Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islami Jihaad
Islami Jihaad

جہاد کیا

Urdu · 3 min

ہے؟ جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ موجودہ زمانے میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کر رہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھڑی ہوئی لڑائیاں ہیں، جن کو غلط طور پر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔ جہاد اصلًا پرامن جدوجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنی نہیں۔

کبھی توسیع استعمال کے طور پر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے، مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنی الفاظ نہیں۔ یہاں اس سلسلے میں قرآن و حدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کیے جاتے ہیں۔ نمبر 1: قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا سورہ العنکبوت آیت 69۔ یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہماری خاطر، تو ہم ان کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔

اس آیت میں تلاشِ حق کو جہاد کہا گیا ہے، یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا۔ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔ نمبر 2: اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ سورہ الحجرات آیت 15۔

یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق اپنے مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔ نمبر 3: اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا سورہ الفرقان آیت 52۔ یعنی غیر مومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعے جہاد کرو۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پرامن جدوجہد کرو۔ نمبر 4: اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ الترمذی فضائل الجہاد۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑ کر اپنے آپ کو سچائی کے راستے پر قائم رکھنا جہاد ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طور پر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طور پر کسی جنگ کے میدان میں۔ نمبر 5: ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْحَجُّ جِهَادٌ ابن ماجہ کتاب المناسک۔ یعنی حج جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔ حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.