عفو و درگزر: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معافی اور درگزر سے صرف انسان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پس اے لوگو، تم عفو و درگزر سے کام لو، خدا تمہاری عزت کو بڑھائے گا۔ ونبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما ازداد أحدٌ بعفوٍ إلا عزًّا، فاعفُوا يعزّكم الله". ادب الدنیا والدین للبصری، صفحہ 411۔
خاندانی اور سماجی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایک مرد یا عورت سے دوسرے مرد یا عورت کو ایسا تجربہ پیش آتا ہے جو اس کے اندر چھپے ہوئے غصے کے جذبات کو بھڑکا دیتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی آگ سینے میں اتر آئی ہے، جو ہر چیز کو جلا دینا چاہتی ہے۔ یہ بے حد نازک لمحہ ہوتا ہے۔
اب ایک صورت یہ ہے کہ آدمی جواب کا طریقہ اختیار کرے: وہ اپنے سینے کی آگ کو دوسرے کے اوپر انڈیل دے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی فریقِ ثانی کو معاف کر دے۔ اس کے مقابلے میں وہ جواب کے بجائے خاموشی کا طریقہ اختیار کر لے۔ ان دونوں طریقوں کے اثرات ایک دوسرے سے انتہائی طور پر مختلف ہیں۔
آدمی جب فریقِ ثانی کی اس اشتعال انگیزی کے بعد خود بھی مشتعل ہو جائے، تو وہ فریقِ ثانی کو خود اپنے ہی برابر دکھائی دے گا۔ وہ سمجھے گا کہ جیسا میں ویسا وہ۔ ایسی صورت میں صرف دو طرفہ ٹکراؤ جاری رہے گا، ٹھیک اسی طرح جیسے حیوانوں میں دو طرفہ ٹکراؤ ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایسا کریں کہ فریقِ ثانی کی اشتعال انگیزی کے باوجود آپ چپ ہو جائیں، آپ غصے کے جواب میں معافی اور درگزر کا طریقہ اختیار کریں، تو اس کا نتیجہ مکمل طور پر مختلف ہوگا۔
اب فریقِ ثانی کو محسوس ہوگا کہ آپ اس سے بلند ہیں، اخلاقی اعتبار سے وہ نیچے ہے اور آپ اوپر۔ اس طرح آپ کی معافی کا نتیجہ آپ کو عزت کی صورت میں ملے گا۔ وقتی طور پر اپنی بے عزتی کو برداشت کر لینا آپ کے وقار کو بے پناہ حد تک بڑھا دے گا۔ اس دنیا میں عزت و وقار کا راز بدلہ لینے میں نہیں ہے، بلکہ معاف کر دینے میں ہے۔
یہی اس دنیا کے لیے اس کے خالق کا قانون ہے، اور خالق کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اسلام ایک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 314۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.