Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Taaqat ka sahih istemal

Urdu · 4 min

طاقت کا صحیح استعمال۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق سے فرمایا کہ اے ابو حفص، تم بہت طاقتور آدمی ہو، پس تم کمزور کو نہ ستاؤ۔ قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم لعمر بن الخطاب: "يا أبا حفص، إنك فيك فضلُ قوةٍ فلا تؤذِ الضعيفَ." جامع الاصول فی احادیث الرسول، جلد 3، صفحہ 183۔ سماج میں ہمیشہ کچھ لوگ کمزور ہوتے ہیں اور کچھ طاقتور؛ کچھ غریب اور کچھ امیر، کچھ کم وسائل والے اور کچھ زیادہ وسائل والے۔

یہ فرق ایک فطری فرق ہے، اور وہ ہر زمانے میں اور ہر حال میں باقی رہتا ہے۔ یہ فرق اس لیے نہیں ہے کہ جو طاقتور ہے وہ کمزور کو ستائے؛ جس کے پاس زیادہ ہے وہ کم والے کو حقیر سمجھے۔ یہ فرق صرف اس لیے ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی کمی کو پورا کریں۔ لوگ تقسیمِ کار کے اصول پر زندگی کا نظام چلائیں؛ بعض کام ایسے ہیں کہ انہیں طاقتور انجام دے سکتا ہے، لیکن کمزور اسے انجام نہیں دے سکتا۔

اسی طرح کچھ اور کام ہیں جن کو کرنا کمزور کے لیے آسان ہوتا ہے، اور طاقتور کے لیے مشکل۔ یہ ایک فطری تقسیمِ کار ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ملی ہوئی حیثیت کو خدا کی طرف سے دیا ہوا سمجھیں؛ وہ اس کو خدا کے اجتماعی منصوبے کے ایک جز کے طور پر دیکھیں۔ اگر لوگوں میں یہ ذہن ہو تو ہر آدمی حقیقت پسند بن جائے گا۔

ہر آدمی خدا کے منصوبے کی تکمیل میں اپنے آپ کو لگا دے گا۔ یہی معاملہ ہر فرق کا ہے۔ انسانوں میں ایک دوسرے کے درمیان جو بھی فرق دکھائی دیتا ہے، وہ امتیاز کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ ذمہ داریوں کی تقسیم کے لیے ہے۔ جو آدمی فرق کو امتیاز کے معنی میں لے، اور انسانوں کے اوپر اس کا اظہار کرنے لگے، اس نے کسی انسان کے خلاف سرکشی نہیں کی، بلکہ براہِ راست خدا کے خلاف سرکشی کی۔

وہ خدا کے نفسِ کار کو ماننے پر تیار نہیں ہوا۔ کسی آدمی کو کوئی چیز زیادہ ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھے، اور اس پر خدا کا شکر ادا کرے۔ شکر ایک طرف خدا کی عنایات کا اعتراف ہے، اور دوسری طرف وہ آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے۔ یہ تواضع ہی تمام اعلیٰ اخلاقیات کی روح ہے۔

جس آدمی کے اندر تواضع نہ ہو، وہ ایک بے قیمت انسان ہے، خدا کی نظر میں بھی اور بندوں کی نظر میں بھی۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 316۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.