عام حالات میں بلکہ انتہائی ہنگامی حالات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے مقابلے میں امن کے اصول کو اختیار فرمایا۔ آپ کی تمام کامیابیاں اسی سنت امن کی عملی مثالیں ہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اسلام میں امن کی حیثیت حکم عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف مجبورانہ استثنا کی۔
اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور پھر یہ دیکھیے کہ موجودہ زمانے میں صورتحال کیا ہے۔ اس معاملے میں جدید دور قدیم دور سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ قدیم زمانے میں پرتشدد طریقہ کار ایک عام رواج کی حیثیت رکھتا تھا اور امن کا طریقہ اختیار کرنا بے حد مشکل کام تھا، مگر اب صورتحال یکسر طور پر بدل گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں پرتشدد طریقہ کار آخری حد تک غیر مطلوب اور غیر محمود بن چکا ہے۔
اس کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار کو واحد پسندیدہ طریقہ کار کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانے میں پرامن طریقہ کار کو ایسی فکری اور عملی تائیدات حاصل ہو گئی ہیں جنہوں نے پرامن طریقہ کار کو بذات خود ایک انتہائی طاقتور طریقہ کار کی حیثیت دے دی ہے۔ ان جدید تائیدات میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، مثلاً اظہار رائے کی آزادی کا حق، جدید کمیونیکیشن کے ذریعے اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے امکانات، میڈیا کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کرنا وغیرہ۔ ان جدید تبدیلیوں نے پرامن طریقہ کار کو بیک وقت مقبول طریقہ کار بھی بنا دیا ہے اور اسی کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقہ کار بھی۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ جب پرامن طریقہ کار عملاً دستیاب یعنی available ہو تو اسلامی جدوجہد میں صرف اسی کو اختیار کیا جائے گا اور پرتشدد جدوجہد کو ترک کر دیا جائے گا۔ اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجے میں پرامن طریقہ کار نہ صرف مستقل طور پر دستیاب ہے بلکہ مختلف تائیدی عوامل یعنی supporting factors کی بنا پر وہ بہت زیادہ مؤثر حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ یہ کہنا بلا مبالغہ درست ہوگا کہ موجودہ زمانے میں پرتشدد طریقہ کار مشکل ہونے کے ساتھ عملاً بالکل غیر مفید ہے۔ اس کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار آسان ہونے کے ساتھ انتہائی مؤثر اور نتیجہ خیز ہے۔
اب پرامن طریقہ کار کی حیثیت دو امکانی انتخابات یعنی possible options میں سے صرف ایک انتخاب۔ اب پرامن طریقہ کار کی حیثیت دو امکانی انتخابات یعنی possible options میں سے صرف ایک انتخاب کی نہیں ہے بلکہ وہی واحد ممکن اور نتیجہ خیز انتخاب ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اب پرتشدد طریقہ کار عملاً متروک قرار پا چکا ہے، یعنی وہی چیز جس کو شرعی زبان میں منسوخ کہا جاتا ہے۔ اب اہل اسلام کے لیے عملی طور پر ایک ہی طریقہ کار کا انتخاب باقی رہ گیا ہے اور وہ بلاشبہ پرامن طریقہ کار ہے، الا یہ کہ صورتحال میں ایسی تبدیلی پیدا ہو جو دوبارہ حکم کو بدل دے۔
یہ صحیح ہے کہ پچھلے زمانے میں بعض اوقات پرتشدد طریقہ کار کو اختیار کیا گیا، مگر اس کی حیثیت زمانی اسباب کی بنا پر صرف ایک مجبورانہ انتخاب کی تھی۔ اب جب کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ مجبوری باقی نہیں رہی تو پرتشدد طریقہ کار کو اختیار کرنا بھی غیر ضروری اور غیر مسنون قرار پا گیا۔ اب نئے حالات میں صرف پرامن طریقہ کار کا انتخاب کیا جائے گا۔ موجودہ زمانے میں اس معاملے کی ایک سبق آموز مثال ہندوستانی لیڈر مہاتما گاندھی وفات 1948 کی زندگی میں ملتا ہے۔
اسی زمانی تبدیلی کی بنا پر مہاتما گاندھی کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ ہندوستان میں ایک مکمل قسم کی سیاسی لڑائی لڑیں اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائیں۔ اور یہ سب کچھ شروع سے آخر تک عدم تشدد کا طریقہ یعنی non-violent method اور پرامن عمل یعنی peaceful activism کے اصول کو اختیار کر کے انجام پایا۔ فقہ کا یہ ایک معلوم اصول ہے کہ تتغير الأحكام بتغير الزمان والمكان زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ اس مسلمہ فقہی اصول کا تقاضا ہے کہ جب زمانی حالات بدل چکے ہوں تو شرعی احکام کا اثر نو انطباق یعنی re-application تلاش کیا جائے تاکہ شرعی حکم کو زمانی حالات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
اس فقہی اصول کا تعلق جس طرح دوسرے معاملات سے ہے، اسی طرح یقینی طور پر اس کا تعلق جنگ کے معاملے سے بھی ہے۔ اس اصول کا بھی یہ تقاضا ہے کہ پرتشدد طریقہ کار کو اب عملاً متروک قرار دیا جائے اور صرف پرامن طریقہ کار کو شرعی جواز کا درجہ دیا جائے۔