Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Kibr o ghurur

Urdu · 4 min

کبر و غرور۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی کبر ہوگا۔ لوگوں نے پوچھا کہ کبر کیا ہے، آپ نے فرمایا کہ کبر حق کو نظرانداز کرنا اور انسانوں کو حقیر سمجھنا ہے۔ عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر".

قيل: وما الكبر؟ قال: "الكبر بتر الحق وغمط الناس". صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر۔ کبر یا گھمنڈ، بلاشبہ تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔

گھمنڈ کرنے والا کبھی سورج یا پہاڑ یا سمندر جیسی چیزوں کے معاملے میں گھمنڈ نہیں کرتا۔ جب بھی کوئی گھمنڈ کرنے والا گھمنڈ کرتا ہے تو وہ انسان کے مقابلے میں گھمنڈ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض اوقات ایک انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی معاملے میں دوسروں سے زیادہ ہے، مثلاً جسمانی طاقت یا مال کے مقابلے میں۔ اس فرق کی بنا پر وہ دوسرے کو حقیر اور اپنے کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔

اسی کا نام گھمنڈ ہے۔ مگر یہ نہایت پستی کی بات ہے کہ کوئی آدمی اس قسم کے فرق کی بنا پر گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے۔ اس لیے کہ کسی کو اگر کوئی چیز زیادہ ملی ہے تو وہ اس کی اپنی پیدا کی ہوئی نہیں ہے، بلکہ وہ خدا کی دی ہوئی ہے۔ جو چیز کسی اور کے دینے سے ملی ہو، اس پر آدمی کے اندر تواضع کی کیفیت پیدا ہونی چاہیے، نہ کہ گھمنڈ کی کیفیت۔

گھمنڈ کرنا گویا اپنی حد سے تجاوز کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آدمی گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ ایسے کام کرنے لگتا ہے جو اس کی انسانی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسا آدمی جھوٹے بھرم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ زمین میں اکڑ کر چلتا ہے۔

وہ حق کے آگے جھکنے کے بجائے حق کو نظرانداز کرنے لگتا ہے۔ وہ دوسرے انسانوں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ یہ دوسرے انسان بھی اسی خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں جس نے خود اس کو وجود بخشا ہے۔ اس دنیا میں بڑائی کا حق صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی گھمنڈ کرتا ہے، وہ گویا اپنے آپ کو خدا کے برابر ٹھہرا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خدا گھمنڈ کرنے والے کو بے حد ناپسند کرتا ہے۔ وہ ایسے آدمی کو دنیا ہی میں ذلیل کر دیتا ہے، اور آخرت میں تو اس کے لیے ذلت اور ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 324۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.