Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Bhali baat

Urdu · 4 min

بھلی بات۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ بولے تو بھلی بات بولے، ورنہ چپ رہے۔ من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت. دنیا کا اکثر بگاڑ کسی غلط بول کا نتیجہ ہوتا ہے، اسی طرح دنیا کا اکثر بناؤ کسی اچھے بول کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ایک بول سے لوگوں میں محبت بڑھتی ہے، اور دوسرا بول لوگوں میں نفرت پھیلانے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں سنجیدہ اور ذمہ دار آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان و قلم کو استعمال کرنے میں بے حد احتیاط کرے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کچھ لکھنا یا بولنا چاہتا ہے، مگر لکھنا یا بولنا اسی انسان کے لیے جائز ہے جو مذکورہ پیغمبرانہ ہدایت پر عمل کرے۔ جو شخص اس ہدایت پر عمل نہ کر سکے، اس کے لیے لکھنا اور بولنا سرے سے جائز ہی نہیں۔

اس معاملے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ آدمی کے پاس کہنے کے لیے ایک ایسی بات ہے جو دوسروں کے بارے میں اچھا گمان پیدا کرنے والی ہے، جس کی اشاعت سے لوگوں کے درمیان محبت کی فضا پیدا ہونے کی امید ہے۔ جو واضح طور پر ایک ایسی بات ہے جس سے لوگوں کے اندر مثبت ذہن یا تعمیری شوق پیدا ہونے والا ہے۔ اس قسم کی بات بلاشبہ ایک بھلی بات ہے، اور اس کو کہنے پر خدا کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ جو بات لکھنے یا کہنے جا رہے ہیں، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک منفی بات ہے۔

اندیشہ ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کے اندر بدگمانیاں پیدا ہوں، لوگوں کے اندر اشتعال بھڑکے، لوگ ایک دوسرے کے خلاف نفرت کرنے لگیں۔ انسانیت دوست اور دشمن میں تقسیم ہو جائے۔ انسانیت دوست اور دشمن میں تقسیم ہو جائے۔ ایسی صورت میں آپ کے اوپر لازم ہے کہ آپ چپ رہیں، نہ کہ بول کر انسانیت کے مسائل میں اضافے کا سبب بن جائیں۔

اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 329۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.