درست بات۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ بولے تو بھلی بات بولے، ورنہ چپ رہے۔ عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو الاسمى". ریاض الصالحین، باب فی تحریم الغیبت، والأمر بحفظ اللسان۔
صفحہ 369۔ ذمہ دار انسان وہ ہے جو بولنے سے پہلے سوچے، اور جب بولے تو وہی بات بولے جو سوچنے اور سمجھنے کے بعد اس کو بولنے کے قابل نظر آئی ہو۔ جس طرح بولنا ایک کام ہے، اسی طرح چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ کبھی آدمی کو اس لیے چپ رہنا چاہیے کہ وہ معاملے کے بارے میں پوری واقفیت نہیں رکھتا، اور ناقص واقفیت کے ساتھ بولنا اپنا بھی نقصان کرنا ہے اور دوسرے کو بھی نقصان میں ڈالنا۔
مزید یہ کہ کسی معاملے میں کمتر واقفیت کے باوجود بولنا ایک غیر ذمہ داری کی روش ہے، اور غیر ذمہ داری سے زیادہ بری چیز کسی انسان کے لیے اور کوئی نہیں۔ سچا بولنا کیا ہے؟ سچا بولنا یہ ہے کہ آدمی جس مسئلے پر بولنا چاہتا ہے، وہ اس کی مکمل تحقیق کرے، وہ اپنے آپ کو پوری طرح تعصبات سے خالی کرے، تاکہ وہ جو رائے قائم کرے وہ ایک غیر جانبدارانہ رائے ہو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی انتہائی طور پر ضروری ہے کہ آدمی بولنے سے پہلے اس کے نتیجے کے بارے میں سوچے۔
ایک درست بات بھی اگر انجام کے اعتبار سے برا نتیجہ پیدا کرنے والی ہو تو ایسی درست بات کو بولنا بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا کہ نادرست بات کو بولنا۔ درست کلام کیا ہے؟ درست کلام وہ ہے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو، جس سے حق کی برتری مقصود ہو، نہ کہ اپنی ذات کی برتری۔ جو بولنے والے کے لیے اپنے ضمیر کی آواز کی حیثیت رکھتا ہو، جو ایسا ہو کہ جب اس کو علم اور عقل کی کسوٹی پر جانچا جائے تو وہ پورا اترے۔
جو ابدی حقیقت کا ترجمان ہو، نہ کہ محض وقتی مصلحت کا اظہار۔ بولنا اس کا حق ہے جو چپ رہنا جانے۔ چپ رہ کر جو کچھ کرنا ہے، جب آدمی اس کو کر لے، اس کے بعد ہی وہ اس کا حقدار بنتا ہے کہ وہ بولے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 315۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.