Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Gheebat ka kaffaara

Urdu · 4 min

غیبت کا کفارہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس کے حق میں بخشش کی دعا کرو جس کی تم نے غیبت کی ہے۔ تم یہ کہو کہ اے اللہ تو مجھ کو اور اس کو بخش دے۔ إن من كفارة الغيبة أن تستغفر لمن اغتبتَه تقول: اللهم اغفر لنا وله. البیہقی اجتماعی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کی زبان سے دوسرے کے لیے کچھ برے الفاظ نکل جاتے ہیں جو غیبت کی تعریف میں آتے ہیں۔

جس کو اگر صاحبِ معاملہ سنے تو اس کو سخت تکلیف ہوگی۔ غیبت کو خدا کے دین میں گناہ بتایا گیا ہے۔ ایسی حالت میں وہ شخص کیا کرے جس کی زبان سے اپنے بھائی کے لیے غیبت والے الفاظ نکل گئے ہیں؟ اس نے اپنے بھائی کے حق میں اس کی غیر موجودگی میں ایسے کلمات کہہ دیے ہیں کہ اگر وہ اس کو سنے تو اس کے دل کو تکلیف پہنچے گی۔

اس کا حل دین میں یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی اس کے حق میں دعا کرے۔ جس کے خلاف غیبت کے الفاظ اس کی زبان سے نکل گئے ہیں وہ اپنے لیے خدا سے بھلائی مانگے اور اپنے بھائی کے لیے بھی خدا سے بھلائی کی درخواست کرے۔ وہ اپنی اصلاح کا طالب بھی ہو اور اپنے بھائی کی اصلاح کا طالب بھی۔ اس قسم کی دعا سادہ طور پر کچھ الفاظ بولنے کا نام نہیں، وہ اس شخص کے حق میں خیرخواہی کا اظہار ہے جس کے خلاف غیبت کا فعل ہوا تھا۔

غیبت اپنی حقیقت کے اعتبار سے نفرت اور بدخواہی کا عمل ہے۔ اگر کسی سے اس قسم کا عمل سرزد ہو جائے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے دل سے نفرت اور بدخواہی کے جذبات کو نکالے اور اس کی جگہ متعلق شخص کے حق میں محبت اور خیرخواہی کے جذبات پیدا کرے۔ اسی محبت اور خیرخواہی کا ایک اعلیٰ اظہار وہ ہے جس کو اس حدیث میں دعا کہا گیا ہے۔ جس سماج میں غیبت عام ہو جائے وہ سماج نفرت اور بے اعتمادی کا سماج بن جائے گا۔

کسی سماج کو اس بگاڑ سے بچانے کی تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ اسپرٹ پیدا کی جائے کہ جب کبھی اس کی زبان سے غیبت کے الفاظ نکل جائیں تو اس کے بعد وہ نیک دعاؤں سے دوبارہ اس برائی کو دھو دیں۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 332۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.