Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Aafiyat ka raaz

Urdu · 4 min

عافیت کا راز: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی، حضرت عمیر بن حبیب بن حُماشہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ جو آدمی نادان کے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔ من لا يرضى بالقليل مما يأتي به السفيه، يرضى بالكثير. الطبرانی۔ موجودہ دنیا ہر قسم کے انسانوں سے بھری ہوئی ہے؛ اس میں اگر اچھے لوگ ہیں تو اسی کے ساتھ برے لوگ اور نادان لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

امتحان کی مصلحت کی بنا پر ان میں سے ہر ایک کو آزادی حاصل ہے، اس لیے موجودہ دنیا میں حالات کبھی معتدل نہیں رہتے۔ یہاں بار بار ایک کو دوسرے سے شکایت پہنچتی ہے۔ یہاں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے لیے کسی نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ سب ہنگامۂ حیات کا نتیجہ ہے، اس سے بچنا کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔

اب ایک شخص وہ ہے کہ جب اس کو کسی سے تکلیف پہنچے تو فوراً اس کا بدلہ لینے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ وہ تکلیف پہنچانے والے کو سبق دینا چاہے، مگر موجودہ دنیا میں اس قسم کی جوابی کارروائی کا نتیجہ مزید برائی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہاں عقلمند وہ ہے جو چھوٹی تکلیف کو برداشت کر لے تاکہ وہ بڑی تکلیف سے بچ سکے۔ ابتدائی تکلیف ہمیشہ چھوٹی تکلیف ہوتی ہے، اور دوبارہ پیش آنے والی تکلیف زیادہ بڑی تکلیف۔

اس لیے ابتدائی تکلیف کو برداشت کر لینا، اپنے نتیجے کے اعتبار سے، بڑے شر کے مقابلے میں چھوٹے شر کو گوارا کرنا ہے۔ موجودہ دنیا میں انتخاب یعنی choice بے شر اور شر کے درمیان نہیں ہے، بلکہ چھوٹے شر اور بڑے شر کے درمیان ہے۔ ایسی حالت میں چھوٹے شر کو گوارا کر لینا عقلمندی ہے، نہ کہ بے شر کی طرف دوڑنا۔ کیونکہ بے شر کیونکہ بے شر حالت اس دنیا میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔

یہ فطرت کا اصول ہے، اور اس دنیا میں کوئی کامیابی فطرت کی پیروی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ اس سے انحراف کے ذریعے۔ اسلام ایک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 328۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.