Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Shukr-o-Ea'teraaf

Urdu · 4 min

شکر و اعتراف۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو انسانوں کا شکریہ ادا نہ کرے، وہ خدا کا شکریہ بھی نہیں ادا کرے گا۔ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من لم يشكر الناس لم يشكر الله." مشکات المصابیح، جلد 2، صفحہ 911۔ اعتراف تمام انسانی صفات میں سب سے زیادہ اعلیٰ و ارفع صفت ہے۔

یہ شریف آدمی کی سب سے زیادہ یقینی پہچان ہے۔ جس آدمی کے اندر اعتراف کی صفت نہ ہو، اس کے اندر انسانیت کی بقیہ صفات بھی موجود نہیں ہوں گی۔ اس اعلیٰ انسانی صفت کے دو پہلو ہیں: ایک کا تعلق خدا سے ہے، اور دوسرے کا تعلق انسان سے۔ یہ صفت جب خدا کی نسبت سے ظاہر ہو تو اس کا نام شکر ہے، اور یہ صفت جب انسانوں کی نسبت سے ظاہر ہو تو اسی کا نام اعتراف ہے۔

یہ ناممکن ہے کہ آدمی کے اندر ایک صفت پائی جائے لیکن اس کے اندر دوسری صفت موجود نہ ہو۔ جس آدمی کا سینہ شکرِ خداوندی سے معمور ہوگا، وہ انسان کا اعتراف کرنے سے بھی نہیں رکے گا۔ اسی طرح جس آدمی کے اندر انسان کے لیے اعتراف کا جذبہ پایا جائے، وہ اس سے بھی زیادہ خدا کا شکر کرنے والا ہوگا۔ شکر و اعتراف کا نفسیاتی سرچشمہ جرات ہے۔

جس آدمی کے اندر جرات ہو، اس کے لیے شکر یا اعتراف کا کلمہ بولنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ اس کے برعکس جو آدمی جرات سے محروم ہو، اس کا سینہ شکر و اعتراف کے لیے تنگ ہوگا۔ بہادر آدمی اپنے عمل کو بھی دوسرے کے خانے میں ڈالنے سے نہیں ڈرتا۔ اور جو آدمی بزدل ہو، وہ کوئی بھی عمل دوسروں کے خانے میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

نہ اپنا عمل اور نہ دوسروں کا کیا ہوا عمل۔ شکر و اعتراف ایک عظیم نیکی ہے۔ ایسا کرنے والے کے سینے میں روحانیت کا ایک باغ اگاتا ہے۔ وہ ہر قسم کے تعصبات سے بلند ہو کر جینے لگتا ہے۔

وہ قلب و ذہن کی کشادگی کی نعمت کو پا لیتا ہے، جس سے بڑی کوئی اور نعمت اس دنیا میں نہیں ہے۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 320۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.