قرآن خدا کی کتاب ہے۔ قرآن میں جو تعلیمات ہیں، وہ اصلًا وہی ہیں جو پچھلی آسمانی کتابوں میں اتاری گئی تھیں، مگر پچھلی آسمانی کتابیں اپنی ابتدائی صورت میں محفوظ نہیں رہیں۔ بعد کی تبدیلیوں نے ان کو غیر معتبر بنا دیا، جبکہ قرآن اپنی اصل صورت میں پوری طرح محفوظ ہے۔ اس لیے وہ کامل طور پر ایک قابلِ اعتبار کتاب ہے۔
قرآن میں 114 سورتیں ہیں، ان میں جو باتیں کہی گئی ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی ایک خدا کو مانے، وہ اسی کے آگے اپنے آپ کو جواب دہ سمجھے، وہ یقین کرے کہ پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو باتیں خدا نے بتائی ہیں، وہ سب صحیح ہیں، اور ان کو ماننے ہی پر انسان کی ابدی نجات کا دارومدار ہے۔ قرآن کی حیثیت صرف یہ نہیں ہے کہ وہ بہت سی آسمانی کتابوں میں سے ایک کتاب ہے، بلکہ اس کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ بہت سی آسمانی کتابوں کے درمیان واحد قابلِ اعتبار کتاب ہے، کیونکہ دوسری تمام کتابیں تبدیلیوں کے نتیجے میں تاریخی طور پر غیر معتبر ثابت ہو چکی ہیں۔ پچھلی آسمانی کتابوں کو ماننے والا کوئی شخص جب قرآن کو مانتا ہے تو وہ اپنے عقیدے کو رد نہیں کرتا، بلکہ خود اپنے عقیدے کو زیادہ مستند صورت میں اثرِ نو پا لیتا ہے۔ قرآن سب کے خدا کی طرف سے سب کی طرف بھیجی ہوئی مقدس کتاب ہے۔
وہ ہر انسان کی اپنی کتاب ہے، کیونکہ اس کو اس خدا نے بھیجا ہے جو ہر انسان کا اپنا خدا ہے، نہ کہ کسی غیر کا خدا۔ قرآن کوئی نئی آسمانی کتاب نہیں، وہ پچھلی آسمانی کتابوں کا اگلا مستند ایڈیشن ہے۔ اس اعتبار سے گویا قرآن تمام انسانوں اور تمام قوموں کی کتاب ہے۔ وہ ہر ایک کے لیے خدا کی رحمت کا ظہور ہے۔
وہ ہر ایک کی طرف بھیجا ہوا خدا کا کامل پیغام ہے۔ قرآن اسی طرح تمام دنیا کے لیے ہدایت کی روشنی ہے، جس طرح سورج تمام دنیا کے لیے روشنی اور حرارت کا ذریعہ ہے۔ کتاب اسلام کیا ہے؟
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.