برداشت کا فائدہ: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص اپنے غصے کو ضبط کرے جبکہ وہ اس کے نفاس پر قادر ہو، تو اللہ اس کے دل کو ایمان اور سلامتی سے بھر دیتا ہے۔ " من كظم غضبًا وهو يقدر على إنفاذه ملأ الله قلبه أمنًا وإيمانًا. یہ پیغمبرانہ تعلیم انسانیت کی تعمیر کے لیے شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے۔ جن افراد کے اندر یہ صفت ہو، وہ اعلیٰ روحانی ترقی حاصل کریں گے، اور جس سماج کے بیشتر لوگ اس صفت کے حامل ہوں، وہ سماج امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔
جب ایک آدمی کے اندر کسی کے خلاف غصہ آ جائے، اور وہ اس غصے کے اظہار پر قادر ہو، اس کے باوجود وہ غصے کو اپنے اندر ہی اندر ضبط کر لے، تو یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہوتا۔ ایسا آدمی اپنے اس عمل کے ذریعے اپنے اندر ایک نئی اخلاقی طاقت کو جنم دیتا ہے، وہ ترقی کر کے نیا انسان بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اندر نفرت کے بجائے محبت کی پرورش کرتا ہے، وہ اپنی شخصیت کو انتقام کے بجائے معافی کے رنگ میں رنگ لیتا ہے۔ وہ اپنے اندر منفی نفسیات کو دباتا ہے، اور اس کی جگہ مثبت نفسیات کو فروغ دیتا ہے۔
اس طرح غصے کو ضبط کرنا اس کے لیے اپنی شخصیت کی تعمیر کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں مثبت شخصیت کی تعمیر کا سب سے بڑا کورس یہی ہے۔ اسی کورس سے گزر کر وہ آدمی بنتا ہے جو اعلیٰ انسانی صفات کا حامل ہو۔ جو لوگ غصے کو ضبط کرنے کی اس تعلیم کو اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہوں، ان کی شخصیت کی اعلیٰ تعمیر بھی واقعہ بننے والی نہیں۔
غصے کا اظہار شخصیت کو برہم کرتا ہے، اور غصے کو ضبط کرنا شخصیت کو سکون عطا کرتا ہے۔ غصہ اگر پیچھے کی طرف سفر ہے، تو غصے کو ضبط کرنا آگے کی طرف سفر۔ غصہ یہ ہے کہ آدمی حالات کے درمیان گھر کر رہ جائے، اور غصے کو ضبط کرنا یہ ہے کہ آدمی حالات سے اٹھ کر اپنے جینے کے لیے ایک بلند تر سطح حاصل کر لے۔ غصہ برداشت کرنے میں صرف فائدہ ہے، اور غصہ برداشت نہ کرنے میں صرف نقصان۔
اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 327۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.