Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islami Jihaad
Islami Jihaad

امن کی اہمیت

Urdu · 4 min

قرآن کی سورہ النساء میں ارشاد ہوا ہے: "الصلح خیر" سورہ نمبر 4 آیت 128۔ یعنی صلح زیادہ بہتر ہے۔ صلح کیا ہے؟ صلح دراصل امن کے نتیجے کا دوسرا نام ہے۔

جہاں صلح ہے وہاں امن ہے، اور جہاں صلح نہیں وہاں امن بھی نہیں۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کو خیرِ اعلیٰ کا درجہ حاصل ہے۔ عام طور پر لوگ انصاف یعنی جسٹس کو بڑی چیز سمجھتے ہیں، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ انصاف کی حیثیت صرف ایک تصوراتی معیار کی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تصوراتی معیار عملاً کس طرح حاصل ہو؟

اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ امن کے ذریعے۔ امن کا یہ فائدہ ہے کہ اس کے ذریعے مواقع کھلتے ہیں۔ انصاف کسی کو خود بخود نہیں ملتا۔ انصاف کسی گروہ کو صرف اس وقت ملتا ہے جبکہ وہ مواقع کو پہچانے اور اس کو دانشمندانہ طور پر استعمال یعنی اویل کرے۔

موجودہ زمانے میں بہت سے مقامات ہیں جہاں لوگ انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر ان میں سے ہر ایک اپنا مطلوب انصاف پانے میں ناکام ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے طریقہ کار یعنی میتھڈ کی غلطی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں ساری اہمیت طریقہ کار کی ہے۔ کوئی صحیح مقصد بھی غلط طریقہ کار کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ اس میں کسی گروہ کا کوئی استثنا یعنی ایکسیپشن نہیں۔ کوئی گروہ جو انصاف کا طالب ہو، اس کو سب سے پہلے اپنے یہاں امن قائم کرنا چاہیے۔ امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کو ہر حال میں قائم کرنا ضروری ہے، خواہ اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے۔ امن کبھی دو طرفہ بنیاد پر قائم نہیں ہوتا۔

امن ہمیشہ یک طرفہ صبر کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس کے سوا امن کے قیام کا کوئی اور طریقہ نہیں۔ فطرت کا نظام مواقع یعنی اپرچونیٹیز پر مبنی ہے۔ فطرت کے نظام کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مواقع وافر مقدار میں موجود رہتے ہیں۔

نفرت اور تشدد کا ماحول ان فطری مواقع کے لیے ٹریپ ڈور کی حیثیت رکھتا ہے۔ فطرت کا تقاضا ہے کہ آدمی سب سے پہلے نفرت اور تشدد کے ٹریپ ڈور کو ہٹائے۔ اس ٹریپ ڈور کو ہٹتے ہی مواقع اس ٹریپ ڈور کے ہٹتے ہی مواقع ایک سیلاب کی طرح ابھڑ امٹ پڑتے ہیں۔ یہ مواقع اپنی نوعیت کے اعتبار سے سیکولر بھی ہوتے ہیں اور دینی بھی۔

مواقع کا سیکولر استعمال یہ ہے کہ لوگ تعلیم اور اقتصادیات جیسے تعمیری شعبوں میں سرگرم ہو جائیں، اور کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کر کے وہ ہر قسم کی ترقیاں حاصل کریں۔ مواقع کا دینی استعمال یہ ہے کہ اہل ایمان ان مواقع کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں۔ وہ دعوت کے مشن میں سرگرم ہو کر اپنے آپ کو اعلیٰ خدائی انعامات کا مستحق بنائیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.