Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Haqeequi daulat

Urdu · 4 min

حقیقی دولت حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دولت مندی سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے، دولت مندی یہ ہے کہ آدمی دل کا دولت مند ہو۔ عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليس الغنى عن كثرة العرض، ولكن الغنى غنى النفس." تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 523۔ ہر آدمی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے پاس ہر قسم کا ساز و سامان موجود ہو، وہ زیادہ سے زیادہ سامان اکٹھا کرنے میں لگا رہتا ہے، مگر اس کی فہرست کبھی مکمل نہیں ہوتی ہے۔ آدمی ایک سامان کے بعد دوسرے سامان کی طلب میں سرگرداں رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ غیر مطمئن حالت میں مر جاتا ہے۔

سامان کی کثرت کے باوجود کیوں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا؟ اس کا سبب یہ ہے کہ اطمینان کا راز کثرت میں نہیں ہے، بلکہ قناعت میں ہے۔ آدمی اگر ضرورت کو معیار بنائے تو بہت جلد اس کی حد آ جائے گی، لیکن جب وہ فراوانی کو اپنا مقصود بنا لے تو اس کی حد کبھی نہیں آئے گی۔ سامانِ زندگی کے لیے سامان زندگی کے لیے ہے، نہ کہ زندگی سامان کے لیے۔

سامان کی حیثیت خادم کی ہے، اور انسان کی حیثیت آقا کی۔ آدمی جب ضرورت کو اپنا مقصود بنا لے تو وہ اس کے مقابلے میں آقا کی حیثیت میں ہوتا ہے، لیکن جب وہ سامان کو مطلق حیثیت دے دے تو سامان کی حیثیت اس کے آقا کی ہو جاتی ہے، اور اس کی اپنی حیثیت خادم کی۔ بقدرِ ضرورت سامان پر قانع ہونے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے دن اور رات سکون کے ساتھ گزرنے لگتے ہیں۔ وہ اطمینان کی نیند سوتا ہے، اور صبح کو جب وہ سو کر اٹھتا ہے تو اس کا دل اطمینان و سکون سے بھرا ہوتا ہے۔

انسان کی اصل بلندی یہ ہے کہ اس کے سامنے ایک اعلیٰ مقصد ہو، اور وہ اپنے آپ کو پورے طور پر اس میں لگا دے۔ یہ اس کے بغیر ممکن نہیں کہ آدمی مادی ساز و سامان کو ثانوی حیثیت دے، اور زندگی کا جو اصل مقصد ہے اس کو اولین حیثیت سے اختیار کرے۔ کتاب "اسلام: ایک تعارف" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 321۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.