Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Bahaadur kaun

Urdu · 4 min

بہادر کون؟ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں ہے جو کشتی میں پچھاڑ دے، طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ليس الشديد بالسرعة، إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب». صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلة والأدب۔

فطرت کے نقشے میں طاقت کا معیار خارجی نہیں ہے بلکہ داخلی ہے۔ کوئی شخص خارجی دنیا میں بڑے بڑے واقعات ظہور میں لائے، مثلاً وہ لڑائی میں کسی کو ہرا دے، تو فطرت کے نزدیک یہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہے۔ زیادہ بڑا واقعہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو قابو میں رکھے، حیجان خیز لمحات میں بھی وہ اخلاق اور شرافت کی حد سے باہر نہ جائے۔ کوئی معاشرہ اچھا معاشرہ کب بنتا ہے؟

اس کا معیار یہ نہیں ہے کہ معاشرے میں ایسے بہت سے زورآور موجود ہوں جو لڑائی کے موقع پر دوسروں کو پچھاڑ دیا کریں۔ اس قسم کی پہلوانی کسی کو شخصی ہیرو بنا سکتی ہے، مگر ایسی پہلوانی کرنے والے کبھی کوئی اچھا سماج نہیں بنا سکتے۔ اچھا سماج وہ لوگ بناتے ہیں جو خود اپنے آپ کو زیرو کرنے والے ہوں۔ اچھا سماج وہ لوگ بناتے ہیں جو خود اپنے آپ کو زیر کرنے والے ہوں۔

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں کسی کے خلاف غصہ آتا ہے تو وہ دوسرے پر طاقت آزمائی کرنے کے بجائے خود اپنی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے بھڑکے ہوئے جذبات کو دباتے ہیں، وہ اپنے اندر ابھرنے والی انتخامی نفسیات کو کچلتے ہیں، وہ اپنے اندر پیدا ہونے والی منفی سوچ کو دوبارہ مثبت رخ کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ وہ معاف کرنے کے بہادر ہوتے ہیں، نہ کہ بدلہ لینے یا سبق سکھانے کے بہادر۔ دوسرے کو پچھاڑنے کی طاقت حیوان میں بھی ہوتی ہے، مگر یہ صرف انسان ہے جو اپنے آپ کو پچھاڑنے کا کارنامہ انجام دیتا ہے۔

انسان کی بہادری کو ناپنے کا پیمانہ یہی انسانی اخلاق ہے، نہ کہ عام حیوانی اخلاق۔ یہ اخلاقی بہادری ہے، اور اخلاقی بہادری سے زیادہ بڑی بہادری اور کوئی نہیں۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 310۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.