فرد اور سماج۔ قرآن کی سورہ نمبر 13 میں ارشاد ہوا ہے کہ بے شک خدا کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اس کو نہ بدل ڈالے جو ان کے جی میں ہے۔ إن الله لا يغيّر ما بقوم حتى يغيّروا ما بأنفسهم. الرات 11۔
کسی قوم یا سماج کی حالت کا انحصار اس کے افراد پر ہے۔ کسی انسانی مجموعے میں فرد کی حیثیت جز کی ہوتی ہے، اور مجموعے کی حیثیت کل کی۔ یہ فطرت کا خانون ہے کہ کسی چیز کا جز جیسا ہو ویسا ہی اس کا کل ہو۔ یہی اصول انسانی سماج کے لیے بھی ہے۔
سماج کی حالت کو بہتر بنانے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کے افراد کو بہتر بنایا جائے۔ افراد کی تعلیم اگر اچھی ہوگی، ان کے اندر اگر اعلیٰ کریکٹر ہوگا، وہ اگر صبر و برداشت کی صفت کے حامل ہوں گے، ان کا مزاج اگر ایسا ہوگا جو اتحاد کو پسند کرے اور اختلاف کو ناپسند، جو منفی باتوں سے دور رہے اور صرف مثبت باتوں سے دلچسپی لے، جس سماج میں ایسے افراد ہوں وہ سماج لازماً ترقی کرے گا۔ وہ حقیقی معنوں میں انسانی سماج کے درجے کو پہنچے گا۔ اس کے برعکس اگر سماج کے افراد جاہل اور بے شعور ہوں، ان میں کردار کی طاقت موجود نہ ہو، وہ تشدد کا مزاج رکھتے ہوں، ان کی سوچ پر جذباتی رجحان غالب رہتا ہو، وہ اتحاد کی اہمیت کو نہ جانیں، اور جب بھی کوئی خلافِ مزاج بات پیش آئے تو وہ بے برداشت ہو کر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کر لیں، ایسے لوگ کسی سماج کے لیے بوجھ ہیں۔
فرد کا بناؤ سماج کا بناؤ ہے، اور فرد کا بگاڑ سماج کا بگاڑ۔ جب بھی کسی سماج کی حالت سدھارنے کی ضرورت ہو تو سارا زور اس کے افراد کی اصلاح پر دینا ہوگا۔ ایسے موقع پر یہ ضرورت ہوتی ہے کہ سماج کے افراد کے اندر صحیح سوچ پیدا کی جائے، ان کے علم کے معیار کو بڑھایا جائے، ان کے اندر صحیح مزاج لانے کی کوشش کی جائے، ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ ناخوشگوار مواقع پر اپنے آپ کو ردِعمل کی نفسیات سے بچائیں اور حالات سے غیر متاثر رہ کر درست فیصلہ لے سکیں۔ ایسے افراد کی تیاری ہی کا دوسرا نام سماج کی اصلاح ہے۔
سماج ہمیشہ فرد سے بنتا ہے، نہ کہ فرد سماج سے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 325۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.