جنت والے حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں لے جائے گی۔ آپ نے جواب دیا کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا اور بہتر اخلاق۔ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عن أكثر ما يُدخلُ الناسَ الجنةَ. قَالَ: "تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ".
الترمذی۔ کسی آدمی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ دنیا میں ایسی زندگی گزارے کہ جب وہ مر کر اگلی دنیا میں پہنچے تو وہاں اس کو جنت میں رہنا نصیب ہو، وہ وہاں ابدی خوشیوں کی زندگی پا سکے۔ اسی کامیاب زندگی کا راز اس حدیث میں بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی چیز تقویٰ کی روش ہے، یعنی خدا کو بڑا مان کر اس سے ڈرتے رہنا۔
اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھنا، یہ یقین کرنا کہ میں کسی بھی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ میرے کھلے اور چھپے تمام احوال خدا کے علم میں ہیں، میری کوئی بھی تدبیر مجھ کو خدا سے بچانے والی نہیں۔ یہ یقین جس آدمی کے دل میں آ جائے، اس کی پوری زندگی بدل جاتی ہے۔ وہ آزاد زندگی کو چھوڑ کر پابند زندگی اختیار کر لیتا ہے۔
وہ ہر معاملے میں اپنے آپ کو غیر ذمہ دارانہ روش سے بچاتا ہے اور ذمہ دارانہ روش کو اختیار کرتا ہے۔ یہ عقیدہ اس سے گھمنڈ اور انانیت جیسے جذبات کو چھین لیتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں خدا کا فرمانبردار بندہ بن جاتا ہے۔ جنتی انسان کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس کا کردار جنتی کردار بن جاتا ہے۔
لوگوں کے درمیان وہ اسی دنیا میں اس طرح رہنے لگتا ہے جس طرح آخرت میں جنت کے باشندے آپس میں رہیں گے۔ اس کے دل میں لوگوں کے لیے خیرخواہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس کی زبان میٹھے بول سے تر رہتی ہے۔ وہ لوگوں سے اس طرح ملتا ہے جیسے ایک بھائی اپنے دوسرے بھائی سے ملے۔
دوسروں سے معاملہ کرنے میں وہ ہمیشہ انصاف پر قائم رہتا ہے۔ جب بھی وہ لوگوں سے کوئی معاملہ کرتا ہے تو اس وقت اخلاقی اور انسانی اصول اس کے رہنما ہوتے ہیں، نہ کہ محض ذاتی مفادات۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 334۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.