حسد کی آگ۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اسی طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔ عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إياكم والحسد، فإن الحسد يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب." سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی الحسد. حسد یہ ہے کہ آپ جب کسی کو کسی اعتبار سے اپنے سے بڑا دیکھیں تو آپ اس کی بڑائی پر خوش نہ ہوں، بلکہ اپنے دل میں اس کے خلاف جلن محسوس کریں۔
اسی کا نام حسد ہے۔ حسد کرنے والا بظاہر دوسرے کے خلاف حسد کرتا ہے، لیکن اس کا نقصان سب سے پہلے خود حسد کرنے والے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کبھی بھی تمام لوگ یکساں نہیں ہو سکتے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔
یہ فطرت کا قانون ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی کسی کی بڑائی کو دیکھ کر حسد میں مبتلا ہو، وہ گویا فطرت سے لڑنا چاہتا ہے، اور فطرت سے لڑ کر کبھی کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں ترقی کا راز یہ ہے کہ آدمی کی سوچ مثبت سوچ ہو، وہ منفی سوچ سے اپنے آپ کو بچائے ہوئے ہو۔ مگر حسد مثبت نفسیات کا قاتل ہے۔
جو آدمی حسد میں مبتلا ہو جائے، اس نے گویا اپنے سینے کو منفی جذبات کی پرورش گاہ بنا لیا۔ اس نے اپنی ترقی کا دروازہ خود اپنے ہاتھوں سے بند کر لیا۔ سماج میں کوئی آپ کے نیچے ہوتا ہے اور کوئی آپ سے اوپر۔ ایسی حالت میں صحیح روش یہ ہے کہ جب آپ کسی کو اپنے سے کم دیکھیں تو آپ کے اندر اس کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔
اور جب آپ کسی کو اپنے سے زیادہ دیکھیں تو آپ کسی جلن کے بغیر یہ سوچیں کہ وہ بھی انسان ہے اور میں بھی انسان ہوں۔ اگر اس نے اپنی انسانی صلاحیتوں کا استعمال کر کے بڑی ترقی حاصل کر لی تو یہی چیز میرے لیے بھی ممکن ہے۔ اسی کا نام مثبت سوچ ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 313۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.