مقامِ عمل: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عتبہ بن عامر نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، نجات کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اور اپنے گھر کو اپنے لیے کافی سمجھو، اور اپنی خطاؤں پر روؤ۔ عن عتبة بن عامر رضي الله عنه قال: قلتُ: يا رسول الله، ما النجاة؟ قال: أمسك عليك لسانك، وليسعك بيتك، وابكِ على خطيئتك.
ریاض الصالحین: باب فی تحریم الغیبت والأمر بحفظ اللسان، صفحہ 371۔ زندگی کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ آدمی کام اس کو سمجھے کہ وہ دوسروں کے مسائل پر کلام کرے، اور دوسری یہ کہ وہ خارجی دنیا میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کرے، وہ دوسروں کی کمیوں اور کوتاہیوں میں الجھا ہوا ہو۔ یہ سب اپنے کام کے میدان کو اپنے سے باہر سمجھنا ہے، اور اپنی ذات سے باہر کام کا میدان بنانا فطرت کے نقشے کے مطابق نہیں۔ زیادہ صحیح اور فطری بات یہ ہے کہ آدمی خود اپنی ذات کو اپنے کام کا میدان بنائے ہوئے ہو۔
وہ بولنے سے زیادہ سوچے، دور کے میدان کے بجائے وہ اپنے قریب کے دائرے میں اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہو۔ دوسروں کی غلطیوں اور زیادتیوں کا چرچا کرنے کے بجائے وہ خود اپنے محاسبے میں لگا ہوا ہو۔ محاسبۂ خویش کا یہ عمل وہ اتنی شدت کے ساتھ کرے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں۔ کامیابی کا دارومدار اسی کے اوپر ہے۔
آدمی کی اپنی ذات پوری طرح اس کے قابو میں ہوتی ہے، جبکہ باہر کی دنیا اس کے اپنے قابو میں نہیں۔ اپنے ذاتی دائرے میں کی جانے والی ہر کوشش نتیجہ خیز ہوتی ہے، جبکہ باہر کے دائرے میں کی جانے والی کوشش کا نتیجہ خیز ہونا یقینی نہیں۔ اپنی ذات کے دائرے میں عمل کرنے کا پہلا یقینی فائدہ یہ ہے کہ اس کوشش کا کوئی ادنیٰ جز بھی بے نتیجہ نہیں رہتا۔ وہ ہر حال میں نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے، خواہ یہ نتیجہ کوشش کرنے والے کو نفسیات کی سطح پر ملے یا مادی اور عملی سطح پر۔
مزید یہ کہ یہی وہ طریقہ ہے جو خود خارجی اعتبار سے بھی مفید ہے۔ اجتماعی زندگی افراد ہی کے مجموعے کا نام ہے۔ افراد کا معاملہ اگر درست ہو جائے تو اس کے بعد اجتماع کا معاملہ اپنے آپ درست ہو کر رہتا ہے۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 312۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.