Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Kaamiyaabi ka raaz

Urdu · 4 min

کامیابی کا راز انسانی فلاح کا راز اصولی اعتبار سے صرف ایک ہے: فطرت کے مقرر راستے پر چلنا اور اس سے کبھی نہ ہٹنا۔ یہی بات قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے: "کیا وہ خدا کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں؟ " حالانکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے تابعدار ہیں۔ آل عمران 83۔

انسان اور کائنات دونوں کے لیے خدا نے کامیابی کا ایک ہی راستہ، یعنی کورس، مقرر کیا ہے۔ بقیہ کائنات اس راستے پر مشین کی طرح جبری نظام کے تحت چل رہی ہے؛ انسان کو فطرت کی اس شاہراہ پر خود اپنے اختیار کے تحت چلنا ہے۔ یہی اختیاری پابندی انسان کا شرف ہے، اور اسی اختیاری پابندی کی قیمت میں اس کو جنت کا انعام دیا جائے گا۔ زمین پر بہت سی اونچی اونچی چیزیں ہیں، مثلاً درخت اور پہاڑ وغیرہ۔

درخت اور پہاڑ بظاہر سیدھے کھڑے ہوئے ہیں، مگر وہ اپنا سایہ زمین کے اوپر ڈال دیتے ہیں۔ اخلاقی زبان میں اسی کا نام تواضع ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام رویّے میں اسی طرح تواضع کا انداز اختیار کرے۔ چڑیاں صبح و شام زمین کی فضا میں اپنے سریلے نغمے بکھیر رہی ہیں۔

اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اپنے کڑوے بول سے بچائے؛ ایک انسان سے دوسرے انسان کو صرف میٹھا بول سننے کو ملے۔ ستارے اپنے اپنے مدار کے پابند رہتے ہوئے اپنا سفر طے کرتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی زندگی گزارنا چاہیے۔ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتا ہے اور آکسیجن لوٹاتا ہے۔

اسی طرح انسان کو برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ سورج نفع بخشی کے اصول پر سرگرم ہے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ ہر ایک کو نفع پہنچانے والا بنے۔ کائنات فطرت کے اعلیٰ اصولوں کا ایک بے نقص ماڈل ہے۔

اس ماڈل کو خود فطرت نے وضع کیا ہے۔ انسان کو بھی اسی ماڈل کی پیروی کرنا ہے۔ یہی انسانی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا انسان کے لیے کامیابی کا کوئی اور راستہ نہیں۔

اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 335۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.