پیغمبر وہ انسان ہے جس کو خدا اپنی نمائندگی کے لیے چن لے۔ خدا جب ایک انسان کو اپنا پیغمبر بناتا ہے تو خدا کا فرشتہ اس کے پاس آ کر اس کو اس انتخاب کی خبر دیتا ہے۔ اس طرح اس کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اس کے بعد فرشتے کے ذریعے خدا اس پر اپنی تعلیمات اتارتا ہے، تاکہ وہ ان تعلیمات سے تمام انسانوں کو باخبر کر دے۔
پیغمبر گویا خدا اور انسان کے درمیان ہوتا ہے، وہ خدا سے لے کر انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ خدا نے انسان کو عقل دی، وہ اس کے ذریعے ظاہری باتوں کو سمجھ سکتا ہے، مگر بہت سی باتیں وہ ہیں جن کو جاننے اور سمجھنے کے لیے صرف ظاہری علم کافی نہیں۔ خود موجودہ دنیا کے بارے میں زیادہ گہری حقیقتیں انسان کی عقلی گرفت میں نہیں آتیں۔ اور جہاں تک خدا اور عالمِ آخرت کا معاملہ ہے، وہ مکمل طور پر نہ دکھائی دینے والی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔
اس بنا پر وہ انسان کے عقلی ادراک سے باہر ہے۔ پیغمبر یہ کرتا ہے کہ وہ انسان کی اس کمی کو پورا کرتا ہے، وہ اشیاء کی حقیقت کو بتاتا ہے، وہ آخرت کی دنیا کی خبر دیتا ہے۔ اس طرح وہ انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ علم و شعور کی پوری روشنی میں اپنی زندگی کا نقشہ بنائے اور اس کے مطابق کامیاب زندگی کی تعمیر کرے۔ انسان جب سے دنیا میں آباد ہوا، اسی وقت سے پیغمبر بھی آنا شروع ہو گئے۔
وہ ہر زمانے میں انسان کو خدا کی باتیں بتاتے رہے، تاہم قدیم زمانے میں آنے والے پیغمبروں کا مستند ریکارڈ باقی نہیں رہا۔ بعد کے حالات نے ان کی شخصیت کو بھی غیر تاریخی بنا دیا، اور ان کی کتابوں کو بھی تاریخی طور پر غیر مستند قرار دیا۔ آخر میں خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا پیغمبر بنایا۔ آپ اس وقت پیدا ہوئے جبکہ دنیا میں دورِ تاریخ آ چکا تھا۔
اسی کے ساتھ جلد ہی بعد وہ دور شروع ہونے والا تھا جس کو پریس کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ موافق اسباب ملے جنہوں نے آپ کو ایک مسلمہ شخصیت بنا دیا۔ اس طرح آپ کی لائی ہوئی کتاب محفوظ رہ کر پریس کے دور میں داخل ہو گئی۔ اس کے بعد یہ امکان ہی ختم ہو گیا کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں کوئی تبدیلی کی جا سکے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری رسول ہیں، اور قیامت تک دنیا میں خدا کے واحد نمائندہ ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.