تحقیق ضروری ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جو کچھ وہ سنے اس کو وہ بیان کرنے لگے۔ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كفى بالمرء كذبًا أن يحدث بكل ما سمع." مشکات المصابیح جلد 1 صفحہ 55۔ آدمی جب سماج کے اندر زندگی گزارتا ہے تو طرح طرح کی باتیں اس کے سننے میں آتی ہیں، ان میں کوئی اچھی بات ہوتی ہے اور کوئی بری بات۔
اگر آپ اچھی بات کا چرچا کریں تو اس سے سماج میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوگی، لیکن اگر آپ کوئی بری بات سنیں اور اس کا چرچا کرنے لگیں تو اس سے پورا سماج خرابیوں کا جنگل بن جائے گا۔ اس نزاکت کا تقاضا ہے کہ آدمی اس اصول کی پابندی کرے کہ وہ سنی ہوئی باتوں کو بلا تحقیق بیان نہ کرے۔ کوئی بات اگر آپ سنیں تو اس کے بعد پہلا کام اس کی تحقیق کرنا ہے، نہ کہ تحقیق کے بغیر اس کا چرچا شروع کر دینا۔ آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک رویہ جائز ہو سکتا ہے۔
اگر اس کو بولنا ہے تو سب سے پہلے بات کی مکمل تحقیق کرے، اور اگر وہ تحقیق نہیں کر سکتا تو اس پر لازم ہے کہ وہ چپ رہے۔ اس کے بعد کوئی تیسرا رویہ اس کے لیے درست نہیں۔ سنی سنائی بات کو دہرانا اور جھوٹ بولنا، دونوں اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ جھوٹ یہ ہے کہ آدمی ایک بے بنیاد بات کو زبان سے نکالے، اور سنی سنائی بات کو دہرانا یہ ہے کہ آدمی ایک بے بنیاد اور غیر مصدقہ بات کا چرچا کرنے لگے۔
جس سماج میں لوگ ایسا کریں کہ وہ جو کچھ سنیں اس کو بلا تحقیق دہرانے لگیں، ایسا سماج افواہوں کا سماج بن جائے گا۔ ایسے سماج میں ہر آدمی دوسرے آدمی کو شبہ کی نظر سے دیکھے گا۔ ایسے سماج میں بدگمانی ایک عام بات بن جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے۔
جس سماج میں لوگ بلا تحقیق باتوں کو دہرانے لگیں، ایسے سماج کی بنیادیں اکھڑ جائیں گی۔ وہ ایک بکھرا ہوا سماج ہوگا، نہ کہ کوئی متحد سماج۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 322۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.