صحتِ فکر: روایات میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دعائیں نقل کی گئی ہیں، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: اللهم أرنا الحق حقًا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلًا وارزقنا اجتنابه، وأرنا الأشياء كما هي. اے اللہ، تو ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور ہمیں اس کی پیروی کی توفیق دے۔ اور ہمیں باطل کو باطل کے روپ میں دکھا، اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق دے۔ اور اے اللہ، تو ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔
موجودہ دنیا میں ان گنت چیزیں ہیں، اور ہر چیز کے بے شمار پہلو ہیں۔ اسی طرح خود انسان بھی چیزوں کو کسی ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھ پاتا۔ ہر شخص اپنی ذہنی اور قلبی حالت کے تحت چیزوں کو مختلف زاویے سے اور مختلف رخ سے دیکھتا ہے۔ اس بنا پر ہر آدمی کے لیے اور ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ وہ کوئی خلافِ واقعہ رائے قائم کر لے۔
وہ ایک ایسی رائے قائم کر لے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسی حالت میں آدمی اگر کوئی درست رائے قائم کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اسے بہت زیادہ اہتمام کرنا پڑے گا۔ وہ سارے متعلق پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اپنی رائے بنائے۔ اسی کے ساتھ وہ مسلسل خدا سے صحتِ فکر کی دعا کرتا رہے۔
کیونکہ کوئی بھی شخص خدا کی مدد کے بغیر اس دنیا میں درست رائے تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس دنیا میں چیزیں اس طرح ملی جلی ہیں کہ ہر وقت یہ اندیشہ ہے کہ آدمی حق کو باطل کے روپ میں دیکھ لے، اور باطل اس کو حق کے روپ میں دکھائی دینے لگے۔ ایسی حالت میں غیر معمولی کوشش کے بعد ہی یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ آدمی حق کو حق کی صورت میں دیکھے، اور باطل اس کو صرف باطل کے روپ میں نظر آئے۔ یہ کسی آدمی کے لیے بہت بڑی نعمت ہے کہ اس کو وہ نگاہ حاصل ہو جائے جو چیزوں کو ویسا ہی دیکھنے لگے جیسا کہ بااعتبارِ حقیقت وہ ہیں۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ اسی کی کوشش کرے۔ وہ سب سے زیادہ اسی کو خدا سے مانگے۔ اسلامِ تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 326۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.