بدگمانی۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ روایت آئی ہے کہ پیغمبر اسلام نے لوگوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تم لوگ گمان سے بہت زیادہ بچو، کیونکہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ إِيَّاكُمُ الظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ۔ متفق علیہ۔
گمان یہ ہے کہ آدمی پوری معلومات کے بغیر کسی کے بارے میں ایک رائے قائم کر لے۔ ہر آدمی کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے، ہر آدمی کا عمل بہت سے اسباب کے تحت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں، کامل تحقیق کے بغیر کسی کے عمل کی حقیقت کو جاننا ممکن نہیں۔ کوئی شخص کسی کا صرف ایک عمل دیکھ کر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کر لے تو یہ گمان ہوگا، اور گمان کسی کے لیے بھی جائز نہیں۔
آدمی کے ہر عمل کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں، اس لیے اس کی توجیحات بھی متنوع اور مختلف ہوتی ہیں۔ دوسروں کے بارے میں آدمی کا مشاہدہ یا تجربہ ہمیشہ جزئی مشاہدہ اور تجربہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں، کسی کی ایک روش کو دیکھ کر اس کے خلاف برا گمان کرنا، گویا جزئی علم کو کلی علم سمجھ لینا ہے۔ ناقص معلومات پر کامل واقفیت کا دعویٰ کرنا ہے۔
اس لیے کسی کے خلاف بدگمانی عین اسی قسم کی ایک چیز بن جاتی ہے، جیسا کہ جھوٹ۔ جھوٹ اخلاقی حیثیت سے انتہائی معیوب کلام ہے، اور خدائی شریعت کے اعتبار سے سراسر ناجائز ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی کسی کے خلاف بدگمانی کرتا ہے، تو وہ ایک بے حد سنگین جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ ایسا کر کے وہ خدا کی نظر میں اپنے آپ کو ایک غیر مطلوب بندہ بنا لیتا ہے، اور انسانوں کی نظر میں وہ ایک ایسا شخص بن جاتا ہے جس سے تمام لوگ نفرت کریں، جس کو سماج میں باعزت درجہ نہ ملے۔
گمان کی بنیاد پر کسی کے خلاف رائے قائم کرنے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی کوئی رائے ہی قائم نہ کرے۔ آدمی رائے قائم نہ کرنے کے لیے آزاد ہے، مگر رائے قائم کرتے ہی وہ قابلِ مواخذہ ہو جاتا ہے۔ اچھا گمان کرنا جائز ہے، اور برا گمان کرنا بلاشبہ ناجائز۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 331۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.