خدا کی پیدا کی ہوئی بہت سی مخلوقات میں سے ایک مخلوق وہ ہے جس کو فرشتہ کہا جاتا ہے۔ فرشتوں کو خدا نے خصوصی صلاحیت اور خاص اختیارات دیے ہیں۔ وہ کائنات میں بڑے بڑے تصرفات کر سکتے ہیں، مگر ان کا سارا عمل خدا کی مکمل تابعداری میں ہوتا ہے۔ وہ ادنیٰ درجے میں بھی خدا سے انحراف نہیں کرتے۔
کائنات میں ہر لمحہ بے شمار واقعات ہو رہے ہیں، مثلاً ستاروں کی گردش، سورج اور چاند کا چمکنا، زمین کا گردش کرنا۔ اسی طرح بارش، موسم، اور دوسری بہت سی تبدیلیوں کا پیش آنا۔ انسان اور حیوان کی نسل کا زمین پر مسلسل باقی رہنا۔ اس طرح کے بے شمار واقعات جو ہر وقت دنیا میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں، ان سب کا انتظام یہی فرشتے کرتے ہیں۔
وہ خدا کی کائنات میں خدا کے انتہائی وفادار اور فرمانبردار کارندے ہیں۔ انسان فرشتوں کو نہیں دیکھتا، مگر فرشتے انسانوں کو دیکھتے ہیں۔ وہ خدا کی طرف سے انسان کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ یہی فرشتے انسان پر موت بھی واقع کرتے ہیں اور اس کی روح کو یہاں سے لے جاتے ہیں۔
فرشتے موجودہ دنیا کا انتظام بھی کرتے ہیں، اور فرشتے ہی آخرت میں جنت اور دوزخ کا انتظام بھی کرنے والے ہیں۔ یہ فرشتے انگنت تعداد میں ہیں۔ فرشتوں کے معاملے کو ایک بڑے کارخانے کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کسی بڑے کارخانے میں ایک طرف بہت سی بڑی بڑی اور پیچیدہ مشینیں ہوتی ہیں۔
انہی مشینوں سے وہ پیداوار نکلتی ہے جس کے لیے کارخانہ قائم کیا گیا ہے۔ مگر یہ مشینیں اپنے آپ نہیں چلتی۔ ان کو چلانے کے لیے بہت سے انسان کارکن درکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر کارخانے میں بڑی تعداد میں انسانی کارکن سرگرم رہتے ہیں تاکہ وہ کارخانے کو اس کے مطلوب انداز پر چلاتے رہیں۔
اسی طرح کائنات کے عظیم کارخانے میں بے شمار فرشتے اس کو چلانے کے لیے مامور ہیں۔ دونوں کارخانوں میں صرف یہ فرق ہے کہ عام کارخانوں کے انسانی کارکن دکھائی دیتے ہیں، جبکہ کائناتی کارخانے میں کام کرنے والے فرشتے ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے۔ کتاب اسلام کیا ہے؟
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.