کائناتی نقشہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر روز صبح کو دو فرشتے اترتے، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے خدا، خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے" اور دوسرا فرشتہ کہتا ہے کہ: "اے خدا، روکنے والے کے مال کو ضائع کر دے"۔ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما من يومٍ يصبح العباد فيه إلا ملكان ينزلان، فيقول أحدهما: اللهم أعطِ منفقًا خلفًا، ويقول الآخر: اللهم أعطِ ممسكًا تلفًا". انسان کے لیے موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ فطرت کے نقشے کو سمجھے اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔ اس دنیا میں فطرت کے نقشے سے مطابقت کا نام کامیابی ہے، اور فطرت کے نقشے سے انحراف کا نام ناکامی۔
فطرت کا نقشہ کیا ہے؟ فطرت کا نقشہ یہ ہے کہ کسی کو جو کچھ ملے وہ ایسا نہ کرے کہ اس کو خود اپنے لیے ہی سمیٹ لے، بلکہ وہ اس کو دوسروں تک پہنچائے۔ سورج کو روشنی ملتی ہے تو وہ اس کو صرف اپنے لیے خاص نہیں کر لیتا، بلکہ وہ اپنی روشنی کو سارے عالم میں بکھیر دیتا ہے۔ ہواؤں کے پاس آکسیجن کی نعمت ہے، تو وہ اس کو ہر طرف لیے پھرتی ہیں تاکہ وہ تمام سانس لینے والوں کو اسے پہنچا سکے۔
چشموں کے ذریعے ایک دریا کو پانی ملتا ہے تو وہ زمین پر رواں ہو جاتا ہے تاکہ کھیتوں اور باغوں کو سیراب کر سکے۔ درخت کو پھول اور پھل ملتے ہیں تو وہ انہیں دوسروں کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ وہ ایسا نہیں کرتا کہ تمام پھلوں اور پھولوں کو صرف اپنے ہی پاس رکھ لے۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔
ایک انسان کو جب مال کا کوئی حصہ ملے تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ پورے مال کو اپنی ذاتی چیز سمجھ لے اور اس کو صرف اپنے آپ پر خرچ کرے۔ جو ایسا کرے گا، وہ گویا فطرت کے نقشے سے ہٹ گیا۔ اس نے اپنے آپ کو پوری طرح کائنات کی نظر میں مجرم بنا لیا۔ اس کے برعکس، صاحبِ مال کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ ملے ہوئے مال میں دوسرے انسانوں کا حصہ لگائے۔
وہ اس کو بقدرِ ضرورت اپنے پاس رکھے، اور اس کے بعد پوری فیاضی کے ساتھ اس کو دوسروں کی ضرورت پوری کرنے میں صرف کرے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 317۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.